Articles

ایم کیو ایم قادیانی وٹہ سٹہ ؛ الطاف حسین کا انٹرویو

In پاکستان on ستمبر 9, 2009 by ابو سعد

 اسٹیبلشمنٹ نے کراچی میں زقوم کی جس فصل کی کاشت کی تھی ‘اب اس کی جڑیں لاہور تک پہنچنے والی ہیں۔ اس فصل کو نئی گوڈی اور کھاد دینے کے لیے پاکستانی اسٹلبشمنٹ میں مضبوط جڑیں رکھنے والی قادیانی لابی سرگرم ہوگئی ہے۔  اُمت اخبار کی یہ خبر کہ ’’پنجاب میں متحدہ کو فعال کرنے کے لیے قادیانی لابی سرگرم‘‘ کوایک روشن خیال دوست نے ٹیبل اسٹوری قراردے کر مسترد کردیا۔ لیکن آج الطاف گینگ اور قادیانیوں کے بیچ وٹے سٹے کی نئی شادی کی جو تفصیلات ایکپریس ٹی وی میں خود الطاف حسین کے انٹرویو کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان سے امت کی اس خبر کی تصدیق ہوگئی ہے۔

ایکسپریس ٹی وی کو دیے گئے الطاف حسین کے انٹرویو کی خبر ایکسپر یس کراچی کے صفحہ اول پر چھپی ہے جس کے  مطابق:۔

 انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم واحد تنظیم ہے جس کے قائد نے قادیانیوں کے امیر مرزا طاہر بیگ کے انتقال پر تعزیتی بیان دیا تھا’مجھ پر کئی اخبارات نے ادارئیے لکھے کہ میں نے کفر کیا ہے‘ آج میں پھر وہ کفر کرنے جارہا ہوں جس کا دل چاہے فتویٰ دے‘ جو قادیانی پاکستان میں رہتے ہیں ان کو اپنے عقیدے اور مسلک کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہونی چاہئے‘ یہ ان کا حق ہے ‘ پاکستان کا پہلا نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالاسلام بھی احمدی تھا‘ اگر آپ اس کا نام صرف اس لیے نہیں لیتے ہیں کہ وہ احمد ی تھا تو یہ زیادتی ہوگی‘ یہ خیالات قائداعظم اور علامہ اقبال کے خیالات کبھی نہیں تھے۔ میں جعلی ملاوں اور جعلی سیاست دانوں کا پاکستان نہیں چاہتا بلکہ قائداعظم کا پاکستان چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ جب ایم کیو ایم کی حکومت قائم ہوگی تو میں اس حکومت سے فرمائش کروں گا کہ مجھے ایک بڑا سا کمپاونڈ دے دو جہاں میں مسجد ‘ گوردوارہ‘ مندر ‘ چرچ بناوں گا ‘ احمدیوں کی مسجد بھی بناوں گا اور اس کمپاونڈ میں سب اپنے اپنے وقت اور اپنے اپنے انداز سے عبادت کریں گے۔ جس دن میرا مقصد پورا ہوگیا اور میں جو انقلاب لانا چاہتا ہوں وہ آگیا تو میں پاکستان میں دین کی تبلیغ کروں گا اور قرآن کی تفسیر پڑھایا کروں گا‘‘۔

انٹرویو کے یہ الفاظ روزنامہ ایکسپریس کی خبر کا حصہ بننے سے رہ گئے ہیں۔

اسی طرح  مبشر لقمان کے سوال کے جواب میں الطاف حسین نے کہا کہ’’ احمدیوں کو پاکستان میں اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیے‘‘۔

اس مضمون کا مقصد جہاں الطاف حسین کے ’’مذہبی خیالات ‘‘ اور مسقتبل میں اس’’ مفسر قرآن‘‘ کی طرف سے تفسیر پڑھانے کی بریکنگ نیوز کو قارئین تلخابہ تک پہنچانا ہے‘ وہیں اس کا مقصد پنجاب کے خلاف نعرے کی بنیاد پر بننے والی اس جماعت( جس کو گروہ لکھنا زیادہ مناسب ہوگا) کی پنجاب آمد کے مضمرات پر بحث کرنا بھی مقصود ہے ۔ لاہور کے کچھ ’’دانشور‘‘ اور ٹی وی میزبان مبشر لقمان تو ایم کیو ایم کی معصومیت اور مظلومیت کی داستانیں سنا ہی رہے تھے وہیں تاہم  جرگوں کا انعقاد کرنے والے سلیم صافی بھی ایم کیو ایم سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔  ان سے میں کیا کہہ سکتا ہوں اس کے علاوہ کہ ’’ خدائے دئی درتہ پخپلہ پیخہ کی چہ پتا درتا ولگی‘‘ اور لاہور کے دوستوں کے لیے پشتو کا یہ محاروہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں ’’ ھلہ بہ خبر شے چہ تالو جبے لہ ورشی‘‘ یعنی ایم کیو ایم ایک ایسی کڑوی گولی ہے جس کا پتا اسی کو چلتا ہے جس نے کبھی زندگی میں اس کو نگل لیاہو۔ اللہ کرے ‘ اللہ کرے کہ کبھی اس کڑوی گولی کا چکھنا حسن نثار‘ مبشر لقمان ‘ سلیم صافی اور دیگر کو نصیب ہو تاکہ پتا چل جائے۔ ویسے اس کا ایک فائدہ کراچی والوں کو ضرور ہوگا کہ جو سرمایہ کار اس غنڈہ گروپ کی بھتہ خوری سے تنگ آکر لاہور ‘فیصل آباد بھاگ گئے تھے وہ اس بلا کے وہاں پہنچنے پر واپس کراچی آجائیں گے اگر وہ اپنا سرمایہ لپیٹ کر باہر نہ چلے گئے تو۔ سلیم صافی صاحب فرما رہے ہیں کہ ایم کیو ایم بدل چکی ہے۔ لیکن ہم جو روز انہ اس گروہ کا مکروہ چہرہ دیکھتے ہیں اس بات سے پریشان ہیں کہ ایم کیو ایم قادیانیوں کے ساتھ مل کر کوئی نیا کھیل نہ شروع کردے کیوں کہ جس اقبال کا حوالہ لندن کے پیر نے اپنے انٹرویو میں دیا ہے ان کا ان سازشی قادیانیوں کے متعلق فرمانا ہے۔

’’سب سے پہلی بات جو پیش نظر رہنی ضروری ہے یہ ہے کہ اسلام ایک ایسی مذہبی قومیت کا علمبردار ہے‘ جس کے حدود کاملا متعین ہیں۔ اور وہ حدود ہیں:۱) اللہ کی وحدانیت‘۲) تمام انبیا علیہ السلام پر ایما ن اور حضرت محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ وسلام کے خاتم النیبین ہونے پر ایمان۔ موخر الذکر عقیدہ فی الحقیقت ایک ایسا عنصر ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان ایک واضح خط کھینچ دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری رائے میں قادیانیوں کے لیے صرف دو ہی راستے کھلے ہیں۔یا تو وہ سیدھی طرح بہائیوں کے طرز عمل کو اختیار کریں اور یا ختم نبوت کو اس کے تمام تر مضمرات کے ساتھ قبول کرلیں۔ ان کی عیارانہ  تاویلات دراصل ان کی محض اس خواہش کی بنا پر ہیں کہ واضح سیاسی مفادات کے حصول کے لیے وہ اپنے آپ کو ملت اسلامیہ کا ایک حصہ شمار کراتے رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ حقیقت کہ قادیانیوں نے ابھی تک ایک الگ سیاسی وحدت کی حیثیت سے علیحدگی کا مطالبہ نہیں کیا ہے یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ موجودہ حالت  میں وہ خود بھی اپنے آپ کو کسی مجلس مقننہ میں نمائندگی حاصل کرنے کا مستحق نہیں سمجھتے۔نیا آئین ایسی اقلیتوں (جیسی کہ قادیانی ہیں) کے تحفظ کی دفعات سے خالی نہیں ہے۔ میرے نزدیک یہ بات یقینی ہے کہ قادیانی حکومت سے یہ مطالبہ کرنے میں کبھی پہل نہیں کریں گے کہ انہیں ملت اسلامیہ سے الگ ایک وحدت  قرار دیا جائے۔( اس لیے) خود ملت اسلامیہ ان کو جسد ملت سے علیحدہ کرنے کے مطالبہ میں بالکل حق بجانب ہے۔حکومت کی طرف سے اس مطالبہ کو فی الفور تسلیم نہ کرنے سے ہندی مسلمانوں کے ذہن میں لازما یہ شبہ پیدا ہوگا کہ حکومت برطانیہ اس نئے مذہب جو کسی آڑے وقت کے لیے رکھنا چاہتی ہے‘ جیسا کہ وہ رکھتی رہی ہے‘ اور علیحدگی کے مسئلہ کے حل میں محض اس لیے تاخیر کررہی ہے کہ اس مذہب کے پیروکار تعداد میں کم ہونے کی وجہ سے اس وقت ایک ایسی چوتھی قومیت کی حیثیت سے صوبہ کی سیاست میں نہیں ابھر سکتے جو پنجابی مسلمانوں کی مجلس مقننہ میں معمولی سی اکثریت کو کاری ضرب لگا سکے۔۱۹۱۹ میں سکھوں کی ہندووں سے علیحدگی کے معاملہ میں حکومت نے کسی رسمی مطالبہ کا انتظار نہیں کیا تھا تو پھر قادیانیوں کی طرف سے رسمی مطالبہ کا انتطار کیوں؟‘‘ روزنامہ اسٹیٹسمن ’’شمارہ ۱۰ جون ۱۹۳۵

علامہ اقبال کو قادیانیوں کی جس سازشی گندگی کا ادراک ۱۹۳۵میں تھا کاش اس کا احساس وقت کو حکمرانوں کو ہوجائے لیکن کن حکمرانوں کو۔ پیپلز پارٹی کو یا اے این پی یا پھر ایم کیو ایم جو قادیانی کندھوں پر پنجاب میں داخلے کے لیے پر تول رہی ہے؟ قادیانیوں نے اس وقت اپنے آپ کو امت مسلہ سے الگ حصہ بننا ڈیکلیر کرنے سے روکا  لیکن پاکستانیوں کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں دائرہ اسلام سے خارج تصور کیے جانے کے بعداس جماعت کی کوشش رہی کہ وہ پھر سے اپنے آپ کو مسلمان قرار دلوائے اور اس کام کے لیے ایم کیو ایم سے وٹے سٹے کی شادی ہوئی ہے جس کت تحت بلیک میلر ایم کیو ایم قادیانیوں کی شرانگیزیوں میں ان کی مددگار ہوگی جبکہ قادیانی ایم کیو ایم کو پنجاب میں جڑیں مضبوط کرنے میں مدد دیں گے۔

اَپ ڈیٹ۔1

الطاف حسین کے یہ جملے روزنامہ ایکسپریس اور روزنامہ جسارت دونوں کی خبروں میں شامل نہیں ہیں اس لیے ذیل میں درج کررہا ہوں تاکہ معلوم ہوسکے کہ الطاف حسین ڈرامہ باز ‘ دہشت گرد اور بھتہ خور ہی نہیں بلکہ انتہائی درجہ بلکہ پرلے درجہ کا جاہل آدمی بھی ہے۔ اس جاہل آدمی کے ذیل میں جملے پڑھیے اور قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے بارے میں دلائل ذیل میں دیے گیے لنک پر پڑھےے اور ماتم کیجیے کہ مملکت پاکستان میں ایسے جعلی لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو انتہائی جہالت کے باوجود ایک پارٹی کے سربراہ بھی ہوں۔ الطاف حسین سے ہماری اپیل ہے کہ وہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے بجائے اپنے احمدی ہونے کا اعلان کرے پھر اس کے بعد جو جی میں آئے تو بکواس کرتا رہے۔

ایسے نہیں کہہ رہا‘ میں نے احمدیوں کا لٹریچر بھی پڑھا ہے ‘ میں نے احمدیوں کے پروگرام بھی دیکھے ہیں۔میں دیکھا ہے وہی کلمہ ‘ وہی سرکار دوعالم صل اللہ علیہ وسلم انہی کو آخری نبی مانتے ہیں‘ اب جھگڑا جو آتا ہے اس کی بحث میں جانا نہیں چاہتا ۔آپ ان کو مسلمان نہیں مانتے تو نہیں مانے ‘ ہندو کا اپنا خدا ہے اس کو تو آپ تسلیم کرتے ہیں تو آپ احمدیوں کو بھی تسلیم کرلیں ‘ یہ جرات پاکستان میں کسی میں نہیں ہے

 اَپ ڈیٹ۔2

 تسلسل کے ساتھ ٹی وی چینلز پر قادیانیوں کے حقوق کی بات کرنے والے اور ان کے حق میں تحریک چلانے والے مبشر لقمان کے بارے میں لوگوں کا گمان تھا کہ اس کی ہمدردیاں احمدیوں کے ساتھ ہیں لیکن اب جناب مولانا اسماعیل شجاع آبادی صاحب نے راقم سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق فرمائی ہے کہ مبشر لقمان قادیانی اور ربوہ کے رائل فیملی سے تعلق رکھنے والے مرزا لقمان کا بیٹا ہے۔

اَپ ڈیٹ۔3

عقیدئہ ختم نبوت اسلام کی اساس ہے ، انکار ارتداد ہے ، مفتی منیب الرحمن

کراچی( اسٹاف رپورٹر) ممتاز عالم دین اور اتحادِ تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کے سربراہ پروفیسر مفتی منیب الرحمن نے جیو کی ایمان رمضان نشریات کے دوران عالم آن لائن کے میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے ساتھ یوم ختم نبوت پر عالم آن لائن کے خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیدنا محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان اس بات کے ساتھ مشروط ہے کہ آپ کو خاتم النبیین ، خاتم الرسل اور اللہ تعالیٰ کا آخری نبی اور آخری رسول تسلیم کیا جائے ، یہ عقیدہ قرآن مجید، احادیث مبارکہ اور اجماع امت بالخصوص خیر القرون صحابہ کرام کے اجماع قطعی سے ثابت ہے ، ان کا کہنا تھا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے ، اللہ جل شانہ نے فرمایا: اے نبی اعلان کر دو کہ اے انسانو ! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا گیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس دنیا سے وصال فرمانے کے بعد سب سے پہلا فتنہ، فتنہ انکار ختم نبوت تھا، جسے کفر و ارتداد قرار دے کر خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کچل دیا اور انہیں جہنم رسید کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں ہر نبی کی نبوت قطعی ہے ۔ دور حاضر کی تاریخ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو یہ اعزاز و افتخار حاصل ہے کہ 7 ستمبر 1974 کو اس کی پارلیمنٹ نے مکمل اتفاق رائے اور اجماع سے ایسا باطل عقیدہ رکھنے والوں کو مرتد اور کافر قرار دے دیا اور ساتویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس فتنے کا خاتمہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر صدیق  کے ایک فرزند جلیل قائد ملت اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمہ اللہ تعالیٰ کو یہ اعزاز عطا کیا کہ قومی اسمبلی میں ارتداد قادیانیت کی تحریک کے محرک صرف وہ تھے، اگرچہ اس تحریک کے تائید کرانے والوں میں تمام مکاتب فکر کے علماء اور دیگر ارکان قومی اسمبلی بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ باطل جب بھی مسلمانوں کو کمزور کرنا چاہتا ہے وہ اپنے گماشتے امت مسلمہ میں پلانٹ کرتا ہے اور ان کے ذریعے ناموس الوہیت جل و عالیٰ یعنی ذات باری تعالیٰ اور ناموس رسالت پر حملہ کرتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ مسلمان کی طاقت محبت خدا اور اطاعت و عشق مصطفی صلی اللہ وآلہ وسلم میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اطاعت و محبت رسول کی تحریک ہمیشہ جاری و ساری رہے تا کہ باطل کی سازشیں نیست و نابود ہوں، کیونکہ آج بھی اس طرح کے گماشتے موجود ہیں اور امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ کھوج لگا کر ان کا قلع قمع کرے۔

اپ ڈیٹ4

الطاف حسین کی جانب سے قادیانیوں کی حمایت پر ملک بھر کے علماء کا سخت ردعمل (روزنامہ جنگ ‘کراچی)

کراچی/لاہور(اسٹاف رپورٹر)ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے قادیانیوں کی حمایت پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، مولانا عزیزالرحمن جالندھری، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا عزیز الرحمان ثانی ،مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا سید احمد جلال پوری نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ قادیانیت سے متعلق طے شدہ مسئلہ کو متنازع نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی اپنے عقیدہ نبوت کی وجہ سے قرآن وسنت، اجماء امت اور پاکستان کے آئین کی رو سے غیر مسلم اقلیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک دوسرے غیر مسلموں ( ہندو، سکھ، عیسائی اور یہودیوں) کا تعلق ہے وہ اپنے آپ کو غیر مسلم مانتے ہیں جبکہ قادیانی ایسی اقلیت ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان اور مسلمانوں کو غیر مسلم مانتے ہیں لہذا دوسرے غیر مسلموں پر قادیانیوں کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ مشترکہ بیان میں رہنماؤں نے کہا کہ قومی اسمبلی نے 13 دن تک قادیانی اور لاہوری گروپ کے سربراہوں کو مکمل دفاع کا موقع دیتے ہوئے کلمہ  نماز پڑھنے  بظاہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے کے باوجود غیرمسلم اقلیت قرار دیا۔ الطاف حسین قادیانیوں کو مسلمان سمجھ کر آئین پاکستان سے بغاوت کا ارتکاب نہ کریں۔ رہنماؤں نے کہا کہ مسلمان اُنہیں اپنے عقیدہ و مسلک کے مطابق زندگی گزارنے کا مکمل حق دیتے ہیں لیکن اُمت مسلمہ کو کافر قرار دیکر خود کو مسلمان سمجھنے کی کسی صورت میں اجازت نہیں دیں گے۔
جمعیت علمائے پاکستان کی سپریم کونسل کے چیئرمین علامہ جمیل احمد نعیمی، امیر مرکزی جماعت اہلسنّت پاکستان پیر عبدالخالق بھرچونڈی، مفتی محمد شریف سرکی، مفتی محمد ابراہیم قادری، مفتی محمد جان نعیمی، مفتی محمد احمد نعیمی، امیر فدائیانِ ختم نبوّت پاکستان مفتی عبدالحلیم ہزاروی، مفتی تاج الدین نعیمی، علامہ قاضی احمد نورانی، علامہ خادم حسین رضوی، مفتی محمد خان قادری، سردار محمد خان لغاری، پیر محفوظ الحق مشہدی، علامہ شبیر احمد ہاشمی، علامہ محمد اقبال اظہری، علامہ محمد عباس قادری، علامہ سید شجاع الحق، علامہ پیر محمد چشتی، علامہ مختیار احمد چشتی، علامہ عبدالمجید نورانی و دیگر علماء مشائخ نے اپنے مشترکہ بیان میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے انٹرویو کے سلسلے میں کہا ہے کہ بات صرف مرزا طاہر کی تعزیت یا مرزا مسرور سے ملاقات کی نہیں بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ قادیانی جو خود کو احمدی کہتے ہیں وہ اپنا غیر مسلم ہونا قبول نہیں کرتے۔ سکھ، ہندو، عیسائی سمیت پاکستان میں بسنے والی دیگر غیر مسلم اقلیتیں خود کو غیر مسلم تسلیم کرتی اور پاکستان کے آئین کا احترام کرتی ہیں جبکہ قادیانی نہ صرف خود کو مسلمان سمجھتے ہیں بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں کو کافر گردانتے ہیں اور آئین پاکستان کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ ان علمائے کرام نے کہا کہ 1984کے امتناعِ قادیانیت آرڈیننس کی رُو سے قادیانی کسی بھی شعائر اسلامی کو استعمال نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کی عبادت گاہ کو مسجد کا نام دیا جا سکتا ہے ۔ الطاف حسین نے قادیانی عبادت گاہ قائم کرنے کے عزم کا اظہار کرنے کے بعد اسے مسجد کا نام دے کر نہ صرف شعائر اسلام کی توہین کی ہے بلکہ امتناعِ قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان میں ایسے بیانات، جن سے قادیانیوں کی سرپرستی ہو اور احمدیوں کی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹا جائے، قابلِ مذمت فعل ہے ۔ہم الطاف حسین سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ خدارا ایمان اور کفر کے فرق کو سمجھیں اور یاد رکھیں کہ ایم کیو ایم کو لاکھوں ووٹ دینے والے صحیح عقیدہ مسلمان ہیں جو حضرت محمد مصطفی کی ختم نبوّت پر کامل یقین رکھتے ہیں اور قادیانیوں کو قعطی طور پر کافر سمجھتے ہیں۔ اب یہ فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ چند قادیانیوں اور ان کے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے احمدیوں کی حمایت اور ان کی عبادت گاہیں قائم کرنے کا عہد کرتے ہیں یا عقیدہ ختم نبوّت پر کامل ایمان کا اظہار کرکے اپنے لاکھوں ووٹروں کی حمایت کرتے ہیں، وہ یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ صرف علماء کے فتاویٰ نہیں بلکہ قرآن و حدیث کا متفقہ فیصلہ اور اجماعِ امّت ہے

news-08

 

news-10

  

news-11

 

  20

اپ ڈیٹ 5

ایم کیو ایم قادیانی گٹھ جوڑ کو ناکام بنانے کی حکمت عملی تیار

news-01

 

اپ ڈیٹ6

الطاف حسین صاحب نے اپنے ہی ویڈیو کو ان کے خلاف مہم قرار دے کر کہا ہے کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ کیا آپ ان کے اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہیں؟ ان کا بیان ملاحظہ ہو۔(حوالہ نوائے وقت کراچی)۔

scan0001scan0002scan0003 

اپ ڈیٹ 7

اب اسے کیا کہا جائے؟ ویڈیو دیکھیے اور یہ پ ر یعنی پریس ریلیز جس کو روزنامہ جنگ نے نمایاں شائع کیا ہے اس کو پڑھیے۔ کیا کوئی شکوک پیدا کررہا ہے یا الطاف حسین اپنی بات پر قائم نہیں رہے؟ 

وہ شخص مسلمان ہوہی نہیں سکتا جو ختم نبوت پر کامل یقین نہ رکھے،الطاف حسین 

کراچی(پ ر)متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم پاکستانی کی حیثیت سے رہنے کا حق دیاجائے، انہیں اپنے عقائد کے مطابق عبادت کرنے اور عزت سے رہنے کا حق ہے، میری باتوں کو غلط رنگ دیاجارہا ہے۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہاہے کہ میں اللہ کی واحدانیت اورسرکاردوعالم ﷺکی ختم نبوت پر کامل یقین رکھتاہوں،میراایمان ہے کہ وہ شخص مسلمان ہوہی نہیں سکتاکہ جوسرکاردوعالم کی ختم نبوت پر کامل یقین نہ رکھے۔انہوں نے یہ بات لال قلعہ گراوٴنڈ عزیزآباد میں علمائے کرام کودی جانے والی دعوت افطار سے ٹیلیفون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ دعوت افطارمیں تمام مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے علمائے کرام ،مشائخ عظام اورذاکرین نے بڑی تعدادمیں شرکت کی ۔انہوں نے کہاکہ میں مفتیء آگرہ مولوی محمدرمضان کاسگاپوتاہوں جواپنے وقت کے جیدعالم دین ہی نہیں بلکہ مفتی بھی تھے اوران کے دیے ہوئے فتوے آج بھی جامع مسجدآگرہ میں موجودہیں۔ اپنے خطاب میں الطاف حسین نے قرآنی آیات ،احادیث مبارکہ اوراسلامی تاریخ کی روشنی میں اتحادبین المسلمین، مذہبی رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورمعاشرتی ترقی کیلئے خودکو جدیدتقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور نوجوانوں کو اسلام کی اصل روح سے آگاہ کرنے اوراسلام کے نام پر دہشت گردی کی روک تھام کے بارے میں تفصیلی اظہارخیال کیا۔ الطا ف حسین نے کہاکہ میں نے ایک انٹرویومیں احمدیوں کے بارے میں کچھ اظہارخیال کیاہے توبعض لوگ میری باتوں کوغلط رنگ دے رہے ہیں،میں یہ وضاحت کرناضروری سمجھتاہوں کہ میں نے یہ کہاتھاکہ پاکستان میںآ باد احمدی پاکستانی شہری ہیں اورپاکستانی شہری کی حیثیت سے انہیں بھی عزت سے رہنے اوراپنے عقائدکے مطابق عبادت کرنے کا حق حاصل ہے ۔ ان خیالات کے اظہارپر بعض لوگ میرے بارے میں شکوک وشبہات کااظہارکررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ جب حکومت نے قادیانیوں کوغیرمسلم قراردے دیاہے توپھرانہیں ملک میں پاکستانی شہری کی حیثیت سے رہنے کاحق دیاجائے۔میری اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ جب گنہگارالطاف حسین کواٹھائیوتوجان نکلنے سے پہلے زبان پر ” لاالہ الاللہ محمدرسول اللہ “ ضرور اداہو۔( روزنامہ جنگ کراچی ۱۱ستمبر 09)   

اپ ڈیٹ 8

کسی بھی شخص کی طرف سے اسلام اور شعائر اسلام کے خلاف بات کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ مسلمان سو نہیں رہے بلکہ زندہ ہے۔ ذیل میں اخباری بیانات پر مشتمل کلپنگز ملاحظہ کریں؛

news-22

news-27

news-25

news-26

news-01

story1

About these ads

340 Responses to “ایم کیو ایم قادیانی وٹہ سٹہ ؛ الطاف حسین کا انٹرویو”

  1. Mr Mubashar Luqman is not and never been a journalist, rather he was a son of film director so he directed one or two movies. He was picked up by Mushattaf led agencies and promioted. His landig in the lap of an Agha Khani, Sultan Lakhni speaks volumes about future plans of Agha Khanis and Ahmadi communities in this region and who will become instrument in the hands of these Mafias.
    Ash

  2. In My original Post I didn’t discuss Lucman but now i have add two updates; the second one clearly states that he is not only ahmedi but also belongs to a royal family of ahmedis. His father’s name is Mirza Lucman. I don’t know whether Sultan Lakhani agrees with him or not but his four to five program on the same subjects can be watched on youtube. What were Tahir A Khan and his director current affairs doing? Don’t the owners of these Pakistani TV channel monitor the host for what agendas are they toeing?

  3. الحمد للہ جزاکم اللہ تلخابہ کا یہ کمال ہے اور میں اس کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ایک اچھی بحث کا آغاز کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی آپ کو اس کی جزا عطا فرما سکتا ہے۔ بندہ تو بس دعا ہی کر سکتا ہے۔ آپ نے اپنی تحریر میں کئی باتیں بیان فرمائیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کو باری باری ڈسکس کر لیتے ہیں۔
    1۔ الطاف حسین اور قادنیوں کے بیچ نہیں وٹے سٹے کی شادی۔ عرض ہے کہ اس طرح کی زبان بازاری کہلاتی ہے نہ کہ شرفاء کا۔ اگر الطاف حسین نے آج پھر حق بات کہہ دی تو اس پر اس قدر واویلا کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ مناسب تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ ایک علمی بات کا علمی انداز میں جواب دیا جاتا۔ نہ کہ سوقیانہ زبان استعمال کی جاتی۔ الطاف بھائی نے سوائے اس کے اور کیا کہا کہ جس طرح دوسرے لوگوں کو اپنے مذہبی فرائض بجا لانے کا حق ہے یہی حق پاکستان میں تمام بسنے والوں کو ہونا چاہئے۔ دوسرے کہا کہ میں نے احمدیوں کا لٹریچر پڑھا ہے اور یہ بھی وہی کلمہ مانتے ہیں جو تمام مسلمان مانتے ہیں اور یہ بھی بھی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں تو پھر جھگڑا کیا ہے۔ اگر کوئی اختلاف ہے تو بحث کر لیں۔ اس معاملے پر مناظرہ کر لیں مگر دوسرے کے حقوق سلب کرنے کا اختیار آپ کو کس نے دیا۔
    دوسرا موضوع ہے علامہ محمد اقبال صاحب کا پھر تیسرا موضوع ہے جناب مبشر لقمان صاحب کا ۔ تو بھیا علامہ اقبال کے موضوع کو بعد میں تفصیل سے ڈسکس کر لیں گے مگر یہ مبشر لقمان کا کیا قصور ہے اگر اس نے الطاف حسین کا انٹرویو لے لیا۔ اور اس میں الطاف بھائی نے کھل کر اپنے خیالات کااظہار بھی کر دیا۔ ویسے برا مت مانئے گا معلوم نہیں کیوں مگر میں نے دیکھا ہے کہ سچ ہمیشہ کڑوا لگتا ہے۔ رہی یہ بات کہ مبشر لقمان صاحب مرزا لقمان کے بیٹے ہیں تو یہ میرے لئے حیران کن بات ہے کیونکہ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ دونوں باپ بیٹا ہم عمر ہیں۔ اور یہ خبر دینے والے صاحب شاید اس دایہ کے بیٹے ہیں جس کے سامنے یہ ولادت ہوئی تھی۔ خدا کے خوف کریں اور حقائق پر پردہ مت ڈالیں۔

  4. [...] A comprehensive Urdu blog about MQM and Qadian’s Watta Satta Marriage can be read here in my Urdu Talkhaba however you can also watch and [...]

  5. Altaf Hussain has no relation with Islam. The way he is talking show his ignorance of Islam. Shame on the follower of Altaf who also claim to be muslims

  6. WOW, what a discussion. How right was faiz Sahib when he said,

    Nisar main teri galiyon kay aiy watana kay Jahan
    Chuli hai rusm kay koi na sur Utha kay chulay

    Jo koi Chahnay wala tawaf ko niklay
    Nazar Chura kay chulay Jismo Jan Bucha kay chlay

    So now Mullah will decide who should be interviewed and what questions should be ask in the interview, and what the guests should say. Where has the freedom of speech gone now.

  7. الطاف بھائی کے انٹرویو پر اس قدر سیخ پا ملا یا ملاجیسا ذہن رکھنے والے کے علاوہ کون ہو سکتا ہے ۔ یہ علماء آپس میں ایک دوسرے کو کیا کہتے ہیں اس کا پتہ ان کی تقاریر سن کر چلتا ہے ۔ احمدیوں کے لئے چند کلمات خیر کہنے پر سیخ پا ہونے والے یہ علماء اور ان کے متبعین کے خیالات پڑھ کر میرا ذہن پندرہ صد سال پیچھے مکہ کی وادی میں چلا گیا کہ جہاں ایک امی بے کس نبی محترم رسول محتشم ختمی مرتبت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قریش نے جو سلوک کیا تھا وہی سلوک آج کے یہ علماء سوء اس عظیم المرتبت نبی کے نام پر احمدیوں سے کر رہے ہیں۔ ابو جہل کے بارے میں قرآن کریم میں آیا ہے افرئیت الذی ینہی عبدا اذا صلی کہ کیا تونے اس شخص کو نہیں دیکھا جو عبد کامل ( محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم) کو اس وقت روکتا ہے جب وہ نماز پڑھتا ہے۔ یہ مفتی منیب الرحمن جیسے مولوی جو ختم نبوت کے عارفانہ معانی کو ترک کر کے ان معانی کے پیچھے چلتے ہیں جن کے نتیجے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوتی ہے ۔اور جب احمدیوں کی مساجد سے کلمہ مٹا یا جاتا ہے اور وہ نام جس کیلئے یہ غیر رکھتے ہیں ٹوٹ ٹوٹ کر زمین پر گرتا ہے تو یہ سب سے بڑے بے غیرت بن جاتے ہیں ۔
    الطاف حسین صاحب نے تو صرف اتنا ہی کہا ہے کہ احمدیوں کو اس ملک میں اپنے مذہبی عقائد کی آزادی ہونی چاہئے ۔ اور انہوں نے کوئی نئی بات نہیں کہی یہ وہی بات ہے جو حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ریاست کے قیام کے وقت کہی تھی۔ لیکن مولوی کا کام تو فساد پھیلانا ہے ۔ الطاف بھائی کو پریشان نہیں ہونا چاہئے آج کے یہ مولوی اور مفتی اور مذہبی رہنما تو حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مصداق ہیں جو مشکاة شریف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے درج ہے کہ آخری زمانے میں اسلام کا صرف نام رہ جائے گا اور قرآن کے حروف ان کی مساجد خوب آباد ہو ں گی مگر ہدایت سے خالی اور ان کے علماء اس وقت آسمان کے نیچے بد ترین مخلوق ہوں گے ہر فتنہ انہیں میں سے نکلے گا اور انہی میں لوٹ جائے گا۔
    رہے علامہ اقبال انہوں نے جس قوم کا خواب دیکھا تھا وہ تو خواب میں بھی نہیں ملے گی البتتہ انہوں نے احمدیوں کی تعریف میں یہ کہا تھا کہ اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ جس فرقے میں ظاہر ہوا ہے وہ قادیانی فرقہ ہے۔ان کے بڑے بھائی اور چچا زاد بھائی اعجاز احمد بھی احمدی تھے اور ان کے بچوں جاوید اقبال کے گارڈین۔اقبال نے اپنے بڑے بیٹے آفتاب اقبال کو قادیان تعلیم حاصل کرنے بھیجا۔
    دیو بندیوں کو تو احمدیوں کے خلاف بولنے کا حق ہی نہیں ان کے سب سے بڑے اور بانی مدرسہٴ دیوبند مولانا قاسم نانوتوی ختم نبوت کے بارے میں وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو احمدیوں کا ہے۔اور بریلوی ہمیشہ ان کو اس پر مطعون کرتے ہیں۔
    باقی رہی ان کی سوقیانہ زبان تو یہ مولوی کا شیوہ اور ان کا خلق ہے ۔ کیونکہ احمدیوں کے مقابل پر تو یہ زبان چلاتے ہی ہیں لیکن آپس میں دیوبندی اور بریلوی ملا جو زبان استعمال کرتے ہیں اس کے سوقیانہ پن کی مثال ہی نہیں ملتی ایک لنک لکھ رہا ہوں اس پر جا کر دیکھیں کہ کیا زبان یہ باہم استعمال کرتے ہیں اس لئے ان کی سوقیانہ زبان سے گھبرانا نہیں چاہئے یہ ان مولویوں کی ورثے میں ملی ہے ۔اس لئے اس پر پریشان نہ ہوں link یہ ہے ۔

    بس اس لنک پر پڑی ویڈیو کو دیکھیں اور ان مولویوں کی زبان ملاحظہ کریں۔

  8. الطاف بھائی کے انٹرویو پر اس قدر سیخ پا ملا یا ملاجیسا ذہن رکھنے والے کے علاوہ کون ہو سکتا ہے ۔ یہ علماء آپس میں ایک دوسرے کو کیا کہتے ہیں اس کا پتہ ان کی تقاریر سن کر چلتا ہے ۔ احمدیوں کے لئے چند کلمات خیر کہنے پر سیخ پا ہونے والے یہ علماء اور ان کے متبعین کے خیالات پڑھ کر میرا ذہن پندرہ صد سال پیچھے مکہ کی وادی میں چلا گیا کہ جہاں ایک امی بے کس نبی محترم رسول محتشم ختمی مرتبت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قریش نے جو سلوک کیا تھا وہی سلوک آج کے یہ علماء سوء اس عظیم المرتبت نبی کے نام پر احمدیوں سے کر رہے ہیں۔ ابو جہل کے بارے میں قرآن کریم میں آیا ہے افرئیت الذی ینہی عبدا اذا صلی کہ کیا تونے اس شخص کو نہیں دیکھا جو عبد کامل ( محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم) کو اس وقت روکتا ہے جب وہ نماز پڑھتا ہے۔ یہ مفتی منیب الرحمن جیسے مولوی جو ختم نبوت کے عارفانہ معانی کو ترک کر کے ان معانی کے پیچھے چلتے ہیں جن کے نتیجے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوتی ہے ۔اور جب احمدیوں کی مساجد سے کلمہ مٹا یا جاتا ہے اور وہ نام جس کیلئے یہ غیر رکھتے ہیں ٹوٹ ٹوٹ کر زمین پر گرتا ہے تو یہ سب سے بڑے بے غیرت بن جاتے ہیں ۔
    الطاف حسین صاحب نے تو صرف اتنا ہی کہا ہے کہ احمدیوں کو اس ملک میں اپنے مذہبی عقائد کی آزادی ہونی چاہئے ۔ اور انہوں نے کوئی نئی بات نہیں کہی یہ وہی بات ہے جو حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ریاست کے قیام کے وقت کہی تھی۔ لیکن مولوی کا کام تو فساد پھیلانا ہے ۔ الطاف بھائی کو پریشان نہیں ہونا چاہئے آج کے یہ مولوی اور مفتی اور مذہبی رہنما تو حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مصداق ہیں جو مشکاة شریف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے درج ہے کہ آخری زمانے میں اسلام کا صرف نام رہ جائے گا اور قرآن کے حروف ان کی مساجد خوب آباد ہو ں گی مگر ہدایت سے خالی اور ان کے علماء اس وقت آسمان کے نیچے بد ترین مخلوق ہوں گے ہر فتنہ انہیں میں سے نکلے گا اور انہی میں لوٹ جائے گا۔
    رہے علامہ اقبال انہوں نے جس قوم کا خواب دیکھا تھا وہ تو خواب میں بھی نہیں ملے گی البتتہ انہوں نے احمدیوں کی تعریف میں یہ کہا تھا کہ اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ جس فرقے میں ظاہر ہوا ہے وہ قادیانی فرقہ ہے۔ان کے بڑے بھائی اور بھتیجے اعجاز احمد بھی احمدی تھے اور ان کے بچوں جاوید اقبال کے گارڈین۔اقبال نے اپنے بڑے بیٹے آفتاب اقبال کو قادیان تعلیم حاصل کرنے بھیجا۔
    دیو بندیوں کو تو احمدیوں کے خلاف بولنے کا حق ہی نہیں ان کے سب سے بڑے اور بانی مدرسہٴ دیوبند مولانا قاسم نانوتوی ختم نبوت کے بارے میں وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو احمدیوں کا ہے۔اور بریلوی ہمیشہ ان کو اس پر مطعون کرتے ہیں۔
    باقی رہی ان کی سوقیانہ زبان تو یہ مولوی کا شیوہ اور ان کا خلق ہے ۔ کیونکہ احمدیوں کے مقابل پر تو یہ زبان چلاتے ہی ہیں لیکن آپس میں دیوبندی اور بریلوی ملا جو زبان استعمال کرتے ہیں اس کے سوقیانہ پن کی مثال ہی نہیں ملتی ایک لنک لکھ رہا ہوں اس پر جا کر دیکھیں کہ کیا زبان یہ باہم استعمال کرتے ہیں اس لئے ان کی سوقیانہ زبان سے گھبرانا نہیں چاہئے یہ ان مولویوں کی ورثے میں ملی ہے ۔اس لئے اس پر پریشان نہ ہوں-
    رہا مبشر لقمان کے مرزا لقمان احمد کے بیٹے ہونے کا معاملہ تو یہ خبر مرزا لقمان کے لیے بھی نئی ہو گی کہ ان کا ایک ہم عمر بیٹا بھی ہے-
    link یہ ہے:http://www.youtube.com/watch?v=X01htQUvKcQ
    بس اس لنک پر پڑی ویڈیو کو دیکھیں اور ان مولویوں کی زبان ملاحظہ کریں۔

  9. This is the lowest standard one can go against a leader who has millions of voters in Pakistan. “Talkhaba” is making the things worse that is its mission I think. There are many things in Pashtun traditions called “Pashtunwali” which are against the teachings of Islam. For example keeping the young and good looking boys as their keeps, giving young girls to the relative of the victim as compensation for murder,tribal enmity longing for years against which the Prophet (SAW)had preached in the Arab tribes,huge dowery or buying of the bride (which is a cause of homosexuality in remote Pashtun areas & Taliban), extra judicial killings on the name of so called Ghairat (Ghairatmand should first kill himself if he has some self respect instead of killing the girl), kidnaping for ransom and lastly the safe gaurding of the terrorists and criminals on the name of hospitality.
    I request the Talkhaba to write on these issues and the watta satta going on in Tribal belts….

  10. @Rambler79
    AbdulSamad
    Khadim!

    Great! You people have done a great job by defending a person who has spoken against one of the basic belief of Islam. Keep it up. Abujihal had also a great team. So no surprise to read your comments. TalkHaba, you’re doing great work. Keep it up. The Thugs should be exposed. They way you exposed This Jaali Peer is commendable.

  11. آج صبح جیو ٹی وی پر ٹیکر چل رہا ہے جس میں موصوف فرما رہا ہے کہ اس کے بیان کو توڑ مروڑ کرپیش کردیا گیا۔ جبکہ اوپر ویڈیو میں بکواس کررہا تھا کہ لگنے دیں کفر کے فتوے میں کہوں کہ ان کو تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیے۔ قادیانیوں کی مسجد بناوں گا اور یہ کہ میں نے ان کا لٹریچر پڑھا ہے یہ وہی کلمہ پڑھتے ہیں محمد صل اللہ علیہ وسلام کو آخری نبی مانتے ہیں۔ کیا آدمی ہے یہ لیکن کیا لوگ جس اس جعلی اور بے ہودہ آدمی کے پیروکار ہیں۔ اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے۔۔آمین

  12. To all peace lovers,

    Please lets start studying our religion ourself, lets not listen to any one including mullas. i am hopeful that when we all will read our Holy book and obey the Sunnah then we will come up with new and enlightened vision of Islam. Allah bless all of us.
    If my suggestion is acceptable please comment.
    Regards,
    Mahmood Shah

  13. The case of Ahmadies is entierly different from other religions.

    Ahmadies claim that They are Muslims & those who don’t recognise Mirza Ghulam Ahmad Qadini (MGAQ) as prophet are non Muslims.

    They declared non Muslims by uninamous democratic decision after the 2 months debate, see

    http://kashifiat.wordpress.com/2009/09/08/september-071974-a-historical-day/

    Talkhaba, Trusth is always bitter, which is reflecting here by liberal /secular / Ahmadi supporter

  14. خادم صاحب!

    تلخابہ پختون ہونے کے باوجود پختونوں کی ہر اس روایت سے باغی ہے جو اسلام کے خلاف ہے۔ اور اس کے لیے ہر وہ روایت قابل فخر ہے جو اسلام سے متصادم نہیں ہے۔ ہم جنس پرستی سے غیرت کے نام پر قتل تک ہر برا عمل قابل مذمت ہے لیکن ان کی مہمان داری قابل فخر ہے۔ یہی وجہ ہے جب میرے اپنے وطن کا ایک میراثی سربراہ امریکا کاساتھ دے رہا تھا توسرحد کے اس پارایک پختون نے امریکا کو انکار کردیا اور آج تک لڑ رہے ہیں جبکہ ہم اپنے لوگوں کے خلاف۔ میں فوج کی طرف سے کراچی آپریشن‘ بلوچستان آپریشن‘جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن ‘ سوات اور فاٹامیں آپریشن سمیت ہر فوجی آپریشن کی مذمت کرتا ہوں۔میرے لیے پختون روایات پر فخر کرنے کا ہرگز مقصد یہ نہیں کہ میں اپنے دیگرمسلمان بھائیوں جو مجھے کسی پختون جتنے ہی عزیز ہیں ان کو کم تر سمجھتا ہوں۔ زبان میرے لیے کمیونیکش کا ذریعہ ہے اور بس۔

    اب آپ سے گزارش ہے کہ آپ اصل موضوع پر اظہار خیال کریں۔ یعنی الطاف حسین اور قادیانی گٹھ جوڑ۔ اس موضوع سے ہٹ کر کسی بات کا مزیدکوئی جواب نہیں دیا جائے گا۔

  15. مولی بس:
    یہاں موضوع یہ نہیں کہ قادیانی کافر ہے یا نہیں کیوں کہ اس میں شک ہی نہیں ہے۔ الطاف حسین ‘قادیانی گٹھ جوڑ موضوع بحث ہے اس لیے اسی پر بحث کیجیے۔ قادیانی کافر کیسے ہیں اس کے لیے اسمبلی کی کارروائی پر مشتمل کتاب ختم نبوت کی ویب سائٹ سے ڈاونڈوڈ کر کے پڑھی جاسکتی ہے۔

    • Just one question for Talkhaaba… Why do you get so frustrated when the extremist Mullahs, whoes only goal in life is to create “fasaad & fitna” within the ummah, are exposed by any fair-minded person? Dont you think one’s Imaan (faith) and belief is between the individual and Allah. Why do Mullahs whoes own charachter is nothing but propogate killing, toture, and extortion, have to play GOD and allocate Heaven and Hell to human beings whoever they may be. And then when somebody speaks out against this non-Islamic act then Talkabbah goes mad with frustration. As far as Ahamdis are concerned I think it is high time that we should demand from the government to realese the actual proceedings of the national Assambly September 1974….and I mean THE ACTUAL TRANSCRIPTS…NOT ANY RE-PRODUCED, FABRICATED BOOKLET…….and let the Nation decide for itself what happened during those three days. I challenge and bet you my everting that either the govt will never release that…and if they did 90% of fair-minded people will openly say that Ahmadis CANNOT BE non-Mulims.
      THERE IS MY PERSONAL CHALLENGE …….ANY BODY WHO CAN TAKE ME ON, ON THIS??????

      • VERY RIGHT MR NASEER!
        I must say that it is high time that we start looking at things objectively without involving our religious opinions taht hav been formed on the basis of mullah’s view… let alone right or wrong…the fact remains that is this what

      • THE HOLY PROPHET (P.B.U.H) said:
        “Beware! Whoever is cruel and hard on a non-Muslim minority, or curtails their rights, or burdens them with more than they can bear, or takes anything from them against their free will; I (Prophet Muhammad) will complain against the person on the Day of Judgment.” (Abu Dawud)
        then who r we to deny any community the basic human rights, who r v to take away from them the freedom of practicing their religion?
        Quaid_e_azam Muhammad Ali Jinnah said in his Address to the Constituent Assembly of Pakistan, Karachi
        August 11, 1947
        “If we want to make this great State of Pakistan happy and prosperous we should wholly and solely concentrate on the well-being of the people, and especially of the masses and the poor… you are free- you are free to go to your temples mosques or any other place of worship in this state of Pakistan. You may belong to any religion, caste or creed that has nothing to do with the business of the state… in due course of time Hindus will cease to be Hindus and Muslims will cease to Muslims- not in a religious sense for that is the personal faith of an individual- but in a political sense as citizens of one state”

        this is the picture of Pakistan that Quaid had wished 2 see. how can we dare 2 deny the basic human rights? how can we not let sm1 exercise thier religion freely?
        its high time that we start looking at things objectively without involving our exploited religious sentiments!
        MAY ALLAH PROTECT US ALL AND BLESS US WITH WISDOM!

      • as far as mr altaf hussein comments are concerned, i wud lyk to quote Hazrat Ali’s saying:
        “yeh na daikho kaun keh raha hai, yeh daikho kya keh raha hai”

      • What do u think Altaf Hussain is a fair minded person? What did he reverted? why didn’t he keep his words? Didn’t you noticed the contradiction he showed in his interview and the news published in Nawe-i-Waqt?
        @ Iben Mehmood!
        The saying of Hazrat Ali is not authentic as when the Prophet Muhammad (SAW) asked the Quresh keh: Agr main kahon keh Pahari ka Us Paar se Dushman Araha hai tu aap Yaqeen Karengay. Iskay Jawab Mein Sb ne kia kahan tha yeh tu Batanay ki Zarorat Nahen Hogi likn pher bhai unhon ne kahan keh aay Muhammad hum yaqeen karngay kiunkeh aap jhot nahen bol saktay. And what do you think Altaf Hussain a all time great liar and actor should be believed? I am sorry the Muslims are not gona buy what he wants to sell. Yes the Ahmedis can buy as he is doing all this for them under a great deal between them. But they will never get successive as this awareness campaign will not stopped. The Qadianis, their agents in media and politics will be exposed inshaAllah

      • Every educated person/Muslim in Pakistan and around the world knows Ahmadies are right and are true Muslims. Their voices are lowered because of these Mullah’s who think they are God. Who are you to declare who is Muslim and who isn’t?
        “Abu Sufyan, a great enemy of the Holy Prophet, was brought to him. He claimed to have recited the Kalima, but the Holy Prophet’s Companions argued that he had not done it with his heart, and they wanted to kill him. But the Holy Prophet said that as he had recited the Kalima, he was now a Muslim, and could not be harmed.”
        If someone who sees injustice being done and don’t speak up then they become one of the sinners. It is time that you should open your eyes and see the truth Mullah’s. You will not be able to escape the wrath of Allah when he decides enough is enough. You will not find a place to hide. Repent your sins and ask for forgiveness – learn from what happened to General Zia-ul-Haq who was blown up in the air. As Naseer sahib has rightly challenged, release the actual proceedings of the national Assembly September 1974 and let the Nation decide for itself what happened during those three days.
        LA ILAHA ILLALLAH MUHAMMADUR RASOOL ALLAH

      • One can easily find the actual proceeding of NA from the Khatm-e-Nabuwat office, Masjid-e-Babe Rehmat, old Numaish, Karachi

        This book is complied by Maulana Allah Wasaya

        Soon Inshallah we will release the proceedings of NA

  16. عبدالصمد صاحب!
    الطاف حسین صاحب کی وضاحت پڑھ لیں اور پھر ویڈیو دیکھ لیں۔ پتا نہیں وہ کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں؟ الطاف حسین لاکھ دفعہ احمدیوں کے لیے کلمات خیر کہیں لیکن جب بھی کوئی آئینِ پاکستان سے ہٹ کر احمدیوں کے لیے کسی چیز کا مطالبہ کرے گا اس کا اسی طرح احتساب کیا جائے گا۔ الحمداللہ ختم نبوت کے متوالے زندہ ہیں اور پھر شاید الطاف حسین کو خود پتا چل گیا کہ اگر چہ یہ قادیانیوں کے ساتھ ڈیل میں شامل ہے لیکن جو کچھ انہوں نے کہا اگر اس پر قائم رہے تو ایم کیو ایم کے کارکنوں کی ایک چھوٹی تعداد کے علاوہ سب ان کو چھوڑ کر ایم کیو ایم سے برات کا اعلان کرکے توبہ کرلیں گے۔

    تاہم وضاحت کرتے ہوئے الطاف حسین کو یہ نہیں پتا چلا کہ یہ 2009 ہے ۔ اور یہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ ان الفاظ کی کس طرح تردید کریں گے جو ویڈیومیں محفوظ سیاق و سباق کے ساتھ؟ اگر آپ اوپر اپ لوڈ کیے گئے ویڈیو کو دیکھ لیں تو اس کا دورانیہ اتنا ہے جس میں ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ الطاف حسین کیا کہنا چاہتے تھے۔ انہوں احمدیوں کا لٹریچر پڑھا ہےِ‘ ان کا کلمہ وہی ہے۔ وہ محمد صل اللہ اعلیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ الطاف حسین کی جہالت ہے یا پھر جان بوجھ کر کہا گیا۔ کسی ایک کا اعتراف توکرلیں تب کوئی یقین کرلے گا ورنہ نہیں۔ اس کے علاوہ یہ احمدیوں کو تبلیغ کی اجازت؟ اور ان کے لیے مسجد کی تعمیر؟ آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ اب آپ ہی بتائیں کہ الطاف حسین جاہل یا قادیانی۔ ؟

    • تلخابہ صاحب
      آپ کی گفتگو تضادات کا مجموعہ ہے ۔ میں آپ سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں ۔
      کیا آپ مسلمان ہیں؟ اگر آپ دیوبندی ہیں تو پھر main Stream اہلسنت کے نزدیک آپ لوگ مسلمان ہیں ہی نہیں فتاوی لکھے ہوئے موجود ہیں۔
      اگر آپ بریلوی ہیں تو آپ دیوبندیوں اور اہل حدیثوں کے ہاں مشرک اور نجانے کیا کیا کچھ ہیں۔
      اگر آپ شیعہ ہیں تو پھر آپ تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں کے ہاں کافر ہیں۔ تو ایک شخص جس کا اپنا دین اور ایمان فتاوی کفر کی زد میں ہو احمدیوں کو کس طرف بلاتا ہے ۔مسلمانوں کے اس جم غفیر کی طرف جس کا نہ کوئی لیڈر ہے نہ کوئی والی وارث۔ جس کے لیڈروں اور رہنماؤں کا قبلہ و کعبہ مکہ و مدینہ نہیں واشنگٹن اور لندن ہے۔
      احمدیوں کو برا کہنے سے پہلے اور ان پر تبر رکھنے سے پہلے یہ سوچیں کہ احمدی ہیں کون۔
      کیا کسی احمدی سے آپ ملے ؟
      کیا آپ نے جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی تصانیف کا مطالعہ کیا؟
      کیا آپ نے ربوہ یا قادیان جا کر کبھی دریافت کیا کہ بھئی بتاؤ تو سہی آپ مرزا صاحب کوکیا مانتے ہو؟
      چند مخالف احمدی ملاؤں کے مبلغ علم پر اکتفا کر کے اپنے عقل وشعور کے ان کے ہاتھوں میں رہن رکھ کے خود فیصلہ کرنے کی بجائے آپ نے بھی وہی ڈفلی بجادی جو پاکستان کے لاکھوں ملا بجا رہے ہیں۔
      تلخابہ میری جان
      آپ تو پٹھان ہیں اور پٹھان تو بہادری اور غیرت کا مرقع ہوتا ہے۔آپ کو اگر ذرا بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت ہے تو ذرا اس لنک پر جا کر مولویوں کی تقریریں سنیں۔اور پھر ایک ایسی جماعت کے مقابل ہونے کا سوچیں جو ایک امام کو مانتی ہے جو ایک ہاتھ کے اشارے پر اٹھتی اور بیٹھتی ہے۔جس کی راتیں خدا کے حضور دعاؤں میں گزرتی ہیں۔ ہم نے جو کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی ہے اس کا کہنا ہے
      گالیان سن کر دعا دو پاکے دکھ آرام دو+++++کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار
      جس نے ہمیں یہ تعلیم دی
      گالیان سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو++++رحم ہے جوش میں اور غیض گھٹایا ہم نے
      یہ ملا او رنام نہاد علما جو باہم کفر کے بازار گرم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف بازاری زبان استعمال کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو (کتے دلے ۔نقل کفر کفر نباشد) اور نجانے کیا کیا کہتے ہیں ان کے پیچھے چلنے سے بہتر ہے کہ انسان ایسے مذہب سے توبہ ہی کر لے۔
      ان علماء کے نزدیک اسلام کا خدا ایک مردہ خدا ہے۔
      ان علماء تو کلمہ مٹانے سے بھی نہیں چوکتے
      ان علماء کے نزدیک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کامیاب نہیں ہوئے جب تک انہوں نے تلوار ہاتھ میں نہ لی( مودودی صاحب کا یہی خیال تھا)
      ان علماء و مشائخ میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو اپنے وجود کو غیر مسلموں کے سامنے زندہ خدا کے وجود کے طور پر پیش کر سکے۔
      ہم جس کے ماننے والے ہیں اس نے ہمیں بتایا کہ
      اسلام کا خدا زندہ خدا ہے‘ قرآن ایک زندہ کتاب ہے اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دن کی پیروی سے نجات مل جاتی ہے ۔ احمدیت میں داخل ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط بھی ایسی نہیں جو خلاف قرآن یا حدیث ہو۔وہ میں لکھ رہا ہوں ذرا یہ بھی پڑھ لیں اور پھر اگلی مرتبہ جواب دیتے ہوئے یہ بھی لکھ دیں کہ کیا آپ کی موجودہ مذہبی قیادت میں سے کوئی ایک بھی ایسا ہے جو اس پر پورا اترتا ہے۔
      نوشہرہ میں مولانا سمیع الحق کے بارے میں جو داستانیں موجود ہیں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مولوی فضل الرحمن کے بارے میں۔
      مدارس میں جو کچھ ہوتا ہے اس کو بھی ذرا دیکھ لیں۔
      جناب مخالفت تو آپ کرتے ہیں لیکن کس برتے پر گزشتہ سو سال میں تو آپ لوگوں نے احمدیوں کے سامنے سوائے نفرت اور گالیوں کے اور کچھ رکھا نہیں ۔آپ کس منہ سے اسلام کی باتیں کرتے ہیں اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کے داعی ہیں خدا کا خوف تو آپ لوگوں میں سے بالکل ہی اٹھ گیا ہے۔

  17. مرزا مبشر لقمان کون ہے اس کے لیے ایک علیحدہ تھریڈ کا انتظار کیجیے۔ تفصیل کے ساتھ بتا دیا جائے گا۔

  18. There is a must read article for Maula Bus at Kashifiat.

  19. تلخابہ نے میرے جواب میں لکھا اس کو میں اسکے الفاظ میں کوٹ کرتا ہوں
    “مولی بس:
    یہاں موضوع یہ نہیں کہ قادیانی کافر ہے یا نہیں کیوں کہ اس میں شک ہی نہیں ہے۔ الطاف حسین ‘قادیانی گٹھ جوڑ موضوع بحث ہے اس لیے اسی پر بحث کیجیے۔ قادیانی کافر کیسے ہیں اس کے لیے اسمبلی کی کارروائی پر مشتمل کتاب ختم نبوت کی ویب سائٹ سے ڈاونڈوڈ کر کے پڑھی جاسکتی ہے”۔”
    میری جان تلخابہ اس جگہ موضوع کیا قادیانی /احمدی /الطاف حسین /اسلام اور کفر ہےاور میں آپ کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں احمدیوں کو غیرمسلم قرار دینے والا لایعنی فعل اسمبلی نے کیا ۔ اب آپ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ احمدی کافر ہیں تو الحمد للہ اگر قرآن اور خدا کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم احمدیوں کو مسلمان قرار دیں تو میں دنیا کی کسی اسمبلی کی کوئی اوقات نہیں جانتا کہ وہ احمدیوں کو کافر قرار دیں یا اس سے بھی بڑھ کر۔ ویسے مجھے صرف یہ بتا دو کہ تلخابہ میاں
    تم خدا کو مانتے ہو؟
    خدا کے رسول کے بیعت ہو ؟
    یا قومی اسمبلی کی بیعت کی ہوئی ہے؟
    ذرا وضاحت کر دینا انتظار کروں گا۔
    دوسری عرض ہے کہ میں نے قومی اسمبلی جس پر تمھہیں اور تمھارے کرتا دھرتا کو مان ہے اس کی طرف سے آفیشل کارروائی کی ڈیمانڈ کر رہا ہوں نہ کہ کسی ایرے غیریے نتھو خیرے کی چھپی ہوئی کتاب کی جو جھوٹ کا پلندہ ہے۔ میں تو کہتا ہوں تمھاری اسمبلی جس کی تم نے بیعت کی ہوئی ہے اس کی طرف سے آفیشل ڈاکیومنیٹ شائع کردو سارا پاکستان احمدیت چھوڑ دے گا کیونکہ سب کو احمدیت کا جھوٹ پتہ چل جائے گا۔
    تلخابہ اگر یہ کام کروا دو تو دیکھو کتنا فائدہ ہوگا۔ وہ کام جو ساری دنیا کے مولوی مل کر نہیں کرسکے وہ ایک دم احمدیت کے بارے سب کچھ جان لیں گے جو اسمبلی میں ہواتھا۔
    آخر پر میں چیلنچ کرتا ہوں کہ تم ساری دنیا کے مولوی مل کر بھی جماعت احمدیہ کے سینےمیں موجود اسلام اور اسلام کا کلمہ مٹا نہیں سکتے۔ اور جس دن74 کی اسمبلی کی آفیشل کارروائی سامنے آگئی سارا پاکستان احمدیت قبول کر لے گا سوائے چند نام نہاد مولویوں کے تمھارے جیسے۔

  20. Hi administrator,
    There seems to be some problem when you upload newspaper clippings. The right side of these reports get cut somehow. Can you rectify the problem please.
    Thanks and excellent job on the Qadiani issue.
    Keep it up!!!

  21. Khattak Sb,

    Please check it now. I hope the problem is fixed. However, if it still persists you can find the news [pictures] in today Ummat’s front page. However, Altaf clarification was scanned from hard copy of Nawai Waqt Karachi is not available online. If you’re unable to read it, I will compose the text.

  22. man keep it up. its making the difference and would serve as a platform for many… Great Job TalkhAbba

  23. بھائی لوگو
    جب پاکستان کے مالکان فوجی بھائیوں کو الطاف حسین کی ان چیزوں پر کوئی اعتراز نہیں تو آپ لوگون کو کیا پرابلم ہے۔ وہ پاستان کے مفاد میں زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اگر الطاف،امریکہ اسرائیل اور قادیانیوں کی حمایت کی جارہی ہے تو ضرور اس میں کوئی ھکمت ہو گی۔۔۔فوج بلا وجہ تو یہ سب نہیں کر رہی۔ زرداری الطاف وغیرہ کی پیشکش کی افادیت آپ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تو فوج کیا کرے۔ اسلام اور ختم نبوت کی بجائے قادیانیوں اور الطاف اور امریکہ کی حمایت کا ذیادہ فائدہ ہو گا جبھی تو فوج مکمل ان کی تمام قتل و غارت، لوٹ مار اور ین سب چیزوں پر ان کی ہلا شیری کر رہی ہے۔ آکر وہ مالک ہیں ملک کے۔

  24. Talkhabba sahib can you please tell me that if Z.A Bhutto performed such a great service to Islam that nobody in the 1300 yrs history of Islam ever did, then why did Allah rewarded him die such an unceremonial death, so much so that his entire “Nasal” has been wiped off the face of the earth. And now his maternal grandson had to have his parent-hood changed to give him a “Bhutto” name.
    Then Zia’s atrocities against Ahmadies are recorded in the history to be the worst. He brought the notorious ordinances of banning Ahamdis to behave like Muslims and read or dispaly Kalima. Most Ahamddis were killed in his dictatorship. His end was another examplary one.
    Shah Faisal beckoned Bhutto to start the campaign against Ahamdis. What happened to Shah faisal?
    PLZ SEE THE ROZNAMA MILLAT LONDON 7th sep 1988. statement by Maulana Mahmood Mirpuri of Birmingham UK. The headline Says..
    ” Qadianis said that the death of Bhutto and Shah Faisal are also the result of their prayers. It is ridiculous to say Zia’s death also was result of their Mubahila”

    Then please read Daily News Oct 11 1988…….. It says:

    “Death crash victim was Top Muslim Leader…..”

    Maulana and his family sadly passed away in a car accident on 33rd day after his above statement, and the investigators could not work out why did his car came a sudden halt in the fast lane of Motorway M6, and got hit by a lorry.
    Next day all the mourners at Maulana’s house got badly injured when the floor collapsed and they all fell into a hole. There was a qeue of ambulances outside Maulanas house taking injured to hospitals. All recorded in the media.
    I have these documents and the recordings of Tv news if sombody want to see it.

    • Dear Muslim Brother
      you said
      “All recorded in the media.
      I have these documents and the recordings of Tv news if sombody want to see it.”
      please leave its link on this blog about these recordings.
      Really these are big question marks for me Why God give examplary death for these three heros
      King faisal murderd
      Bhutto Hanged
      zia blast in air
      God forbid

      • Thanx Maula Bass….. i have the video recording of TV news on a tape and the news paper cuttings of Maulana Mahmood Mirpuri’s sad story. He was the Khateeb of the main Ehal-e-Hadith mosque in Birmingham and their main leader in UK. I will inshallah have them on Youtube by Saturday. Plz search under “The Fate of Three Enemies of Ahamdiyyat”. Also under ” The Fate of three Dictators of the Islamic world”.

      • Have you uploaded the VDO’s yet.

    • Unceremonial death? Firstly Bhutto passed the resolution under pressure from the Pakistani masses. But what about the death of Mirza Ghulam Ahmed. Allah Subhanallah Taalah made a symbol of ibrat for the human kind

      • Irrespective of your hundered years old rehtoric which is a complete fabrication, Hazrat Mirza Ghulam Ahmed passed away in peace out of a normal ailment, a ntural death with his loving and caring companions around him.

        You people can fabricate complete baseless lies within minutes. Just as you people and your so-called Muslim “Muttaqi” truthful Mullahs have within 24hrs fabricated that Mubasher Lucman is the son of Mirza Luqman, and you people have suddenly changed his name to Mirza. FOR GOD’S SAKE CANT YOU SEE HOW SHALLOW, AND BASELESS YOUR IMAAN IS????? WHAT IF POOR MUBASHER LUCMAN PROVES YOU WRONG, WHERE WOULD YOU AND YOUR LONG LIST OF MULLAHS WILL STAND? WOULD THEY ADMIT THAT THEY MADE UP A LIE? JUST AS YOU & YOUR ANCESTORS MADE UP THE LIE ABOUT THE DEMISE OF HAZRAT MIRZA GHULAM AHMED? YOU ARE NOT EVEN WORTH REFUTING, YOU ARE SO RIDICULOUS.

      • were you present at the death of mirza Ghulam ahmad qadiani?

        what muslim brother wrote is a proved truth.

        what you are writing is a statement made by your so called mullas.

        If mirza Guhlam ahmad died of a some illness of stomach as you think then it is not curse.
        the Holy prophet of islam said
        that
        five are martyrs one who is killed defending his life one who is killed defending his wealth one who is died of illness of stomach one who is died of plague and one who died under a collapsed wall.( bukhari)

      • Looks like Abdusamad WAS present at the demise of Hadhrat MGA…… According to your statement since the start of Islam to date literally trillions of very pious and good true Muslims who died of any kind of stomach ailment are ALL CURSED.

        CANT YOU PEOPLE SEE THAT AT EVERY STEP YOU MORONS PRESENT SUCH RIDICULOUS AND ILLOGICAL REASONINGS THAT YOU FALL STARIGHT INTO YOUR OWN TRAPS. JUST GIVE UP WOULD YOU…………

    • Have you uploaded the VDO’s yet??

  25. We know very well that Qadianies are very active on internet.

    On the floor of national aeembly Ahmadi agenda was exposed. Great attorny general Yahya Bikhtiar did great job & through cross questioning their lies & intentions were exposed.

    See why qadianies are Non Muslims,

    http://kashifiat.wordpress.com/2009/09/10/the-problem-of-qadiyanism/

    See another article on the same issue

    http://kashifiat.wordpress.com/2009/09/08/september-071974-a-historical-day/

    • Plz do not avoid the subject. Would your govt release the actual transcript of the proceedings of the Assembly. Not any booklet or publication but the actual transcript record…..

  26. I thought Talkhabbah was sensible, truthful and authentic blog. However, it seems that it is only a tool of those Mullahs who have always seen Ahamdiyyat as a threat to their extortioist activities of grabbing money from innocent masses of Pakistan. They could not bear to see that most of the Best and honest-serving intellectuals till 1974 were Ahamdis who had excelled due to their selfless dedication to their beloved Pakistan, in Army, Navy , Air Force, and the Civil & Science fields.
    Can you deny the barvery of Gen Malik Akhtar Hussien. Gen malik Adul Ali, Gen Iftikhar Janjua, and hunderds more who recived highets medals in the two wars. Then the services of Sir Zafarullah in making of Pakistan and in UN fighing for Palestine. Dr Abdussalam who said ” I got the noble prize out my research and study of the Holy Quran”…. HOW MUCH WOULD YOU DENY???????
    I say Talkhaaba has been hijacked by extremist mullahs because you did not even bother to check that the ages of Mubasher Lucman and Mirza Lucman cannot match as father and son… Its so ridiculously illogical…. bloody hilarious…. I only feel pain for Mr Mubasher Lucamn’s father, how he must be feeling about the senseless and insensitive allegations by these mullahs and yourself. Do you think from now on he will be on your side…..???? you create your own enemies man!!!!!!!! God help you lot..I think He has given up too on your kind… Cant you see the sad state of affairs our beloved country is going thru…. WE NEED AN ATA-TURK….. THAT IS THE ONLY SOLUTION
    Ashahadu allailaha illalaho wa ashahado anna Mohammadan abdohu wa rasooloh….

    • According to Ahmadi religion, Nauz u Billah Hazarat Masih is burried in Kashmir.
      1965 operation Gebralter was thier religious adventure. Al Furqab Bittalion betrayed Mujahidien by doing spying for Indians.

      Zafar ullah Khan puts Pakistan in USA camp. & Dr. Salam is responsable of leaking Pakistan atomic secret inf to Jews & USA. He is honored with noble prize due to this services. shame.

      Basically this is the true example of Ahmadi religious extremism .

  27. [...] اختر بھائی نے ایک لنک بھی دیا تھا لیکن ایک جیسی دو تھریڈ کے باعث وہ لنک ختم کئے ہوئے تھریڈ میں رہ گیا تھا میں اس لنک کو یہاں اپ ڈیٹ کررہا ہوں ایم کیو ایم قادیانی وٹہ سٹہ ؛ الطاف حسین کا انٹرویو [...]

  28. Nothing to be surprised. Whenever someone tries to do some sensible talk, Mullahs go mad and start declairing him either “kafir” or more simply “qadiani”, so easy for them to revert common people against somebody, because those mullahs have done their homework well to brainwash common people. Yet there are a few left who know that they have their own mind to think, and their number is definately increasing.
    I agree and quote Naseer:
    “As far as Ahamdis are concerned I think it is high time that we should demand from the government to realese the actual proceedings of the national Assambly September 1974….and I mean THE ACTUAL TRANSCRIPTS…NOT ANY RE-PRODUCED, FABRICATED BOOKLET…….and let the Nation decide for itself what happened during those thirteen days. I challenge and bet you my everting that either the govt will never release that…and if they did, 90% of fair-minded people will openly say that Ahmadis CANNOT BE non-Mulims.”

  29. Every educated person/Muslim in Pakistan and around the world knows Ahmadies are right and are true Muslims. Their voices are lowered because of these Mullah’s who think they are God. Who are you to declare who is Muslim and who isn’t?
    “Abu Sufyan, a great enemy of the Holy Prophet, was brought to him. He claimed to have recited the Kalima, but the Holy Prophet’s Companions argued that he had not done it with his heart, and they wanted to kill him. But the Holy Prophet said that as he had recited the Kalima, he was now a Muslim, and could not be harmed.”
    If someone who sees injustice being done and don’t speak up then they become one of the sinners. It is time that you should open your eyes and see the truth Mullah’s. You will not be able to escape the wrath of Allah when he decides enough is enough. You will not find a place to hide. Repent your sins and ask for forgiveness – learn from what happened to General Zia-ul-Haq who was blown up in the air. As Naseer sahib has rightly challenged, release the actual proceedings of the national Assembly September 1974 and let the Nation decide for itself what happened during those three days.
    LA ILAHA ILLALLAH MUHAMMADUR RASOOL ALLAH

  30. Please find here the proceedings of national Assembly sessions which resulted in the declaration of Qadianis as Non-Muslim minority in Pakistan. You will find how unscrupulous leaders of Qadianis failed in proving their fake religion as true Islam.

    http://www.khatm-e-nubuwwat.com/urdu-books.htm

    • we said we want the govt to realease the ACTUAL TRANSCRIPT OF THE PROCEEDINGS, Not a book written by blinded by prejudice mullahs. Would you accept a book written on the proceedings by our community????? No you wont….

      That is why we say the original transcript,…. but you guys would never ask for that because that would expose your lies about Ahmadiyyat in Islam.

  31. The Life of Fake Prophet Mirza Ghulam Ahmed Qadiani please read this must read booklet http://www.khatm-e-nubuwwat.com/kkc/u%201/mirza-kay-halat.htm

  32. The fake Peer Altaf Hussain has said in this interview that he wants the Pakistan of Qaid-e-Azam and Alama Muhammad Iqbal. I would request him to please read this booklet and enlighten himself about how Iqbal viewed Qadiani conspiracy and that he considered them as non-Muslims.
    http://www.khatm-e-nubuwwat.com/Islam%20&%20Ahmadism.htm

  33. In my view this is an ample proof that Qadianis are not only non-Muslims, anti Islam but they are also anti-Pakistan. Their anti Pakistan activities are on rise and their “watta Satta” with Altaf as Talkhaba put it as very dangerous. The patriotic Pakistanis should unite for failing their plans against Pakistan and Islam.
    http://www.ummatpublication.com/2009/09/10/lead17.html

  34. [...] مردے بلکہ بدبودار مردے اکھاڑنے کا کام اچھا کررہی۔ ہم الطاف حسین سے مبشر لقمان کا انٹرویو سن رہے تھے کہ اس نے مزید ایسی ویڈیوز کو سماعت اور بصارت [...]

  35. Here, AHMADI lobby is attacking & claiming false,

    1) In 1902 census MGAQ requested English empire to consider tham as seperate religion other than Muslims

    2) In 1947 as per instruction of Mr. Bashir Ahmaed in boundary commission Ahmadi delegation appeared & presented themselves as seperate nation other than Muslim in Punjab due to which Muslims become 49% of population & no Muslims including Hindues, Sikhs & Ahmadies 51%. In the result Gawaduspur was allocated to India

    3) After partition Ahmadies changed their position & they want to abosrb in Muslim community.

    4) Ahmadies believes that those who don’t consider MGAQ as prophet ( Nauz -u-billah) are non Muslims

    5) They don’t offer Muslims funeral prayers

    6) In Haifa -Israel, Ahmadies have colony & around 600 ahamdies are part of Israeli Army.

    7) Irrespective of maslak & fiqa all Muslims including Sunni / shia /Ahl-e-hadith / Deobandi / barelvi / Muqalid / non Muqalid have conses that Ahmadies are non muslims.

    So , Pls don’t call yourself as Muslims

    • It was reported from ‘Awf ibn Maalik who said: the Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) said:

      “The Jews were divided into 71 sects, one of which is in Paradise and 70 are in the Fire. The Christians were divided into 72 sects, 71 of which are in the Fire and one is in Paradise.

      By the One in Whose hand is the soul of Muhammad, my Ummah will be divided into 73 sects, one of which will be in Paradise and 72 will be in the Fire.” It was said, O Messenger of Allaah, who are they?

      He said, “Al-Jamaa’ah.” This clearly shows that all the 72 sects in Islam are against the 73rd sect…which is Jamaa’t Ahmadiyyat. What other prrof do you want. We are the True followers of Holy Prophet and will preach his teachings to the corners of the earth. Inshallah.

    • We are the 73rd sect no matter what you say….everyone is against us, all the other sects have united against us, which makes us the 73rd, The true sect of which followers will go to Heaven, Inshallah. We respect other religions, we don’t call names and swear and don’t erase kalima’s. we are here to preach Islam to everyone. Wake up!

  36. It was reported from ‘Awf ibn Maalik who said: the Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) said:

    “The Jews were divided into 71 sects, one of which is in Paradise and 70 are in the Fire. The Christians were divided into 72 sects, 71 of which are in the Fire and one is in Paradise.

    By the One in Whose hand is the soul of Muhammad, my Ummah will be divided into 73 sects, one of which will be in Paradise and 72 will be in the Fire.” It was said, O Messenger of Allaah, who are they?

    He said, “Al-Jamaa’ah.” This clearly shows that all the 72 sects in Islam are against the 73rd sect…which is Jamaa’t Ahmadiyyat. What other prrof do you want. We are the True followers of Holy Prophet and will preach his teachings to the corners of the earth. Inshallah.

  37. mirza sahib has wrongly put you on this way ..now wake up.truck kee battee ka peechha karnay ka koee faeda naheen. how does it conclude that you are the firqah e najia the 73rd?.this is important to think once in life without being influenced by any mesmarism. bhai apni qabar main jana hay..wahan sazish aur saamraaji khidmat naheen sincere eemaan aur takabbur se paak dil kaam aaye ga.

  38. few facts about “ghulam Ahmadees” and Anti Ahmadiyya movement in Islam

    TEHRIK-KHATME-NABUWWAT (1953)
    As stated earlier, the Qadianis shifted their power based from Qadian to Rabwah near Sargodha. Rabwah, under the changed circumstances enjoyed a special status like the Vatican. It was a “State” within the state, with strong links with Imperialism and special links with Zionist Israel. All planning, coordination and controlling of Qadiani activities was done from Rabwah. No government ever checked their political activities in a serious manner due to their influence in Administration.
    As a part of their doctrine, Qadianis penetrated the Muslim rank and file by confusing innocent minds through an anti Islamic exploitation of human weaknesses. When Pakistan, in her initial days of independence, was striving hard for her existence and survival, Qadianis with the help of the “invisible hands” of Imperialism and neocolonialism, were making deep thrusts into the bureaucracy, Armed Forces and other official and semi-official institutions. After having captured a number of key posts in these institutions, they converted or attempted to convert their “subordinates” to Qadianism. It was not a purely religious matter between God and man and certainly not in line with Quaid-e-Azam’s policy framework. It was a planned, collective “shudhi” like move, an aggression, exploitation and a religious assimilation. The advocates of secularism or “broadminded democratic regimes” did not take any notice of such aggressive designs. As a result, Qadianis got a free hand to indoctrinate the general masses through extensive use of “carrot and stick ” methods. They enjoyed tremendous political influence to defeat any move and punished any person or organization that worked against their wishes and designs. 1
    After the death of Liaqat Ali, Nazimuddin took over the prime minister-ship and Ghulam Muhammad, a former civil servant, became Governor General of Pakistan. ‘The change in the political leadership came about at a time when, after four years of existence, political cohesion and emotion, had been submerged by realities and Pakistan had began to show signs of restlessness. The constitution was still not framed, the Constituent Assembly had become a battleground of factional and regional disputes. The Centre and the provinces were at loggerheads, and the provinces were fighting among themselves. The economy was in decline because the boom of the Korean War had eased, there was shortage of food, the dominant Muslim League was rapidly losing influence, and politicians were engaged in intrigues and squabbles especially in the Punjab. There was tension between the East and West Pakistan and a sense of disillusionment prevailed. No real success had been achieved in the rehabilitation, Kashmir, and canal water disputes with India continued to cast a shadow over Pakistan’s security.2
    Dissatisfaction prevailed among the people of Pakistan at the role Mirza Mahmud had been playing in the newly created state of Pakistan. They came to know that Qadianis were playing the Imperialist game in order to undermine the integrity of the State. Qadianis’ intrigues in Kashmir and Baluchistan and their involvement in the Pindi Conspiracy Case helped to know their future political plans. It was also believed that Qadianis were in one way or other responsible for assassination of Liaqat Ali Khan who had come to know about their secret workings and planned a reshuffle in his Cabinet. People did not like Zafarullah at all for his past role as a very loyal servant of British Imperialism and his perspective on foreign policy. He betrayed the Muslims when called upon to plead the League’s case before the Boundary Commission and Kashmir issue before the UN. His useless rhetorics brought nothing but untold miseries to Kashmir Muslims and deadlock over the issue.
    Movement Takes Shape
    The Anti Ahmadiyya Movment took shape in mid 1948 and reached its peak in 1953. An year after the establishment of Pakistan, Mirza Mahmud launched a contact campaign in West Pakistan. When he reached Quetta he heard the news of killing of one of his disciples, an Army Officer. 3The Muslim Railway Employees Association, Quetta, organized a public meeting on 11 August 1948. The ulema addressed the gathering on the subject of Khatm-e-Nabuwwat, Major Mahmud Qadiani loitered about the venue in a suspicious manner. The organizers got alarmed and caught him before he could manage to whisk away. He was stabbed to death.
    Within a few months time, the ulema of all shades of opinion launched a movement against Rabwah. The main theme of their addresses was that Mirza Ghulam Ahmad was a British agent who had been created by the British to disrupt Islamic solidarity. The activities of Qadianis in the Islamic State of Pakistan should be checked. Before the partition, Mirza Mahmud had told his followers that Pakistan was not going to come into existence and that if any such state was created, the Ahmadis would endeavour to re-unite the divided country; Sir Zafarullah was disloyal to the state and should be removed; all Ahmadis be removed from key posts; Qadianis should be declared a non-Muslim minority. Some ulema took an extreme position. They demanded that Qadiani apostates should be stoned to death, a penalty meant for renegades. They made a reference to Maulana Shabir Ahmad Usmani’s pamphlet Ash Shahab 4 , which he wrote in 1920s that apostates deserve the penalty of death.
    The pioneers of the Khatm-e-Nabuwat movement were mainly the leaders of the Majlis-e-Ahrar-i-Islam. The Majlis was politically inclined towards the Congress in the pre-Partition days. However on 12 January 1949 in the Defense Conference at Lahore, they announced their decision to cease functioning as a political party and to continue their future activity as a religions group. In the political matters they announced to follow Muslim League. The Ahrar leader held several Tabligh Conferences in early 1950 to press for the popular agitation, which in certain cases took a sharp turn. Their preachers were attacked and the meetings disrupted. Despite that they continued to hold meetings in big cities of Pakistan.
    In the Punjab, elections were held in 1951. The Muslim League won a good majority. Against its undertaking to the Ahrars, League nominated a few candidates who were Ahmadis, all of them lost.5 The Ahrars celebrated the Thanksgiving Day. Anjumane Ahmadiyya, Karachi, announced the holding of a public meeting on 17 to 18 May 1952. Sir Zafarullah was the main speaker. A few days before the meeting, Khawaja Nazimuddin, the Prime Minister of Pakistan expressed his disapproval of Ch. Zafarullah Khan’s intention to attend a sectional public meeting. ‘Ch.Zafarullah Khan told Khawaja Nazimuddin that he was committed to the Anjuman but that if he had been advised earlier he would have refrained from attending the meeting. In view of his commitment, he said he felt it his duty to speak at the meeting and if the Prime Minister insisted on his not attending it, he could have his resigation,’ 6
    Zafarullah, in his speech called ‘Ahmadiyyat a plant implanted by God Himself and that plant had taken root to provide a guarantee for the preservation of Islam in fulfillment of the promise contained in the Quran, that if this plant was removed, Islam would no longer be a live religion but would be like a dried up tree having no demonstrable superiority over other religions.’ 7
    Strong resentment was expressed over holding of the meeting and the demonstrations started in Karachi and the Punjab.
    The national press gave a mixed reaction over the Karachi incident.8Nevertheless the aggressive nature of Tabligh was greatly resented and led to the intensification of the popular anti-Qadiani movement. After Zafarullah’s speech, an All Parties Muslim Conference was held at Karachi and four demands were formuated: Ahmadis be declared a non-Muslim minority; Sir Zafarullah be removed from the office of Foreign minister; Ahmadis be removed from key posts and to achieve aforesaid objects an Al Pakistan Muslim Parties Convention be called.
    Majlis-i-Amal
    The Conference was presided over by Maulana Syed Suleiman Nadvi under whose Chairmanship a Board was also constituted which was to make arrangements for the next meeting of the Convention. A Council consisting of eminent leaders was constituted. It included senior members of the Board of Ulema, which had been appointed to advise the Pakistan Constituent Assembly. The Majlis-i-Amal of the ulema was constituted in July 1952 in order to devise measures to secure acceptance of the demands. The ulema also called on Khawaja Nazimuddin, the Prime Minister of Pakistan, to explain him the seriousness of the Qadiani issue on 3 March 1950. Qazi Ishan Ahmad Shuja’abadi, an Ahrar leader, presented him Qadiani literature for perusal. Nazimuddin was horrified to read it. 9
    The Government was dealing with the issue in haphazard way, trying hard to appease ulema by offering a few concessions. Binder analyses Kh. Nazimuddin’s attitude towards ulema’s demands in the following words:
    “Nazimuddin, though he readily agreed that the Ahmadis were heretics, and though he might agree that they were not Muslims, demurred at the thought of constitutional excommunication. Although he was convinced that the government ought not to take action on the Ahmadi issue, Nazimuddin was loath to permit the disaffection of the ulema. So that Prime Minister invited prominent ulema to his home, and discussed the issue at length with them. He hoped the ulema might accept concessions on other issues instead. He tried to divide the ulema of Karachi and he also tried to exploit the differences between the two ulema organizations, and between the Board of Talimat and the extremist ulema. Throughout the duration of the controversy, Dawn 10, which staunchly supported Nazimuddin, heaped editorial abuse on the ulema slanted its news against them, and devoted much space to modernist features.”
    In July 1952 a five man delegation comprising Allah Ditta, Editor, AlFurqan, Rabwah, Abdul Rahim Dard, Jalaud Din Shams, Sheikh Bashir Ahmed Advocate and Abdul Rahman Khadam called on Syed Maudoodi at Lahore. He advised the Qadiani delegation to accept their non-Muslim status as a natural out come of their beliefs. The Qadiani elders had no other intention except to exploit the visit for their nefarious ends. Maulana knew well their malicious intentions. He granted interview only on the condition that its proceedings would not be published.11
    Qadiani delegation then called on Prime Minister Kh. Nazimuddin. Also present there were Abdul Rab Nishter, Mushtaq Ahmad Gurmani, and Fazal-ur- Rahman Bengali. Qadiani point of view on Khatam-e-Nabuwat issue and the implications of their demands were explained to him. They could not convince the Prime Minister.
    Since Qadiani had access to the higher bureaucratic circles, they launched a vigorous anti-Ahrar campaign and made all efforts to prove that the Ahrars had a questionable political past. They were anti-Pakistani and pro-Congress elements. The Anti Ahmadiyya movement was said to be a political stunt meant to create unrest and undo the partition of the sub-continent. On the contrary Qadianis posed themselves as a pro-Pakistan group and claimed to have taken aprt in the independence movement and had won the war waged against the Congress and the British. 12
    As for the burning issue of enforcement of Islamic laws in Pakistan, Qadiani believed that under the circumstances prevailing at that time in Pakistan, the enforcement of Islamic constitution was very difficult as there was no suitable environment for it. The ulema had not prepared ground for it. 13
    Mirza Eats his words
    To sabotage the Khatam-i-Nabuwat movment, Mirza Mahmud in an interview with the London Daily Mail declared:
    ‘I am convinced that the secret hand of India is at the back of the present anti Ahmadiyya agitation. He said to have positive froof in his possession and would be prepared to put it before the proper authorities at the proper time.14
    When it was strongly demanded that he should make the positive proof public, he instead of giving any proof, which he certainly could not, issued a clarification to the Civil and Milirary Gazette, Lahore:
    In your issue of (22nd July 1952) a report of an interview with me has been published. The interviewer Main Muhammad Shafi (Meem Sheen) is a very experienced and honest person. He has somehow taken the impression that we are already in possession of definite proof of the Ahrar getting help from India. What I mean to say was that I have been informed by certain persons that they possessed some proof about the Ahrar getting help from the other side of the border but that I have no power to finally verify it. I also said that we too had some important clues as to some of the Ahrar workers receiving help from certain Indian parties and that we were following these clues. I added that when we reach some definite conclusions we would put them before the proper authorities at the proper time. It seems that unfortunately I could not express myself clearly on the point and the two things got intermixed with each onther.15
    Qadian got Exposed
    The anti Ahmadiyya movement rapidly gained momentum. Demonstrations and meetings were held and processions were taken out all over the country in support of popular demands. The Government took coercive measures to crush the agitation but failed. In Punjab, Daultana Ministry was badly shaken when the Majlis-e-Amal organized direct action and a notice was delivered to the Prime Minister with a deadline to accept the demands. Jama’at-i-Islami was taking all possible steps in favour of these demands,16although it was mostly concerned with constitutional issues of that time and had been demanding an enforcement of Islamic constitution since early 1952. With the framing and implementation of the Islamic constitution, the Qadiani issue was likely to be solved automatically. Maulana Maudoodi did not want the Qadiani agitation to over shadow his efforts for an Islamic constitution.17
    To explain the rationale and need of Muslim demands, Maulana Maudoodi wrote a pamphlet: The Qadiani Problem. He exposed religio-political aims of Ahmadiyya movement in a lucid way. It was widely upheld for its well-reasoned and cogent arguments. Lahore chapter of Qadiani Jama’at made an absurd attempt to answer the vital issues discussed in it 18 which back fired.
    Maulana Maudoodi explained that the Qadiani problem had arisen not because the Muslim, in some fit of orthodoxy or fanaticism, wanted to excommunicate any group of people. Its origin on the other hand was traced to the claims of Mirza Ghulam Ahamd of messiahship and Prophethood, and as a consequence branding those who did not believe in him to be Kafir and outside the pale of his Islam. On the basis of writings of Mirza Ghulam Ahmad and his followers he proved that Ahmadism is a separate religion and Ahmadis are Imperialist stooges and spies commissioned to defuse Muslim resistance to infidel over rule. Throughout its existence its main object has been to promote Imperialist interests. Now they have been working to promote Imperialist power in Pakistan. Dr. Iqbal rightly asked the British to declare Qadiani as separate community in 1935. They, while pursuing a policy of separation in religious and social matters, were, however, anxious to remain politically within the fold of Islam ‘because of the political advantages in the spheres of Government services which accrue to them by remaining within the fold.’
    Maulana added:
    ‘The demand for Sir Zafrullah Khan’s removal from office not only originates from the doctrine that no non-Muslim should hold the office of a Minister in a Islamic state, but is also based on the fact that Sir Zafrullah Khan had always misused his official position to promote and strengthen the Qadiani movement. Before the partition of India and after the establishment of Pakistan he has been even more actively engaged in taking undue advantage of his position as State Minister to promote the interests of Qadianism. His official position is, therefore, a permanent cause of complaint for the Muslims. We are told that but for the position of Zafarullah Khan in the State Cabinet, America would not have given Pakistan a grain of wheat.19I say if it is really so, the matter becomes even more serious. This clearly implies that an American agent presides over Foreign Affairs Department and our Foreign policy has been pawned for ten lakh tons of grain. Under this circumstance, we must rather press for the removal of Zafarullah Khan from office than make the Qadiani Movement the basis of our demand, in order to break the shackles of political slavery to America.’ 20
    Martial Law
    By early March the mass movement spread rapidly rendering the Civil Government almost unworkable in Lahore.21All leading ulema were arrested and put behind the bars. It was at this crucial time that Punjab Chief Minister, Mumtaz Daultana, issued a statement virtually capitulating to the main demands that the Qadiani Community should be declared a non-Muslim minority and Qadiani leader like Zafarullah should be dismissed. It proved a bombshell for Qadianis, although Justice Munir calls it ‘a piece of mere Machiavellianism.’ The same day, 6 March 1953, Martial Law was declared in the Punjab and the army was called in to crush the movement. It remained in force until May 1953.
    Sir Zafarullah claims that he told Nazimuddin that he was willing to tender resignation if it helped him in any way but he did not agree. He then went to the USA to attend the UN Session where he received a telegram from Nazimuddin that he should not come to Pakistan before the Direct Action Day. I.I. Chundrigar, the Governor of the Punjab and Daultana, the Chief Minister, anticipated a fast deterioration of situation to the extent of lawlessness. The Governor phoned the Chief Minister that the situation in Lahore had deteriorated to such an extent that many public institutions had gone under the control of the people. The Cabinet asked Sikandar Mirza, the Secretary Defense, to make an immediate contact with General Azam Khan to inquire from him if he could restore law and order in the city. He informed that he could do it in an hour’s time, if directed. So he did.22
    What the notorious Sikandar Mirza did in imposition of Martial Law is quite strange. He gave orders to GOC General Azam to impose Martial Law without due authorization of the Prime Minister and the Central Cabinet which was in session at that time, 6 March 1953. When the military action started it was difficult to stop it.
    Qadianis played a heinous role during the Khatam-e-Nabuwat movemnt.23 They spent thousands of rupees to buy over some unscrupulous journalists, civil servants, lawyers and secular elements to launch a counter offensive against the popular movement.24 The imperialist powers fully backed them through their influential hoodlums operating in the bureaucracy of Pakistan. The Zionist lobby and the Jewish-controlled foreign press strongly favoured the Ahmadiya point of view and expressed much sympathies with them. Zafarullah exerted strong pressure on Pakistan hierarchy through his foreign masters for ruthless suppression of the anti-Qadianis mass movement.
    After the declaration of Martial Law, Military Courts were set up and the city was placed under military administration. Many leaders were arrested including Maulana Maudoodi, Amir Jama’at Islami. Syed Maudoodi and Maulana Abdul Sattar Naizi were tried before Military Courts and sentenced to death. Here again the Martial Law authorities over stepped their charter, which was the restoration of law and order only. The whole nation condemned it. The action was also resented by the Prime Minister. It also brought a sharp reaction from the Arab World. The Governor General of Pakistan was forced to commute sentences to imprisonment for life. Syed and Niazi did not apply for mercy and remained contended with their fate.
    Mirza Nasir Ahmad, Principal T.I. College Rabwah, Mirza Sharif Ahamd and 8 others were arrested on 1st April 1953 on the charge of violation and infringement of Martial law Order and Regulations but were released on 28th May 1953. Law enforcing agencies raided Rabwah to recover arms and ammunition.25 Mirza Mahmud was not naive to store arms and ammunitions in Rabwah. He was playing a different game.
    Brigadier (Retd.) A.R.Siddiqi has aptly analysed events of 1953 Martial Law and raised some pertinent questions on it. This has now been clear that Sikandar Mirza himself gave the order to GOC, General Azam, to impose Martial law without due authorization of the Prime Minister. Further, the sole aim of the Martial Law was to restore law and order in the Punjab. This was achieved within a fortnight after its imposition on 6 March 1953. Despite it persisted until 17 May obviously to achieve some other political motives, which included the dismissal of the Prime Minister and to tackle the situation arising out of it.
    The Martial Law Administration clearly overstepped its authority. The press was muzzled. Strict pre-censorship was imposed and several papers were banned and their editors jailed. It was not still clear why Martial Law extended it dragnet to include every thing from character building, social and educational reforms to everyday hygiene and sanitation? During military action a number of junior officers were found involved in the cases of misbehaviour and misuse of their authority. Those were either ignored or allowed to get away with light reprimand warnings.
    The award of death sentence by the military courts to Syed Maudoodi and Maulana Sattar Niazi was over and above the charter of Martial Law. It was a condemnable act committed without the lawful authority with utter horror of the nation and disgust of the Prime minister. The Military for the first time had the sweet taste of civil administration. It also came to know its importance in case of a national crisis and felt eager to play their due role in the national politics and affairs.26
    The Martial Law Administration had a source of inspiration in the person of the then Chief of General Staff, Major General Ahya-uddin, a diehard Qadiani. He was in favour of the use of naked force to crush the movement. He wanted to clear the agitators from Wazir Khan Mosque, Lahore, where they had shut them up, with a suitable military action. The plan was, subsequently dropped due to its wider political repercussions. Major General Ahya-uddin had a very narrow outlook in national affairs. His main concern was to save Ahmadiyya community at all costs. 27
    Court of Inquiry
    A Court of Enquiry was set up to investigate reasons of the Punjab disturbances. Chief Justice Muhammad Munir, in collaboration with another Judge Mr. Justice Rustam Kayani, composed his infamous report. Mirza Mahmud appeared before the Court of Enquiry from 13-15 January 1954 and recorded his testimony.28 Earlier a written statement was submitted to the Court on 2 July 1953 on behalf of Sadre Anjuman Ahmadiyya 29explaining the Qadiani point of view on religious and political issues. The court also framed seven questions on the main differences between Qadianis and Muslims. Counsels of the Sadre Anjuman Ahmadiyya Rabwah submitted their replies to the Court on 29 August 1953. 30
    In his testimony to the Court, Mirza Mahmud made a shameless and clever attempt to hide the real position and the nature of Ahmadiyya beliefs behind the deception of crooked and false explanations to deceive the Court. Since assumption of Qadiani ‘Gaddi’ in 1914, he had unequivocally insisted that Mirza Ghulam Ahmad was a real prophet like that of Moses, Ibraham etc, non Ahmadis were Kafir and out of the pale of Islam, an Ahmadi could neither join daily prayers with Muslims not offer their funeral prayer, Ahmad is the name of Mirza Ghulam Ahmad given in the Quran, etc,31 but before the Court , he adopted a different posture, a conciliatory attitude to deceive the judges. People deplored his attitude. He stooped too low and took the position which had been held by Lahore Section of Ahmadiyya Community.32No one from Qadiani Jama’at dared to ask this unscrupulous ‘Maud’ about his volte face. In short, ‘Mirza Mahmud retracted from many of his boastful and wrong stands, much to the chagrin of his followers and delight of his opponents’, comments a Lahori Ahmadi.33
    Maulana Maudoodi, in his second statement to the Court of Enquiry criticized Mirza Mahmud’s statement. He observed:
    “I have gone through this statement carefully. It is my considered opinion that this statement does not alter the existing position even to the slightest degree. Despite this statement, the causes which lie at the root of dispute and difference and which have so far embittered the relations between the two communities are unaffected. In this statement, the Qadianis have made a clever attempt to hide their real position behind the deception of crooked explanations, with a two-fold purpose. Firstly, they have tried to deceive the Court, in that it should think well of them and return suitable findings in their favour. Secondly, this statement enables them to continue with their former course openly and without restraint. Any one who has some knowledge of their former writings and of the practices they have followed so far cannot fail to realize that in this statement the Qadianis have shifted their stand closer to the position held by the Lahore Ahmadis. The Qadianis do not affect this ‘change’ by explicitly stating that they altering their beliefs and practices in order to resolve the conflict with the Muslims. They rather give the impression that their position has, from the beginning, been invariably the same. This nevertheless, is a grave misstatement. It clearly implies that instead of changing their former standpoint they are, in fact, reaffirming it and intend to adhere to it in the future. However, during the course of this enquiry, they have adopted temporarily a deceptive position and their standpoint is to change once the process of enquiry is over.”34
    How far Qadianis were responsible for disturbances? Munir Report states:
    “Their (Qadianis) differences with the general body of Muslim had existed for more than half a century and before the Partition they were carrying out their propaganda and proselytising activities without any let or hindrance. The entire complexion of the situation, however changed with the establishment of Pakistan and Ahmadis were befooling them if, in the absence of any enunciation of the policy as to limits within which public preaching of religions other than Islam or sectarian doctrines within Islam was to be permitted, they ever thought that their activities would not be resented and would go unnoticed in the new state. The changed circumstances, however brought no corresponding change in their activities and aggressive propagation and offensive references to non Ahmadi Muslims continued….We are therefore, satisfied that though the Ahmadis are not directly responsible for the disturbances, their conduct did furnish an occasion for the general agitation against them. If the feeling had not been so strong against them, we do not think that the Ahrar would have been successful in rallying round themselves all sorts of heterogeneous religious organization.35
    On the basis of some dubious premises the Report concluded that:
    “If Pakistan was allowed to become an Islamic state, all non-Muslims would automatically be the targets of persecution. The different Muslim sects would wrangle endlessly with each other in fratricidal strife, antiquated laws would be enforced conflicting with the standards of civilized world and Pakistan, because backward culture and reactionary government, would be ousted as an outcast from the international community. Not even western orientalists and Christian missionaries attack Islam as harshly as the Munir Report has done. The tragedy that its author was a Muslim multiplied its harmful effects many times more.”36
    The Report was severely criticised in Pakistan and was called highly prejudiced, inaccurate and a biased in nature. The secularists and Zionists used it in their vituperative propaganda against the Islamic State. Non Muslim writers quote it extensively to criticize raison detre of Pakistan and to justify the plight of Muslims in India.37 Prof. P.K. Hitti, a Jew historian, wrote a personal letter to Justice Munir and later when he met him “said that he was expecting some such thing from Pakistan.” The late Shah of Iran in a conversation with Munir showed interest in the purport of the Report as Iran had faced similar problems in the past in the day of Bab, Bahaullah and the beautiful poetess Qurra-tul-Ain. One journalist says Justice Munir remarked that he read only two books from begining to the end without laying them aside. One of these was Lady Chatterly’s Lover and the other The Munir Report. “What a comparison!”38
    Jama’at-i-Islami gave a befitting reply to Munir’s diatribe.39 Justice Dr. Javed Iqbal in his book Ideology of Pakistan (1917) has given very convincing arguments to repudiate Munir’s assertions and his theory on genesis of Pakistan.40
    Aftermath
    What transpired from the events of 1952 which badly shook the country? The Socialist version of Anti Ahmadiyya Movement is that it reflected the irritation of some of Pakistani big bourgeoisie which gravitated towards the United States, over the maintenance of the old ties with Britain. The United States too applied its efforts to eliminate pro-British elements from the Government, and to replace them with more amenable politician. Speaking at the Constituent Assembly, Khawaja Nazimuddin declared that the Anti Ahmadiyya agitation is a political movement actuated by power politics.41
    Jamna Das Akhtar, a veteran Indian journalist says ‘Ahmadis were openly accused of promoting the interests of British Imperialism and of spreading heretical ideas, opposed to the fundamental principles of Islam. It is suspected that the American interests also played a prominent role in this game because at the time the USA was trying to eliminate pro-British elements from the Government and replace them with more amenable politicians.42
    For Qadianis the Tehrik strengthened their position and proved that the Jama’at was ‘invincible’. It helped to fulfil a “prophecy revealed to the Promised Messiah.” J.D. Shams, a former missionary in Israel says:
    ‘A careful study of the prophecy points to a similarity, which can be drawn between Jama’at Ahmadiyya and Beni Israel. Pharoah, Haman and their armies were bent on destroying them but God saved Beni Israel from annihilation. Similarly when the opponent of Jama’at Ahmadiyya tried to annihilate Jama’at Ahmadiyya in accordance with a well-planned scheme and fixed the date of 6 March for that purpose, God suddenly sent His armies to save them. Martial Law was imposed. A sudden and unexpected order was conveyed on phone from Karachi to the commandos in Lahore and the Army courageously and valiantly but with care suppressed the forces of anarchy. Jama’at Ahmadiyya was saved from annihilation and oppression like those of Bani Israel, was promised by God to his Promised Messiah.’ 43
    H.S. Suharwardy, leader of the Jinnah Awami League is speech made in a public meeting at Karachi on 26 June 1953 remarked:
    “There arose a religious movement in the Punjab but it was put down with a force by the powers that be and the ulema were sent behind the bars. Today it is pointed out by the same powers that the Musalmans have gone astray and we are told to greet as Muslims those who do not believe in the finality of the Prophethood of our Holy Prophet (p.b.u.h) and if we do not believe as such, we shall be doomed like others.” 44
    Mirza Mahmud in a Friday sermon, commented on it. He called the speech a signal for fresh alarm but ‘God will protect not only Ahmadiyya Community but also the Pakistan Government which is made the target of attacks simply for extending protection and doing Justice to her Ahmadiyya subjects. The only fault of the Pakistan Government is this that she wants to establish peace in the country and crush all the subversive elements in the land that want to seize Government by exciting the people against Ahmadiyya movement …God will save His people form the machinations and evil intentions of all mischief mongers and never allow them to prosper and triumph.’ 45
    Qadianis considered themselves invisible and felt satisfied with the outcome of the movement. American CIA and Imperialist agencies provided them further support for their growth in the Middle East and the newly liberated African countries. The people of Pakistan strongly felt that they been betrayed. It caused a sharp demoralizing effect on the masses who sacrificed their lives for a noble cause.
    The Muslim League received a crushing blow and had to face a humiliating defeat in the next elections. It also caused the downfall of Daultana Ministry in the Punjab and replacement of Khawaja Nazimuddin as Prime Minister who felt himself helpless in front of the powerful trio, Ghulam Muhammad, Governor General, Ayub Khan, C-in-C and Sikandar Mirza, Defense Secretary. Also the image of the army shattered in the minds of public. Maj. Gen. Azam Khan GOC 10th Infantry Division, used all coercive measures including indiscriminate firing on the peaceful mob. Bonapartism took deep roots and that worked behind the scene.
    The bureaucracy and police collaborated with Rabwah and encouraged the Khudam-i-Ahmadiyya and other paramilitary Qadiani bodies to take up their role where law and order situation demanded. It gave a big boost to Qadiani paramilitary bodies.
    Qadianis occupied more important positions in business, bureaucracy and military after 1953. However the anti Qadiani movement foreclosed the serious possibility of Zafarullah succeeding Nazimuddin as Prime Minister.
    In subsequent years Qadianis changed their political strategy. They avoided an open conflict with Muslims and strengthened their relations with military and bureaucracy.
    Bogra Government
    The Dismissal of Prime Minister Nazimuddin by Governor General Ghulam Muhammad in April 1953 was an undemocratic decision and a sad example of misuse of powers. Nazimuddin still commanded a majority in the Assembly. 46
    Sir Zafarullah writes:
    ‘The Governor General, feeling that the Prime Minister had through his vacillation and failure to deal firmly with the situation contributed to the crisis into which the country had been drawn, demanded from the Prime Minister resignation of the Ministry which the Prime Minister refused to submit and on his refusal the Governor General dismissed the Ministry. He called upon Mr. Muhammad Ali Bogra (East Pakistan) who was then Pakistan’s Ambassador at Washington and happened at that moment to be in Karachi to form a Government. Mr. Muhammad Ali proceeded with the task immediately and presented a list of his proposed colleagues to the Governor General. The members of the new Government were sworn in by 8 p.m., the preceding Ministry having been dismissed at 4 p.m.’47 Zafarullah remained the Foreign Minister of Pakistan.
    The whole political crisis was explained by a Qadiani elder in a customary way on the basis of one of Mirza Mahmud’s revelations (17-8March 1951). The alleged revelation says: ‘I will show the parallel signs from Sind to Punjab on both sides’ (Urdu). The Qadiani compiler interprets it in the context of Pakistan political crisis and concludes that the dismissal of the West Punjab ministry after the 1953 agitation and the abrogation of the Constituent Assembly by the Governor General Ghulam Muhammad had marvelously and surprisingly proved this revelation true. 48
    Nazimuddin’s unceremonious dismissal was in fact the beginning of the political instability that lasted for the next five years and the emergences and the decline of the parliamentary democracy in Pakistan. It was contrary to the parliamentary practice and the political, legal and psychological repercussions of the action were far reaching. Bogra was almost unknown as a politician. His appointment came as a surprise to political observers and public alike, and it was widely suspected that his transfer from Washington to Karachi, elevation to the office was a prelude to closer relations between the US and Pakistan. 49
    Only three days after the new premier’s nomination, the US President Eisenhower asked Congress for authority to ship hundreds and thousands of tons of wheat to Pakistan.50 The US was at that time conducting a vigorous anti-Communist policy and looking for friends in Asia. Pakistan entered into defense pacts with it.
    After the visit of Mr. Dulles and Mr. Stassan to Karachi in May 1953, the next distinguished guest in Pakistan capital was the Deputy Chief of the US Mission in Turkey. Then came the unannounced visit of the seven members of the House Armed Services Committee. Then in September General Ayub Khan, C-in C, flew to Washington where his visit was for medical treatment, but also had talks with President Eisenhower. Pakistan indicated that if the US armed her, she would grant Washington the use of bases and possibly would permit the construction of new ones. Also she was willing to join in the Middle East defense effort under that conditions.
    New Strategy
    Qadianis played an active role in Pakistan politics after the Khatm-e-Nabuwat movement. They collaborated with the civil and military oligarchy in the Centre to safeguard their economic and political interests and directed their efforts to sabotage constitutional process in the country.
    The country faced crisis and the political balance was going against the Muslim League. It suffered a crushing defeat in East Pakistan in 1954 elections against the United Front led by A.K. Fazale Haq and H.S. Sharwardy. The United front after forming a ministry under Fazale Haq “Sought freedom from the domination of Karachi ” 51 In May 1954 the Government of East Bengal was handed over to the centrally appointed Governor, Maj-Gen Iskander Mirza , who at that time was the Secretary Defense at the Centre. Thus the same pattern of central intervention had taken place in East Bengal as in the Punjab, the difference being that it was the Muslim League politicians who could not control the situation arising out of religious disturbances in Punjab who had been removed. In East politicians of the United Front, who had won an over whelming majority in the provincial election and who had been also to mobilize massive ethnic support in the province were dismissed. In both cases there was military intervention except that martial law was imposed in Punjab, whereas a defense official was put in charge of the civil administration in East Bengal. 52
    The Constituent Assembly adopted the amended basic Principle Committee Report by 20 to 11 votes. The Prime Minister of Pakistan declared that discussions on the Draft Constitution would be finished by 25 December 1954 and the new constitution would be adopted on the Quaid’s birthday. He also declared that Pakistan would become a Republic on 1st January 1955. After that assembly was adjourned to 27th October1954.
    In the last week of October, Premier Bogra and General Ayub returned form Washington after negotiating a long-term military and economic aid pact with America. On 24 October 1954 Governor General Ghulam Muhammad dismissed both the Constituent Assembly and the Cabinet, a drastic and undemocratic action. A new Cabinet was formed with M.A. Bogra continuing as the Prime Minister. Nine other members including C-in-C General Ayub Khan, Dr. Khan, H. S. Suharwardy and Maj. Gen. Sikander Mirza were appointed in the Cabinet. None of these nine had a seat in the dissolved Assembly. The army was brought closer to administration and the civil service, which was already a force in Pakistan politics, gained greater power.53
    The Qadianis were jubilant over the Governor General’s undemocratic and arbitrary act of dissolving the Constituent Assembly. They called it a very wise, judicious and timely step. Had he not taken this step the situation would have deteriorated further. The brightest aspect of his move, says AlFazl: “is holding of new elections as a result of which new Assembly will come into existence. The paper warned the extremist leaders not to play with the destiny of the nation as Akhwans were doing in Egypt.” 54
    Mirza Mahmud in an address expressed his profound satisfaction over the Governor General’s move and disclosed that three days before the Governor General’s action, he had hinted at the possibility of breaking the power of ruling class, who were creating mischief, with a view to saving the country from that crisis. He claims that his prophecy had marvelously been fulfilled.’ 55
    Mirza Mahmud gave justification of the undemocratic action of the Governor general and emphasized that the Constituent Assembly had already lost its value. He also welcomed the inclusion of non-League members like Dr. Khan Sahib in the Cabinet whom he called a man loyal to the country and Islam. He criticized those members of the League who had adopted an Anti-Ahmadiyya attitude.56
    Against Islamic Movements
    In early 50s, Qadianis intensified their activities in the Islamic countries. They started a strong propaganda campaign to discredit Islamic movement going on in Pakistan and the Arab World. The Imperialist and Zionist agencies had already been active in countries like Iran, Iraq and Egypt to suppress the progressive Islamic movements. The US adopted a strategy to create client garrisons in newly independent countries of Asia as a neo-imperial power, Egypt (under Nasser) and Syria were not willing to cooperate in a new western defense strategy. Iran under Dr. Mossadeq was bent on ousting the British Imperialism. The US selected the Hashemite kingdom of Iraq, a creation of British Imperialism, as a key to open the door to a broader Middle Eastern defense strategy and succeeded to arrange the Baghdad Pact, the overthrow of Mossadeq regime in Iran and suppression of Communist elements in Middle East.
    Qadiani mission in Israel towed the Zionist line and launched a religo-political offensive in the Middle East. Since the Arab countries did not allow Qadianis to set up missions in their lands, they either worked secretly or moved over to Africa where they had already created haven with the British support.
    The main target of Qadiani attack was Akhwanul Muslimin movement of Egypt. Qadian called it a Communist Fascist movement having an appeal for those who do not know Islam but love it and want to see Arab World free from the western yoke. It has no appeal for far-sighted leaders and educated class of the country.57
    In a leader AlFazl lashed at the Akhwan’s role in the Suez affairs and alleged that they were conspiring against the solidarity of Egypt like Abdullah ibn-e-Saba who also gained success in Egypt. 58
    The Qadiani papers also hurled abuses on the Akhwan and their policy towards the Suez issue where the British interests were involved. They were condemned as anti Islamic in character and had been out to create disruption, dissatisfaction and anarchy in Egypt. They believed in the seizure of power through fascist means and upheld waging armed struggle against the Government not allowed by Islam.59
    On the assumption that Jama’at Islami of Pakistan is a prototype of the Akhwan, the paper attacked the political role played by the Jama’at in past seven years in Pakistan. It was alleged that the Jama’at, like the Akhwan, was political in nature and had been on rampage. “If it succeeds in collaboration with some other party it will operate in the same way as the Akhwans are doing against the Revolutionary Government in Egypt and its collaborators will in the end meet the same fate” 60 says the official organ of Rabwah.
    Equally a strong tirade against other Islamic movements was launched which were fighting for political and economic emancipation in the Arab World; Darul Salam (Indonesia) and Fidayan-i-Islam (Iran) came under their attack. These parties were called fascist in character which believed in force and bloodshed. The Islamic World should check and curb their disruptive activities,61 AlFazl emphasized. The paper, however appreciated the work of Masjumi Party of Indonesia because its leader had written an article in support of Zafarullah Khan. 62
    It is interesting to note here that the Masjumi Party outwardly Islamic in nature, comprised mainly of heterogeneous elements. Maulana Masud Alam Nadwi discloses that on the occasion of Motamar-i-Islami gathering (February 1951) he found that all members of the Indonesian delegation belonged to Masjumi Party. The leader of the delegation Shamsul Rijal was favourably inclined towards Qadianism. 63
    Qadiani interfered in the politics of Pakistan in accordance with the instructions of their Imperialist masters and the Zionist lobby. They attacked the demand for Islamic constitution and criticized the religious hierarchy of Pakistan. ‘We could make a constitution because our leaders were more concerned with the slogan raised by wrong people and the demands put forth by them than treading the right path with determination.’ 64 A demand needs to be made that the constitution of Pakistan should be based on a just principle that no individual or group whether religious or political should have any complaint against it. It should guarantee the rights of all citizens of Pakistan. 65
    On the 8th Anniversary of the birth of Pakistan (14 August 1955) AlFazl criticized the role of Muslim League in the country’s politics: ‘It has lost its popularity because some of its members played in the hands of enemies of Islam.’ The paper attacked those elements who had been clamoring for a constitution but were themselves responsible for creating obstacles in making of such a constitution.66
    Pressed by the Court’s verdict, the Governor General issued an order providing for the formation of new Constituent Assembly. An important measure of the New Second Constituent Assembly was the establishment of the West Pakistan Act, passed in September 1955, which provided for the merger of the princely states, Karachi and four provinces of the Punjab, Sind, the NWFP and Baluchistan into one Unit called West Pakistan. AlFazl in its leader commented on the formation of one Unit in West Pakistan. It discussed the possibility of bringing two units (East and West Pakistan) under one centre and called it an easy and practical experiment. The paper leveled strong criticism against those leaders who stressed the need to integrate both wings of the country on the basis of Islamic ideology:
    ‘We regretfully say that the way the struggle for establishment of an Islamic Government is being carried out in some Muslim countries after formation of political parties will neither lead to establishment of an Islamic state nor its protagonists can achieve their ends in Pakistan. These political parties want to thrust their religious ideas on others while Islam does not allow party politics. There is no weight in the argument that Islamic ideology will lay the basis of unity. It means that those who, at present, wielded power are neither Muslims nor have any regard for Islam, unless they uphold Islamic beliefs expounded by the protagonist of Islamic ideology.’ 67
    Ghulam Muhammad,68 an insane ailing pro-American bureaucrat responsible to commit undemocratic actions and laid basis of an authoritarian rule, resigned from Governor Generalship of Pakistan in 1955 due to ill health. On his resignation AlFazl wrote:
    ‘Malik Ghulam Muhammad has resigned from Governor Generalship of Pakistan. During his tenure of office he served Pakistan with firmness and courage only to be found in him after the Quaid-i-Azam. He figures out singularly among leader in popularity and was respected by friends and foes alike after the Quaid. A few days ago, Pakistan faced crisis due to the mistakes of some leaders and it was inevitable that the country would plunge into anarchy, he through his wise act, saved the country from turmoil. Had he not used his strong hand, the existence of Pakistan would have been in danger. Although some miscreants opposed his act, but it was highly appreciated by the sober section of the society.

    When an historian write the history of the early period of Pakistan, we firmly believe that he would include his name among those who really were the well-wishers of Pakistan and steered it out of crisis. He performed his duties with great courage and boldness in a fearless and selfless manner despite grave opposition. He certainly proved himself the real successor of a Quaid-i-Azam by exhibiting these out standing qualities.

    He has rightly said on his resignation that history would determine what he had done. He felt no pricks of conscience over what he had been doing. He always had the welfare of the nation in his mind. His actions will prove his words. These are not empty words but depict reality. He has to tender his resignation due to ill health. Nevertheless all real well-wishers of the country and the nation certainly wished him serve more.” 69
    Parting Kick
    Changes of regime in 1953 in Russia, America and Pakistan added new impulses to international political situation. Eisenhower’s inauguration as President, with John Foster Dulles as Secretary of State, brought a new look to politics in Washington. Bogra’s prime minister-ship further swiftly drifted Pakistan towards America. On 2 April 1954 Pak-Turkish Military Alliance was signed in Karachi. A month later, on 19 May, the US and Pakistan signed the Mutual Aid and Security Agreement in Karachi. Another Imperialist move to thwart any possible Soviet advance in the East or South East was made by concluding an agreement at Manila on 8 September 1954. The agreement was known as SEATO. The signatories of this Treaty were the US, Britain, France, Australia, Newzealand, Thailand, Pakistan and the Philippines.
    The SEATO provided guarantee against Communist threat only. Pakistan wanted to extend its scope to non-Communist countries also. Zafarullah says he discussed the issue with American Secretary of State Dulles, but of no results. They had special regards for each other. Both had a legal background and at the Japanese Peace Conference, Dulles warmly greeted Zafarullah on making the speech of the conference and in UN General Assembly Zafarullah returned the compliments by declaring that he had long admired the lofty views and noble concepts of Mr. Dulles. 70 The US Secretary of State regretted to take any action without the approval of the Senate. Zafarullah says since there was no time to get further instructions from Government of Pakistan, he signed the document with the following remarks: Signed for the purpose of transmission to the Government of Pakistan for it to take its decision in accordance with its constitutional procedures.71 These words do not appear in the published version of the treaty. On 19 January 1955 Pakistan ratified the pact and remained its zealous member in subsequent years. 72
    Mauzam Ali, an eminent journalist says that he informed Bogra of the whole affairs of Manila Conference. He at once called a Cabinet meeting and sent a cable to Sir Zafarullah instructing him not to accept that clause of the Treaty.73 But Zafarullah, after signing the Treaty left for New York to attend the UN General Assembly Session.
    Zafarullah also paved the way for CENTO. He visited Iran after the overthrow of Dr. Mossadeq Government by the CIA and held an exclusive meeting with the late Shah of Iran. 74 In September 1955 Pakistan entered into the Baghdad Pact. It was agreed to permit the armies of member countries to use Pakistan territory it circumstances demanded so. The US got the base at Peshawar, a valuable piece of real estate for its use and a US goal since 1954. 75 After a military coup in Iraq the Pact was renamed CENTO with Pakistan, Iraq, Turkey and Britain as its members. “The principle aim of the pact was to the Pakistan Army a mercenary force ready to defend United States interests in the Middle East.” 76 It alienated Pakistan from the arab world and its foreign policy came under fire from Islamic quarters. It was called a pro West and an American ally representing Imperialist interests in the Asian region.
    Judge ICJ
    An year before Partition (1946) Sir Zafarullah was a candidate for judgeship at the Hague as nominee of British India. Pandit Jawahar Lal Nehru proposed his name for it. The American Government withdrew its support at the last moment in favour of Polish candidate and he could not be elected. Unlike those days, America eagerly desired to see him as judge ICJ in 1954.
    Sir Zafarullah became a judge of the ICJ mainly through American support as he himself reveals that Sir B.N.Rau, who had been elected judge of the International Court and had taken his seat on the Bench in February, 1952 had died in November 1953, before completing his terms of office. The Secretary General of the UN called for nominations to fill the Vacancy. He was not relieved by Pakistan Prime Minister to contest the seat. At the end of May 1954, Zafarullah went to Washington to clear up some difficulty that had arisen with he World Bank over the settlement of the Water dispute with India. There he met Col. Hank Byroad, US Assistant Secretary who advised him to see him in the State Department. Hanks told Zafarullah that he knew that he had been resigning from his post of Pakistan ‘s Foreign Minister-ship and wanted to joint the World Court. The deadline to send nomination had since expired But the US Government had already sent his name itself to the UN Secretariat for the judgeship Zafarullah left satisfied. He then requested the Assistant Secretary of State to help him overcome another difficulty in getting him elected. That since the death of Sir Rau in November 1953 India had been busy canvassing for its candidate and it required a good deal of lobbying and substantial support of the countries to secure a seat at the ICJ.
    The American Government and all its allies, especially Israel was in favour of Zafarullah ‘s candidature. His rival candidate Justice Pal, Judge of the Calcutta High Court had been a member of the Japanese Was Criminal Tribunal and had dissented from a majority of his colleagues. Zafarullah says that in “his dissenting opinion he had stated that the War Crimes trial was itself a War Crime. This had naturally given grave offence to the US, had in effect called them murderers.77 ” Thus Justice Pal stood little chance of success against a pro American stooge.
    Pakistan Missions abroad did a lot of work diplomatic level to seek support for Zafarullah. At the commencement of the Annual Session of the General Assembly in 1954 the situation in the Security Council was that of the five member states who had promised their support to the India candidate Turkey, the SEATO ally made a shift.
    The result of the ballot was six in favour of Pakistan and five in favour of India in the Security Council and in the Assembly 29 votes were in favour of Pakistan and 32 in favour of India. The Assembly ballot was inconclusive, as 33 votes were needed for an absolute majority, and had to be repeated. In the meantime. it had became known that the Pakistan candidate had obtained an absolute majority in the Security Council. In the repeat ballot in the Assembly, Zafarullah obtained 33 votes and was elected. 78
    It was all due to the support provided by the US and Western lobby. G.W. Chaudhary states that the judgeship to Zafarullah at the Hague was bestowed on him as a reward by the US Secretary of State, Foster Dulles for his service in obtaining Pakistan’s adhesion to SEATO. 79
    Tug of War
    In March 1954 a young incarnate of Illimud Din attacked Mirza Mahmud with a knife to slash his head. The senile and ailing Mirza already suffered from various diseases including paralysis. There was a rumour that he would not be able to sustain the injury and would soon be relieved once for all of agonising pain he had been undergoing after the attack. A tug-of war started in Rabwah, which slowly gained strength. Many influential Qadiani elders aspired for the lucrative job of Khalifat. The movement to get leadership seethed under the nose of Mirza Mahmud accentuated by the members of his family.
    By the end of April 1955 he announced to proceed to Europe for treatment. Many Qadianis called it badly timed and a politically motivated mission of the Khalifa undertaken at a critical moment when the community had been suffering from internal crisis and disunity.
    A group of Qadiani ‘hypocrites’, as they were called by Mirza Mahmud’s followers, launched an open offensive against the Qadiani ‘Khalafat’ to assert their position. The Qadiani press referred to their clandestine activities in more than one occasion in a traditionally elliptical manner. On the other hand, the dissidents exposed the misdeeds of Ahmadi ‘Rasputin’ and prophecised the fall of Rabwah, the Qadiani seat of power. Agents of Khalifat’ came out to condemn their activities and warned Qadianis of their ‘nefarious designs’ specially their move to topple ‘Caliphate’.80 The dissidents later formed Haqiqat Pasand Party and based it at Lahore.
    The movement soon gained currency and spread in East Pakistan too. Mirza Mahmud wrote a letter to members of Ahmadiyya Jama’at East Pakistan, where dissatisfaction had particulrly been growing over the authority of ‘Khalifa’. He advised senior members of his community viz. Daulat Ahmad (Brahmin Barya), Shah Jehan (Decca) and Deputy Khalil-ur-Rehman in particular, not to create disruption and instructed his Jama’at, in general, to disassociate themselves from them. 81
    In the first week of May 1955 he left for Syria where he stayed for one week.82He contacted Chaudhry Muhammad Sharif, the Qadiani missionary in Israel and sent some important messages to Israeli President Ben Zevi and Foreign Minister Moshe Sherot through mysterious channels. On 7 May he moved to Lebanon and after a short stay there he proceeded to Europe. Zafarullah, an international envoy of Imperialism, accompanied him in his journey. Before joining him, Zafarullah met Shah Hussain of Jordan and discussed the issues relating to ‘Arab interests.’ 83
    Sir Zafarullah’s love affair
    A Lebanese girl Bushra Rabbani lived in Damuscus. Her elders were converted to Qadiani faith due to the efforts of Hasni family of Syria. Bushra had a young cousin Muhammad Qazaq who loved her. Their nikah was solemnized in 1952 and Qazaq went to a Gulf state to earn money. Love letters of Bushra were a source of inspiration to him. Suddenly she stopped writing letters to him. Qazaq continued to cherish love and found it impossible to forget her. After a long time, Bushra wrote a letter inviting him to visit Damasus to ‘pay respect’ to Hazrat Mirza Bashiruddin, second successor of the Promised messiah and Sir Zafarullah Khan who would also be visiting Syria with him in1955.
    Qazaq, in his interview to the correspondent of Alyum Cairo narrated the story of his engagement and nikah with Bushra and then exclaimed with sorrow that he had been betrayed. Her brother Mahmud forced him to divorce her as they had already made arrangements of her marriage with Sir Zafarullah. Her parents were paid a sum of 45 thousand pounds and a beautiful house was bought for them in Bustan-ul-Khizer, a posh locality in Damascus. 84
    Zafarullah fell in love with her when she came to Qadian Mission, Damascus, to pay respect to Mirza Mahmud who was proceeding to Europe for medical treatment. He also offered her brother an appointment in Pakistan Embassy in Syria. Zafarullah put a ring in her finger and a diamond necklace glittered around her neck when she visited the holy ‘hoax’ for her engagement. The marriage was solemnized in the Embassy of Pakistan at Damascus.
    It may be stated here that the first marriage of Zafarullah took place with his cousin Iqbal Begum. After her death, her sister Rashida Begum was married to him. She also died after a few years. The third marriage was solemnized with Badar Begum of Behar. She gave birth to Amatul Hye, Zafarullah’s only daughter. Badar Begum took divorce from Zafarullah.
    Zafarullah’s marriage with Bushra Rabbani was condemned by the Mufti of Syria. He issued a fatwa against it. Another Syrian scholar Sheikh Muhammad Khair Al-Qadri protested against the arranging of this marriage in the Embassy of Pakistan at Damascus. He called this marriage illegal and against the Islamic law. He said that Zafarullah belonged to a non-Muslim sect, Qadianiyya, which was established and promoted by the British Imperialists to further their ends and to seed the abrogation of Jehad. 85
    The Marriage subsequently proved to be a failure and “a most poignant event in Zafarullah’s life”. Bushra was less in age than his daughter. She later on left him to marry the young scholar son of Michael Naimy, a great Lebanese Christian poet considered equal to Khalil Gibran. She also wrote Naimy’s biography. Zafarullah was angelic in his love towards the woman even after she had moved out to live with her lover. There was no emotion even in that, it was purely an intellectual decision, made with the mind rather than feeling ” 86
    London Conference
    Mirza Mahmud held conferences in Zurich, Hamburg and London to devise a new strategy for the uplift of the Community and to forge greater cooperation with western powers. The Conference held at London was attended by the representatives of all leading missions and discussed religious, economic and political issues vis-a-vis the movements going on in the Arab World for self-assertion and revival of Islamic values.
    Sir Zafarullah says:
    ‘During his visit to Europe in 1955 the Khalifatul Masih inspected the various missions in Europe and held a conference in London of all the missionaries working in different European countries, in which he checked up on their activities and progress and gave them directions and furnished them with guidance with regard to their future work.’ 87
    After his visit to Syria. Beirut, Switzerland, Italy, Holland and London Mirza Mahmud returned to Rabwah on 25 September 1955.
    Zionist Support
    In the light of new strategy chalked out for the Middle East, Mirza Mahmud sent Jalal-ud-Din Qamar from Pakistan to Israel to take over the charge of his office. Ch. Sharif who had been in Israel since 1938 left for Pakistan. Earlier Sh. Noor Ahmad and Rashid Chughtai came to Pakistan from Israel in 1951 after accomplishing their nefarious plans. All of them lived in Rabwah. The family of J.D.Qamar was in Rabwah while he served in Israel. 88
    When Ch. Sharif left for Pakistan, the Israeli Prime Minister Ben Zevi sent him a special message to see him before his departure for Pakistan. His eagerness to see Ahmadiyya missionary points to secret understanding and close relations existing between the Zionists and their Qadiani hoodlums. On 28 November 1955 Sharif called on Israel Premier. In a Friday address Mirza Mahmud told his community with an air of pride that the Israeli Premier keenly desired to see Ahmadiyya missionary of Israel. 89
    After the arrival of Ch. Sharif from Israel to Pakistan the monthly AlFurqan, Rabwah, published a Special Edition on Propagation of Islam in Palestine. Allah Ditta, editor writes:
    “Maulana Muhammad Sharif was the in-charge of the Palestine Mission from 1938 to 1955. He has recently returned along-with his family. His place has been taken by Jalal-ud-Din Qamar as in-charge of the Mission.” 90
    Militant Zionist organizations always reacted sharply over the activities of Christian missionaries in their ‘Promised Land’. They could never tolerate the propagation of Jesus’ message in their ideological state. The controversy over missionary work in Israel always stirred ill feeling among Jewish religious militant groups. Missionary homes were attacked and several attempts were made to set fire to bookshops and destroy copies of the New Testament.’ says a report on Christian Missions in Israel . 91 But that had never happened to Ahmadiyya Mission in Israel although they claimed to propagate Islam among Jews. Relations between Ahmadis and Jews were always cordial.
    The nature of Israeli Qadiani collaboration can be seen from the following extract from Mirza Mubarak Ahmad’s book Our Foreign Missions. He is the grandson of Mirza Ghulam Ahmad.
    “The Ahmadiyya Mission in Israel is situated in Haifa at Mount Carmel. We have a mosque there, a Mission House, a library, a book depot, and a school. The mission also brings out a monthly, entitled Al Bushra, which is sent out to thirty different countries accessible through the medium of Arabic. Many works of the Promised Messiah have been translated into Arabic through this mission.

    In many ways this Ahmadiyya Mission has been deeply affected by the Partition of what formerly was called Palestine. The small number of Muslims left in Israel derive a great deal of strength from the presence

    • ZAFAR IQBAL SAHIB! THE ABOVE NOVEL FULL OF FICTION MAY BE AN INTERESTING BED-TIME STORY FOR YOUR MADRASSAH STUDENTS. IT IS AMAZING HOW PROFESSIONAL YOU PEOPLE ARE AT FABRICATION. MERELY BECAUSE YOU DO NOT HAVE ANY FEAR OF ALLAH.
      HOWEVER, DO YOU WANT US TO POST SOME WHOLE BOOKS PROVING THE TRUTH OF THE CLAIM OF HAZRAT MIRZA GHULAM AHMED TO BE THE SAME PROMISED MESSIAH PROPHESISED BY OUR KHATAM-UR-RUSAL, FAKHAR-UL-ANBIYA’A, MOHSIN-E-INSNIYAT HADHRAT MOHAMMAD SALLALAHO ALAIHE WA AALEHI WASSALM? PROVING IT ON THE BASIS OF AUTHENTIC AHADITH, PROPHESIES & SIGNS…..

      WE WILL FILL THE WHOLE NET WITH SUCH PROOFS & BOOKS.

      HENCE, THE ONLY DIFFERENCE BETWEEN AHMADI MUSLIMS AND NON AHMADI MUSLIMS IS THAT WE BELIEVED IN HADHRAT MIRZA GHULAM AHMED AND THE REST OF YOU DONT. WELL THATS FINE.. !!!!YOU DONT HAVE TO ….JUST KEEP WAITING….!!! BUT WHY DONT YOU LEAVE IT TO ALLAH THE ALL KNOWING, WHETHER WE WERE WRONG OR RIGHT. HE IS THE ONLY ONE WHO IS WORTHY OF MAKING SUCH JUDGMENTS..NOT SOME BLOOD THIRSTY, FITNA-PARAST FLOCK OF MULLAHS WHO ARE THE CLEAR FULLFILLMENT OF PROPHET MOHAMMAD S.A.W’S PROPHECY THAT THE ULEMAS OF THE LATER DAYS WILL BE THE WORSE “MAKHLOOQ” ON EARTH, WORSE THAN THE DOGS….

      • Dear Non – Muslim Brother

        There is hell of difference b/w Muslims & Ahmadiths

        the FACT is thet who believe on MGAQ are

        ” WORSE THAN THE DOGS”

  39. Ahmadiyya Movement in, or against, Islam?

    The “Ahmadiyya Movement in Islam” (called by Muslims everywhere as “Qadianism”) was established, in 1889, by Mirza Ghulam Qadiani (1835 – 1908) in a small Punjabi village of India. Mirza Ghulam Qadiani’s family were in the service of the British colonial powers and, to his dying days, Mirza Ghulam openly declared his allegiance to the British imperialism. In fact, the culmination of his service to foreign power was his declaration that resistance to oppressors (Jihad) — as ordained in the Holy Quran by God — had become unIslamic!
    Mirza Ghulam Qadiani’s life was laden with contradictory and anti-Islamic claims. In 1880, he declared himself to be only a Muslim writer; in 1885, he announced he was a revivalist (Mujaddid); in 1891, he claimed to be the Promised Mehdi and the Promised Messiah; and in 1901, he pronounced himself a prophet of God! Facing an open and strong opposition by Muslim Scholars and religious leaders for this blasphemous declaration and other teachings which belittled Jesus Christ(pbuh) and contradicted the Quranic revelations, he also announced that he was the second and improved coming of the Prophet Muhammad(SAW) with authority to reinterpret the Holy Quran at his pleasure! Not happy with mere prophethood, in 1904, he declared himself the Krishna (the Hindu Lord). Obviously, like an unethical modern-day politician, he was trying to appeal to all uneducated segments of the public in India!
    Fortunately, the Almighty Allah(SWT), time and time again, exposed Mirza Ghulam Qadiani’s falsehood through his own statements and so-called prophecies. Even many of his own family members were aware of his treachery and openly opposed his anti-Islamic teachings. Mirza Ghulam Qadiani finally died by intervention of the Almighty Allah and as the result of religious prayer challenges (Mubahala), in 1908.
    Since the death of Mirza Ghulam Qadiani, his heirs — the leaders of the Qadiani organization (“Ahmadiyya Movement in Islam”) — have been extremely busy trying to clean up his image. Backed by seemingly unlimited support they receive from their anti-Muslim allies, they have been promoting falsehood and deception through the media. They have even resorted to removing some of most controversial writings of Qadiani leadership — which had become a source of embarrassment to them — from circulation. Their partial English translation of their original text has been heavily edited to exclude all controversial and anti-Islamic sayings of their cult leaders. Obviously, they themselves realize the true nature of their “Ahmadiyya Mission”.
    The goal of the “Ahmadiyya Mission” is, and has always been, to confuse uninformed Muslims, divide the Ummah, prevent resistance to oppressors (Jihad), and provide an alternative to non-Muslims who find the message of Islam appealing. Quite cunningly, they do so by using Islamic terminology and teachings, and hiding the controversial writings of their founders. Today, only the most learned Muslims are able to attend one of their functions and realize that their brand of Islam is a form of Kufr (disbelief). Even when their leaders mention the Kalima (I bear witness there is only one God and Muhammad is his messenger), they are referring to their founder who proclaimed himself to be (God forbid) the second improved coming of the prophet Muhammad(SAW) and not to the true Prophet(SAW) of Allah(SWT).
    Muslim brethren everywhere should not be confused by Qadiani leadership’s superficial use of Islamic concepts to promote their cult. Our beloved Prophet Muhammad(SAW) and the four Khalifah also faced such false prophets. Of particular interest is the claim by an Arab, named Musailama, to prophethood, during the latter part of the life of the Prophet(SAW). Although he simply claimed co-prophethood with the Prophet Muhammad(SAW) of Arabia and did not belie any other teaching of the Holy Quran, he and all of his mislead followers were declared out of the fold of Islam, by righteous believers. Under the leadership of Hadrat Abu Bakr Siddique(RA) and with the unanimous consensus of all the companions of the Prophet Muhammad(SAW), a victorious war was waged against Musailama for using Islamic concepts and claiming prophethood. This should indeed be sufficient evidence to declare the Qadianis as non-Muslims.
    In 1974, after an exhaustive examination of all the evidence presented for and against the Qadianis, the Muslim World League (Rabita Alame Islami) — which represents all religious scholars from every Muslim country of the world — passed an unanimous resolution declaring the Qadiani Movement and its leadership out of the fold of Islam. Indeed, “Ahmadiyya Movement in Islam” is a man-made organization with no divine authority or guidance.
    Say: “O ye men! Now Truth hath reached you from your Lord! those who receive guidance, do so for the good of their own souls; those who stray, do so to their own loss: and I am not (set) over you to arrange your affairs.”
    (The Holy Quran, Yunus, 10:108)

    May Allah(SWT)expose the falsehood of the Qadiani leadership and show its unfortunate followers the path to the perfected and completed religion of Allah: Al-Islam.

  40. What do Qadianis (Ahmadiyya) think of Muslims?
    (In light of Qadiani own Writings) Muslims declared Kafir (Non-Muslim)
    Marriage with non-Qadiani declared Haram
    Praying Behind Muslims declared Haram
    Funeral Prayer for Muslims declared Haram

    Qadiani (Ahmadi) missionaries often attempt to present traditional Islamic belief as dogmatic, unpleasant, and intolerant of other faiths. They approach uninformed Muslims and try to win their sympathy (and perhaps their soul) by displaying their outrage at the fact that all Muslim Scholars have declared them unbelievers and outside the fold of Islam. Naturally, they conveniently omit the true reason for this verdict and instead try to capitalize on emotions and inherent goodness of Muslims. In other pages of this site, we have extensively explained the Qadiani (Ahmadiyya) doctrines that has convinced all informed Muslims Qadianism is Kufr.

    In this page, we like to share with you some of their own writings testifying to the fact that they too believe that they have a different religion than what Muslims have been taught by Hazrat Muhammad(SAW) and have been following for 1400 years. Unfortunately, they have plagiarized much of the wonderful teachings and practices of Islam and call their new cult “Islam”. They call the followers of Hazrat Muhammad(SAW) unbelievers!

    If Qadianis (Ahmadiyya) believe they have a new religion and call the Muslims Kafir, should we call them Muslim?

    Please do read the following Qadiani (Ahmadiyya) writings and decide for yourself.

    Muslims declared Kafir (Non-Muslim):

    “Allah has revealed to me that he who does not follow me and does not give me his oath of allegiance and remains in opposition is disobeying the will of Allah and His Rasul and is Jahannami (doomed to Hell).”
    (Collection of Posters, Vol. 3, P. 275; Mirza Ghulam Qadiani)

    “Question: Huzoor-e-aali (Respected Mirza Ghulam) has mentioned in thousands of places that it is not at all right to call Kafir a Kalima-go (someone who recites the Kalima) and an Ahle-Qibla. It is quite obvious that except those Momineen who become Kafir by calling you (Mirza Ghulam) a Kafir, no one becomes a Kafir by merely not accepting you. However, you have now written to Abdul Hakeem Khan that anyone who has received my message and has not accepted me is no longer a Muslim. There is contradiction between this statement and your statements in previous books. Earlier in Tiriaq-ul-Quloob etc you had mentioned that no one becomes Kafir by not accepting you; now you are writing that by rejecting me he becomes a Kafir?!

    Answer: This is strange that you consider the person who rejects me and the person who calls me Kafir as two different persons, whereas in the eyes of God he is the same type; because he who does not accept me is because he considers me a fabricator…”
    (Haqiqat-ul-Wahi, Roohany Khazaen, Vol. 22, P. 167, Mirza Ghulam Qadiani)

    “All those Muslims who do not enter the fold of the Promised Messiah, whether or not they have heard of Messiah (Mirza Ghulam Qadiani) are considered Kafirs and are beyond the pale of Islam.”
    (Aeena-e-Sadaqat, P. 9/35, By Bashir-uddin Mahmud)

    “God has revealed it to me that the person who did not believe in me after having heard about me is not a Muslim.”
    (Al-Fazl, Qadian, Jan 15, 1935 – Al-Hukum, 4:24, Mirza Ghulam Qadiani)

    “It has been revealed to me that the person who did not follow me and did not enter into my fold, is disobedient and as such, should be thrown into Hell.”
    (Miyar-ul-Akhyar, Vol. 9, P. 27, Mirza Ghulam Qadiani)

    “He (Mirza Ghulam Qadiani) has regarded him as an infidel who knows him to be truthful and does not belie him in speech but has not yet entered the fold.”
    (Tashi-ul-Azhan, 6:4, Apr. 1911, Miyan Mahmood Qadiani –
    Aqaid-e-Ahmadia, P. 108)

    “A man once asked the first caliph of the Messiah (Hakim Nuruddin Sahib) whether it was possible to attain salvation without having faith in mirza Sahib? He replied: ‘If the Word of God is based on truth, it is not possible to attain salvation without having faith in Mirza Sahib.”
    (Aa’ina-e-Sadaqat, P. 25, Miyan Mahmood Ahmad Qadiani)

    “In Lucknow, I (Mir Mahmood Ahmad Qadiani) met a man who was a great scholar. He said: ‘Those are your enemies who make the propaganda that you condemn people as infidels. I can not believe that such broad minded people as you are can indulge in such things.’ The man was making this remark to Sheikh Yaqub Ali Qadiani. I asked him to tell the man that we really believe them as infidels. The man was astonished to hear this.”
    (Anwar-e-Khilafat, Miyan Mahmood Ahmad Qadiani)

    “It seems that the Promised Messiah had also suspected that the word ‘Muslim’ which he used also for non-Ahmadis might be wrongly understood. So, he has made it clear in his writings occasionally that the work ‘Muslim’ which he used for also non-Ahmadis meant ‘those who claimed to be Muslims.’ hence, wherever he has used that term for non-Ahmadis, he means by it those who claim to be Muslims, for he could not have recognized those who denied him as Muslims under divine instructions.”
    (Kalimatul Fasl, Vol. 14, No. 3, P. 126, Sahibaza Bashir Ahmad Qadiani)

    “Chaudhari Sahib (Sir Zafarullah Khan Qadiani) stressed the point that we Ahmadis are Muslims and it is wrong to regard us as infidels. As for the question whether the non-Ahmadis are infidels, the Ahmadis hold that they are infidels. They said so in the subordinate court and the Chaudhari Sahib has supported this statement in the High Court.”
    (Al-Fazl, Qadian, Vol. 10, No. 21, Sep. 14, 1922)

    “O you who are called Muslims! If you really desire Islam’s victory and invite the rest of the world to join you, then first come yourselves to the true Islam (Qadianism) which is available throught the Promised Messiah (Mirza of Qadian). It is under his auspices that today the roads to goodness and righteousness are open. By following him alone, man can reach the desired goal of success and salvation. He is the same pride of the former and the latter mankind (Muhammad), who had come 13 centuries ago from now as ‘Rahmatul Alemeen’ (The Mercy to the Worlds).”
    (Al-Fadl, September 26, 1915; Qadiani Religion, P. 211-212/264, 9th Edition, Lahore)

    “To declare those who denied the Holy Prophet(SAW) in his first advent as Kafirs and outside the fold of Islam but to regard the deniers of his second advent (Mirza Ghulam) as Muslim is an insult to the Prophet and a joke against the signs of Allah, since the Promised Messiah has, in the Khutba-e-Ilhamia, compared the mutual relation between the first and the second advents of the Holy Prophet to the relations between the crescent and the full moon.”
    (Al-Fadl, Vol. 3, No. 10, July 15, 1915; Qadiani Religion, P. 262)

    “The point is now quite clear. If it is Kofr to deny the Merciful Prophet, it must also be Kofr to deny the Promised Messiah, because the Promised Messiah is in no way a separate being from the Merciful Prophet; rather he is the same (Muhammad). If anyone is not considered a Kafir for denying the promised Messiah, then anyone else who denies the Merciful Prophet should not also be considered a Kafir. How is it possible that denying him in his first advent should be considered Kofr, but denying him in his second advent should not be regarded as Kofr, even thought, as claimed by the Promised Messiah, his spiritual attainment is stronger, more complete, and more severe.”
    (Kalimatul Fasl, P. 146-147; Review of Religions, March-April 1915)

    “Any person who believes in Moses but does not believe in Christ, or believes in Christ but does not believe in Muhammad or believes in Muhammad but does not believe in the Promised Messiah, is not only a Kafir, but he is a confirmed (Pakka) Kafir, and out of the fold of Islam.”
    (Kalimatul Fasl, P. 110, By Mirza Bashir Ahmad Qadiani)

    “It is incumbent upon us that we should not regard non-Ahmadis as Muslims, nor should we offer prayers behind them, because according to our belief they deny one of the messengers of Allah. This is a matter of faith. None has any discretion in this.”
    (Anwar-e-Khilafat, P. 90, by Mirza Mahmood Ahmad Qadiani)
    Marriage with non-Qadiani Declared Haram:

    “He who gives his daughter in marriage to any non-Qadiani is a non-Ahmadi, even though he may call himself Ahmadi… It is also forbidden for our followers to participate in such marriage gathering.”
    (Al-Fazl, Qadian, May 23, 1931)

    “There is no harm if you marry a non-Ahmadi girl because it is allowed to marry women of the people of the Book… But an Ahmadi girl should not be given to a non-Ahmadi. There is no harm in accepting their girl but it is a sin to give them a girl.”
    (Al-Fazl, Qadian, Dec. 16, 1920)

    “It is permitted to marry the daughters of Christians, Hindu, and Sikhs, (but to give them daughters is not allowed).”
    (Al-Fazl, Qadian, Feb. 18, 1930)

    “By giving up Ahmadiat I mean to do something which may amount to unbelieving; giving a daughter to any non-Ahmadi also falls in that category.”
    (Al-Fazl, Qadian, May 4, 1922)

    “The fifth tenet that is binding upon my sect in this erase is that you should not give your daughters to non-Ahmadis. He who gives his daughter to a non-Ahmadi does not know what Ahmadiat is. Do you find non-Ahmadis giving their daughters to Hindus or Christians? Non-Ahmadis are, according to our faith Kafir, but they are better than you in this respect. In spite of being Kafirs themselves, they do not give their daughters to Kafirs but you, in spite of being Ahmadi, give your daughters to non-believers.”
    (Malaika-tullah, P. 46; by Mirza Bashir-ud-Din Mahmud)

    “The promised Messiah (Mirza Ghulam Qadiani) has definitely prohibited Ahmadis to give their daughters in marriage to non-Ahmadis (Muslims). Let us be careful in the future. Ahmadis should follow this verdict.”
    (Barakat-e-Khilafat, P. 75, Miyan Mahmood Qadiani;
    Al-Fazl, Qadian, Vol. 20, No. 97, Feb. 14, 1933)

    “He who gives his daughter in marriage to a non-Ahmadi youth is not an Ahmadi in my opinion. None can give his daughter in marriage to a person whom he regards as a non-Muslim. The Qadi (Judge) who solemnizes such marriage should be regarded as a person who has conducted the marriage of a Muslim girl with a Christian or Hindu.”
    (Al-Fazl, Qadiani, Vol. 8, No. 88, May 23, 1921)

    “There is no harm in marrying a non-Ahmadi girl because it is permissible to marry women belonging to the people of the Book as it might result in her enlightenment. But we should not give our girls to non-Ahmadis though we can take their girls. It means that there is no harm in talking in non-Ahmadi girls.”
    (Al-Hukum, Qadian, Vol. 8, No. 45, Dec. 16, 1920)
    Praying Behind Muslims declared Haram:

    “It is my considered religion: it is not permitted that you should offer prayer led by a non-Qadiani in any place whatsoever, whosoever he may be and however respected among the people he may be. This is an order from Allah and this is what Allah expects of you. Those who doubt this are considered deniers. Allah desires that a distinction be made between you and them.”
    (Al-Fazl, Qadian, Aug. 28, 1917)

    “God has revealed to me that it is forbidden – strictly forbidden – that you should say prayers led by one who believes me to be a liar or is wavering in his allegiance to me. Instead it enjoined upon you that you should follow an Imam from amongst you.”
    (Arbaeen, Vol. 3, P. 28; “Tuhfa-e-Golarwiah”, P. 27, Mirza Ghulam Qadiani)

    “No Qadiani is allowed to say prayers which are led by a non-Qadiani. People have asked this question again and again – is it permissible to pray behind them? I would say, whenever I am asked, it is not allowed for any Qadiani to pray behind a non-Qadiani. It is forbidden – not permitted – prohibited.”
    (Anwar-e-Khilafat, P. 93)
    Funeral Prayer for Muslims declared Haram:

    “If one asks ‘Is it permitted for us that funeral prayers be said for the children of Muslims’, I would say: No – just as it is forbidden to pray for Hindu and Sikh children as the religion must follow his parents.”
    (Anwar-e-Khilafat, Page 93)

    ‘To the question “What must be done to a Muslim who dies in a place where Qadianism is unknown? Should formal prayers be said?” I would say: “We do not know his full particulars but it would appear from his deed that he died in a state in which he was ignorant of Rasul of ALlah and His Nabi. Therefore, no prayers should be said for him. Nor would we say funeral prayers for a Qadiani who has followed a non-Qadiani in prayer or one who mixes with them by this action, he has left the pale of Qadianism.”
    (Al-Fazl, Qadian, May 6, 1915, Bashir-ul-Din Mahmood Qadiani)

    “Fadl Ahmad, the eldest son of promised Messiah (Mirza Ghulam Qadiani) from his first wife, died, but he (Mirza Ghulam) did not say funeral prayers over his son as he (Fadl Ahmad) did not believe in his prophethood or in his prophecies, although he was obedient to his father in matters concerning day to day life.”
    (Al-Fazl, Qadian, Dec. 15, 1931 – Jul. 7 1943, Page 3)

    “Hazrat Mirza Ghulam did not attend the funeral service of his son (late Mr. Fazl Ahmad) only because he was a non-Ahmadi (Muslim).”
    (Al-Fazl, Qadian, Vol. 9, No. 47, Nov. 15, 1921)

    “Our prayer has been channeled and we are not allowed to marry our daughters to them. To say funeral prayers for them is also prohibited. What else remains that we share with them? Relations are of two kinds: religious and worldly. The former comprises prayers and the latter relates to marriage. Thus, following non-believers in prayer is forbidden and it is also forbidden that you make them your sons-in-law. Should you then ask: ‘then why do we greet them?’ Then I would say that even the Prophet(pbuh) used to greet the Jews. In short, our Imam (Mirza Ghulam) has declared has declared us a distinct sect in every respect. There is no ceremony which occupies an important position in Islam in which we have not been separated from others.”
    (Kalimatul-Fasl, Vol. 14, P. 169, Mirza Bashi Ahmed Qadiani)

    “If a non-Ahmadi dies is it permissible to say” ‘May Allah pardon him and grant him admission in the Heaven?
    Answer: The infidelity of the non-Admadis (Muslims) is a proven fact and it is not permissible to pray for their salvation.”
    (Al-Fazl, Qadian, Vol. 8, No. 59, Feb. 1921)

    “It is an established rule that:
    The denial of even one of the prophets os enough to send a person out of the circle of Islam.
    It is not permissible to pray for Salvation for a person who is out of the circle of Islam.
    And as the Ahmadis believe that:

    Mirza Ghulam Ahmad Sahib was as much a prophet as was Hazrat Muhammad Mustafa(pbuh) in the nature of prophethood.
    So it is not permissible to pray for the salvation of a person who goes out of the circle of Islam by his denial of Mirza Sahib.”
    (Al-Fazl, Qadian, Vol. 9, No. 30, Oct. 17, 1921)

    “Chirag Din is a student of the Taleem-ul-Islam High School, Quadian. Recently, when he returned to his native place, Sialkot, his mother died. She had loved her son dearly, but since she was not an Ahmadi, Chirag Din did not attend her funeral prayers. He thus clung to his faith and principle. Well-done; Proud son of Taleem-ul-Islam. The movement (Quadianism) needs worthy sons like you. Well done.”
    (Al-Fazl, Qadian, Vol. 2, No. 129, Apr. 20, 1915)

    “I believe that those who follow the lead of non-Ahmadis (Muslims) in prayers, it is not permissible to hold their funeral service. Similarly, those who have given their daughters in marriage to non-Quadianis and died without repenting, it is not permissible to hold their funeral service.”
    (Al-Fazl, Qadian, Vol. 13, No. 102, Apr. 13, 1926)
    Is it then not a sign of the hypocrisy of Qadiani leadership and missionaries to claim to have ever wanted to be part of the Muslim nation? Yet, even after all this, the door of mercy of God is open to those who sincerely repent, give up false and man-made teachings of Mirza’s family, and embrace Islam.

    May Allah(SWT) guide every sincere individuals to the right path of Islam and away from the false teachings and claims of the Qadiani leadership.

  41. better go through the text below;
    A Sincere Advice to Believers in Mirza Ghulam Ahmad Qadiani
    We hope that you have found our sincere attempt at presenting the true message of the Qadianism (Ahmadiyyat) enlightening. In these pages, we have provided ample evidence from Quran, Sunnah, Hadith, and opinion of respected scholars of Islam to convince anyone that Qadianism (Ahmadiyyat) is a “faith” distinct from Islam. We have also provided hundreds of original quotes from the writings of the Qadiani leadership to completely expose their heretic teachings and feeble strategies to misguide the uninformed.
    Naturally, we do not expect that you blindly accept our claims. Instead, we humbly request that you obtain an original copy of Mirza Ghulam Qadiani’s books and verify our references for yourself. You will find them accurate and representative of the true beliefs of the Qadianism (Ahmadiyyat). Let us assure you that what you find appealing in Qadianism are the few teachings of Islam incorporated into that faith. Islam has always been a beautiful, complete, universal, and protected religion, in no need of a new prophet. We are certain that once you review all the proof earnestly, you will have no choice but to submit to Allah(SWT) and reject Qadianism. We certainly hope you are able to appreciate the truth.

    Say: “O my Servants who have transgressed against their souls! Despair not of the Mercy of Allah, for Allah forgives all sins, for He is Oft-Forgiving, Most Merciful.
    Turn you to our Lord and submit to Him, before the doom comes on you, after which you shall not be helped.
    And follow the best that has been revealed to you from your Lord, before the Penalty comes on you – of a sudden while ye perceive not!-
    Lest the soul should say: ‘Ah! Woe is me!- In that I fell short of my duty towards Allah, and was but among those who mocked!’-
    Or it should say: ‘If only Allah had guided me, I should certainly have been among the dutiful!’-
    Or it should say when it sees the doom: ‘If only I had another chance, I should certainly be among the righteous!’ ”
    (The Holy Quran, Az-Zumar, 39:53-58)

    All Muslim scholars already have declared the followers of Mirza Ghulam Qadiani to be out of the fold of Islam. If you are a person who somehow believes in Qadianism (Ahmadiyyat), without having studied the writings of Mirza Ghulam Qadiani, then your faith in the Qadiani “faith” is also questioned by the founder of your movement:

    “Anyone who has not read my books at least three times, his faith is in doubt.”
    (Seerat-ul-Mahdi, No. 407, Vol. 2, P. 78)
    By blindly supporting the teachings of the Qadiani leadership, in any way and for any reason, you are indeed putting your soul at a great risk:

    Leave alone those who take their religion to be mere play and amusement, and are deceived by the life of this world. But proclaim (to them) this (truth): that every soul delivers itself to ruin by its own acts: it will find for itself no protector or intercessor except Allah: if it offered every ransom, (or reparation), none will be accepted: such is (the end of) those who deliver themselves to ruin by their own acts: they will have for drink (only) boiling water, and for punishment, one most grievous: for they persisted in rejecting Allah.
    (The Holy Quran, Al-Anaam, 6:70)

    We often get messages from very disturbed “Ahmadis” (Qadianis) who swear they do not hold all the views we have presented in these pages. We sympathize with them and believe their claim: they have been tricked into supporting Qadianism (Ahmadiyyat). The fact remains that the Qadiani (Ahmadi) doctrine includes all beliefs we have represented in these pages. These doctrines are included in the very writings of the founder of the movement and his successors.

    Ignorance of these beliefs or rejection of some of them does not make Mirza Ghulam Qadiani’s movement and teachings any more acceptable. The fact remains that Mirza Ghulam and his associates did advance these beliefs and mandated them on his followers. Does trying to ignore or discount some of the writings amount to anything more than fooling oneself into following a man-made cult? Is it reasonable to keep a blind eye to all the evidence showing the true nature of Qadianism (Ahmadiyyat)?

    Those who conceal the clear (Signs) We have sent down, and the Guidance, after We have made it clear for the people in the Book,-on them shall be Allah’s curse, and the curse of those entitled to curse,-
    Except those who repent and make amends and openly declare (the Truth): To them I turn; for I am Oft-returning, Most Merciful.
    (The Holy Quran, Al-Baqara, 2:159-160)

    Both the Holy Quran and Hazrat Muhammad(SAW) have instructed the Muslims to use their best judgment to arrive at the truth. We are certain that once you review all the evidence, you too become certain that Mirza Ghulam Qadiani and his followers are not following a divine revelation. When you do, we hope you remember these words of Allah(SWT) :

    Allah accepts the repentance of those who do evil in ignorance and repent soon afterwards; to them will Allah turn in mercy: For Allah is full of knowledge and wisdom.
    Of no effect is the repentance of those who continue to do evil, until death faces one of them, and he says, “Now have I repented indeed;” nor of those who die rejecting Faith: for them have We prepared a punishment most grievous.
    (The Holy Quran, An-Nisa, 4:17-18)

    Please bear witness that we are Muslims and we have relayed the true message of Allah(SWT) to you. We hope that you are not among the unfortunate few who have earned the wrath of Allah(SWT) and are incapable to see the truth; those who Allah(SWT) has condemned to the lowest level in hell; those who cannot see:

    When it is said to them: “Come to what Allah hath revealed, and to the Messenger”: Thou seest the Hypocrites avert their faces from thee in disgust.
    How then, when they are seized by misfortune, because of the deeds which they hands have sent forth? Then they come to thee, swearing by Allah: “We meant no more than good-will and conciliation!”
    Those men,-Allah knows what is in their hearts; so keep clear of them, but admonish them, and speak to them a word to reach their very souls.
    (The Holy Quran, An-Nisa, 4:61-63)

    We pray that Allah(SWT) will guide all the victims of the Qadiani (Ahmadi) misinformation campaign back to the path of Islam.

  42. In 1904, Mirza Ghulam Qadiani declared that every Muslim would be seen as an unbeliever, “Jahannamie” (doomed to hell) and progeny of prostitute, if he did not affirm belief in his claims. [Read: Mannerism of Mirza Ghulam Qadiani]

  43. Read the Original for Some of Our References
    (Scanned Pages from the Qadiani Own Books)
    Since the original writings of Mirza Ghulam and his associates are mostly in Urdu and not readily available, most Qadianis (Ahmadis) have only been exposed to the glorified propaganda of the leadership of the Qadiani movement. In various articles contained on this site, we provided authentic translation of Qadiani writings and, for some of the quotes, we provided links to scanned copy of the original pages. We felt this was necessary, since the Qadiani leadership often resorts to labeling our translations as inaccurate without providing one themselves!
    We have decided to present this page of links to all relevant translations and source documents so that any interested party can independently verify the authenticity of our quotes. Read Originals Written in: Urdu Arabic Persian English

    Urdu

    Although in their official propaganda, Qadianis (Ahmadis) refer to their founder, Mirza Ghulam, as Mahdi or Messiah, the truth is that they view him as the most perfect prophet of God. Mirza Ghulam Qadiani himself claimed to be the perfected form of hazrat Muhammad(SAW) (God forbid) and stated that anyone who joins him becomes a Sahaba (companion) of the Holy prophet(SAW)! When a knowledgeable Qadiani praises “Muhammad”, he is really praising Mirza Ghulam! Mirza Ghulam wrote:

    “And Allah sent down upon me the bounty of the Holy Prophet and made it perfect; and he drew towards me the kindness and generosity of the merciful Prophet, so that I became one with him. Thus, he who joins my group, joins the group of the companions (Sahaba) of my Leader, the best of messengers. It is not hidden from those who have the ability to think that this is what the words “Akhareen Menhom” (others of them) mean. The person who makes a difference between me and the Mustafa has neither seen me nor recognized me.”
    Read the original here: Khutba-e-Ilhamiah, Roohany Khazaen, Vol. 16, P. 258 – 259
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Muhammad(SAW)

    Regardless of the offical statement by Qadiani leadership, Mirza Ghulam did view himself superior to Muhammad(SAW). He Wrote:

    “One who denies that the mission of the Prophet(SAW) is related to the 6th thousand (13th century) as it was related to 5th thousand (6th century), denies the truth and the text of the Quran and is among the zalemeen (gone astray). The truth is that the spiritual power of the Holy Prophet(SAW) at the end of the 6th thousand (13th century in Mirza Ghulam), i.e. these days, is much stronger, more complete and stronger than in those early years. Nay, it is like the fourteenth (moonlit) night (full moon).”
    Read the original here: Khutbah-e-Ilhamiah, Roohany Khazaen, Vol. 16, P. 271 – 272
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Muhammad(SAW)

    Mirza Ghulam viewed his own statements as authentic as Torah, Bible, and Quran. He reinterpreted Quran in a way which contradicts the rule of Arabic language, the teachings of the Holy Prophet(SAW), his companions, and all Muslims for the last 1400 years. He also rejected authentic Hadith only because they clearly refuted his teachings. He wrote:

    “The basis for our claims is not Hadith but Quran and that Wahi (revelation) which comes to me. Yes, in support we also present those Hadith which are according to Quran and do not contradict my Wahi. Rest of the Hadith, I throw them away like a waste paper.”
    Read the original here: Nuzool-e-Maseeh, Roohany Khazaen, Vol.19, P.140
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Muhammad(SAW)

    Qadiani propaganda material claims that Mirza Ghulam was subserviant to hazrat Muhammad(SAW) and followed the Sharia of Islam! Mirza Ghulam wrote the truth:

    “On top of it you must realize what Shariat (religious law) really is. Simply it orders proper conduct and forbids indecency. One who lays down certain commands and prohibitions (i.e. Amr bil Maroof and Nahi an-ilMunkar) is an ordinate of Shariat and I am the ordinate of Shariat, because my revelations contain both commandments (awamir) and prohibitions (Nawahi). It is wrong that Shariat should decree totally new orders as there is much teaching in the Quran which is also found in the Torah. That explains why, in the Quran, there is much reference to it in the following verse: ‘This has been revealed in the former books – those of Moses and Ibrahim.’”
    Read the original here: Arbain, Roohany Khazaen, Vol. 17, P. 435-436
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Muhammad(SAW)

    “My teachings contain orders as well as prohibitions and renovations of important injunctions of the Shariah. For this reason, God has named my teachings and the revelations (Wahi) that comes to me as “Falak” (Boat)…. Thus see, God has declared my revelations, my teachings and my allegiance to be Noah’s Ark and as the basis of salvation for all human beings. Let him who has eyes see and him who has ears hear.”
    Read the original here: Arbain, Roohany Khazaen, Vol. 17, P. 435
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Muhammad(SAW)

    Qadiani propaganda claims that their Kalima is the same as Muslim Kalima. The truth is that when they say “Muhammad Rasurrollah”, they are referring to Mirza Ghulam. The relationship of Qadianism to Islam is the same as that of Bahais to Islam. Both view the prophethood of hazrat Muhammad(SAW) to have been superceeded by that of their own prophet. Here is official Qadiani Writing:

    “As the result of the advent of the Promised Messiah (Mirza Ghulam Qadiani), a difference has cropped up (in the meaning of Kalima). Before the appearance of the mission of the Promised Messiah, the words “Muhammad Rasurrollah” (Muhammad, the Prophet of Allah) included in their meaning only such messengers as had preceded him. But, after the mission of the Promised Messiah, one more messenger has entered into the meaning of “Muhammad Rasurrollah” (Muhammad, the Prophet of Allah).
    Therefore, on account of the incarnation of the Promised Messiah, the Kalima “La Ilaha Ellallah, Muhammad Rasurrollah” does not become abolished; it rather shines more brightly. In short, the same Kalima is effective even now for embracing Islam, with the only difference that the incarnation of the Promised Messiah (Mirza Qadiani) has added one more Messenger to the meaning of “Muhammad Rasurrollah” (Muhammad, the Prophet of Allah)… Moreover, even if we accept by supposing the impossible that the sacred name of the merciful Prophet has been included in the Kalimah because he is the last of the prophets, even then no difficulty arises and we do not need a new Kalima because the Promised Messiah is not a separate entity from the Merciful Prophet as he (Mirza Ghulam) himself has said: ‘My Entity has become his entity’ and ‘He who makes a distinction between me and Mustafa has not recognized me nor has seen me.’ And the reason for this is that Allah Almighty has promised that He would reincarnate the last of the Prophets (Khatam-un-Nabieen) to this world once more as it is evident from the verse “Akhareen Menhom” (… others of them). Thus, the Promised Messiah (Mirza Ghulam) is himself Muhammad, the Prophet of Allah, who had come to the world again to spread Islam. We do not, therefore, need any new Kalima. A new Kalima would have been necessary, if some other person had been reincarnated instead of Muhammad, the Prophet (Rasul) of Allah. So contemplate!”
    Read the original here: Kalimat-ul-Fasl, P. 158, by Mirza Bashir Ahmad Qadiani
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Muhammad(SAW)

    Qadiani propaganda claims that Ahmadis adhere to the principle of Finality of Prophethood. The Truth is that, upon cliaming prophethood for himself, Mirza Ghulam rejected the concept of the Finality of Prophethood and called Islam of hazrat Muhammad(SAW) dead and a satanic religion. He held to this view until he dreamt of the scheme of calling himself “Muhammad” and the “Very Last of the Prophets”. When Qadianis state that they believe in Finality of Prophethood, they mean they believe in Mirza Ghulam being the last of the Prophets (God forbid). Mirza Ghulam said:

    “We believe that a religion in which the chain of prophethood stands severed (as in Islam of Muhammad) is dead. We call the religions of Jews, the Christians and the Hindus dead only because now there are no messengers in them. If this were the position in Islam, we would be no more than mere story-tellers. Why do we regard it superior to other religions? It must have some distinctive features.”
    Read the original here: Malfoozat-e-Mirza, Vol. 10, P. 127; Rabwa
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Muhammad(SAW)

    “That religion is no religion and that Prophet is no prophet by following whom a man does not come so close to God as to be honored with divine conversation (prophethood). That religion is cursed and contemptible which teaches that human progress depends only on a few narrated anecdotes (Sharia of Islam and Sunnah) and that divine revelations (Wahi) have lagged behind instead of going ahead…. Such a religion deserves to be called Satanic rather than divine.”
    Read the original here: Barahen-e-Ahmadia, Roohany Khazaen, Vol. 21, P. 306
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Muhammad(SAW)

    “How absurd and false it is to believe that after the Holy Prophet(SAW) the door to divine ‘Wahi’ has been closed for ever and there is no hope of it in the future till the day of Resurrection – Worship tales only. Can a religion having no direct trace of Almighty Allah be called a religion? I say, by God, that in this age there is none more disgusted than myself with such a religion. I name such a religion Satanic, instead of divine.”
    Read the original here: Barahen-e-Ahmadia, Roohany Khazaen, Vol. 21, P. 354
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Muhammad(SAW)

    Qadiani propaganda often denies the fact that Qadianism views Islam dead and Muslims as Kafirs. The truth is that, in their misguided opinion, anyone who does not become a followers of Mirza Ghulam – even if he never heard of Qadianism – is a Kafir. Mirza Ghulam himself wrote:

    “This is strange that you consider the person who rejects me and the person who calls me Kafir as two different persons, whereas in the eyes of God he is the same type; because he who does not accept me is because he considers me a fabricator…”
    Read the original here: Haqiqat-ul-Wahi, Roohany Khazaen, Vol. 22, P. 167
    From Our Page: What do Qadianis (Ahmadiyya) think of Muslims

    Mirza Ghulam even went as far as abuse the grave of the Holy Prophet(SAW):

    “And God chose such a despicable site to bury the Holy Prophet(pbuh) which is extremely stinking and dark and cramped and was the site of the excreta of insects…”
    Read the original here: Tohfa-Golravia, Roohany Khazaen, Vol.17, P. 205
    From Our Page: Mirza Ghulam Qadianis and The Holy Shrines of Islam

    Mirza Ghulam abused Jesus(pbuh) and his family to much verbal abuse. This is a sampling of what he wrote about his competition to Messiahship:

    “What was the character of Messiah, according to you? An alcoholic and gluttonous person, neither abstinent nor a pious worshipper, nor an adorer of truth. He was a non-believer and an arrogant and self-conceited claimant of divinity.”
    Read the original here: Noor-ul-Quran, Roohany Khazaen, Vol. 9, P. 387
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Jesus(pbuh)

    “Jesus’s three paternal and maternal grandmothers were fornicators and prostitutes, from whose blood Jesus came into existence.”

    “Jesus had an inclination for prostitutes perhaps due to his ancestral relationship with them, otherwise no pious man could allow a young prostitute to touch his head with her filthy hands, and massage his head with the unclean perfume purchased with the earnings of adultery, and rub his feet with her hair. Let the intelligent judge what sort of character such a person must possess.”
    Read the original here: Anjam-i-Atham, Roohany Khazaen, Vol. 11, P. 291
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Jesus(pbuh)

    “A beautiful prostitute is sitting so close to him, almost embracing him. Sometimes she massages his head with perfume or holds his feet, at other times she lays her beautiful on his feet and plays in his lap. In that condition, Mr. Messiah is sitting in ecstasy. If someone rises to object, he is scolded. In addition to his youth, dependency on alcoholic beverages, and being a bachelor, a beautiful prostitute is lying in front of him touching her body against his. Is this the behavior of a virtuous person? And what evidence or proof is there that Jesus did not get sexually provoked by the prostitute? … The sexual excitement and arousal had done its work to the fullest. This is the reason why Jesus could not even open his mouth to say ‘Oh adulteress! Keep away from me’.”
    Read the original here: Nur-ul-Quran, Roohany Khazaen, Vol. 9, P. 449
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Jesus(pbuh)

    “A most shameful thing is that the sermon on the mount, which is the essence of the Bible, Jesus plagiarized from Talmud and pretended it to be his own preaching. Since this fraud has been exposed, Christians are very embarrassed. Jesus did this to perhaps gain influence by presenting some good teachings… The unfortunate thing is that these teachings are an afford to the rules of Wisdom and upright conscience.”

    “The Christians have written about many miracles of Jesus, but the fact is that he performed no miracles.”
    Read the original here: Anjam-i-Atham, Roohany Khazaen, Vol. 11, P. 290
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Jesus(pbuh)

    “Very likely he (Jesus, The Messiah) may have healed some blind person or cured some other ailment by ordinary means. Due to luck, there was a pond which was the source of great miracles, during his time. It can be assumed that he also used the clay of the same (magic) pond. The complete reality of his miracles is unfolded by this pond. A categorical inference drawn from the presence of this pond is that, if he performed any miracles at all, they were not his miracles, rather those attributable to this pond. He (Jesus) had nothing to his credit except cunning and deceit.”
    Read the original here: Anjam-i-Atham, Roohany Khazaen, Vol. 11, P. 291
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Jesus(pbuh)

    “It is unjustly said about the person (Jesus) who is buried in the locality of Khanyar, Sirinagar, Kashmir, that he is sitting in the Heavens. How great an injustice is this! God, in keeping to his promise has power over everything. But, he can never send a person to this world the second time, whose first coming caused so much harm.”
    Read the original here: Dafi’-ul-Bala, Roohany Khazaen, Vol. 18, P. 235
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Jesus(pbuh)

    Mirza claimed to be Messiah of the Prophecies. To explain how he could be Jesus(pbuh) reincarnated (instead of descending from heavens), he came up with this explanation:

    “God named me Mary in the third volume of Baraheen-e-Ahmadia (the book of ‘revelations’ written by Mirza). I was nurtured for two years as Mary and was raised in a womanly seclusion. Then, the spirit of Jesus was breath into me just as was done with Mary. Hence, I was considered to be pregnant in a metaphorical manner. After a period of several months, not exceeding ten, I was made Jesus out of Mary by the revelation embodied in the last part of the fourth volume of Baraheen-e-Ahmadia; and thus, I became Jesus, son of Mary. But, God did not inform me of this secret at that time.”
    Read the original here: Kashti-i-Nuh, Roohany Khazaen, Vol. 19, P. 50
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Jesus(pbuh)

    Qadianis are ashamed to admit that Mirza Ghulam considered himself to be an obedient and loyal servant of the British Imperialism in India, whose mission was to convince Muslims to become subservient to the rule of the British and to ensure they would not raise against the British rule. Mirza’s own writings point this out clearly:

    “The benevolent Government is aware of the fact that we are from among their servants, their sympathizers and well wishers. We have come to their aid with a firm mind in every hour of need. My father was held in close and high esteem by the Government; and our services to this Government held clear distinction. I do not think that the Government has forgotten these services of ours. My father, Mirza Ghulam Murtada, son of Mirza Ata Muhammad Al-Qadian, was a great well wisher and friend of this government and enjoyed great respect from among them. Our loyalty has been proven beyond doubt. Rather our fidelity was proven among the people and became clear to the government officials. The Government may confirm this from the officers who came to this side and lived among us; so that they may tell what sort of life we lived, and how faithful we have been in serving their Government.”
    Read the original here: Noor-ul-Haq, Roohany Khazaen, Vol. 8, P. 36-37
    From Our Page: Mirza Ghulam Qadianis’s Service to his True Masters

    “I come from a family which is out and out loyal to this government. My father, Mir Ghulam Murtaza, who was considered its well-wisher, used to be granted a chair in the Governor’s Darbar (cabinet) and has been mentioned by Mr. Griffin in his ‘History of the Princes of Punjab’. In 1857, he helped the British government beyond his means, that is he procured fifty (50) cavaliers and horses right during the time of the mutiny. He was considered by the government to be its loyal supporter and well-wisher. A number of testimonials of appreciation received by him from the officers have unfortunately been lost. Copies of three of them, however, which had been published a long time ago, are reproduced in the margin (in English). Then, after the death of my grandfather, my elder brother Mirza Ghulam Qadir remained occupied with service to the government and when the evil-doers encountered the forces of the British government on the highway of Tanmmun, he participated in the battle on the side of the British Government (under General Nicholson he killed several freedom fighters). At the time of the death of my father and brother, I was sitting in the sidelines; but, since then, I have been helping the British for seventeen years with my pen.”
    Read the original here: Kitab-ul-Barriah, Roohany Khazaen, Vol. 13, P. 4, 5, 6, 7
    From Our Page: Mirza Ghulam Qadianis’s Service to his True Masters

    “It has been proven from my continuous seventeen year long speeches that I am faithful and sincere to the English Empire from the core of my heart and soul. I am the son of a father who was also a friend to this Government. My faith is to obey this Government and love the people; These are the conditions set for my devotees and followers who take the oath of allegiance to me. I have stressed this clause under the fourth item of my pamphlet Shuroo-al-Bait (oath of faith) which has been distributed among my devotees and followers.”
    Read the original here: Kitab-ul-Barriyah, Roohany Khazaen, Vol. 13, P. 10
    From Our Page: Mirza Ghulam Qadianis’s Service to his True Masters

    “For the sake of the British government, I have published fifty thousand books, magazines and posters and distributed them in this and other Islamic countries. I have stressed that the British Government is the benefactor of the Muslims and it is, therefore, incumbent upon every Muslim to extend his faithful obedience to this Government, express gratitude from the bottom of his heart to that (government), and pray for it. And I have written these books in Urdu, Arabic and Persian and have distributed them throughout the entire Muslim world, so much so that they have reached the two sacred cities of Mecca and Medina; and, as far as possible, also in the Capital of Room – Constantinople and Syria, Egypt and Kabut and many other cities of Afghanistan. As to the best approach, these have been published in Istanbul and in the different cities of countries like Syria, Egypt and Afghanistan. It is as a result of my endeavors that thousands of people have given up thoughts of Jihad which had been propounded by ill-witted mullahs and embedded in the minds of the people. I can rightly feel proud of this that no other Muslim in British India can equal me in this respect.”
    Read the original here: Sitara-e-Qaisaria, Roohany Khazaen, Vol. 15, P. 114
    From Our Page: Mirza Ghulam Qadianis’s Service to his True Masters

    “The greater part of my life has been spent in supporting and defending the British Government. I have written and published so many books against the theory of Jihad and the need for obedience to the British that if all these tracts and books were put together, it would take fifty almiras to accommodate them. I have distributed these books to all the countries: Egypt, Syria, Kabul (Afghanistan), and Room (Turkey). It has always been my aim to convert these Muslims to have true faith in the British Government and to discard from their minds the baseless traditions of cruel Mahdi and bloody Maseeh as well as instigating the idea of Jihad which mislead foolish people.”
    Read the original here: Tiryaq-ul-Qulub, Roohany Khazaen, Vol. 15, P. 155
    From Our Page: Mirza Ghulam Qadianis’s Service to his True Masters

    “My Arabic publications were merely for lofty purposes and my books were in continuous supply in the Arab world until I felt they were bearing fruit – some Arabs came to see me personally and some contacted me through the mail. Some called me bad names and others were enlightened and agreed with my mission, seemingly in search of the truth. I have spent a lot of time on these publications so that for nearly 11 years I have published these books and have never neglected this duty. I am therefore entitled to say that I am unique in respect of these services to the government and that I am like a fortress and an amulet for this British Government. I am he who safeguards them from evil. God has revealed to me and said: ‘When you are among them, God will not punish them.’ So, there is no one equal and similar to me in serving this Government and, if it is capable of knowing people, it will realize the value of my services.”
    Read the original here: Noor-ul-Haq, Roohany Khazaen, Vol. 8, P. 44-45
    From Our Page: Mirza Ghulam Qadianis’s Service to his True Masters

    “God, the Exalted as a token of His special favor, has made the British Government protect and shelter me and my followers. The peace we enjoy here under the British Government can not be found in Mecca al Mukaramma or in Medina al Munaawara… You want me to become the enemy of my own comfort?”
    Read the original here: Tiryaq-ul-Qulub, Roohany Khazaen, Vol. 15, P. 156
    From Our Page: Mirza Ghulam Qadianis’s Service to his True Masters

    “(after reiterating the services Mirza and family were rendering to the British)… all this should not go to waste and, God forbid, that the British government should get any ill feelings in its heart about their long-time faithful and well-wisher family. It is impossible to stop these people from lying about us due to religious difference, jealousy or personal reasons. We only request that the government should take good care of this self-implanted seedling family which has continually proven itself to be a faithful and devoted (jan-nesar) family for fifty years and about which there are issued letters from the British government attesting to their faithfulness and servitude for a long time; Also, direct the subordinates that they render special consideration to me and my family due to our proven faithfulness; and our family has never hesitated in shedding their blood in the way of British rulers and did not stop from laying down their lives, nor do they now. In light of our prior services, it is our right to ask that the British government provide us with full favors and special attention, so that people don’t get encouraged to insult us without reason. Here are the names of few members of my Jamaat:…”
    Read the original here: Kitab-ul-Barriah, Roohany Khazaen, Vol. 13, P. 350
    From Our Page: Mirza Ghulam Qadianis’s Service to his True Masters

    Arabic

    Although in their official propaganda, Qadianis (Ahmadis) refer to their founder, Mirza Ghulam, as Mahdi or Messiah, the truth is that they view him as the most perfect prophet of God. Mirza Ghulam Qadiani himself claimed to be the perfected form of hazrat Muhammad(SAW) (God forbid) and stated that anyone who joins him becomes a Sahaba (companion) of the Holy prophet(SAW)! When a knowledgeable Qadiani praises “Muhammad”, he is really praising Mirza Ghulam! Mirza Ghulam wrote:

    “And Allah sent down upon me the bounty of the Holy Prophet and made it perfect; and he drew towards me the kindness and generosity of the merciful Prophet, so that I became one with him. Thus, he who joins my group, joins the group of the companions (Sahaba) of my Leader, the best of messengers. It is not hidden from those who have the ability to think that this is what the words “Akhareen Menhom” (others of them) mean. The person who makes a difference between me and the Mustafa has neither seen me nor recognized me.”
    Read the original here: Khutba-e-Ilhamiah, Roohany Khazaen, Vol. 16, P. 258 – 259
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Muhammad(SAW)

    Mirza Ghulam did view himself superior to Muhammad(SAW). He Wrote:

    “One who denies that the mission of the Prophet(SAW) is related to the 6th thousand (13th century) as it was related to 5th thousand (6th century), denies the truth and the text of the Quran and is among the zalemeen (gone astray). The truth is that the spiritual power of the Holy Prophet(SAW) at the end of the 6th thousand (13th century in Mirza Ghulam), i.e. these days, is much stronger, more complete and stronger than in those early years. Nay, it is like the fourteenth (moonlit) night (full moon).”
    Read the original here: Khutbah-e-Ilhamiah, Roohany Khazaen, Vol. 16, P. 271 – 272
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Muhammad(SAW)

    Qadianis are ashamed to admit that Mirza Ghulam considered himself to be an obedient and loyal servant of the British Imperialism in India, whose mission was to convince Muslims to become subservient to the rule of the British and to ensure they would not raise against the British rule. Mirza’s own writings point this out clearly:

    “The benevolent Government is aware of the fact that we are from among their servants, their sympathizers and well wishers. We have come to their aid with a firm mind in every hour of need. My father was held in close and high esteem by the Government; and our services to this Government held clear distinction. I do not think that the Government has forgotten these services of ours. My father, Mirza Ghulam Murtada, son of Mirza Ata Muhammad Al-Qadian, was a great well wisher and friend of this government and enjoyed great respect from among them. Our loyalty has been proven beyond doubt. Rather our fidelity was proven among the people and became clear to the government officials. The Government may confirm this from the officers who came to this side and lived among us; so that they may tell what sort of life we lived, and how faithful we have been in serving their Government.”
    Read the original here: Noor-ul-Haq, Roohany Khazaen, Vol. 8, P. 36-37
    From Our Page: Mirza Ghulam Qadianis’s Service to his True Masters

    “My Arabic publications were merely for lofty purposes and my books were in continuous supply in the Arab world until I felt they were bearing fruit – some Arabs came to see me personally and some contacted me through the mail. Some called me bad names and others were enlightened and agreed with my mission, seemingly in search of the truth. I have spent a lot of time on these publications so that for nearly 11 years I have published these books and have never neglected this duty. I am therefore entitled to say that I am unique in respect of these services to the government and that I am like a fortress and an amulet for this British Government. I am he who safeguards them from evil. God has revealed to me and said: ‘When you are among them, God will not punish them.’ So, there is no one equal and similar to me in serving this Government and, if it is capable of knowing people, it will realize the value of my services.”
    Read the original here: Noor-ul-Haq, Roohany Khazaen, Vol. 8, P. 44-45
    From Our Page: Mirza Ghulam Qadianis’s Service to his True Masters

    Persian

    Although in their official propaganda, Qadianis (Ahmadis) refer to their founder, Mirza Ghulam, as Mahdi or Messiah, the truth is that they view him as the most perfect prophet of God. Mirza Ghulam Qadiani himself claimed to be the perfected form of hazrat Muhammad(SAW) (God forbid) and stated that anyone who joins him becomes a Sahaba (companion) of the Holy prophet(SAW)! When a knowledgeable Qadiani praises “Muhammad”, he is really praising Mirza Ghulam! Mirza Ghulam wrote:

    “And Allah sent down upon me the bounty of the Holy Prophet and made it perfect; and he drew towards me the kindness and generosity of the merciful Prophet, so that I became one with him. Thus, he who joins my group, joins the group of the companions (Sahaba) of my Leader, the best of messengers. It is not hidden from those who have the ability to think that this is what the words “Akhareen Menhom” (others of them) mean. The person who makes a difference between me and the Mustafa has neither seen me nor recognized me.”
    Read the original here: Khutba-e-Ilhamiah, Roohany Khazaen, Vol. 16, P. 258 – 259
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Muhammad(SAW)

    Mirza Ghulam did view himself superior to Muhammad(SAW). He Wrote:

    “One who denies that the mission of the Prophet(SAW) is related to the 6th thousand (13th century) as it was related to 5th thousand (6th century), denies the truth and the text of the Quran and is among the zalemeen (gone astray). The truth is that the spiritual power of the Holy Prophet(SAW) at the end of the 6th thousand (13th century in Mirza Ghulam), i.e. these days, is much stronger, more complete and stronger than in those early years. Nay, it is like the fourteenth (moonlit) night (full moon).”
    Read the original here: Khutbah-e-Ilhamiah, Roohany Khazaen, Vol. 16, P. 271 – 272
    From Our Page: Mirza Ghulam’s Tirade against Muhammad(SAW)

    English

    Although in their official propaganda, Qadianis (Ahmadis) refer to their founder, Mirza Ghulam, as Mahdi or Messiah, the truth is that they view him as the most perfect prophet of God. Mirza Ghulam Qadiani himself claimed to be the perfected form of hazrat Muhammad(SAW) (God forbid) and stated that anyone who joins him becomes a Sahaba (companion) of the Holy prophet(SAW)! When a knowledgeable Qadiani praises “Muhammad”, he is really praising Mirza Ghulam! In their Translation/Interpretation of Holy Quran, Qadianis (Ahmadis) admit they see Mirza Ghulam Qadiani as the Second coming of hazrat Muhammad(SAW). (God forbid)

    Read the original here: Qadiani Fake Translation of Quran 2:5. (Cover Page)
    From Our Page: Qadiani (Ahmadiyya) Changes to the Translation of the Holy Quran

    In clear contradiction of the statements of the Holy Quran and authentic Hadith, the Qadianis (Ahmadis) claim that Jesus(pbuh) was crucified and lowers from the crucifix injured. According to their misguided doctrine, upon recovering from his injuries, Jesus(pbuh) escaped to Kashmir, where he lived for some 86 years in peace, died, and is buried.
    Read the original here: Qadiani Fake Translation of Quran 3:55-56. (Cover Page)
    From Our Page: Qadiani (Ahmadiyya) Changes to the Translation of the Holy Quran

    Qadianis are ashamed to admit that Mirza Ghulam considered himself to be an obedient and loyal servant of the British Imperialism in India, whose mission was to convince Muslims to become subservient to the rule of the British and to ensure they would not raise against the British rule. Mirza’s own writings point this out clearly:

    “I come from a family which is out and out loyal to this government. My father, Mir Ghulam Murtaza, who was considered its well-wisher, used to be granted a chair in the Governor’s Darbar (cabinet) and has been mentioned by Mr. Griffin in his ‘History of the Princes of Punjab’. In 1857, he helped the British government beyond his means, that is he procured fifty (50) cavaliers and horses right during the time of the mutiny. He was considered by the government to be its loyal supporter and well-wisher. A number of testimonials of appreciation received by him from the officers have unfortunately been lost. Copies of three of them, however, which had been published a long time ago, are reproduced in the margin (in English). Then, after the death of my grandfather, my elder brother Mirza Ghulam Qadir remained occupied with service to the government and when the evil-doers encountered the forces of the British government on the highway of Tanmmun, he participated in the battle on the side of the British Government (under General Nicholson he killed several freedom fighters). At the time of the death of my father and brother, I was sitting in the sidelines; but, since then, I have been helping the British for seventeen years with my pen.”
    Read the original here: Kitab-ul-Barriah, Roohany Khazaen, Vol. 13

  44. do you know why alrtaf hussain and qadianees both hate Allama Iqbal so much?
    just read why?

    Allama Iqbal on Ahmadism

    On the appearance of Pandit Jawahar Lal Nehru’s three articles in The Modern Review of Calcutta, I received a number of letters from Muslims of different shades of religious and political opinion. Some writers of these letters want me to further elucidate and justify the attitude of the Indian Muslims towards the Ahmadis. Others ask me what exactly I regard as the issue involved in Ahmadism. In this statement I propose first to meet these demands which I regard as perfectly legitimate, and then to answer the questions raised by Pandit Jawahar Lal Nehru. I fear, however, that parts of this statement may not interest the Pandit, and to save his time I suggest that he may skip over such parts.

    It is hardly necessary for me to say that I welcome the Pandit’s interest in what I regard as one of the greatest problems of the East and perhaps of the whole world. He is, I believe, the first Nationalist Indian leader who has expressed a desire to understand the present spiritual unrest in the world of Islam. In view of the many aspects and possible reactions of this unrest, it is highly desirable that thoughtful Indian political leaders should open their mind to the real meaning of what is at the present moment agitating the heart of Islam.

    I do not wish, however, to conceal the fact, either from the Pandit or from any other reader of this statement, that the Pandit’s articles have for the moment given my mind rather a painful conflict of feelings. Knowing him to be a man of wide cultural sympathies, my mind cannot but incline to the view that his desire to understand the questions he has raised is perfectly genuine; yet the way which he has expressed himself betrays a psychology which I find difficult to attribute to him. I am inclined to think that my statement on Qadianism – no more than a mere exposition of a religious doctrine on modern lines – has embarrassed both the Pandit and the Qadianis, perhaps because both inwardly resent, for different reasons, the prospects of Muslim political and religious solidarity particularly in India. It is obvious that the Indian Nationalist whose political idealism has practically killed his sense for fact is intolerant of the birth of a desire for self-determination in the heart of North-West Indian Islam. He thinks, wrongly in my opinion, that the only way to Indian Nationalism lies in a total suppression of the cultural entities of the country through the interaction of which alone India can evolve a rich and enduring culture. A nationalism achieved by such methods can mean nothing but mutual bitterness and even oppression. It is equally obvious that the Qadianis, too, feel nervous by the political awakening of the Indian Muslims, because they feel that the rise in political prestige of the Indian Muslims is sure to defeat their designs to carve out from the Ummat of the Arabian Prophet a new Ummat for the Indian prophet. It is no small surprise to me that my effort to impress on the Indian Muslims the extreme necessity of internal cohesion in the present critical moment of their history in India, and my warning them against the forces of disintegration, masquerading as Reformist movements, should have given the Pandit an occasion to sympathize with such forces….

    Only a true lover of God can appreciate the value of devotion even though it is directed to gods in which he himself does not believe. The folly of our preachers of toleration consists in describing the attitude of the man who is jealous of the boundaries of his own faith as one of intolerance. They wrongly consider this attitude as a sign of moral inferiority. They do not understand that the value of his attitude, is essentially biological. Where the members of a group feel, either instinctively or on the basis of rational argument, that the corporate life of the social organism to which they belong is in danger, their defensive attitude must be appraised in reference mainly to a biological criterion. Every thought or deed in this connection must be judged by the life-value that it may possess. The question in this case is not whether the attitude of an individual or community towards the man who is declared to be a heretic is morally good or bad. The question is whether it is life-giving or life-destroying. Pandit Jawahar Lal Nehru seems to think that a society founded on religious principles necessitates the institution of Inquisition. This is indeed true of the history of Christianity; but the history of Islam, contrary to the Pandit’s logic, shows that during the last thirteen hundred years of the life of Islam, the institution of Inquisition has been absolutely unknown in Muslim countries. The Qur’an expressly prohibits such an institution: “Do not seek out the shortcomings of others and carry not tales against your brethren.” Indeed the Pandit will find from the history of Islam that the Jews and Christians, fleeing from religious persecution in their own lands, always found shelter in the lands of Islam. The two propositions on which the conceptual structure of Islam is based are so simple that it makes heresy in the sense of turning the heretic outside the fold of Islam almost impossible. It is true that when a person declared to be holding heretical doctrines threatens the existing social order an independent Muslim State will certainly take action; but in such a case the action of the State will be determined more by political considerations than by purely religious ones. I can very well realize that a man like the Pandit, who is born and brought up in a society which has no well-defined boundaries and consequently no internal cohesion, finds it difficult to conceive that a religious society can live and prosper without State-appointed commissions of inquiry in so the beliefs of the people. This is quite clear from the passage which he quotes from Cardinal Newman and wonders how far I would accept the application of the Cardinal’s dictum to Islam. Let me tell him that there is a tremendous difference between the inner structure of Islam and Catholicism wherein the complexity, the ultra-rational character and the number of dogmas has, as the history of Christianity shows, always fostered possibilities of fresh heretical interpretations. The simple faith of Muhammad is based on two propositions-that God is One, and that Muhammad is the last of the line of those holy men who have appeared from time to time in all countries and in all ages to guide mankind to the right ways of living. If, as some Christian writers think, a dogma must be defined as an ultra-rational proposition which, for the purpose of securing religious solidarity, must be assented to without any understanding of its metaphysical import, then these two simple propositions of Islam cannot be described even as dogmas; for both of them are supported by the experience of mankind, and are fairly amenable to rational argument. The question of a heresy, which needs the verdict whether the author of it is within or without the fold, can arise, in the case of a religious society founded on such simple propositions, only when the heretic rejects both or either of these propositions. Such heresy must be and has been rare in the history of Islam which, while jealous of its frontiers, permits freedom of interpretation within these frontiers. And since the phenomenon of the kind of heresy which affects the boundaries of Islam has been rare in the history of Islam, the feeling of the average Muslim is naturally intense when a revolt of this kind arises. That is why the feeling of Muslim Persia was so intense against the Bahais. That is why the feeling of the Indian Muslims is so intense against the Qadianis.

    It is true that mutual accusations of heresy for differences in minor points of law and theology among Muslim religious sects have been rather common. In this indiscriminate use of the word Kufr, both for minor theological points of difference as well as for the extreme cases of heresy which involve the excommunication of the heretic, some present-day educated Muslims, who possess practically no knowledge of the history of Muslim theological disputes, see a sign of social and political disintegration of the Muslim community. This, however, is an entirely wrong notion. The history of Muslim Theology shows that mutual accusation of heresy on minor points of difference has, far from working as a disruptive force, actually given an impetus to synthetic theological thought. “When we read the history of development of Muhammadan Law,” says Professor Hurgronje, “we find that, on the one hand, the doctors of every age, on the slightest stimulus, condemn one another to the point of mutual accusations of heresy; and, on the other hand, the very same people with greater and greater unity of purpose try to reconcile the similar quarrels of their predecessors.” The student of Muslim Theology knows that among Muslim legists this kind of heresy is technically known as “heresy below heresy,” i.e. the kind of heresy which does not involve the excommunication of the culprit. It may be admitted, however, that in the hands of mullas whose intellectual laziness takes all oppositions of theological thought as absolute and is consequently blind to the unity in difference, this minor heresy may become a source of great mischief. This mischief can be remedied only by giving to the students of our theological schools a clearer vision of the synthetic spirit of Islam, and by reinitiating them into the function of logical contradiction as a principle of movement. in theological dialectic. The question of what may be called major heresy arises only when the teaching of a thinker or a reformer affects the frontiers of the faith of Islam. Unfortunately, this question does arise in connection with the teachings of Qadianism. It must be pointed out here that the Ahmadi movement is divided into two camps known as the Qadianis and the Lahoris. The former openly declare the founder to be a full prophet; the latter, either by conviction or policy, have found it advisable to preach an apparently toned down Qadianism. However, the question whether the founder of Ahmadism was a prophet the denial of whose mission entails what I call the “major heresy” is a matter of dispute between the two sections. It is unnecessary for my purposes to judge the merits of this domestic controversy of the Ahmadis. I believe, for reasons to be explained presently, that the idea of a full-prophet whose denial entails the denier’s excommunication from Islam is essential to Ahmadism; and that the present head of the Qadianis is far more consistent with the spirit of the movement than the Imam of the Lahoris.

    The cultural value of the idea of Finality in Islam I have fully explained elsewhere, Its meaning is simple: No spiritual surrender to any human being after Muhammad who emancipated his followers by giving them a law which is realizable as arising from the very core of human conscience. Theologically, the doctrine is that: the socio-political Organization called “Islam” is perfect and eternal. No revelation the denial of which entails heresy is possible after Muhammad. He who claims such a revelation is a traitor to Islam. Since the Qadianis believe the founder of the Ahmadiyyah movement to be the bearer of such a revelation, they declare that the entire world of Islam is infidel. The founder’s own argument, quite worthy of a medieval theologian, is that the spirituality of the Holy Prophet of Islam must be regarded as imperfect if it is not creative of another prophet. He claims his own prophethood to be an evidence of the prophet-rearing power of the spirituality of the Holy Prophet of Islam. But if you further ask him whether the spirituality of Muhammad is capable of rearing more prophets than one, his answer is “No”. This virtually amounts to saying: “Muhammad is not the last Prophet: I am the last.” Far from understanding the cultural value of the Islamic idea of finality in the history of mankind generally and of Asia especially, he thinks that finality in the sense that no follower of Muhammad can ever reach the status of prophethood is a mark of imperfection in Muhammad’s prophethood. As I read the psychology of his mind he, in the interest of his own claim to prophethood, avails himself of what he describes as the creative spirituality of the Holy Prophet of Islam and, at the same time, deprives the Holy Prophet of his “finality” by limiting the creative capacity of his spirituality to the rearing of only one prophet, i.e, the founder of the Ahmadiyyah movement. In this way does the new prophet quietly steal away the “finality” of one whom he claims to be his spiritual progenitor.
    He claims to be a buruz of the Holy Prophet of Islam insinuating thereby that, being a buruz of him, his “finality” is virtually the “finality” of Muhammad; and that this view of the matter, therefore, does not violate, the “finality” of the Holy Prophet. In identifying the two finalities, his own and that of the Holy Prophet, he conveniently loses sight of the temporal meaning of the idea of Finality. It is, however, obvious that the word buruz, in the sense even of complete likeness, cannot help him at all; for the buruz must. always remain the other side of its original. Only in the sense of reincarnation a buruz becomes identical with the original. Thus if we take the word buruz to mean “like in spiritual qualities” the argument remains ineffective; if, on the other hand, we take it to mean reincarnation of the original in the Aryan sense of the word, the argument becomes plausible; but its author turns out to be only a Magian in disguise.
    It is further claimed on the authority of the great Muslim mystic, Muhyuddin ibn Arabi of Spain, that it is possible for a Muslim saint to attain, in his spiritual evolution, to the kind of experience characteristic of the prophetic consciousness. I personally believe this view of Shaikh Muhyuddin ibn Arabi to be psychologically unsound; but assuming it to be correct the Qadiani argument is based on a complete misunderstanding of his exact position. The Shaikh regards it as a purely private achievement which does not, and in the nature of things cannot, entitle such a saint to declare that all those who do not believe in him are outside the pale of Islam. Indeed, from the Shaikh’s point of view, there may be more than one-saint, living in the same age or country, who may attain to prophetic consciousness. The point to be seized is that, while it is psychologically possible for a saint to attain to prophetic experience, his experience will have no socio-political significance making him the center of a new Organization and entitling him to declare this Organization to be the criterion of the faith or disbelief of the followers of Muhammad.

    Leaving his mystical psychology aside I am convinced from a careful study of the relevant passages of the Futuhat that the great Spanish mystic is as firm a believer in the Finality of Muhammad as any orthodox Muslim. And if he had seen in his mystical vision that one day in the East some Indian amateurs in Sufism would seek to destroy the Holy Prophet’s finality under cover of his mystical psychology, he would have certainly anticipated the Indian Ulama in warning the Muslims of the world against such traitors to Islam.

    II

    Coming now to the essence of Ahmadism. A discussion of its sources and of the way in which pre-Islamic Magian ideas have, through the channels of Islamic mysticism, worked on the mind of its author would be extremely interesting from the standpoint of comparative religion. It is, however, impossible for me to undertake this discussion here. Suffice it to say that the real nature of Ahmadism is hidden behind the mist of medieval mysticism and theology. The Indian Ulama, therefore, took it to be a purely theological movement and came out with theological weapons to deal with it. I believe, however, that this was not the proper method of dealing with the movement; and that the success of the Ulama was, therefore, only partial. A careful psychological analysis of the revelations of the founder would perhaps be an effective method of dissecting the inner life of his personality. In this connection, I may mention Maulvi Manzur Elahi’s collection of the founder’s revelations which offers rich and varied material for psychological research. In my opinion the book provides a key to the character and personality of the founder and I do hope that one day some young student of modern psychology will take it up for serious study. If he takes the Qur’an for his criterion, as he must for reasons which cannot be explained here, and extends his study to a comparative examination of the experiences of the founder of the Ahmadiyyah movement and contemporary non-Muslim mystics, such as Rama Krishna of Bengal, he is sure to meet more than one surprise as to the essential character of the experience on the basis of which prophethood is claimed for the originator of Ahmadism.

    Another equally effective and more fruitful method, from the standpoint of the plain man, is to understand the real content of Ahmadism in the light of the history of Muslim theological thought in India at least from the year 1799. The year 1799 is extremely important in the history of the world of Islam. In this year fell Tippu, and his fall meant the extinguishing of the Muslim hopes for political prestige in India. In the same year was fought the battle of Navarneo which saw the destruction of the Turkish fleet. Prophetic were the words of the author of the chronogram of Tippu’s fall which visitors of Serangapatam find engraved on the wall of Tippu’s mausoleum: “Gone is the glory of India as well of Roum.” Thus, in the year 1799, the political decay of Islam in Asia reached its climax. But just as out of the humiliation of Germany on the day of Jena arose the modern German nation, it may be said with equal truth that out of the political humiliation of Islam in the year 1799 arose modern Islam and her problems. This point I shall explain in the sequel. For the present I want to draw the reader’s attention to some of the questions which have arisen in Muslim India since the fall of Tippu and the development of European imperialism in Asia.

    Does the idea of Caliphate in Islam embody a religious institution? How are the Indian Muslims, and for the matter of that all Muslims outside the Turkish Empire, related to the Turkish Caliphate? Is India Dar-ul-Harb or Dar-ul-Islam? What is the real meaning of the doctrine of Jihad in Islam? What is the meaning of the expression “From amongst you” in the Qur’anic verse: “Obey God, obey the Prophet and the masters of the affair, i.e. rulers, from amongst you”? What is the character of the Traditions of the Prophet foretelling the advent of Imam Mahdi? These questions and some others which arose subsequently were, for obvious reasons, questions for Indian Muslims only. European imperialism, however, which was then rapidly penetrating the world of Islam, was also intimately interested in them. The controversies which these questions created form a most interesting chapter in the history of Islam in India. The story is a long one and is still waiting for a powerful pen. Muslim politicians whose eyes were mainly fixed on the realities of the situation succeeded in winning over a section of the Ulama to adopt a line of theological argument which as they thought suited the situation; but it was not easy to conquer by mere logic the beliefs which had ruled for centuries the conscience of the masses of Islam in India . In such a situation, logic can either proceed on the ground of political expediency or on the lines of a fresh orientation of texts and traditions. In either case, the argument will fail to appeal to the masses. To the intensely religious masses of Islam only one thing can make a conclusive appeal, and that is Divine Authority. For an effective eradication of orthodox beliefs it was found necessary to find a revelational basis for a politically suitable orientation of theological doctrines involved in the questions mentioned above. This revelational basis is provided by Ahmadism. And the Ahmadis themselves claim this to be the greatest service rendered by them to British imperialism. The prophetic claim to a revelational basis for theological views of a political significance amounts to declaring that those who do not accept the claimant’s views are infidels of the first water and destined for the flames of Hell. As I understand the significance of the movement, the Ahmadi belief that Christ died the death of an ordinary mortal, and that his second advent means only the advent of a person who is spiritually “like unto him,” give the movement some sort of a rational appearance; but they are not really essential to the spirit of the movement. In my opinion, they are only preliminary steps towards the idea of full prophethood which alone can serve the purposes of the movement eventually brought into being by new political forces. In primitive countries it is not logic but authority that appeals. Given a sufficient amount of ignorance, credulity which strangely enough sometimes coexists with good intelligence, and a person sufficiently audacious to declare himself a recipient of Divine revelation whose denial would entail eternal damnation, it is easy, in a subject Muslim country to invent a political theology and to build a community whose creed is political servility. And in the Punjab, even an ill-woven net of vague theological expressions can easily capture the innocent peasant who has been for centuries exposed to all kinds of exploitation. Pandit Jawahar Lal Nehru advises the orthodox of all religions to unite and thus to delay the coming of what he conceives to be Indian Nationalism. This ironical advice assumes that Ahmadism is a reform movement: he does not know that as far as Islam in India is concerned, Ahmadism involves both religious and political issues of the highest importance. As I have explained above, the function of Ahmadism in the history of Muslim religious thought is to furnish a revelational basis for India’s present political subjugation. Leaving aside the purely religious issues, on the ground of political issues alone it does not lie in the mouth of a man like Pandit Jawahar Lal Nehru to accuse Indian Muslims of reactionary conservatism. I have no doubt that if he had grasped the real nature of Ahmadism he would have very much appreciated the attitude of Indian Muslims towards a religious movement which claims Divine authority for the woes of India.

    Thus the reader will see that the pallor of Ahmadism which we find on the cheeks of Indian Islam today is not an abrupt phenomenon in the history of Muslim religious thought in India. The ideas which eventually shaped themselves in the form of this movement became prominent in theological discussions long before the founder of Ahmadism was born. Nor do I mean to insinuate that the founder of Ahmadism and his companions deliberately planned their programme. I dare say the founder of the Ahmadiyyah movement did hear a voice; but whether this voice came from the God of Life and Power or arose out of the spiritual impoverishment of the people must depend upon the nature of the movement which it has created and the kind of thought and emotion which it has given to those who have listened to it. The reader must not think that I am using metaphorical language. The life-history of nations shows that when the tide of life in a people begins to ebb, decadence itself becomes a source of inspiration, inspiring their poets, philosophers, saints, statesmen, and turning them into a class of apostles whose sole ministry is to glorify, by the force of a seductive art or logic, all that is ignoble and ugly in the life of their people. These apostles unconsciously clothe despair in the glittering garment of hope, undermine the traditional values of conduct and thus destroy the spiritual virility of those who happen to be their victims. One can only imagine the rotten state of a people’s will who are, on the basis of Divine authority, made to accept their political environment as final. Thus, all the actors who participated in the drama of Ahmadism were, I think, only innocent instruments in the hands of decadence. A similar drama had already been acted in Persia; but it did not lead, and could not have led, to the religious and political issues which Ahmadism has created for Islam in India. Russia offered tolerance to Babism and allowed the Babis to open their first missionary center in Ishqabad. England showed Ahmadism the same tolerance in allowing them to open their first missionary center in Woking. Whether Russia and England showed this tolerance on the ground of imperial expediency or pure broadmindedness is difficult for us to decide. This much is absolutely clear that this tolerance has created difficult problems for Islam in Asia. In view of the structure of Islam, as I understand it, I have not the least doubt in my mind that Islam will emerge purer out of the difficulties thus created for her. Times are changing. Things in India have already taken a new turn. The new spirit of democracy which is coming to India is sure to disillusion the Ahmadis and to convince them of the absolute futility of their theological inventions.

    Nor will Islam tolerate any revival of medieval mysticism which has already robbed its followers of their healthy instincts and given them only obscure thinking in return. It has, during the course of the past centuries, absorbed the best minds of Islam leaving the affairs of the State to mere mediocrity. Modern Islam cannot afford to repeat the experiment. Nor can it tolerate a repetition of the Punjab experiment of keeping Muslims occupied for half a century in theological problems which had absolutely no bearing on life. Islam has already passed into the broad day light of fresh thought and experience, and no saint or prophet can bring it back to the fogs of medieval mysticism.

  45. الطاف حسین صاحب لندن میں بیٹھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ آج تک نوے کی دہای میں رہ رہے ہیں بات کہ کر مکر جاو اور کہ دو میرے بیان کو سیاق و سباق کے بغیر سمجھا گیا ہے۔احمدیوں کا جتنا پیسا پاکستان میں اور لندن میں ان کے خرچہ کے لیے استعمال ھوتا ہے شاءید اسی کی وجہ سے جب کسی احمدی یا قادیانی نے ان سے اپنے لیے بیان مانگا جڑ دیا اور کراچی میں موجود اس کے اہلکار اس گند کو صاف کرتے رہیں علماء کو بلا کر ان کو کھانا وغیرہ کھلا کر رام کرتے رہیں۔ الطاف حسین کو اس کا دکھ جہاں ان کے بقول احمدیوں کط پاکستانی سمجھا جاءے اور ان رھنے کی اجازت دی جاءے لیکن خبردار مھاجر قومی موومنٹ کے کارکن جو کبہی اب ان کے ساتھی دے ان کی پاکستان میں ہی نہیں اس دنیا میں رھنے کی اجازت نہیں ۔نبی کے دشمنوں اور اللہ کے باغیوں کے لءے الطاف کے دل میں محبت کے زمزمے بھتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے لءے موت صرف اس لیے کہ انہوں نے اس کے حکم کو نہیں مانا۔آج الطاف اپنے آپ کو ایک مولوی کا پوتا بتا رہا ھے اور مولویوں کو بھینسوں کے ساتھ باندھنے کی بات کر چکا ہے۔

  46. yeh Altaf Hussain jo Pakistan ki establishment ney eik Kala napak KUTA pala tha woh abb ISLAM ko bhonkney laga hai aur NABI PAK salh ho aleihe wasalm per dust darazi kerney laga,abb insha ALLAH is ki maut ai hai aur is key gunahon ka garha abb bher giya hai aur is Pagal Kutey LUCMAN per to mujhey pehley hi shak tha meger GEO TV ka bhi tou kuch kerna ho ga jo ISLAm kay khilaaf her sazish mein agey agey hota hai ,koi doosrey channels is mudey ko bhi to uthain

    IS gandey Kutey Altaf Hussain ko marr do abb bhi waqt hai aur is kay sarey sathi kuton ko MQM ko khatim ker do abb waqt aa giya hai ,jo aisi bakwas karney lagey hain ,ager abb bhi musalman na utha to phir hamari tabhai per mohr lag jai gi aur ALLAH hum ko ruswa aur zaleel ker dein gay .

    Ager hum NABI PAK sallah ho aleih e wasalm kay liye bhi na uthey to ALLAH ko hum ko waqey hi iss dunya sey utha hi dena chahye,ALLAH ka wasta hai is MQM ki gandgi sey Mullak ko saaf ker do

    • Shan e azam are you in your senses or you are sitting in your home where you are totally free to use this abusive language with your father mother sister and wife. Khuda ka kauf karo

    • Mr Shan e Azam aor kitna ruswa aor zaleel hona hai tum ne…. sari duniya mein zaleel o khuwar to ho chuke ho…. tum jaise ganday zehn, gandi zuban walon ne hi to Islam ko saray zamanay mein badnam kr diya hai….tumhari tabahi par mohr lag chuki hai….. aor kitni mohrain lagwao ge…..

      • sehr
        calm down and do not worry shan e azam like people know nothing about islam and islamic teachings. they are just tools of mullahs. you can check they are using same abusive language as their mullahs use.

      • calm down and do not worry shan e azam like people know nothing about islam and islamic teachings. they are just tools of mullahs. you can check they are using same abusive language as their mullahs use.

      • What about the language used by MGAQ for his opponents? Is it decent ?

      • MGAQ language and words were beautiful and can be seen through each ahmadi. We don’t go around swearing at others, we respect each and every religion and person.

        As MGHQ has said ” Galian Sun ke Dua do, Pa Ke Dukh Aram, Kibar ki adat jo dekho tum karo inksar”

        These are the teachings we are al following, the teachings of Holy Prophet Muhammad (SAW), which MGHQ came to spread all around the world. Day by Day it is spreading by the grace of Allah and soon all of you will accept that we are the true Muslims.

  47. i am sure talkhaba and kasfiat sahib have nothing more against jammat ahmadiyya and now avoiding the original subject. Would your government release the actual transcript of the proceedings of the Assembly. we do not need any booklet or publication of such mullah like Allah wassaya.

  48. تلخابہ میاں
    میں نے تم سے تین سوال کئے تھے مجھے ابھی تک ان کا جواب نہیں ملا
    کیا تم خدا کو مانتے ہو؟
    کیا خدا کے رسول کے بیعت ہو ؟
    یا قومی اسمبلی کی بیعت کی ہوئی ہے؟
    ذرا وضاحت کر دینا انتظار کروں گا۔
    وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ بات بات پر تم کہتے ہو کہ احمدیوں کو اسمبلی کے غیر مسلم اور کافر قرار دیا تھا اس لئے کافر ہیں بھئی اگر تو تم نے اسمبلی 1974 کی بیعت کی ہوئی ہے تو پھر تو تمھارے ایمان کا پتہ چل گیا مگر اگر خدا کے رسول پر ایمان لاتے ہو تو وہ ہر کلمہ
    لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
    پڑھنے والے کو مسلمان قرار دیتے ہیں
    جواب کا منتظر
    مجھے یقین ہے تم کبھی بھی جواب نہ دو گے۔

    • مولیٰ بس صاحب پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ اور ہمارے کملہ میں فرق ہے دوسری بات یہ ہے کہ اسمبلی مسلمانوں کی تھی اور آپ کو بعیت نہیں کرنا تھا تو وہاں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے گئے کیوں؟ وہاں پیش کیوں ہوئے؟ اور ہاں میں نے اوپر اسمبلی کی کارروائی کی کتاب کا لنک دیا ہے ختم نبوت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے اسے پڑھ لو لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ صحیح نہیں تو پھر آپ ہی لاو اصلی والا۔ اور تمہارے ہر سوال کا جواب ہے اگر تم نہ مانو تو کیا کیا جاسکتا ہے ۔ اور تمہاری یہی مسلمان ہونے پر اصرار ہی ہے جس نے تمہیں پاکستان کے دیگر اقلیتوں سے الگ کردیا ہے۔ بہ الفاظ دیگر تمہارا رویہ دیکھ کر اب ’’مسلمان ‘‘ دانشوروں کو سمجھنا چاہیے کہ تم اقلیت ہی بلکہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے والے ہو۔ وہی خصوصیت جس کی وجہ سے تمہارے ہر عمل پر پابندی ناگزیر ہوجاتا ہے۔ شکریہ

      • تلخابہ
        لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ
        کیا اپنے نام کے نیچے عربی زبان میں ایک تحریر پڑھ سکتے ہو اس کو احمدی لوگ اپنا کلمہ کہتے ہیں۔ اب اگر تم یہ کہو کہ احمدیوں کا کلمہ مختلف ہے توتمھارا معاملہ حوالہ بخدا۔ دوسرے میں نے تو سادہ سے تین سوال کئے تھے تم لڑنے پر اتر آئے۔ بھئ اگر اسمبلی پر ایمان نہیں لاتے تو کیا ضرورت ہے اس واویلے کی کہ اسمبلی نے کافر قرار دیا ۔ بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فداہ نفسی ابی امی نے تو کافر قرار نہیں دیا۔ تم اور تمھاری اسمبلی ایک لاکھ دفعہ کافر قرار دے اس سےکچھ نہیں ہوتا۔
        بھئی اسمبلی کی کارروائی اسمبلی کے پاس ہے اگر اس میں احمدیوں کے خلاف کچھ ہے تو اس کو پیش کرو ورنہ چھپانے میں ہی بہتری ہے ۔ اگر سامنے آ گئی تو سارا پاکستان احمدی ہو جائے گا۔

    • Some must have some basic sense to pose question. We know u being a Qadiani in deep pain but be assure that it will continue.
      Ash

  49. there is secular agenda ,of the american and the west about pakistan. Musharf was one of them who vocal for this agenda now the MQM is on this path.his ledar is on the way .

  50. جماعت احمدیہ میں داخلے کی شرائط
    شرط اول
    بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو شرک سے مجتنب رہے گا۔
    شرط دوم
    یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔
    شرط سوم
    یہ کہ بلا ناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا۔
    شرط چہارم
    یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔
    شرط پنجم
    یہ کہ ہر حال رنج و راحت اور عسر اور یسر اور نعمت اور بلاء میں خداتعالی کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہرحالت راضی بقضاء ہوگا۔ اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔
    شرط ششم
    یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کرے گا اور قال اللّٰہ اور قال الرسول کو اپنے ہر یک راہ میں دستورالعمل قرار دے گا۔
    شرط ہفتم
    یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔
    شرط ہشتم
    یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہریک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔
    شرط نہم
    یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض للہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔
    شرط دہم
    یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض للّٰہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تاوقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔

  51. حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کیجماعت کو عمومی نصیحت
    ” اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھاؤ اور خوش رہو۔ اور گالیاں سنو اور شکر کرو۔ اور ناکامیاں دیکھو اور پیوند مت توڑو۔ تم خدا کی آخری جماعت ہو۔ سو وہ عمل نیک دکھلاؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو۔ ہر ایک جو تم میں سست ہو جائیگا وہ ایک گندی چیز کی طرح جماعت سے باہر پھینک دیا جائے گا اور حسرت سے مریگا اور خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ دیکھو میں بہت خوشی سے خبر دیتا ہوں کہ تمہارا خدا درحقیقت موجود ہے۔ اگرچہ سب اسی کی مخلوق ہے لیکن وہ اس شخص کو چن لیتا ہے جو اس کو چنتا ہے۔ وہ اس کے پاس آجاتا ہے جو اس کے پاس جاتا ہے۔ جو اس کو عزت دیتا ہے وہ بھی اس کو عزت دیتا ہے۔
    تم اپنے دلوں کو سیدھے کر کے اور زبانوں اور آنکھوں اور کانوں کو پاک کر کے اس کی طرف آجاؤ۔ کہ وہ تمہیں قبول کریگا۔“
    (کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد19 صفحہ15)

  52. Qadianeed needs to be approached patiently and logically. they have been trapped,actually their forfathers were trapped due to ignorance and the role of some religeous people,which they exploit well by saying “dogs” to mullasa nd molvees and ulema, BUT
    THE DAY OF JUDGMENT IS NOT FAR….TIME KAM HAY HIDAYAT HEE NIJAAT KA ZARIYA HAY
    THATS ALL

    • Dear Zafar Iqbal Dr
      im strange on your approach. any way if you have thinking like this then you people why do not arrange to publish the exact manuscript of national assembly 1974 who declare Ahmadis kafir. if this document publish many many people can get original infromations about ahmadis and then nobody will trap in future.

    • Dr Sahib they will never search truth and keep pasting the posted cut from their website. They should read the books of which Talkhaba has given the links. There are enough proof of these Fraud Qadianis.

      • khan lalla
        “you wrote they will never search truth and keep pasting the posted cut from their website”.
        khan
        if you have very little common sense then you can check who is pasting lengthy posting. it is only Zafar iqbal who is doing this copy pasting and he is of course not ahmadi. Alhamdolilah.

    • TIME KAM HAI TO PICHLAY, I DONT KNOW MORE THAN HUNDERED YEARS….. SAU SAAL MEIN KHUDA NE KION NAHI JHOOTAY NABI KO AOR US KE MANANAY WALON KO SAZ DI…. WO TO ROZ BAROZ AGAY SE AGAY JA RAHAY HAIN… I DONT UNDERSTAND THIS…..

      • Andher ,

        aagay nahien,tabah honay ja rahay hain

        Truth has come & Ahmadies will see where they will Inshallah

        Along with Haman, firaun & namrood

  53. I think all this argument is nonsense. As long as we have the extremeist Mullahs in Pakistan we would never flourish as a nation. I just cannot understand why do people have to muddle up in other’s relious beliefs. Dont you think if Qadianis are so much wrong and claiming lies in the name of Allah and claiming nabuwah in the name of Allah, by now Allah’s wrath would have eradicated them from the face of the earth. Does’nt our Allah have any “GHAIRAT” for the institution of prohethood???? On the other hand they seem to be flourishing day by day, more and more. I dont understand this…..

    So why dont we leave it to Allah to sort it out with them. Why dont we just worry about our own faiths.

    Actually as Naseer has said ” why doesnt Pakistan realease the documents in original form, not any booklets, and information packs etc etc…. I am starting to side with Naseer….makes sense…

    • مسلمانوں کے مذہبی رہنماء ظاہری سی بات ہے مسلمان ہی ھونگے آپ انھیں مولوی ، قاضی یا ملا جو مرضی کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لیا کریں۔ کیونکہ مسلمانوں کے مذہبی رہنماء اب خلیفہ ِ قادیان اور یہودی رابینوں یا ربی ہونے سے تو رہے۔

      پاکستان میں، آجکل اسلام بیزاروں اور قادیانیوں میں یہ فیشن چل نکلا ہے کہ جب وہ اسلام کو گالی دینا چاہتے ہیں تو عوامی رد عمل کے خوف سے ایسا نہیں کر پاتے تو ان کا سارا زور مسلمان مفکروں کو تحضیک آمیز انداز میں مُلا ، مولوی پکار کر اپنے دل کے ارمان نکالتے ہیں۔

      • کوئی کسی کو ملا کیوںکہے گااب مسلمانوں میں کوئی مفکر یا لیڈر ہے کوئی؟

  54. what is different in the original document?was there any different conclusion?
    just read the comments of mirza sahib regarding non qadianis and decide that can the Muslim ummah tolerate these fraudia nabi and the company.and as far as the flourishing of qadiani group is concerned , don’t you see how much the slman rushdi and israel is flourishing? i am sure you know the pharoas who florished till …….
    sehr(sahab or sahiba) soon we will be before Allah and al the fraudias will not save the followers.

    • Dr
      if there is no difference in both doucuments then it is very good to publish the original one. people himself decede what is wrong and what is right.

  55. میرا خیال ہے کہ تلخابہ۔ ظفر اقبال شان اعظم اور اور کاشفیات کو حقیقی اسلام کی نہیں بلکہ اس

    اسلام کی ضرورت ہے

  56. عجیب اتفاق ہے، قادیانی فتنہ برطانیہ کا بویا ہوا ہے۔ قادیانی، مشرف اور الطاف حسین تینوں آج کل برطانیہ کے دامن آغوش میں گودی بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں برطانیہ سے پاکستان کے خلاف الطاف حسین کے حالیہ بیان جیسے شگوفے نہیں پھوٹیں گے تو کیا پاکستان یا اسلام کے حق میں بات کی جائے گی؟-۔ ہمیں حیرت تب ہوتی جب الطاف حسین وہاں سے پاکستان کے حق میں کوئی بات کرتے۔

    اردو اسپیکنگ بھائیوں سے معذرت کے ساتھ ، ٹی وی اسکرین پہ پس منظر پہ حیدآباد میں کچھ لوگ مؤدب بیٹھے الطاف حسین کو سن رہے ہیں۔ مگر کسی کو جراءت نہیں پڑی کہ مذھب کی وجہ سے حق بات کہتا اور الطاف حسین سے اختلاف کرتا۔

    کیا لیڈر ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ماننے والوں کو نت نئی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پہ مجبور کر دیں۔؟

    یہ مسئلہ نہیں ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت ہے اور اسے پاکستان میں دوسری اقلیتوں کی طرح آزادی حاصل نہیں۔ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ قادیانی مسلمانوں کی طرح نام رکھتے ہیں ، مسلمانوں کی عبادات کے طور طریقے اپناتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے خلاف ہی سازشیں کرتے ہیں۔ قادیانی کبھی بھی آپ پہ ظاہر نہیں کریں گے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہیں۔ حتٰی کہ آپ کے ساتھ رہ کر آپ کے ہی خلاف سازش کریں گے۔ اسے مسلمان منافقت سمجھتے ہیں اور ایسے میں مسلمانوں کا غیض و غضب میں آنا سمجھ میں آتا ہے۔

    دنیا بھر کے مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار ہیں۔ مسلمان کے لئیے ضروری ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ماں باپ بہن بھائیوں اور اولاد بلکہ ہر چیز سے بڑھ کر چاہے۔ جب عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی ظاہری طور پہ ان جیسا نام افکار اور بھیس بدل کر انھی کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و مرتبہ کم کر رہا ہے تو ایسے میں قادیانی اپنے کئیے کی سزا پہ پوری مغربی دنیا میں اپنی مظلومیت کئیش کروانے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ اپنی محفلوں میں عام مسلمانوں کی تحضیک کرتے ہیں اور ٹھٹھا تک اڑانے سے باز نہیں آتے ۔ اپنے مزہب کی تبلیغ کے لئیے یہ اپنی لڑکیاں مسلمانوں سے بیاھنے کے لئیے پیش کر دیتے ہیں۔

    پاکستان یا پاکستانی قوم کو پاکستان میں بسنے والے پاکستانی ھندؤں ، پاکستانی مسیحی برادی اور سکھوں یعنی دوسری غیر مسلم اقلیتوں سے کوئی گلہ نہیں ۔ بلکہ ان اقلیتوں میں کچھ لوگ مسلمان پاکستانیوں سے بڑھ کر محبِ وطن اور محبِ پاکستان ہیں۔ تو پھر کیا بات ہے کہ شکایات صرف قادیانیوں سے ہی ہیں۔؟ اسکی وجہ قادیانیوں کا مسلمانوں کے خلاف سازشی کردار ہے۔ قادیانی آنے بہانے سے اسلام ، پاکستان اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ پاکستان کی باقی اقلیتیں اپنے الگ مذھبی تشخص کو واضح طور پہ نمایاں کرتی ہیں۔ تانکہ مذہب جیسے حساس مسئلے پہ ابہام پیدا نہ ہو۔ پاکستان کی مسیحی برادری اپنے نام کے ساتھ اکثر و بیشتر مسیح یا اپنا انگریزی نام لکھتے ہیں اسی طرح ھندوؤن اور سکھوں کے نام مختلف ہیں ۔ انکی عبادات کے معبد تک مختلف ساخت کے ہیں۔ جس سے الگ الگ شناخت ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں اٹھتا۔

    جبکہ قادیانی منفقت کرتے ہوئے مسلمانوں جیسا بھیس بدل کر مسلمانوں کو دہوکہ دیتے ہیں۔ شاتم رسول رشدی اور ڈنمارک میں کارٹون تنازعے کے پیچھے قادیانی سازشیں تھیں۔

    قادیانی پاکستان کے اندر پاکستان کے خلاف یہود کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔

    پیر لنڈن کے یہ الفاظ ۔۔۔۔ایسے نہیں کہہ رہا‘ میں نے احمدیوں کا لٹریچر بھی پڑھا ہے ‘ میں نے احمدیوں کے پروگرام بھی دیکھے ہیں۔میں نے دیکھا ہے وہی کلمہ ‘ وہی سرکار دوعالم صل اللہ علیہ وسلم انہی کو آخری نبی مانتے ہیں‘۔۔ پیرِ لنڈن کے یہ الفاظ جھوٹ پہ مبنی ہیں۔ خود قادیانیوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے نہ صرف تسلیم کیا تھا بلکہ وہ اس پہ اترائے بھی تھے کہ وہ سرکار دوعالم صل اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں مانتے تو الطاف حسین کسے دہوکہ دے رہا ہے۔؟

  57. قادیانی ایک بہت بڑا فتنہ ہے اور اگر اس کا سدباب بر قوت نہ کیا گیا تو آنے والے وقتوں میں یہ پاکستان کے لئیے ایک بہت بڑی سردردی بنے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی الگ سے شناخت مقرر کی جائے تانکہ عام مسلمان ان سے دہوکہ نہ کھا سکے۔ الطاف حسین ان کے حق میں جتنی مرضی تقریریں کرتا پھرے۔ یا ایکسپریش ٹی وی موڈریٹر مبشر لقمان الفاظ کو جتنا چاہے مروڑ توڑ کر اپنہ نقطہ نظر پیش کرے۔ہمیں پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کے مفاد کو مدِ نظر رکھنا چاہئیے۔

    قادیانی اسلام اور پاکستان کے آئین کی رُو سے کافر ہیں۔

    • Javed Bhai Kia Acha nukta nikala Hai. Aur Aik aur Ajeeb Itfaq hai keh Altaf Hussain ka yeh muaqaf aik aisay waqt mein samnay laya gia jb pori dunia Tahfuz Khatm-e-Nabuwat ka Aalmi din manaya jaraha tha. aik aur itifaq yeh keh Musharraf hi nahen Mubashir Lucman ko media mein in kia hai aur pher yeh bhi itefaq hai aik aur Qadiani Tariq Aziz ne musharraf ka daste Bazun bun kar Musharraf ko Islam Kai KHilaf amriki jang ka Hisa Banaya. Aab sab london mein Hai . Qadniani Tableegh aur Amriki Qabzay Kai Khwab dakhay Jarahay Hein. Udhar Pakistani Qadiani 600 kai Qareeb Israel Mein Training Lay Rahain Hain.

      • ثمینہ شاہد
        اگر تم 600 احمدی پاکستانی اسرائیل کی آرمی میں ثابت کردو تو کمال ہو گا۔ ویسے میں یہ بتاتا چلوں کہ جماعت احمدیہ پر یہ اعتراض کچھ 40 یا شاید 50 سال قبل پہلی مرتبہ کیا گیا۔ میں حیران ہوں کہ اتنے سال سے ان میں سے ایک احمدی بھی ریٹائر نہیں ہوا۔ اس لئے آپ کی تحےیقی کو سامنے رکھتے ہوئے ماننا پڑے گا کہ اس وقت اسرائیل کی فوج میں 600 بوڑے جن کی عمریں اس وقت 89 سال کے قریب ہے بھرتی ہیں تاکہ تم جیسے مولوی سوچ رکھنے والوں کو سچا ثابت کیا جاسکے۔ یاد رکھو سنی سنائی بات کو آگے پھیلانے والے کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹا قرار دیا ہے

      • Mirza Nasir at national assembly floor has accepted that.

        Why u r insisting?

      • Kashfiat
        who told you that
        Mirza Nasir at national assembly floor has accepted that.
        your moulvi is your source and do you know that the condition of moulvis are this to save their life the use to wear burka. this is your moulvis. Allah rehm kary

  58. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین چلو اچھا ہوا کہ تمھاری طرف سے بھی اس سائٹ پر شمولیت ہو گئی۔ اور تم نے نے نہایت عمدہ بات بھی آخر پر جاتے جاتے کر دی کہ احمدیت کا سد باب نہایت ضروری ہے۔ ضرور ضرور اور میں نے تو اس کے لئے ایک بڑی آسان سی تجویز رکھ دی ہے کہ اس کے سد باب کے لئے زیادہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے صرف ایک چھوٹا سا کام کرو کہ حکومت جو کہ تمھاری اپنی ہے احمدیوں کی نہیں اس سے صرف یہ کہو کہ 1974 کی قومی اسمبلی نے سارا مسئلہ حل کر دیا تھا اس کی ساری کارروائی کو پبلش کر دیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اور ساری پریشانیاں ختم ہو جائیں گی۔ خدا کے لئے اس جلدی کیجئے۔ رہا دوسرا مسئلہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان سے زیادہ چاہنا تو خدا کے فضل سے ہم احمدی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی حفاظت اور دفاع کے جیلیں بھی کاٹ رہے ہیں جانیں بھی دے رہے ہیں اور ماریں بھی کھا رہے ہیں اور کن سے شاید آپ کو معلوم نہ ہو ۔ نام مہاد مسلمانوں سے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو تمام دنیا میں پھیلا رہے ہیں اور ہمارا ایم ٹی اے چینل دن رات اس کام میں مصروف ہے ہمارے احمدی تمام دنیا میں اس کام میں مصروف ہیں ۔ کوئی مثال ہے تو لاؤ۔ مگر تم نام نہاد مسلمان کیا کر رہے ہوں اس کی ایک ادنی سی مثال یو ٹیوب کا یہ لنک ہے جس میں پاکستان کی پولیس وردیاں پہن کر کلمہ اور اللہ کا نام مٹا رہی ہے۔ مگر ہم ہر حال میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی حفاظت کریں گے۔ انشاء اللہ

    اس ویڈیو کو دیکھو اور اپنے اسلام کو پہچانو کیا اسی طرح حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اور مقام کی حفاظت کی جاتی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

    • @Maula Bus!

      Zara Yeh bhi farmya aap kis Muhammad (SAW) ki hifazat ki baat kar rahain hein aur zara yeh bhi wazeh karday ki jin Sahib ka wash room ka flush mein Maut Waqia hui thi uski kia “darja” hai Aap ki Nazar mein?

      • نعمان میاں
        کیا بات فرمائی ہے اللہ آپ پر رحم کرے ویسے حرکتیں تو رحم والی نہیں ہیں۔ آپ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات کے بارے میں فرمایااس سے اور کچھ تو ثابت نہیں ہوا سوائے اس کے کہ آپ کے اندر کا گند باہر آگیا۔ اب یہ بھی بتا دیں کیونکہ جو بات آپ کے گندے ذہن میں ہے وہ تو تاریخی طور پر درست نہ ہے رہی بات یہ کہ ایسی غلیظ بات آپ کے گندے ذہن میں آنے کی وجہ کہیں یہ تو نہیں کہ آپکی کوئی دادی یا نانی یا شاید والدہ محترمہ اس وقت حضرت مرزا صاحب کے ہاں جمعدارنی کے طور پر کام کرتی تھی اور اس نے یہ گند بکنا شروع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے۔ کسی انسان کےجھوٹا ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات آگے بیان کردے۔پس آپ کے جھوٹا ہونے کے لئے یہ ہی کافی ہے

  59. After reading the comments of Qadianis here, the followers of Altaf Thug should stop following him. He is declared kafir by calling himself a kafir.

  60. ثمینہ شاہد سسٹر !
    قادیانی اسرائیل میں جو مرضی آئے کرتے پھریں۔ مسلمان تو اسرائیل کے باپ امریکہ سے بھی نہیں ڈرتے تو یہ چھ سو قادیانیوں کی ٹریننگ ، ہم بھلا کس کھاتے میں سمجھتے ہیں۔ چند مٹھی بھر افغان مسلمان تو امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی افواجِ قاہرہ سے سنبھالے نہیں گئے اور جسطرح امریکہ عراق سے منہ کی کھا کر نکلنے والا ہے انشاءاللہ اسی طرح ایک دن پاکستان کے ہمسائے افغانستان سے بھی نکلے گا۔ کیونکہ وہ ابھی بہانے تلاش رہیں ہیں کہ کسی طرح با عزت طریقے سے افغانستان سے بھی نکل سکیں۔ مسلمانوں کو سامنے کی جنگ سے نہیں پیٹھ پیچھے کے وار نے ہمیشہ نقصان پہنچایا ہے اسلئیے قادیانی فتنے کا سدِباب بہت ضروری ہے ۔ انکی ڈھٹائی تو ملاحظہ ہو کہ جس قومی اسمبلی نے انتہائی عرق ریزی سے مرز ا اور اسکے حواریوں کو مسلسل گیارہ روز تک صفائی کا موقع دینے کے لئیے ان پہ جرح کی کہ شاید یہ تائب ہوجائیں اور مرزا ملعون کا اپنے آپ کو نبی مہدی مسیح موعود اور پتہ نہیں کیا کیا کہلوانے کے بعد کافر قرار دیا ۔ مگر انکی پیروؤں کاروں کی ڈھٹائی دیکھیں یہ اس قردادر اور کاروائی کی طوالت کو انٹرنیٹ پہ مانگ کر سادح لوح مسلمانوں کے دلوں میں وہم اور ابہام پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ یہی کیا کم ہے کہ انہیں اسی قومی اسمبلی کی متفقہ کاروائی سے جس کے خلاف ایک ووٹ بھی نہیں آیا قادیانی فتنے کو کافر قرار دیا ۔ بس یہ کافر ہیں اور مرزا ملعون ہے ۔ کذاب ہے اور جھوٹوں پہ خدا نے لعنت فرمائی ہے۔

    • ہاں واقعی لعنت لیکن بھائی جاوید جو تم نے لکھا ہے اس پر خدا کی قسم کھا کر کہو کہ سچ ہے اور پھر کہو کہ جھوٹے پر لعنت

  61. بس نام کے قادیانی کے لئیے بطورِ خاص۔
    قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی جو کہ پورے ایوان پر مشتمل تھی نے دو ماہ میں قادیانی مسئلے پر غور خوض کیلئے 28اجلاس اور 96نشستیں منعقد کیں،اس دوران قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے روبرو قادیانی گروہ کے سرخیل مرزا ناصر، لاہوری گروپ کے امیر صدرالدین اور انجمن اشاعت اسلام لاہور کے عبدالمنان اور مسعود بیگ پر ان کے عقائد و نظریات،ملک دشمنی اور یہودی و سامراجی گٹھ جوڑ کے حوالے سے جرح ہوئی،علامہ نورانی فرماتے ہیں کہ ” مسلسل گیارہ روز تک مرزا ناصر پر جرح ہوتی رہی اور سوال اور جوابی سوال کیا جاتا رہا،مرزا کو صفائی پیش کرتے کرتے پسینہ چھوٹ جاتااور آخر تنگ آکر کہہ دیتا کہ بس اب میں تھک گیا ہوں،اسے گمان نہیں تھا کہ اس طرح عدالتی کٹہرے میں بٹھاکر اس پر جرح کی جائے گی۔ ۔ ۔ ۔

    وہ اپنا عقیدہ خود اراکین اسمبلی کے سامنے بیان کرگیا اور اس بات کا اعلان کرگیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی حضور صلی للہ علیہ وسلم کے بعد مسیح موعود اور امتی نبی ہے،جن اراکین اسمبلی کو قادیانیوں کے متعلق حقائق معلوم نہیں تھے،انہیں بھی معلوم ہوگیااور انہیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ مولانا نورانی جنہیں اقلیت قرار دلوانے کی سعی کررہے ہیں وہ لوگ واقعی کافر،مرتداور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“بحوالہ ماہنامہ ضیائے حرم ختم نبوت نمبر 1974

    قادیانی مسئلے پر فیصلہ کرنے کیلئے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلہ کو جانچنے اور پرکھنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں چھوڑا،کمیٹی کی کارکردگی اور اس کی کاروائیوں پر حزب اختلاف کے لیڈروں نے بھی پورے اطمینان کا اظہار کیا،اس طویل جمہوری و پارلیمانی کاروائی کے بعد قومی اسمبلی نے پورے تدبر سے کام لیتے ہوئے 7،ستمبر 1974ءکو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی موجودگی میں آئین کی وہ واحد ترمیم منظورکی جس کی مخالفت میں ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیااور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخ ساز فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ”جو شخص خاتم الانبیاءحضرت محمد مصطفی صلی للہ علیہ وسلم کی حتمی اور غیر مشروط ختم نبوت میں یقین نہیں رکھتا یا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے،کسی بھی لفظ یا بیان کے ذریعے حضرت محمد صلی للہ علیہ وسلم کے بعد ایک ایسے دعویدار کو نبی تسلیم کرتا ہے،یا کہ مذہبی مصلح جانتا ہے،وہ آئین یا قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے۔

    بحوالہ و بشکریہ عالمی اخبار

  62. عالم اسلام میں ”دوسرا اسرائیل“ قادیانی ریاست کامنصوبہ
    مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 18 Nov 2006

    قادیا نیوں کا اپنےنام نہادمذہب اور کفریہ عقا ئدکی بنیاد رکھنےکےروز اول سےہی یہ پلان تھا کہ وہ ہندو پاک میں اپنی علیحدہ ریاست قا ئم کریں گےچاہےاسکےلیےانہیںکتنی ہی جانی ومالی قربانی کیوں نہ دینی پڑےعرصہ دراز سےاس پر عمل درامد کرنےکےلیےتمام قادیانی ملازمین اپنی تنخواہوں کا 7فیصد اور کاروباری حضرات بھی کم و بیش اتنا ہی سرمایہ اپنی جماعت کو جمع کرواتےچلےآرہےہیں پاکستان بننےکےبعد انہوں نےربوہ (موجودہ اسلام نگر) کواس کےلیےمنتخب کیا یہ علاقہ تین اطراف سےپہاڑیوں سےگھرا ہوا ہےاور چوتھی طرف دریا بہہ رہاہےربوہ میں رابطہ کا صرف ایک پل ہےجو کہ دریا پر بنا ہوا ہےاسلئےقادیانی منصوبہ سازوں نےریاست کےاندر ریاست قائم کرنےکےلیے یہ جگہ مخصوص کر ڈالی اور قادیانیوں نےاس جگہ پر ہزاروں ایکڑ نہیںبلکہ کئی میل لمبا چوڑا علاقہ اونےپونےداموں خرید لیا جسمیں انہیں تمام حکمرانوں کی بھی آشیر باد حاصل رہی قادیانی ریاست کےقیام کا انکا زیر زمین پلان ہی انکا اولین مقصد ہےجس طرح سےیہودیوں نےاسرائیل کی صورت میں عالم اسلام کےسینےمیں خنجر گھونپ رکھا ہےاور پورا عالم کفر اور لادینی جمہوریت کےچیمپئن اسکے ممدومعاون بنےہوئےہیں اسی طرح انکی ہی پیروی کرتےہوئےاور تمام کفریہ عقائد کی علمبر دار قوتوں کی ہی مدد سےقادیانی ربوہ میں مرزائی اسٹیٹ بنانا چاہتےہیں اسی مقصد کےحصول کےلیےانہوں نےسول اور فوج کےاعلٰی عہدوں پر قبضہ کیا پاک فوج میں عملاًمرزائی اجتماعات بھی منعقد کرتےہیں حتیٰ کہ کسی مرتد کےمکان کےبڑےہال کو عبادت و اجتماع گاہ قرار دے لیتےہیں ایک دوسرےکی ناجائز امداد کر کےاعلٰی عہدوںپر قابض ہیں اور بوقت ضرورت حکومت کی وفاداری سےبھی آنکھیںپھیر لیں گےاور قادیانی سربراہ کےحکم کی بجا آوری ان کی ترجیح ہو گی ۔قادیانیوں نےربوہ میں دریا کےقرب وجوار کی طرف توکئی ایکڑ زمین خرید کر خالی چھوڑ رکھی ہےاسمیں نہ تو کوئی فصل اگاتےہیں اور نہ ہی کوئی درخت بلکہ پہلےسےموجود تمام درخت جڑ سےاکھاڑپھینکےہیں لیکن اس زمین کو عملا ًمستقل طور پر پانی لگاتےہیں تا کہ زمین پختہ رہےاور بوقت ضرورت اسکو فوراً آناًفانا ًائیرپورٹ میں تبدیل کر کےیہاں پر جنگی طیارےاتارےجاسکیں اور ریاست کا منصوبہ تکمیل پا سکے۔ہمارےوزیر خارجہ ، وزیر اعظم ، حتیٰ کہ صدر پاکستان تک نےجو ملاقاتیں امریکیوں سےاعلیٰ سطح پر کی ہیں ان میں یہ معاملہ سر فہرست رہا اور اندرونِ خانہ سب کچھ طےپا گیا ۔ امریکن افواج جو کہ پاکستان کےاندر اور بارڈرز پر خاصی تعداد میں موجود ہیں اور پہلےبھی 9/11 کےواقعہ کےبعد یہیں سے” اسلامی افغانستان“ کو تباہ و برباد کر کےقبضہ کر چکی ہیں اور آج کل نت نئےعلاقہ پر پاکستانی بارڈر کےاندر جب چاہتی ہیں حملہ آور ہو کر مظلوم مسلمانوں کا قتل عام کر ڈالتی ہیں جسکےلئےموجودہ 87 افراد کے باجوڑ میںقتل کےواقعہ پر کسی ثبوت کی ضرورت نہ ہی۔ اسلئےربوہ جیسی کسی جگہ جہاں کفر کےروپ میں مسلمان کہلوانےوالےموجود ہیں انکا حملہ آور ہونا یا قبضہ میں امداد کر ڈالنا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ صدر پاکستان کی کئی بار اسرائیل کو تسلیم کرنےکی طرف تجاویز اور تردید یںبھی ا یسےاقدام کرنےمیں ممد و معاون ہیں عالم اسلام کےممالک کےسربراہوں یا بادشاہوں نہیں بلکہ صحیح العقیدہ عوام الناس کا اندرونی دبائو انہیں ایسےاقدام سےباز رکھےہوئےہی۔ ہمارےحکمرانوں کی تو اسلام دشمن پالیسیوں سےہی یہ سب کچھ ممکن ہوتا نظر آتا ہے۔ مرزائیوں کےسر براہ کی طرف سےکسی بھی افراتفری کو بنیاد بنا کر قادیانی ریاست کا اعلان ہوتےہی امریکن جنگجو طیارےفوری طور پر ربوہ ایئر پورٹ پر اتریں گےاور پاکستان کےموجودہ حکمرانوں کی آنکھ مچولی کی وجہ سےیہ تعمیر ہو جائیگی۔ قادیانیوں نےاطراف میں موجود پہاڑیوں کی غاروں میں جدید ترین اسلحہ جمع کر رکھا ہےجو کہ بوقت ضرورت انکےکام آسکےگا ملک بھر سےنہیں بلکہ پوری دینا سےقادیانیوں کو اسرائیل کی طرح یہاں لا کر جمع کرنےکےلئےقادیانی ہزاروں ایکڑ زمین اطراف میں خرید چکےہیں پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کو سب معلوم ہےمگر سرکاری ہونےکےناطےانکا وطیرہ ہر دور میں یہی رہا ہےکہ موجود حکمرانوں کےنظریات کےمطابق ہی وہ رپورٹس مرتب کر کےبھجواتےہیں تاکہ مقتدر افراد کےماتھوں پر بل نہ آسکےاور ایسےملازمین کا دال دلیہ چلتا رہے اور امریکنوں کا تو اسمیں مفاد موجود ہےکہ وہ پھر کھل کر یہاں سےپاکستان ، افغانستان ، ہندوستان ، ایران حتیٰ کہ چین تک کو” کنٹرول “ کر سکیں گےاور انہیں کسی حکومت سےاپنےمذموم مقاصد کی تکمیل کےلئےبا رگیننگ کرنےکی ضرورت نہ رہےگی یہاں تک کہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی نام نہاد امداد دیکر اپنےمقاصد و مطالبات پورےکرنےکروانےسےبھی جان چھوٹ جائیگی اور ناجائزوغیر جمہوری قابض حکمرانوں کی سر پرستی کرتےہوئےجو بدنامی کا دھبہ اُن پر ہےوہ بھی نہ رہےگا۔ ویسےبھی اسرائیل کی طرح عالم اسلام میں دوسرےاسرائیل کا قیام عمل میں آ جائےگا پوری دنیا جانتی ہےکہ مرزائیوں (قادیانیوں) یا یہودیوں کی پالیسیوں اور عقائد و نظریات میں کوئی فرق نہ ہی۔دونوں ایک ہی تھیلےکےچٹےبٹےہیں پاکستانی تو حیران و ششدر ہیں کہ قادیانیوں کےافواج ِ پاکستان میں ملازمتیں حاصل کرنےپر اب تک کیوں پابندی نہ لگائی جا سکی ہی؟ حالانکہ مرزائیوں کےنام نہاد کفریہ مذہب کی بنیاد ہی انگریزوںنےاس خود کاشتہ پودےکےذریعےمسلمانوں کےدلوں سےجہادی نظریات کو اکھاڑنےکےلئےکی تھی تا کہ وہ ہندو پاک میں مزید عرصہ مقتدر رہ سکیں مگر وہ پلان اس وقت کا میاب نہ ہو سکا۔ قادیانی جو خدا، رسول ودیگر انبیاءکسی کو نہ مانتےہیں نہ انکا عقیدہ ہےتو پھر وہ جہاد فی سبیل اللہ کوکیسےمان سکتےہیںہماری فوج کا چونکہ نعرہ ہی جہاد فی سبیل اللہ ہےاسلئےپاک فوج کےنظریات سے متصادم کسی دوسرےنظریہ کےعلمبرداروں کی بھرتی ویسےہی قانون و آئین کےمطابق نہ ہی۔ برطانیہ کی سینکڑوں برس سےقائم حکومت جب مسلمانوں کےشعور سےقریب الختم ہوئی تو انہوں نےڈوبتےکو تنکےکا سہارا کےمصداق مرزا غلام احمد نامی شخص کو مسلمانوں کےدلوں سےغیرت ایمانی ، حُبِ رسول اور جہادی نظریات کو ختم کرنےکا کام سونپا۔ اُس وقت با وجوہ وہ کامیاب نہ ہو سکا کہ بہتےہوئےدریائوں کا رُخ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک زوروں پر تھی اور علماءکی قربانیاں اور انگریز اقتدار کی طرف سےانکی قتل و غارت عروج پر تھی اسلئےانگریزوں کو یہاں سےجانےمیں ہی عافیت محسوس ہوئی مگر اپنا کاشتہ پودا نہ اکھاڑا اور مسلسل آج تک انکا مشن پورا کرنےکےلئےقادیانی جماعت تگ و دو میں مصروف ہےپورےملک میں نہیں بلکہ عالم اسلام میں بھی ہر جگہ رسل و رسائل کےذریعےلٹریچر کی بھر مار ہی۔ حکومتی چیک ا ینڈ بیلنس نہ ہونےکی وجہ سےربوہ میں اب بھی عملاً انکا کنٹرول ہےکوئی ملازم ان کی جازت کےبغیر وہاں تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ٹرانسفر ہو کر آبھی جائےتو قادیانی اسکا نا طقہ بند کر دیتےہیں یہاں تک کہ با لآخر اسےیہاں سےراہِ فرار اختیار کرنا پڑتی ہی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اور مجلس احرارِ اسلام نےیہاں پر مساجد تو قائم کر رکھی ہیں مگر وہ بھی صرف سالانہ جلسہ کی حد تک ہیں عملاً مسلمانوں کا کوئی تبلیغی یا تعلیمی مشن یہاں پر کام نہیں کر رہا ۔ گو کہ 7 ستمبر1974 کو قادیانیوں کو قومی اسمبلی پاکستان نےمتفقہ قرار داد کےذریعےغیر مسلم قرار دیا تھا مگر جو قوانین مرتب کئےگئےان پر آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا ہی۔ ساری دنیا جانتی ہےکہ 29 مئی1974 کو ربوہ کےسٹیشن پر ر میڈیکل کالج ملتان کےنہتے187 طلبہ جو کہ سوات کی سیر سےواپس آرہےتھےکو قادیانیوں نےمسلح حملہ کر کےزخمی کر ڈالا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ وقوعہ سےتین روز قبل ہی ملتان سےسوات جاتےہوئےجب چناب ایکسپریس ربوہ (اسلام نگر) سٹیشن پر رکی تو راقم الحروف کے1971 کےمرتب کردہ 16 صفحہ کےپمفلٹ ” آئینہ مرزائیت“ کو تقسیم کیا تھا جس پر اسٹیشن پر موجود قادیانی سیخ پا ہوگئےتُو تکار اور معمولی ہاتھا پائی کےبعد ٹرین چل پڑی مگر قادیانیوں کا اپنی مستقبل کی تصوراتی نام نہاد ریاست کے” دارالخلافہ“ جیسےمقام پر ایسا معمولی واقعہ ان کےمزاج شیطانی کو شدید ناگوار گذرا کہ پورےملک سےمسلح قادیانی نوجوان اکٹھےکئےگئےاور واپسی پر ان مسلح منکرینِ ختم نبوت وجہنم واصلین نےحملہ کر کے187 مسلمان طلبہ کو شدید زخمی کر ڈالا جس کی باز گشت راقم الحروف اور ایک اور سٹوڈنٹس یونین کےعہدیدار ارباب عالم کی پریس کانفرنس سے پوری دنیا کےریڈیو اور اخبارات میں سنی گئی۔ اور تمام پرنٹ میڈیا اخبارات و رسائل نےدوسرےدن خدا اور رسول کےدشمنوں کی اس شرمناک حرکت کو شہہ سرخی کےطور پر شائع کیا اور جس پرپورےملک کےصحیح العقیدہ اور مسلمہ مکاتیبِ فکر کےعلماء نےاکٹھےہو کر قادیانیوں کےخلاف تحریک کا آغاز کر دیا ۔ جب اس واقعہ کی تحقیقات ہائیکورٹ کےفُل بنچ جس کی سربراہی جسٹس صمدانی نےکی تو بھی وقوعہ کی بنیاد اسی پمفلٹ ” آئینہ مرزائیت“ کو قرار دیا گیا۔عدالت نےقادیانیوں کی تمام کفریہ کتب او ر لٹریچر سےاس پمفلٹ میں درج حوالہ جات کا موازنہ کر کےاسےحرف بحرف درست قرار دیا تھا۔اس پمفلٹ کو آج کل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان جس کا ہیڈ آفس ملتان میں ہےمختلف زبانوں میں لاکھوں کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کرتی ہے۔ قومی اسمبلی میں قرارداد سےچند روز قبل قائد حزبِ اختلاف مولانا مفتی محمود مرحوم ، مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم، اور دیگر علماءو ممبران اسمبلی نےقادیانیوں کےکفریہ عقائد اسمبلی کےفلور پر بیان کئےتو ممبران اسمبلی دانتوں میں انگلیاں دبا کر رہ گئی۔ خود راقم الحروف نےمذکورہ پمفلٹ قائد حزب اقتدار شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پیش کیا تو وہ ان کفریہ حوالہ جات کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ نقل کفر کفر نہ باشد۔چند حوالہ جات یوں ہیں” کل مسلمانوں نےمجھےقبول کر لیا ہےاور میری دعوت کی تصدیق کر لی ہےمگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نےمجھےنہیں مانا“ ۔ ” میرےمخالف جنگلوں کےسور ہو گئےاور ان کی عورتیں کتیوں سےبڑھ گئیں“۔ حتیٰ کی تمام ممبران قومی اسمبلی نےان کفریہ عقائد کےمندرجات / حوالہ جات کو پمفلٹ کےذریعےدیکھا اور لاہور ہائیکورٹ کےفُل بنچ کی تحقیقات کی رپورٹ کو مدِ نظر رکھتےہوئےمشترکہ قرار دا دکےذریعےقادیانیوں کو غیر مسلم قرار دےڈالا۔ آج ضرورت اس امر کی ہےکہ تمام مکاتیبِ فکر کےمسلمان قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں ، شر انگیزیوں اور زیر زمیں خفیہ طور پر ” قادیانی ریاست “ کےقیا م کی مذموم کوششوں کےتدارک کےلئےمتحد ہو کر ان کا مقابلہ کریں ۔ فوج میں سےان کا اثر و رسوخ ختم کرنےکےلئےتمام قادیانیوں کو فوج میں سےنکالا جائےیا کم از کم کرنل یا س سےاوپر کےعہدہ کےتمام ملازمین کو فوراً فارغ کیا جائےتاکہ ان کا پا کستان میں موجود امریکی افواج اور خود ہماری پاک فوج میں موجود قادیانیوں کی امداد سےقادیانی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکی۔ پاکستانی مسلمان موجودہ حکمرانوں کےعزائم کو ناکام بنانےکےلئےبھی متحد و متفق ہو کر دبائو ڈالیں تاکہ ہماری خارجہ اوراندرونی پالیسی قرآن و سنت اور ایٹمی پاکستان کےنظریات کےمطابق مرتب ہو سکی۔ اور تمام سامراجی ممالک کی غلامی سےمسلمان آزاد ہو سکیں۔اگر عالم اسلام کےتمام ممالک سےتعلقات خراب ہونےکا خوف نہ ہوتا تو جس طرح امریکہ کی تمام دیگر پالیسیوںپر عمل درآمد ہو رہا ہےاسی طرح اسرائیل کبھی کا تسلیم کیا جا چکا ہوتا۔ ایسا اعلان چونکہ پاکستان کی پورےعالم اسلام میں شدید بدنامی کا باعث بنتا اس لئے اس کی جگہ دوسرےپلان پر عمل در آمد کا منصوبہ بنایا گیا ہی۔ کہ قادیانی ریاست کا اگر اعلان ہو بھی جائےتو اس پر حکومتی سطح پر اس قدر شدید ردِ عمل کا اظہار نہ کیا جائے اور پاکستان کےاندر اس کڑوی گولی کو نگلوانےکےلئےتجاویز مرتب کی جائیں ایسی تجاویز کےلئےاسلام آباد میں کرپٹ لادین بیورو کریٹس پر مشتمل کمیٹی دن رات مصروف عمل ہے ایسےاعلان کو موجودہ حکومت آسانی سےہضم کر سکتی ہے۔ سابق روایات کی طرح صرف اتنا ہی تو کہنا پڑےگا کہ اگر ہم امریکی افواج کےاس اقدام کی مخالفت کرتےتو وہ پورےملک پر قبضہ کر لیتےہم کیا کریں ہم تو صرف اپنےملک کی حفاظت کےلئےاور آپ کی جان و مال کو بچانےکےلئےایسا کر رہےہیں اگر چند میل میں قادیانی ریاست قائم ہو بھی گئی ہےتو سیاچین کی طرح ہمیں کیا فرق پڑتا ہی؟ پہلےبھی تو ربوہ (اسلام نگر) میں انہی کا کنٹرول تھا۔وغیرہ وغیرہ۔ قادیانیوں کےاسی پلان کی تکمیل کےلئےاور موجودہ حکمرانوں کی امداد کےبل بوتےپر ہی تو قادیانیوں کےخلاف کسی قانون پر عمل درآمد نہیں ہو سکا حتیٰ کہ حکومت کی مکمل آشیر باد کی وجہ سےکوئی قادیانی اپنےنام کےساتھ لفظ قادیانی یا مرزائی لکھنےکو تیار نہ ہی۔ نہ ہی ووٹر لسٹ میں قادیانی اپنےآپ کو غیر مسلموں کی فہرست میں یا قادیانیوں کی لسٹ میں درج کرواتےہیں۔ سانپوں کی طرح مسلمانوں کی صفحوں میں گھسےہوئے بہروپئےمرزائیوں کی سر گرمیاں عروج پر ہیں انکی سازشوں اور ” ڈنگ مارو بل میں گھس جائو“ جیسی پالیسی سےپوری ملت اسلامیہ زخمی زخمی اور لہو لہان ہی۔ ملک بھر میں موجود اہلِ سنت کےمدارس و مساجد اور اہلِ تشیع حضرات کی امام بارگاہوں پر راکٹوں ، دستی بموں اور کلاشن کوفوں کےحملوں کا پلان یہی لوگ مرتب کرتےہیں اس سلسلہ میں سرمایہ بھی مہیا کرتےہیں مسلمانوں کےمتفقہ علیہ نظریات اور مسالک میں معمولی اختلافات کی جڑیں گہری کر رہےہیں اس طرح سی1974 کی تحریک ختم نبوت میں گلی کوچوں کےاندر اپنی پٹائی اور املاک کےنقصان کا بدلہ مسلمانوں کو آپس میں لڑائو کی پالیسی اختیار کر کےخوب خوب لےرہےہیں اور ہم خواب خرگوش میں مدہوش پڑےہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ/ چیف جسٹسزہائی کورٹس / حکمرانوں میں صحیح العقیدہ مسلمان حضرات / آئی جی صاحبان پولیس صوبہ جات/ وزارت داخلہ بھی اس کا سو یو موٹو ایکشن لیکر اس کےتدارک کےلئےاقدامات کریں۔ نوٹ: دنیا بھر کےتما م اخبارات ، رسائل و جرائد کےایڈیٹرصاحبان/ انچارج آڈیو وڈیو، ریڈیو و پرنٹ میڈیا اس کالم کو خدا اور اسکےرسول کی محبت کےتقاضوں اور ملکی سالمیت کےتحفظ اور دینی اقدار کو روند ڈالنےکی قادیانیوں کی پالیسیوں سےنجات کےلئےاس کو ضرور بالضرور من و عن شائع و نشر کر کےمشکور فرمائیں۔ دیگر افراد بھی اپنے احباب و عزیز و اقارب تک اس پیغام کو لازماً پہنچائیں اور ثوابِ دارین حاصل کریں۔

    ڈاکٹر میاں احسان باری راہنما پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین

    چیئرمین :انجمن فلاح مظلوماں پاکستان+ باری فری سروس پاکستان

  63. MGAQ language and words were beautiful and can be seen through each ahmadi. We don’t go around swearing at others, we respect each and every religion and person.

    As MGHQ has said ” Galian Sun ke Dua do, Pa Ke Dukh Aram, Kibar ki adat jo dekho tum karo inksar”

    These are the teachings we are al following, the teachings of Holy Prophet Muhammad (SAW), which MGHQ came to spread all around the world. Day by Day it is spreading by the grace of Allah and soon all of you will accept that we are the true Muslims.

  64. قادیانی یہود کی طرح نہ صرف مکار ہیں بلکہ اپنی مطلب براری کے لئیے مسلمانوں پہ اپنے مرزا ملعون کے لئیے غلط ابان استعمال کرنے کا الزام لگا دیتے ہیں ۔اسلئیے امتِ مسلمہ نے قادیانیوں کو متفقہ طور پہ کافر قرار دیا ہے۔ گالیان کون بکتا ہے۔ـ اسکے ایک دو نمونے دیکھیں۔ مرزا ملعون اسے نہ ماننے والوں کے بارے میں ھذیان کہتا ہے۔

    نقل کفر کفر نہ باشد۔چند حوالہ جات یوں ہیں” کل مسلمانوں نےمجھےقبول کر لیا ہےاور میری دعوت کی تصدیق کر لی ہےمگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نےمجھےنہیں مانا“ ۔ ” میرےمخالف جنگلوں کےسور ہو گئےاور ان کی عورتیں کتیوں سےبڑھ گئیں“

    مرزا لکھتا ہے:
    ” بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بد خواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے”
    (شہادت القرآن ص ۸۴، روحانی خزائن ص ۳۸۰، ج۲)

    “جنگ سے مراد تلوار و بندوق کی جنگ نہیں کیونکہ یہ تو سراسر نادانی اور خلاف ہدایت قرآن ہے جو دین کے پھیلانے کے لیے جنگ کیا جائے اس جگہ جنگ سے ہماری مراد زبانی مباحثات ہیں جو نرمی اور انصاف اور معقولیت کی پابندی کے ساتھ کیے جائیں ورنہ ہم ان تمام مذہبی جنگوں کے سخت مخالف ہیں جو جہاد کے طور پر تلوار سے کئے جاتے ہیں”
    (تریاق القلوب، ص۲ ، روحانی خزائن ص ۱۳۰ ج ۱۵)

    مرزا قادیانی کے فتنہِ قادیانیت کا بیج انگریزوں نے لگایا تھا ۔ اسلئیے مرزا لکھتا ہے:
    “حالانکہ میں جانتاہوں کہ خدا تعالٰی نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیرِ سایہ ہمیں حاصل ہے یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔ پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں۔ اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بد خیال، جہاد اور بغاوت دلوں میں مخفی رکھتے ہوں، میں ان کو سخت نادان اورظالم سمجھتا ہوں۔”
    (تریاق القلوب ص ۲۸، روحانی خزائن ص۱۵۶، ج ۱۵)
    وہ لکھتا ہے: ” میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک، عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہےکہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں”

    وہ لکھتا ہے: ” میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے” ( مجموعہ اشتہارات ص ۱۹ ،ج ۳) (تریاق القلوب، ص ۲۷،۲۸ مندرجہ روحانی خزائن ص۱۵۵ ج۱۵)

    وہ لکھتا ہے: ” سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں، ایک یہ کہ خدا تعالٰی کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو، سو وہ سلطنت حکومتِ برطانیہ ہے” (شہادت القرآن ص ۸۴، روحانی خزائن ص۳۸۰،ج۳)

    مرزا ملعون نے اپنے زمانے میں اس بات کا اعلانیہ دعوٰی کیا تھا کہ اب مسلمان کبھی فتح یاب نہیں ہو سکتے۔اس کےاشعار پڑھیئے: “اب چھوڑ دو جہاد کا اے خیال دوستو دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال دوستو اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے دیں کے لیے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے اب آسمان سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور قتال کا فتوٰی فضول ہے دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہےجو یہ رکھتا ہے اعتقاد اس نظم میں چند اشعار کے بعد کہتا ہے: یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا اک معجزہ کے طور سے یہ پیشگوئی ہے”(مرزا کی یہ پوری نظم تحفہ گولڑویہ ضمیمہ ص۴۲، روحانی خزائن ص۷۷، ج ۱۷ پر درج ہے)
    مرزا قادیانی ملعون لکھتا ہے: ” میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔میرا والد مرزا غلام مرتضٰی گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسانِ پنجاب میں ہے اور ۱۸۵۷ میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امدار میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے چٹھیات خوشنودی حکام ان کا ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہو گئیں۔ مگر تین چٹھیات جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔ اور جب تموں کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا” (کتاب البریہ ص ۳، ۴، ۵ ۔ روحانی خزائن ص ۴، ج ۱۳) مجاہدین کو شدت پسند، دہشت گرد،رجعت زدہ کہنے والے اس عبارت میں موجود مناظر پر ایک نظر ڈالیں، مسلمانوں کے لیے انگریزوں سے لڑنا حرام، دین دشمنی اور بے مصلحتی، جبکہ انگریزوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑنا قابل فخر۔ انگریزوں کے لیے منہ میں گھی شکر اور انہیں برا بھلا کہنا خلافِ تہذیب اور بد اخلاقی، اور مجاہدین کے لیے حرامی اور بدکار جیسے الفاظ۔یہی تہذیب آپ کو وحید الدین خان کے قلم میں ملے گی۔بالکل یہی دو رنگی، ہندوؤں کے لیے سینہ فراخ اور اپنوں کو دو دو من کی گالیاں۔

    ۔ قادیانی تحریک کا اساسی مقصد مسلمانوں کو جہاد سے برگشتہ اور بیگانہ کرنا ہے، چنانچہ وہ فخر سے کہہ رہا ہے کہ میرے مرید جیسے جیسے بڑھتے جائیں گے جہاد کے انکار کی فضا عام ہوتی جائے گی۔ ۱۔ جہاد کے خلاف کتابیں اور اشتہارات لکھے ہیں۔ ۲۔ انہیں دوسرے ملکوں میں پھیلایا ہے۔ ۳۔ جہاد کو ماننا احمقوں کا کام ہے۔ ۴۔ جہاد کے مسائل جوش دلاتے ہیں ( معلوم ہوا کہ جہاد یعنی قتال فی سبیل اللہ کی مخالفت ہو رہی ہے) ۵۔ یہ سارے کام سلطنتِ برطانیہ کو بچانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
    مسعود اظہر کی کتاب “جہاد ایک محکم اور قطعی فریضہ“ ۔اردو محفل۔ ڈاکٹر باری ۔ وغیرہ سے مختلف اقتسابات۔

  65. لعنت اللہ علی کاذبین

  66. حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل اور حقیقی تعلیمات کیاہیں میرا خیال ہے اس فورم پر بحث کرنے والوں نے نہ کبھی ان کو پڑھا ہے اور نہ کبھی ان سے آگاہی حاصل ہوئی ہے۔ اس نیت سے لکھے دیتا ہوں کہ شاید کسی کو فائدہ ہو جائے۔ وما علینا الا البلاغ
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں
    ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لا الٰہ الّا اللہ محمّد رسول اللّٰہ۔ ہمارا اعتقادجو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالم گذران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سیدنا و مولٰنا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہوچکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کرکے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔ اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شعشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہوسکتا اور نہ کم ہوسکتا ہے۔ اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہوسکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل و تغیر کرسکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے اور ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنیٰ درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کے ہر گز انسان کو حاصل نہیں ہوسکتا چہ جائے کہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتداء اس امام الرسل کے حاصل ہوسکیں۔ کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت و قرب کا بجز سچی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہر گز حاصل کرہی نہیں سکتے۔ ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلّی اور طفیلی طور پر ملتا ہے۔ اور ہم اس بات پر بھی ایمان رکھت ہیں کہ جو راستباز اور کامل لوگ شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہوکر تکمیل منازِل سلوک کرچکے ہیں اُن کے کمالات کی نسبت بھی ہمارے کمالات اگر ہمیں حاصل ہوں بطور ظلّ کے واقع ہیں اور ان میں بعض ایسے جزئی فضائی ہیں جو اب ہمیں کسی طرح حاصل نہیں ہوسکتے۔
    (ازالہ ادہام صہ 69۔70)

  67. مرزا کذاب کی اصل اور حقیقی تعلیمات سائے کذاب اور افتراء باندھنے کے سو کچھ نہیں ۔۔۔۔
    تم قادیانی لوگ بہت مکار ہو اور اتنے ثبوت دینے کے باوجود جھوٹ پہ اڑے ہوئے ہو۔ مرزا ملعون ۔ لفظ خاتم کا مطلب ۔ “مہر” بیان کرتا ہے ۔ اسکے نزدیک خاتم النبین کا مطلب ۔ “نبیوں کی مہر “ہے یعنی دوسرے لفظوں میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں مانتا بلکہ نبیوں کی مہر کہہ کر اپنے نبی ہونے کا جواز پیش کرتا ہے اور اسی طرح قرآن کریم کو وہ “خاتم” کتاب کہتا ہے یعنی “مہر کتاب” اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسی طرح قرآن کریم کو آخری الہامی کتاب ماننے سے انکاری ہے تاکہ اپنے کذب کو الہامی کہلوا سکے۔ لعنت اللہ علی کاذبین ۔

    مرزا کذاب کی اصل اور حقیقی تعلیمات سائے کذاب اور افتراء باندھنے کے سو کچھ نہیں تمہیں تمھارے مرزا ملعون کے اتنے حوالے دیے ہیں پھر بھی تم مان کے نہیں دے رہے۔ اگر مندرجہ بالا حوالے تمہارے اپنے مذھبی پیشواء کے نہیں تو ثابت کرو اور اگر مرزا کزاب کے ہی ہیں تو خاموش ہوجاؤ۔

    ُ بسِ نامی قادیانی تم کسے دھوکہ دینا چاہتے ہو ؟ جبکہ تُم خود دھوکے میں ہو۔ تم کیا سمجھتے ہو تم مرزا کا دوغلا کذب حرف بہ حرف یہاں لکھ کر ان الفاظ کے پیچھے چھپی بدیانتی اور جھوٹ سے مسلمانوں کو دہوکہ دے سکتے ہو۔؟ شاید خود تم نے بھی اپنے مرزا کذاب کو نہ پڑھا ہو ۔ جتنا اسے جھوٹا ثابت کرنے کے لئیے ہم مسلمانوں نے اس کی لن ترانیوں کو دیکھ رکھا ہے۔

    ویسے ڈھٹائی کی حد ہے۔ ابھی بھی تم اپنی بات پہ اکڑے ہوئے ہو۔ کوئی شک نہیں کہ اللہ سبحان و تعالٰی جن کے دلوں پہ مہر لگا دیتا ہے وہ حق بات کو سمجھے اور اس پہ عمل کرنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔

  68. مرزا کی اپنے ہی پاخانہ میں گر کر عبرت ناک موت کا منظر
    آپ کے سامنے مرزا قادیانی کے سسر کی کتاب کا سکین جس میں وہ لکھتا ہے کہ ہمارا نبی اور میرا داماد اپنے ہی پاخانہ پر گر کر مرا۔ جبکہ آجکل قادیانی اس بات سے انکاری ہیں۔ اور مسلمانوں کو اس بات پہ جی بھر کے گالیاں دیتے ہیں کہ وہ کیوں کہتے ہیں کہ مرزا واش روم میں گر کر مرا تھا۔

    مرزا ناصر قادیانی کا سسر مولوی محمد اعظم قادیانی حیاتِ ناصر نامی کتاب جسے شعبہ اشاعت نظارتِ دعواۃ و تبلیغ صدر انجمن احمدیہ قادیان پنجاب( انڈیا) نے مرزا ناصر کے مرنے پہ چھاپا۔ اسمیں میں مرزا ناصر قادیانی کا سسر مولوی محمد اعظم قادیانی صحفہ نمبر چودہ پہ ” وصالِ مسیح” کے نام سے لکھتا ہے۔ “کہ حضرت مسیح موعود پچیس مئی انیس سو آٹھ یعنی پیر کی شام کو بلکل اچھے تھے۔ حضرت مرزا صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جاکر سو چکا تھا۔۔۔۔جب میں حضرت مرزا صاحب کے پاس پہنچا۔۔۔ مجھے مخاطب کر کے فرمایا ُمیر صاحب مجھے وبائی ھیضہ ہوگیا ہے۔۔۔۔دوسرے روز آپکو ایک قے آئی ، قے سے فارغ ہو کر آپ فرمانے لگے ُ یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا، اتنے میں آپ کو ایک دست آیا مگر اب اسقدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ میں پہنچتے ہی گر گئے اور ہمیں تب معلوم ہوا جب آپ جہانِ فانی سے کوچ فرماچکے تھے۔

    قادیانی آج کیسے انکار کرسکتے ہیں کہ انکا مرزا کذاب ٹٹی پاخانے میں گر کر نہیں مرا تھا۔ ان موجودہ لنکس پہ اس کتاب کے دونوں عکس بھی آپ دیکھ سکتے ہیں۔

    http://www.flickr.com/photos/ajnabihope/3910549199/

    http://www.flickr.com/photos/ajnabihope/3910480821/

    لعنت اللہ علی کاذبین

    • جاوید
      کیا مرزا صاحب کی وفات کے وقت تمھاری والدہ محترمہ وہاں بیت الخلاء صاف کرنے لئے بیٹھی تھی اور اس نے تمھیں آکر بتایا۔ ذرا اپنی خاندانی کارکردگیاں بیان کردو کہ تمھاری ماں نانی اور دادی کس کس گھر میں غلاظت اٹھانے کا کام یعنی جمعدارنی یا مہترانی کا کام کرتی تھیں۔

  69. کیا عیسی علیہ السلام آسمان سے آئیں گے؟ میں نے تو ہر طرف، ہر مذہب، بلکہ ساری دنیا کو دیکه لیا ہے۔ خدارا مجهے بتاو کہ کب مسیح آسمان سے آئے گا۔ آج نہیں؟ تو کیا کل؟ کل نہیں تو کیا پرسوں؟ مجهے تو سچے مسیح کی تلاش ہے، ہے کوئی جو مجهے بتائے کہ مسیح کہاں ہے۔ اور کب آنا چاہیئے تها۔ کیوں نہیں آ رہا؟
    یا کہیں آ تو نہیں چکا؟ میں تو سچے مسیح کا منتظر و متلاشی ہوں، اگر کسی کو پتہ ہو تو ضرور بتائے۔

  70. خدا کا بندۃ موضوع پہ بات کرو۔ جب دلائل نہ ہوں تو اس طرح کی اوٹ پٹانگ کا کوئی مقصد نہیں۔ یہاں موضوع کا ایک حصہ مرزا ملعون کا کذب ہے۔

    • کیوں کیا تکلیف ہوئی جب پتہ چلا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہوچکے توچیخے کہ موضوع کی بات کرو ۔ یاد رکھو احمدیت کی صداقت کے آگے تم تمام لوگ کچھ نہیں کرسکتے۔ لعنۃ اللہ علی الکذبین

      • بس مُک گئے دانے۔؟ ختم ہوگئے سارے دلائل۔؟ یاد رکھو مرزا ملعون کے کہے گئے اسکے اپنے الفاظ سے اسکی وہ لن ترانیاں یہاں منڈھ دونگا کہ تم قادیانی سر پیٹ کر رہ جاؤ گے ۔ اسلئیے ہوش کے ناخن لو ۔ اگر دلائل نہیں رہے تو کم از کم منہ کو بند رکھو ورنہ پھر نہیں کہنا کہ حضرت کی شان میں گستاخی ہوگئی ۔
        لعنۃ اللہ علی الکذبین

  71. امتناع قادیانیت بل
    مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 07 Sep 2007

    ١٩٧٤ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے تحریک ختم نبوت کو دبانے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی جس کے بعد قومی اسمبلی کو خصوصی کیمٹی کا درجہ دیا اور اس مسئلہ پر بحث شروع کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو قومی اسمبلی میں بلایا گیا، ان کا بیان ہوا، مولانا مفتی محمود نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اٹارنی جنرل یحٰیی بختیار کے ذریعہ جرح کی۔ مرزا ناصر نے واضح طور پر اعلان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لاہوری گروہ کے مرزا صدرالدین کو بلا گیا ان دونوں پر تقریبا ١٣ دن جرح ہوئی بالآخر قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کر لی۔ اس طرح ٧ستمبر ١٩٧٤ء وہ تاریخی دن قرار پایا جب نوے سالہ پرانا مسئلہ حل ہوا۔ امت مسلمہ نے سکون کا سانس لیا اور عقیدہ ختم نبوت کو فتح و بلندی عطا ہوئی۔مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور اپوزیشن کے درج ذیل افراد کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے قادیانوں کو غیر مسلم اقیلت قرار دینے کی قرارداد پیش کی ۔۔۔۔
    نام درج ذیل ہیں۔
    مولانا مفتی محود، مولانا عبدالمصطفٰی ازہری، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، پروفیسر غفور احمد، مولانا سید محمد علی رضوی، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، چوہدری ظہور الہی، سردار شیرباز خان مزاری، مولاناظفر احمد انصاری، عبدالحمید خان جتوئی، صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری، محمود اعظم فاروقی، مولانا صدر الشہید، مولانا نعمت اللہ، عمرہ خان، مخدوم نور محمد، جناب غلام فاروق، سردار مولا بخش سومرو، سردار شوکت حیات خان، حاجی علی احمد تالپور، راؤ خورشید علی خان، رئیس عطا محمد خان مری
    بعد میں درج ذیل افراد نے بھی تائیدی دستخط کئے۔
    نوابزادہ میاں ذاکر قریشی، غلام حسن خان، کرم بخش اعوان، صاحبزادہ محمد نذر سلطان، میر غلام حیدر بھروانہ، میاں محمد ابراہیم برق، صاحبزادہ صفی اللہ، صاحبزادہ نعمت اللہ خان شنواری، ملک جہانگیر خان، عبدالسبحان خان، اکبر خان مہمند، میجر جنرل جمالدار، حاجی صالح خان، عبدالمالک خان، خواجہ جمال محمد گوریجہ۔

    اپوزیشن کی جانب سے پیش ہونے والی قرارداد

    جناب سپیکر
    قومی اسمبلی پاکستان
    محترمی!
    ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے اجازت چاہتے ہیں۔
    ہرگاہ کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعوٰی کیا، نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف ورزی تھیں۔
    نیز ہر گاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔
    نیز ہرگاہ کہ پوری اُمت مسلمہ کو اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کہ نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہمنا کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
    نیز ہرگاہ کہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے۔ مسلمانوں کے گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
    نیز ہرگاہ کہ عالمی تنظیموںکی ایک کانفرنس میں جو مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ عالم اسلامی کے زیرانتظام ٦ اور ١٠ اپریل ١٩٧٤ء کے درمیان منقعد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے ١٤٠ مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی، متفقہ طور پر رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہے۔
    اب اس کو یہ اعلان کرنے کی کاروائی کرنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ مومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو موثر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔

    ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو منظور ہونے والی تاریخی ترمیم
    قومی اسمبلی کے کل ایوان پر مشتمل خصوصی کیمٹی متفقہ طور پر طے کرتی ہے کہ حسب ذیل سفارشات قومی اسمبلی کو غور اور منظوری کے لئے بھیجی جائیں۔
    کل ایوان کی خصوصی کیمٹی اپنی رہمنا کیمٹی اور ذیلی کیمٹی کی طرف سے اس کے سامنے پیش یا قومی اسمبلی کی طرف سے اس کو بھیجی گئی قراردادوں پر غور کرنے دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور گواہوں بشمول سربراہان انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو حسب ذیل سفارشات پیش کرتی ہے۔
    (الف) کہ پاکستان کے آئین میں حسب ذیل ترمیم کی جائے۔
    (اول) دفعہ ١٠٦ (٣) میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر کیا جائے۔
    (دوم) دفعہ ٢٦٠ میں ایک نئی شق کے ذریعے غیر مسلم کی تعریف درج کی جائے مذکورہ بالا سفارشات کے نفاذ کے لئے خصوصی کیمٹی کی طرف سے متفقہ طور پر مسودہ قانون منسلک ہے۔

    (ب) کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٢٩٥ الف میں حسب حسب ذیل تشریح درض کی جائے۔
    تشریح:- کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ٢٦٠ کی شق (٣) کی تصریحات کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہو گا۔

    (ج) کہ متفقہ قوانین مثلا قومی رجسٹریشن ایکٹ ١٩٧٣ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد ١٩٧٤ء میں منتنحبہ اور ضابطہ کی ترمیمات کی جائیں۔

    (ہ) کہ پاکستان کے تمام شہریوں خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، کے جان و مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔

    (قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کے لئے)
    آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مزید ترمیم کرنے کا بل
    ہرگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعدازاں درج ذیل اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔
    لہذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔
    ١۔ مختلف عنوان اور آغاز نفاظ
    (١) یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوم) ایکٹ ١٩٧٣ء کہلائے گا۔
    (٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔

    ٢۔ آئین کی دفعہ ١٠٦ کی شق (٣) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ‘اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں)‘ درج کئے جائیں گے۔

    ٣۔ آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ترمیم، آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں شق (٢) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائے گی یعنی ‘ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعوٰی کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا نبی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔

    • میرا خیال ہے اس لمبی بحث کو اب سمیٹنا چاہئے میں ہہاں پر تمام حضرات سے جو اپنے آپ کو اسلام کے ٹھیکیدا قرار دے رہے ہیں کچھ سوال کرتا ہوں آپ جواب دے دیں مسئلہ حل ہو جائے گا۔
      1۔تم سب لوگوں نےایک شور مچا رکھا ہے اسمبلی اسمبلی کیا اسمبلی کے تمام فیصلے قبول ہہیں۔ کیا اس میں شامل لوگوں میں زانی شرابی اور رشوت خور اور دھوکے باز لوگ شامل نہیں ہیں۔
      2۔ کیا تم لوگ قرآن پر اسمبلی کو ترجیح دیتے ہو کہ اس نے کافر قرار دیا۔ قرآن سے ثابت کردو میں سب کچھ مان لوں گا۔
      3۔کیا تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اسمبلی کو زیادہ اہمیت دیتے ہو۔ اور اسمبلی پر ایمان لاتے ہو۔ کیا ہمارے پیارے نبی نے بھی کوئی ایسا فیصلہ کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں من صلی صلوتنا استقبل قبلتنا و اکل ذبیحتنا فذالک المسلم الذی لہ ذمۃ اللہ و ذمۃ رسولہ ولا تخفروا فی ذمتہ کہ جو ہماری نماز پڑےھے ہمارے قبلے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے ہمارا ذبیحہ کھائے وہ ایسا مسلمان ہے جس کا ذمہ اور ضمانت خدا اور اس کےرسول لیتے ہیں پس اس کے زمہ میں کمی مت کرو۔پس اب تم سب لوگوں کی لڑائی احمدیوں سے نہییں ہے بلکہ خدا اور اس کے رسول ہے لڑ لو جتنا لڑنا ہے۔
      اللہ تعالیٰ تم لوگوں کی آنکھیں کھولے اور تمھیں بتائے کہ اسبملی تمھارے مذہبی مسائل کے حل کے لئے نہیں ہے بلکہ اس کے قرآن اور اس کے رسول کی تعلیمات ہیں۔ ورنہ دھوکے میں رہو گے۔

  72. الطاف حسین بتائیں کہ قادیانیوں کو کافر سمجھتے ہیں یا نہیں
    کراچی ( وقائع نگار خصوصی) عالمی تحفظ ختم نبوت کے رہنماءمولانا اللہ وسایا نے کہا ہے کہ الطاف حسین کا یہ کہنا کہ میں نے مرزا طاہر کی وفات پر تعزیت کی تھی جس پر لوگوں نے مجھ پر کفر کے فتوے لگائے اور اب میں دوبارہ کفر کرنے جارہاہوں ‘اس جملے سے رضا بالکفر ثابت ہوتا ہے اور فقہا کہتے ہیں کہ رضا بالکفر بھی کفر ہے۔ انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا ہے جو ان کے ایمان اور آخرت کے لیے نقصان دہ ہے ‘ اس کے لیے ان کو وضاحت اور صراحت کے ساتھ کھلے دل سے توبہ کرنا چاہیے۔ ان کی خیر خواہی کا تقاضا یہی ہے کہ ان سے یہ مطالبہ کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جسارت سے خصوصی گفتگو میں کیا۔مولانا وسایا نے وضاحت کی کہ ٹی وی چینلز پر جو ٹیکر چل رہا ہے اس ضمن میں میری درخواست ہے کہ مجھ سے کسی نے سوال کیا تھا کہ الطاف حسین کی تازہ وضاحت آئی ہے ‘ اس پر میں نے اتنا کہا کہ انہیں اگر اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور انہوں اپنے آپ کو مسلمان کہلوایا ہے کہ میرے عقائد یہ ہیں اس حد تک تو صحیح ہے لیکن ان کی وضاحت اس وقت تک قابل قبول نہیں ہے کہ جب تک وہ واضح طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرکے وعدہ نہ کریں کہ میں آئندہ قادیانیوں کی حمایت نہیں کروں گا۔ تو اس بیان کا پہلا حصہ لیا گیا اور دوسرا حصہ نشر نہیں کیا گیا۔ جہاں تک اس جملے کا تعلق ہے کہ الطاف حسین نے بروقت وضاحت کرکے شرپسندوں کے منہ بند کردیے ہیں تو میں نے ایسا کوئی جملہ نہیں کہا ہے۔مولانا وسایا نے مزید کہا کہ الطاف حسین کہتے ہیں کہ قادیانیوں کو تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیے تو ہم درخواست کرتے ہیں کہ قادیانی قادیانیت کے نام سے اپنے عقائد کی تبلیغ کریں ‘ اپنی اصطلاحات استعمال کریں ‘ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ قادیانی یہ کہتے ہیں مرزا غلام احمد محمد رسول اللہ تھا ‘ تو کیا ہم قادیانیوں کو یہ اجازت دے دیںکے مرزا قادیانی محمد رسول اللہ تھا؟ یہ کہ مرزا قادیانی کی بیوی ام المومنین تھی اور یہ کہ وہ سید النسا تھی اور یہ کہ مرزا قادیانی کے دیکھنے والے صحابی تھے اور یہ کہ غلام قادیانی کا پہلا خلیفہ نورالدین ابوبکر صدیق تھا ‘ کیا قادیانیوں کو یہ سب کچھ کہنے کی اجازت دے دیں ؟ کیا ایک سادہ سا جملہ ان کو تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیے کہہ کرخلاف اسلام عقائد کی ترویج کی اجازت دی جائی؟الطاف حسین یہ شاید بھول گئے کہ قادیانیت اور اسلام میں مشرق و مغرب کا فرق ہے اور قادیانیوں کے عقائد سراسر اسلام کی نفی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر قادیانیت سچی ہے تو پھر معاذاللہ اسلام غلط ہوگا۔ ان کو تبلیغ کی اجازت دینے کا مطالبہ کرنا الطاف حسین کی لاعلمی کی دلیل ہے۔انہوں نے کہا کہ الطاف حسین ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیںجو دین ودنیا کی خسارے والی بات ہے تو الطاف حسین کو یہ خوش فہمی ہوگی کہ میرے کچھ کہنے سے قادیانیت بچ جائے گی تو انہیں یہ یقین کرنا چاہیے کہ وہ ایک ایسی کشتی میں سوار ہورہے ہیں جس کو یہ بچانے کی کوشش کررہے ہیں ‘ ہمارا موقف یہ ہے کہ قادیانیت خود بھی ڈوبے گی اور جو اس کو بچانے کی کوشش کرے گا وہ بھی انشااللہ ڈوبے گا۔ اب یہ کہنا کہ میں فلاں مفتی کا پوتا ہوں‘یہ سارے عذرلنگ ہیں۔ کاش ان کے دادا زندہ ہوتے تو ان کا بھی وہی موقف ہوتا جو علامہ اقبال کا تھا‘ جو پاکستان کی پارلیمنٹ کا تھا اور جو پاکستان کے سارے مکاتب فکر کے علمائے کرام کا ہے۔ افسوس کہ الطاف حسین کو قادیانیوں کی حمایت کرتے ہوئے اپنے آباواجدا د کا خیال رہا اور نہ ہی محمد عربی کی عزت و ناموس کا۔دوسری جانب تنظیم المدارس پاکستان کے صدر اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمن نے جسارت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قادیانیوں کے ارتداد اور کفر پر اُمت کا اجماع ہے‘ ختم نبوت کا عقیدہ ‘ قرآن و سنت اور اجماع قطعی سے ثابت ہے لہٰذا الطاف حسین یہ نہ بتائیں کہ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں بلکہ یہ بتائیں کہ کیا وہ قادیانیوں کو کافر ومرتد سمجھتے یا نہیں ۔

    • تلخابہ
      تم درست کہہ رہے ہو کیونکہ تم لوگ اب صرف لوگوں کو اسلام سے نکال سکتے ہو داخل نہیں کر سکتے۔
      یہ تمھارا حال ہے دیکھو ذرا

  73. [...] [...]

  74. lantullah alal kazibeen

  75. Adab

  76. بس مُک گئے دانے۔؟ ختم ہوگئے سارے دلائل۔؟ آگئے آپنی قادیانی اوقات پہ ۔ جب دلائل نہیں رہے تو پوھڑ زنانیوں کی طرح طعنے دینے شروع کر دئیے کہ مسلمان یوں جھگڑتے ہیں۔ یاد رکھو مرزا ملعون کے کہے گئے اسکے اپنے الفاظ سے اسکی وہ لن ترانیاں یہاں منڈھ دونگا کہ تم قادیانی سر پیٹ کر رہ جاؤ گے ۔ اسلئیے ہوش کے ناخن لو ۔ اگر دلائل نہیں رہے تو کم از کم منہ کو بند رکھو ورنہ پھر نہیں کہنا کہ حضرت کی شان میں گستاخی ہوگئی ۔

    اسلئیے باز آجاؤ ورنہ مرزا کذاب ادر محمدی بیگم بنت احمد بیگ کے عقد اور مرزا ملعون کی جھوٹی پیشین گوئیوں اور مرزا ملعون کی مذید یاوہ گوئیوں کا کا ذکر آئے گا ۔

  77. احمدیوں ، قادیانیوں کے متعلق میڈیا میں ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے بیان کی وضاحت کی گئی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کوئی مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک وہ اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمدﷺ کے آخری نبی ہونے پر کامل یقین نہ رکھے ۔ میں اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ کے خاتم النبیین ہونے پر کامل یقین رکھتا ہوں اور ہمیشہ دعا کرتا ہوں کہ جب موت آئے تو کلمہ شہادت پر آئے ۔مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں سمیت علمائے کرام مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمد نعیم ، مولانا عزیزالرحمان رحمانی، مولانا محمد یحی ٰ لدھیانوی ، مولانا مفتی محمد شاہد ، مولانا غیاث الدین اورمولانا محمد طیب لدھیانوی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے پہلے کی طرح اس دفعہ بھی بروقت حساس معاملہ پر وضاحت کرکے شرپسندوں کے منہ بند کردیئے جو اس موضوع کے حوالے سے ملک میں انتشار کی کیفیت برپا کرنا چاہتے تھے ۔علمائے کرام نے کہاکہ اس وضاحت کے بعد کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ منفی بیانات کی آڑ میں اپنی شہرت کرتا پھرے ۔ ہماری تمام مذہبی رہنماوٴں سے درخواست ہے کہ یہ بتائیں کہ اس وضاحت کے بعد کسی کو الزام تراشی کا کیا حق ہے ۔علمائے کرام نے مزید کہاکہ میڈیا اس مسئلہ کو کیوں اچھال رہا ہے ۔اب جبکہ حقیقی صورتحال ہمارے علم میں آئی ہے تو ہماری اسلامی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنا اخلاقی اور اسلامی دینی فریضہ پورا کریں

  78. الطاف حسین کے انٹرویو سے پیدا والے اس قضیہ کے حل کی تین صورتیں ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ الطاف حسین کی طرف “عذر گناہ بدتر از گناہ“ کے مصداق دی جانے والی وضاحت مان لی جائے جیسے کہ مفتی نعیم صاحب نے اوپر کی خبر میں کیا ہے۔ اس میں نقصان یہ ہوگا کہ یہ بات اسٹیبلش ہوجائے گی کہ قادیانیوں کو تبلیغ کی اجازت دینا، ان کی عبادت گاہ کو مسجد کہنااور ان کو مسلمان جیسا تصور کرنا عین اسلامی ہے جو ایک بہت خوفناک چیز ہے۔ کیوں کہ الطاف حسین صاحب نے وضاحت میں ان تینوں بیانات پر توبہ کی ہے اور نہ ہی کوئی ذکر جبکہ انٹرویو میں‌یہ بات صراحت کے ساتھ کہی گئی ہے۔

    دوسری صورت یہ ہوسکتی کہ الطاف حسین معافی نہ مانگے، توبہ نہ کریں اور اپنی عاقبت خراب کریں لیکن علمائے کرام عوام کے سامنے درست موقف رکھیں جیسا کہ علمانے رکھا ہے ماسوائے مفتی نعیم کے جن کو شاید پورے معاملے کا یا تو علم نہیں یا وہ پھر عالم دین ہونے کے باوجود اسلام سے غداری کا مرتکب ہورہے ہیں یا پھر کراچی میں رہنے کے باعث ڈر رہے ہیں۔ اس صورت میں بات واضح ہوجائے گی کہ الطاف حسین اسلام سے خارج ہوچکے ہیں لیکن اصل اسلام بھی واضح ہوگا اور لوگ گمراہ نہیں‌ ہوں‌گے کیوں کہ علمائے دین کا موقف صراحت کے سامنے آچکا ہوگا۔

    تیسری صورت سب سے مناسب ہے وہ یہ ہے کہ الطاف حسین ان تین باتوں کا اعتراف کرکے اللہ سے صدق دل سے توبہ کریں اور مسلمانوں سے بھی معافی مانگ کرآئندہ قادیانیوں کی حمایت نہ کرنے کا دعویٰ کریں۔ اس صورت میں خود الطاف حسین کا قدر اونچا ہوگا اور ان کے مخالفین بھی ان کے لیے اچھے جذبات رکھیں گے وہاں دوسری طرف قادیانیوں کو ایک پیغام جائے گا کہ امت مسلہ زندہ ہے، نبی کے امتی زندہ ہیں۔،مبشر لقمان جیسے قادیانی آئندہ یا تو میڈیا پر میزبانی نہیں کریں گے یا پھر کم از کم ایسے سوالات نہیں کریں گے۔ آخری صورت بہتر ہے۔ ہم یہی چاہتے ہیں۔ ہونا یہی چاہیے لیکن اگر یہ باوجود کوشش کے ممکن نہ ہو تو کم از کم دوسری صورت بہت ناگزیر ہوجائے گی۔ آخری صورت الطاف حسین صاحب کے ہاتھ میں ہے ورنہ دوسری صورت تو ہونی ہی ہے۔
    شکریہ

  79. فرحان دانش صاحب آپ کی خبر کا جواب اس خبر میں ہے براہ کرم ملاحظہ کریںلطاف حسین بتائیں کہ قادیانیوں کو کافر سمجھتے ہیں یا نہیں
    کراچی ( وقائع نگار خصوصی) عالمی تحفظ ختم نبوت کے رہنماءمولانا اللہ وسایا نے کہا ہے کہ الطاف حسین کا یہ کہنا کہ میں نے مرزا طاہر کی وفات پر تعزیت کی تھی جس پر لوگوں نے مجھ پر کفر کے فتوے لگائے اور اب میں دوبارہ کفر کرنے جارہاہوں ‘اس جملے سے رضا بالکفر ثابت ہوتا ہے اور فقہا کہتے ہیں کہ رضا بالکفر بھی کفر ہے۔ انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا ہے جو ان کے ایمان اور آخرت کے لیے نقصان دہ ہے ‘ اس کے لیے ان کو وضاحت اور صراحت کے ساتھ کھلے دل سے توبہ کرنا چاہیے۔ ان کی خیر خواہی کا تقاضا یہی ہے کہ ان سے یہ مطالبہ کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جسارت سے خصوصی گفتگو میں کیا۔مولانا وسایا نے وضاحت کی کہ ٹی وی چینلز پر جو ٹیکر چل رہا ہے اس ضمن میں میری درخواست ہے کہ مجھ سے کسی نے سوال کیا تھا کہ الطاف حسین کی تازہ وضاحت آئی ہے ‘ اس پر میں نے اتنا کہا کہ انہیں اگر اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور انہوں اپنے آپ کو مسلمان کہلوایا ہے کہ میرے عقائد یہ ہیں اس حد تک تو صحیح ہے لیکن ان کی وضاحت اس وقت تک قابل قبول نہیں ہے کہ جب تک وہ واضح طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرکے وعدہ نہ کریں کہ میں آئندہ قادیانیوں کی حمایت نہیں کروں گا۔ تو اس بیان کا پہلا حصہ لیا گیا اور دوسرا حصہ نشر نہیں کیا گیا۔ جہاں تک اس جملے کا تعلق ہے کہ الطاف حسین نے بروقت وضاحت کرکے شرپسندوں کے منہ بند کردیے ہیں تو میں نے ایسا کوئی جملہ نہیں کہا ہے۔مولانا وسایا نے مزید کہا کہ الطاف حسین کہتے ہیں کہ قادیانیوں کو تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیے تو ہم درخواست کرتے ہیں کہ قادیانی قادیانیت کے نام سے اپنے عقائد کی تبلیغ کریں ‘ اپنی اصطلاحات استعمال کریں ‘ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ قادیانی یہ کہتے ہیں مرزا غلام احمد محمد رسول اللہ تھا ‘ تو کیا ہم قادیانیوں کو یہ اجازت دے دیںکے مرزا قادیانی محمد رسول اللہ تھا؟ یہ کہ مرزا قادیانی کی بیوی ام المومنین تھی اور یہ کہ وہ سید النسا تھی اور یہ کہ مرزا قادیانی کے دیکھنے والے صحابی تھے اور یہ کہ غلام قادیانی کا پہلا خلیفہ نورالدین ابوبکر صدیق تھا ‘ کیا قادیانیوں کو یہ سب کچھ کہنے کی اجازت دے دیں ؟ کیا ایک سادہ سا جملہ ان کو تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیے کہہ کرخلاف اسلام عقائد کی ترویج کی اجازت دی جائی؟الطاف حسین یہ شاید بھول گئے کہ قادیانیت اور اسلام میں مشرق و مغرب کا فرق ہے اور قادیانیوں کے عقائد سراسر اسلام کی نفی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر قادیانیت سچی ہے تو پھر معاذاللہ اسلام غلط ہوگا۔ ان کو تبلیغ کی اجازت دینے کا مطالبہ کرنا الطاف حسین کی لاعلمی کی دلیل ہے۔انہوں نے کہا کہ الطاف حسین ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیںجو دین ودنیا کی خسارے والی بات ہے تو الطاف حسین کو یہ خوش فہمی ہوگی کہ میرے کچھ کہنے سے قادیانیت بچ جائے گی تو انہیں یہ یقین کرنا چاہیے کہ وہ ایک ایسی کشتی میں سوار ہورہے ہیں جس کو یہ بچانے کی کوشش کررہے ہیں ‘ ہمارا موقف یہ ہے کہ قادیانیت خود بھی ڈوبے گی اور جو اس کو بچانے کی کوشش کرے گا وہ بھی انشااللہ ڈوبے گا۔ اب یہ کہنا کہ میں فلاں مفتی کا پوتا ہوں‘یہ سارے عذرلنگ ہیں۔ کاش ان کے دادا زندہ ہوتے تو ان کا بھی وہی موقف ہوتا جو علامہ اقبال کا تھا‘ جو پاکستان کی پارلیمنٹ کا تھا اور جو پاکستان کے سارے مکاتب فکر کے علمائے کرام کا ہے۔ افسوس کہ الطاف حسین کو قادیانیوں کی حمایت کرتے ہوئے اپنے آباواجدا د کا خیال رہا اور نہ ہی محمد عربی کی عزت و ناموس کا۔دوسری جانب تنظیم المدارس پاکستان کے صدر اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمن نے جسارت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قادیانیوں کے ارتداد اور کفر پر اُمت کا اجماع ہے‘ ختم نبوت کا عقیدہ ‘ قرآن و سنت اور اجماع قطعی سے ثابت ہے لہٰذا الطاف حسین یہ نہ بتائیں کہ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں بلکہ یہ بتائیں کہ کیا وہ قادیانیوں کو کافر ومرتد سمجھتے یا نہیں ۔

  80. I just want to ask one question from all the people who think Jamaat-e-Ahmadiyya is wrong.

    Out of one lac twenty four thousand Prophets that Allah sent on this earth, name one who when came, the leaders, king, government, or any other big shots of that time got together and decided that he is a true prophets sent by Allah, and started following him.

    You will find not a SINGLE ONE. This is because it is the way of Allah that when a prophet is sent, people oppose him. When Hazoor (peace be upon him) came, he was opposed. When Hazrat Moosa came, he was opposed, when Hazrat Iisa came he was opposed, and all the other prophets.

    I am not saying that the opposition make a person who is declaring to be a Prophet, a true person, but neither it makes him a wrong person.

    In todays world, the majority of people (Christians, Jews, Hindus, Budists etc.) do not agree that Hazoor (peace be upon him) was a Prophet sent my Allah. So does that change anything about him ?? No. He is a true prophet, even if not a single person on earth believes in him.

    So, please do not oppose Jamaat-e-Ahmadiyya based on what you have just heard. Read Quran and Hadees, and read them in depth. Try to understand what it says on this subject, what the Maulvis say and what Jamaat-e-Ahmadiyya says. Then decide what is true. Because if in the end, Jamaat-e-Ahmadiyya turns out to be true, and you had rejected it after study, then Allah may forgive you, but if you had blindly followed the maulvis then you can be in trouble.

    This is just a humble request from me to all the people of the world.

  81. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین؟؟؟؟
    بڑی چھلانگیں لگا رہے ہو۔ وقادیانیت بل لگا کر بڑے خوش ہو رہےہو۔
    قادیانیت بل؟؟؟؟ نہ خدا ہے؟ نرآن ہے؟ نہ حدیث ہے؟
    ہمیں ضرورت ہی نہیں کہ تم لوگ ہمیں اسلام یا مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ دو۔
    جو شخص ادب سے بات کرنا ہی نہیں جانتا۔ اس سے بات کرنا ہی فضول ہے۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے آگے بین بجانے والی بات۔
    لعنت اللہ علی الکاذبین۔ اب تمہاری کسی بھی بات کا جواب دینا میرے لئے نہ ضروری ہے اور نہ تم اس قابل ہو۔
    تمہیں تو انسان بھی کہنا گوارا نہیں کرتا۔
    اللہ تمہیں ہدایت دے۔ اور خدا کے پیاروں کی شان میں گستاخیاں کرنے کی خود سزا دے۔ آمین اللھم آمین ثم آمین

    • ایم کیو ایم اور قادیانیوں میں ایک قدر مشترک ہے۔ اب دیکھیے نا “خدا کا بندہ” جاوید صاحب سے کیا کہہ رہے ہیں۔ ان دونوں مخلوقات کو جتنا بھی سمجھو یہ کبھی نہیں سمجھیں گے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے قالو سلاما لیکن ہم سجھتے ہیں کہ ان کے لیے ہدایت کی دعا بھی کرتے رہیں گے اور ان کی کم علمی بھی دورکریں۔ مرزا قادیانی کو تو اللہ نے موت بھی عبرت والی دے دی ۔ ٹھیک تمہارے ابا واجداد تو گمراہ تھے تم تو عقل سے کام لو اور اس فراڈ قادیانیت سے برات کا اعلان کرکے مسلمان ہوجاو۔ لیکن وہی نا یہ قادیانی بھی ایم کیو ایم کی طرح جھوٹ پر قائم رہ رہ کر اس فارمولے پر عمل کرنا چاہتے ہیں کہ جھوٹ اتنا بولو کہ وہ سچ لگنے لگے۔ لیکن جناب سچ واضح ہے جتنا زیادہ جھوت بولوگےاتنا ہی زیادہ جھوٹا کہلاوگے۔

      • ثمینھ شاھد
        تم تو ایسے کہہ رہی ہو گویا کہ تمہارے منہ سے نکلی ہر بات وحی و الہام ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔
        ضروری نہیں ہوتا کہ ہر بات کا جواب بهی دیا جائے۔ ہدایت تو اللہ کے فضل سے ہی ملتی ہے۔
        ساری دنیا منہ پر نہ سہی، غیر موجودگی میں احمدیت کی تعریف ہی کرتی ہے۔
        دل ہمارے ساته ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔گو منہ کرے بک بک ہزار
        ہدایت پانی ہے تو آج ہی احمدیت حقیقی اسلام کی طرف آ جاو۔

        http://www.alislam.org/

        احمدیت زندہ باد احمدیت زندہ باد احمدیت زندہ باد
        حقیقی اسلام احمدیت زندہ باد
        حقیقی اسلام احمدیت زندہ باد
        حقیقی اسلام احمدیت زندہ باد

      • alislam kai ilawa deegar qadiani sites ka address bhi yahan dado takeh logo per wazih ho keh Behodiat Almaaroof Qadianiat kin kin wesbites se logo ko gumrah kar raha hai.

      • عمران شاھ
        لعنة الله علی الکاذبین
        لعنة الله علی الکاذبین
        لعنة الله علی الکذبین
        آمین ثم آمین ثم آمین
        جناب یه ویب سائٹ تو برداشت ہوئی نهیں۔
        اگر ہمت ہے اور تهڑی سی شرم بهی ہے تو دلائل سے ضرور ثابت کرنا که اس ویب سائٹ کیا گمراہ کن بات ہے۔ اگر اس کی توفیق نہین ہے تو کم از کم اپنا منہ تو بند رکهو۔

        http://www.alislam.org/

  82. میں حیران ہوں کہ ایک آدمی الطاف حسین کا جماعت احمدیہ کے حق میں بولنے کے نتیجے میں تمھارے سارے مولویوں اور ان کے ساتھیوں کا یہ حال ہے۔ میں حیران ہوں کہ خدا کا نام اس دنیا میں پھیلانے والے جنہوں نے بےشمار زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ کر کے اپنے خرچ پر ساری دنیا میں پھیلا دیا۔ سعودی عرب جس کے پاس دولت کے پہاڑ ہیں ابھی تک اس نے صرف 24 زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کیے ہیں۔ مجھے لگتا ہے آپ سب لوگ اگر ایک مرتبہ جماعت احمدیہ کی حقیقی تعلیم سے آگاہ ہو گئے تو آپ ضرور احمدیت قبول کرلیں گے۔ ہمارا پیغام امن اور سلامتی ہے اس میں آنے کی آپ سب کو دعوت ہے۔
    میرا خیال ہے اس لمبی بحث کو اب سمیٹنا چاہئے میں ہہاں پر تمام حضرات سے جو اپنے آپ کو اسلام کے ٹھیکیدا قرار دے رہے ہیں کچھ سوال کرتا ہوں آپ جواب دے دیں مسئلہ حل ہو جائے گا۔
    1۔تم سب لوگوں نےایک شور مچا رکھا ہے اسمبلی اسمبلی کیا اسمبلی کے تمام فیصلے قبول ہہیں۔ کیا اس میں شامل لوگوں میں زانی شرابی اور رشوت خور اور دھوکے باز لوگ شامل نہیں ہیں۔
    2۔ کیا تم لوگ قرآن پر اسمبلی کو ترجیح دیتے ہو کہ اس نے کافر قرار دیا۔ قرآن سے ثابت کردو میں سب کچھ مان لوں گا۔
    3۔کیا تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اسمبلی کو زیادہ اہمیت دیتے ہو۔ اور اسمبلی پر ایمان لاتے ہو۔ کیا ہمارے پیارے نبی نے بھی کوئی ایسا فیصلہ کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں من صلی صلوتنا استقبل قبلتنا و اکل ذبیحتنا فذالک المسلم الذی لہ ذمۃ اللہ و ذمۃ رسولہ ولا تخفروا فی ذمتہ کہ جو ہماری نماز پڑےھے ہمارے قبلے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے ہمارا ذبیحہ کھائے وہ ایسا مسلمان ہے جس کا ذمہ اور ضمانت خدا اور اس کےرسول لیتے ہیں پس اس کے زمہ میں کمی مت کرو۔پس اب تم سب لوگوں کی لڑائی احمدیوں سے نہییں ہے بلکہ خدا اور اس کے رسول ہے لڑ لو جتنا لڑنا ہے۔
    اللہ تعالیٰ تم لوگوں کی آنکھیں کھولے اور تمھیں بتائے کہ اسبملی تمھارے مذہبی مسائل کے حل کے لئے نہیں ہے بلکہ اس کے قرآن اور اس کے رسول کی تعلیمات ہیں۔ ورنہ دھوکے میں رہو گے۔

  83. ” کل مسلمانوں نےمجھےقبول کر لیا ہےاور میری دعوت کی تصدیق کر لی ہےمگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نےمجھےنہیں مانا“ ۔ ” میرےمخالف جنگلوں کےسور ہو گئےاور ان کی عورتیں کتیوں سےبڑھ گئیں“

    ” بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس (انگریزو ں کی) گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بد خواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے”
    (شہادت القرآن ص ۸۴، روحانی خزائن ص ۳۸۰، ج۲)
    نقل کفر کفر نہ باشد۔ یہ ہیں وہ چند حوالہ جات جو مرزا ملعون کی گندی زبان کے بارے میں ہیں جو وہ مسلمانوں کے بارے اپنی گندی ذہنیت کے اظہار کے لئیے استعمال کرتا تھا۔
    “جنگ سے مراد تلوار و بندوق کی جنگ نہیں کیونکہ یہ تو سراسر نادانی اور خلاف ہدایت قرآن ہے جو دین کے پھیلانے کے لیے جنگ

    قادیانیوں کی اوقات ہے کہ جب ان سے جواب نہ بن پڑے ، یہ ڈھیٹوں کی طرح اڑ جاتے ہیں اور گالی گلوچ سے بھی باز نہیں آتے۔ یہی انکا مرزا ملعون کرتا تھا ۔ اور یہ اپنے تئیں اسکی سنت پہ چلتے ہیں۔ مسلمان تو مذھب اسلام کی رُو سے انکے معبدوں کو مساجد نہیں کہتے۔ کونکہ مساجد صرف اسلام میں ہوتی ہیں۔ چہ جائیکہ یہ ہمیں ہمارے دین کے خلاف برگشتہ کریں اور اپنے ملعون مرزا اور اپنے آپ کو درست کہلوانے کے ڈھیٹ پُنے کی ایک مثال آپ تمام مسلمان اس بلاگ پہ اس بحث سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کس قدر مکار ، دھوکے باز، بھیس بدلنے والے، جھوٹ بولنے والے۔ مکر فریب سے کام لینے والے ۔ گندی زبان سے بات کرنے والے۔ جب کچھ نہ بن پڑے ڈھیٹ بنے رہے والے کہ ان کے مرزا ملعون کی تعلیمات انھی سبھی باتوں پہ مبنی ہیں۔ اگر یہ چیلنج کریں تو انھی کی درسی کتابوں گندے اور واہیات جس سے مرزا کے ذہنی مریض ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔ اسکے نئے حوالے لکھ دونگا۔ مگر ان کو شرم پھر بھی نہیں آئے گی۔ اب مسلمانوں کو پتہ ہونا چاہئیے کہ کیوں؟ ۔

    کیوں؟ اسلئیے کہ بقول ان کے یہ ہر صورت میں اپنی جھوٹے مذھب اور جھوٹے پیشوا کی تعلیمات پہ عمل اور اسکی تقلید کر کے ” ثواب” کما رہے ہوتے ہیں۔ یہی انکا مرزا لعنتی کرتا تھا یہ ہی یہ سب کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ سب جائز ہے۔

    یہاں پہ یہ “فرضی تبلیغ ” کے ہاتھوں مسلمانوں کے سامنے اچھا بننے کے لئیے کسی حد تک بہتر زبان استعمال کر رہے ہیں ۔جبکہ انکے پاس انکے جھوٹ کے بارے میں دلائل ختم ہو جائیں ۔ اور انھیں علم ہو کہ انھیں کسی طور سزا نہیں دی جاسکے گی تو یہ مرزا ملعون کی طرح مسلمانوں کو سر عام گالیاں دینے سے بھی باز نہیں آتے ۔

    منافقت کرتے ہوئے جس طرح یہ منافقین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآنِ کریم کے حوالہ ءجات دے کر مسلمانوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔ اس سے سادہ لوح یا کم علم رکھنے والے مسلمانوں کو یہ لوگ وقتی طور پہ اپنے ساتھ ملانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ یہ منافقین اور ان کا ملحدو ملعون مرزا
    سازش کے تحت صرف مسلمانوں کو دہوکے میں رکھنے کے لئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو “خاتم النبین” کہتا اور لکھتا ہے اور قرآن کریم کو الہامی “خاتم” کتاب۔ مگر سازش یہ ہے کہ نہ مرزا ملعون ملحد اور نہ ہی اسکے پیروکار ختم نبوت کا اعلان کرتے ہیں۔ کیونکہ مرزا زبان کو ٹھیڑا کر کے لفظ “خاتم ” کو” آخری “کے معنوں کی بجائے ۔ “مہر” کے معنوں میں لیتا ۔ کہتا۔ لکھتا۔ اور تبلیغ کرتا رہا۔ کیونکہ اسطرح مرزا ملعون ہندؤستان میں بسنے والے مسلمانوں کے جائز غیض غضب سے بچتے ہوئے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیوں کی مہر یا دوسرے الفاظ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جلیل القدر نبی قرار دیتے ہوئے مگر مکاری سے اندرون دل اور اندرون جماعتِ منافقین قادیانیوں کے سامنے مرزا ملعون نبوت کا سلسلہ جاری و ساری بتاتے ہوئے نعوذوباللہ اپنے نبی ہونے کا جواز پیش کرتا تھا۔ بعین اسی طرح جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہودی پیشواء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اسلام پہ اپنے مذھبی تفاخر کی وجہ سے شرارت سے لفظ “وانظرنا” کو جس کے معنی عام عربی میں”سننا “کے لئیے جاتے اس لفظ کو زبان کو زرا ٹھیڑا کرکے دوسرے تلفط میں ادا کرتے جس کے معنی ” چراوھے کا بیٹا ” بیٹا مفہوم نکلتا جس پہ اللہ سبحان و تعالٰی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحی بیجھی اور یہ واقعہ قرآنِ کریم میں محفوظ ہے ۔ اور مرزا ملعون نے ان یہودیوں کی طرح لفظ “خاتم” کو اپنی جھوٹی نبوت کے لئیے ٹھیڑا کر کے استعمال کیااور یہ وہ سازش ہے جو یہ کاذبین کرتے ہیں ۔ کہتے کہ مرزا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو “خاتم النبین اور قرآنِ کریم کو “خاتم” الہامی کتاب مانتا تھا اور اسکی جھوٹی تعلیمات کے حوالے بھی کمال ڈھٹائی سے دینے سے نہیں چُوکتے ۔ چونکہ سادہ لوح مسلمانوں کے پیدائشی طور پہ مسلمان ہونے کی وجہ سے دین اسلام کے بارے میں واجبی سی معلومات ہوتی ہیں اسلئیے یہ انھیں دہوکے اور ہیر پھیر سے اپنے مرزا ملعون کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جبکہ واضح طور پہ انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کہتے اور لکھتے ہوئے موت آتی ہے۔

    اوپر کہیں اسی قادیانی نے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو” خاتم النبین” اور قرآنِ کریم کو “خاتم ” الہامی کتاب لکھ کر انکے جھوٹے پیروکار کا آزمودہ چانکیائی فلسفے کے تحت ہم مسلمانوں کو دہوکہ دینے کی کوشش کی ہے ۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے سے انکار کیا ہے۔

    میری رائے میں اس تھوڑی سی بحث سے ، مسلمان خواتین و حضرات سمجھ گئے ہونگے کہ یہ کس خطرناک حد تک مکار ، دہوکے باز اور سازشی ہیں ۔ اور کیوں کرانکی شناخت الگ سے ہونی ضروری ہے۔ یہ بہت ناگزیر کہ پاکستان میں قانون سازی کرتے ہوئے ان کے نام کے ساتھ قادیانی یا مرزائی احمدی لکھا جائے۔

  84. الطاف حسین کو چاہئیے کہ نہ صرف وہ اپنے مسلمان ہونے یعنی ختمِ نبوت پہ یقین کا اعلان کرنے کے ساتھ قادیانیوں کو اپنی زبان سے کافر قرار دے ۔ ورنہ ایم کیو ایم کے عام کارکنان بےچارے کہاں کہاں وضاحتیں کرتے پھریں گے۔ یہ اس لئیے بھی ضروری ہے کہ سازشی قادیانیوں کی امیدوں پہ اوس پڑ جائے اور وہ اپکستان میں پھر سے شرارتوں کے نئے خواب دیکھنے شروع ہو گئے ہیں۔ ان سے باز آجائیں۔

  85. ’’ انگریزوں نے بڑی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ تحریکِ نجدیّت کا پودا( یعنی اہلِ حدیث جسے وہابی تحریک یا تحریکِ نجدیّت بھی کہتے ہیں۔ ناقل) ہندوستان میں کاشت کیا اور پھر اسے اپنے ہاتھ سے ہی پروان چڑھایا۔‘‘( طوفان۔ ۷ نومبر ۱۹۶۲ء)

  86. دیکھیں تاریخ کس طرح ثبوت مہیّا کرتی ہے۔ دیوبندی فرقہ کے تعلیمی مذہبی ادارہ ندوۃ العلماء کی بنیاد ہی انگریزوں نے رکھی تھی۔ چنانچہ اس ادارہ کے اپنے رسالہ ’’ النّدوہ‘‘ نے یہ تاریخی شہادت قلمبند کی کہ

    ’’ ۲۸ نومبر ۱۹۰۸ ء کو دارالعلوم ندوۃ العلماء کا سنگِ بنیاد ہز آنر یبل لیفٹیننٹ گورنر بہادر ممالک متّحدہ سرجان سکاٹ ہیوس کے سی آئی ای نے رکھا۔‘‘( النّدوہ۔ دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۴)

    اسی صفحہ پر آگے یہ بھی لکھا ہے کہ

    ’’ یہ مشہور مذہبی درسگاہ ایک انگریز کی مرہونِ منّت ہے۔‘‘

    یہی نہیں اس کے قیام کی غرض و غایت اس کا مقصد اور ماٹو یہ بھی بیان کیا کہ اس میں تیّار ہونے والے

    ’’ علماء کا ایک ضروری فرض یہ بھی ہے کہ گورنمنٹ کی برکاتِ حکومت سے واقف ہوں اور ملک میں گورنمنٹ کی وفاداری کے خیالات پھیلائیں ۔‘‘( النّدوہ۔ جولائی ۱۹۰۸ء)

    Israr, Tokyo Japan

  87. جہانتک اس دیوبندی فرقہ کی ایک تنظیم مجلسِ احرار کا تعلّق ہے جو جماعتِ احمدیہ کی مخالفت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتی۔ اس تنظیم کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے اس کے ایک بہت بڑے لیڈر مولانا ظفر علی خان، مدیر روزنامہ ’زمیندار ‘لکھتے ہیں۔

    ’’….. آج ’’ مسجد شہید گنج‘‘ کے مسئلہ میں احرار کی روش پر دوسرے مسلمانوں کی طرف سے اعتراض ہونے پر انگریزی حکومت احرار کی سپر بن رہی ہے۔ اور حکومت کے اعلیٰ افسر حکم دیتے ہیں کہ احرار کے جلسوں میں گڑ بڑ پیدا نہ کی جائے۔ تو کیا اس بدیہی الانتاج منطقی شکل سے یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ مجلسِ احرار حکومت کا خود کاشتہ پودا ہے۔ جس کی آبیاری کرنا اور جسے صرصرِ حوادث سے بچانا حکومت اپنے ذمہ ہمّت پر فرض سمجھتی ہے۔‘‘( روزنامہ ’’زمیندار‘‘ ۳۱ اگست ۱۹۳۵ء)

    Israr Tokyo Japan

  88. ’’ اب اے مخالف مولویو! اور سجادہ نشینوں!….. یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودہ ہے۔خداا س کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ وہ راضی نہیں ہوگا جب تک کہ اس کو کمال تک نہ پہنچاوے اور وہ اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کے گرد احاطہ بنائے گااور تعجب انگیز ترقیات دے گا۔کیا تم نے کچھ کم زور لگایا۔پس اگر یہ انسان کا کام ہوتاتو کبھی کا یہ درخت کاٹا جاتا اور اس کا نام و نشان باقی نہ رہتا۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات۔جلد ۲ صفحہ۲۸۱،۲۸۲)

    نیز آپ نے یہ پر تحدّی اعلان بھی فرمایا کہ

    ’’ دنیا مجھ کو نہیں پہچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ یہ ان لوگوں کی غلطی ہے اور سراسر بد قسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔ میں وہ درخت ہوں جس کو مالکِ حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔….. اے لوگو! تم یقیناً سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔ اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں تب بھی خدا ہرگز تمہاری دعا نہیں سنے گا اور نہیں رکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کر لے۔….. پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو۔ کاذبوں کے اور منہ ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور۔ خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا۔…… جس طرح خدا نے پہلے مامورین اور مکذّبین میں آخر ایک دن فیصلہ کر دیا اسی طرح وہ اس وقت بھی فیصلہ کرے گا۔ خدا کے مامورین کے آنے کے بھی ایک موسم ہوتے ہیں اور پھر جانے کے بھی ایک موسم۔ پس یقیناً سمجھو کہ میں نہ بے موسم آیا ہوں اور نہ بے موسم جاؤں گا۔ خدا سے مت لڑو! یہ تمہارا کام نہیں کہ مجھے تباہ کر دو۔‘‘( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۳،۱۴)

  89. وفات پر اعتراض کا جواب

    i:۔ وصال کا سبب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس درد اور کرب کے ساتھ اسلام پر حملوں کے دفاع میں مصروف تھے۔ اس کے لئے دن رات کی علمی محنتِ شاقّہ ، آرام میں کمی اور غذا کی طرف سے لاپرواہی کے نتیجہ میں آپ کو اعصابی کمزوری کی وجہ سے اسہال کا مرض اکثر ہو جاتا تھا ۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ جس صبح حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی ہے اس سے ملحقہ کئی دن آپ مسلسل دن رات تحریر وتقریر میں مصروف رہے حتّٰی کہ وفات سے بیس گھنٹے قبل بھی آپ نے لاہور میں صاحبِ علم افراد کے سامنے ایک طویل تقریر فرمائی ۔اس کی وجہ سے آپ کو اعصابی کمزوری لاحق ہوئی پھر رات کو اسی وجہ سے اسہال بھی آئے۔ اس کیفیت کا ہیضہ سے دُور کا بھی تعلق نہیں۔ نہ ہی روایات میں ڈاکٹروں کی طرف سے اس کا ذکر ملتا ہے۔

    حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کی صرف ایک روایت ہے جو حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے مکذّبین ایسے رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ گویا آپ کی وفات کی وجہ یہ تھی کہ آپ اپنے دعوٰی میں صادق نہ تھے۔

    حقیقتِ حال یہ ہے کہ حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ واقعۃً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وبائی ہیضہ ہو گیا تھا بالکل غلط بات ہے۔ اس فقرے کا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت میر صاحب سے استفسار کیا کہ ’’ مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے ؟ ‘‘ اور محض پوچھنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ واقعۃً وہ بات ہو بھی گئی ہو۔

    ایسی حالت میں جبکہ اعصابی کمزوری ہو اور اس کی وجہ سے اسہال کی مرض بھی لاحق ہو تو نقاہت بے حد بڑھ جاتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سر پر چوٹ آنے کی وجہ سے حالت دِگر گوں ہو تو متاثرّ شخص سے یہ توقع رکھنا کہ اس کے ذہن میں ایک صحت مند شخص کے صحت مند ذہن کی طرح ہر بات پوری تفصیلات کے ساتھ مستحضر ہو ، انصاف کے خلاف ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ پر بھی ایک مرض کی وجہ سے ایسا وقت آیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔

    انّہ لیخیّل الیہ انّہ یفعل الشّی وما فعلہٗ

    (بخاری ۔ کتاب بدء الخلق ۔ باب فی ابلیس وجنودہ )

    ترجمہ :۔ آپ ؐ کو خیال گذرتا تھا کہ آپ ؐ نے گویا کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ ؐ نے ایسا کیا نہ ہوتا تھا۔

    (یہاں خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ حضرت امام بخاری ؒ اس حدیث کو ابلیس اور اس کے لشکر کے باب میں لائے ہیں۔ شاید نظرِ کشفی میں انہیں ان لوگوں کا علم ہو گیا ہو کہ ابلیس اور اس کے چیلے کون ہیں۔)

    پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک ایسے فقرہ پر راشد علی اور اس کے پیر کا بغلیں بجانا بعینہ اسی طرح ہے جس طرح آنحضرت ﷺ کے بعض بشری عوارض پر مستشرقین نے استہزاء کئے ہیں۔

    اس فقرے میں ’’ وبائی ہیضہ ‘‘ کا ذکر ہے۔ جبکہ تاریخی ریکارڈ شاہد ہے کہ اپریل ، مئی ۱۹۰۸ء میں پنجاب میں یہ وبا تھی ہی نہیں ۔ علاوہ ازیں یہ بھی تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے کہ لاہور میں اس وجہ سے کوئی موت نہیں ہوئی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں بھی ہیضہ کی کوئی علامت موجود نہ تھی ۔اس لئے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معالج میجر ڈاکٹر سِدر لینڈ پرنسپل میڈیکل کالج لاہور نے آپ کی وفات کے سرٹیفکیٹ میں لکھا تھا کہ آپ ؑ کی وفات اعصابی اسہال کی بیماری سے ہوئی ہے۔ چنانچہ اس وقت جتنے بھی اطبّاء اور ڈاکٹر آپ کے معالج تھے یا ارد گرد تھے وہ سب ڈاکٹر سِدرلینڈ کی رائے سے متفق تھے کیونکہ ا س کے علاوہ سچائی اور تھی ہی کوئی نہیں۔

    اسی طرح ڈاکٹر کننگھم سِول سرجن لاہور نے جو سرٹیفیکیٹ جاری کیا اس میں اس نے تحریراً یہ تصدیق کی کہ مرزا صاحب کی وفات عام اسہال کی شکایت سے ہوئی ہے ۔ اس اسہال کی وجہ اعصابی کمزوری تھی نہ کہ ہیضہ۔

    اس پر مزید گواہی کے سامان خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمائے کہ جب آپ ؑ کی نعش مبارک ،قادیان لے جانے کے لئے لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچی اور گاڑی میں رکھی گئی تو راشد علی اور اس کے پیر کی قماش کے لوگوں نے محض شرّ پیدا کرنے کے لئے یہ جھوٹی شکایت اسٹیشن ماسٹر کے پاس کی کہ مرزا صاحب ہیضہ کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں۔ چونکہ وبائی مرض کی وجہ سے ہیضہ سے وفات پانے والے کو دوسرے شہر لے جانا قانوناً منع تھا اس لئے اسٹیشن ماسٹر نے نعش بھجوانے سے انکار کر دیا ۔اس پرآپؑ کے ایک صحابی، شیخ رحمت اللہ صاحب نے سِول سرجن کا سرٹیفیکیٹ دکھایا تو پھر اسٹیشن ماسٹر کو حقیقتِ حال کا علم ہوا کہ یہ شکایت کرنے والے کہ حضرت مرزا صاحب کی وفات ہیضہ سے ہوئی ہے ، جھوٹے ہیں۔ چنانچہ اس نے اجازت دی اور آپ ؑ کی نعش مبارک قادیان لائی گئی۔ یہ سب واقعات تاریخ احمدیت جلد ۳صفحہ ۵۶۲پر تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔

    پس بیماری کی کیفیت ، علاج ، وفات اور پھر بعدکے تمام واقعات راشد علی اور اس کے پیر کے جھوٹ کوطشت از بام کرتے ہیں اوریہ ثابت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ایک طبعی موت تھی جس میں کوئی غیر طبعی عوامل کار فرما نہیں تھے۔

    ii:۔آخری الفاظ راشد علی اور اس کے پیر نے ایک اختراع یہ بھی کی ہے کہ

    ’’ مرتے وقت کلمہ تک نصیب نہ ہو سکا۔ زبان سے جو آخری الفاظ نکلے وہ یہ تھے۔ ’’ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ ‘‘

    یہ ان دونوں کا جھوٹ ہے۔ یہ خود بخود ایک جھوٹ تراشتے ہیں اور اسے بڑی بے شرمی سے پیش کر دیتے ہیں۔

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے وقت کے تمام حالات اور لمحہ لمحہ کی تفصیلات جماعتِ احمدیہ کی کتب میں درج ہیں جو راشد علی اور اس کے پیر کو پرلے درجہ کا جھوٹا اور فریبی ثابت کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہٗ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کی کیفیّات کی تفصیل لکھتے ہوئے فرماتے ہیں۔

    ’’ جو کلمہ بھی اس وقت آپ کے منہ سے سنائی دیتا تھا وہ ان تین لفظوں میں محدود تھا ۔

    ’’اللہ ! میرے پیارے اللہ ‘‘

    اس کے سوا کچھ نہیں فرمایا۔

    صبح کی نماز کا وقت ہوا تو اس وقت جبکہ خاکسار مولّف (یعنی حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ) بھی پاس کھڑا تھا۔ نحیف آواز میں دریافت فرمایا

    ’’ کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ ‘‘

    ایک خادم نے عرض کیا ہاں حضور ہو گیا ہے۔ اس پر آپ نے بستر کے ساتھ دونوں ہاتھ تیمم کے رنگ میں چھو کر لیٹے لیٹے ہی نماز کی نیّت باندھی مگر اسی دوران بے ہوشی کی حالت ہو گئی۔ جب ذرا ہوش آیا تو پھر پوچھا ’’ کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ ‘‘ عرض کیا گیا ہاں حضور ہو گیا ہے پھر دوبارہ نیّت باندھی اور لیٹے لیٹے نماز ادا کی۔ اس کے بعد نیم بے ہوشی کی کیفیت طاری رہی مگر جب ہوش آتا تھا وہی الفاظ۔

    اللہ ! میرے پیارے اللہ

    سنائی دیتے تھے ۔ ۔۔۔۔۔۔ آخر ساڑھے دس بجے کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دو لمبے لمبے سانس لئے اور آپ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر کے اپنے ابدی آقا اور محبوبِ جاودانی کی خدمت میں پہنچ گئی۔ انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون (سلسلہ احمدیہ ۔صفحہ ۱۸۳ ، ۱۸۴۔مطبوعہ نظارت تالیف و تصنیف قادیان ۱۹۳۹ء)

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بچپن میں دیکھ کر آپ ؑ کے والد صاحب نے فرمایا تھا کہ ’’ یہ زمینی نہیں بلکہ آسمانی ہے ‘‘ یعنی آپ کی ابتداء بھی خدا تعالیٰ کے خاص فضل اور رحمت کے سایہ میں تھی ، باقی زندگی بھی جیسا کہ آپ فرماتے ہیں۔

    ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے

    گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار

    اسی طرح آپ ؑ کی وفات بھی خدا تعالیٰ کے نام پر ہی ہوئی۔ آپ کی زبان پر اسی کا نام تھا اور اسی کے نام کو زبان پر لے کر اس کے حضور حاضر ہو گئے۔

    اس ابدی سچائی کے برخلاف جو بھی کوئی دوسری بات کرتا ہے وہ جھوٹا ہے اور جھوٹے پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہے۔

    • جزاک اللہ اسرار صاحب آپ نے نہایت مناسب علمی جواب سے نوازا ہے مگر کیا کریں یہ قوم اس قابل کہاں؟

    • ویسے ایک بات تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ قادیانی حد سے ذیادہ دروغ گو جھوٹے مکار اور فریبی ہیں یہ دوسروں کو دہوکہ دیتے ہوئے عقلِ سلیم کا یہ نکتہ بھول جاتے ہیں کہ یہ خود اپنے آپ کو دہوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔

      مرزا ملعون و ملحد کی موت کا سبب ھیضہ تھا جیسا اسکے سسر نے لکھا ہے اب یہ اسقدر مستند ثبوت کو جس کا اوپر اصلی عکس کا لنک بھی دیا ہے ۔ اسکے باوجود یہ ادہر ادہر کی تاویلات سے مسلمانوں سے اسقدر جھوٹ بولیں گے کہ ان سے گھن آتی ہے۔

      ایک بات تو اوپر اسرار کذاب قادیانی کی وضاحت سے بھی پایہ ثبوت کو پہنچی کی انکے مرزا خزاب کی موت پاخانے سے ہوئی تھی ۔ اور پاخانے میں ہوئی تھی ۔ کیونکہ اگر یوں نہ ہوتا تو اسرار قادیانی بھی اسے جھٹلانے کی کوشش کرتا۔

      مجھے روزے کی افطاری و تیاری کرنی ہے ۔ اگر تم ڈھٹائی سے اڑے رہے تو تمھارے مرزا کذاب کے نئے مزید شگوفے با ایں دلائل حاضر کرونگا تانکہ مرزا کذاب اور قادیانیوں کے جھوٹ ، فریب و مکر اور لعنتی سازشوں کا پردہ چاک ہوسکے۔

      ہم انشاءاللی کوشش کرین گے کہ پاکستان میں ان کے نام کے ساتھ قادیانی لازمی لکھا جائے اور اس بارے انشاءاللہ یہ کسی کو مسلمان بن کر دہوکہ نہیں دے سکیں۔ اور جس طرح قومی اسمبلی میں قراداد کے ذرئیے انھیں کافر قرار دیا گیا بعین اسی طرح اس کافری نام قادیانی کو ان کے نام کا لازمی حصہ لکھنا قرار دولوائیں گے تا کہ انکے جھوٹ مکر اور سازشوں کو کسی حد تک روکا جاسکے .

  90. مولیٰ بس اور سرار صاحب ؛ آپ کذاب مرزا غلام احمد قادیانی اینڈ کمپنی کے لٹریچر سے بے ہودہ اقتباسات پیش کرکے سمجھتے ہیں کہ اس طرح آپ اپنی شرپسندی میں کامیاب ہوکر اپنی بے ہودہ مذہب قادیانیت کی تبلیغ کریں گے۔ یہاں آپ دو تین قادیانیوں کے سوا جتنے بھی لوگ آتے ہیں وہ نہ تو شاہ دولہ کے چوہے ہیں اور نہ ہی اللہ نے کو بغیر عقل کے پیدا کیا ہے۔ آپ جتنا جتنا یہاں تبصرہ کریں گے اتنا ہی یہ قادیانیت اور اس کے بدبودار پیرو کاروں کے ایکسپوز ہونے کا سبب بنے گا۔ آپ جاری رکھیں اس کو اور ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے رہو۔ مسلمان وزٹرز سے عرض ہے کہ وہ آج ہی اپ لوڈ کیا گیا مضمون “علی خان صاحب قائد تحریک سے مخاطب ہیں” پڑھ لیں۔ اس میں جھوٹے مذہب کے جھوٹے نبی مزرا غلام احمد قادیانی ملعون سے متعلق بہت کچھ پڑھنے کو ملے گا۔ شکریہ
    نوٹ: عین ممکن ہے کہ میری زبان کو سقیانہ قرار دیا جائے لیکن گندگی کو گندگی ہی لکھا جائے گا۔ قادیانیت اتنی انسانیت دشمن اور بدبودار فرقہ باطنیہ کے اس کے لیے بہت برے الفاظ استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ یہاں مناسب ترین الفاظ کا استعمال کیا گیا۔

    • الحمد للہ ہم تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچا رہے ہیں ۔ تلخابہ صاحب اس کو بے ہودہ اقتباسات قرار دے رہےییں۔ یہ تو آپ کا ظرف ہے جتنا اس کو کھولیں اسی قدر ہمہیں رحم آئے گا۔ مگر کیا کریں ہمیں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کہتی ہے کہ اسلام کی پیغام پہنچائیں اور ہم تو اس کو پہنچائیں گے۔ ہاں آپ اپنا کام کرتے رہیں۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات پر عمل کریں گے۔ ہمیں یہی زیبا ہے

  91. آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس

    بد نیت مرزائی اقلیت

    اقلیت کو تحفظ دینا بلاشبہ آئینی ،قانونی ،اخلاقی ،انسانی اور اسلامی فریضہ ہے ۔ لیکن ایسی اقلیت جو اکثریت کیلئے دردسر کا سبب ہی نہ بنے ، اُنکے مذہبی جذبات کو مجروح ہی نہ کرے بلکہ اُن کے عقیدے اور ایمان پہ حملہ آور ہواُسے کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے۔خصوصاََ ختم نبوت کے حوالے سے شکوک وشبہات پھیلانے والی جماعت مرزائی یا قادیانی گوپاکستان کے قانون کے مطابق اقلیت قرار پاکر تحفظ کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ شرعی طور پردین سے منافقت کرنے والا مُرتد واجب القتل ہے ۔پھر اللہ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا باغی بھی ہو اورنام نہاد مسلمان کا ٹائٹل استعمال کرے۔ یہ ناقابل برداشت ہے ۔

    چادرِ نبوت کی طرف اپنے ناپاک ہاتھ بڑھانے والے نہ صرف راندہ درگاہ ہوگئے بلکہ وہ قانونی ،آئینی ،اخلاقی لحاظ سے بھی ”ذلت آمیز“ انجام سے دوچار ہوئے۔ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا بھلے اپنا انداززندگی تھا لیکن شاتم رسول مرزاغلام احمد قادیانی کی ”زریت ابلیس “کوپاکستان کے آئین میں ”اقلیت“ قرار دےکر یقینا اُس نے اپنی بخشش کاسامان کرلیا۔یہ ایک تاریخ سازفیصلہ تھاجس کی وجہ سے عوامی ردعمل سے خوفزدہ ہوکر زیادہ ترقادیانی بیرون ملک ”بھگوڑے“ بن کر فرار ہوگئے کہ پاکستان کی سرزمین ان بدنیت ،بدفطرت لوگوں کیلئے تنگ ہوچکی تھی ۔کیونکہ اسلام کے نام پہ سادہ لوح مسلمانوں کوبہکانے کا دھندہ بند ہوچکاتھا۔

    مرزائیت ایسا” ناسُور“ ہے۔ جس کا خوردرواور زہریلا پودا انگریز نے کاشت کیا تھا ۔لیکن علماءکی محنتوں ،کاوشوں ،کوششوں اور مسلمانوں کی قربانیوں نے و ہ رنگ دکھایا کہ مرزائیت کا بھانڈہ بیچ چوراہے” پھوٹ“ گیااوراُنکے مکروہ عزائم بے نقاب ہوگئے۔ پورا یورپ ان کی پُشت پہ ”تھپکی“ دے رہاتھا لیکن خوددار اور غیور مسلمانوں نے اُنکی تمام بھیانک ،خوفناک اور پاکستان کوتوڑنے کی سازشوں کا تانہ بانہ بکھیر کررکھ دیا۔نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہیوں نے ہرمیدان میں اُنکو ”خاک چاٹنے“ پہ مجبور کردیا۔یوں پاکستان میں پھلنے پھولنے کے اِنکے خواب چکناچور ہوگئے۔

    عیسائی اور یہودیوں کی آشیرباد سے مرزائی بیرون ملک رہتے ہوئے بھی پاکستان اور اسلام کو نقصان پہنچانے کے درپہ رہتے ہیں۔انکے ”خبث باطن“ کاایک زندہ جاوید ثبوت یہ ہے کہ فلسطینی مسلمانوں پہ عرصہ حیات تنگ کرنے والے ملک اسرائیل کی فوج میں جو امریکہ کا بغل بچہ بلکہ” ناجائز“ لے پالک بچہ ہے ،مرزائی جوق درجوق شمولیت اختیار کررہے ہیں۔مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس پہ ناجائزقابض، بیگناہ عرب بچوں بوڑھوں نوجوانوں کے قاتل اسرائیل کی فوج میں مرزائیوں کی شمولیت اُنکے ”گندے عزائم“ کا واضع ثبوت ہے کہ وہ اپنی ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے عربوں کے قتل عام میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

    روزنامہ اُمت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والے 6سوقادیانی اسرائیلی فوج میں بھرتی ہوچکے ہیںاور وہ مختلف عہدوں پہ کام کررہے ہیں۔نیزہندوستان کے ساتھ جنگ کارگل میں یہ” ابلیسی زریت“پاکستان دشمن بھارت کیلئے فنڈاکٹھے کرتی رہی۔اِسے کہتے ہیں ”دھوبی کا کُتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا“رپورٹ کے مطابق 1995میں کراچی میں قتل وغارتگری کی آگ بھڑک رہی تھی تو قادیانیوں کے سرکردہ لیڈر نے امن کی بحالی کو مرزائیت کی سلامتی سے وابستہ کرنے کی شرط رکھی تھی ۔بدقسمتی سے کوئی بھی دور حکومت ہو قادیانیوں کاکوئی نہ کوئی نمائندہ مختلف عہدوں پرکلیدی حیثیت میں فائز رہاہے جس کی وجہ سے سازشیں جنم لیتی ہیں۔

    اور اب تازہ ترین یہ کہ روزنامہ انصاف لاہور 19اکتوبر2008 کے مطابق قادیانیوں کے سربراہ مرزامسرور مبارک نے قادیانی جماعت احمدیہ کی قیادت میں پاکستان میں موجود قادیانیوں کو متحدہ قومی موومنٹ کی حمایت وتعاون کی ہدایت کی ہے۔قادیانیوں کوبھیجے گئے خصوصی پیغام میں کہاگیا ہے کہ یہ اقدام ایم کیوایم کے الطاف حسین کی جانب سے قادیانیوں کی ”اعلانیہ حمایت“ اور حقوق کیلئے آوازبلند کرنے کے بعد خیرسگالی کے طور کیاگیاہے۔انتہائی باخبرذرائع کے مطابق جماعت احمدیہ کی مرکزی قیادت نے خصوصی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا اور ایم کیوایم کی حمایت کونہ صرف سراہا گیا بلکہ اظہار تشکر کیلئے قادیانی سربراہ نے الطاف حسین کاشکریہ اداکرنے کیلئے اُن سے خود رابطہ کا فیصلہ بھی کیا۔

    یہ بھی گمان کیاجارہاہے کہ شاید موجودہ حکومت اپنے بانی جناب ذوالفقار علی بھٹو کے مرزائیت کواقلیت قراردینے کی ”آئینی شِق“کو ختم کرنے کی کوشش کرے کہ” اتفاقاََ“ اب تو ایم کیوایم بھی پی پی پی کی حلیف ہے۔لیکن یہاں اس حقیقت کونظرانداز کرنا بہت ”خوفناک“ اور ناقابل تلافی غلطی ہوگا کہ اہل اسلام اور اہل ایمان خدانخواستہ چادرنبوت کی طرف بڑھنے والے ناپاک ہاتھوں کی طرف سے ”غافل “ہیں۔ایم کیوایم ایک سیاسی جماعت ہے لیکن اس کے ارکان بھی اللہ کے غلام اور اس کے رسول کے سپاہی ہیں ۔ہم نہیں سمجھتے کہ ایسی ”روسیاہی“ ایم کیوایم اپنے حصہ میں لے گی جو اس کیلئے دینی تباہی کا سبب بنے ۔اورنہ ہی پی پی پی ایسی حماقت کرے گی کہ کرہ ارض کے مسلمان چاک وچوبند اور بیدار ہیںاور وہ کسی قیمت پریہ برداشت نہیں کریںگے کہ نبوت کے ستون پر شب خون مارنے والے مکروہ عزائم رکھنے والی”ابلیسی زریت“کی کسی سازش کو پنپنے کاموقع دیاجائے۔ان شاءاللہ

    قارئین محترم !!بدطنیت مرزاغلام احمد قادیانی اور اسکی مرزائی اقلیت حقیقتاً” اِبلیسی زریت “کو بھی پیشوا کی ہرطرح کی پیشگوئیوں میں ناکام ونامراد ورُسواہوناپڑا۔اُنکی اسلام دشمن اورپاکستان دشمن پالیسیوں کا علماءنے ہمیشہ ڈنکے کی چوٹ پر ڈٹ کر مقابلہ کیا۔مناظرے کیے ،مباحثے کیے ،مباہلے کیے اور ہرمیدان میں فتح وکامرانی مسلمانوں کے حصہ میں آئی۔آج بھی اگر مرزائی ،قادیانی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایم کیوایم یا پی پی پی کے سہارے کامیابی کے کنارے تک پہنچ سکتے ہیں تو وہ بیچارے بھول میں ہیں۔محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین اُن کا گرم تعاقب کرنے کیلئے ہمہ تن گوش ہیں ۔کیوں قارئین آپ بھی باخبر ہیں نا؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔

  92. ویسے ایک بات تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ قادیانی حد سے ذیادہ دروغ گو جھوٹے مکار اور فریبی ہیں یہ دوسروں کو دہوکہ دیتے ہوئے عقلِ سلیم کا یہ نکتہ بھول جاتے ہیں کہ یہ خود اپنے آپ کو دہوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔

    مرزا ملعون و ملحد کی موت کا سبب ھیضہ تھا جیسا اسکے سسر نے لکھا ہے اب یہ اسقدر مستند ثبوت کو جس کا اوپر اصلی عکس کا لنک بھی دیا ہے ۔ اسکے باوجود یہ ادہر ادہر کی تاویلات سے مسلمانوں سے اسقدر جھوٹ بولیں گے کہ ان سے گھن آتی ہے۔

    ایک بات تو اوپر اسرار کذاب قادیانی کی وضاحت سے بھی پایہ ثبوت کو پہنچی کی انکے مرزا خزاب کی موت پاخانے سے ہوئی تھی ۔ اور پاخانے میں ہوئی تھی ۔ کیونکہ اگر یوں نہ ہوتا تو اسرار قادیانی بھی اسے جھٹلانے کی کوشش کرتا۔

    مجھے روزے کی افطاری و تیاری کرنی ہے ۔ اگر تم ڈھٹائی سے اڑے رہے تو تمھارے مرزا کذاب کے نئے مزید شگوفے با ایں دلائل حاضر کرونگا تانکہ مرزا کذاب اور قادیانیوں کے جھوٹ ، فریب و مکر اور لعنتی سازشوں کا پردہ چاک ہوسکے۔

    ہم انشاءاللی کوشش کرین گے کہ پاکستان میں ان کے نام کے ساتھ قادیانی لازمی لکھا جائے اور اس بارے انشاءاللہ یہ کسی کو مسلمان بن کر دہوکہ نہیں دے سکیں۔ اور جس طرح قومی اسمبلی میں قراداد کے ذرئیے انھیں کافر قرار دیا گیا بعین اسی طرح اس کافری نام قادیانی کو ان کے نام کا لازمی حصہ لکھنا قرار دولوائیں گے تا کہ انکے جھوٹ مکر اور سازشوں کو کسی حد تک روکا جاسکے .

    شرم ان کو مگر نہیں آتی

    • جاویدپیارے گوں دل
      پیارے سو سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا تم اور تمھارے آباؤ اجداد نے ہر قسم کے گندے الزام لگا لئے ۔ ہر قسم کی قانونی چارہ جوئی کر لی ۔ گھر جلا لئے ۔ احمدی شہید کر لئے مگر یہ کیا کہ احمدیت ہے کہ خدا کے نام پر پھیلتی جا رہی ہے اور پھیلتی جائے گی۔ کبھی سوچو جن کو چھوٹا کہتے ہو خدا ان کے ساتھ کیوں ہے۔ خدا ان کی مدد کیوں کرتا ہے۔

  93. تمام احمدی بهائی!!! متوجه ہوں
    تمام احمدی بهائی جو اس بلاگ پر بحث کر کے جواب دینے اور سیدها راہ دکهانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
    ان سب سے التماس ہے کہ وہ اپنے نہایت قیمتی وقت کو ضائع نہ کریں۔ ان لوگوں نے اگر ہدایت پانی ہوتی تو اپنے رویے کو تمام بغضوں اور کینوں سے دور کر کے صدق دل سے جانچے اور پرکهنے کی کوشش کرتے۔ لیکن افسوس صد افسوس۔
    پهر بهی سچے دل سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے، اور سیدها راہ دکهائے۔
    لیکن اگر ان کی قسمت میں ماننا نہیں ہے، تو یہ لوگ اسی طرح کج بحثی اور اپنی بے ادبانہ زبانیں چلائیں گے۔اگر ان کی قسمت میں ہدایت پانا نہیں ہے۔ تو افسوس تو ہو گا۔۔۔۔۔۔
    لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بهی ابو جہل باوجود اتنے قریب رہنے کے ہدایت نہ پا سکا۔
    احمدی بهائی اپنے قیمتی وقت کو ان بد زبانوں(جو انبیاء کی شان میں بدزبانیاں اور گالیاں نکالتے ہیں) پر ضائع نہ کریں۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء۔
    http://www.alislam.org/

  94. قادیانی حضرات بار بار اسمبلی کے فیصلہ کو مسترد بھی کرتے ہیں ۔ مگر یہ بات طے ہے کہ ختم نبوت اور قادیانیت کے کفر پر پوری امت متفق ہے۔مرزا صاحب صرف برطانیہ اور مغرب کی خدمت کے لئے مسلمانوں کی پیٹھ مین گھونپا گیا خنجر تھے ،سو اپنا کام کر گئے۔ مگر اب یہ کھیل بار بار تو نہیں ہو سکتا نا بھائی

  95. قادیانی حضرات کا یہ احسان ہے کہ وہ بسیار گوئی کی وجہ سے اپنی چیزیں طاہر کرتے رہتے ہیں۔ مرزا صاحب کو مسیح اور ان کے ساتھیوں کو صحابی لکھ کر اپنا آپ اور اسلیت بتاتے جاتے ہیں۔
    سب ظاہر ہو گیا ہے۔ شکریہ تلخابہ۔ آپ نے موقع دیا ان کو مزید کھل کر اپنی اصلیت بتانے کا

  96. محترم صاحب ِ بلاگ ،تلخابہ۔ ظفر اقبال صاحب اور دیگر مسلمان بہن بھائیوں کا شکریہ کہ انہوں نے قادیانیوں کا انکا اصل چہرہ دکھانے کی کوشش کی ۔ مگر یہ لوگ انتہائی ڈھیٹ ہے اور جھوٹ دروغ گوئی مکر فریب یہ اپنے مرزا ملعن کی سنت سمج کر کرتے ہیں تانکہ قادیانی مذھب کے مطابق کما سکیں۔ یہ نام بدل بدل کر آئیں گے ۔ تانکہ یوں پتہ چلے جیسے یہ بہت سے لوگ ہیں اور اور اپنے ملعون و ملحد مرزا کے جانثار ہیں۔ انکی خباثت کا عالم یہ ہے کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں کہ قادیانیت پھیل رہی ہے۔ باوجود اس کے کہ انھیں مغربی حکومتیں ہر قسم کی مدد فراہم کرتی ہیں۔ انکا حجم سکڑ رہا ہے ۔ اور انشاءاللہ ماضی کے دوسرے جھوٹے نبیوں کی طرح ایک دن نہ یہ ہونگے نا انکا کوئی نام لیوا ہوگا ۔ اور قادیانی فتنہ فنا فی النار ہو چکا ہوگا۔

    یہ دنیا کا پست ترین فتنہ ہے جو جرائت اور عقلِ سلیم سے عاری ہے۔یہ جھوٹ بولتے ہیں مغربی حکومتیں جنکےممالک میں آجکل مالی بحران چل رہا ہے اور بے روزگاری کی شرح میں خطر ناک حد تک اضافہ ہورہا ہے ۔ اور اپنے کسی ایک شہری کو کسی ایک آدمی کو کام دلانے کا وعدہ مغربی حکومتیں کرنے کی پوزیشن میں نہیں مگر وہ ان کی چاپلوسیوں میں آکر انھیں یا ان کے بیان کردہ احمدیوں قادیانیوں کو قبول کر رہی ہیں۔ جبکہ کچھ حکومتوں کو ادارک ہونا شروع ہوگیا ہے کہ یہ دروغ گو اور مکار لوگ ہیں ۔، کچھ ممالک انکی مالی امداد سے ہاتھ کیھینچے کا سوچ رہے ہیں ۔ ایک آدھ ملک نے ان کی سیاسی طور پہ مالی امداد بند بھی کردی ہے۔ مغربی ممالک میں نئے آنے والے غیر ملکی مسلمانوں خاصکر غیر قانونی طور پہ مقیم پاکستانی مسلم نوجوانوں کو یہ اپنے جھوٹ کے ذرئیے قادیانیت کے لئیے ٹریپ کرتے ہیں ۔ اور کچھ بد نصیب ان کی باتوں میں آکر جعلی احمدی بن جاتے ہیں۔ اور ان ملکوں میں سیاسی پناہ کے طلب گار ہوتے ہیں۔ قادیانی انھیں ہر قسم کی سپورٹ مہیا کرتے ہیں ۔ بلکہ غیر شادی شدہ نوجوانوں کے اپنی لڑکیوں کے رشتے تک بھی پیش کر دیتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کو برفنگ دی جاتی ہے کہ کس طرح انھوں نے پاکستان میں احمدی قادنیوں پہ اور خود ان پہ قادیانی ہونے کے ناطے پاکستانی مسلمانوں کے ہاتھوں ڈھائے گے فرضی مظالم بیان کرنے ہیں تانکہ انھیں مظلوم جانتے ہوئے یہ ممالک انھیں سیاسی پناہ دیں اور اقوامِ متحدہ کے خاص فنڈ سے جو سیاسی پناہ گزینوں کے لئیے مقر ر کیا جاتا ہے جس میں دنیا کے تقریبا تمام ممالک اپنا حصہ ڈالتے ہیں ۔ اس فنڈ سے مغربی ممالک میں زیادہ تر صرف قادیانیوں کی مدد کی جاتی ہے ، جبکہ سیاسی پناہ کے لئیے دوسری قوموں کے یا دوسری کسی سیاسی پارٹی کے سیاسی پانہ کے لئیے جائز امیدوار کو بھی بعض اوقات پسِ پیش ڈال دیا جاتا ہے اور قادینایوں کے سازشی ذہن سے ٹریپ کی گئیں مغربی حکومتیں قادیانیوں کو اولا ترجیجی بنیادوں پہ سیاسی پناہ دیتی ہیں اور مزکورہ فنڈ سے مالی امداد کرتی ہیں ۔ جس سے قادیانی کئی مذموم مقاصد حاصل کرتے ہیں ۔ پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے ۔ یہ گوشواروں سے ان حکومتوں پہ پاکستان میں قادیانیوں پہ فرضی ظلم و تشدد اور بے روزگاری اور غیر قانوی طور پہ مقیم ہر وقت پکڑے اور واپس پاکستان بجھوا دئیے جانے کے خوف کا شکار غریب اور مجبور پاکستانیوں کو ٹریپ کرتے ہیں۔ اس سے یہ اپنی آبادی بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور اپنے آپ کو دہوکہ دیتے ہیں کہ احمدیت و قادیانیت کا کفر پھیل رہا ہے۔ اب ان کاٹھ کے الؤوں کو کون سمجھائے کہ نناوے فیصد مسلمان نوجوان ایسے گھناؤنے طریقے سے مغربی ممالک میں ایڈجسٹ ہونے کے پھر سے اسلام سے رجوع کر لیتے ہیں اور قادیانیت کے کفر کا جُوا اپنی گردن سے اتار دیتے ہیں ۔ مگر یہ انھیں احمدی ظاہر کئیے رکھتے ہیں کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ اسی طرح ان کو مالی و سیاسی فوائد ان ممالک میں حاصل ہونگے ۔ ورنی ان کو نکال باہر کیا جائے گا۔ اور انشااءاللہ جوں جوں انکے خلاف مسلمان مغربی حکومتوں کو ان کی گھٹیا سازشیں بے نقاب کریں گے یہ یہاں سے ذلیل ہو کر نکلیں گے۔ جرمنی ، کنیڈا اور ناروے وغیرہ میں یہ پچھلی کئی دہائیوں سے مصروف سازش ہیں ۔ اور اپنے تئیں اپنے قادیانیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

    ان کا دوسرا ٹریپ کیمپ بر اعظم افریقہ کے غریب علاقے ہیں جہاں یہ اپنی روایتی مکاری سے کام لیتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے مالی امداد سے اپنے لعنتی خلیفہ کو ایک مسللمان پارساء کے روپ میں پیش کرتے ہیں ۔ اور سادہ دل افریقن اسے ایک نیک دل مسلمان سمجھ کے قادیانیوں کے ٹریپ میں آجاتے تھے۔ اب جبکہ وہاں بہت ی مسلمان تبلیغی جماعتوں نے ان کی سازشوں کو عام کرنا شروع کیا ہے اور کچھ مسلمان حکومتوں کی دلچسپی سے وہاں بھی انھیں مردود و ملعون قرار دیا جارہا ہے ۔ اور قادیانیوں کی اصل حقیقت جاننے کے بعد اسلام کی طرف پلٹ رہے ہیں مگر یہ لعنتی لوگ ابھی تک یوروپ کے احمدی بنیاد پہ سیاسی پناہ گزین ہونے والے لوگوں اور افریقہ کے سادہ مسلمانوں کے اعدادو شمار سے اپنی دکانداری چلانے کی کوشش کر رہے ۔ اور اپنے تئیں خوش ہیں کہ قادیانیت پھیل رہی ہے۔ ان کاٹھ کے الؤؤں سے یہ پوچھا جائے بھلا اسطرح دہوکے سے کوئی باطنی فتنہ کتنے دن پھیل سکتا ہے؟ یہ سکڑ رہے ہیں اور انھیں بھی علم ہے۔ اور ایک دن سکڑ کر فنا فی النار ہوجائیں گے ۔ مگر تب تک کے لئیے یہ ان نئے حلیف تلاش کر رہے ہیں اور اسکا آسان شکار انھیں الطاف حسین نظر آئے ہیں ۔ الطاف حسین سے سیاسی اختلاف رائے سے قطع نظر مجھے پوری امید ہے کہ جیسے جیسے انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا جائے گا وہ صاحب انھیں کھلم کھلا کافر قرار دے کر ان سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں گے۔ ورنی دوسری صورت میں ایم کیو ایم کے مسلمان الطاف حسین سے ہاتھ کینچھ لیں گے۔

    ایسے میں یہ منافقانہ کافر فتنہ اپنی موت آپ مرجانے کے قریب ہوجائے گا۔

    یہ کسی ایک بات کو جھوٹا نہیں ثابت کر سکے انکے خلاف جتنے حوالے اور ثبوت دیں یہ کبھی بھی اس بات پہ نہیں ائیں گے کہ ایک جھوٹے نبی کے جھوٹ جو اوپر لکھے گئے ہیں انکے بارے میں قادیانیوں کی کیا رائے ہے۔ یہ مکار اور بزدل لوگ ان میں اتنی جرائت نہیں کہ صرف یہی کہہ دیں کہ یہ اپنے مرزا کو نبی مانتے ہیں اور ختم نبوت پہ یقین نہیں رکھتے۔ اسلئیے ادہر ادہر کی آں باں شاں سے اپنا کام چلانے کی بے تکی حرکتیں کرتے ہیں۔

    • لعنة اللہ علی الکاذبین
      لعنة اللہ علی الکاذبین
      لعنة اللہ علی الکاذبین

  97. Ummat aur Jasarat ka mouth piece yahan apni sasti siyasat chmka raha ha magar pakistan ka log abb mulao ka jhoot fareeb aur munafqat ma nahi ayein gay.

    Qadyanio ko Apna Mazhab Preach kernay ki Ijazat koi aur nahi is Mulk ka Constitution daita ha jis per tamam mulla fakher kertay hain .

    Qadyani Muselman nahi Magar Pakistani Zaroor hain aur wo Mullah jaisa Deoband aur Jamat e Islami ka unperh jahil mullah jo Pakistan aur Quaid e Azam ka khilaaf thay Quaid e Azam ko Qatal ker ka is mulk per Qabiz ho gaye hain.

    Article 20 kahta ha .

    Yahan mojood jahil aqel sa paidal logo ko yeh hi nahi pata ka Altaf hussain na jo kaha wo to is Mulk ka Constitution ma Likha ha to bajaye is ka kay wo constitution ko pakrain wo Altaf hussain ka peechay lag agye hain magar afsoos un ki kashti phir doob jaye gi aur Pakistan ka log aur Muselman jaali Mula aur Jamat e islami ko phir mou ki khani paray gi.

    ISI sa paisai lai ker kabhi MMA aur kabhi IJI banay walay mulaoo ka wo hi haal ho ga jo Turky ma hoa tha..

    Aur Ummat aur Jasarat ko itni takleef thi to kion Major Nadeem Dar jo ka Qadiani ha ko hero bana ker us ka Anti MQM byan front page per chanp rahay thay ?Ager Qadiani is mulk ka Ghaddar hain to Major Nadeem Dar ko Hero kion banaya ja raha? Sirf MQM Dushmani ma ?

    Altaf Hussain na to khul ker kah dia ka jo Hazoor Mohammad (S A W) ko Akhri Nabi nahi mangta wo Muselman nahi

    MAGAR

    Mododi na Qadiani ko Kafir Qarar dainay sa Inkaar ker dia tha

    Zara Mulahiza ho ….

    http://i32.tinypic.com/15fhl5e.jpg

    Qadyanio sa bara Fitna to Mododi ka ha, Qadyani to Kafir hain magar Mododiyat ka Pairokaar Jamat e Islami Islam ka Bhase ma Masoom logo ko Freemason ka Karkun bana rahay hain.

    Molana Yousuf Ludhyanwi Shaheed exposed the Mododi Fitna

    http://www.central-mosque.com/aqeedah/Mawdudi.htm

    http://www.kr-hcy.com/fitnamodudi/maududi.shtml

  98. Ummat aur Jasarat ka mouth piece yahan apni sasti siyasat chmka raha ha magar pakistan ka log abb mulao ka jhoot fareeb aur munafqat ma nahi ayein gay.

    Qadyanio ko Apna Mazhab Preach kernay ki Ijazat koi aur nahi is Mulk ka Constitution daita ha jis per tamam mulla fakher kertay hain .

    Qadyani Muselman nahi Magar Pakistani Zaroor hain aur wo Mullah jaisa Deoband aur Jamat e Islami ka unperh jahil mullah jo Pakistan aur Quaid e Azam ka khilaaf thay Quaid e Azam ko Qatal ker ka is mulk per Qabiz ho gaye hain.

    Article 20 kahta ha .

    20. Freedom to profess religion and to manage religious institutions.
    Subject to law, public order and morality:-
    (a) every citizen shall have the right to profess, practise and propagate his religion; and
    (b) every religious denomination and every sect thereof shall have the right to establish, maintain and manage its religious institutions.

    Qadiani Kafir hain to un ka liye yeh likha ha abb kahan gaye Dastoor ki Paasdari?
    Apnay Matlab ka liye Dastoor werna Dastoor ka liye Raddi ki Tokri ?

    Yahan mojood jahil aqel sa paidal logo ko yeh hi nahi pata ka Altaf hussain na jo kaha wo to is Mulk ka Constitution ma Likha ha to bajaye is ka kay wo constitution ko pakrain wo Altaf hussain ka peechay lag agye hain magar afsoos un ki kashti phir doob jaye gi aur Pakistan ka log aur Muselman jaali Mula aur Jamat e islami ko phir mou ki khani paray gi.

    ISI sa paisai lai ker kabhi MMA aur kabhi IJI banay walay mulaoo ka wo hi haal ho ga jo Turky ma hoa tha..

    Aur Ummat aur Jasarat ko itni takleef thi to kion Major Nadeem Dar jo ka Qadiani ha ko hero bana ker us ka Anti MQM byan front page per chanp rahay thay ?Ager Qadiani is mulk ka Ghaddar hain to Major Nadeem Dar ko Hero kion banaya ja raha? Sirf MQM Dushmani ma ?

    Altaf Hussain na to khul ker kah dia ka jo Hazoor Mohammad (S A W) ko Akhri Nabi nahi mangta wo Muselman nahi

    MAGAR

    Mododi na Qadiani ko Kafir Qarar dainay sa Inkaar ker dia tha

    Zara Mulahiza ho ….

    http://i32.tinypic.com/15fhl5e.jpg

    Qadyanio sa bara Fitna to Mododi ka ha, Qadyani to Kafir hain magar Mododiyat ka Pairokaar Jamat e Islami Islam ka Bhase ma Masoom logo ko Freemason ka Karkun bana rahay hain.

    Molana Yousuf Ludhyanwi Shaheed exposed the Mododi Fitna

    http://www.central-mosque.com/aqeedah/Mawdudi.htm

    http://www.kr-hcy.com/fitnamodudi/maududi.shtml

  99. talkhaba

    zara meri posts ka links zaroor yahan post ker daina ta ka pata chal jaye ka Qadianio ko kafir karar dainay sa Mododi Bhaag gaya tha, Altaf hussain na jo kuch kaha wo wo hi ha jo article 20 ma likha ha ager itni takleef ha to pakistan ka dastoor badal do.

    Mododi aur us ka pairokaar to Qadianio sa baray Islam Dushman hain

    Zara Batao na Mododi ka baray ma Ulema kia kahtay hain.

  100. yeh Qadyanio ko aur kis mulk ma Kafir qaraar diya gaya ha ?

    kisi aur mulk ka naam batana pasand karay ga koi?

    Qadyani kafir hain Muselmano ka Aqaid sa magar yeh maamla Mazhabi nahi Mulki ha.

    yahan mojood log batana pasand karain ga ka kia qadyani PAKISTANIS hain ?
    Ager hain to un ko Minorities ka Hakook Hasil hain ka nahi.

  101. قادیانی مذہب

    فہرستِ مضامین

    تعارف
    غلام احمد قادیانی کون ہے؟
    سیالکوٹ کو منتقلی
    حکیم نورالدین بہیروی
    غلام کا دعویٰ نبوت
    اس کا دعویٰ کہ نبوت کا دروازہ ابھی تک کھلا تھا
    اس کا دعویٰ کہ وہ نبی اور رسول ہے جس پر وحی نازل ہوتی ہے
    بعض دوسرے نبیوں پر اپنی فضیلت کا غرور اور بحث
    اس کا دعویٰ کہ اُسے خدا کا بیٹا ہونے کا فخر حاصل ہے اور وہ بمنزلہ عرش کے ہے
    اجماع امت محمدیہ کہ محمد خاتم المرسلین تھے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہ کہ جو اس سے انکار کرتا ہے وہ کافر ہے۔
    خاتم النبیین کی قادیانی تفسیر
    اس کا دعویٰ کہ انبیاء نے اس کی شہادت دی
    نزول و رفع مسیح کے بارے میں اس کے متضاد بیانات
    نزولِ ملائکہ کے بارے میں اس کی توضیح اور اس کا ادعا کہ وہ خدا کے بازو ہیں۔
    ہندوستان میں برٹش شہنشاہیت سے وفاداری اور جہاد کی موقوفی
    قادیان کا حج اور یہ دعویٰ کہ اس کی مسجد، مسجد اقصٰی ہے، وہ خود حجر اسود ہے۔
    الہام کے دعویٰ کی بنیاد پر قرآن میں تحریف اور اس کی مثالیں
    قادیانی فرقی کی ہندوؤں میں منظورِ نظر بننے کی کوشش اور اس پر ہندوؤں کو مسرت
    قادیانیت اور اسلام میں اختلاف
    غلام کا بیان کہ اس کا خدا، اس کا رسول، اس کا قرآن وہ نہیں جو اسلام کے ہیں۔
    ڈاکٹر اقبال کا بیان کہ قادیانی اسلام سے اس سے بھی زیادہ دور ہیں جتنے سکھ ہندوؤں سے۔
    لاہوری جماعت اور اس کے باطل عقائد

    ——————————————————————————–

    شروع ساتھ نام اللہ کے جو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔

    تمام تعریفیں صرف اللہ ہی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا مالک ہے۔ اور حق شناسوں کے لیے انعام خداوندی ہے۔ اور درود و سلام تمام و کمال سید المرسلین و خاتم النبیین پر اور ان کی طیب و طاہر آل و اولاد اور صحابہ پر اور ان پر جنہوں نے ان کا راستہ اختیار کیا اور ان کے نقشِ قدم پر چلے، قیامت کے دن تک۔

    قادیانی مذہب (جو فرقہ احمدیہ کے نام سے بھی مشہور ہے) ایک جدید فرقہ ہے۔ اس کی بنیاد ہندوستان میں اس دوران پڑی جب مسلمان برصغیر میں برٹش حکومت کے ہوئے کو اپنے ملک سے اکھاڑ پھینکنے کا تہیہ کئے ہوئے تھے۔ تب انگریزی حاکموں کو مسلمانوں کو تقسیم کرنے اور ان کے آتشیں جوش کو ٹھنڈا کرنے کا سب سے زیادہ موثر ذریعہ یہ نظر آیا کہ غلام احمد قادیانی نامی ایک شخص کو، جس کی پیدائش ایک مسلمان خاندان میں ہوئی تھی، ایک ایسے مذہب کا اعلان کرنے کی طرف متوجہ کریں جو اجماع المسلمین کے بالکل خلاف ہو۔ جس کے ذریعہ اسلام کے اصولوں کا بطلان کیا جا سکے اور ان باتوں سے انکار کیا جائے جو اس کے علم میں اس مذہب کا ہی لازمی حصہ تھیں۔

    اس نے دعویٰ کیا کہ وحی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا تھا اور یہ کہ وہ خدا کی طرف سے جہاد کو موقوف کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا اور انگریز حاکموں کے ساتھ، جو اس کے بیان کے مطابق، ارض ہند پر خدا کی رحمت کے ظہور کے طور پر بھیجے گئے تھے، صلح کرنے کے فرض کی دعوت دینے کے لیے مامور کیا گیا تھا۔

    غلام احمد قادیانی کون ہے ؟

    غلام نے اپنی کتاب استفتاء جو 1378 ھ میں نصرت پریس ، ربوہ ، پاکستان میں طبع ہوئی، کے صفحہ 72 پر اپنا تعارف اس طرح کرایا ہے : “میرا نام غلام احمد ابن مرزا غلام مرتضیٰ ہے۔ اور مرزا غلام مرتضیٰ مرزا عطا محمد کا بیٹا تھا۔” اسی صفحہ پر وہ اپنے بارے میں کہتا ہے ” اور میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ ہمارے آباواجداد مغلیہ نسل سے تھے۔ مگر خدا نے مجھ پر وحی بھیجی کہ وہ ایرانی قوم سے تھے، نہ کہ ترکی قوم سے۔” اس کے بعد کہتا ہے، ” میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میرے اسلاف میں سے کچھ عورتیں بنی فاطمہ میں سے تھیں۔” صفحہ 76 پر وہ کہتا ہے، ” اور میں نے اپنے والد سے سنا ہے اور ان کے سوانح میں پڑھا ہے کہ ہندوستان میں آنے سے پہلے وہ لوگ سمرقند میں رہا کرتے تھے۔”

    غلام احمد 1835ء یا 1839ء اور یا شاید 1840ء میں ہندوستان میں پنجاب کے موضع قادیان میں پیدا ہوا۔ بچپن میں اس نے تھوڑی سے فارسی پڑھی اور کچھ صرف و نحو کا مطالعہ کیا۔ اس نے تھوڑی بہت طب بھی پڑھی تھی۔ لیکن بیماریوں کی وجہ سے، جو بچپن سے اس کے ساتھ لگی ہوئی تھیں اور جن میں قادیانی انسائیکلوپیڈیا کے مطابق مالیخولیا (جنون کی ایک قسم) بھی شامل تھا، وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکا۔

    ——————————————————————————–

    سیالکوٹ کو منتقلی

    وہ نوجوان ہی تھا کہ ایک دن اُسے اس کے گھر والوں نے اپنے دادا کی پنشن وصُول کر لانے کے لیے بھیجا، جو انگریزوں نے اس کی انجام کردہ خدمات کے صلے میں اس کے لیے منظور کی تھی۔ اس کام کے لیے جاتے ہوئے اس کا ایک دوست امام الدین بھی غلام احمد کے ساتھ ہو گیا۔ پنشن کا روپیہ وصول کرنے کے بعد غلام کو اس کے دوست امام الدین نے پُھسلایا کہ قادیان سے باہر کچھ دیر موج اُڑائی جائے۔ غلام احمد اس کے جھانسے میں آ گیا اور پنشن کے روپے تھوڑی ہی دیر میں میں اُڑا دیئے گئے۔ روپے ختم ہونے پر اس کے دوست امام الدین نے اپنی راہ لی۔ اور غلام کو گھر والوں کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیے گھر سے بھاگنا پڑا۔ چنانچہ وہ سیالکوٹ چلا گیا جو اب مغربی پاکستان کے پنجاب کے علاقہ میں ایک شہر ہے۔ سیالکوٹ میں اُسے کام کرنا پڑا تو وہ ایک کچہری کے باہر بیٹھ کر عوامی محرر (نقل نویس) کا کام کرنے لگا۔ جہاں وہ تقریباً 15 روپے ماہوار کے برائے نام معاوضہ پر عریضوں کی نقلیں تیار کیا کرتا۔

    اس کے سیالکوٹ کے قیام کے دوران وہاں ایک شام کا اسکول قائم کیا گیا جہاں انگریزی پڑھائی جاتی تھی۔ غلام نے بھی اس اسکول میں داخلہ لے لیا اور وہاں اس نے بقول خود ایک یا دو انگریزی کتابیں پڑھیں۔ پھر وہ قانون کے ایک امتحان میں بیٹھا لیکن فیل ہو گیا۔

    پھر اس نے 4 سال بعد سیالکوٹ میں اپنا کام چھوڑ دیا اور اپنے باپ کے ساتھ کام کرنے چلا گیا جو وکالت کرتا تھا۔

    یہی وہ زمانہ ہے جب اس نے اسلام پر مباحثے منعقد کرنا شروع کئے اور بہانہ کیا کہ وہ ایک ضخیم کتاب، جس کا نام اس نے ” براہینِ احمدیہ ” رکھا تھا، تالیف کرے گا۔ جس میں وہ اسلام پر اعتراضات اٹھائے گا۔ تب ہی لوگ اُسے جاننے لگے۔

    حکیم نور الدین بُہیروی

    سیالکوٹ میں قیام کے دوران غلام احمد کا واسطہ نور الدین بُہیروی نامی ایک منحرف شخصیت سے پڑا۔ نور الدین کی پیدائش 1258 ھ مطابق 1841ء بُہیرہ ضلع شاہ پور میں ہوئی جو اب مغربی پاکستان کے علاقہ پنجاب میں سرگودھا کہلاتا ہے۔ اس نے فارسی زبان، خطاطی، ابتدائی عربی کی تعلیم حاصل کی۔ 1858 عیسوی میں اس کا تقرر راولپنڈی کے سرکاری اسکول میں فارسی کے معلم کے طور پر ہو گیا۔ اس کے بعد ایک پرائمری اسکول میں ہیڈ ماسٹر بنا دیا گیا۔ چار سال تک اس جگہ پر کام کرنے کے بعد اس نے ملازمت سے استغفٰی دے دیا اور اپنا پورا وقت مطالعہ میں صرف کرنے لگا۔ پھر اس نے رامپور سے لکھنؤ کا سفر کیا جہاں اس نے حکیم علی حسین سے طبِ قدیم پرھی۔ علی حسین کی معیت میں اس نے دو سال گزارے پھر 1285 ھ میں وہ حجاز چلا گیا جہاں مدینہ منورہ میں اس کا رابطہ شیخ رحمت اللہ ہندی اور شیخ عبد الغنی مجددی سے ہوا۔ اس کے بعد وہ اپنے وطن واپس آ گیا۔ جہاں اس نے مناظرہ بازی میں کافی شہرت حاصل کی۔ پھر اس کا تقرر جنوبی کشمیر کے صوبہ جموں میں بطور طبیب ہو گیا۔ 1893ء میں اسے اس عہدہ سے برطرف کر دیا گیا۔ جموں میں قیام کے دوران اس نے غلام احمد قادیانی کے بارے میں سنا۔ پھر وہ گہرے دوست بن گئے۔ چناچہ جب غلام نے ’براہینِ احمدیہ‘ لکھنی شروع کی تو حکیم نور الدین نے ’تصدیقِ براہین احمدیہ‘ لکھی۔

    پھر حکیم نے غلام کو نبوت کا دعویٰ کرنے کی ترغیب دینی شروع کی۔ اپنی کتاب ’سیرت المہدی‘ میں صفحہ 99 پر حکیم نے کہا، کہ اس وقت اس نے کہا تھا : “اگر اس شخص (یعنی غلام) نے نبی اور صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا اور قرآن کی شریعت کو منسوخ کر دیا تو میں اس کے اس فعل کی مخالفت نہیں کروں گا۔”

    اور جب غلام قادیان گیا تو حکیم بھی اس کے پاس وہیں پہنچ گیا۔ اور لوگوں کی نگاہ میں غلام کا سب سے اہم پیرو بن گیا۔

    ابتدا میں غلام نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن بعد میں اس نے کہا کہ وہ مہدی معہود تھا۔ حکیم نورالدین نے اُسے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرنے کے لئے آمادہ کیا اور 1891 عیسوی میں غلام نے دعویٰ کر دیا کہ وہ مسیح موعود تھا اور لکھا :

    “درحقیقت مجھے اسی طرح بھیجا گیا جیسے کہ موسیٰ کلیم اللہ کے بعد عیسیٰ کو بھیجا گیا تھا اور جب کلیم ثانی یعنی محمد آئے تو اس نبی کے بعد، جو اپنے اعمال میں موسیٰ سے مشابہت رکھتے تھے، ایک ایسے نبی کو آنا تھا جو اپنی قوت، طبیعت و خصلت میں عیسیٰ سے مماثلت رکھتا ہو۔ آخرالذکر کا نزول اتنی مدت گزرنے کے بعد ہونا چاہیے جو موسیٰ اور عیسیٰ ابنِ مریم کے درمیانی فصل کے برابر ہو۔ یعنی چودھویں صدی ہجری میں۔

    ——————————————————————————–

    پھر وہ آگے کہتا ہے :

    “میں حقیقتاً مسیح کی فطرت سے مماثلت رکھتا ہوں اور اسی فطری مماثلت کے بنا پر مجھ عاجز کو مسیح کے نام سے عیسائی فرقہ کو مٹانے کے لئے بھیجا گیا تھا کیونکہ مجھے صلیب کو توڑنے اور خنازیر کو قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں آسمان سے فرشتوں کی معیت میں نازل ہوا جو میرے دائیں بائیں تھے۔”

    جیسا کہ خود غلام احمد نے اپنی تصنیف ’ازالہ اوہام‘ میں اعلان کیا، نور الدین نے درپردہ کہا کہ دمشق سے، جہاں مسیح کا نزول ہونا تھا، شام کا مشہور شہر مراد نہیں تھا بلکہ اس سے ایک ایسا گاؤں مراد تھا جہاں یزیدی فطرت کے لوگ سکونت رکھتے تھے۔

    پھر وہ کہتا ہے : “قادیان کا گاؤں دمشق جیسا ہی ہے۔ اس لئے اس نے ایک عظیم امر کے لئے مجھے اس دمشق یعنی قادیان میں اُس مسجد کے ایک سفید مینار کے مشرقی کنارے پر نازل کیا، جو داخل ہونے والے ہر شخص کے لئے جائے امان ہے۔ (اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے منحرف پیروؤں کے لئے قادیان میں جو مسجد بنائی تھی وہ اس لئے تھی کہ جس طرح مسلمان مسجد الحرام کو حج کے لئے جاتے ہیں، اسی طرح اس مسجد کے حج کے لئے آئیں، اور جس میں اس نے ایک سفید مینارہ تعمیر کیا تھا تا کہ لوگوں کو اس کے ذریعہ یہ باور کرایا جا سکے کہ مسیح کا (یعنی خود اس کا) نزول اسی مینارہ پر ہو گا۔

    ——————————————————————————–

    اس کا نبی ہونے کا دعویٰ

    غلام احمد نے اپنے گمراہ پیروؤں میں سے ایک شخص کو قادیان میں اپنی مسجد کا پیش امام مقرر کیا تھا جس کا نام عبد الکریم تھا۔ جیسا کہ خود غلام نے بتایا، عبد الکریم اس کے دو بازوؤں میں سے ایک تھا جبکہ حکیم نورالدین دوسرا۔

    1900 عیسوی میں عبد الکریم نے ایک بار جمعہ کے خطبہ کے دوران غلام کی موجودگی میں کہا کہ مرزا غلام احمد کو خدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا اور اس پر ایمان لانا واجب تھا۔ اور وہ شخص جو کہ دوسرے نبیوں پر ایمان رکھتا تھا مگر غلام پر نہیں، وہ درحقیقت نبیوں میں تفریق کرتا تھا اور اللہ تعالٰی کے قول کی تردید کرتا تھا جس نے مومنین کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :

    “ہم اس کے نبیوں میں سے کسی میں بھی تفریق نہیں کرتے۔”

    اس خطبہ نے غلام کے پیروؤں میں باہمی نزاع پیدا کر دیا جو اس کے مجدد، مہدی معہود اور مسیح موعود ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے۔ لہٰذا جب انہوں نے عبد الکریم پر تنقید کی تو اس نے اگلے جمعہ کو ایک اور خطبہ دیا اور غلام کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ : “میرا عقیدا ہے کہ آپ اللہ کے رسول اور اس کے نبی ہیں۔ اگر میں غلط ہوں تو مجھے تنبیہہ کیجئے۔” اور نماز ختم ہونے کے بعد جب غلام جانے لگا تو عبد الکریم نے اُسے روکا۔ اس پر غلام نے کہا : ” یہی میرا دین اور دعویٰ ہے۔” پھر وہ گھر میں چلا گیا۔ اور وہاں ہنگامہ ہونے لگا جس میں عبد الکریم اور کچھ اور لوگ ملوث تھے جو شور مچا رہے تھے۔ شور سنکر غلام گھر سے باہر نکلا اور کہا، ” اے ایمان والو، اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔”

    ——————————————————————————–اس کا دعویٰ کہ نبوت کا دروازہ ابھی تک کُھلا تھا

    غلام نے واقعی کہا تھا کہ نبوت کا دروازہ ہنوز کُھلا ہوا تھا۔ اس کا اظہار اس کے لڑکے محمود احمد نے، جو قادیانیوں کا دوسرا خلیفہ تھا، اپنی کتاب ’حقیقت النبوت‘ کے صفحہ 228 پر اس طرح کیا تھا : “روز روشن میں آفتاب کی طرح یہ واضح ہے کہ بابِ نبوت ابھی تک کُھلا ہوا ہے۔” اور ’انوارِ خلافت‘ میں صفحہ 62 پر وہ کہتا ہے : “حقیقتاً، انہوں نے (یعنی مسلمانوں نے) کہا کہ خدا کے خزانے خالی ہو گئے ہیں۔ اور ان کے ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں خدا کی صحیح قدر و قیمت کی سمجھ نہیں ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ بجائے صرف ایک کے ہزاروں نبی آئیں گے۔” اسی کتاب کے صفحہ 65 پر وہ کہتا ہے : “اگر کوئی شخص میری گردن کے دونوں طرف تیز تلواریں رکھ دے اور مجھ سے یہ کہنے کے لئے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں یقیناً کہوں گا کہ وہ کاذب ہے۔ کیونکہ ایسا نہ صرف ممکن بلکہ قطعی ہے کہ ان کے بعد نبی آئیں گے۔” رسالہء تعلیم (مطبوعۃ ربوہ، پاکستان 1386ھ) کے صفحہ 14 پر خود غلام کہتا ہے : “یہ ذرا بھی نہ سوچنا کہ وحی زمانہ پارینہ کا قصہ بن چکی ہے، جس کا آجکل کوئی وجود نہیں ہے۔ یا یہ کہ روح القدس کا نزول صرف پرانے زمانے میں ہی ہوتا تھا، آجکل نہیں۔ یقیناً اور حقیقتاً میں کہتا ہوں کہ ہر ایک دروازہ بند ہو سکتا ہے مگر روح القدس کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گا۔”

    ’رسالہء تعلیم‘ کے صفحہ 9 پر وہ کہتا ہے : “یہ وہ ہی خدائے واحد تھا جس نے مجھ پر وحی نازل کی اور میری خاطر عظیم نشانیاں ظاہر کیں۔ وہ جس نے مجھے عہدِ حاضر کا مسیح موعود بنایا، اس کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں، نہ زمین پر نہ آسمان پر۔ اورجو اس پر ایمان نہیں لائے گا، اس کے حصہ میں بدقسمتی اور محرومیت آئے گی۔ مجھ پر حقیقت میں وحی نازل ہوتی ہے جو آفتاب سے زیادہ واضح اور صریح ہے۔”

    اس کا دعویٰ کہ وہ نبی اور رسول ہے جس پر وحی نازل ہوتی ہے

    غلام ’مکتوب احمد‘ (مطبوعہ ربوہ 1383 ھ طبع پنجم) کے صفحہ 7 اور 8 پر کہتا ہے : “اس کی برکتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے مجھے ان ناموں سے مخاطب کیا ” تم میری حضوری کے قابل ہو، میں نے تمہیں اپنے لئے انتخاب کیا۔” اور اس نے کہا، ” میں نے تمہیں ایسے مرتبہ پر فائز کیا جو خلق کے لئے نامعلوم ہے۔” اور کہا ” اے میرے احمد، تم میری مراد ہو اور میرے ساتھ ہو۔ اللہ اپنے عرش سے تمہاری تعریف بیان کرتا ہے۔” اس نے کہا۔ ” تم عیسیٰ ہو، جس کا وقت ضائع نہیں ہو گا۔ تمہارے جیسا جوہر ضائع ہونے کے لئے نہیں ہوتا۔ تم نبیوں کے حلیہ میں اللہ کے جری ہو۔” اس نے کہا، “کہو، مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے اول ہوں۔” اس نے کہا، ” ہمارے جوہر سے اور ہمارے حکم کے مطابق جائے پناہ تعمیر کرو۔ جو تمہاری اطاعت کا عہد کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ کی اطاعت کا عہد کر رہے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔” اس نے کہا، “ہم نے تمہیں دنیا پر صرف رحمت بنا کے بھیجا۔” غلام کہتا ہے، “اس کی برکتوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب اس نے دیکھ کہ پادری حد سے زیادہ مفسد ہو گئے ہیں اور کہنے لگے ہیں کہ وہ ملک میں بلند مرتبوں پر پہنچ گئے ہیں تو اس نے ان کی سرکشی کے سیلاب اور تیرگی کے عروج پر مجھے بھیجا۔” اس نے کہا، ” آج تم ہمارے ساتھ کھڑے ہو، طاقتور اور قابلِ اعتماد۔ تم جلیل القدر حضوری سے آئے ہو۔” غلام کہتا ہے : “اس نے مجھے یہ کہتے ہوئے پکارا اور مجھ سے کلام کیا : میں تمہیں ایک مفسدین کی قوم کی طرف بھیجتا ہوں۔ میں تمہیں لوگوں کا قائد بناتا ہوں اور تمہیں اپنا خلیفہ مقرر کرتا ہوں اور عزت کی علامت کے طور پر اور اپنے دستور کے مطابق، جیسا کہ پہلے لوگوں کے تھا۔”

    ——————————————————————————–غلام کہتا ہے : “اس نے مجھے ان ناموں سے مخاطب کیا : میری نظر میں تم عیسیٰ ابنِ مریم کی مانند ہو۔ اور تمہیں اس لئے بھیجا گیا تھا کہ تم اپنے رب الاکرم کے کئے ہوئے وعدہ کو پورا کرو۔ حقیقتاً اس کا وعدہ برقرار ہے اور وہ اصدق الصادقین ہے۔” “اور اس نے مجھ سے کہا کہ اللہ کے نبی عیسٰی کا انتقال ہو چکا تھا۔ انہیں اس دنیا سے اٹھا لیا گیا تھا اور وہ جا کر مُردوں میں شامل ہو گئے تھے اور ان کا شمار ان میں نہیں تھا جو واپس آتے ہیں۔” (مکتوب احمد صفحہ 9)۔

    اسی کتاب کے صفحہ 63 اور 64 پر غلام کہتا ہے : “خدا نے مجھے یہ کہتے ہوئے خوشخبری دی : اے احمد، میں تمہاری تمام دعائیں قبول کروں گا، سوائے ان کے جو تمہارے شرکاء کے خلاف ہوں گی۔ اور اس نے اتنی بے شمار دعائیں قبول کیں کہ جگہ کی کمی کے باعث ان کی فہرست اور تفصیل کا تو ذکر ہی کیا اس جگہ ان کا خلاصہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔ کیا تم اس معاملے میں میری تردید کر سکتے ہو؟ یا مجھ سے پِھر سکتے ہو؟”

    اپنی کتاب ’مواہب الرحمٰن‘ (مطبوعہ ربوہ 1380 ھ) کے صفحہ 3 پر وہ کہتا ہے : “میرا رب مجھ سے اوپر سے کلام کرتا ہے۔ وہ مجھے ٹھیک طرح سے تعلیم دیتا ہے اور اپنی رحمت کی علامت کے طور پر مجھ پر وحی نازل کرتا ہے میں اس کی پیروی کرتا ہوں۔”

    ’استفتا‘ (مطبوعہ ربوہ 1378 ھ) کے صفحہ 12 پر غلام کہتا ہے : “میں خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔”

    اسی کتاب کے صفحہ 17 پر وہ کہتا ہے : “خدا نے مجھے نبی کہہ کر پکارا۔”

    اسی کتاب کے صفحہ 20 پر وہ کہتا ہے : “خدا نے مجھے اس صدی کے مجدد کے طور پر، مذہب کی اصلاح کرنے، ملت کے چہرے کو روشن کرنے، صلیب کو توڑنے، عیسائیت کی آگ کر فرو کرنے اور ایسی شریعت کو جو تمام خلق کے لئے سودمند ہے قائم کرنے، مفسد کی اصلاح کرنے اور جامد کو رواج دینے کے لئے بھیجا۔ میں مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں۔ خدا نے مجھے وحی اور الہام سے سرفراز کیا اور اپنے مرسلین کرام کی طرح مجھ سے کلام کیا۔ اس نے اپنی ان نشانیوں کے ذریعہ جو تم دیکھتے ہو، میری سچائی کی شہادت دی۔” صفحہ 25 پر غلام کہتا ہے : “خدا نے مجھ پر وحی بھیجی اور کہا : میں نے تمہارا انتخاب کیا اور تمہیں ترجیح دی۔ کہو، مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں تمہیں اپنی توحید اور انفرادیت کے مرتبہ پر فائز کرتا ہوں۔ لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ تم خود کو عوام الناس پر ظاہر کرو اور ان میں خود کو شہرت دو جو ہر طرف سے آئیں گے۔ جن کو ہم بذریعہ الہام کہیں گے کہ وہ تمہاری پشت پناہی کریں۔ وہ ہر طرف سے آئیں گے۔ یہی میرے رب نے کہا ہے۔”

    غلام نے صفحہ 27 پر بھی کہا : ” اور میرے پاس خدا کی تصدیقات ہیں۔”

    ’مسیح ناصری ہندوستان‘ (مطبوعہ ربوہ میں) کے صفحہ 12 اور 13 پر غلام کہتا ہے : “انتہائی ملائمت اور صبر کے ساتھ لوگوں کو سچے خدا کی طرف رہبری کرنے کے لیے اور اسلام کے اخلاقی معیار کے دوبارہ تعمیر کے لیے اس نے مجھے بھیجا۔ اس نے مجھے ان نشانیوں سے عزت بخشی جو حق کے متلاشیوں کی تسلی و تشفی اور تیقن کے لیے وقف ہوتی ہیں۔ اس نے حقیقت میں مجھے معجزے دکھائے اور مجھ پر ایسے پوشیدہ امور اور مستقبل کے راز ظاہر کئے جو سچے علم کی بنیاد کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس نے مجھے ایسے علوم اور معلومات سے سرفراز کیا جن کی تاریکیوں کے بیٹے اور باطل کے حمایتی مخالفت کرتے ہیں۔”

    ’حمامتہ البشریٰ‘ (مطبوعہ ربوہ 1378 ھ) کے صفحہ 60 پر غلام کہتا ہے : ” یہی وجہ ہے جس کے سبب اللہ تعالٰی نے مجھے انہیں حالات میں بھیجا جن حالات میں مسیح کو بھیجا تھا۔ اس نے دیکھا کہ میرا زمانہ اسی کے زمانے جیسا تھا۔ اس نے ایک قوم دیکھی جو اُسی کے قوم جیسی تھی۔ اس نے تلے کے اوپر تلا دیکھا۔ اس لئے اُس نے عذاب بھیجنے سے قبل مجھے بھیجا تاکہ ایک قوم کو تنبیہ کر دوں، چونکہ ان کے آباء و اجداد متنبہ نہیں کئے گئے تھے، اور تاکہ بدکاروں کا راستہ صاف ہو جائے۔”

    ’تحفۃ بغداد‘ (مطبوعہ ربوہ 1377 ھ) کے صفحہ 14 پر غلام کہتا ہے : ” میں قسم کھاتا ہوں کہ میں جو عالی خاندان سے ہوں، فی الحقیقت خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔”

    ’خطبات الہامیۃ‘ (مطبوعہ ربوہ 1388 ھ) کے صفحہ 6 پر وہ کہتا ہے : ” مجھے آبِ نور سے غسل دیا گیا اور تمام داغوں اور ناپاکیوں سے چشمہ مقدس پر پاک کیا گیا۔ اور مجھے میرے رب نے احمد کہہ کر پکارا۔ سو میری تعریف کرو اور بے عزتی نہ کرو۔”

    صفحہ 8 پر وہ کہتا ہے : ” اے لوگو، میں محمدی مسیح ہوں، میں احمد مہدی ہوں اور میرا رب میری پیدائش کے دن سے مجھے قبر میں لٹائے جانے کے دن تک میرے ساتھ ہے۔ مجھے فنا کر دینے والی آگ اور آبِ زلال دیا گیا۔ میں ایک جنوبی ستارہ ہوں اور روحانی بارش ہوں۔”

    صفحہ 87 پر وہ یہ بھی کہتا ہے : ” اسی وجہ سے مجھے خدا نے آدم اور مسیح کہہ کر پکارا، جس نے، میرا خیال ہے، مریم کی تخلیق کی، اور احمد، جو فضیلت میں سب سے آگے تھا۔ یہ اُس نے اس لیے کیا تاکہ ظاہر کر سکے کہ اس نے میری روح میں نبیوں کی تمام خصوصیات جمع کر دی تھیں۔”

    ——————————————————————————–

    ’البدر‘ مورخہ 5 مارچ 1908 عیسوی میں ایک مضمون کے تحت، جس کا عنوان تھا ’ہمارا دعویٰ کہ ہم رسول و نبی ہیں‘ اس نے لکھا: ” اللہ کے حکم کے مطابق میں اس کا نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کرتا ہوں تو میں گنہگار ہوں۔ اگر خدا مجھے اپنا نبی کہتا ہے تو میں اس کی نفی کیسے کر سکتا ہوں۔ میں اس کے حکم کی تعمیل اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک اس دنیا سے کنارہ نہ کر لوں۔” (دیکھیے مسیح موعود کا خط بنام مدیر اخبار عام، لاہور) یہ خط مسیح موعود نے اپنے انتقال سے صرف تین دن پہلے لکھا تھا۔ 23 مئی 1908 عیسوی کو اس نے یہ خط لکھا اور 26 مئی 1908 عیسوی کو، اس کے انتقال کے دن اس اخبار میں شائع ہوا۔

    ’کلمہ فصیل‘ (قولِ فیصل) مصنفہ بشیر احمد قادیانی اور Review Of Religions نمبر 3، جلد 4، صفحہ 110 پر شائع شدہ میں یہ عبارت شامل ہے : ” اسلامی شریعت نے ہمیں نبی کا جو مطلب بتایا ہے وہ اس کی اجازت نہیں دیتا کہ مسیح موعود استعارتاً نبی ہو۔ بلکہ اس کا سچا نبی ہونا ضروری ہے۔”

    ’حقیقت النبوۃ‘ مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد میں مصنف صفحہ 174 پر اپنے منشور میں ’فرقہ احمدیہ میں داخلہ کی شرائط‘ کے عنوان سے اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے : “مسیح موعود (یعنی غلام احمد) اللہ تعالٰی کے نبی تھے اور اللہ کے نبی کا انکار سخت گستاخی ہے جو ایمان سے محرومی کی طرف لے جا سکتی ہے۔”

    ۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔

    • جاوید جس وقت کٹ پیسٹ سے فارغ ہو جاؤ پھر بتانا پھر تمھارے ساتھ بھی بات کر لیں گے سر دست تم کاپی پیسٹ کرو اور قومی اسمبلی کی طرف سے 1974 کی اسمبلی کی کارروائی شائع کرواؤاور اتنی لمبی محنت کاپی پیسٹ سے بچ جاؤ

  102. ظفر اقبال صاحب فرماتے ہیں
    “قادیانی حضرات بار بار اسمبلی کے فیصلہ کو مسترد بھی کرتے ہیں ۔ مگر یہ بات طے ہے کہ ختم نبوت اور قادیانیت کے کفر پر پوری امت متفق ہے۔مرزا صاحب صرف برطانیہ اور مغرب کی خدمت کے لئے مسلمانوں کی پیٹھ مین گھونپا گیا خنجر تھے ،سو اپنا کام کر گئے۔ مگر اب یہ کھیل بار بار تو نہیں ہو سکتا نا بھائی

    ظفراقبال اگر ایک موٹی سی بات آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تو پھر اللہ رسول کی کتاب کو کیا سمجھو گے۔ ہر چیزکا الٹا ہی مطلب کرو گے۔ میں اس فورم پر بار بار کہہ چکا ہوں کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر ہے تمھارے علماء نے ہر ایک کو دائرہ اسلام سے خارچ کیا ہوا ہے۔ شیعہ کافر۔ سنی کافر بریلوی کافر دیوبندی کافر اہلحدیث کافر اہل قرآن کافر ذاکر نائک کافر غامدی کافر اشرف علی تھانوی کافر گنگوہی کافر ۔۔بھئی کسی ایک کا نام بتاؤ جو کافر نہ ہو۔ احمدی کافر قادیانی کافر
    میں کہتا ہوں تمھارے کہنے اور اسمبلی کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک خدا نہ کہے جب تک خدا کا پیارا نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ کہیں۔ ہاں ایک بات کا بار بار تقاضہ کر رہا ہوں کہ تمھاری شرابیوں اور زانیوں کی اسمبلی نے جو کافر قرار دیا تو اس بحث کو شائع کروا دو اسمبلی کی طرف سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی۔ نہ کروا سکو گے ۔ مر کر زندہ ہو کر دوبارہ دنیا میں آجاؤ کبھی نہ کرو گے نہ کروا سکو گے۔ اور میں یہ بھی کہتا چلوں اس سارے فورم میں میرے اس مطالبے پر سوائے گالیوں کے تم اور کچھ بھی نہ کہہ سکو گے۔

  103. بعض دوسرے نبیوں پر اپنی فضیلت کا غرور اور بحث

    غلام احمد پر غرور اور تکبر بری طرح چھایا ہوا تھا۔ اس لئے اس نے دل کھول کر اپنی تعریف کی۔ اس نے اپنی کتاب ’استفتاء‘ میں مندرجہ ذیل عبارت کا حوالہ دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس سے اس طرح خدا نے خطاب کیا ” میرے لئے تم میری وحدانیت اور انفرادیت کے بمنزلہ ہو۔ میرے لئے تم بمنزلہ میرے عرش کے ہو۔ میرے لئے تم بمنزلہ میرے بیٹے کے ہو۔”

    ’احمد رسول العالم الموعود‘ نامی کتاب میں شامل ایک مضمون میں وہ کہتا ہے : “حقیقت میں مجھے اللہ القدیر نے خبر دی ہے کہ اسلامی سلسلہ کا مسیح موسوی سلسلہ کے مسیح سے بہتر ہے۔” اسلامی سلسلہ کے مسیح سے اُس کی مراد بذات خود ہے۔ اسی لئے غلام احمد عیسٰی سے بہتر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کے دعووں میں سے ایک اور یہ ہے کہ خدا نے کہ کہتے ہوئے اس سے کلام کیا : ” میں نے عیسٰی کے جوہر سے تمہاری تخلیق کی اور تم اور عیسٰی ایک ہی جوہر سے ہو اور ایک ہی ہو۔” (حمامتہ البشریٰ سے) وہ کہتا ہے کہ وہ عیسٰی سے بہتر ہے۔ ’رسالہ تعلیم‘ میں صفحہ 7 پر وہ کہتا ہے : ” اور یقینی طور سے جان لو کہ عیسٰی کا انتقال ہو گیا ہے اور یہ کہ اس کا مقبرہ سرینگر، کشمیر میں محلہ خانیار میں واقعہ ہے۔ اللہ نے اس کی وفات کی خبر کتاب العزیز میں دی۔ اور مجھے مسیح ناصری کی شان سے انکار نہیں حالانکہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ محمدی مسیح، مسیح ناصری سے بلند مرتبہ ہو گا۔ تاہم میں ان کا نہایت احترام کرتا ہوں کیوں کہ وہ امت موسوی میں خاتم الخلفاء تھے جس طرح میں امت محمدی میں خاتم الخلفاء ہوں۔ جس طرح مسیح ناصری ملتِ موسوی کا مسیح موعود تھا اسی طرح میں ملتِ اسلامیہ کا مسیح موعود ہوں۔”

    وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی فضیلت کا دعوی کرتا ہے۔ حقیقت النبوۃ، مصنفہ مرزا بشیر احمد، خلیفہ ثانی کے صفحہ 257 پر مصنف کہتا ہے : ” غلام احمد حقیقت میں بعض اولی العظم رسولوں سے افضل تھے۔”

    ’الفضل‘ جلد 14، شمارہ 29 اپریل 1927 عیسوی سے مندجہ ذیل اقتباس پیش ہے :

    “حقیقت میں انہیں بہت سے انبیاء پر فوقیت حاصل ہے اور وہ تمام انبیاء کرام سے افضل ہو سکتے ہیں۔”

    اسی صحیفہ ’الفضل‘ کی پانچویں جلد میں ہم پڑھتے ہیں : “اصحاب محمد اور مرزا غلام احمد کے تلامذہ میں کوئی فرق نہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ بعثِ اول سے تعلق رکھتے تھے اور یہ بعثِ ثانی۔ (شمارہ نمبر 92 مورخہ 28 مئی 1918 عیسوی)۔

    اسی صحیفہ ’الفضل‘ کی تیسری جلد میں ہم پڑھتے ہیں : “مرزا محمد ہیں۔” وہ خدا کے قول کی تائید کرتا ہے، “اس کا نام احمد ہے۔” (انوارِ خلافت، صفحہ 21)۔ یہ کتاب یہاں تک کہتی ہے کہ غلام کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی افضلیت حاصل ہے۔ ’خطبات الہامیہ‘ صفحہ 177 پر خود غلام احمد کہتا ہے : “محمد کی روحانیت نے عام وصف کے ساتھ پانچویں ہزارے کے دور میں اپنی تجلی دکھائی۔ اور یہ روحانیت اپنی اجمالی صفات کے ساتھ اس ناکافی وقت میں غایت درجہ بلندی اور اپنے منتہا کو نہیں پہنچی تھی۔ پھر چھٹے ہزارے میں (یعنی مسیح موعود غلام احمد کے زمانے میں) اس روحانیت نے اپنے انتہائی عالیشان لباس میں اپنے بلند ترین مظاہر میں اپنی تجلی دکھائی۔” اپنے رسالہ ’اعجازِ احمدی‘ میں وہ یہ اضافہ کرتا ہے :

    “اُن کے لئے چاند کی روشنی گہنا گئی۔”
    کیا تمہیں اس سے انکار ہے کہ میرے لئے چاند اور سورج، دونوں کو گہن لگا۔”

    اس کا دعویٰ کے اُسے خدا کا بیٹا ہونے کا فخر حاصل ہے اور وہ بمنزلہ عرش کے ہے

    ’استفتاء‘ کے صفحہ 82 پر غلام کہتا ہے : “تم بمنزلہ میری وحدانیت اور انفرادیت کے ہو۔ لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ تم خود کو عوام میں ظاہر کر دو اور واقف کرا دو۔ تم میرے لئے بمنزلہ میرے عرش کے ہو۔ تم میرے لئے بمنزلہ میرے بیٹے کے ہو۔ تم میرے لئے ایک ایسے مرتبہ پر فائز ہو جو مخلوق کے علم میں نہیں۔”

    اجماع امت محمد یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خامتم المرسلین تھے، کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہ کہ جو اس سے انکار کرتا ہے وہ کافر ہے۔

    قرآن پاک، سنتِ رسول اور اجماعِ امت سے بے پرواہ غلام احمد دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی اور رسول ہے۔ شریعت کے یہ تینوں ماخذ اس کے ثبوت میں شہادت دیتے ہیں کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین اور مرسلین ہیں۔

    قرآن میں خدا کا قول ہے : “محمد تم لوگوں میں سے کسی کے والد نہیں بلکہ خدا کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔”

    خاتم بکسر ’تا‘ پڑھا جائے تو صفت کا اظہار کرتا ہے جو محمد کو انبیاء میں سب سے آخری بیان کرتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ آپ کے بعد کوئی بھی شخص مقام نبوت کو نہیں پہنچ سکتا۔ لہٰذا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ ایک ایسی چیز کا مدعی ہے جو اس کی رسائی سے باہر ہے۔ اسی لفظ کو بفتح ’تا‘ خاتم پڑھا جائے تو بھی عرب علما لغت کے مطابق اس کے یہ ہی معنی و تعبیر ہو گی۔ حقیقت میں مفسرین و محققین نے اس کا یہی مطلب لیا ہے اور سنت صحیحہ نے بھی اسی کی تصدیق کی ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری میں ابو ہریرہ سے ایک حدیث روایت کی گئی ہے اور انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ فرمایا : “بنی اسرائیل کی رہبری نبیوں کے ذریعہ کی گئی۔ ایک نبی کی وفات کے بعد دوسرے نبی نے اس کی جانشینی کی۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔”

    صحیح بخاری میں ایک دوسری حدیث نقل کی گئی ہے۔ ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول خدا سے سنا۔ فرماتے تھے : میری اور مجھ سے قبل آنے والے نبیوں کی مثال اس شخص کے معاملہ جیسی ہے کہ اس نے ایک مکان بنایا، خوب اچھا اور خوبصورت لیکن ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ یہ مکان دیکھنے آتے اور مکان کی تعریف و توصیف کرتے، مگر کہتے ” وہ ایک اینٹ کیوں نہیں رکھ دیتے تم؟” رسولِ خدا نے کہا، “وہ اینٹ میں ہوں – اور میں خاتم النبیین ہوں۔” مسلم کی روایت کے مطابق جابر سے روایت ہے کہ رسولِ خدا نے کہا “اس اینٹ کی جگہ میں ہوں۔ میں آیا اور انبیاء پر مہر لگا دی۔”

    یہی اجماع المسلمین ہے اور ضرورتاً مذہب کی ایک حقیقت معلومہ بن گیا ہے۔ ’خاتم النبیین‘ کی تفسیر میں امام ابنِ کثیر کا قول ہے : “اللہ تعالٰی نے ہم سے اپنی کتاب میں کہا ہے، جیسا کہ اس کے رسول نے سنتِ متواترہ میں کہا “کہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ انہیں جان لینے دو کہ اس کے بعد جو کوئی اس مقام کا دعویٰ کرتا ہے وہ کذاب، مکار، فریبی اور دجال ہے۔” الالوسی نے اپنی تفسیر میں کہا : “اور یہ حقیقت کہ وہ (محمد رسول اللہ) خاتم النبیین ہیں، قرآن پاک میں بیان کی گئی ہے، سنت نے اس کی تصدیق کی ہے اور اُمت کا بالاتفاق اس پر اجماع ہے۔ لہٰذا جو کوئی بھی اس کے برخلاف دعویٰ کرتا ہے وہ کافر ہے۔”

    خاتم النبیین کی قادیانی تفسیر

    ’رسالہ تعلیم‘ میں صفحہ 7 پر غلام احمد کہتا ہے : “ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، سوائے اس کے جس کو بطور جانشینی ردا محمدیہ عطا کی گئی ہو۔ اس کی ایک دوسرے تاویل میں “میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا” والی حدیث کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے بعد (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد) ان کی اُمت کے علاوہ کسی دوسری اُمت سے کوئی نبی نہیں ہو گا۔ یہ دوسری تاویل دراصل غلام احمد نے ایک دوسرے جھوٹے نبی اسحاق الاخرس سے نقل کی ہے جو سفاح کے زمانہ میں ظاہر ہوا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ دو فرشتے اس کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ وہ نبی تھا۔ اس پر اس نے کہا، “یہ کیسے ہو سکتا ہے جب اللہ تعالٰی کہہ چکا ہے کہ رسولِ خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں؟” اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا، ” تم سچ کہتے ہو، لیکن خدا کا مطلب یہ تھا کہ وہ ان نبیوں میں سب سے آخری تھے جو اُن کے مذہب کے نہیں تھے۔”

    اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلے قادیانیوں نے ’خاتم النبیین‘ کی یہ تفسیر کی کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ محمد صلی اللہ علی وسلم انبیاء کی مہر ہیں تا کہ ان کے بعد آنے والے ہر نبی کی نبوت پر ان کی مہر تصدیق ثبت ہو۔ اس سلسلہ میں یہ مسیح موعود کہتا ہے : “ان الفاظ (یعنی خاتم النبیین) کا مطلب یہ ہے کہ اب کسی بھی نبوت پر ایمان نہیں لایا جا سکتا۔ تا وقتیکہ اس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر تصدیق ثبت نہ ہو۔ جس طرح کوئی دستاویز اس وقت تک معتبر نہیں ہوتی جب تک اس پر مہر تصدیق ثبت نہ ہو جائے، اسی طرح ہر وہ نبوت جس پر اس کی مہر تصدیق نہیں غیر صحیح ہے۔”

    ’ملفوظات احمدیہ‘ مرتبہ محمد منظور الٰہی قادیانی میں صفحہ 290 پر درج ہے : “اس سے انکار نہ کرو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انبیا کی مُہر ہیں لیکن لفظ ’مُہر‘ سے وہ مراد نہیں جو عام طور پر عوام الناس کی اکثریت سمجھتی ہے، کیوں کہ یہ مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، ان کی اعلٰی و ارفع شان کے قطعی خلاف ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو نبوت کی نعمت عظمٰی سے محروم کر دیا۔ اس کا صحیح مطلب یہی ہے کہ وہ انبیاء کی مہر ہیں۔ اب فی الحال کوئی نبی نہیں ہو گا سوائے اس کے جس کی تصدیق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں۔ ان معنی میں ہمارا ایمان ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ (الفضل مورخہ 22 ستمبر 1939 عیسوی – الفضل ایک روزانہ اخبار ہے جو تقسیم ملک سے پہلے قادیان سے شائع ہوتا تھا۔ اب یہ ربوہ سے شائع ہوتا ہے اور قادیانیوں کا ترجمان ہے۔)

    ’الفضل، مورخہ 22 مئی 1922 عیسوی میں ہم پڑھتے ہیں : “مہر ایک چھاپ ہوتی ہے۔ سو اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھاپ ہیں، تو وہ یہ کیسے ہو سکتے ہیں اگر ان کی اُمت میں کوئی اور نبی نہیں؟”

    اُس کا دعویٰ کہ انبیا نے اُس کی شہادت دی

    وہ دعویٰ کرتا ہے کہ صالح نے اس کی شہادت دی۔ اپنی کتاب ’مکتوب احمد‘ میں صفحہ 62 پر وہ کہتا ہے : “حقیقتاً صالح نے میری صداقت کی شہادت میری دعوت سے بھی پہلے دی۔ اور کہا کہ وہ ہی عیسیٰ مسیح تھا جو آنے والا تھا۔ اس نے میرا اور میری زوجہ کا نام بتایا اور اس نے اپنے پیروؤں سے کہا : مجھے میرے رب نے ایسا ہی بتایا ہے لہٰذا میری یہ وصیت مجھ سے لے لو۔”

    نزول مسیح کے بارے میں اس کے متضاد بیانات کبھی اُس کا انکار، کبھی اقرار، کبھی اس کی تاویلات – رفع مسیح کا بھی باری باری انکار، اقرار اور تاویل

    ’مکتوب احمد‘ صفحہ 47 پر وہ کہتا ہے : “فی الحقیقت تم نے سنا ہو گا کہ ہم قرآن کے بیان صریح کے مطابق مسیح اور اس کے رفیق کے نزول کے قائل ہیں، ہم اس نزول کے برحق ہونے کو واجب تسلیم کرتے ہیں اور ہمیں یا کسی اور کو اس سے مفسدوں کی طرح منحرف نہیں ہونا چاہیے، نہ ہی کسی کو اس کے اقرار پر متکبرین کی طرح آزردہ ہونا چاہیے۔”

    ’حمامۃ البشریٰ‘ کے صفحہ 11 پر وہ کہتا ہے : “اس لقب کے بعد میں سوچا کرتا تھا کہ مسیح موعود ایک غیر ملکی تھا۔ اور اس پوشیدہ راز کے ظاہر ہو جانے تک، جو خدا نے اپنے بہت سے بندوں سے ان کا امتحان لینے کے لئے چھپا رکھا تھا، میں نے کبھی نہیں سوچا تھاکہ میں ہی مسیح موعود تھا۔ اور میرے رب نے ایک الہام میں مجھے عیسیٰ ابن مریم کہہ کر پکارا اور کہا : “اے عیسیٰ، میں تمیہں اپنے پاس بلاؤں گا، تمہیں اپنے تک اٹھاؤں گا اور تمہیں ان لوگوں سے پاک کروں گا جنہوں نے کفر کیا۔ میں ان لوگوں کو جنہوں نے تمہارا اتباع کیا، ان لوگوں سے اونچا مرتبہ دوں گا جو یومِ القیامت پر ایمان نہیں لائے۔ ہم نے تمہیں عیسیٰ ابن مریم بنایا اور تمہیں ایسے مرتبہ پر فائز کیا جس سے مخلوق لا علم ہے۔ اور میں نے تمہیں اپنی توحید اور انفرادیت کے مرتبہ پر فائز کیا اور آج تم میرے ساتھ ہو اور مضبوطی و حفاظت کے ساتھ متمکن ہو۔”

    صفحہ 38 پر وہ کہتا ہے : “کیا انہوں نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا ہے کہ خدا نے قرآن میں ہر وہ اہم واقعہ بیان کیا ہے جو اس نے دیکھا۔ پھر اس نے نزول مسیح کے واقعہ کو اس کی عظیم اہمیت اور انتہائی معجزانہ ماہیت کے باوجود کیسے چھوڑ دیا؟ اگر یہ واقعہ سچا تھا تو اس کا ذکر کیوں چھوڑ دیا جبکہ یوسف کی کہانی دوہرائی؟ خدا نے کہا : “ہم تمہیں بہترین قصے سناتے ہیں۔” اور اس نے اصحابِ کہف کا قصہ سنایا۔ اس نے کہا : یہ ہماری عجیب نشانیوں ہیں سے ہیں۔ لیکن اس نے آسمان سے نزول مسیح کے بارے میں اس کی وفات کے ذکر کے بغیر کچھ نہیں کہا۔ اگر نزول کی کوئی حقیقیت ہوتی تو قرآن نے اس کا ذکر ترک نہ کیا ہوتا بلکہ اسے ایک طویل سورۃ میں بیان کیا ہوتا اور اسے کسی دوسرے قصے کی بہ نسبت بہتر بنایا ہوتا کیوں کہ اس کے عجائبات صرف اسی لئے مخصوس ہیں اور کسی دوسرے قصے میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ وہ اُسے اُمت کے لئے ختم دنیا کی نشانی بنا دیتا۔ یہ اس کا ثبوت ہے کہ یہ الفاظ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال نہیں کئے گئے ہیں بلکہ اس گفتگو میں اس سے ایک مجدد عظیم مراد ہے جو مسیح کے نقش قدم پر اس کے مثیل و نظیر ہو گا۔ اسے مسیح کا نام اسی طور پر دیا گیا تھا جس طرح کچھ لوگوں کو عالمِ رویا میں کسی دوسرے کے نام سے پکارا جاتا ہے۔”

    اسی کتاب کے صفحہ 41 پر وہ کہتا ہے : “وہ کہتے ہیں کہ مسیح آسمان سے نازل ہو گا، دجال کو قتل کر دے گا اور عیسائیوں سے جنگ کرے گا۔ یہ تمام خیالات ’خاتم النبیین‘ کے الفاظ کے بارے میں سئے فہمی اور غور و فکر کی کمی کا نتیجہ ہیں۔”

    نزول ملائکہ کے بارے میں اس کی توضیح اور اس کا ادّعا کہ وہ خدا کے بازو ہیں

    ’حمامۃ البشریٰ‘ کے صفحہ 98 پر وہ کہتا ہے : اور دیکھو ملائکہ کو، کہ خدا نے ان کی اپنے بازوؤں کے طور پر کیسے تخلیق کی۔”

    ’تحفہ بغداد‘ کے صفحہ 34 پر وہ لکھتا ہے : “اور ہم فرشتوں، ان کے مرتبوں اور درجوں پر ایمان رکھتے ہیں، اور ان کے نزول پر ایمان رکھتے ہیں کہ نزول انوار کی طرح ہوتا ہے نہ کہ ایک انسان کی ایک جگہ سے دوسرے جگہ نقل و حرکت کی طرح۔ وہ اپنا مقام نہیں چھوڑتے۔”

    ۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔

    • جاوید گوندل!
      والسلام علی من اتبع الہدیٰ
      یہ وہ سب اعتراضات ہیں جو سو سال سے احمدی سن رہے ہیں اور ان کے جواب لکھے ہوئے موجود ہیں۔اگر تم اپنے آپ کو سچ پر قائم سمجھتے اور سچائی پر قائم ہو تو تلخابہ پر خدا کو حاضر ناظر جان کر سچے دل یہ قسم کھا کر کہو کہ
      ”میں اس خدا کو جو دلوں کے حال سے خوب واقف ہے اور جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں اور مفتریوں کا کام ہے یہ قسم اٹھاتا ہوں کہ میں نے تلخابہ کے بلاگ پر جو کچھ لکھا ہے اسے سچ سمجھتا ہوں اور جماعت احمدیہ کے بارے میں میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ سب سچ ہے اور اگر جھوٹ ہو تو مجھ پر خدا ئے قہارو جبار کا عذاب نازل ہو ۔“
      اگر تم نے یہ قسم نہ کھائی تو تلخابہ پر لکھنے والے یہ سمجھ لیں گے کہ تم جھوٹے اور تم کو اپنی سچائی پر بھی یقین نہیں۔
      باقی رہی 1974 والی اسمبلی کی بات تو بقول طاہر القادری ایک مرتد اور کافر دیوبندی ( یوسف لدھیانوی)کی لیڈر شپ میں ایک مرتد کو اسمبلی سے کافر قرار دلوانا
      1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے اراکین کے بارے میں آپ کے امیر الموٴمنین صدرمرد حق جنرل ضیاء الحق کا شائع شدہ وائٹ پیپر موجود ہے ۔جس میں اس اسمبلی کے اراکین کا کچا چٹھابیان کیا گیا ہے ۔اور رہی ا س میں شامل مولویوں کی بات تو اس کا ذکر ہی کیا ۔ مفتی محمود دیوبندی اور مولوی یوسف لدھیانوی بریلویوں کے نزدیک کافر اور مرتد بلکہ واجب القتل اور بقول مولو ی طارق جمیل دیوبندی تو سب سے بدتر ہیں۔ اور دیوبندیوں کے نزدیک بریلوی کافر اور مرتد اور مشرک۔ اب ایک زانی شرابی اور کرپٹ اور مرتدین اور کافروں اور مشرکوں پر مشتمل اسمبلی کسی کے اسلام کا فیصلہ کیا کرے گی۔
      آپ لوگوں کے علماء کی کیسٹس اور تحریرات سن کر بقول اقبال یہ پتہ چلتا ہے
      ”ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود“

  104. جاوید بار سونا جاری رکھو ویسے مجھے بتادو کون سی کتاب ہاتھ میں ہے میں اس کو ہی پڑھ لیتا ہوں۔ ہاہاہا
    جس وقت کٹ پیسٹ سے فارغ ہو جاؤ پھر بتانا پھر تمھارے ساتھ بھی بات کر لیں گے سر دست تم کاپی پیسٹ کرو اور قومی اسمبلی کی طرف سے 1974 کی اسمبلی کی کارروائی شائع کرواؤاور اتنی لمبی محنت کاپی پیسٹ سے بچ جاؤ

  105. ہندوستان میں برٹش شہنشاہیت سے وفاداری اور جہاد کی موقوفی

    ’تریاق القلوب‘ کے صفحہ 15 پر غلام احمد کہتا ہے : میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ درحقیقت برٹش حکومت کی تائید و حمایت میں گزارا ہے۔ وہ کتابیں جو میں نے جہاد کی موقوفی اور انگریزی حکام کی اطاعت کی فرضیت پر لکھی ہیں وہ 50 الماریاں بھرنے کے لئے کافی ہیں۔ یہ سبھی کتابیں مصر، شام، کابل اور یونان وغیرہ اور عرب ممالک میں شائع ہوئی ہیں۔”

    ایک دوسری جگہ وہ کہتا ہے، ” اپنی نوجوانی کے زمانے سے، اور اب میں ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ رہا ہوں، میں اپنی زبان اور قلم کے ذریعہ مسلمانوں کو مطمئن کرنے کی کوشش میں لگا ہوں تا کہ وہ انگریزی حکومت کے وفادار اور ہمدرد رہیں۔ میں ’جہاد‘ کے تصور کو رد کرتا رہا ہوں جس پر ان میں سے کچھ جاہل ایمان رکھتے ہیں اور جو انہیں اس حکومت کے تئیں وفاداری سے روکتا ہے۔” (ضمیمہ کتاب شہادۃ القرآن مصنفہ غلام احمد قادیانی، طبع ششم، صفحہ 10)۔

    اسی کتاب میں وہ لکھتا ہے : ” مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے میرے پیروؤں کی تعداد بڑھیگی جہاد پر ایمان رکھنے والوں کی تعداد میں کمی ہو گی کیوں کہ میرے مسیح اور مہدی ہونے پر ایمان لانے کے بعد جہاد سے انکار لازمی ہے۔” صفحہ 17)۔

    ایک دوسرے عبارت میں وہ کہتا ہے : ” میں نے عربی، فارسی اور اردو میں درجنوں کتابیں لکھی ہیں جن میں میں نے وضاحت کی ہے کہ انگریزی حکومت کے خلاف، جو ہماری محسن و مربی ہے، جہاد بنیادی طور پر ناجائز ہے۔ اس کے برخلاف ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ پوری وفاداری کے ساتھ اس حکومت کی اطاعت کرئے۔ ان کتابوں کی چھپائی پر میں نے بڑی بڑی رقمیں خرچ کی ہیں اور انہیں اسلامی ممالک میں بھجوایا ہے۔ اور مجھے معلوم ہے کہ ان کتابوں نے اس ملک (ہندوستان) کے باشندوں پر نمایاں اثر چھوڑا ہے۔ میرے پیروؤں نے حقیقتاً ایک ایسے فرقے کی تشکیل کی ہے جس کے دل اس حکومت کے تئیں اخلاص اور وفاداری سے معمور ہیں۔ وہ انتہائی طور سے وفادار ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ اس ملک کے لئے ایک برکت ہیں اور اس حکومت کے وفادار ہیں اور اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے۔” (انگریزی حکومت کے نام غلام احمد کے تحریر کردہ ایک خط سے۔)

    غلام کہتا ہے : ” حقیقت میں یہ حکومت (یعنی انگریزی حکومت) ہم پر بڑی فیاض رہی ہے اور ہم اس کے شرمندہ احسان ہیں کیوں کہ اگر ہم یہاں سے چلے جائیں (یعنی اگر ہم اس ملک سے باہر چلے جائیں) تو ہم مکہ یا قسطنطنیہ میں پناہ نہیں لے سکتے۔ پھر ہم اس حکومت کے بارے میں کوئی بدخواہی کیسے کر سکتے ہیں؟” (ملفوظاتِ احمدیہ، جلد اول صفحہ 146)۔

    وہ یہ بھی کہتا ہے : ” میں اپنا یہ کام مکہ یا مدینہ میں ٹھیک طور سے نہیں کر سکتا، نہ ہی یونان، شام، ایران یا کابل میں۔ لیکن میں یہ اس حکومت کے تحت کر سکتا ہوں جس کی عظمت و نصرت کے لئے میں ہمیشہ دعا کرتا ہوں۔” (’تبلیغ رسالت‘ مصنفہ مرزا غلام احمد، جلد چہارم صفحہ 69)۔

    وہ آگے کہتا ہے : ” سو تھوڑا غوروفکر کرو، اگر تم اس حکومت کے سائے کو چھوڑ دو گے تو روئے زمین پر کون سی جگہ تمہیں پناہ ملے گی؟ کسی ایک حکومت کا نام بتاؤ جو تمہیں اپنی حفاظت میں لینا قبول کرے۔ اسلامی حکومتوں میں سے ہر ایک تمہارے وجود پر سخت غضبناک ہے، تمہارے خاتمہ کے لئے منصوبہ بنا رہا ہے اور بیخبری میں حملہ کرنے کے لیے منتظر ہے کیوں کہ ان کی نظر میں تم کافرو مرتد ہو گئے ہو۔ لہٰذا اس نعمت الٰہیئہ (انگریزی حکومت کا وجود) کو قبول کرو اور اس کی قدر کرو۔ اور یقینی طور سے جان لو کہ اللہ تعالٰی نے اس ملک میں انگریزی حکومت صرف تمہاری بھلائی اور تمہارے مفاد کے لیے قائم کی ہے اگر اس حکومت پر کوئی آفت آتی ہے تو وہ آفت تم پر بھی نازل ہو گی۔ اگر تم میرے قول کی صداقت کا ثبوت چاہتے ہو تو کسی دوسری حکومت کے زیرِ سایہ رہ کر دیکھ لو۔ تب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سی بدقسمتی تمہارے انتظار میں ہے۔ لیکن انگریزی حکومت اللہ کی رحمت اور برکت کا ایک پہلو ہے۔ یہ ایک ایسا قلعہ ہے جو خدا نے تمہاری حفاظت کے لئے تعمیر کیا ہے۔ لہٰذا اپنے دلوں اور روح کی گہرائی میں اس کی قدر و قیمت کو تسلیم کرو۔ انگریز تمہارے لئے ان مسلمانوں کے مقابلے میں ہزار درجہ بہتر ہیں جو تم سے اختلاف رکھتے ہیں کیوں کہ انگریز تمہیں ذلیل کرنا نہیں چاہتے اور نہ ہی وہ تمہیں قتل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔” (فرقہ کے لئے ایک قیمتی نصیحت – ’تبلیغ رسالت‘ از مرزا احمد میں جلد اول صفحہ 123 پر مندرجہ)۔

    اپنی کتاب ’تریاق القلوب‘ مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس، قادیان 28 اکتوبر 1902 عیسوی، ضمیمہ 3 میں حکومت عالیہ کے حضور میں ایک عاجزانہ التماس، کے عنوان سے مرزا لکھتا ہے : “عرصہ بیس سال سے میں نے دلی سرگرمی کے ساتھ فارسی، عربی، اردو اور انگریزی میں کتابیں شائع کرنا کبھی ترک نہیں کیا، جن میں میں نے بار بار دہرایا ہے کہ مسلمانوں کا یہ فریضہ ہے کہ خدا کی نظروں میں گنہگار بننے کے خوف سے اس حکومت کی تابعدار اور وفادار رعایا بنیں۔ ’جہاد‘ میں کوئی حصہ نہ لیں، خون کے پیاسے مہدی کا انتظار نہ کریں اور نہ ایسے واہموں پر یقین کریں جنہیں قرآنی ثبوتوں کی تائید کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔ میں نے انہیں تنبیہ کی کہ اگر وہ اس غلطی کو رد کرنے سے انکار کرتے ہیں تو کم سے کم یہ تو ان کا فرض ہے کہ اس حکومت کے ناشکر گزرا نہ بنیں کیوں کہ اس حکومت سے غداری کر کے خدائی نظروں میں گنہگار نہ بننا ان کا فرض ہے۔” (صفحہ 307)

    اسی عاجزانہ التماس میں آگے کہا گیا ہے : “اب اپنی فیاض طبع حکومت سے پوری جراءتمندی کے ساتھ یہ کہنے کا وقت آ گیا ہے کہ گزشتہ بیس سالوں میں میں نے یہ خدمات انجام دی ہیں اور ان کا مقابلہ انگریزی ہندوستان میں کسی بھی مسلم خاندان کی خدمات سے نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ لوگوں کو بیس سال جتنی طویل مدت تک یہ سبق پڑھانے میں ایسا استقلال کسی منافق یا خود غرض انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یہ ایسے انسان کا کام ہے جس کا دل اس حکومت کی سچی وفاداری سے معمور ہے۔”

    صفحہ 309 اور 310 پر وہ کہتا ہے : “میں حقیقت میں کہتا ہوں اور اس کا دعوی کرتا ہوں کہ میں مسلمانوں میں سرکار انگریزی کی رعایا میں سب سے زیادہ تابعدار اور وفادار ہوں کیوں کہ تین چیزیں ایسی ہیں جنہوں نے انگریزی حکومت کے تئیں میری وفاداری کو اس درجہ بلندی تک پہنچانے میں میری رہبری کی ہے (1) میرے والد مرحوم کا اثر (2) اس فیاض حکومت کی مہربانیاں (3) خدائی الہام۔”

    مرزا نے ’شہادۃ القرآن‘ کے ایک ضمیمہ میں ” حکومت کی ہمدردانہ توجہ کے قابل ایک کلمہ ” کے عنوان سے لکھا، جس میں اس نے کہا :

    “درحقیقت میرا مذہب جس کا میں لوگوں پر بار بار اظہار کر رہا ہوں یہ ہے کہ اسلام دو حصوں میں منقسم ہے۔ پہلا اللہ تعالٰی کی اطاعت کرنا اور دوسرا اس حکومت کی اطاعت کرنا جس نے امن و امان اور قانون قائم کیا اور اپنے بازو ہم پر پھیلائے اور ناانصافی سے ہماری حفاظت کی۔ اور یہ حکومت انگریزی حکومت ہے۔” (صفحہ 3)

    آگے وہ کہتا ہے : ” وہ اہم کام جس کے لئے اپنی نوجوانی سے لیکر زمانہ حال تک جبکہ میری عمر ساٹھ سال کی ہو چکی ہے، میں خود اپنی ذات، اپنی زبان اور اپنے قلم کو وقف کئے ہوئے ہوں یہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں کو محبت، خلوص اور انگریزی حکومت کے تئیں وفاداری کے راستے کر طرف رجوع کر دوں۔ اور کچھ بیوقوف مسلمانوں کے دلوں سے جہاد جیسے ان دوسرے واہموں کو دور کر دوں جو انہیں خلوص پر مبنی دوستی اور اچھے تعلقات سے دور کرتے ہیں۔” (صفحہ 10)۔

    کچھ آگے چل کر وہ لکھتا ہے : ” میں نے نہ صرف انگریزی ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں کو انگریزی حکومت کی اطاعت سے بھرنے کی کوشش کی، بلکہ میں نے عربی، فارسی اور اردو میں بہت سی کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں میں نے اسلامی ملکوں کے باشندوں کے سامنے وضاحت کی کہ ہم انگریزی حکومت کی سرپرستی میں اور اس کے خنک سائے میں کس طرح اپنی زندگی گزار رہے ہیں اور تحفظ، مسرت، فلاح و بہبود اور آزادی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔” (صفحہ 10)۔

    آگے وہ کہتا ہے : ” مجھے پورا یقین ہے کہ جیسے جیسے میرے پیروؤں کی تعداد میں اضافہ ہو گا، ان لوگوں کی تعداد کم ہو گی جو جہاد پر ایمان رکھتے ہیں کیوں کہ صرف مجھ پر ایمان لانا ہی جہاد سے انکار کرنا ہے۔” (صفحہ 17)

    وہ یہ بھی کہتا ہے : ” حالانکہ میں احمدیت کی تبلیغ کے لئے روس گیا تھا۔ لیکن احمدیہ فرقہ اور انگریزی حکومت کے مفادات یکساں ہونے کی وجہ سے میں نے جہاں کہیں بھی لوگوں کو اپنے فرقہ میں شمولیت کی دعوت دی، وہاں انگریزی حکومت کی خدمت کو بھی اپنا فرض سمجھا۔” (الفضل، مورخہ 28 ستمبر 1922 عیسوی میں شائع شدہ محمد امین قادیانی مبلغ کے ایک بیان کا اقتباس)۔

    ایک اور جگہ اس نے کہا : ” درحقیقت انگریزی حکومت ہمارے لئے ایک جنت ہے اور احمدی فرقہ اس کی سرپرستی میں مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ اگر تم اس جنت کوکچھ عرصے کے لئے الگ کر دو تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہارے سروں پر زہریلے تیروں کی کیسی زبردست بارش ہوتی ہے۔ ہم اس حکومت کے کیوں نہ مشکور ہوں جس کے ساتھ ہمارے مفاد مشترک ہیں۔ جس کی بربادی کا مطلب ہماری بربادی ہے اور جس کی ترقی سے ہمارے مقصد کی ترقی میں مدد ملتی ہے۔ اس لئے جب کبھی اس حکومت کا دائرہ اثر وسیع ہوتا ہے، ہمارے لئے اپنی دعوت کی تبلیغ کا ایک نیا میدان ظاہر ہوتا ہے۔” (الفضل مورخہ 19 اکتوبر 1915 عیسوی)۔

    وہ یہ بھی کہتا ہے : ” احمدیہ فرقہ اور انگریزی حکومت کے درمیان تعلقات اس حکومت اور دوسرے فرقوں کے درمیان موجود تعلقات کی مانند نہیں ہیں۔ ہمارے حالات کے مقتضیات دوسروں سے مختلف ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ حکومت کے لئے سود مند ہے، وہ ہمارے لئے بھی سود مند اور جوں جوں انگریزی عملداری وسیع ہوتی ہے ہمیں بھی ترقی کے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ اگر حکومت کو نقصان پہنچتا ہے، خدا نہ کرئے، تو ہم بھی امن و امان کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل نہ رہیں گے۔” (الفضل، موخہ 27 جولائی 1918 عیسوی میں شائع شدہ قادیانی خلیفہ کے بیان سے)۔

    ’استفتا‘ کے صفحہ 59 پر وہ کہتا ہے : “حکومت کی تلوار اگر نہ ہوتی تو تمہارے ہاتھوں میں بھی اسی انجام کو پہنچتا جس انجام کو عیسیٰ کافروں کے ہاتھوں سے پہنچا۔ اسی لئے ہم حکومت کے شکرگزار ہیں، خوشامد کے طور پر یا ریاکاری کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی طور پر مشکور ہیں۔ ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے اس کے زیر سایہ اس سے بھی زیادہ تحفظ کا لطف اٹھایا جس کی ہم آجکل اسلام کی حکومت کے تحت امید کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مذہب میں انگریزوں کے خلاف جہاد میں تلوار اُٹھانا ناجائز ہے۔ اسی لئے تمام مسلمانوں کو ان کے خلاف لڑنے اور ناانصافی اور بداطواری کے حمایت کرنے سے منع کیا گیا ہے، کیوں کہ انہوں نے ہمارے ساتھ حسنِ سلوک سے کام لیا اور ہر طور سے کریم النفسی سے پیش آئے۔ کیا مہربانیوں کا جواب مہربانی سے ہی نہیں دینا چاہیے۔ اس سلسلہ میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ان کی حکومت ہمارے لئے جائے امن اور ہمعصروں کے ظلم و ناانصافی سے حفاظت کے لئے پناہ گاہ ہے۔”

    پھر وہ کہتا ہے : “ان کی سرپرستی میں شب کی سیاہی ہمارے لئے اس دن سے بہتر ہے جو ہم اصنام پرستوں کے زیرِ سایہ گزاریں۔ لہٰذا یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے شکر گزار ہوں۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہم گنہگار ہوں گے۔”

    “خلاصہء کلام یہ ہے کہ ہم نے حکومت کو اپنے خیر خواہوں میں پایا اور کلام مقدس نے واجب قرار دیا ہے کہ ہم اس کا شکریہ ادا کریں۔ لہٰذا ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کی خیر خواہی کرتے ہیں۔”

    اسی کتاب کے صفحہ 76 پر وہ لکھتا ہے : ” پھر انگریزوں کے عہد میں خدا نے میرے والد کو کچھ گاؤں واپس کر دیئے۔”

    ’حمامتہ البشریٰ‘ کے صفحہ 56 پر وہ کہتا ہے : ” ہم اس کی سرپرستی میں حفاظت و عافیت اور مکمل آزادی کے ساتھ رہتے ہیں۔”

    اسی کتاب میں وہ یہ بھی لکھتا ہے : ” اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر ہم مسلم بادشاہوں کے ملک کو ہجرت کر جائیں تو بھی ہم اس سے زیادہ تحفظات اور اطمینان نہیں پا سکتے۔ یہ (انگریزی حکومت) ہمارے ساتھ اور ہمارے آباؤ اجداد کے ساتھ اتنی فیاض رہی ہے کہ ہم اس کی برکات کے لئے قرار واقعی شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔”

    وہ یہ بھی کہتا ہے : ” میں یہ خیال رکھتا ہوں کہ مسلم ہندوستانیوں کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ غلط راہ پر چلیں اور اس خیر خواہ حکومت کے خلاف ہتھیار اُٹھائیں۔ نہ ہی ان کا اس معاملہ میں کسی دوسرے کی مدد کرنا نہ ہی مخالفوں کی بدکاریوں کی الفاظ، عمل، مشورہ، زر یا معاندانہ تدبیروں سے اعانت کرنا درست ہے۔ حقیقت میں یہ تمام کام قطعی ممنوع ہیں اور وہ جو ان کی حمایت کرتا ہے، خدا اور رسول کی نافرمانی کرتا ہے اور صریحاً غلطی پر ہے۔ بجائے اس کے شکر بجا لانا واجب ہے۔ اور جو انسانوں کا مشکور نہیں وہ خدا کا شکر بھی نہیں بجا لائے گا۔ محسن کو ایذا پہنچانا خباثت ہے۔ انصاف اور اسلام کے راستے سے انحراف کو وجود میں لاتا ہے اور خدا حملہ آور سے محبت نہیں کرتا۔”

    غلام قرآن میں موجود جہاد کے بارے میں تمام آیات کو نظرانداز کر گیا ہے۔ اس نے جہاد اور اس کی فضیلت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث بھی نظر انداز کر دیں اور یہ حقیقت مسلمہ بھی کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔

    ۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔

  106. قادیان کا حج اور یہ دعویٰ کہ اس کی مسجد، مسجد اقصیٰ ہے اور وہ خود حجر اسود ہے

    اخبار ’الفضل‘ کے شمارہ نمبر 1848 جلد نمبر 10، دسمبر 1922 عیسوی میں محکمہ تعلیم قادیان کا ایک اشتہار چھپا۔ اس کا مضمون یہ تھا : ” وہ شخص جو کہ مسیح موعود کے قبہء سفید کی زیارت کرتا ہے وہ مدینہ میں رسول اللہ کے قبہء خضرا سے متعلق برکات میں شرکت پاتا ہے۔ وہ شخص کتنا بدنصیب ہے جو قادیان کے حج اکبر کے دوران خود کو اس نعمت سے محروم رکھتا ہے۔”

    قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قادیان تیسرا مقام مقدس ہے۔ اس بارے میں خلیفہ محمود کہتا ہے : ” درحقیقت خدا نے ان تین مقامات کو مقدس قرار دیا ہے (مکہ، مدینہ اور قادیان) اور اپنی تجلیات کے ظہور کے لئے ان تین مقامات کا انتخاب کیا ہے۔” (الفضل 3 ستمبر 1935 عسیوی)۔

    قادیانی مذہب ایک قدم اور آگے بڑھ کر ان آیات کو جو خدا کے شہر الحرام اور مسجد اقصیٰ (یروشلم) کے بارے میں نازل ہوئیں، قادیان پر منطبق کرتا ہے۔ غلام احمد نے ’براہین احمدیہ‘ کے حاشیہ پر تحریر کیا : “خدا کے یہ الفاظ – اور وہ جو اس میں داخل ہوا، مامون رہے گا – مسجد قادیان کے بارے میں صادق ہیں۔” صفحہ 55۔

    اپنے ایک شعر میں وہ کہتا ہے : “قادیان کی زمین عزت کی مستحق ہے۔ یہ کائنات کے آغاز سے ہی مقدس سرزمین ہے۔” (’درثمین‘ – غلام احمد کے اقوال کا مجموعہ، صفحہ 52)۔

    ’الفضل‘ شمارہ 23، جلد 20 میں ہم پڑھتے ہیں : “آیتِ خداوندی – پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ کو شب کے وقت لے گئی مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک، جس کے ارد گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں – میں مسجد اقصی سے مراد مسجد قادیان ہے۔ اور اگر قادیان کا مرتبہ شہر مقدس کے برابر اور ہو سکتا ہے کہ اس سے بھی افضل ہے تو اس کا سفر بھی سفر حج کے برابر ہونا چاہیے یا ہو سکتا ہے اس سے بھی افضل ہو۔”

    ’الفضل‘ کے شمارہ 26 جلد 20 میں ہم پڑھتے ہیں : “حج قادیان فی الواقع بیت الحرام (یعنی کعبہ) کے حج کے برابر ہے۔” ’پیغام صلح‘ نامی صحیفہ، جو لاہوری قادیانیوں کا ترجمان ہے، یہ اضافہ کرتا ہے : “قادیان کے حج کے بغیر مکہ کا حج روکھا سوکھا حج ہے۔ کیوں کہ آج کل حج مکہ نہ اپنا مشن پورا کرتا ہے اور نہ اپنا مقصد حاصل کرتا ہے۔” (شمارہ 33 جلد 21)۔

    ’استفتا‘ کے صفحہ 42 پر غلام کہتا ہے : “میں ہی حقیقت میں حجرِ اسود ہوں جس کی طرف منہ کر کے ’زمین پر‘ نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ اور جس کے لمس سے لوگ برکت حاصل کرتے ہیں۔”

    الہام کے دعویٰ کی بنیاد پر قرآن میں تحریف اور اس کی مثالیں

    ’حمامتہ البشریٰ‘ کے صفحہ 10 پر غلام کہتا ہے : “اس نے کہا : اے احمد تم پر خدا کی برکت ہو، کیوں کہ جب تم نے پھینکا، تو یہ تم نہ تھے، بلکہ خدا تھا جس نے لوگوں کو خبردار کرنے کے لئے پھینکا، جن کے آباء کو خبردار نہیں کیا گیا تھا تا کہ مجرموں کی تدابیر ظاہر ہو جائیں۔ اور اس نے کہا : کہو، اگر یہ میری اختراع ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہے۔ یہ وہ ہی ہے جس نے اپنے رسولوں کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اُسے تمام (دوسرے) مذاہب سے ممتاز کر سکے۔ خدا کے الفاظ کوئی نہیں بد سکتا اور تمہاری طرف سے مضحکہ اُڑانے والوں سے نمٹنا ہمارا ذمہ ہے۔ اور اس نے کہا : تم نے اپنے رب سے اس کی رحمت کی نشانی کے لئے اصرار کیا۔ اور اس کی فیاضی کے باعث تم مجنون میں سے نہیں ہو۔ وہ تمہیں دوسرے معبودوں سے ڈراتے ہیں۔ تم ہماری نگاہوں میں ہو۔ میں نے تمہیں المتوکل کہہ کر پکارا ہے (یعنی وہ جو خدا پر بھروسہ رکھتا ہے) اور خدا نے عرش سے تمہاری تعریف کی۔ نہ ہی یہود اور نہ ہی نصاریٰ تم سے مطمئن ہوں گے۔ انہوں نے سازش کی اور خدا نے سازش کی لیکن سازش کرنے والوں میں خدا بہترین ہے۔”

    ’استفتا‘ کے صفحہ 77 پر وہ کہتا ہے : “اور اس نے ان الفاظ میں مجھ سے کلام کیا جن میں سے کچھ کا بیان ہم یہاں کریں گے۔ اور ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں، جس طرح ہم اللہ خالق الانام کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ کلمات یہ ہیں :

    “اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ اے احمد تم پر خدا کی برکت ہو۔ جب تم نے پھینکا، تو یہ تم نہ تھے بلکہ خدا تھا جس نے پھینکا۔ اس مہربان نے قرآن پڑھایا تا کہ تم ان لوگوں کو خبردار کر سکو جن کے آباء کو خبردار نہیں کیا گیا تھا۔ اور مجرموں کی تدابیر ظاہر ہو جائیں۔ کہو، کہ مجھے حکم دیا گیا ہے، اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ کہو کہ حق ظاہر ہو گیا اور باطل مٹ گیا۔ یقیناً باطل کو مٹنا ہی ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمام برکتیں۔ مبارک ہے وہ جو سکھاتا ہے اور سیکھتا ہے اور انہوں نے کہا کہ یہ جعلسازی ہے۔ تو پھر اللہ کا نام لو انہیں ان کے مباحث میں کھیلتے ہوئے ان کے حال پر چھوڑ دو۔ کہو، اگر یہ میرا اختراع ہے تو مجھ پر سخت گناہ ہے۔ اور اس سے زیادہ غلطی پر اور کون ہو گا جو اللہ کے بارے میں غلط بیانی کرئے۔ یہ وہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اسے تمام (دوسرے) مذہبوں سے ممتاز کر سکے۔ اس کے الفاظ کوئی نہیں بدل سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ تم نے اُسے کہاں سے حاصل کیا؟ یہ انسانی کلمات کے سوا کچھ بھی نہیں اور دوسروں نے اِس میں اُس کی مدد کی۔ پھر کیا تم اپنی کھلی آنکھوں کے ساتھ خود کو جادو کے پاس لے جاؤ گے۔ دور ہو جاؤ، شئے موعودہ کو لے جاؤ! کون ہے یہ جو ذلیل، جاہل یا مجنوں ہے؟ کہو، میرے پاس خدا کی تصدیق ہے۔ کیا تم مسلمان ہو؟”

    صفحہ 79 پر وہ کہتا ہے : “خدا تمہیں نہیں چھوڑے گا جب تک کہ برائی اور بھلائی میں تمیز نہ ہو جائے، جب خدا کی مدد اور فتح آئے اور تمہارے رب کا وعدہ پورا ہو جائے۔ یہی تو ہے وہ جس کے لئے تم جلدی میں تھے۔ میں نے ارادہ کیا کہ (زمین پر) میرا خلیفہ ہو۔ اس لئے میں نے آدم کی تخلیق کی۔ پھر وہ نزدیک آیا اور اپنے آپ کو اتنا جھکایا کہ دو کمان کے برابر دُور یا نزدیک تھا۔ اس نے دین کا احیا کیا اور شریعت کو قائم کیا۔ اے آدم، تم اور تمہاری زوجہ جنت میں سکون پذیر ہو۔ اے ابنِ مریم، تم اور تمہاری زوجہ جنت میں سکونت پذیر ہو۔ اے احمد، تم اور تمہاری زوجہ جنت میں سکونت پذیر ہو۔ تمہیں فتح دی گئی اور انہوں نے کہا کہ لیت و لعل کے لئے وقت نہیں یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے پِھر گئے، ان کو فارس کے ایک شخص نے جواب دیا۔ خدا اپنی عنایت سے اس کی مساعی قبول کرے۔ یا وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک فتحمند جماعت ہیں۔ (اُن کی) پوری جماعت کو جڑ سے اُکھاڑ دیا جائے گا اور پشت موڑ دی جائے گی۔ تم ہمارے پہلو میں ہو، مضبوطی کے ساتھ قائم اور معتبر۔”

    صفحہ 80 پر وہ کہتا ہے : “کہو،کہ خدا کا نور تم تک آ گیا ہے۔ اس لئے کفر نہ کرو، اگر تم ایمان والے ہو۔ یا تم اُن سے انعام مانگتے ہو اور اس لئے وہ قرض کے وزن سے دب گئے ہیں۔ ہم نے اُن تک حق پہنچا دیا ہے۔ لیکن وہ حق کے مخالف ہیں۔ لوگوں سے لطف کے ساتھ پیش آؤ اور ان پر رحم کھاؤ۔ تم ان کے درمیان بمنزلہ موسیٰ کے ہو۔ صبر سے کوشش کئے جاؤ وہ جو کچھ کہیں، کہنے دو۔ شاید تم اپنے آپ کو تھکانے جا رہے ہو مبادا وہ منکر ہو جائیں۔ اس کی پیروی نہ کرو جس کا تمہیں علم نہ ہو۔ مجھے ان کے بارے میں مخاطب نہ کرو جنہوں نے گناہ کئے۔ وہ یقیناً غرق ہونے والے ہیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری تجویزوں کے مطابق پناہ گاہ بناؤ۔ یقیناً جو تمہاری اطاعت کا عہد کرتے ہیں وہ واقع میں خدا کی اطاعت کا عہد کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں سے افضل ہے۔ جبکہ وہ جو کافر تھا، تمہارے خلاف سازش کر رہا تھا، اے ہامان میرے لئے آگ روشن کرو۔ شاید میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں۔ درحقیقت میں اُسے ان میں سے سمجھتا ہوں جو جھوٹ بولتے ہیں۔ ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ برباد ہو۔ اس کے لئے نہیں تھا کہ اس میں داخل ہو سوائے خوف کے۔ اور جو کچھ تم پر گزری وہ خدا کی طرف سے تھا۔”

    کچھ دوسری مثالیں ’تحفہ بغداد‘ میں صفحہ 21 سے 31 تک ملتی ہیں۔

    غلام کہتا ہے : “میں تم پر ایک برکت نازل کروں گا اور اس کے انوار ظاہر کروں گا تا کہ ملوک و سلطان تمہارے لباس کو چھو کر اس سے برکت کے طالب ہوں۔” اور اس (خدا) نے کہا : “میں ان پر قابو رکھتا ہوں جنہوں نے تمہیں ذلیل کرنا چاہا۔ اور یقیناً تمہاری طرف سے مضحکہ اُڑانے والوں سے نمٹنا ہمارا ذمہ ہے۔ اے احمد، تم پر خدا کی برکت ہے کیوں کہ جب تم نے پھینکا یہ تم نہیں تھے بلکہ خدا تھا جس نے پھینکا۔ وہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اُسے تمام (دوسرے) مذاہب سے ممتاز کر سکے۔ کہو، کہ مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ کہو، کہ حق آ پہنچا اور باطل مٹ گیا۔ یقیناً باطل کو مٹنا ہی ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سبھی برکتیں۔ مبارک ہے وہ جو علم رکھتا ہے اور جو سیکھتا ہے۔ اور کہو، اگر یہ میری اختراع ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہے۔ اور انہوں نے سازش کی اور خدا نے سازش کی لیکن سازش کرنے والوں میں خدا بہترین ہے۔ وہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اُسے تمام (دوسرے) مذاہب سے ممتاز کر سکے۔ خدا کے الفاظ کوئی نہیں بدل سکتا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں، لہٰذا میرے ساتھ ہو۔ خدا کا ساتھ پکڑے رہو چاہے کہیں بھی ہو، تم جہاں ہو گے وہاں خدا کا چہرہ ہو گا۔”

    “تم انسانوں میں بہترین امت ہو اور مومنین کا فخر ہو۔ خدا کی تشفی سے مایوس نہ ہو۔ کیوں کہ خدا کی تشفی قریب ہی ہے اور خدا کی نصرت قریب ہے۔ وہ ہر ایک تنگ گھاٹی سے تمہاری طرف آئیں گے، خدا تمہاری مدد کرے گا۔ تمہیں میری مدد ملے گی، جسے آسمان سے ہمارا الہام حاصل ہو گا۔ خدا کے الفاظ کوئی نہیں بدل سکتا۔ تم آج ہمارے پہلو میں ہو، مضبوطی کے ساتھ قائم اور معتبر۔ انہوں نے کہا کہ یہ جعل سازی کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ کا نام لو اور انہیں ان کے مباحث میں کھیلتے ہوئے ان کے حال پر چھوڑ دو۔ یقیناً تم پر میری رحمت ہے اس دنیا میں اور آخرت میں۔ اور تم ان میں سے ہو جن کے لئے نصرت بخشی گئی۔ اے احمد، تمہارے لئے بشارت ہے۔ تم میرے محبوب ہو اور میری معیت میں ہو۔ میں نے تمہاری عظمت کا پودا اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ اگر لوگ تعجب کریں تو کہہ دو کہ وہ خدا ہے اور وہ عجیب ہے وہ جس سے بھی خوش ہوتا ہے اس کے ساتھ فیاضی کا برتاؤ کرتا ہے۔ جو کچھ وہ کرتا اس کے بارے میں اس سے پوچھ گچھ نہیں ہو سکتی۔ مگر ان سے پوچھ گچھ ہو گی۔ ان کی ہم عوام الناس میں تشہیر کریں گے۔ جب خدا ایمان والوں کی مدد کرتا ہے تو ان سے رشک کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔ لوگوں سے لطف و کرم سے پیش آؤ۔ اور ان پر رحم کرو۔ تم ان کے درمیان بمنزلہ موسیٰ کے ہو ناانصاف لوگوں کا ظلم صبر کے ساتھ برداشت کرو۔ لوگ ایسی حالت میں چھوڑ دیا جانا پسند کرتے ہیں جہاں وہ کہہ سکیں “ہم ان پر بغیر آزمائش کئے ایمان لائے۔” سو آزمائش یہی ہے۔ لہٰذا مستقل مزاج لوگوں کی طرح صبر کے ساتھ برداشت کرو۔ لیکن یہ آزمائش خدا کی طرف سے ہے، اسی کی عظیم محبت کے لئے۔ تمہارا انعام خدا کے یہاں ہے، اور تمہارا رب تم سے راضی ہو گا اور تمہارے نام کو مکمل کرے گا۔ اور اگر وہ تم کو صرف نامعقولیت کا کُندا سمجھتے ہیں تو کہو کہ میں صادق ہوں اور کچھ دیر میری نشانی کا انتظار کرو۔”

    “تعریف ہو اس خدا کی جس نے تمہیں مسیح ابن مریم بنایا۔ کہو، کہ یہ خدا کا فضل ہے، اور میں خطاب کرنے کی تمام شکلوں سے عاری ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہی ایک ہوں۔ وہ اپنی پھونکوں سے اللہ کے نور کے بجھانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن خدا اپنے نور کی تکمیل کرتا ہے اپنے دین کا احیا کرتا ہے۔ تم چاہتے ہو کہ ہم آسمان سے تم پر آیتیں نازل کریں اور تم دشمنوں کا قلع قمع ک دو۔ اللہ الرحمٰن نے اپنا حکم اپنے نمائندوں کو عطا کیا ہے۔ اس لئے خدا پر بھروسہ رکھو اور ہماری نظر کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق پناہ گاہ تعمیر کرو۔ جو تمہاری اطاعت کا عہد کرتے ہیں وہ حقیقت میں اللہ سے اپنی اطاعت کا عہد کرتے ہیں۔ اللہ یا ہاتھ ان کے ہاتھوں سے افضل ہے۔ اور وہ لوگ جو عذاب کے مستحق ہیں وہ سازش کرتے ہیں اور اللہ سازش کرنے والوں میں بہترین ہے۔ کہو، میرے پاس اللہ کی تصدیق ہے۔ پھر کیا تم مسلمان ہو؟ میرے ساتھ میرا رب ہے وہ میرے رہبری کرے گا۔ میرے رب نے مجھے دکھایا کہ تم کس طرح مردوں کو زندہ کر دیتے ہو۔ میرے رب معاف کر اور آسمانوں پر سے رحم کر مجھے تنہا نہ چھوڑ، حالانکہ تم خیر الوارثین ہو اے رب، محمد کی امت کی اصلاح کر۔ اے ہمارے رب ہمیں اور ہماری قوم کے جو لوگ حق پر ہیں انہیں ایک جگہ اکٹھا کر۔ کیوں کہ تم ان سب میں بہترین ہو جو (نزاعی معاملوں میں) صلح صفائی کراتے ہیں۔ وہ تمہیں دوسرے معبودوں سے ڈراتے ہیں۔ تم ہماری نگاہوں میں ہو۔ میں نے تمہیں المتوکل کہہ کر پکارا ہے۔ خدا اپنے عرش سے تمہاری تعریف کرتا ہے۔ اے احمد، ہم تمہاری تعریف کرتے ہیں اور تم پر برکت بھیجتے ہیں۔ تمہارا نام مکمل کیا جائے گا۔ لیکن میرا نہیں۔ اس دنیا میں ایک اجنبی یا مسافر کی طرح رہو، راستباز اور نیک چلن لوگوں کے درمیان رہو۔ میں نے تمہیں چنا اور تمہاری طرف اپنی محبت پھینکی ہے۔ اے ابنائے فارس توحید اختیار کرو اور ان کے لئے خوش خبر لاؤ جو ایمان لائے اس امر پر کہ وہ اپنے کے ساتھ یقینی تعلقات رکھتے ہیں۔ خدا کی مخلوق کے سامنے منہ نہ بناؤ۔ لوگو سے بیزار نہ ہو نہ مسلمانوں پر اپنے بازو نیچے کرو۔”

    “اے وہ لوگو جو سوال جواب کرتے ہو! تمہیں ان کے بارے میں کس ذریعہ نے بتایا جو سوال جواب کرتے ہیں تم ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی دیکھو گے اور وہ تم پر اللہ کی برکتیں بھیجیں گے۔ اے ہمارے رب ہم نے ایک شخص کو سنا ہے ایمان کی طرف بلاتے ہوئے۔ اے رب ہم ایمان لائے لہٰذا ہمارا نام شاہدین میں لکھ لے، تم عجیب ہو، تمہارا انعام قریب ہے اور تمہارے ساتھ آسمان اور زمین کے سپاہی ہیں۔ میں تمہیں اپنی وحدانیت اور انفرادیت کے بمنزلہ سمجھتا ہوں۔ وقت آ گیا ہے کہ تمہاری مدد کی جائے اور تم عوام الناس میں متعارف ہو۔ اے احمد تم پر خدا کی برکت ہو۔ جو برکت خدا نے تم پر کی، وہ تمہیں حقیقت میں پہلے حاصل تھی۔ تم میری حضوری میں عالی رتبہ ہو۔ میں نے تمہیں خود اپنے لئے منتخت کیا اور تمہیں ایسے رتبہ پر فائز کیا جو مخلوق کے لئے نامعلوم ہے۔ یقیناً خدا تمہیں اس وقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک برائی اور بھلائی میں تمیز نہ ہو جائے۔ یوسف اور اس کی کامیابی پر نظر رکھو۔ اللہ اس کے معاملات کا مالک ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت اس سے ناواقف ہے۔ میں نے ارادہ کیا کہ (زمین پر) میرا خلیفہ ہو۔ اس لئے میں نے آدم کی تخلیق کی تا کہ وہ دین کا احیاء کر سکے اور شریعت کو قائم کر سکے۔

    کتاب ذالفقار علی ولی : اگر ایمان کو ثریا کے ساتھ باندھ دیا گیا ہوتا تو بھی اہل فارس اس تک پہنچ جاتے۔ اس کا روغن روشنی پھیلاتا حالانکہ اسے آگ نے ذرا بھی نہ چھوڑا ہوتا۔ خدا رسولوں کے حلیہ میں تھا۔ کہو، اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو، میری پیروی کرو اور خدا تم سے محبت کرئے گا۔ اور محمد اور اس کی آل پر درود بھیجو وہ تمام ابنِ آدم کے سردار اور خاتم النبیین ہیں۔ تمہارا رب تم پر مہربان ہے اور خدا تمہارا دفاع مہیا کرئے گا۔ اور اگر لوگ تمہارا دفاع نہیں کرتے، خدا تمہارا دفاع مہیا کرئے گا اگرچہ کہ دنیا کے لوگوں میں سے ایک شخص بھی تمہارا دفاع نہ کرئے۔ ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور اس کی بربادی ہو۔ اس کے لئے نہیں تھا کہ وہ اس میں داخل ہو سوائے خوف کے۔ اور جو کچھ تم پر گزری وہ خدا کی طرف سے تھا اور جان لو کہ انعام متقیوں کے لئے ہے۔ اور اگر تم ہم خاندان اور اہلِ قرابت ہوتے، یقیناً ہم انہیں ایک نشانی اس عورت میں دکھائیں گے جو پہلے سے شادی شدہ ہے، اور اسے تمہاری طرف واپس بھیج دیں گے، اپنی طرف سے رحم کے طور پر۔ یقیناً ہم باعمل ہو گئے ہیں۔ اور انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان میں شامل ہوئے جنہوں نے میرا مضحکہ اُڑایا۔ تمہارے رب کی طرف سے بشارت ہو تمہیں نکاح الحق کی۔ لہٰذا میری احسان فراموشی نہ کرو۔ ہم نے اس کا نکاح تم سے کیا۔ خدا کے الفاظ کوئی بدل نہیں سکتا۔ اور ہم اُسے تمہارے لئے بحال کرنے جا رہے ہیں۔ یقیناً تمہارا رب جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ یہ ہماری فیاضی ہے تا کہ یہ ایک نشانی ہو دیکھنے والوں کے لئے۔ دو آنکھیں قربان کر دی جائیں گی، تمام ذی روح چیزوں کو فنا ہونا ہے۔ اور ہم انہیں نشانیاں آسمانوں میں، خود ان میں دکھائیں گے، اور ہم انہیں فاسقین کی سزا دکھائیں گے۔

    “جب خدا کی نصرت اور فتح آتی ہے اور زمانہ کی تقدیر ہمارے ہاتھ میں آتی ہے، تو کیا یہ ہمارا حق نہیں ہے۔ لیکن جنہوں نے اس پر یقین نہیں کیا انہوں نے واضح غلطی کی۔ تم ایک پوشیدہ خزانہ تھے، اس لئے میں نے اسے ظاہر کرنا چاہا۔ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے اور ہم نے اُنہیں چاک کر کے کھول دیا۔ کہو، کہ میں ایک بشر ہوں جس پر وحی آتی ہے۔ لیکن یقیناً تمہارا خدا ایک ہے اور تمام نیکی قرآن میں ہے جسے صرف انہیں ہی چھونا چاہیے جو پاک ہوں۔ حقیقت میں میں ایک طویل عرصہ تمہارے درمیان رہ چکا ہوں قبل اِس کے (آنے کے) پھر کیا تم میں ذرا بھی عقل نہیں۔

    “کہو، کہ اللہ کی ہدایت، ہدایت ہے اور میرا رب میری معیت میں ہے۔ اے رب، میری مغفرت کر اور آسمان سے مجھ پر مہربان رہ۔ اے رب میں مغلوب ہوں، لیکن فاتح ہوں گا۔ ایلی، ایلی تم نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اے اللہ القادر کے بندے، میں تیرے ساتھ ہوں، میں تمہیں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ میں نے تمہارے لئے اپنی مہربانی اور اپنی قدرت کا پودا اپنے ہاتھ سے لگایا ہے، اور تم آج میرے ساتھ ہو، مضبوطی سے قائم اور معتبر۔ میں تمہارا ہمیشہ حاضر رہنے والا ہاتھ ہوں، میں تمہارا خالق ہوں۔ میں نے تمہارے اندر صدق کی روح پھونکی اور اپنی محبت تمہاری طرف پھینکی ہے۔ تا کہ تم میری نظروں کے سامنے ایک تخم کی طرح اپنی نشوونما کرو جیسے پہلے اس کا انکوا پھوٹتا ہے۔ پھر اس میں مضبوطی آتی ہے اور یہ توانائی کے ساتھ بڑھ کر اپنے ڈنٹھل پر سیدھا کھڑا ہوتا ہے۔ حقیقت میں ہم نے تمہیں فتح مبین عطا کی۔ تا کہ خدا تمہارے وہ گناہ معاف کر دے جو پہلے سرزد ہوئے۔ اور جو ہنوز ہونے والے ہیں۔ لہٰذا شکریہ ادا کرو۔ خدا نے اپنے بندہ کو قبول کیا اور اُسے اس سے بری کیا جو لوگ کہتے ہیں اور وہ خدا کی نگاہوں میں ایک مقبول بندہ تھا، لیکن جب خدا نے اپنی تجلی پہاڑ پر بے نقاب کی تو وہ سفوف بن گیا۔ خدا کمزور کو کافروں کی مکاری بنا دیتا ہے، تا کہ ہم اُسے اپنی رحمت کے خیال سے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں اور اس لئے بھی کہ اُسے ہم سے عظمت مِلے۔ اس طرح ہم انہیں انعام دیتے ہیں جو بخوبی کام کرتے ہیں۔ تم میرے ساتھ ہو اور میں تمہارے ساتھ ہوں۔ میرا راز تمہارا راز ہے۔ اولیا کے اسرار ظاہر نہیں کئے جائیں گے۔ تم حق مبین پر ہو، اس دنیا میں اور آخرت میں ممتاز، اور مقربین میں ہو۔ بے شرم شخص صرف اپنی موت کے وقت یقین کرئے گا۔ وہ میرا دشمن ہے اور تمہارا دشمن ہے، ایک گئو سالہ، ایک مجسم واہمہ، ذلیل و خوار۔ کہو، میں خدا کا حکم ہوں اور عجلت کرنے والوں میں سے نہ ہو۔”

    “نبیوں کا چاند تمہارے پاس آئے گا اور تمہارا حکم خوب چلے گا اور ہم نے ایمان والوں کی نصرت کا وعدہ کیا ہے۔ وہ دن جب حق آئے گا اور حقیقت ظاہر ہو گی اور کھونے والے کھوئیں گے تو تم دیکھو گے کہ ناعاقب اندیش مسجد میں جھکے ہوئے کہتے ہوں گے : اے رب ہمیں معاف کر دے کیونکہ ہم غلطی پر تھے۔ آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں، خدا تمہیں معاف کر دے گا۔ وہ الرحم الرحیمن ہے۔ تمہاری موت جب آئے گی تو میں تم سے مطمئن ہوں گا اور تم پر سلامتی ہو گی اس لئے بیخوف ہو کر اس میں داخل ہو۔”

    ۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔

  107. قادیانی فرقہ کی ہندوؤں میں منظورِ نظر بننے کی کوشش اور اس پر ہندوؤں کو مسرت

    ’اعلان‘ کے صفحہ 14 پر وہ کہتا ہے : “دینی مسئلوں پر مسلمان، ہندو، آریہ، عیسائی اور سکھ مقرروں کی تقریریں ہوتی ہیں۔ ہر ایک مقرر اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرتا ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے مذہب پر تنقید نہ کرئے اپنے دین کی تائید میں وہ جو کچھ بھی کہنا چاہے، کہہ سکتا ہے۔ مگر تہذیب و اخلاق کا خیال کرتے ہوئے۔”

    یہ بات جاننے لائق ہے کہ ہندوستان میں قومی لیڈروں نے قادیانی مذہت کے تصور کا خیر مقدم کیا ہے کیوں کہ یہ ہندوستان کو تقدس عطا کرتا ہے اور بطور قبلہ اور روحانی مرکز حجار کے بجائے ہندوستان کی طرف منہ کرنے کے لئے مسلمانوں کی ہمت افزائی کرتا ہے، اور چونکہ یہ مسلمانوں میں ہندوستان سے متعلق حب الوطنی کو فروغ دیتا ہے، یا وہ ایسا سوچتے ہیں، پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف ہنگاموں کے دوران کچھ بڑے ہندو اخباروں نے قادیانیوں کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا اور ان کی حمایت میں مضامین شائع کئے اور اپنے قارئین سے کہا کہ بقیہ مسلم فرقہ کے خلاف قادیانیوں کی حمایت و تائید ایک فرض تھا اور یہ کہ پاکستان میں قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان نزاع اصل میں ایک طرف عرب رسالت اور اس کے پیروؤں اور دوسری جانب ہندوستانی رسالت اور اس کے پیروؤں کے درمیان آویزش اور رقابت تھی۔ ہندوستان میں انگریزی کے ایک مقتدر اخبار (سٹیٹسمین) کے نام، جس نے یہ مسئلہ اُٹھایا تھا، ایک خط میں ڈاکٹر اقبال نے کہا، ” قادیانیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی حریف رسالت کی بنیاد پر ایک نئے فرقے کی تشکیل کی ایک منظم کوشش ہے۔”

    ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو جواب دیتے ہوئے، جنہوں نے اپنی ایک تقریر میں تعجب ظاہر کیا تھا کہ مسلمان قادیانیت کو اسلام سے جدا قرار دینے کے لئے کیوں اصرار کرتے ہیں جبکہ وہ بہت سے مسلم فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے، ڈاکٹر اقبال نے کہا : ” قادیانیت نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہندوستانی نبی کے لئے ایک نیا فرقہ تراشنا چاہتی ہے۔”

    انہوں نے یہ بھی کہا : “قادیانی مذہب ہندوستان میں مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے لئے یہودی فلسفی، اسینوزا کے عقائد سے زیادہ خطرناک ہے جو یہودی نظام کے خلاف بغاوت کر رہا ہے۔”

    ڈاکٹر محمد اقبال عقیدہء ختم نبوت کی اہمیت کے، اسلام کے اجتماعی ڈھانچے اور امت مسلمہ کے اتحاد کے محافظ کے طور پر، قائل تھے۔ وہ اس کے بھی قائل تھے کہ اس عقیدہ کے خلاف کوئی بھی بغاوت کسی بھی رواداری یا صبر و تحمل کی مستحق نہیں تھی کیونکہ یہ اسلام کی رفیع الشان عمارت کی بنیاد پر ضرب پہنچا کر مہندم کرنے والی کلہاڑی کا کام کرتی ہے۔ ’اسٹیٹسمین‘ کے نام اپنے مذکورہ بالا خط میں انہوں نے لکھا :

    “یہ عقیدہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں ایک بالکل صحیح خطِ فاضل ہے اسلام اور ان دیگر مذاہت کے درمیان جن میں خدا کی وحدانیت کا عقیدہ مشترک ہے اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر متفق ہیں مگر سلسلہ وحی جاری رہنے اور رسالت کے قیام پر ایمان رکھتے ہیں جیسے ہندوستان میں برہمو سماج۔ اس خط فاضل کے ذریعہ یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ کون سا فرقہ اسلام سے متعلق ہے اور کون سا اس سے جدا ہے۔ میں تاریخ میں کسی ایسے مسلم فرقے سے ناواقف ہوں جس نے اس خط کو پار کرنے کی جراءت کی۔”

    مرزا بشیر الدین ابنِ غلام احمد اور موجودہ قادیانی خلیفہ نے اپنی کتاب “آئینہ صدقات” میں کہا ہے :

    “ہر وہ مسلمان جس نے مسیح موعود کی بیعت نہیں کی، خواہ اس نے ان کے بارے میں سنا یا نہیں، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔” (صفحہ 25)۔

    یہی بیان اس نے عدالت کے سامنے دیا اور کہا : “ہم مرزا غلام احمد کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن غیر احمدی (یعنی غیر قادیانی) ان کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے۔ قرآن کہتا ہے کہ جو کوئی بھی نبیوں میں سے کسی نبی کی نبوت سے انکار کرتا ہے وہ کافر ہے۔ چنانچہ غیر احمدی کافر ہیں۔”

    خود غلام احمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے کہا تھا :

    “ہم ہر معاملے میں مسلمانوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اللہ میں، رسول میں، قرآن میں، نماز میں، روزہ میں، حج میں اور زکاۃ میں۔ ان سبھی معاملوں میں ہمارے درمیان لازمی اختلاف ہے۔” (الفضل 30 جولائی 1931 عیسوی)

    ڈاکٹر اقبال کے مطابق قادیانی اسلام سے سکھوں کی بہ نسبت زیادہ دور ہیں، جو کہ کٹر ہندو ہیں۔ انگریزی حکومت نے سکھوں کو ہندوؤں سے جداگانہ فرقہ (غیر ہندو اقلیت) تسلیم کیا ہے۔ حالانکہ اس اقلیت اور ہندوؤں میں سماجی، مذہبی اور تہذیبی رشتے موجود ہیں اور دونوں فرقے کے لوگ آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں جبکہ قادیانیت مسلمانوں کے ساتھ شادی ممنوع قرار دیتی ہے اور ان کے بانی نے مسلمانوں کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھنے کا بڑی سختی سے حکم دیتے ہوئے کہا : “مسلمان حقیقت میں کھٹا دودھ ہیں اور ہم تازہ دودھ ہیں۔”

    لاہوری جماعت اور اسکے باطل عقائد

    غلام احمد اور اس کے جانشین نور الدین کے زمانے میں قادیانی مذہب میں صرف ایک فرقہ تھا۔ لیکن نور الدین کے آخری زمانہ حیات میں قادیانیوں میں کچھ اختلاف پیدا ہوئے۔ نور الدین کے مرنے کے بعد یہ لوگ دو جماعتوں میں منقسم ہو گئے۔ قادیانی جماعت جس کا صدر محمود غلام احمد ہے اور لاہوری جماعت جس کا صدر اور لیڈر محمد علی ہے جس نے قرآن کا انگریزی ترجمہ کیا ہے۔ قادیان کی جماعت کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ غلام احمد نبی اور رسول تھا۔ جبکہ لاہوری جماعت بظاہر غلام احمد کی نبوت کا اقرار نہیں کرتی، لیکن غلام احمد کی کتابیں اس کے دعوی نبوت و رسالت سے بھری پڑی ہیں۔ اس لئے وہ کیا کر سکتے ہیں؟

    لاہوری جماعت کے اپنے مخصوص عقائد ہیں جن کی وہ اپنی کتابوں کے ذریعہ تبلیغ کرتے ہیں۔ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے کہ عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ محمد علی کے مطابقِ جو اس جماعت کا لیڈر ہے، عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے تھے۔ محمد علی نے اپنے عقیدہ کی موافقت میں آیات میں تحریف بھی کی ہے۔ (دیکھئے اس کی کتاب عیسیٰ اور محمد، صفحہ 76)۔

    ’مجلہ اسلامیہ‘ (دی اسلامک ریویو) جو انگلینڈ میں ووکنگ سے شائع ہونے والا اس جماعت کا رسالہ ہے، میں ایک بار ڈاکٹر مارکوس کا مضمون شامل تھا، جس میں لکھا تھا : “محمد علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ یوسف عیسیٰ علیہ السلام کے باپ تھے۔” اس رسالہ نے اس جملہ پر کبھی رائے زنی نہیں کی کیونکہ یہ ان کے مذہبی عقیدہ کے مطابق تھا۔

    اپنے ترجمہ قرآن میں محمد علی نے لفظی ترجمہ کے قاعدہ کی تقلید کی۔ لیکن اپنے کئے ہوئے لفظی ترجمہ کی تفسیر صفحے کے نیچے حاشیہ پر کی۔ اپنی تفسیر میں اس نے اسی تاویل کی پابندی کی جو اس کے اپنے مذہبی عقیدہ کے مطابق تھی۔ جیسا کہ اس نے مندرجہ ذیل قرآنی آیت کے ساتھ کیا :

    ” میں تمہارے لئے مٹی سے، جیسی کہ وہ تھی، ایک چڑیا بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں اور یہ خدا کی اجازت سے چڑیا بن جاتی ہے۔ اور میں انہیں اچھا کرتا ہوں جو پیدائشی اندھے اور کوڑھی تھے۔ اور میں خدا کی اجازت سے مُردوں کو زندہ کر دیتا ہوں۔”

    اس نے اس آیت کی تاویل میں ان کا طریقہ اختیار کیا جو معجزات میں ایمان نہیں رکھتے اور اس کے معنی میں ان کے طریقہ پر تصرف کیا جو نہیں جانتے کہ قرآن نہایت شستہ عربی زبان میں نازل ہوا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ ہے قادیانی مذہب

    (مملکت سعودی عرب میں مجلس اعلٰی برائے دعوت و ارشاد نے اس امر کی سفارش کی ہے کہ یہ تحقیقاتی مضمون چھپوا کر شائع کر دیا جائے۔)

    یہ ہے قادیانی مذہب

    (مملکت سعودی عرب میں مجلس اعلٰی برائے دعوت و ارشاد نے اس امر کی سفارش کی ہے کہ یہ تحقیقاتی مضمون چھپوا کر شائع کر دیا جائے۔)

    بشکریہ اردو محفل
    اصل مضمون اور رابطہ لنک۔
    http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=8563

  108. مرزا اگر ہوتا نبی
    ٹٹی میں گر کر نہ مرتا کبھی

    • بار بار اپنے خاندانی کاروبار کا کیوں ذکر کرتے ہو۔ کیا تمھاری والدہ اس وقت وہاں صفائی کے لئے موجود تھی جس نےآکر تمھیں بتایا کہ مرزا صاحب کی اس طرح وفات ہوئی۔

      • مرزا بے غیرت و مردود نے تم لوگوں میں جس طرح ایمان کی رتی نہیں چھوڑی اسی طرح ، مرزا کافر و ملعون نے تم تمام قادیانیوں میں حلال کی رتی نہیں چھوڑی ۔ مرزا کافر تو تھا ہی ملعون اور لعنتی جھوٹا بھی تھا۔ اسکا فتنہء اسقدر ذیل ہے جس کی ایک ادنٰی مثال تم ہو۔ صابون تمہیں منع کیا تھا کہ اپنے لعنتی کاروبارِ منافقت سے باز آجاؤ ورنہ تمہارے لعنی مرزا اور اسکے ملعون خلفاء کو ننگا کر دیں گے مگر تم باقی قادیانیوں کی طرح ایک نمبر کے ڈھیٹ ثابت ہوئے ہو اور تم میں تو اتنی سی بھی غیرت نہیں کہ اپنے لعنتی مرزا پہ مزید لعنتیں نہ ڈلواؤ اور تم مسلمانوں کے بلاگ پہ آکر اپنے لعنتی مرزا کے لئیے لعنتیں کما رہے ہو۔ اگر غیرت ہے تو ڈوب مرو۔ اپنی اوقات دیکھو ۔ جب تم لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے اور دوسروں کو دہوکہ دیتے نہیں تھکتے تو کیا اخلاقی اور منافقانہ زبان استعمال کرتے ہو۔ جب تمھارے مرزا ملعون کی دُم پہ پاؤں آجائے تو ایک تو ایک لمحے میں مغلظات بکنا شروع کر دیتے ہو۔ لعنتیوں یہ ہے تمھاری اور تمھارے مذھب کی اوقات اور تم لوگ کسقدر بدبودار اور تم سے گھن اور سڑانڈ آتی ہے ۔اس بارے تمھارے لعنتی فتنے کے بارے میں تلخابہ نے درست کہا تھا۔

        تمھیں شروع میں کہا تھا کہ اگر دلائل ہیں تو اپنے لعنتی فتنے پہ ہم سے بحث کر لو۔ مناظرہ کر لو ۔ مگر تم نے اپنے لعنتی مرزا کی سنت پہ عمل کیا اور ادہر ادہر کی ہانکنے لگے ۔ تم میں تو اتنی غیرت نہیں کہ اپنے لعنتی مرزا کی لعنتوں میں مذید اضافہ نہ کرواتے ہوئے ۔ قادیانیوں کی عین اوقات کے مطابق دم دبا کر بھاگ جاتے ۔ مگر تم نام بدل بدل کرڈھٹائی دکھا رے ہو تو ۔ تمھارے مرزا بے غیرت پہ مذید لعنتیں تو پڑیں گی۔

        مرزا مردو اگر ہوتا خدا کا نبی
        ٹٹی میں گر کر نہ مرتا کبھی

        آیا سواد؟ لے گیا چاء ۔ اجے ہور چوپیں گاـ؟/

  109. All of you will be severely punished by Allaha, esp. Javed Ghondal from spain

  110. Jahn Masud said
    All of you will be severely punished by Allaha, esp. Javed Ghondal from spain

    یہ بھی ٹٹی میں گر کر مرنے والے نبی کے کسی چمچے خلیفہ کی پشین گوئی ہے کیا۔؟

    مرزا گر ہوتا خدا کا نبی
    ٹٹی میں گر کر مردود نہ مرتا کبھی

    • گوں دل صاحب
      کیا مرزا صاحب کی وفات کے وقت تمھاری والدہ محترمہ وہاں بیت الخلاء صاف کرنے لئے بیٹھی تھی اور اس نے تمھیں آکر بتایا۔ ذرا اپنی خاندانی کارکردگیاں بیان کردو کہ تمھاری ماں نانی اور دادی کس کس گھر میں غلاظت اٹھانے کا کام یعنی جمعدارنی یا مہترانی کا کام کرتی تھیں۔

      • مرزا بے غیرت و مردود نے تم لوگوں میں جس طرح ایمان کی رتی نہیں چھوڑی اسی طرح ، مرزا کافر و ملعون نے تم تمام قادیانیوں میں حلال کی رتی نہیں چھوڑی ۔ مرزا کافر تو تھا ہی ملعون اور لعنتی جھوٹا بھی تھا۔ اسکا فتنہء اسقدر ذیل ہے جس کی ایک ادنٰی مثال تم ہو۔ صابون تمہیں منع کیا تھا کہ اپنے لعنتی کاروبارِ منافقت سے باز آجاؤ ورنہ تمہارے لعنی مرزا اور اسکے ملعون خلفاء کو ننگا کر دیں گے مگر تم باقی قادیانیوں کی طرح ایک نمبر کے ڈھیٹ ثابت ہوئے ہو اور تم میں تو اتنی سی بھی غیرت نہیں کہ اپنے لعنتی مرزا پہ مزید لعنتیں نہ ڈلواؤ اور تم مسلمانوں کے بلاگ پہ آکر اپنے لعنتی مرزا کے لئیے لعنتیں کما رہے ہو۔ اگر غیرت ہے تو ڈوب مرو۔ اپنی اوقات دیکھو ۔ جب تم لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے اور دوسروں کو دہوکہ دیتے نہیں تھکتے تو کیا اخلاقی اور منافقانہ زبان استعمال کرتے ہو۔ جب تمھارے مرزا ملعون کی دُم پہ پاؤں آجائے تو ایک تو ایک لمحے میں مغلظات بکنا شروع کر دیتے ہو۔ لعنتیوں یہ ہے تمھاری اور تمھارے مذھب کی اوقات اور تم لوگ کسقدر بدبودار اور تم سے گھن اور سڑانڈ آتی ہے ۔اس بارے تمھارے لعنتی فتنے کے بارے میں تلخابہ نے درست کہا تھا۔

        تمھیں شروع میں کہا تھا کہ اگر دلائل ہیں تو اپنے لعنتی فتنے پہ ہم سے بحث کر لو۔ مناظرہ کر لو ۔ مگر تم نے اپنے لعنتی مرزا کی سنت پہ عمل کیا اور ادہر ادہر کی ہانکنے لگے ۔ تم میں تو اتنی غیرت نہیں کہ اپنے لعنتی مرزا کی لعنتوں میں مذید اضافہ نہ کرواتے ہوئے ۔ قادیانیوں کی عین اوقات کے مطابق دم دبا کر بھاگ جاتے ۔ مگر تم نام بدل بدل کرڈھٹائی دکھا رے ہو تو ۔ تمھارے مرزا بے غیرت پہ مذید لعنتیں تو پڑیں گی۔

        مرزا مردو اگر ہوتا خدا کا نبی
        ٹٹی میں گر کر نہ مرتا کبھی

        کیوں اجے لتھا نئیں چاء ۔ یا ہور چوپو گے؟

      • humble request for all who have little bit common sense and they respect holy Prophet SAW

        Hazrat Mhammad (S A W) advise us in his teachings
        Do not abuse anyone (al hadith)

        but no problem this is only for muslims who respect Hazrat Mhammad (S A W) not for you.

  111. مرزا گر ہوتا خدا کا نبی
    ٹٹی میں گر کر مردود نہ مرتا کبھی

    تم لوگوں سے نرمی، شرافت اور دلیل سے بات کرنا غلط ہے کیونکہ تم قادیانی کافر لوگ اپنے مرزا خبیث سمیت صرف ایسی زبان سمجھتے ہو۔ کیونہ تمھراے مردود اور ملعین مرزا غلام نے تم میں ایمان کے ساتھ ساتھ حلال کی رتی نہیں چھوڑی۔

    • جاوید گوں دل
      میں نے پوچھا تھا کیا مرزا صاحب کی وفات کے وقت تمھاری والدہ محترمہ وہاں بیت الخلاء صاف کرنے لئے بیٹھی تھی اور اس نے تمھیں آکر بتایا۔ ذرا اپنی خاندانی کارکردگیاں بیان کردو کہ تمھاری ماں نانی اور دادی کس کس گھر میں غلاظت اٹھانے کا کام یعنی جمعدارنی یا مہترانی کا کام کرتی تھیں۔

    • تلخابہ کیا تم مفتیان کرام کی ہر بات مانتے ہو۔ اگر اس پر قائم ہو تو اپنا مذہب بتاؤ ابھی بتا دیتا ہوں کہ کس کس نے کب کب تمھارے پر اور تمھارے بڑوں پر کفرکے فتوے لگائے۔ حیا ہے تو اس کا جواب دو۔

      • مرزا بے غیرت و مردود نے تم لوگوں میں جس طرح ایمان کی رتی نہیں چھوڑی اسی طرح ، مرزا کافر و ملعون نے تم تمام قادیانیوں میں حلال کی رتی نہیں چھوڑی ۔ مرزا کافر تو تھا ہی ملعون اور لعنتی جھوٹا بھی تھا۔ اسکا فتنہء اسقدر ذیل ہے جس کی ایک ادنٰی مثال تم ہو۔ صابون تمہیں منع کیا تھا کہ اپنے لعنتی کاروبارِ منافقت سے باز آجاؤ ورنہ تمہارے لعنی مرزا اور اسکے ملعون خلفاء کو ننگا کر دیں گے مگر تم باقی قادیانیوں کی طرح ایک نمبر کے ڈھیٹ ثابت ہوئے ہو اور تم میں تو اتنی سی بھی غیرت نہیں کہ اپنے لعنتی مرزا پہ مزید لعنتیں نہ ڈلواؤ اور تم مسلمانوں کے بلاگ پہ آکر اپنے لعنتی مرزا کے لئیے لعنتیں کما رہے ہو۔ اگر غیرت ہے تو ڈوب مرو۔ اپنی اوقات دیکھو ۔ جب تم لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے اور دوسروں کو دہوکہ دیتے نہیں تھکتے تو کیا اخلاقی اور منافقانہ زبان استعمال کرتے ہو۔ جب تمھارے مرزا ملعون کی دُم پہ پاؤں آجائے تو ایک تو ایک لمحے میں مغلظات بکنا شروع کر دیتے ہو۔ لعنتیوں یہ ہے تمھاری اور تمھارے مذھب کی اوقات اور تم لوگ کسقدر بدبودار اور تم سے گھن اور سڑانڈ آتی ہے ۔اس بارے تمھارے لعنتی فتنے کے بارے میں تلخابہ نے درست کہا تھا۔

        تمھیں شروع میں کہا تھا کہ اگر دلائل ہیں تو اپنے لعنتی فتنے پہ ہم سے بحث کر لو۔ مناظرہ کر لو ۔ مگر تم نے اپنے لعنتی مرزا کی سنت پہ عمل کیا اور ادہر ادہر کی ہانکنے لگے ۔ تم میں تو اتنی غیرت نہیں کہ اپنے لعنتی مرزا کی لعنتوں میں مذید اضافہ نہ کرواتے ہوئے ۔ قادیانیوں کی عین اوقات کے مطابق دم دبا کر بھاگ جاتے ۔ مگر تم نام بدل بدل کرڈھٹائی دکھا رے ہو تو ۔ تمھارے مرزا بے غیرت پہ مذید لعنتیں تو پڑیں گی۔

        مرزا مردو اگر ہوتا خدا کا نبی
        ٹٹی میں گر کر نہ مرتا کبھی

        آیا سوادـ یا اجے ہور چوپُو گے۔؟

      • جا و ید گوں دل
        یہ درست نہیں ہے تم نے مجھے بتایا تھا کہ پہلے تمھاری والدہ غلاظت ڈھونے کا کام کرتی تھی اب نہیں مجھے لگتا ہے کہ اب تمھاری بہنوں نے یہ کام شروع کر دیا ہے۔ جھوٹ نہیں پولا کرتے۔ اب تمھارا گند بھی باہر آنا شروع ہو گیا ہے

  112. مرزا بے غیرت و مردود نے تم لوگوں میں جس طرح ایمان کی رتی نہیں چھوڑی اسی طرح ، مرزا کافر و ملعون نے تم تمام قادیانیوں میں حلال کی رتی نہیں چھوڑی ۔ مرزا کافر تو تھا ہی ملعون اور لعنتی جھوٹا بھی تھا۔ اسکا فتنہء اسقدر ذیل ہے جس کی ایک ادنٰی مثال تم ہو۔ صابون تمہیں منع کیا تھا کہ اپنے لعنتی کاروبارِ منافقت سے باز آجاؤ ورنہ تمہارے لعنی مرزا اور اسکے ملعون خلفاء کو ننگا کر دیں گے مگر تم باقی قادیانیوں کی طرح ایک نمبر کے ڈھیٹ ثابت ہوئے ہو اور تم میں تو اتنی سی بھی غیرت نہیں کہ اپنے لعنتی مرزا پہ مزید لعنتیں نہ ڈلواؤ اور تم مسلمانوں کے بلاگ پہ آکر اپنے لعنتی مرزا کے لئیے لعنتیں کما رہے ہو۔ اگر غیرت ہے تو ڈوب مرو۔ اپنی اوقات دیکھو ۔ جب تم لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے اور دوسروں کو دہوکہ دیتے نہیں تھکتے تو کیا اخلاقی اور منافقانہ زبان استعمال کرتے ہو۔ جب تمھارے مرزا ملعون کی دُم پہ پاؤں آجائے تو ایک تو ایک لمحے میں مغلظات بکنا شروع کر دیتے ہو۔ لعنتیوں یہ ہے تمھاری اور تمھارے مذھب کی اوقات اور تم لوگ کسقدر بدبودار اور تم سے گھن اور سڑانڈ آتی ہے ۔اس بارے تمھارے لعنتی فتنے کے بارے میں تلخابہ نے درست کہا تھا۔

    تمھیں شروع میں کہا تھا کہ اگر دلائل ہیں تو اپنے لعنتی فتنے پہ ہم سے بحث کر لو۔ مناظرہ کر لو ۔ مگر تم نے اپنے لعنتی مرزا کی سنت پہ عمل کیا اور ادہر ادہر کی ہانکنے لگے ۔ تم میں تو اتنی غیرت نہیں کہ اپنے لعنتی مرزا کی لعنتوں میں مذید اضافہ نہ کرواتے ہوئے ۔ قادیانیوں کی عین اوقات کے مطابق دم دبا کر بھاگ جاتے ۔ مگر تم نام بدل بدل کرڈھٹائی دکھا رے ہو تو ۔ تمھارے مرزا بے غیرت پہ مذید لعنتیں تو پڑیں گی۔

    مرزا مردو اگر ہوتا خدا کا نبی
    ٹٹی میں گر کر نہ مرتا کبھی

    • اوہو اب تو تمھارا گند اس قدر پھیل رہا ہے کہ اب تو بدبو بہت پھیل رہی ہے کہ اللہ تم پر رحم کرے اور اب تمھارا کچھ نہیں ہو سکتا

    • جناب جاوید گوندل صاحب
      السلام علی من اتبع الہدیٰ
      پہلے تو ہم نے یہ سمجھا تھا کہ آپ صرف مولویوں کی دیکھا دیکھی اعتراض کر رہے ہیں اور internetپر رکھی احمدیہ مخالف کتابیں پڑھ پڑھ کر اعتراض کر رہے ہیں ۔لیکن اب نظر یہ آرہا ہے کہ بغض آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی کسی طرف سے نظر نہیں آتے آپ نے تو فرمایا تھا کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے کسی مسلمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اور آپ پر جو عظیم الشان قرآن کریم نازل ہوا اس میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ تم لوگ کافروں کے بتوں کو گالیاں نہ یہ نہ ہو کہ وہ تمہارے دشمنی میں تمہارے سچے خدا کو لاعلمی کی وجہ سے گالیاں دینے لگ جائیں۔ نبی مکرم رسول محتشم حضر ت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی گالیاں دیں اور نہ کسی کو برا بھلا کہا لیکن آپ لوگ ان کی طرف منسوب ہو کر ایک مذہبی جماعت کے بانی اور اس رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مخمور شخص کو گالیاں دے رہے ہو ہم اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں اورا س رب کریم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کی زبان بند کرے اور آپ سے وہ تمام قویٰ ہی چھین لے جس پر آپ ناز کرتے ہوئے یہ کام کر رہے ہیں۔ اور آپ کو وہی موت نصیب کرے جس کو آپ نے جھوٹے طور پر مرزا صاحب کی طرف منسوب کیا ہے۔اور میری احمدی بھائیوں کو یہ نصیحت ہے کہ وہ ان صاحب کی کسی بھی بات کا جواب نہ دیں کیونکہ یہ دلائل سے نہیں گالیوں سے بات کرنا چاہتے ہیں اور گالی دلیل نہیں ہوتی۔

  113. الطاف حسین اور قادیانیSeptember 11th, 2009 مصنف ميرا پاکستان ذمرہ اسلام, سياستکل جو مسئلہ ہم نے پیش کیا، لگتا ہے وہ ہمارے لیے کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے، اسی لیے صرف چار قارئین نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ لیکن آج جو مسئلہ ہم پیش کرنے جا رہے ہیں وہ بہت بڑا مسئلہ ہے اور امید ہے اس پر خوب بحث ہو گی۔

    مسئلہ یہ ہے کہ چند روز قبل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ایکپریس ٹی وی پر انٹرویو میں احمدیوں کے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے قادیانوں پر ہونے جانے والے مظالم کی مذمت کی اور انہوں نے سب سے درخواست کی کہ وہ قادیانیوں کو بھی پاکستان میں زندگی گزارنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قادیانیوں کو تبلیغ کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
    یہاں تک تو بات سچ ہے کہ اگر ہندو، عیسائی اور سکھ پاکستان میں آزادی سے رہ سکتے ہیں تو پھر قادیانیوں کو بھی یہ حق دینا چاہیے۔ مگر انہوں نے خود سے قادیانیوں کو غیرمسلم نہیں کہا اور صرف یہ کہا کہ اگر آپ قادیانیوں کو مسلمان نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے قادیانیوں کا لٹریچر پڑھا ہے اور ان کی محفلوں میں بھی شرکت کی ہے۔ وہ ترنگ میں آ کر کہنے لگے کہ قادیانی بھی وہی کلمہ یعنی لا لہ اللہ محمد الرسول اللہ پڑھتے ہیں اور محمد صلعم کو آخری نبی مانتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کیا کرتے ہیں الطاف حسین نے وہ بیان کرنے سے گریز کیا۔ اگر یہی سچ ہے تو پھر قادیانیوں کو ساری مسلم امہ نے غیرمسلم کیوں قرار دیا؟

    بعد کی تقریر میں الطاف حسین نے اپنی صفائی میں کہا کہ وہ مسلمان ہیں اور فقہ حنفی سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے جدامجد کے فتوں کا ذکر کر کے ثابت کیا کہ وہ مسلمان خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔

    کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ بقول الطاف حسین کے اگر قادیانی کلمہ گو ہیں اور نبی پاک صعلم کو آخری نبی مانتے ہیں تو پھر وہ غیرمسلم قرار کیوں پائے؟

    WPvideo 1.10
    متعلقہ تحاریر
    •یومِ ٹیکنالوجی – ہفتہ بلاگستان •ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے مرد و زن •آج کے ماڈریٹ مسلمان •جاہلیت کی انتہا •گوجرہ میں مذہبی فساد “الطاف حسین اور قادیانی” پر 58 تبصرےFollow-up comment rss or Leave a Trackback کنفیوز کامی کا تبصرہ11th September, 2009 میں اسکا جواب آپ کو عبداللہ اور فرحان دانش ہی دے سکتے ہیں۔ کہاں ہو تم بھائی لوگ ۔۔۔
    Muneeb کا تبصرہ11th September, 2009 میں فعال ترين بلاگ ايوارڈ 2009 ۔
    Muneeb کا تبصرہ11th September, 2009 میں aik aur altaf interview

    mubashar luqman programme a few days back;

    chahain tu inku bhee laga lain
    اظہرالحق کا تبصرہ11th September, 2009 میں کوئ بھی نہیں مانے گا ، میں تو اب یہاں تک کہ سکتا ہوں کہ اگر الطاف صاحب اگر پیغمبری کا دعوٰی بھی کر دیں تو کراچی میں ایم کیو ایم کے ہمدرد اس پر ایمان لے آئیں گے ،

    جو لوگ قادیانی فتنے کو جانتے ہیں وہ اس بیان پر صرف استغفاراللہ ہی کہ سکتے ہیں

    اگر آپ غور کریں تو میڈیا پر اس بیان کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے

    اللہ ہمیں اس فتنے سے محفوظ رکھے آمین
    تلخابہ کا تبصرہ11th September, 2009 میں ایم کیو ایم قادیانی وٹہ سٹہ ؛ الطاف حسین کا انٹرویو
    http://talkhaabau.wordpress.com/2009/09/09/%d8%a7%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c%d9%88-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d9%82%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%88%d9%b9%db%81-%d8%b3%d9%b9%db%81-%d8%9b-%d8%a7%d9%84%d8%b7%d8%a7%d9%81-%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86/#comments

    میڈیا میں مبشر لقمان کی احمدیہ تحریک اور نذیر ناجی

    http://talkhaabau.wordpress.com/2009/09/10/%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%a8%d8%b4%d8%b1-%d9%84%d9%82%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af%db%8c%db%81-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%88/
    تلخابہ کا تبصرہ11th September, 2009 میں مسئلہ کراچی والوں کا نہیں‌ہے بھائی مسئلہ میڈیا اور علما کا ہے اگر آپ ویڈیو دیکھ لیں‌تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ الطاف حسین نے کیا کہا پھر بھی جامعہ بنوریہ کے مہتمم صاحب مفتی نعیم صاحب فرما تے ہیں الطاف حسین نے ایک دفعہ پھر حساس موضوع پر وضاحت کرکے شرپسندوں کے منہ بند کردیے۔ اب آپ ہی بتلا دیجیے کہ الطاف کے کلیرفیکیشن سے مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ میرے بلاگ پر خبروں کی کلپنگ دیکھ لیں تو واضح ہوجائے گا کہ الطاف حسین نے غلطی تسلیم ہی نہیں کی ہے۔ مزید میرے بلاگ پر قادیانیوں کے تبصروں کے یلغار اور ان کے تبصروں سے بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان لوگوں کی حمایت کرکے الطاف حسین کفر کا مرتکب ہوچکا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے اللہ سب دیکھ رہا ہے ۔آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ حق بات کہیں۔ جب علما الطاف کی ڈر سے کچھ نہیں کہہ رہے تو ایسے میں‌میرے اور آپ کی طرف سے اس کے بارے میں آواز اٹھانا جہاد عظیم نہیں‌ہوگا؟
    تلخابہ کا تبصرہ11th September, 2009 میں اردو بلاگرز دوستوں سے درخواست ہے کہ وہ جہاں جہاں اس موضوع پر قادیانیوں کے تبصرے پڑھیں تو کچھ وقت نکال کر ان کا جواب ضرور دیں تاکہ حق اور باطل کی تمیز ہوسکے۔ شکریہ
    ریحان کا تبصرہ11th September, 2009 میں قادیانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی تو مانتے ہیں پر رسول نہیں ۔ قادیانی گر کلمہ پڑھتے ہیں ساتھ میں ختم نبوت کے انکاری بھی ہیں ۔

    پر قادیانی یہ بھول جاتے ہیں کہ رسول ہونے کے لیے نبی ہونا ہوتا ہے ۔۔ ختم نبوت ہو چکی سو اب نا نبی آئینگے نا کوئی رسول ۔
    Naveed کا تبصرہ11th September, 2009 میں چند اور غير مسلم جو ختم نبوت پہ ايمان نہيں رکھتے-

    مولانا قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم ديوبند

    محي الدين ابن عربی

    ميرا پاکستان کا تبصرہ11th September, 2009 میں اس بحث کو آگے بڑھانے کیلیے ایکسپریس کی یہ خبر پڑھنا بھی ضروری ہے۔
    http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100712309&Issue=NP_LHE&Date=20090910
    Naveed کا تبصرہ11th September, 2009 میں “جامعہ بنوریہ کے مہتمم صاحب مفتی نعیم صاحب فرما تے ہیں الطاف حسین نے ایک دفعہ پھر حساس موضوع پر وضاحت کرکے شرپسندوں کے منہ بند کردیے۔ “

    يہ ديوبندی کيا کريں انکے اپنے بزرگ ايسا ہی عقيدہ رکھتے تھے جس کو يہ ديوبندی لوگ چھپاتے ہيں-
    ميرا پاکستان کا تبصرہ11th September, 2009 میں مبشر لقمان کے پروگرامز دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ وہ انٹریو لے نہیں‌ رہے بلکہ انٹرویو دے رہے ہیں۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ انٹرویو دینے والا ان کے نقطہ نظر سے اختلاف کر رہا ہے تو وہ اسے وہیں پر ٹوک کر اپنا نقطہ نظر بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ انٹرویو دینے والے کو اپنا نطقہ نظر بیان کرنے کی بجائے اس کے منہ سے اپنا عقیدہ اگلوانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس طرح کا یکطرفہ رویہ آدمی کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کہیں مبشر لقمان خود احمدی تو نہیں۔
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں ميرا پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔ مبشر لقمان کے پروگرامز دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ وہ انٹریو لے نہیں‌ رہے بلکہ انٹرویو دے رہے ہیں۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ انٹرویو دینے والا ان کے نقطہ نظر سے اختلاف کر رہا ہے تو وہ اسے وہیں پر ٹوک کر اپنا نقطہ نظر بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ انٹرویو دینے والے کو اپنا نطقہ نظر بیان کرنے کی بجائے اس کے منہ سے اپنا عقیدہ اگلوانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس طرح کا یکطرفہ رویہ آدمی کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کہیں مبشر لقمان خود احمدی تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

    واقعی آپ کی بات سو فیصد درست ہے۔ یہ صاحب نہائت عالم فاضل لوگوں کی بات کاٹ کر موضوع سے ہٹ کر محض اپنی بات تسلیم کروانا چاہتے ہیں
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں عجیب اتفاق ہے، قادیانی فتنہ برطانیہ کا بویا ہوا ہے۔ قادیانی، مشرف اور الطاف حسین تینوں آج کل برطانیہ کے دامن آغوش میں گودی بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں برطانیہ سے پاکستان کے خلاف الطاف حسین کے حالیہ بیان جیسے شگوفے نہیں پھوٹیں گے تو کیا پاکستان یا اسلام کے حق میں بات کی جائے گی؟-۔ ہمیں حیرت تب ہوتی جب الطاف حسین وہاں سے پاکستان کے حق میں کوئی بات کرتے۔

    ایم کیو ایم کارکنان سے معذرت کے ساتھ ، ٹی وی اسکرین پہ پس منظر پہ حیدآباد میں کچھ لوگ مؤدب بیٹھے الطاف حسین کو سن رہے ہیں۔ مگر کسی کو جراءت نہیں پڑی کہ مذھب کی وجہ سے حق بات کہتا اور الطاف حسین سے اختلاف کرتا۔

    کیا لیڈر ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ماننے والوں کو نت نئی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پہ مجبور کر دیں۔؟

    یہ مسئلہ نہیں ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت ہے اور اسے پاکستان میں دوسری اقلیتوں کی طرح آزادی حاصل نہیں۔ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ قادیانی مسلمانوں کی طرح نام رکھتے ہیں ، مسلمانوں کی عبادات کے طور طریقے اپناتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے خلاف ہی سازشیں کرتے ہیں۔ قادیانی کبھی بھی آپ پہ ظاہر نہیں کریں گے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہیں۔ حتٰی کہ آپ کے ساتھ رہ کر آپ کے ہی خلاف سازش کریں گے۔ اسے مسلمان منافقت سمجھتے ہیں اور ایسے میں مسلمانوں کا غیض و غضب میں آنا سمجھ میں آتا ہے۔

    دنیا بھر کے مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار ہیں۔ مسلمان کے لئیے ضروری ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ماں باپ بہن بھائیوں اور اولاد بلکہ ہر چیز سے بڑھ کر چاہے۔ جب عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی ظاہری طور پہ ان جیسا نام افکار اور بھیس بدل کر انھی کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و مرتبہ کم کر رہا ہے تو ایسے میں قادیانی اپنے کئیے کی سزا پہ پوری مغربی دنیا میں اپنی مظلومیت کئیش کروانے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ اپنی محفلوں میں عام مسلمانوں کی تحضیک کرتے ہیں اور ٹھٹھا تک اڑانے سے باز نہیں آتے ۔ اپنے مزہب کی تبلیغ کے لئیے یہ اپنی لڑکیاں مسلمانوں سے بیاھنے کے لئیے پیش کر دیتے ہیں۔

    پاکستان یا پاکستانی قوم کو پاکستان میں بسنے والے پاکستانی ھندؤں ، پاکستانی مسیحی برادی اور سکھوں یعنی دوسری غیر مسلم اقلیتوں سے کوئی گلہ نہیں ۔ بلکہ ان اقلیتوں میں کچھ لوگ مسلمان پاکستانیوں سے بڑھ کر محبِ وطن اور محبِ پاکستان ہیں۔ تو پھر کیا بات ہے کہ شکایات صرف قادیانیوں سے ہی ہیں۔؟ اسکی وجہ قادیانیوں کا مسلمانوں کے خلاف سازشی کردار ہے۔ قادیانی آنے بہانے سے اسلام ، پاکستان اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ پاکستان کی باقی اقلیتیں اپنے الگ مذھبی تشخص کو واضح طور پہ نمایاں کرتی ہیں۔ تانکہ مذہب جیسے حساس مسئلے پہ ابہام پیدا نہ ہو۔ پاکستان کی مسیحی برادری اپنے نام کے ساتھ اکثر و بیشتر مسیح یا اپنا انگریزی نام لکھتے ہیں اسی طرح ھندوؤن اور سکھوں کے نام مختلف ہیں ۔ انکی عبادات کے معبد تک مختلف ساخت کے ہیں۔ جس سے الگ الگ شناخت ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں اٹھتا۔

    جبکہ قادیانی منافقت کرتے ہوئے مسلمانوں جیسا بھیس بدل کر مسلمانوں کو دہوکہ دیتے ہیں۔ شاتم رسول رشدی اور ڈنمارک میں کارٹون تنازعے کے پیچھے قادیانی سازشیں تھیں۔

    قادیانی پاکستان کے اندر پاکستان کے خلاف یہود کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔

    قادیانی ایک بہت بڑا فتنہ ہے اور اگر اس کا سدباب بروقت نہ کیا گیا تو آنے والے وقتوں میں یہ پاکستان کے لئیے ایک بہت بڑی سردردی بنے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی الگ سے شناخت مقرر کی جائے تانکہ عام مسلمان ان سے دہوکہ نہ کھا سکے۔ الطاف حسین ان کے حق میں جتنی مرضی تقریریں کرتا پھرے۔ یا ایکسپریس ٹی وی موڈریٹر مبشر لقمان الفاظ کو جتنا چاہے مروڑ توڑ کر اپنہ نقطہ نظر پیش کرے۔ہمیں پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کے مفاد کو مدِنظر رکھنا چاہئیے۔

    قادیانی اسلام اور پاکستان کے آئین کی رُو سے کافر ہیں۔
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں پیر لنڈن کے یہ الفاظ ۔۔۔۔ایسے نہیں کہہ رہا‘ میں نے احمدیوں کا لٹریچر بھی پڑھا ہے ‘ میں نے احمدیوں کے پروگرام بھی دیکھے ہیں۔میں نے دیکھا ہے وہی کلمہ ‘ وہی سرکار دوعالم صل اللہ علیہ وسلم انہی کو آخری نبی مانتے ہیں‘۔۔ پیرِ لنڈن کے یہ الفاظ جھوٹ پہ مبنی ہیں۔ خود قادیانیوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے نہ صرف تسلیم کیا تھا بلکہ وہ اس پہ اترائے بھی تھے کہ وہ سرکار دوعالم صل اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں مانتے تو الطاف حسین کسے دہوکہ دے رہا ہے۔؟
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں مسلمانوں کے مذہبی رہنماء ظاہری سی بات ہے مسلمان ہی ھونگے آپ انھیں مولوی ، قاضی یا ملا جو مرضی کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لیا کریں۔ کیونکہ مسلمانوں کے مذہبی رہنماء اب خلیفہ ِ قادیان اور یہودی رابینوں یا ربی ہونے سے تو رہے۔

    پاکستان میں، آجکل اسلام بیزاروں اور قادیانیوں میں یہ فیشن چل نکلا ہے کہ جب وہ اسلام کو گالی دینا چاہتے ہیں تو عوامی رد عمل کے خوف سے ایسا نہیں کر پاتے تو ان کا سارا زور مسلمان مفکروں کو تحضیک آمیز انداز میں مُلا ، مولوی پکار کر اپنے دل کے ارمان نکالتے ہیں۔
    جعفر کا تبصرہ11th September, 2009 میں قادیانیوں پر اور ان کے وکیلوں پر اور ان کے حمایتیوں‌ پر اللہ کی لعنت ۔۔۔
    شاید کچھ لوگ کہیں کہ یہ دلیل کے بغیر لعنت کرنے سے کیا فائدہ
    دلیلوں‌ سے تو دفتر کے دفتر بھرے پڑھے ہیں پھر بھی کچھ لعنتی ان کی وکالت کرتے ہیں تو پھر لعنت ان پر ایک بار پھر ۔۔۔
    اسماء کا تبصرہ11th September, 2009 میں سوال _ قاديانی اور احمدی ايک ہی ہوتے ہيں کيا؟ يا مختلف؟
    ايک وہ صاحب بھی تھے جن کی تصوير چاند ميں نظر آتی تھی نام اس منحوس کا مجھے ياد نہيں آ رہا مگر لوگ بلکہ مسلمان گھرانوں کے چشم وچراغ ايسے ديوانے بنے پھرتے تھے کہ خود کو پروانے کہتے تھے اور اپنی کمائی کا آدھا حصہ آستانے کی نظر کرتے تھے ميرا بھائی اور اسکا دوست پروانہ بھی رات کے وقت چاند کو گھور رہے ہوتے تھے اور ہم ميں سے کوئی (نام ياد آ گيا گوہر شاہی ) کی شان ميں گستاخی کرتا تو بھائی صاحب مرنے مارنے پر آ جاتے ميری بہن نے تو اسکے نام کی مناسبت سے ايک نعرہ بھی بنا رکھا تھا جو يہاں درج کرنے جوگا بےيں خير امی کی سلامتی ايمان کی دعائيں رنگ لائيں جب گوہر صاحب نے کلمے ميں سے نبی کريم کا نام نکال کر اپنا لگايا تو ميرے بھائی کو تو ہوش آ گيا مگر دوست بدستور آستانے کا پروانہ بنا رہا پھر بعد کی مجھے معلوم نہيں ميں ادھر آ گئی کيا کسی کو پتہ ہے اسکی سرکوبی ہوئی کہ نہيں؟اور پروانے ابھی تک چکر لگا رہے ہيں يا جل چکے
    راشد کامران کا تبصرہ11th September, 2009 میں جناب تھوڑی سا اختلاف کرنے کی جسارت کروں گا۔۔ یہ مسئلہ بھی فی الوقت پاکستان کا بڑا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا ایک بہانہ ہے۔ اس وقت پاکستان کے بڑے مسائل میں سلامتی، غربت، جہالت اور قانون کی بالادستی ہے۔ ہاں یہ ایک ایسا مسئلہ ضرور ہے جس سے جذبات کی شدت بڑی حد تک جڑی ہے۔

    جاوید صاحب نے پھر پوری اردو اسپیکنگ کمیونٹی کو الطاف حسین کے عمل سے نتھی کردیا کیا انہوں نے کوئی سائینٹیفک سروے کرایا ہے کہ اردو بولنے والے اس مذہبی معاملے میں الطاف حسین کی حمایت کرتے ہیں یا محض ایک جلسے کی کاروائی دیکھ کر یہ گمان کرلیا ہے کہ اردو بولنے والوں نے عقیدہ ختم نبوت پر کامپرومائز کرلیا ہے۔ یہ تو ایسا ہی غلط ہوجائے گا کہ یہ کہا جائے کہ کیونکہ قادیانیوں کی اکثریت پنجابی اسپیکنگ ہے چناچہ یہ سمجھا جائے کہ تمام پنجابی بولنے والے اس کے ذمہ دار ہیں؟ ایسے معاملے میں اگر ایم کیو ایم کے کارکنان کا لفظ استعمال کر لیا جائے تو کچھ حرج نہیں تاکہ ایک اکثریت جو اس عمل کی توثیق نہیں کرتی انہیں بلا وجہ اس معاملے میں نہ گھسیٹا جائے۔
    ریحان کا تبصرہ11th September, 2009 میں چاند پر تصویر نظر آنا ! ۔۔۔ واہ کیا خوب کسی نے کرشماتی گواہی لکھی ہے ۔۔ یہ تو کچھ نہیں ۔۔ وہ عیسائی جو آج بھی حضرت عیسیّ علیہ اسلام کا نام لیکر بیماروں کو ٹھیک کرتے ہیں ۔۔ ان کے جیتے جاگتے کرشمات سے پھر کیا ثابت ہوا جاتا ہے ؟

    انٹیرنیٹ پر جگاہ جگاہ ایڈویرٹیزمنٹ پینل میں چاند پر تصویر آجانے سے کچھ ثابت ہوتا ہے ۔۔ بہت خوب ۔۔ بتائیں تو پھر کوئی یہاں کہ کیا ثابت ہوتا ہے ؟

    الطاف حسین ایک سیاست دان ہے ۔۔ اٰس نے نیوٹرل رہنا ہے ۔۔ اٍس ملک میں اقلیت بھی آباد ہے ۔۔ جو چاہیں کریں ان کی مرضی ۔۔ مگر جان بھوج کر اگر کسی فرقہ نے دین کے ساتھ بغاوت کرنی ہے ۔۔ تو پھر باغی کی سزا کیا ہونی چاہیے ؟
    تلخابہ کا تبصرہ11th September, 2009 میں مفتی نعیم سے میں‌نے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ فون نہیں اٹھارہے ہیں‌جبکہ ختم نبوت کے رہنما مولانا وسایا کا کہنا ہے کہ ان کا پورا بیان نشر نہیں کیا گیا جبکہ مفتی نعیم ایم کیو ایم کے علما کمیٹی کا حصہ یعنی تنظیم کا حصہ ہے اس کے علاوہ جامعہ بنوریہ کے مہتمم ہونے کے باوجود ان کو حلقہ دیوبند میں‌اچھی نظر سے نہیں‌دیکھا جاتا ۔ مولانا وسایا کے اور مفتی منیب الرحمن کا آج میں‌ نے انٹرویو کیا ہے جو کل آپ تلخابہ پر پڑھ سکیں گے۔ جزاک اللہ
    Muneeb کا تبصرہ11th September, 2009 میں ويسے سوچنے کی بات ہے کہ صرف مولوی لوگ شور مچارہے ہيں جنکا مشترکہ ووٹ بنک بھی ايم کيو ايم سے کم ہے، کسی سنجيدہ سياستدان نے کوئی بيان جاري نہيں کيا- کيا عامتہ الناس ايسی بحثوں ميں دلچسپی کھو چکے ہيں؟
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں راشد کامران صاحب!
    مجھے اتہائی دکھ ہے کہ آپ کے جذبات مجروح ہوئے۔ آپکی بات سو فیصد درست ہے کہ مجھے اردو اسپیکنگ کی بجائے ایم کیو ایم کے کارکنان جو ٹی وی پہ بیٹھے نظر آرہے ہیں ۔ میری افضل صاحب سے التماس ہے کہ وہ اردو اسپیکنگ کی بجائے ایم کیو ایم کارکنان کر دیں۔

    یہ لکھا تو عجلت میں گیا ۔ کونکہ تب میرے یہاں افطار کا وقت ہونے والا تھا اور افطاری وضو وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے میں کچھ جلدی میں بھی تھا۔

    بہر حال مجھے افسوس کہ میرے الفاظ سے آپ کا یا کسی اور اردو اسپیکنگ بھائی کا دل دکھا ہے۔

    امید ہے کہ آپ کا دل صاف ہوگیا ہوگا۔
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی جو کہ پورے ایوان پر مشتمل تھی نے دو ماہ میں قادیانی مسئلے پر غور خوض کیلئے 28اجلاس اور 96نشستیں منعقد کیں،اس دوران قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے روبرو قادیانی گروہ کے سرخیل مرزا ناصر، لاہوری گروپ کے امیر صدرالدین اور انجمن اشاعت اسلام لاہور کے عبدالمنان اور مسعود بیگ پر ان کے عقائد و نظریات،ملک دشمنی اور یہودی و سامراجی گٹھ جوڑ کے حوالے سے جرح ہوئی،علامہ نورانی فرماتے ہیں کہ ” مسلسل گیارہ روز تک مرزا ناصر پر جرح ہوتی رہی اور سوال اور جوابی سوال کیا جاتا رہا،مرزا کو صفائی پیش کرتے کرتے پسینہ چھوٹ جاتااور آخر تنگ آکر کہہ دیتا کہ بس اب میں تھک گیا ہوں،اسے گمان نہیں تھا کہ اس طرح عدالتی کٹہرے میں بٹھاکر اس پر جرح کی جائے گی۔ ۔ ۔ ۔

    وہ اپنا عقیدہ خود اراکین اسمبلی کے سامنے بیان کرگیا اور اس بات کا اعلان کرگیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی حضور صلی للہ علیہ وسلم کے بعد مسیح موعود اور امتی نبی ہے،جن اراکین اسمبلی کو قادیانیوں کے متعلق حقائق معلوم نہیں تھے،انہیں بھی معلوم ہوگیااور انہیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ مولانا نورانی جنہیں اقلیت قرار دلوانے کی سعی کررہے ہیں وہ لوگ واقعی کافر،مرتداور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“بحوالہ ماہنامہ ضیائے حرم ختم نبوت نمبر 1974

    قادیانی مسئلے پر فیصلہ کرنے کیلئے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلہ کو جانچنے اور پرکھنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں چھوڑا،کمیٹی کی کارکردگی اور اس کی کاروائیوں پر حزب اختلاف کے لیڈروں نے بھی پورے اطمینان کا اظہار کیا،اس طویل جمہوری و پارلیمانی کاروائی کے بعد قومی اسمبلی نے پورے تدبر سے کام لیتے ہوئے 7،ستمبر 1974ءکو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی موجودگی میں آئین کی وہ واحد ترمیم منظورکی جس کی مخالفت میں ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیااور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخ ساز فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ”جو شخص خاتم الانبیاءحضرت محمد مصطفی صلی للہ علیہ وسلم کی حتمی اور غیر مشروط ختم نبوت میں یقین نہیں رکھتا یا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے،کسی بھی لفظ یا بیان کے ذریعے حضرت محمد صلی للہ علیہ وسلم کے بعد ایک ایسے دعویدار کو نبی تسلیم کرتا ہے،یا کہ مذہبی مصلح جانتا ہے،وہ آئین یا قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے۔

    بحوالہ و بشکریہ عالمی اخبار
    Muneeb کا تبصرہ11th September, 2009 میں aik niya masal khara hu gia;

    سیالکوٹ: مشتعل افراد کا چرچ پرحملہ

    سیالکوٹ کے قریبی علاقے سمبڑیال میں مشتعل افراد نے چرچ کو آگ لگا دی ہے جبکہ علاقے کے مسیحی اپنے گھروں کو تالے لگاکر روپوش ہوگئے ہیں۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090911_church_ablaze_rh.shtml
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں عالم اسلام میں ”دوسرا اسرائیل“ قادیانی ریاست کامنصوبہ
    مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 18 Nov 2006

    قادیا نیوں کا اپنےنام نہادمذہب اور کفریہ عقا ئدکی بنیاد رکھنےکےروز اول سےہی یہ پلان تھا کہ وہ ہندو پاک میں اپنی علیحدہ ریاست قا ئم کریں گےچاہےاسکےلیےانہیںکتنی ہی جانی ومالی قربانی کیوں نہ دینی پڑےعرصہ دراز سےاس پر عمل درامد کرنےکےلیےتمام قادیانی ملازمین اپنی تنخواہوں کا 7فیصد اور کاروباری حضرات بھی کم و بیش اتنا ہی سرمایہ اپنی جماعت کو جمع کرواتےچلےآرہےہیں پاکستان بننےکےبعد انہوں نےربوہ (موجودہ اسلام نگر) کواس کےلیےمنتخب کیا یہ علاقہ تین اطراف سےپہاڑیوں سےگھرا ہوا ہےاور چوتھی طرف دریا بہہ رہاہےربوہ میں رابطہ کا صرف ایک پل ہےجو کہ دریا پر بنا ہوا ہےاسلئےقادیانی منصوبہ سازوں نےریاست کےاندر ریاست قائم کرنےکےلیے یہ جگہ مخصوص کر ڈالی اور قادیانیوں نےاس جگہ پر ہزاروں ایکڑ نہیںبلکہ کئی میل لمبا چوڑا علاقہ اونےپونےداموں خرید لیا جسمیں انہیں تمام حکمرانوں کی بھی آشیر باد حاصل رہی قادیانی ریاست کےقیام کا انکا زیر زمین پلان ہی انکا اولین مقصد ہےجس طرح سےیہودیوں نےاسرائیل کی صورت میں عالم اسلام کےسینےمیں خنجر گھونپ رکھا ہےاور پورا عالم کفر اور لادینی جمہوریت کےچیمپئن اسکے ممدومعاون بنےہوئےہیں اسی طرح انکی ہی پیروی کرتےہوئےاور تمام کفریہ عقائد کی علمبر دار قوتوں کی ہی مدد سےقادیانی ربوہ میں مرزائی اسٹیٹ بنانا چاہتےہیں اسی مقصد کےحصول کےلیےانہوں نےسول اور فوج کےاعلٰی عہدوں پر قبضہ کیا پاک فوج میں عملاًمرزائی اجتماعات بھی منعقد کرتےہیں حتیٰ کہ کسی مرتد کےمکان کےبڑےہال کو عبادت و اجتماع گاہ قرار دے لیتےہیں ایک دوسرےکی ناجائز امداد کر کےاعلٰی عہدوںپر قابض ہیں اور بوقت ضرورت حکومت کی وفاداری سےبھی آنکھیںپھیر لیں گےاور قادیانی سربراہ کےحکم کی بجا آوری ان کی ترجیح ہو گی ۔قادیانیوں نےربوہ میں دریا کےقرب وجوار کی طرف توکئی ایکڑ زمین خرید کر خالی چھوڑ رکھی ہےاسمیں نہ تو کوئی فصل اگاتےہیں اور نہ ہی کوئی درخت بلکہ پہلےسےموجود تمام درخت جڑ سےاکھاڑپھینکےہیں لیکن اس زمین کو عملا ًمستقل طور پر پانی لگاتےہیں تا کہ زمین پختہ رہےاور بوقت ضرورت اسکو فوراً آناًفانا ًائیرپورٹ میں تبدیل کر کےیہاں پر جنگی طیارےاتارےجاسکیں اور ریاست کا منصوبہ تکمیل پا سکے۔ہمارےوزیر خارجہ ، وزیر اعظم ، حتیٰ کہ صدر پاکستان تک نےجو ملاقاتیں امریکیوں سےاعلیٰ سطح پر کی ہیں ان میں یہ معاملہ سر فہرست رہا اور اندرونِ خانہ سب کچھ طےپا گیا ۔ امریکن افواج جو کہ پاکستان کےاندر اور بارڈرز پر خاصی تعداد میں موجود ہیں اور پہلےبھی 9/11 کےواقعہ کےبعد یہیں سے” اسلامی افغانستان“ کو تباہ و برباد کر کےقبضہ کر چکی ہیں اور آج کل نت نئےعلاقہ پر پاکستانی بارڈر کےاندر جب چاہتی ہیں حملہ آور ہو کر مظلوم مسلمانوں کا قتل عام کر ڈالتی ہیں جسکےلئےموجودہ 87 افراد کے باجوڑ میںقتل کےواقعہ پر کسی ثبوت کی ضرورت نہ ہی۔ اسلئےربوہ جیسی کسی جگہ جہاں کفر کےروپ میں مسلمان کہلوانےوالےموجود ہیں انکا حملہ آور ہونا یا قبضہ میں امداد کر ڈالنا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ صدر پاکستان کی کئی بار اسرائیل کو تسلیم کرنےکی طرف تجاویز اور تردید یںبھی ا یسےاقدام کرنےمیں ممد و معاون ہیں عالم اسلام کےممالک کےسربراہوں یا بادشاہوں نہیں بلکہ صحیح العقیدہ عوام الناس کا اندرونی دبائو انہیں ایسےاقدام سےباز رکھےہوئےہی۔ ہمارےحکمرانوں کی تو اسلام دشمن پالیسیوں سےہی یہ سب کچھ ممکن ہوتا نظر آتا ہے۔ مرزائیوں کےسر براہ کی طرف سےکسی بھی افراتفری کو بنیاد بنا کر قادیانی ریاست کا اعلان ہوتےہی امریکن جنگجو طیارےفوری طور پر ربوہ ایئر پورٹ پر اتریں گےاور پاکستان کےموجودہ حکمرانوں کی آنکھ مچولی کی وجہ سےیہ تعمیر ہو جائیگی۔ قادیانیوں نےاطراف میں موجود پہاڑیوں کی غاروں میں جدید ترین اسلحہ جمع کر رکھا ہےجو کہ بوقت ضرورت انکےکام آسکےگا ملک بھر سےنہیں بلکہ پوری دینا سےقادیانیوں کو اسرائیل کی طرح یہاں لا کر جمع کرنےکےلئےقادیانی ہزاروں ایکڑ زمین اطراف میں خرید چکےہیں پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کو سب معلوم ہےمگر سرکاری ہونےکےناطےانکا وطیرہ ہر دور میں یہی رہا ہےکہ موجود حکمرانوں کےنظریات کےمطابق ہی وہ رپورٹس مرتب کر کےبھجواتےہیں تاکہ مقتدر افراد کےماتھوں پر بل نہ آسکےاور ایسےملازمین کا دال دلیہ چلتا رہے اور امریکنوں کا تو اسمیں مفاد موجود ہےکہ وہ پھر کھل کر یہاں سےپاکستان ، افغانستان ، ہندوستان ، ایران حتیٰ کہ چین تک کو” کنٹرول “ کر سکیں گےاور انہیں کسی حکومت سےاپنےمذموم مقاصد کی تکمیل کےلئےبا رگیننگ کرنےکی ضرورت نہ رہےگی یہاں تک کہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی نام نہاد امداد دیکر اپنےمقاصد و مطالبات پورےکرنےکروانےسےبھی جان چھوٹ جائیگی اور ناجائزوغیر جمہوری قابض حکمرانوں کی سر پرستی کرتےہوئےجو بدنامی کا دھبہ اُن پر ہےوہ بھی نہ رہےگا۔ ویسےبھی اسرائیل کی طرح عالم اسلام میں دوسرےاسرائیل کا قیام عمل میں آ جائےگا پوری دنیا جانتی ہےکہ مرزائیوں (قادیانیوں) یا یہودیوں کی پالیسیوں اور عقائد و نظریات میں کوئی فرق نہ ہی۔دونوں ایک ہی تھیلےکےچٹےبٹےہیں پاکستانی تو حیران و ششدر ہیں کہ قادیانیوں کےافواج ِ پاکستان میں ملازمتیں حاصل کرنےپر اب تک کیوں پابندی نہ لگائی جا سکی ہی؟ حالانکہ مرزائیوں کےنام نہاد کفریہ مذہب کی بنیاد ہی انگریزوںنےاس خود کاشتہ پودےکےذریعےمسلمانوں کےدلوں سےجہادی نظریات کو اکھاڑنےکےلئےکی تھی تا کہ وہ ہندو پاک میں مزید عرصہ مقتدر رہ سکیں مگر وہ پلان اس وقت کا میاب نہ ہو سکا۔ قادیانی جو خدا، رسول ودیگر انبیاءکسی کو نہ مانتےہیں نہ انکا عقیدہ ہےتو پھر وہ جہاد فی سبیل اللہ کوکیسےمان سکتےہیںہماری فوج کا چونکہ نعرہ ہی جہاد فی سبیل اللہ ہےاسلئےپاک فوج کےنظریات سے متصادم کسی دوسرےنظریہ کےعلمبرداروں کی بھرتی ویسےہی قانون و آئین کےمطابق نہ ہی۔ برطانیہ کی سینکڑوں برس سےقائم حکومت جب مسلمانوں کےشعور سےقریب الختم ہوئی تو انہوں نےڈوبتےکو تنکےکا سہارا کےمصداق مرزا غلام احمد نامی شخص کو مسلمانوں کےدلوں سےغیرت ایمانی ، حُبِ رسول اور جہادی نظریات کو ختم کرنےکا کام سونپا۔ اُس وقت با وجوہ وہ کامیاب نہ ہو سکا کہ بہتےہوئےدریائوں کا رُخ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک زوروں پر تھی اور علماءکی قربانیاں اور انگریز اقتدار کی طرف سےانکی قتل و غارت عروج پر تھی اسلئےانگریزوں کو یہاں سےجانےمیں ہی عافیت محسوس ہوئی مگر اپنا کاشتہ پودا نہ اکھاڑا اور مسلسل آج تک انکا مشن پورا کرنےکےلئےقادیانی جماعت تگ و دو میں مصروف ہےپورےملک میں نہیں بلکہ عالم اسلام میں بھی ہر جگہ رسل و رسائل کےذریعےلٹریچر کی بھر مار ہی۔ حکومتی چیک ا ینڈ بیلنس نہ ہونےکی وجہ سےربوہ میں اب بھی عملاً انکا کنٹرول ہےکوئی ملازم ان کی جازت کےبغیر وہاں تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ٹرانسفر ہو کر آبھی جائےتو قادیانی اسکا نا طقہ بند کر دیتےہیں یہاں تک کہ با لآخر اسےیہاں سےراہِ فرار اختیار کرنا پڑتی ہی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اور مجلس احرارِ اسلام نےیہاں پر مساجد تو قائم کر رکھی ہیں مگر وہ بھی صرف سالانہ جلسہ کی حد تک ہیں عملاً مسلمانوں کا کوئی تبلیغی یا تعلیمی مشن یہاں پر کام نہیں کر رہا ۔ گو کہ 7 ستمبر1974 کو قادیانیوں کو قومی اسمبلی پاکستان نےمتفقہ قرار داد کےذریعےغیر مسلم قرار دیا تھا مگر جو قوانین مرتب کئےگئےان پر آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا ہی۔ ساری دنیا جانتی ہےکہ 29 مئی1974 کو ربوہ کےسٹیشن پر ر میڈیکل کالج ملتان کےنہتے187 طلبہ جو کہ سوات کی سیر سےواپس آرہےتھےکو قادیانیوں نےمسلح حملہ کر کےزخمی کر ڈالا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ وقوعہ سےتین روز قبل ہی ملتان سےسوات جاتےہوئےجب چناب ایکسپریس ربوہ (اسلام نگر) سٹیشن پر رکی تو راقم الحروف کے1971 کےمرتب کردہ 16 صفحہ کےپمفلٹ ” آئینہ مرزائیت“ کو تقسیم کیا تھا جس پر اسٹیشن پر موجود قادیانی سیخ پا ہوگئےتُو تکار اور معمولی ہاتھا پائی کےبعد ٹرین چل پڑی مگر قادیانیوں کا اپنی مستقبل کی تصوراتی نام نہاد ریاست کے” دارالخلافہ“ جیسےمقام پر ایسا معمولی واقعہ ان کےمزاج شیطانی کو شدید ناگوار گذرا کہ پورےملک سےمسلح قادیانی نوجوان اکٹھےکئےگئےاور واپسی پر ان مسلح منکرینِ ختم نبوت وجہنم واصلین نےحملہ کر کے187 مسلمان طلبہ کو شدید زخمی کر ڈالا جس کی باز گشت راقم الحروف اور ایک اور سٹوڈنٹس یونین کےعہدیدار ارباب عالم کی پریس کانفرنس سے پوری دنیا کےریڈیو اور اخبارات میں سنی گئی۔ اور تمام پرنٹ میڈیا اخبارات و رسائل نےدوسرےدن خدا اور رسول کےدشمنوں کی اس شرمناک حرکت کو شہہ سرخی کےطور پر شائع کیا اور جس پرپورےملک کےصحیح العقیدہ اور مسلمہ مکاتیبِ فکر کےعلماء نےاکٹھےہو کر قادیانیوں کےخلاف تحریک کا آغاز کر دیا ۔ جب اس واقعہ کی تحقیقات ہائیکورٹ کےفُل بنچ جس کی سربراہی جسٹس صمدانی نےکی تو بھی وقوعہ کی بنیاد اسی پمفلٹ ” آئینہ مرزائیت“ کو قرار دیا گیا۔عدالت نےقادیانیوں کی تمام کفریہ کتب او ر لٹریچر سےاس پمفلٹ میں درج حوالہ جات کا موازنہ کر کےاسےحرف بحرف درست قرار دیا تھا۔اس پمفلٹ کو آج کل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان جس کا ہیڈ آفس ملتان میں ہےمختلف زبانوں میں لاکھوں کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کرتی ہے۔ قومی اسمبلی میں قرارداد سےچند روز قبل قائد حزبِ اختلاف مولانا مفتی محمود مرحوم ، مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم، اور دیگر علماءو ممبران اسمبلی نےقادیانیوں کےکفریہ عقائد اسمبلی کےفلور پر بیان کئےتو ممبران اسمبلی دانتوں میں انگلیاں دبا کر رہ گئی۔ خود راقم الحروف نےمذکورہ پمفلٹ قائد حزب اقتدار شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پیش کیا تو وہ ان کفریہ حوالہ جات کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ نقل کفر کفر نہ باشد۔چند حوالہ جات یوں ہیں” کل مسلمانوں نےمجھےقبول کر لیا ہےاور میری دعوت کی تصدیق کر لی ہےمگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نےمجھےنہیں مانا“ ۔ ” میرےمخالف جنگلوں کےسور ہو گئےاور ان کی عورتیں کتیوں سےبڑھ گئیں“۔ حتیٰ کی تمام ممبران قومی اسمبلی نےان کفریہ عقائد کےمندرجات / حوالہ جات کو پمفلٹ کےذریعےدیکھا اور لاہور ہائیکورٹ کےفُل بنچ کی تحقیقات کی رپورٹ کو مدِ نظر رکھتےہوئےمشترکہ قرار دا دکےذریعےقادیانیوں کو غیر مسلم قرار دےڈالا۔ آج ضرورت اس امر کی ہےکہ تمام مکاتیبِ فکر کےمسلمان قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں ، شر انگیزیوں اور زیر زمیں خفیہ طور پر ” قادیانی ریاست “ کےقیا م کی مذموم کوششوں کےتدارک کےلئےمتحد ہو کر ان کا مقابلہ کریں ۔ فوج میں سےان کا اثر و رسوخ ختم کرنےکےلئےتمام قادیانیوں کو فوج میں سےنکالا جائےیا کم از کم کرنل یا س سےاوپر کےعہدہ کےتمام ملازمین کو فوراً فارغ کیا جائےتاکہ ان کا پا کستان میں موجود امریکی افواج اور خود ہماری پاک فوج میں موجود قادیانیوں کی امداد سےقادیانی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکی۔ پاکستانی مسلمان موجودہ حکمرانوں کےعزائم کو ناکام بنانےکےلئےبھی متحد و متفق ہو کر دبائو ڈالیں تاکہ ہماری خارجہ اوراندرونی پالیسی قرآن و سنت اور ایٹمی پاکستان کےنظریات کےمطابق مرتب ہو سکی۔ اور تمام سامراجی ممالک کی غلامی سےمسلمان آزاد ہو سکیں۔اگر عالم اسلام کےتمام ممالک سےتعلقات خراب ہونےکا خوف نہ ہوتا تو جس طرح امریکہ کی تمام دیگر پالیسیوںپر عمل درآمد ہو رہا ہےاسی طرح اسرائیل کبھی کا تسلیم کیا جا چکا ہوتا۔ ایسا اعلان چونکہ پاکستان کی پورےعالم اسلام میں شدید بدنامی کا باعث بنتا اس لئے اس کی جگہ دوسرےپلان پر عمل در آمد کا منصوبہ بنایا گیا ہی۔ کہ قادیانی ریاست کا اگر اعلان ہو بھی جائےتو اس پر حکومتی سطح پر اس قدر شدید ردِ عمل کا اظہار نہ کیا جائے اور پاکستان کےاندر اس کڑوی گولی کو نگلوانےکےلئےتجاویز مرتب کی جائیں ایسی تجاویز کےلئےاسلام آباد میں کرپٹ لادین بیورو کریٹس پر مشتمل کمیٹی دن رات مصروف عمل ہے ایسےاعلان کو موجودہ حکومت آسانی سےہضم کر سکتی ہے۔ سابق روایات کی طرح صرف اتنا ہی تو کہنا پڑےگا کہ اگر ہم امریکی افواج کےاس اقدام کی مخالفت کرتےتو وہ پورےملک پر قبضہ کر لیتےہم کیا کریں ہم تو صرف اپنےملک کی حفاظت کےلئےاور آپ کی جان و مال کو بچانےکےلئےایسا کر رہےہیں اگر چند میل میں قادیانی ریاست قائم ہو بھی گئی ہےتو سیاچین کی طرح ہمیں کیا فرق پڑتا ہی؟ پہلےبھی تو ربوہ (اسلام نگر) میں انہی کا کنٹرول تھا۔وغیرہ وغیرہ۔ قادیانیوں کےاسی پلان کی تکمیل کےلئےاور موجودہ حکمرانوں کی امداد کےبل بوتےپر ہی تو قادیانیوں کےخلاف کسی قانون پر عمل درآمد نہیں ہو سکا حتیٰ کہ حکومت کی مکمل آشیر باد کی وجہ سےکوئی قادیانی اپنےنام کےساتھ لفظ قادیانی یا مرزائی لکھنےکو تیار نہ ہی۔ نہ ہی ووٹر لسٹ میں قادیانی اپنےآپ کو غیر مسلموں کی فہرست میں یا قادیانیوں کی لسٹ میں درج کرواتےہیں۔ سانپوں کی طرح مسلمانوں کی صفحوں میں گھسےہوئے بہروپئےمرزائیوں کی سر گرمیاں عروج پر ہیں انکی سازشوں اور ” ڈنگ مارو بل میں گھس جائو“ جیسی پالیسی سےپوری ملت اسلامیہ زخمی زخمی اور لہو لہان ہی۔ ملک بھر میں موجود اہلِ سنت کےمدارس و مساجد اور اہلِ تشیع حضرات کی امام بارگاہوں پر راکٹوں ، دستی بموں اور کلاشن کوفوں کےحملوں کا پلان یہی لوگ مرتب کرتےہیں اس سلسلہ میں سرمایہ بھی مہیا کرتےہیں مسلمانوں کےمتفقہ علیہ نظریات اور مسالک میں معمولی اختلافات کی جڑیں گہری کر رہےہیں اس طرح سی1974 کی تحریک ختم نبوت میں گلی کوچوں کےاندر اپنی پٹائی اور املاک کےنقصان کا بدلہ مسلمانوں کو آپس میں لڑائو کی پالیسی اختیار کر کےخوب خوب لےرہےہیں اور ہم خواب خرگوش میں مدہوش پڑےہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ/ چیف جسٹسزہائی کورٹس / حکمرانوں میں صحیح العقیدہ مسلمان حضرات / آئی جی صاحبان پولیس صوبہ جات/ وزارت داخلہ بھی اس کا سو یو موٹو ایکشن لیکر اس کےتدارک کےلئےاقدامات کریں۔ نوٹ: دنیا بھر کےتما م اخبارات ، رسائل و جرائد کےایڈیٹرصاحبان/ انچارج آڈیو وڈیو، ریڈیو و پرنٹ میڈیا اس کالم کو خدا اور اسکےرسول کی محبت کےتقاضوں اور ملکی سالمیت کےتحفظ اور دینی اقدار کو روند ڈالنےکی قادیانیوں کی پالیسیوں سےنجات کےلئےاس کو ضرور بالضرور من و عن شائع و نشر کر کےمشکور فرمائیں۔ دیگر افراد بھی اپنے احباب و عزیز و اقارب تک اس پیغام کو لازماً پہنچائیں اور ثوابِ دارین حاصل کریں۔

    ڈاکٹر میاں احسان باری راہنما پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین

    چیئرمین :انجمن فلاح مظلوماں پاکستان+ باری فری سروس پاکستان
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں امتناع قادیانیت بل
    مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 07 Sep 2007

    ١٩٧٤ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے تحریک ختم نبوت کو دبانے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی جس کے بعد قومی اسمبلی کو خصوصی کیمٹی کا درجہ دیا اور اس مسئلہ پر بحث شروع کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو قومی اسمبلی میں بلایا گیا، ان کا بیان ہوا، مولانا مفتی محمود نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اٹارنی جنرل یحٰیی بختیار کے ذریعہ جرح کی۔ مرزا ناصر نے واضح طور پر اعلان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لاہوری گروہ کے مرزا صدرالدین کو بلا گیا ان دونوں پر تقریبا ١٣ دن جرح ہوئی بالآخر قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کر لی۔ اس طرح ٧ستمبر ١٩٧٤ء وہ تاریخی دن قرار پایا جب نوے سالہ پرانا مسئلہ حل ہوا۔ امت مسلمہ نے سکون کا سانس لیا اور عقیدہ ختم نبوت کو فتح و بلندی عطا ہوئی۔مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور اپوزیشن کے درج ذیل افراد کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے قادیانوں کو غیر مسلم اقیلت قرار دینے کی قرارداد پیش کی ۔۔۔۔
    نام درج ذیل ہیں۔
    مولانا مفتی محود، مولانا عبدالمصطفٰی ازہری، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، پروفیسر غفور احمد، مولانا سید محمد علی رضوی، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، چوہدری ظہور الہی، سردار شیرباز خان مزاری، مولاناظفر احمد انصاری، عبدالحمید خان جتوئی، صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری، محمود اعظم فاروقی، مولانا صدر الشہید، مولانا نعمت اللہ، عمرہ خان، مخدوم نور محمد، جناب غلام فاروق، سردار مولا بخش سومرو، سردار شوکت حیات خان، حاجی علی احمد تالپور، راؤ خورشید علی خان، رئیس عطا محمد خان مری
    بعد میں درج ذیل افراد نے بھی تائیدی دستخط کئے۔
    نوابزادہ میاں ذاکر قریشی، غلام حسن خان، کرم بخش اعوان، صاحبزادہ محمد نذر سلطان، میر غلام حیدر بھروانہ، میاں محمد ابراہیم برق، صاحبزادہ صفی اللہ، صاحبزادہ نعمت اللہ خان شنواری، ملک جہانگیر خان، عبدالسبحان خان، اکبر خان مہمند، میجر جنرل جمالدار، حاجی صالح خان، عبدالمالک خان، خواجہ جمال محمد گوریجہ۔

    اپوزیشن کی جانب سے پیش ہونے والی قرارداد

    جناب سپیکر
    قومی اسمبلی پاکستان
    محترمی!
    ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے اجازت چاہتے ہیں۔
    ہرگاہ کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعوٰی کیا، نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف ورزی تھیں۔
    نیز ہر گاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔
    نیز ہرگاہ کہ پوری اُمت مسلمہ کو اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کہ نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہمنا کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
    نیز ہرگاہ کہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے۔ مسلمانوں کے گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
    نیز ہرگاہ کہ عالمی تنظیموںکی ایک کانفرنس میں جو مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ عالم اسلامی کے زیرانتظام ٦ اور ١٠ اپریل ١٩٧٤ء کے درمیان منقعد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے ١٤٠ مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی، متفقہ طور پر رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہے۔
    اب اس کو یہ اعلان کرنے کی کاروائی کرنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ مومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو موثر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔

    ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو منظور ہونے والی تاریخی ترمیم
    قومی اسمبلی کے کل ایوان پر مشتمل خصوصی کیمٹی متفقہ طور پر طے کرتی ہے کہ حسب ذیل سفارشات قومی اسمبلی کو غور اور منظوری کے لئے بھیجی جائیں۔
    کل ایوان کی خصوصی کیمٹی اپنی رہمنا کیمٹی اور ذیلی کیمٹی کی طرف سے اس کے سامنے پیش یا قومی اسمبلی کی طرف سے اس کو بھیجی گئی قراردادوں پر غور کرنے دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور گواہوں بشمول سربراہان انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو حسب ذیل سفارشات پیش کرتی ہے۔
    (الف) کہ پاکستان کے آئین میں حسب ذیل ترمیم کی جائے۔
    (اول) دفعہ ١٠٦ (٣) میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر کیا جائے۔
    (دوم) دفعہ ٢٦٠ میں ایک نئی شق کے ذریعے غیر مسلم کی تعریف درج کی جائے مذکورہ بالا سفارشات کے نفاذ کے لئے خصوصی کیمٹی کی طرف سے متفقہ طور پر مسودہ قانون منسلک ہے۔

    (ب) کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٢٩٥ الف میں حسب حسب ذیل تشریح درض کی جائے۔
    تشریح:- کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ٢٦٠ کی شق (٣) کی تصریحات کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہو گا۔

    (ج) کہ متفقہ قوانین مثلا قومی رجسٹریشن ایکٹ ١٩٧٣ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد ١٩٧٤ء میں منتنحبہ اور ضابطہ کی ترمیمات کی جائیں۔

    (ہ) کہ پاکستان کے تمام شہریوں خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، کے جان و مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔

    (قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کے لئے)
    آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مزید ترمیم کرنے کا بل
    ہرگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعدازاں درج ذیل اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔
    لہذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔
    ١۔ مختلف عنوان اور آغاز نفاظ
    (١) یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوم) ایکٹ ١٩٧٣ء کہلائے گا۔
    (٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔

    ٢۔ آئین کی دفعہ ١٠٦ کی شق (٣) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ‘اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں)‘ درج کئے جائیں گے۔

    ٣۔ آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ترمیم، آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں شق (٢) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائے گی یعنی ‘ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعوٰی کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا نبی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں قادیانی یہود کی طرح نہ صرف مکار ہیں بلکہ اپنی مطلب براری کے لئیے مسلمانوں پہ اپنے مرزا ملعون کے لئیے غلط ابان استعمال کرنے کا الزام لگا دیتے ہیں ۔اسلئیے امتِ مسلمہ نے قادیانیوں کو متفقہ طور پہ کافر قرار دیا ہے۔ گالیان کون بکتا ہے۔ـ اسکے ایک دو نمونے دیکھیں۔ مرزا ملعون اسے نہ ماننے والوں کے بارے میں ھذیان کہتا ہے۔

    نقل کفر کفر نہ باشد۔چند حوالہ جات یوں ہیں” کل مسلمانوں نےمجھےقبول کر لیا ہےاور میری دعوت کی تصدیق کر لی ہےمگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نےمجھےنہیں مانا“ ۔ ” میرےمخالف جنگلوں کےسور ہو گئےاور ان کی عورتیں کتیوں سےبڑھ گئیں“

    مرزا لکھتا ہے:
    ” بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بد خواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے”
    (شہادت القرآن ص ۸۴، روحانی خزائن ص ۳۸۰، ج۲)

    “جنگ سے مراد تلوار و بندوق کی جنگ نہیں کیونکہ یہ تو سراسر نادانی اور خلاف ہدایت قرآن ہے جو دین کے پھیلانے کے لیے جنگ کیا جائے اس جگہ جنگ سے ہماری مراد زبانی مباحثات ہیں جو نرمی اور انصاف اور معقولیت کی پابندی کے ساتھ کیے جائیں ورنہ ہم ان تمام مذہبی جنگوں کے سخت مخالف ہیں جو جہاد کے طور پر تلوار سے کئے جاتے ہیں”
    (تریاق القلوب، ص۲ ، روحانی خزائن ص ۱۳۰ ج ۱۵)

    مرزا قادیانی کے فتنہِ قادیانیت کا بیج انگریزوں نے لگایا تھا ۔ اسلئیے مرزا لکھتا ہے:
    “حالانکہ میں جانتاہوں کہ خدا تعالٰی نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیرِ سایہ ہمیں حاصل ہے یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔ پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں۔ اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بد خیال، جہاد اور بغاوت دلوں میں مخفی رکھتے ہوں، میں ان کو سخت نادان اورظالم سمجھتا ہوں۔”
    (تریاق القلوب ص ۲۸، روحانی خزائن ص۱۵۶، ج ۱۵)
    وہ لکھتا ہے: ” میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت ج

  114. الطاف حسین اور قادیانیSeptember 11th, 2009 مصنف ميرا پاکستان ذمرہ اسلام, سياستکل جو مسئلہ ہم نے پیش کیا، لگتا ہے وہ ہمارے لیے کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے، اسی لیے صرف چار قارئین نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ لیکن آج جو مسئلہ ہم پیش کرنے جا رہے ہیں وہ بہت بڑا مسئلہ ہے اور امید ہے اس پر خوب بحث ہو گی۔

    مسئلہ یہ ہے کہ چند روز قبل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ایکپریس ٹی وی پر انٹرویو میں احمدیوں کے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے قادیانوں پر ہونے جانے والے مظالم کی مذمت کی اور انہوں نے سب سے درخواست کی کہ وہ قادیانیوں کو بھی پاکستان میں زندگی گزارنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قادیانیوں کو تبلیغ کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
    یہاں تک تو بات سچ ہے کہ اگر ہندو، عیسائی اور سکھ پاکستان میں آزادی سے رہ سکتے ہیں تو پھر قادیانیوں کو بھی یہ حق دینا چاہیے۔ مگر انہوں نے خود سے قادیانیوں کو غیرمسلم نہیں کہا اور صرف یہ کہا کہ اگر آپ قادیانیوں کو مسلمان نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے قادیانیوں کا لٹریچر پڑھا ہے اور ان کی محفلوں میں بھی شرکت کی ہے۔ وہ ترنگ میں آ کر کہنے لگے کہ قادیانی بھی وہی کلمہ یعنی لا لہ اللہ محمد الرسول اللہ پڑھتے ہیں اور محمد صلعم کو آخری نبی مانتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کیا کرتے ہیں الطاف حسین نے وہ بیان کرنے سے گریز کیا۔ اگر یہی سچ ہے تو پھر قادیانیوں کو ساری مسلم امہ نے غیرمسلم کیوں قرار دیا؟

    بعد کی تقریر میں الطاف حسین نے اپنی صفائی میں کہا کہ وہ مسلمان ہیں اور فقہ حنفی سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے جدامجد کے فتوں کا ذکر کر کے ثابت کیا کہ وہ مسلمان خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔

    کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ بقول الطاف حسین کے اگر قادیانی کلمہ گو ہیں اور نبی پاک صعلم کو آخری نبی مانتے ہیں تو پھر وہ غیرمسلم قرار کیوں پائے؟

    WPvideo 1.10
    متعلقہ تحاریر
    •یومِ ٹیکنالوجی – ہفتہ بلاگستان •ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے مرد و زن •آج کے ماڈریٹ مسلمان •جاہلیت کی انتہا •گوجرہ میں مذہبی فساد “الطاف حسین اور قادیانی” پر 58 تبصرےFollow-up comment rss or Leave a Trackback کنفیوز کامی کا تبصرہ11th September, 2009 میں اسکا جواب آپ کو عبداللہ اور فرحان دانش ہی دے سکتے ہیں۔ کہاں ہو تم بھائی لوگ ۔۔۔
    Muneeb کا تبصرہ11th September, 2009 میں فعال ترين بلاگ ايوارڈ 2009 ۔
    Muneeb کا تبصرہ11th September, 2009 میں aik aur altaf interview

    mubashar luqman programme a few days back;

    chahain tu inku bhee laga lain
    اظہرالحق کا تبصرہ11th September, 2009 میں کوئ بھی نہیں مانے گا ، میں تو اب یہاں تک کہ سکتا ہوں کہ اگر الطاف صاحب اگر پیغمبری کا دعوٰی بھی کر دیں تو کراچی میں ایم کیو ایم کے ہمدرد اس پر ایمان لے آئیں گے ،

    جو لوگ قادیانی فتنے کو جانتے ہیں وہ اس بیان پر صرف استغفاراللہ ہی کہ سکتے ہیں

    اگر آپ غور کریں تو میڈیا پر اس بیان کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے

    اللہ ہمیں اس فتنے سے محفوظ رکھے آمین
    تلخابہ کا تبصرہ11th September, 2009 میں ایم کیو ایم قادیانی وٹہ سٹہ ؛ الطاف حسین کا انٹرویو
    http://talkhaabau.wordpress.com/2009/09/09/%d8%a7%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c%d9%88-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d9%82%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%88%d9%b9%db%81-%d8%b3%d9%b9%db%81-%d8%9b-%d8%a7%d9%84%d8%b7%d8%a7%d9%81-%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86/#comments

    میڈیا میں مبشر لقمان کی احمدیہ تحریک اور نذیر ناجی

    http://talkhaabau.wordpress.com/2009/09/10/%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%a8%d8%b4%d8%b1-%d9%84%d9%82%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af%db%8c%db%81-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%88/
    تلخابہ کا تبصرہ11th September, 2009 میں مسئلہ کراچی والوں کا نہیں‌ہے بھائی مسئلہ میڈیا اور علما کا ہے اگر آپ ویڈیو دیکھ لیں‌تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ الطاف حسین نے کیا کہا پھر بھی جامعہ بنوریہ کے مہتمم صاحب مفتی نعیم صاحب فرما تے ہیں الطاف حسین نے ایک دفعہ پھر حساس موضوع پر وضاحت کرکے شرپسندوں کے منہ بند کردیے۔ اب آپ ہی بتلا دیجیے کہ الطاف کے کلیرفیکیشن سے مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ میرے بلاگ پر خبروں کی کلپنگ دیکھ لیں تو واضح ہوجائے گا کہ الطاف حسین نے غلطی تسلیم ہی نہیں کی ہے۔ مزید میرے بلاگ پر قادیانیوں کے تبصروں کے یلغار اور ان کے تبصروں سے بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان لوگوں کی حمایت کرکے الطاف حسین کفر کا مرتکب ہوچکا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے اللہ سب دیکھ رہا ہے ۔آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ حق بات کہیں۔ جب علما الطاف کی ڈر سے کچھ نہیں کہہ رہے تو ایسے میں‌میرے اور آپ کی طرف سے اس کے بارے میں آواز اٹھانا جہاد عظیم نہیں‌ہوگا؟
    تلخابہ کا تبصرہ11th September, 2009 میں اردو بلاگرز دوستوں سے درخواست ہے کہ وہ جہاں جہاں اس موضوع پر قادیانیوں کے تبصرے پڑھیں تو کچھ وقت نکال کر ان کا جواب ضرور دیں تاکہ حق اور باطل کی تمیز ہوسکے۔ شکریہ
    ریحان کا تبصرہ11th September, 2009 میں قادیانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی تو مانتے ہیں پر رسول نہیں ۔ قادیانی گر کلمہ پڑھتے ہیں ساتھ میں ختم نبوت کے انکاری بھی ہیں ۔

    پر قادیانی یہ بھول جاتے ہیں کہ رسول ہونے کے لیے نبی ہونا ہوتا ہے ۔۔ ختم نبوت ہو چکی سو اب نا نبی آئینگے نا کوئی رسول ۔
    Naveed کا تبصرہ11th September, 2009 میں چند اور غير مسلم جو ختم نبوت پہ ايمان نہيں رکھتے-

    مولانا قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم ديوبند

    محي الدين ابن عربی

    ميرا پاکستان کا تبصرہ11th September, 2009 میں اس بحث کو آگے بڑھانے کیلیے ایکسپریس کی یہ خبر پڑھنا بھی ضروری ہے۔
    http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100712309&Issue=NP_LHE&Date=20090910
    Naveed کا تبصرہ11th September, 2009 میں “جامعہ بنوریہ کے مہتمم صاحب مفتی نعیم صاحب فرما تے ہیں الطاف حسین نے ایک دفعہ پھر حساس موضوع پر وضاحت کرکے شرپسندوں کے منہ بند کردیے۔ “

    يہ ديوبندی کيا کريں انکے اپنے بزرگ ايسا ہی عقيدہ رکھتے تھے جس کو يہ ديوبندی لوگ چھپاتے ہيں-
    ميرا پاکستان کا تبصرہ11th September, 2009 میں مبشر لقمان کے پروگرامز دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ وہ انٹریو لے نہیں‌ رہے بلکہ انٹرویو دے رہے ہیں۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ انٹرویو دینے والا ان کے نقطہ نظر سے اختلاف کر رہا ہے تو وہ اسے وہیں پر ٹوک کر اپنا نقطہ نظر بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ انٹرویو دینے والے کو اپنا نطقہ نظر بیان کرنے کی بجائے اس کے منہ سے اپنا عقیدہ اگلوانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس طرح کا یکطرفہ رویہ آدمی کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کہیں مبشر لقمان خود احمدی تو نہیں۔
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں ميرا پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔ مبشر لقمان کے پروگرامز دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ وہ انٹریو لے نہیں‌ رہے بلکہ انٹرویو دے رہے ہیں۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ انٹرویو دینے والا ان کے نقطہ نظر سے اختلاف کر رہا ہے تو وہ اسے وہیں پر ٹوک کر اپنا نقطہ نظر بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ انٹرویو دینے والے کو اپنا نطقہ نظر بیان کرنے کی بجائے اس کے منہ سے اپنا عقیدہ اگلوانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس طرح کا یکطرفہ رویہ آدمی کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کہیں مبشر لقمان خود احمدی تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

    واقعی آپ کی بات سو فیصد درست ہے۔ یہ صاحب نہائت عالم فاضل لوگوں کی بات کاٹ کر موضوع سے ہٹ کر محض اپنی بات تسلیم کروانا چاہتے ہیں
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں عجیب اتفاق ہے، قادیانی فتنہ برطانیہ کا بویا ہوا ہے۔ قادیانی، مشرف اور الطاف حسین تینوں آج کل برطانیہ کے دامن آغوش میں گودی بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں برطانیہ سے پاکستان کے خلاف الطاف حسین کے حالیہ بیان جیسے شگوفے نہیں پھوٹیں گے تو کیا پاکستان یا اسلام کے حق میں بات کی جائے گی؟-۔ ہمیں حیرت تب ہوتی جب الطاف حسین وہاں سے پاکستان کے حق میں کوئی بات کرتے۔

    ایم کیو ایم کارکنان سے معذرت کے ساتھ ، ٹی وی اسکرین پہ پس منظر پہ حیدآباد میں کچھ لوگ مؤدب بیٹھے الطاف حسین کو سن رہے ہیں۔ مگر کسی کو جراءت نہیں پڑی کہ مذھب کی وجہ سے حق بات کہتا اور الطاف حسین سے اختلاف کرتا۔

    کیا لیڈر ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ماننے والوں کو نت نئی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پہ مجبور کر دیں۔؟

    یہ مسئلہ نہیں ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت ہے اور اسے پاکستان میں دوسری اقلیتوں کی طرح آزادی حاصل نہیں۔ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ قادیانی مسلمانوں کی طرح نام رکھتے ہیں ، مسلمانوں کی عبادات کے طور طریقے اپناتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے خلاف ہی سازشیں کرتے ہیں۔ قادیانی کبھی بھی آپ پہ ظاہر نہیں کریں گے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہیں۔ حتٰی کہ آپ کے ساتھ رہ کر آپ کے ہی خلاف سازش کریں گے۔ اسے مسلمان منافقت سمجھتے ہیں اور ایسے میں مسلمانوں کا غیض و غضب میں آنا سمجھ میں آتا ہے۔

    دنیا بھر کے مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار ہیں۔ مسلمان کے لئیے ضروری ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ماں باپ بہن بھائیوں اور اولاد بلکہ ہر چیز سے بڑھ کر چاہے۔ جب عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی ظاہری طور پہ ان جیسا نام افکار اور بھیس بدل کر انھی کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و مرتبہ کم کر رہا ہے تو ایسے میں قادیانی اپنے کئیے کی سزا پہ پوری مغربی دنیا میں اپنی مظلومیت کئیش کروانے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ اپنی محفلوں میں عام مسلمانوں کی تحضیک کرتے ہیں اور ٹھٹھا تک اڑانے سے باز نہیں آتے ۔ اپنے مزہب کی تبلیغ کے لئیے یہ اپنی لڑکیاں مسلمانوں سے بیاھنے کے لئیے پیش کر دیتے ہیں۔

    پاکستان یا پاکستانی قوم کو پاکستان میں بسنے والے پاکستانی ھندؤں ، پاکستانی مسیحی برادی اور سکھوں یعنی دوسری غیر مسلم اقلیتوں سے کوئی گلہ نہیں ۔ بلکہ ان اقلیتوں میں کچھ لوگ مسلمان پاکستانیوں سے بڑھ کر محبِ وطن اور محبِ پاکستان ہیں۔ تو پھر کیا بات ہے کہ شکایات صرف قادیانیوں سے ہی ہیں۔؟ اسکی وجہ قادیانیوں کا مسلمانوں کے خلاف سازشی کردار ہے۔ قادیانی آنے بہانے سے اسلام ، پاکستان اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ پاکستان کی باقی اقلیتیں اپنے الگ مذھبی تشخص کو واضح طور پہ نمایاں کرتی ہیں۔ تانکہ مذہب جیسے حساس مسئلے پہ ابہام پیدا نہ ہو۔ پاکستان کی مسیحی برادری اپنے نام کے ساتھ اکثر و بیشتر مسیح یا اپنا انگریزی نام لکھتے ہیں اسی طرح ھندوؤن اور سکھوں کے نام مختلف ہیں ۔ انکی عبادات کے معبد تک مختلف ساخت کے ہیں۔ جس سے الگ الگ شناخت ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں اٹھتا۔

    جبکہ قادیانی منافقت کرتے ہوئے مسلمانوں جیسا بھیس بدل کر مسلمانوں کو دہوکہ دیتے ہیں۔ شاتم رسول رشدی اور ڈنمارک میں کارٹون تنازعے کے پیچھے قادیانی سازشیں تھیں۔

    قادیانی پاکستان کے اندر پاکستان کے خلاف یہود کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔

    قادیانی ایک بہت بڑا فتنہ ہے اور اگر اس کا سدباب بروقت نہ کیا گیا تو آنے والے وقتوں میں یہ پاکستان کے لئیے ایک بہت بڑی سردردی بنے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی الگ سے شناخت مقرر کی جائے تانکہ عام مسلمان ان سے دہوکہ نہ کھا سکے۔ الطاف حسین ان کے حق میں جتنی مرضی تقریریں کرتا پھرے۔ یا ایکسپریس ٹی وی موڈریٹر مبشر لقمان الفاظ کو جتنا چاہے مروڑ توڑ کر اپنہ نقطہ نظر پیش کرے۔ہمیں پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کے مفاد کو مدِنظر رکھنا چاہئیے۔

    قادیانی اسلام اور پاکستان کے آئین کی رُو سے کافر ہیں۔
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں پیر لنڈن کے یہ الفاظ ۔۔۔۔ایسے نہیں کہہ رہا‘ میں نے احمدیوں کا لٹریچر بھی پڑھا ہے ‘ میں نے احمدیوں کے پروگرام بھی دیکھے ہیں۔میں نے دیکھا ہے وہی کلمہ ‘ وہی سرکار دوعالم صل اللہ علیہ وسلم انہی کو آخری نبی مانتے ہیں‘۔۔ پیرِ لنڈن کے یہ الفاظ جھوٹ پہ مبنی ہیں۔ خود قادیانیوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے نہ صرف تسلیم کیا تھا بلکہ وہ اس پہ اترائے بھی تھے کہ وہ سرکار دوعالم صل اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں مانتے تو الطاف حسین کسے دہوکہ دے رہا ہے۔؟
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں مسلمانوں کے مذہبی رہنماء ظاہری سی بات ہے مسلمان ہی ھونگے آپ انھیں مولوی ، قاضی یا ملا جو مرضی کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لیا کریں۔ کیونکہ مسلمانوں کے مذہبی رہنماء اب خلیفہ ِ قادیان اور یہودی رابینوں یا ربی ہونے سے تو رہے۔

    پاکستان میں، آجکل اسلام بیزاروں اور قادیانیوں میں یہ فیشن چل نکلا ہے کہ جب وہ اسلام کو گالی دینا چاہتے ہیں تو عوامی رد عمل کے خوف سے ایسا نہیں کر پاتے تو ان کا سارا زور مسلمان مفکروں کو تحضیک آمیز انداز میں مُلا ، مولوی پکار کر اپنے دل کے ارمان نکالتے ہیں۔
    جعفر کا تبصرہ11th September, 2009 میں قادیانیوں پر اور ان کے وکیلوں پر اور ان کے حمایتیوں‌ پر اللہ کی لعنت ۔۔۔
    شاید کچھ لوگ کہیں کہ یہ دلیل کے بغیر لعنت کرنے سے کیا فائدہ
    دلیلوں‌ سے تو دفتر کے دفتر بھرے پڑھے ہیں پھر بھی کچھ لعنتی ان کی وکالت کرتے ہیں تو پھر لعنت ان پر ایک بار پھر ۔۔۔
    اسماء کا تبصرہ11th September, 2009 میں سوال _ قاديانی اور احمدی ايک ہی ہوتے ہيں کيا؟ يا مختلف؟
    ايک وہ صاحب بھی تھے جن کی تصوير چاند ميں نظر آتی تھی نام اس منحوس کا مجھے ياد نہيں آ رہا مگر لوگ بلکہ مسلمان گھرانوں کے چشم وچراغ ايسے ديوانے بنے پھرتے تھے کہ خود کو پروانے کہتے تھے اور اپنی کمائی کا آدھا حصہ آستانے کی نظر کرتے تھے ميرا بھائی اور اسکا دوست پروانہ بھی رات کے وقت چاند کو گھور رہے ہوتے تھے اور ہم ميں سے کوئی (نام ياد آ گيا گوہر شاہی ) کی شان ميں گستاخی کرتا تو بھائی صاحب مرنے مارنے پر آ جاتے ميری بہن نے تو اسکے نام کی مناسبت سے ايک نعرہ بھی بنا رکھا تھا جو يہاں درج کرنے جوگا بےيں خير امی کی سلامتی ايمان کی دعائيں رنگ لائيں جب گوہر صاحب نے کلمے ميں سے نبی کريم کا نام نکال کر اپنا لگايا تو ميرے بھائی کو تو ہوش آ گيا مگر دوست بدستور آستانے کا پروانہ بنا رہا پھر بعد کی مجھے معلوم نہيں ميں ادھر آ گئی کيا کسی کو پتہ ہے اسکی سرکوبی ہوئی کہ نہيں؟اور پروانے ابھی تک چکر لگا رہے ہيں يا جل چکے
    راشد کامران کا تبصرہ11th September, 2009 میں جناب تھوڑی سا اختلاف کرنے کی جسارت کروں گا۔۔ یہ مسئلہ بھی فی الوقت پاکستان کا بڑا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا ایک بہانہ ہے۔ اس وقت پاکستان کے بڑے مسائل میں سلامتی، غربت، جہالت اور قانون کی بالادستی ہے۔ ہاں یہ ایک ایسا مسئلہ ضرور ہے جس سے جذبات کی شدت بڑی حد تک جڑی ہے۔

    جاوید صاحب نے پھر پوری اردو اسپیکنگ کمیونٹی کو الطاف حسین کے عمل سے نتھی کردیا کیا انہوں نے کوئی سائینٹیفک سروے کرایا ہے کہ اردو بولنے والے اس مذہبی معاملے میں الطاف حسین کی حمایت کرتے ہیں یا محض ایک جلسے کی کاروائی دیکھ کر یہ گمان کرلیا ہے کہ اردو بولنے والوں نے عقیدہ ختم نبوت پر کامپرومائز کرلیا ہے۔ یہ تو ایسا ہی غلط ہوجائے گا کہ یہ کہا جائے کہ کیونکہ قادیانیوں کی اکثریت پنجابی اسپیکنگ ہے چناچہ یہ سمجھا جائے کہ تمام پنجابی بولنے والے اس کے ذمہ دار ہیں؟ ایسے معاملے میں اگر ایم کیو ایم کے کارکنان کا لفظ استعمال کر لیا جائے تو کچھ حرج نہیں تاکہ ایک اکثریت جو اس عمل کی توثیق نہیں کرتی انہیں بلا وجہ اس معاملے میں نہ گھسیٹا جائے۔
    ریحان کا تبصرہ11th September, 2009 میں چاند پر تصویر نظر آنا ! ۔۔۔ واہ کیا خوب کسی نے کرشماتی گواہی لکھی ہے ۔۔ یہ تو کچھ نہیں ۔۔ وہ عیسائی جو آج بھی حضرت عیسیّ علیہ اسلام کا نام لیکر بیماروں کو ٹھیک کرتے ہیں ۔۔ ان کے جیتے جاگتے کرشمات سے پھر کیا ثابت ہوا جاتا ہے ؟

    انٹیرنیٹ پر جگاہ جگاہ ایڈویرٹیزمنٹ پینل میں چاند پر تصویر آجانے سے کچھ ثابت ہوتا ہے ۔۔ بہت خوب ۔۔ بتائیں تو پھر کوئی یہاں کہ کیا ثابت ہوتا ہے ؟

    الطاف حسین ایک سیاست دان ہے ۔۔ اٰس نے نیوٹرل رہنا ہے ۔۔ اٍس ملک میں اقلیت بھی آباد ہے ۔۔ جو چاہیں کریں ان کی مرضی ۔۔ مگر جان بھوج کر اگر کسی فرقہ نے دین کے ساتھ بغاوت کرنی ہے ۔۔ تو پھر باغی کی سزا کیا ہونی چاہیے ؟
    تلخابہ کا تبصرہ11th September, 2009 میں مفتی نعیم سے میں‌نے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ فون نہیں اٹھارہے ہیں‌جبکہ ختم نبوت کے رہنما مولانا وسایا کا کہنا ہے کہ ان کا پورا بیان نشر نہیں کیا گیا جبکہ مفتی نعیم ایم کیو ایم کے علما کمیٹی کا حصہ یعنی تنظیم کا حصہ ہے اس کے علاوہ جامعہ بنوریہ کے مہتمم ہونے کے باوجود ان کو حلقہ دیوبند میں‌اچھی نظر سے نہیں‌دیکھا جاتا ۔ مولانا وسایا کے اور مفتی منیب الرحمن کا آج میں‌ نے انٹرویو کیا ہے جو کل آپ تلخابہ پر پڑھ سکیں گے۔ جزاک اللہ
    Muneeb کا تبصرہ11th September, 2009 میں ويسے سوچنے کی بات ہے کہ صرف مولوی لوگ شور مچارہے ہيں جنکا مشترکہ ووٹ بنک بھی ايم کيو ايم سے کم ہے، کسی سنجيدہ سياستدان نے کوئی بيان جاري نہيں کيا- کيا عامتہ الناس ايسی بحثوں ميں دلچسپی کھو چکے ہيں؟
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں راشد کامران صاحب!
    مجھے اتہائی دکھ ہے کہ آپ کے جذبات مجروح ہوئے۔ آپکی بات سو فیصد درست ہے کہ مجھے اردو اسپیکنگ کی بجائے ایم کیو ایم کے کارکنان جو ٹی وی پہ بیٹھے نظر آرہے ہیں ۔ میری افضل صاحب سے التماس ہے کہ وہ اردو اسپیکنگ کی بجائے ایم کیو ایم کارکنان کر دیں۔

    یہ لکھا تو عجلت میں گیا ۔ کونکہ تب میرے یہاں افطار کا وقت ہونے والا تھا اور افطاری وضو وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے میں کچھ جلدی میں بھی تھا۔

    بہر حال مجھے افسوس کہ میرے الفاظ سے آپ کا یا کسی اور اردو اسپیکنگ بھائی کا دل دکھا ہے۔

    امید ہے کہ آپ کا دل صاف ہوگیا ہوگا۔
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی جو کہ پورے ایوان پر مشتمل تھی نے دو ماہ میں قادیانی مسئلے پر غور خوض کیلئے 28اجلاس اور 96نشستیں منعقد کیں،اس دوران قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے روبرو قادیانی گروہ کے سرخیل مرزا ناصر، لاہوری گروپ کے امیر صدرالدین اور انجمن اشاعت اسلام لاہور کے عبدالمنان اور مسعود بیگ پر ان کے عقائد و نظریات،ملک دشمنی اور یہودی و سامراجی گٹھ جوڑ کے حوالے سے جرح ہوئی،علامہ نورانی فرماتے ہیں کہ ” مسلسل گیارہ روز تک مرزا ناصر پر جرح ہوتی رہی اور سوال اور جوابی سوال کیا جاتا رہا،مرزا کو صفائی پیش کرتے کرتے پسینہ چھوٹ جاتااور آخر تنگ آکر کہہ دیتا کہ بس اب میں تھک گیا ہوں،اسے گمان نہیں تھا کہ اس طرح عدالتی کٹہرے میں بٹھاکر اس پر جرح کی جائے گی۔ ۔ ۔ ۔

    وہ اپنا عقیدہ خود اراکین اسمبلی کے سامنے بیان کرگیا اور اس بات کا اعلان کرگیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی حضور صلی للہ علیہ وسلم کے بعد مسیح موعود اور امتی نبی ہے،جن اراکین اسمبلی کو قادیانیوں کے متعلق حقائق معلوم نہیں تھے،انہیں بھی معلوم ہوگیااور انہیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ مولانا نورانی جنہیں اقلیت قرار دلوانے کی سعی کررہے ہیں وہ لوگ واقعی کافر،مرتداور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“بحوالہ ماہنامہ ضیائے حرم ختم نبوت نمبر 1974

    قادیانی مسئلے پر فیصلہ کرنے کیلئے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلہ کو جانچنے اور پرکھنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں چھوڑا،کمیٹی کی کارکردگی اور اس کی کاروائیوں پر حزب اختلاف کے لیڈروں نے بھی پورے اطمینان کا اظہار کیا،اس طویل جمہوری و پارلیمانی کاروائی کے بعد قومی اسمبلی نے پورے تدبر سے کام لیتے ہوئے 7،ستمبر 1974ءکو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی موجودگی میں آئین کی وہ واحد ترمیم منظورکی جس کی مخالفت میں ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیااور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخ ساز فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ”جو شخص خاتم الانبیاءحضرت محمد مصطفی صلی للہ علیہ وسلم کی حتمی اور غیر مشروط ختم نبوت میں یقین نہیں رکھتا یا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے،کسی بھی لفظ یا بیان کے ذریعے حضرت محمد صلی للہ علیہ وسلم کے بعد ایک ایسے دعویدار کو نبی تسلیم کرتا ہے،یا کہ مذہبی مصلح جانتا ہے،وہ آئین یا قانون کی رو سے مسلمان نہیں ہے۔

    بحوالہ و بشکریہ عالمی اخبار
    Muneeb کا تبصرہ11th September, 2009 میں aik niya masal khara hu gia;

    سیالکوٹ: مشتعل افراد کا چرچ پرحملہ

    سیالکوٹ کے قریبی علاقے سمبڑیال میں مشتعل افراد نے چرچ کو آگ لگا دی ہے جبکہ علاقے کے مسیحی اپنے گھروں کو تالے لگاکر روپوش ہوگئے ہیں۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090911_church_ablaze_rh.shtml
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں عالم اسلام میں ”دوسرا اسرائیل“ قادیانی ریاست کامنصوبہ
    مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 18 Nov 2006

    قادیا نیوں کا اپنےنام نہادمذہب اور کفریہ عقا ئدکی بنیاد رکھنےکےروز اول سےہی یہ پلان تھا کہ وہ ہندو پاک میں اپنی علیحدہ ریاست قا ئم کریں گےچاہےاسکےلیےانہیںکتنی ہی جانی ومالی قربانی کیوں نہ دینی پڑےعرصہ دراز سےاس پر عمل درامد کرنےکےلیےتمام قادیانی ملازمین اپنی تنخواہوں کا 7فیصد اور کاروباری حضرات بھی کم و بیش اتنا ہی سرمایہ اپنی جماعت کو جمع کرواتےچلےآرہےہیں پاکستان بننےکےبعد انہوں نےربوہ (موجودہ اسلام نگر) کواس کےلیےمنتخب کیا یہ علاقہ تین اطراف سےپہاڑیوں سےگھرا ہوا ہےاور چوتھی طرف دریا بہہ رہاہےربوہ میں رابطہ کا صرف ایک پل ہےجو کہ دریا پر بنا ہوا ہےاسلئےقادیانی منصوبہ سازوں نےریاست کےاندر ریاست قائم کرنےکےلیے یہ جگہ مخصوص کر ڈالی اور قادیانیوں نےاس جگہ پر ہزاروں ایکڑ نہیںبلکہ کئی میل لمبا چوڑا علاقہ اونےپونےداموں خرید لیا جسمیں انہیں تمام حکمرانوں کی بھی آشیر باد حاصل رہی قادیانی ریاست کےقیام کا انکا زیر زمین پلان ہی انکا اولین مقصد ہےجس طرح سےیہودیوں نےاسرائیل کی صورت میں عالم اسلام کےسینےمیں خنجر گھونپ رکھا ہےاور پورا عالم کفر اور لادینی جمہوریت کےچیمپئن اسکے ممدومعاون بنےہوئےہیں اسی طرح انکی ہی پیروی کرتےہوئےاور تمام کفریہ عقائد کی علمبر دار قوتوں کی ہی مدد سےقادیانی ربوہ میں مرزائی اسٹیٹ بنانا چاہتےہیں اسی مقصد کےحصول کےلیےانہوں نےسول اور فوج کےاعلٰی عہدوں پر قبضہ کیا پاک فوج میں عملاًمرزائی اجتماعات بھی منعقد کرتےہیں حتیٰ کہ کسی مرتد کےمکان کےبڑےہال کو عبادت و اجتماع گاہ قرار دے لیتےہیں ایک دوسرےکی ناجائز امداد کر کےاعلٰی عہدوںپر قابض ہیں اور بوقت ضرورت حکومت کی وفاداری سےبھی آنکھیںپھیر لیں گےاور قادیانی سربراہ کےحکم کی بجا آوری ان کی ترجیح ہو گی ۔قادیانیوں نےربوہ میں دریا کےقرب وجوار کی طرف توکئی ایکڑ زمین خرید کر خالی چھوڑ رکھی ہےاسمیں نہ تو کوئی فصل اگاتےہیں اور نہ ہی کوئی درخت بلکہ پہلےسےموجود تمام درخت جڑ سےاکھاڑپھینکےہیں لیکن اس زمین کو عملا ًمستقل طور پر پانی لگاتےہیں تا کہ زمین پختہ رہےاور بوقت ضرورت اسکو فوراً آناًفانا ًائیرپورٹ میں تبدیل کر کےیہاں پر جنگی طیارےاتارےجاسکیں اور ریاست کا منصوبہ تکمیل پا سکے۔ہمارےوزیر خارجہ ، وزیر اعظم ، حتیٰ کہ صدر پاکستان تک نےجو ملاقاتیں امریکیوں سےاعلیٰ سطح پر کی ہیں ان میں یہ معاملہ سر فہرست رہا اور اندرونِ خانہ سب کچھ طےپا گیا ۔ امریکن افواج جو کہ پاکستان کےاندر اور بارڈرز پر خاصی تعداد میں موجود ہیں اور پہلےبھی 9/11 کےواقعہ کےبعد یہیں سے” اسلامی افغانستان“ کو تباہ و برباد کر کےقبضہ کر چکی ہیں اور آج کل نت نئےعلاقہ پر پاکستانی بارڈر کےاندر جب چاہتی ہیں حملہ آور ہو کر مظلوم مسلمانوں کا قتل عام کر ڈالتی ہیں جسکےلئےموجودہ 87 افراد کے باجوڑ میںقتل کےواقعہ پر کسی ثبوت کی ضرورت نہ ہی۔ اسلئےربوہ جیسی کسی جگہ جہاں کفر کےروپ میں مسلمان کہلوانےوالےموجود ہیں انکا حملہ آور ہونا یا قبضہ میں امداد کر ڈالنا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ صدر پاکستان کی کئی بار اسرائیل کو تسلیم کرنےکی طرف تجاویز اور تردید یںبھی ا یسےاقدام کرنےمیں ممد و معاون ہیں عالم اسلام کےممالک کےسربراہوں یا بادشاہوں نہیں بلکہ صحیح العقیدہ عوام الناس کا اندرونی دبائو انہیں ایسےاقدام سےباز رکھےہوئےہی۔ ہمارےحکمرانوں کی تو اسلام دشمن پالیسیوں سےہی یہ سب کچھ ممکن ہوتا نظر آتا ہے۔ مرزائیوں کےسر براہ کی طرف سےکسی بھی افراتفری کو بنیاد بنا کر قادیانی ریاست کا اعلان ہوتےہی امریکن جنگجو طیارےفوری طور پر ربوہ ایئر پورٹ پر اتریں گےاور پاکستان کےموجودہ حکمرانوں کی آنکھ مچولی کی وجہ سےیہ تعمیر ہو جائیگی۔ قادیانیوں نےاطراف میں موجود پہاڑیوں کی غاروں میں جدید ترین اسلحہ جمع کر رکھا ہےجو کہ بوقت ضرورت انکےکام آسکےگا ملک بھر سےنہیں بلکہ پوری دینا سےقادیانیوں کو اسرائیل کی طرح یہاں لا کر جمع کرنےکےلئےقادیانی ہزاروں ایکڑ زمین اطراف میں خرید چکےہیں پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کو سب معلوم ہےمگر سرکاری ہونےکےناطےانکا وطیرہ ہر دور میں یہی رہا ہےکہ موجود حکمرانوں کےنظریات کےمطابق ہی وہ رپورٹس مرتب کر کےبھجواتےہیں تاکہ مقتدر افراد کےماتھوں پر بل نہ آسکےاور ایسےملازمین کا دال دلیہ چلتا رہے اور امریکنوں کا تو اسمیں مفاد موجود ہےکہ وہ پھر کھل کر یہاں سےپاکستان ، افغانستان ، ہندوستان ، ایران حتیٰ کہ چین تک کو” کنٹرول “ کر سکیں گےاور انہیں کسی حکومت سےاپنےمذموم مقاصد کی تکمیل کےلئےبا رگیننگ کرنےکی ضرورت نہ رہےگی یہاں تک کہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی نام نہاد امداد دیکر اپنےمقاصد و مطالبات پورےکرنےکروانےسےبھی جان چھوٹ جائیگی اور ناجائزوغیر جمہوری قابض حکمرانوں کی سر پرستی کرتےہوئےجو بدنامی کا دھبہ اُن پر ہےوہ بھی نہ رہےگا۔ ویسےبھی اسرائیل کی طرح عالم اسلام میں دوسرےاسرائیل کا قیام عمل میں آ جائےگا پوری دنیا جانتی ہےکہ مرزائیوں (قادیانیوں) یا یہودیوں کی پالیسیوں اور عقائد و نظریات میں کوئی فرق نہ ہی۔دونوں ایک ہی تھیلےکےچٹےبٹےہیں پاکستانی تو حیران و ششدر ہیں کہ قادیانیوں کےافواج ِ پاکستان میں ملازمتیں حاصل کرنےپر اب تک کیوں پابندی نہ لگائی جا سکی ہی؟ حالانکہ مرزائیوں کےنام نہاد کفریہ مذہب کی بنیاد ہی انگریزوںنےاس خود کاشتہ پودےکےذریعےمسلمانوں کےدلوں سےجہادی نظریات کو اکھاڑنےکےلئےکی تھی تا کہ وہ ہندو پاک میں مزید عرصہ مقتدر رہ سکیں مگر وہ پلان اس وقت کا میاب نہ ہو سکا۔ قادیانی جو خدا، رسول ودیگر انبیاءکسی کو نہ مانتےہیں نہ انکا عقیدہ ہےتو پھر وہ جہاد فی سبیل اللہ کوکیسےمان سکتےہیںہماری فوج کا چونکہ نعرہ ہی جہاد فی سبیل اللہ ہےاسلئےپاک فوج کےنظریات سے متصادم کسی دوسرےنظریہ کےعلمبرداروں کی بھرتی ویسےہی قانون و آئین کےمطابق نہ ہی۔ برطانیہ کی سینکڑوں برس سےقائم حکومت جب مسلمانوں کےشعور سےقریب الختم ہوئی تو انہوں نےڈوبتےکو تنکےکا سہارا کےمصداق مرزا غلام احمد نامی شخص کو مسلمانوں کےدلوں سےغیرت ایمانی ، حُبِ رسول اور جہادی نظریات کو ختم کرنےکا کام سونپا۔ اُس وقت با وجوہ وہ کامیاب نہ ہو سکا کہ بہتےہوئےدریائوں کا رُخ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک زوروں پر تھی اور علماءکی قربانیاں اور انگریز اقتدار کی طرف سےانکی قتل و غارت عروج پر تھی اسلئےانگریزوں کو یہاں سےجانےمیں ہی عافیت محسوس ہوئی مگر اپنا کاشتہ پودا نہ اکھاڑا اور مسلسل آج تک انکا مشن پورا کرنےکےلئےقادیانی جماعت تگ و دو میں مصروف ہےپورےملک میں نہیں بلکہ عالم اسلام میں بھی ہر جگہ رسل و رسائل کےذریعےلٹریچر کی بھر مار ہی۔ حکومتی چیک ا ینڈ بیلنس نہ ہونےکی وجہ سےربوہ میں اب بھی عملاً انکا کنٹرول ہےکوئی ملازم ان کی جازت کےبغیر وہاں تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ٹرانسفر ہو کر آبھی جائےتو قادیانی اسکا نا طقہ بند کر دیتےہیں یہاں تک کہ با لآخر اسےیہاں سےراہِ فرار اختیار کرنا پڑتی ہی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اور مجلس احرارِ اسلام نےیہاں پر مساجد تو قائم کر رکھی ہیں مگر وہ بھی صرف سالانہ جلسہ کی حد تک ہیں عملاً مسلمانوں کا کوئی تبلیغی یا تعلیمی مشن یہاں پر کام نہیں کر رہا ۔ گو کہ 7 ستمبر1974 کو قادیانیوں کو قومی اسمبلی پاکستان نےمتفقہ قرار داد کےذریعےغیر مسلم قرار دیا تھا مگر جو قوانین مرتب کئےگئےان پر آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا ہی۔ ساری دنیا جانتی ہےکہ 29 مئی1974 کو ربوہ کےسٹیشن پر ر میڈیکل کالج ملتان کےنہتے187 طلبہ جو کہ سوات کی سیر سےواپس آرہےتھےکو قادیانیوں نےمسلح حملہ کر کےزخمی کر ڈالا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ وقوعہ سےتین روز قبل ہی ملتان سےسوات جاتےہوئےجب چناب ایکسپریس ربوہ (اسلام نگر) سٹیشن پر رکی تو راقم الحروف کے1971 کےمرتب کردہ 16 صفحہ کےپمفلٹ ” آئینہ مرزائیت“ کو تقسیم کیا تھا جس پر اسٹیشن پر موجود قادیانی سیخ پا ہوگئےتُو تکار اور معمولی ہاتھا پائی کےبعد ٹرین چل پڑی مگر قادیانیوں کا اپنی مستقبل کی تصوراتی نام نہاد ریاست کے” دارالخلافہ“ جیسےمقام پر ایسا معمولی واقعہ ان کےمزاج شیطانی کو شدید ناگوار گذرا کہ پورےملک سےمسلح قادیانی نوجوان اکٹھےکئےگئےاور واپسی پر ان مسلح منکرینِ ختم نبوت وجہنم واصلین نےحملہ کر کے187 مسلمان طلبہ کو شدید زخمی کر ڈالا جس کی باز گشت راقم الحروف اور ایک اور سٹوڈنٹس یونین کےعہدیدار ارباب عالم کی پریس کانفرنس سے پوری دنیا کےریڈیو اور اخبارات میں سنی گئی۔ اور تمام پرنٹ میڈیا اخبارات و رسائل نےدوسرےدن خدا اور رسول کےدشمنوں کی اس شرمناک حرکت کو شہہ سرخی کےطور پر شائع کیا اور جس پرپورےملک کےصحیح العقیدہ اور مسلمہ مکاتیبِ فکر کےعلماء نےاکٹھےہو کر قادیانیوں کےخلاف تحریک کا آغاز کر دیا ۔ جب اس واقعہ کی تحقیقات ہائیکورٹ کےفُل بنچ جس کی سربراہی جسٹس صمدانی نےکی تو بھی وقوعہ کی بنیاد اسی پمفلٹ ” آئینہ مرزائیت“ کو قرار دیا گیا۔عدالت نےقادیانیوں کی تمام کفریہ کتب او ر لٹریچر سےاس پمفلٹ میں درج حوالہ جات کا موازنہ کر کےاسےحرف بحرف درست قرار دیا تھا۔اس پمفلٹ کو آج کل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان جس کا ہیڈ آفس ملتان میں ہےمختلف زبانوں میں لاکھوں کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کرتی ہے۔ قومی اسمبلی میں قرارداد سےچند روز قبل قائد حزبِ اختلاف مولانا مفتی محمود مرحوم ، مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم، اور دیگر علماءو ممبران اسمبلی نےقادیانیوں کےکفریہ عقائد اسمبلی کےفلور پر بیان کئےتو ممبران اسمبلی دانتوں میں انگلیاں دبا کر رہ گئی۔ خود راقم الحروف نےمذکورہ پمفلٹ قائد حزب اقتدار شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پیش کیا تو وہ ان کفریہ حوالہ جات کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ نقل کفر کفر نہ باشد۔چند حوالہ جات یوں ہیں” کل مسلمانوں نےمجھےقبول کر لیا ہےاور میری دعوت کی تصدیق کر لی ہےمگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نےمجھےنہیں مانا“ ۔ ” میرےمخالف جنگلوں کےسور ہو گئےاور ان کی عورتیں کتیوں سےبڑھ گئیں“۔ حتیٰ کی تمام ممبران قومی اسمبلی نےان کفریہ عقائد کےمندرجات / حوالہ جات کو پمفلٹ کےذریعےدیکھا اور لاہور ہائیکورٹ کےفُل بنچ کی تحقیقات کی رپورٹ کو مدِ نظر رکھتےہوئےمشترکہ قرار دا دکےذریعےقادیانیوں کو غیر مسلم قرار دےڈالا۔ آج ضرورت اس امر کی ہےکہ تمام مکاتیبِ فکر کےمسلمان قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں ، شر انگیزیوں اور زیر زمیں خفیہ طور پر ” قادیانی ریاست “ کےقیا م کی مذموم کوششوں کےتدارک کےلئےمتحد ہو کر ان کا مقابلہ کریں ۔ فوج میں سےان کا اثر و رسوخ ختم کرنےکےلئےتمام قادیانیوں کو فوج میں سےنکالا جائےیا کم از کم کرنل یا س سےاوپر کےعہدہ کےتمام ملازمین کو فوراً فارغ کیا جائےتاکہ ان کا پا کستان میں موجود امریکی افواج اور خود ہماری پاک فوج میں موجود قادیانیوں کی امداد سےقادیانی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکی۔ پاکستانی مسلمان موجودہ حکمرانوں کےعزائم کو ناکام بنانےکےلئےبھی متحد و متفق ہو کر دبائو ڈالیں تاکہ ہماری خارجہ اوراندرونی پالیسی قرآن و سنت اور ایٹمی پاکستان کےنظریات کےمطابق مرتب ہو سکی۔ اور تمام سامراجی ممالک کی غلامی سےمسلمان آزاد ہو سکیں۔اگر عالم اسلام کےتمام ممالک سےتعلقات خراب ہونےکا خوف نہ ہوتا تو جس طرح امریکہ کی تمام دیگر پالیسیوںپر عمل درآمد ہو رہا ہےاسی طرح اسرائیل کبھی کا تسلیم کیا جا چکا ہوتا۔ ایسا اعلان چونکہ پاکستان کی پورےعالم اسلام میں شدید بدنامی کا باعث بنتا اس لئے اس کی جگہ دوسرےپلان پر عمل در آمد کا منصوبہ بنایا گیا ہی۔ کہ قادیانی ریاست کا اگر اعلان ہو بھی جائےتو اس پر حکومتی سطح پر اس قدر شدید ردِ عمل کا اظہار نہ کیا جائے اور پاکستان کےاندر اس کڑوی گولی کو نگلوانےکےلئےتجاویز مرتب کی جائیں ایسی تجاویز کےلئےاسلام آباد میں کرپٹ لادین بیورو کریٹس پر مشتمل کمیٹی دن رات مصروف عمل ہے ایسےاعلان کو موجودہ حکومت آسانی سےہضم کر سکتی ہے۔ سابق روایات کی طرح صرف اتنا ہی تو کہنا پڑےگا کہ اگر ہم امریکی افواج کےاس اقدام کی مخالفت کرتےتو وہ پورےملک پر قبضہ کر لیتےہم کیا کریں ہم تو صرف اپنےملک کی حفاظت کےلئےاور آپ کی جان و مال کو بچانےکےلئےایسا کر رہےہیں اگر چند میل میں قادیانی ریاست قائم ہو بھی گئی ہےتو سیاچین کی طرح ہمیں کیا فرق پڑتا ہی؟ پہلےبھی تو ربوہ (اسلام نگر) میں انہی کا کنٹرول تھا۔وغیرہ وغیرہ۔ قادیانیوں کےاسی پلان کی تکمیل کےلئےاور موجودہ حکمرانوں کی امداد کےبل بوتےپر ہی تو قادیانیوں کےخلاف کسی قانون پر عمل درآمد نہیں ہو سکا حتیٰ کہ حکومت کی مکمل آشیر باد کی وجہ سےکوئی قادیانی اپنےنام کےساتھ لفظ قادیانی یا مرزائی لکھنےکو تیار نہ ہی۔ نہ ہی ووٹر لسٹ میں قادیانی اپنےآپ کو غیر مسلموں کی فہرست میں یا قادیانیوں کی لسٹ میں درج کرواتےہیں۔ سانپوں کی طرح مسلمانوں کی صفحوں میں گھسےہوئے بہروپئےمرزائیوں کی سر گرمیاں عروج پر ہیں انکی سازشوں اور ” ڈنگ مارو بل میں گھس جائو“ جیسی پالیسی سےپوری ملت اسلامیہ زخمی زخمی اور لہو لہان ہی۔ ملک بھر میں موجود اہلِ سنت کےمدارس و مساجد اور اہلِ تشیع حضرات کی امام بارگاہوں پر راکٹوں ، دستی بموں اور کلاشن کوفوں کےحملوں کا پلان یہی لوگ مرتب کرتےہیں اس سلسلہ میں سرمایہ بھی مہیا کرتےہیں مسلمانوں کےمتفقہ علیہ نظریات اور مسالک میں معمولی اختلافات کی جڑیں گہری کر رہےہیں اس طرح سی1974 کی تحریک ختم نبوت میں گلی کوچوں کےاندر اپنی پٹائی اور املاک کےنقصان کا بدلہ مسلمانوں کو آپس میں لڑائو کی پالیسی اختیار کر کےخوب خوب لےرہےہیں اور ہم خواب خرگوش میں مدہوش پڑےہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ/ چیف جسٹسزہائی کورٹس / حکمرانوں میں صحیح العقیدہ مسلمان حضرات / آئی جی صاحبان پولیس صوبہ جات/ وزارت داخلہ بھی اس کا سو یو موٹو ایکشن لیکر اس کےتدارک کےلئےاقدامات کریں۔ نوٹ: دنیا بھر کےتما م اخبارات ، رسائل و جرائد کےایڈیٹرصاحبان/ انچارج آڈیو وڈیو، ریڈیو و پرنٹ میڈیا اس کالم کو خدا اور اسکےرسول کی محبت کےتقاضوں اور ملکی سالمیت کےتحفظ اور دینی اقدار کو روند ڈالنےکی قادیانیوں کی پالیسیوں سےنجات کےلئےاس کو ضرور بالضرور من و عن شائع و نشر کر کےمشکور فرمائیں۔ دیگر افراد بھی اپنے احباب و عزیز و اقارب تک اس پیغام کو لازماً پہنچائیں اور ثوابِ دارین حاصل کریں۔

    ڈاکٹر میاں احسان باری راہنما پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین

    چیئرمین :انجمن فلاح مظلوماں پاکستان+ باری فری سروس پاکستان
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں امتناع قادیانیت بل
    مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 07 Sep 2007

    ١٩٧٤ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے تحریک ختم نبوت کو دبانے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی جس کے بعد قومی اسمبلی کو خصوصی کیمٹی کا درجہ دیا اور اس مسئلہ پر بحث شروع کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو قومی اسمبلی میں بلایا گیا، ان کا بیان ہوا، مولانا مفتی محمود نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اٹارنی جنرل یحٰیی بختیار کے ذریعہ جرح کی۔ مرزا ناصر نے واضح طور پر اعلان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لاہوری گروہ کے مرزا صدرالدین کو بلا گیا ان دونوں پر تقریبا ١٣ دن جرح ہوئی بالآخر قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کر لی۔ اس طرح ٧ستمبر ١٩٧٤ء وہ تاریخی دن قرار پایا جب نوے سالہ پرانا مسئلہ حل ہوا۔ امت مسلمہ نے سکون کا سانس لیا اور عقیدہ ختم نبوت کو فتح و بلندی عطا ہوئی۔مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور اپوزیشن کے درج ذیل افراد کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے قادیانوں کو غیر مسلم اقیلت قرار دینے کی قرارداد پیش کی ۔۔۔۔
    نام درج ذیل ہیں۔
    مولانا مفتی محود، مولانا عبدالمصطفٰی ازہری، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، پروفیسر غفور احمد، مولانا سید محمد علی رضوی، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، چوہدری ظہور الہی، سردار شیرباز خان مزاری، مولاناظفر احمد انصاری، عبدالحمید خان جتوئی، صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری، محمود اعظم فاروقی، مولانا صدر الشہید، مولانا نعمت اللہ، عمرہ خان، مخدوم نور محمد، جناب غلام فاروق، سردار مولا بخش سومرو، سردار شوکت حیات خان، حاجی علی احمد تالپور، راؤ خورشید علی خان، رئیس عطا محمد خان مری
    بعد میں درج ذیل افراد نے بھی تائیدی دستخط کئے۔
    نوابزادہ میاں ذاکر قریشی، غلام حسن خان، کرم بخش اعوان، صاحبزادہ محمد نذر سلطان، میر غلام حیدر بھروانہ، میاں محمد ابراہیم برق، صاحبزادہ صفی اللہ، صاحبزادہ نعمت اللہ خان شنواری، ملک جہانگیر خان، عبدالسبحان خان، اکبر خان مہمند، میجر جنرل جمالدار، حاجی صالح خان، عبدالمالک خان، خواجہ جمال محمد گوریجہ۔

    اپوزیشن کی جانب سے پیش ہونے والی قرارداد

    جناب سپیکر
    قومی اسمبلی پاکستان
    محترمی!
    ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے اجازت چاہتے ہیں۔
    ہرگاہ کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعوٰی کیا، نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف ورزی تھیں۔
    نیز ہر گاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔
    نیز ہرگاہ کہ پوری اُمت مسلمہ کو اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کہ نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہمنا کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
    نیز ہرگاہ کہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے۔ مسلمانوں کے گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
    نیز ہرگاہ کہ عالمی تنظیموںکی ایک کانفرنس میں جو مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ عالم اسلامی کے زیرانتظام ٦ اور ١٠ اپریل ١٩٧٤ء کے درمیان منقعد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے ١٤٠ مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی، متفقہ طور پر رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہے۔
    اب اس کو یہ اعلان کرنے کی کاروائی کرنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ مومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو موثر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔

    ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو منظور ہونے والی تاریخی ترمیم
    قومی اسمبلی کے کل ایوان پر مشتمل خصوصی کیمٹی متفقہ طور پر طے کرتی ہے کہ حسب ذیل سفارشات قومی اسمبلی کو غور اور منظوری کے لئے بھیجی جائیں۔
    کل ایوان کی خصوصی کیمٹی اپنی رہمنا کیمٹی اور ذیلی کیمٹی کی طرف سے اس کے سامنے پیش یا قومی اسمبلی کی طرف سے اس کو بھیجی گئی قراردادوں پر غور کرنے دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور گواہوں بشمول سربراہان انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو حسب ذیل سفارشات پیش کرتی ہے۔
    (الف) کہ پاکستان کے آئین میں حسب ذیل ترمیم کی جائے۔
    (اول) دفعہ ١٠٦ (٣) میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر کیا جائے۔
    (دوم) دفعہ ٢٦٠ میں ایک نئی شق کے ذریعے غیر مسلم کی تعریف درج کی جائے مذکورہ بالا سفارشات کے نفاذ کے لئے خصوصی کیمٹی کی طرف سے متفقہ طور پر مسودہ قانون منسلک ہے۔

    (ب) کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٢٩٥ الف میں حسب حسب ذیل تشریح درض کی جائے۔
    تشریح:- کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ٢٦٠ کی شق (٣) کی تصریحات کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہو گا۔

    (ج) کہ متفقہ قوانین مثلا قومی رجسٹریشن ایکٹ ١٩٧٣ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد ١٩٧٤ء میں منتنحبہ اور ضابطہ کی ترمیمات کی جائیں۔

    (ہ) کہ پاکستان کے تمام شہریوں خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، کے جان و مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔

    (قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کے لئے)
    آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مزید ترمیم کرنے کا بل
    ہرگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعدازاں درج ذیل اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔
    لہذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔
    ١۔ مختلف عنوان اور آغاز نفاظ
    (١) یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوم) ایکٹ ١٩٧٣ء کہلائے گا۔
    (٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔

    ٢۔ آئین کی دفعہ ١٠٦ کی شق (٣) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ‘اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں)‘ درج کئے جائیں گے۔

    ٣۔ آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ترمیم، آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں شق (٢) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائے گی یعنی ‘ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعوٰی کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا نبی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کا تبصرہ11th September, 2009 میں قادیانی یہود کی طرح نہ صرف مکار ہیں بلکہ اپنی مطلب براری کے لئیے مسلمانوں پہ اپنے مرزا ملعون کے لئیے غلط ابان استعمال کرنے کا الزام لگا دیتے ہیں ۔اسلئیے امتِ مسلمہ نے قادیانیوں کو متفقہ طور پہ کافر قرار دیا ہے۔ گالیان کون بکتا ہے۔ـ اسکے ایک دو نمونے دیکھیں۔ مرزا ملعون اسے نہ ماننے والوں کے بارے میں ھذیان کہتا ہے۔

    نقل کفر کفر نہ باشد۔چند حوالہ جات یوں ہیں” کل مسلمانوں نےمجھےقبول کر لیا ہےاور میری دعوت کی تصدیق کر لی ہےمگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نےمجھےنہیں مانا“ ۔ ” میرےمخالف جنگلوں کےسور ہو گئےاور ان کی عورتیں کتیوں سےبڑھ گئیں“

    مرزا لکھتا ہے:
    ” بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بد خواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے”
    (شہادت القرآن ص ۸۴، روحانی خزائن ص ۳۸۰، ج۲)

    “جنگ سے مراد تلوار و بندوق کی جنگ نہیں کیونکہ یہ تو سراسر نادانی اور خلاف ہدایت قرآن ہے جو دین کے پھیلانے کے لیے جنگ کیا جائے اس جگہ جنگ سے ہماری مراد زبانی مباحثات ہیں جو نرمی اور انصاف اور معقولیت کی پابندی کے ساتھ کیے جائیں ورنہ ہم ان تمام مذہبی جنگوں کے سخت مخالف ہیں جو جہاد کے طور پر تلوار سے کئے جاتے ہیں”
    (تریاق القلوب، ص۲ ، روحانی خزائن ص ۱۳۰ ج ۱۵)

    مرزا قادیانی کے فتنہِ قادیانیت کا بیج انگریزوں نے لگایا تھا ۔ اسلئیے مرزا لکھتا ہے:
    “حالانکہ میں جانتاہوں کہ خدا تعالٰی نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیرِ سایہ ہمیں حاصل ہے یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔ پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں۔ اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بد خیال، جہاد اور بغاوت دلوں میں مخفی رکھتے ہوں، میں ان کو سخت نادان اورظالم سمجھتا ہوں۔”
    (تریاق القلوب ص ۲۸، روحانی خزائن ص۱۵۶، ج ۱۵)
    وہ لکھتا ہے: ” میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت ج

  115. عبداللہ آتھم ایک مرتد عیسائی کے ساتھ مرزا قادیانی کا مناظرہ ہوا۔ مرزا کا دعویٰ تھا کہ میں مثیلِ مسیح ہوں۔ عیسائیوں نے میدانِ مناظرہ میں ایک مردہ لا کر رکھ دیا، ایک کوڑھی اور ایک اندھا لے آئے اور مرزا سے مطالبہ کیا کہ قرآن پاک میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ، اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کر دیتے تھے۔ اگر تو سچا مسیح ہے تو اپنی مسیحائی دکھا کہ یہ مردہ زندہ ہو جائے، اندھا بینا ہو جائے اور کوڑھی تندرست ہو جائے۔

    مرزا نے کہا کہ میں آج رات استخارہ کروں گا اگر اللہ کی طرف سے مجھے ایسا کرنے کی اجازت مل گئی تو میں ایسا کروں گا ورنہ نہیں۔ عیسائیوں نے کہا عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی ان کاموں کیلیے استخارہ نہیں کیاتھا تُو جھوٹا ہے حیلے بہانے کرتا ہے۔ بہرحال عیسائیوں نے ایک رات کی مہلت دے دی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے صلاح مشورہ کر کے یہ کام کر دکھائیں۔

    مرزا قادیانی اگلے دن آیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مناظرہ بند کرو کیونکہ یہ ماننے والے نہیں اور پیشن گوئی کی کہ آج کی تاریخ ( ۵ جون ۱۸۹۳) سے مخالف مناظر پندرہ ماہ کے اندر اندر بسزائے موت ہاویہ میں جا گرے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور مرزا نے لکھا میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں اگر یہ پیشن گوئی جھوٹی نکلی یعنی جو فریق خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کو تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جائے، منہ سیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسہ ڈالا جائے، مجھ کو پھانسی دی جائے، ہر ایک بات کیلیے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا ضرور کرے گا ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں مگر اس کی باتیں نہیں ٹلیں گی اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لیے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔ (جنگ مقدس صفحہ ۱۸۹)

    پیشن گوئی کی میعاد ۵ ستمبر ۱۸۹۴ تھی مگر آتھم نے اس تاریخ تک نہ تو عیسائیت سے توبہ کی، نہ اسلام کی طرف رجوع کیا اور نہ ہی بسزائے موت ہاویہ میں گرا۔ مرزا نے اس کو مارنے کیلیے ٹونے ٹوٹکے بھی کیے۔ آخری دن چنوں پر سورۃ الفیل کا وظیفہ بھی پڑھا اور ساری رات قادیان میں مرزا اور مرزائیوں نے بڑی آہ زاری کے ساتھ ’’یا اللہ آتھم مر جائے‘‘ کی دعائیں بھی کیں مگر سب بے سود ہوا۔ نہ آتھم پر ٹونے ٹوٹکوں کا اثر ہوا اور نہ خدا نے مرزا قادیانی کی آہ زاری اور بددعاؤں کو آتھم کے حق میں قبول فرمایا۔ آخرکار مرزا قادیانی اپنے قول کے مطابق جھوٹا، ذلیل، روسیاہ، سب سے بڑا شیطان، سب سے بڑا بدکار اور سب سے بڑا لعنتی ثابت ہوا۔

    ۵ستمبر کو عیسائی صلیب اور سیاہی لیکر مرزا کا منہ کالا کرنے پہنچ گئے لیکن پولیس نے ان کو آگے نہ بڑھنے دیا۔ وہ بار بار للکارتے رہے کہ او کمینے انسان تو اپنے آپ کو ’’کاسر (توڑنے والا) صلیب‘‘ کہتا ہے لیکن آج صلیبی پولیس کی وجہ سے ہی تیرا سر گردن پر ٹکا ہوا ہے۔ آخر وہ مرزا کے دروازہ پر یہ شعر لکھ کر چلے گئے

    ڈھیٹ اور بے شرم بھی ہوتے ہیں دنیا میں مگر
    سب پر سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
    پنجہ آتھم سے ہے مشکل رہائی آپ کی
    توڑ ڈالے گا آتھم نازک کلائی آپ کی

    میں عیسائیوں نے اپنی فتح کے جلوس نکالے۔ وہ گلیوں میں ناچتے تھے اور اسلام اور پیغمبر اسلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ (سراج منیر صفحہ ۱۸)

    اس پیشن گوئی کے غلط ہونے کی وجہ سے مرزا کا سالا مرزا سعید احمد عیسائی ہو گیا اور کئی مرزائی بھی عیسائی ہو گئے۔ (کتاب البریہ صفحہ ۱۰۵)

    اس پیشن گوئی اور اپنے جھوٹے ہونے کے باوجود مرزا لکھتا ہے میں بہت پریشان بیٹھا تھا کہ آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا جو سر سے پاؤں تک لہو لہان تھا۔ اس نے کہا کہ آج آسمان پر سارے فرشتے میری طرح ماتم کر رہے ہیں کہ آج اسلام کا بہت مذاق اڑایا گیا لیکن اس کے باوجود مرزا نے پوری ڈھٹائی سے لکھا جو ہماری فتح کا قائل نہیں اسے ولدالحرام بننے کا شوق ہے۔ (انوارالاسلام صفحہ۱۱)

    بشکریہ سعد کا بلاگ
    http://saadblog.wordpress.com/2009/07/17/qadiani-manazra/

    • For javed
      Hazrat Mhammad (S A W) advise us in his teachings
      Do not abuse anyone (al hadith)

      but no problem this is only for muslims who respect Hazrat Mhammad (S A W) not for you.

  116. [...] ایم کیو ایم قادیانی وٹہ سٹہ ؛ الطاف حسین کا انٹرویو [...]

  117. بھئی جاوید میاں
    میں نے اس ساری بحث کو پڑھ کر ایک حساب لگا لیا ہے تم سب کے لئے ایک الطاف حسین کافی ہے۔

  118. Janaab Javed Gondal sahab : Yeh mirzai apne nabi mirza laanati qadiani ki tarah beghairat, deht,kuttey ki dum ki tarah hain.In se kahen ke yeh seerat-e-mahdi ka english translation kion nahin karawate,in gand bala ke munh na lagen.

    bas teen cheezon bachen: shezan- shaitaan- qadian

    shezan : mirzai/qadiani masnuaat (achaar, chatni, juice waghairah)
    shaitaan: iblees mardood
    qadian : jahan yeh iblees/shataan ka ustaad mirza qadiani laanati paida huwa

    • For fasih
      Hazrat Mhammad (S A W) advise us in his teachings
      Do not abuse anyone (al hadith)

      but no problem this is only for muslims who respect Hazrat Mhammad (S A W) not for you.

  119. mirzaiyon/qadianiyon par ta qayamat laanat aur phitkaar barsaane ke liye ek hi malaoon mardood mirza qadiani laanati hi kaafi hai.

    yeh video dekhen

    mirza ko mare ho gaye sau saal mukammal

    mirzay mardood qadiani ki tasweer dekh kar

    • Astaghfarullah Rabi Min Qule Zabin Watubo Aleh.. I am really scared for these Mulah’s and yourself as to how Allah the Almighty is going to treat you. You are all going to hell. Accept the Imam Mehdi or as the Holy Prophet had said “He who does not recognize the Imam of the time will die a death of ignorance”.

  120. maha ke liye :mirza qadiani laanati kana imam e waqt, jiski donon aakhen band rahti theen tonic wine ki wajah se ?

    • fasih dear this is again for you???????
      Hazrat Mhammad (S A W) advise us in his teachings
      Do not abuse anyone (al hadith)

      but no problem this is only for muslims who respect Hazrat Mhammad (S A W) not for you.

  121. maula bas aur dajjal kazib mirza qadiani laanati ke maan’ne aur chahne walon ke liye:

    http://www.ummatpublication.com/2009/09/14/lead1.html

  122. For All who criticize Ahmadiyya
    watch this youtube and listen what your Khatme nabuwat hero maulana manzoor Ahmad chinoti is saying

  123. jhotey aur laanati mirza qadiani ke jhotey ummati maula bas : video ko bar bar dekho aur batao ke tum mirzaiyon/qadianiyon ko maulana chinioti rahmahullah ne kab musalman kaha hai? aisa lagta hai ke mirza qadiani, laanati, mardood, kazzab, dajjal ke jaraseem tumhare andar kuchh ziada meqdaar mein dakhil ho gayen hain. jhoot kam bola karo.

    • Shetan Ke chelay lagtay ho……direct entry to Hell and the burning fire. No Mullah is going to come to your rescue their. Think for yourself and don’t just folow like a budhu.

    • بھئی فصیح جھوٹ کیا بولنا ہے میں تو صرف تمھارا چہرہ تمھارے نام نہاد علماء کے ذریعہ تمھیں دکھا دیتا ہوں اس میں میرا کیا قصور ہے ۔ یہ علماء کبھی تمھیں کافر کہتے ہیں کبھی مشرک بناتے ہیں کبھی سب سے بڑا کافر اور کبھی احمدیوں کو مسلمان بلکہ مسلمانوں میں بھی سب سے بڑے درجے پر فائز کر تے ہوئے تمھیں شرم دلاتے ہیں کہ تم سے اچھے تو احمدی ہیں۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ۔

  124. badbooo: mirza laanati qadiani mirzaiyon /qadianiyon ko jahannam mein sathh le to jayega par who mardood bhi tum mirzaiyon /qadianiyon ko bachaney nahin ayega,us mardood qadiani ka to khud marne ke baad qadian ke jahannami maqbarey main uska jahannami BBQ ban raha hoga.

  125. I feel so sorry for you and pity. You have been brain washed. It is not your fault. Keep barking……that’s what you have been taught. May Allah guide you to the right path Inshallah.

  126. HUM AHMDI BACHAY HEIN
    KUCH KER KE DIKHA DENGE
    SHETAN KI HAKOOMAT KO
    DUNIA SE MITA DENGE

  127. badbooo: tum mirzai log to khud shaitaan iblees ke ustaad miraza qadiani laanati ki ummat ho tumlogon ne kia karna hai duniya mein sewaye us laanati mirza qadiani ki badboodar bakwaas jaahilon ko suna kar jahannam mein unhen bhi apney saath le jaao. waisey barking ka lafz mirza qadiani kuttey ke saath istamaal karo to ziyada jachta hai.

    • اوہو لگتا ہے کوئی بات زیادہ بری لگ گئی میرا مطلب دل دکھانا نہ تھا معذرت کرتا ہوں ویسے اپنے علماء کو سمجھاؤ کہ سوچ سمجھ کر تقریریں کی کریں۔

  128. وہ عربی میں کیا کہتے ہیں

    والفضل ما شہدت بہ الاعداء
    معذرت کے ساتھ اگر ترجمہ نہ آتاہو تو میں صرف یہ مدد کرسکتا ہوں کہ اپنے کسی نام نہاد عالم سے اس کا مطلب پوچھ لو۔ لیکن زیادہ بہتر ہے کہ اپنے علماء کو سمجھاؤ کہ پہلے سوچا کریں پھر پولا کریں۔ ویسے ہی سٹیچ پر کھڑے ہو کر بولنا نہ شروع کر دیا کرو۔

  129. maula bas:tumhen apni ilmiyat bagharney ki zaoorat nahin jis bahrey ko video ki awaaz sunaaye aur samajh na aatee ho,woh mirza laanati qadiani jaisa hi malkholiye ka mareez hoga, balkey mirza laanati qadiani to tamaam bimaryon ka murakkab thha unmey tumhain kaon kaon si bimaariyan lagi hain yeh tum hi bata sakte ho.

  130. فصیح
    ایک تو یہ بڑا مسئلہ ہے کہ تم برا مان جاتے ہو۔ وہ کیا ہے
    آئینہ دکھایا تو برا مان گئے۔
    ہمت کرو بلکہ شیر بنو شیر۔ مردوں والے کام کرو یہ گالیاں وغیرہ تو کمزور اور بازاری عورتوں کا شیوہ ہے۔ ہمت کرو

  131. tumhara likha huwa to tumharey mirzai bazaari nabi par puraa fit aata hai,jo gaaliyan bhi deta thha aur bazzari aurton ki tarah jumle bhi kahta/likhta thha.

    tumhare mirzai nabi mirza qadiani laeen ke bare mein tumhara kia khiyal hai jo 10 mahiney tak haaamla raha,haamla to aurten hoti hain.mirza kaon si makhlooq thhi………..(kashi e nooh safha 47, mundarja roohani khazaen jild-19, safha-50,az mirza qadiani)

    • چلو اب یہی بات تو گالیاں نکالے بغری بھی تو کر سکتے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی آخر رمضان کے بابرکت مہینے میں تم نے اس قدر گالیاں نکالی ہیں کہ وہ صفدت الشیاطین(رمضان کے مہنے میں شیطان زنجیروں سے جکڑ دئے جاتے ہیں) کا مضمون تم پر صادق آتا ہے۔ اللہ تم پر رحم کرے۔
      watch this clip and relax, anger is harm for your health

  132. ………..(kashti e nooh safha 47, mundarja roohani khazaen jild-19, safha-50,az mirza qadiani)

    Reply

    • فصیح اس کو ضرور انجوائے کرو گے ویسے وہ جاوید گوں دل تو ناراض ہو کر چلا گیا ہے

  133. qadianiyon ke jhutey nabi mirza laanati qadiani ke paidaish ka dilchasp ekhtelaaf

    mirza qadiani kitabul bareya (hashiya) safha 159, roohani khazaen jild-13, safha 117 main likhta hai………..

    (1) meri paidaish 1839 ya 1840 mein sikhon ke aakhri waqt mein hui, aur mein 1857 mein main solaa bars ya strahweh bars mein thha……………

    Seerat-e-mahdi jild-2, safha-15,az mirza bashir ahmed m.a likhta hai………..

    (2) Lekin mirza qadiani ke betey mirza bashir ahmed jo uske sawanah nigaar aur seerat e mahdi ka musannif hai ke pahley nazarye ke mutabiq saal wiladat 1836 ya 1837 ho sakta hai………….

    Seerat-e-mahdi jild-3, safha-76,az mirza bashir ahmed m.a main likhta hai…………

    (3) pas tera farwari 1835 iswee bamutabiq 14 shawwal 1250 hijri baroz jumaa wali tareekh saheeh qarar paati hai……….

    Seerat-e-mahdi jild-3, safha-74,az mirza bashir ahmed m.a main likhta hai……….

    (4)ek takhminey ke mutabiq saal e wiladat 1831 ho sakta hai……….

    Seerat-e-mahdi jild-3, safha-302,az mirza bashir ahmed m.a main likhta hai……….

    (5) meraajuddin ne tareekhe weladat 17 farwari 1832 muqarrar ki hai………

    Seerat-e-mahdi jild-3, safha-194,az mirza bashir ahmed m.a main likhta hai……….

    (6) jabke deegar 1833 ya 1834 ko saal e wiladat qarar de rahen hain………..

    DILCHASP BAAT YEH HAI KE MIRZA LAEEN QADIANI SAN 1831,1832,1833,1834,1835 MIRZA BASHIR M.A AUR MIRZA KI APNI
    KITAAB KE MUTABIQ SAN 1839 YA 1840 MEIN PAIDA HUWAA( WAAAAHHH KIA ANOKHI PAIDAISH HAI KE SAN 1831 SE SAN 1840 TAK MUSALSAL PAIDA HOTA RAHA ULLOOO KAHEEN KA )

    DOOSRI DILCHASP BAAT YEH KE MIRZA BASHIR M.A DUNIYA KA WAHID ANOKHA AUR NALLAYEQ BETA HAI JISNE APNE BAAP KI PAIDAISH KE BAREY MEIN KITNE SAFHAAT KAALEY KIYE HAIN , MIRZAYO / QADIANIYO KAM AZ KAM APNEY MIRZAI NABI KI PAIDAISH KA DIN NA SAHEEH KAM AZ KAM SAN TO DORUST KARWA LETEY.(JAHIL ULLOOOWON KA GOROH)

  134. فصیح بھیا
    ذرا یہ وضاحت بھی کر دینا کہ پیدائش کی تاریخ کےاس اختلاف سے ثابت کیا ہوا۔ دنیا میں ایک لاکھ چوپیس ہزار نبی آئے ہیں تمھیں کتنوں کی اصل تاریخ پیدائش کا علم ذرا 10 کے نام اور ان کی تاریخیں بیان کر دو ممنون ہوں گا۔

  135. GHADHON KI TARAH SALWAL NAHIN KARTE,TUMHARA MIRZAI NABI MIRZA LAANATI TO UNEESWIN SADI MAIN PAIDA HUWA THHA,ULLOO YAHAN TO TAREEKH E PADAISH MEIN EKHTELAAF NAHIN BALKEY YAHAN TO SANO (1831 SE 1840 TAK)MEIN GHAPLA HAI.PAHLE ACHHI TARAH LIKHEY HUWEY KO PARHA KARO PHER JAWAAB DIYA KARO,TUMHAREY MIRZAI MURABBA NE TUMHEN AISEY HI OOT PATANG SAWALAT KARNEY KO SIKHAYA HAI?

    LAGTA HAI MIRZA LAANATI QADIANI KI BOHOT SAARI BEMAARYAN EKATHEY TUM PAR HAMLA AAWER HUI HAIN JIS SE TUMHARA BHI MIRZA KI TARAH DIMAAGH CHAL GAYA HAI,WAISEY HAR MIRZAI HAMEN AISA HI LAGTA HAI.

    WARNA MIRZA QADIANI JAISEY ZEHNI MAREEZ KO NABI/MAHDI/MASSIEH AUR NAJANE KIA KIA NA MANTE.

    • بھئی اللہ نے نبی بنایا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ ہاں تمھاری ذہنی حالت پر افسوس آتا ہے۔ تم کہیں بلڈ پریشر کے مریض تو نہیں ہو۔ پہلے وہ جاوید گوں دل تھا وہ تو کہیں چھپ گیا ہے پھر تلخابہ بے چارا گالیاں نکال نکال کر چلا گیا۔ اب تم بھی بیمار نہ پڑ جانا۔ رحم آتا ہے تم پر

  136. YEH TO MIRZAI KAHTE HAIN KE MIRZA KO ALLAH NE NABI BANAYA,ALLAH KO KAANEY DUR PHITEY MUNH KE ELAWA AUR KOI DUNIYA MEIN INSAAN NAHIN MILA,NABI HAMESHA WAQT KI HASEEN TANREEN SHAKHSIYAT HOYI HAI,MIRZA JISKI TASWEER DEKH KAR USPAR THOOKNEY KA DIL BHI NA CHAHEY,ITNA BADSOORAT SHAKHSH KAM AZ KAM AAJ TAK MAIN NEY APNI ZINDAGI MAIN NAHIN DEKHA.

    TUM FIKR NA KARO KOI KITNA BHI BEMAAR HO JAEY BEEMARYON MAIN MIRZAI NABI MIRZA QADIANI KA MOQABLA NAHI KAR SAKTA HAI,TUM NE USKI KITAAB PARHI HAI JISMEN USNEY LIKHA HAI KE USEY DIN MEIN 100,100 BAR PESHAB AATA THHA, MAIN HAIRAN HO USKO TO TOILET SE FURSAT NAHIN MILTI USKEY FARISHTEY “TECHI” KO KITNI AZIYAT HOTI HOGI,BECHARA TOILET KE BAHAR INTEZAAR KARTA HOGA SAR PEET’TA HOGA KE MIRZAI NABI TOILET SE BAHAR NIKLEY TO SHAITANI WAHI HAWALEY KARKEY SHAITAN KO BATAON.

  137. Jab tak Mukhalafat hoti rahe gi..Tab tak Taraqi hoti rahay gi. Allah has let loose Fasih to bark as Fasih has nothing better to do. We ahmadies should not waste our precious time. Allah khud jawab de ga.

  138. BADBOO :FIKR NA KARO TUM MIRZAIYON KO BHI INSHAALLAH ALLAH (SWT)HI JAWAAB DEGA.BARK KA LAFZ APNE MIZAI NABI MIRZA QADIANI KE LIYE ISTMAAL KARO JAISEY “MIRZA QADIANI KUTTA BHONKTE BHONKTE 26 MAIYEE SAN 1908 KO JAHANNAM WASIL HO GAYA.”

  139. فصیح بھائی : کیوں اپنا ٹائم ضائع کروہے ہوں اس مولیٰ بس پر۔ اس کے تبصروں کا جواب دینا اس لیے ضروی نہیں کیوں کہ اس نے جو تبصرے کیے ہیں ان سے اس نے خود ہی قادیانیت کو ایکسپوز کیا ہے۔ یہ مرزا غلام احمد کا سچا پیروکار لگتا ہے ۔ کیوں کہ اس کی بےہودگی میں غلام احمد قادیانی کی تصویر نظر آرہی ہے۔ پتا ہے اس آدمی کے تبصروں سے ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ بعض سادہ لوح مسلمان جو اب تک قادیانیت کے حوالے اتنے کلیئر نہیں تھے ان کو بھی پتا چل گیا ہے ۔ ان لوگوں میں خود ایم کیو ایم کے بعض کارکنا ن بھی شامل ہیں جنہوں نے مجھے ای میلز کرکے یہ بتایا ہے کہ اس تھریڈ نے ان کی آنکھیں کھول دی ہے۔ اس کو بکواس کرنے دو۔ یہ لکھتا جائے گا ، لکھنے دو۔ میرے خیال جب تک کوئی نئی بات نہیں کی جاتی کسی طرف سے اس وقت تک جواب نہیں دینا چاہیے۔

    • تلخابہ
      السلام علیکم
      میں تو یہ قرآن کا حکم پورا کررہا ہوں کہ جب جاہلوں سے واسطہ پڑے تو قالوا سلاما
      لہذا سلاما سلاما
      الحمد للہ ایک بات تم مان گئے کہ احمدیوں کا مقابلہ اتنا آسان نہیں جتنا تم سمجھے تھے۔ دراصل سچائی طاقت ہی بڑی ہوتی ہے

    • بسم اللہ الرحمن الرحیم
      تلخابہ صاحب
      آپ نے فصیح کو جو نصیحت کی ہے مولیٰ بس کے بارے میں وہ نصیحت دراصل مولی بس کو کرنی چاہئے تھی کہ فصیح نے جو زبان ایک جماعت کے بانی کے بارے میں استعمال کی ہے وہ زبان شریفوں اور نیک لوگوں کی زبان نہیں ہے او ر نہ ہی رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیم ہے کہ کسی بھی مذہب کے بڑے کو گالی دی جائے۔
      مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے بارے میں علماء کی طرف سے یہ غلط فہمی پھیلائی جاتی ہے کہ انہوں نے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل یا ان کے مخالف ہو کر ماموریت کا دعوی کیا ہے۔ لیکن مرزا صاحب کی تحریرات اور کتب اور نظم و نثر دو سری ہی بات بتاتی ہیں۔
      مرزا صاحب فرماتے ہیں
      ربط ہے جان محمد سے میری جاں کو مدام—– دل کو یہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے
      وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا ——- نام اس کا ہے محمد دلبر میرا یہی ہے
      سب پاک ہیں پیمبر ایک دوسرے سے بہتر——- لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے
      ٫٫پھر فرماتے ہیں”دنیا میں ایک رسول آیا تاکہ ان بہروں کو کان بخشے کہ جو نہ صرف آج سے بلکہ صدہا سال سے بہرے ہیں۔ کون اندھا ہے اور کون بہرا؟ وہی جس نے توحید کو قبول نہیں کیا اور نہ اس رسول کو جس نے نئے سرے سے زمین پر توحید کو قائم کیا۔ وہی رسول جس نے وحشیوں کو انسان بنایا اور انسانِ سے بااخلاق انسان یعنی سچّے اور واقعی اخلاق کے مرکز اعتدال پر قائم کیا۔ اور پھر با اخلاق انسان سے باخدا ہونے کے الٰہی رنگ سے رنگین کیا۔ وہی رسول ہاں وہی آفتاب صداقت جس کے قدموں پر ہزاروں مردے شرک اور دہریت اور فسق اور فجور کے جی اُٹھے۔ اور عملی طورپر قیامت کا نمونہ دکھلایا۔ نہ یسوع کی طرح صرف لاف و گزاف۔ جس نے مکّہ میں ظہور فرما کر شرک اور انسان پرستی کی بہت سی تاریکی کو مٹایا۔ ہاں دنیا کا حقیقی نور وہی تھا جس نے دنیا کو تاریکی میں پاکر فی الواقع وہ روشنی عطا کی کہ اندھیری رات کو دن بنادیا۔ اُسکے پہلے دنیا کیا تھی اور پھر اس کے آنے کے بعد کیا ہوئی؟ یہ ایک ایسا سوال نہیں ہے جس کے جواب میں کچھ دقّت ہو۔ اگر ہم بے ایمانی کی راہ اختیار نہ کریں تو ہمارا کانشنس ضرور اس بات کے منوانے کے لئے ہمارا دامن پکڑے گا کہ اُس جناب عالی سے پہلے خدا کی عظمت کو ہرایک ملک کے لوگ بھُول گئے تھے۔ اور اس سچے معبود کی عظمت اور تاروں اور پتھروں اور ستاروں اور درختوں اور حیوانوں اور فانی انسانوں کو دی گئی تھی اور ذلیل مخلوق کو اُس ذوالجلال و قدوس کی جلد پر بٹھایا تھا۔ اور یہ ایک سچا فیصلہ ہے کہ اگر یہ انسان اور حیوان اور درخت اور ستارے درحقیقت خدا ہی تھے جن میں سے ایک یسوع بھی تھا توپھر اس رسول کی کچھ ضرورت نہ تھی لیکن اگر یہ چیزیں خدا نہیں تھیں تو وہ دعویٰ ایک عظیم الشان روشنی اپنے ساتھ رکھتا ہے جو حضرت سیّدنا محمّد صلے اللّٰہ علیہ وسلم نے مکّہ کے پہاڑ پر کیا تھا۔وہ کیا دعوی تھا؟ وہ یہی تھا کہ آپ نے فرمایا۔ کہ خدا نے دنیا کو شرک کی سخت تاریکی میں پاکر اس تاریکی کو مٹانے کے لئے مجھے بھیج دیا۔ یہ صرف دعویٰ نہ تھا بلکہ اُس رسول مقبول نے اس دعویٰ کو پورا کرکے دکھلادیا۔ اگر کسی نبی کی فضیلت اُس کے ان کاموں سے ثابت ہوسکتی ہے جن سے بنی نوع کی سچی ہمدردی سب نبیوں سے بڑ ھ کر ظاہر ہو تو اے سب لوگو ! اُٹھو اور گواہی دو کہ اِس صفت میں محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں …………… اندھے مخلوق پرستوں نے اس بزرگ رسول کو شناخت نہیں کیا جس نے ہزاروں نمونے سچی ہمدردی کے دکھلائے۔ لیکن اب مَیں دیکھتا ہوں کہ وہ وقت پہنچ گیا ہے کہ یہ پاک رسول شناخت کیا جائے۔ چاہو تو میری بات لکھ رکھو کہ ا بکے بعد وہ مُردہ پرستی روز بروز کم ہوگی یہاں تک کہ نابود ہوجائیگی۔ کیا انسان خدا کا مقابلہ کریگا؟ کیا ناچیز قطرہ خدا کے ارادوں کو ردّ کردیگا؟ کیا فانی آدم زاد کے منصوبے الٰہی حکموں کو ذلیل کردینگے؟ اے سننے والو ! سُنو ! اور اے سوچنے والو ! سوچو اور یاد رکھو کہ حق ظاہر ہوگا اور وہ جو سچّا نور ہے چمکے گا۔
      (تبلیغ رسالت جلد ششم صہ ۹)

  140. KHATM-E-NUBUWWAT ZINDABAD

  141. TO Fasih

    who let the dogs out…WHO? WHO? WHO?

  142. MIRZAI :YEH TUM BHONK RAHE HO YA MIRZAI NABI MIRZA QADIANI LAANATI QADIAN KE JAHANNAMI MAQBAREY MEIN BHONK RAHA HAI?????????

    AREY MIRZAI APNA JHOTA NAME HI LIKH DETA (JHOOT/DHOKA/ JO MIRZAIYAT /QADIANIYAT KI BUNIYAD HAI)

    • فصیح اب غصہ نہ کرنا ٹھیک ہے اور اس کو دیکھو

    • ۔ ہم نے جو کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی ہے اس کا کہنا ہے

      گالیان سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو++++رحم ہے جوش میں اور غیض گھٹایا ہم نے

      گالیان سن کر دعا دو پاکے دکھ آرام دو+++++کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار

      اور جن مولویوں کو تم مانتے ہو ان کا شیوہ گالیاں دینا ہے اور جو گالیاں دیتا ہے خدا خود ہی اس سے نبٹ لیتا ہے ۔

  143. MAULA BAS :AGAR TUM MIRZAI QURAN KA HUKM PURA KAR RAHE HOTEY TO MIRZA QADIANI LAANATI PE LAANAT BHEJ KAR SHAITAAN/IBLEES SE INSAAN BAN CHUKEY HOTEY.

    YEH BATAO KE MIRZA LAANATI QADAINI NE AZALA E AUHAAM (HASHIYA)HISSA AWWAL SAFHA-40 MUNDARJA ROOHANI KHAZAEN JILD-3,SAFHA-140 MEI LIKHA HAI KE TEEN SHAHRON KA NAAM EZAZ KE SATHH QURAN SHAREEF MEIN DARJ KIA GAYA HAI, MAKKAH-MADINAH-QADIAN.

    US LAANATI MIRZA QADIANI SE QADIAN MEIN USKI LAANATI JAHNNAMI QABR PAR JAAKAR POOCHHO KE KAON SE QURAN MEIN DARJ HAI.

    WASEY MIRZA QADIANI LAEEN NE MIRZAI TOLON KE LIYE GHELAZAT KI GET’HRI JO USKI LIKHI HUI KITAABON KI SHAKAL MEIN CHO’HR KAR JAHANNAM KA ENDHAN BANNEY GAYA HAI, SACHCHI BAAT HAI KE YEH MIRZAI MURABBEY QAYAMAT TAK USKI/TAWEELEN/BHANEY KARTE KARKE MIRZA QADIANI KE SAATHH DAAKHILE JAHANNAM HO JATE HAIN.

    MAULA BAS : ABHI KAHAN TUM QALOO SALAMAH KAH KAR KIDHAR BHAAG RAHE HO.
    ABHI MIRZA QADIANI KE GHAR KA BHEDI MIRZA BASHIR M.A JISNEY APNE BAAP KO CHURAHE PAR NANGA KIA HAI USKI KITAAB SEERATE MAHDI PA KUCH BAAT KARNI HAI.

    (1) BHAANO (NA MAHRAM THHI)JIS SE MIRZA QADIANI LAEEN SARDI KI RAATON MEIN APNI TANGEY DABWATA THHA.
    (2) ABHI TO MIRZA KE COAT AUR SADRI KE BATAN KI BAATEN KARNI HAI.
    (3) MIRZA KE SAJJEY KHABBE JOOTEY KE BARE MAIN BAAT KARNI,AISA BADHAWAAS MAKHLOOQ JISKI MAAN NE JOOTEY PAR NISHAN LAGA KAR DIYA PHIR BHI US GADHEY PAR KOI ASAR NA HUWA, ULTEY PAIR KA JOOTA SEEDHEY PAIR MEIN AUR SEEDHEY PAIR KA JOOTA ULTEY PAIR MEIN PAHENTA RAHA.
    (4)ABHI MIRZA LAEEN KE RESHMI EZARBAND JIS MEIN CHABIYO KA GUCHCHA BANDHA HOTA AUR CHAN CHAN KI AWWAZ AATI THHI,MIRZA LAEEN KO CHONKEY DIN MEIN 100,100 BAR PESHAAB AATA TO RESHMI EZARBAND KHOLNEY MEIN AASANI HOTI THHI, USPE BAAT KARNI HAI.WAGHAIRA WAGHAIRA

    ABHI KAHAN TUM QALOO SALAMAH KAH KAR KIDHAR BHAAG RAHE HO

  144. TALKHAABA BHAI ASSALAMU ALAIKUM
    MAAZRAT KE SAATH,AAP NE LIKHA HAI KE MAIN APNA TIME ZAYA NA KARON.
    LEKIN YEH MIRZAI/QADIANI APNE MIRZAI NABI MIRZA LAEEN QADIANI KI TARAH DEE’HT, BEHAYA, DOKEY BAAZ, BEGHAIRAT,LAANATIYON KA TOLAA HAI JISKO AYEENA DIKHANA ZAROORI HAI,SHAEED KE INKI APNI DUR PHITEY MUNH SHAKAL AYEENAY MEIN NAZAR AAJAYE.
    JIS TARAH MIRZA QADIANI LAEEN SEEDHE PAIR KA JOOTA ULTEY PAIR MEIN AUR ULTEY PAIR KA JOOTA SEEDHE PAIR MAIN PAHANTA THHA BAWAJOOD NISHAAN LAGANEY KE( USKI MAAN NE DONON JOOTON PE NISHHAN LAGA KAR MIRZA KO DIYA THHA),USEY ULTEY SEEDHEY KI TAMEEZ HI NAHIN THHI, USI TARAH YEH MIRZAI/QAADIANI TOLAA SACH KO JHOOT AUR JHOOT KO SACH SAABIT KARNEY KI NAKAAM KOSHISH KARTE HAIN,INHEN SACH AUR JHOOT KI TAMEEZ HI NAHI HAI, BADHAWAAS HAIN APNE MIRZAI NABI MIRZA QADIANI LAANATI KI TARAH.
    WAISEY AAP NEY EK BAAT NOTE KI HOGI KE MIRZAIYON KI SHAKAL PE ITNI PHITKAAR,NAHUSAT AUR LAANAT KION BARASTI HAI,AAP MIRZAIYON KE KISI BHI JALSA E SALANA KI TASWEER YA VIDEO DEKH LEN,EK SE BARH KAR EK PHITKAAR/NAHUSAT ZADA CHEHREY AAPKO NAZAR AAYENGEN,JISKO DEKH KAR KARAHIYAT HOTI HAI.

    WAISEY IN HI KA JOOTA IN KE SAR, MIRZA QADIANI/MIRZAIYON/KI KITAABON KE HAWALE SE IN SE BAAT KARNI HAI. .

  145. [...] کی کچھ اعلیٰ ظرفیوں اور دل نشیں زبان کا مظاہرہ آپ یہاں اور یہاں تبصرہ جات میں بھی دیکھ سکتے [...]

  146. فصیح اور تلخابہ کیا حال ہے لگتا ہے ٹھنڈے پڑ گئے ہو کہ ایک دوسرے کے ساتھ اب گفتگو شروع کر دی ہے کہ ان کے ساتھ بات کرنا وقت ضائع کرنا ہے۔
    مجھے بار بار ایک سوال پوچھنے کا خیال آ رہا تھا
    مولانا منظور احمد چنیوٹی عظیم ترین مجاہد ختم نبوت اپنے خیال میں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جب کہ خدا کے ہاں جانے سے قبل وہ فرما گئے کہ اس ویڈیو کو سن لئجیے تو کیا اب وہ کافر ٹھہرے

  147. MAULA BAS ANDHEY, BAHREY AUR ZAHNI MAAZOOR MIRZAI :TUM AGAR APNE MIRZAI NABI MIRZA QADIANI KI TARAH ANDHEY KAANEY AUR BAHRE HO TO KAM SE KAM YEH VIDEO DEKHTE AUR SUNTE WAQT HEARING AID APNE KANOON MEIN AUR COMPUTER KI AWAAZ KO ZARA OONCHAA KAR LIYA KARO YA AGAR KOI EK AADH MIRZAI TUMHAARE AAS PAAS ANDHA AUR BAHRA HONE SE BACH GAYA HO TO OSEY KAHNA WOH TUMHARI MADAD KARDEY AUR YEH VIDEO SUNKAR TUMHEY SAMJHA DE.
    HADHRAT MAULANA MANZOOR AHMED CHINIOTI RAHMAHULLAH PAR APNI RAHMATEN NAZIL FARMAYE AUR UNKI QABR KO NOOR SE MAUNAWWAR FARMAAYE.
    AUR MUNKAREEN E KHATM E NUBUWWAT KA MUNH KAALA FARMAAYE.

    VIDEO KE AAKHIR MIRZAIYAT KO KUFR KAHA HAI.SAMJHE BAHREY, KAANEY NABI MIRZA KI UMMATI.

    PATA NAHI TUM NE SALAMAN GILANI WALI VIDEO DEKHI KE NAHIN,AB KUCH MIRZA LAEEN KE LIYE:

    YEH SHER MUJHEY BOHOT PASAND HAI

    KHATM E NUBUWWAT PAR TU NE DAKA DAALA
    KHAA KE FARANGI MAAL TERE KIA KAHNEY HAIN.

  148. To Mola Bas

    I request you to leave this blog and let the dogs bark. Khudi Bohnk bohnk ker thak jaen ge. I request all the ahmedies not to waste time here anymore. these people are just jealous that we are spreading by the grace of Allah and they can’t do jack to stop us because Allah is with us.

  149. MUFTI AZAM KA POTA AUR KHATM E NUBUWWAT

    http://www.alqalamonline.com/naveed.htm

  150. السلام علیکم

    میں اس مضمون میں صرف یہ اضافہ کروں گا کہ قادیانی خود پاکستان کے خلاف منصوبوں میں کام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم پھر بھی ان کا خیال رکھیں ایسا نہیں ہوسکتا۔

    حال ہی میں ایک اسرائیلی مصنف نے خود ان کا پول کھولا ہے کہ یہ لوگ اسرائیل میں بیٹھ کر موسادیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

    دوسرا اسلام کے ساتھ ان کا کوئی لین دین نہیں۔ الطاف حسین نے جو باتیں کی ہیں وہ چنداں اہمیت نہیں رکھتیں کہ یہ صاحب یوں ہی اول فول کہتے رہتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو اپنے آپ کو محب وطن ثابت کرتا ہوں اور 19 سال سے خود ساختہ جلا وطنی گزارتا ہوں اس کے کیا کہنے ۔۔۔ باطل ہے جتنا مرزی اپنے آپ کو چمکا لے۔

    خدا ان سے سے بدلہ لے جو اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ جس طرح یہ ان دونوں چیزوں میں خومخواہ ٹانگیں اڑاتے ہیں خدا انکی زندگی میں سنگ وخار بچھادے۔ آمین۔

  151. تلخابہ ۔ جاوید گوں دل۔ فصیح
    آپ کی خدمت میں ایک ویڈیو پیش ہے اس سے ایک تو تمھاری اسمبلی کا حال پتہ چلتا ہے دوسرے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں مسلمان کتنے رہ گئے ہیں کیونکہ بلور صاحب نےتمام لوگوں کو ربوہ والوں کے ساتھ ملا دیا ہے

  152. MIRZA NAANATI QADIANI KE UMMATIYON KE LIYE:

  153. فصیح
    چھوڑو بھئی اگر بلور صاحب کا کوئی جواب ہے تو دو ورنہ کیا بے ہودہ حرکتوں میں وقت ضائع کر رہے ہو
    کم از کم بلور صاحب جو کہ وفاقی اسمبلی میں وزیر ریلوے ہیں وہ تو تمھیں بھی قادیانی قرار دے رہے ہیں۔ اب اپنا یا اپنی والدہ محترمہ کا نکاح دوبارہ کرواؤ ورنہ دوسرا کام کر ہے ہو۔

  154. MAULA BAS: TUM YAQINAN GAMAY KAANEY , MIRZA QADIANI JAHANNAM MAKAANI LAANATI KI TAHAR ZEHNI MAREEZ HO, JAISA MIRZA LAANATI QADIANI OOT PATANG BAKNEY MEIN APNI MISAAL AAP THHA , TUM WAAQEY MIRZA LAANATI QADIANI KE PAKKEY LAANATI UMMATI HO.
    TUMHARE MIRZAI NABI MIRZA JAHANNAMI QADIANI KA NIKAAH (MUHAMMADI BEGUM ) JISEY WO AASMANI NIKAAH KAHATA WO TO USKEY JAHANNAMI QABR MEIN JAANEY TAK NAHI HO SAKA PAHLE TO TUM MIRZAI USKA QAYAAMAT TAK MAATAM KARO, WOH MIRZA QADIANI LAANATI KUTTA TO MAR GAYA AASHIQE-NA-MURAAD…….. LAANATI MIRZA QADIANI. USKO ROWO USKA MAATAM KARO PHER KISI KI FIKR KARNA SAMJHEY MIRZAI.

  155. فصیح
    تمھاری زبان سن کر لگتا ہے کہ میں کسی نہایت کم درجے کے گندی زبان استعمال کرنے والے بیمار ذہن کے مالک ہو۔ مگر کیا کریں وہ تمھارے اسمبلی کے ممبر وزیر صاحب نے تم سب کے نکال فسخ کروا دئے ہیں انکو ری نیو کرواؤ پھر بات کریں گے ورنہ ساری عمر زنا ہی کرتے پھرو گے

  156. MIRZA QADIANI KE UMMATI MAULA BAS:DOBARA NIKAAH KI ZAROORAT USWAQT PARTI HAI JAB TUM MIRAZIYON KO KOI MURTID, KAAFIR NA SANJHEY MUSALMAN SAMJHEY,MIRZAIYON KE KUFR MEIN KOI SHAK KAREY YA TUM MIRZAIYON MURDAAR KE JANAAZEY MEIN SHAREEK HO JAYE.

    ZANA KAARI KE BAARE MEIN MAZEED MALOOMAT HAASIL KARNA HAI TO, MIRZA QADIANI LAANATI KE BETE MIRZA BASHIRUDDIN MAHMOOD AUR QADIAN KE MIRZAI QASRE NUBUWWAT KE HALAAT PARHO ZANA KAARI KI BOHOT SAARI QISMON KE BAARE MEIN MAALOOMAT HO JAYE GI.

  157. فصییح
    ایک تو تمھاری گندی عادت یہ ہے کہ غصے میں آجاتے ہو۔ اور معلوم نہیں اس غصے میں تم گھرپر ماں اور بیوی اور بہن سے کیا سلوک کر جاتے ہو گے۔ ویسے تم نے بڑی پتے کی بات کہ نکا ح کی اس وقت ضرورت پڑتی ہے جب ہمیں کوئی مسلمان سمجھے تو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب کے بارے میں کیا خیال ہے کیا ان کے نکاح حرام ہوگیا ہے؟ کیا ان کا بیٹا الیاس چنیوٹی ایم پی اے چنیوٹ ناجائز اولاد ہو گیا۔ ذرا آہستہ بولو وہ سن لے گا۔ لیکن تم یہ ویڈیو سن لو ۔ ویسے پہلے بھی سن چکے ہو ۔

    اور غصہ نہیں کرنا

  158. TUM MIRZA LAANATI QADIANI, MIRRAQI, ZAHNI MAREEZ KI TARAH BAHKI BAHKI OUR OOT PATANG BAATEN KARNEY LAG GAYE HO.

    YEH VIDEO DEKHO:

  159. YEH VIDEO BHI DEKHO:

  160. فصیح بیٹا
    یہ تو میں نے دیکھ لیں اب میری بھیجی ہوئی ویڈیو کا جواب دو۔ ورنہ دوبارہ نکاح کرو ورنہ ناجائز کہلاؤ گے۔

  161. MAULA BAS :TUM MIRZAI / QADIANI DAJAL, DHOKE BAZI, JHOOT, MAKR O FAREB AUR BEGHAIRTI MEIN MIRZA LAANATI MARDOOD JAHANNAMI BEGHAIRAT SE KISI SURAT KAM NAHIN HO.

    PAHLI VIDEO PURI DEKHO JISEY TUM MIRZAI DHOKEY BAAZON NE EDIT KARKEY POST KIYA HAI.

    AB TEESRI VIDEO BHI DEKHO:

  162. فصیح بیٹا
    میرے سوال کا جواب اب بھی نہیں آیا۔ کیا منظور چنیوٹی کا نکاح فسخ ہوگیا کیونکہ اس نے تو حد کر دی قادیانیوں کے بارے میں۔ اب تمھارا فرض ہے کہ تمھارے مولوی کا بھی دوبارہ نکاح ہو اور تمھاری والدہ کابھی دوبارہ نکاح ہو۔ اور تمھیں علم ہے جو بغیر نکاح کے پیدا ہو وہ
    ناجائز
    اور
    حرامی
    کہلاتا ہے۔
    جلدی سے نکاح کروا کے آؤ پھر بات کریں گے۔

  163. ASHIQ E NAMURAAD AUR KHINZEER E QADIAN MIRZA QADIANI DAJJAL KE AASMANI NIKAAH KA KIA BANA?????????

  164. فصیح
    غصہ کرنے سے نکاح تو نہیں ہو جائے گا۔ چلو جلدی سے والدہ صاحبہ کا نکاح کروا کر آو پھر بات کرتے ہیں

  165. DAJJAL E QADIAN, KHINZEER E QADIAN, QADIAN KE JAHANNAMI MAQBARE MEIN HAAYE MUHAMMADI BEGUM HAAYE MUHAMMADI BEGUM CHEEKH RAHA HOGA,PEHLE BATAO US KAANEY MURDAAR MARDOOD KE NIKAAH KA KIA BANA.

    AB HADHRAT MAULANA MANZOOR AHMED CHINIOTI RAHMAHULLAH KI…….RADDE MIRZAIYAT/QADIANIYAT PAR
    CHAUTHI VIDEO DEKHO

  166. ویسے مجھے ایک خوشی ہے کہ کم از کم تمھیں اپنی والدہ اور مولوی چنیوٹی کے نکاح کے بارے میں سنجیدہ ہونا پڑا ۔ چلو نکاح کروا کر اب اطلاع کروا دو۔ ویسے جو ویڈیو بھیجے ہیں کیا مولوی نے قبر سے نکل کر اپنا نکاح کروانے کا اعلان کیا ہے
    جلدی اطلاع کرو

  167. TUMHARA MIRZAI LAANATI KHINZEER E QADIAN DAJJAL KAALE KUTTEY NE KIA JAHANNAMI QABR SE NIKAL KAR BHONKNA SHURU KAR DIA KIA?

    SHAHR E SODOOM (QADIAN) SE KOI KHABAR AAYE HAI KIA?

  168. فصیح تمھیں معلوم ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سب سے زیادہ گالیاں ابو لہب اور ابو جہل دیا کرتے تھے۔ تم جو بھی کر لو ان سے آگے تو نہیں نکل سکتے۔ ویسے کوشش میں کوئی حرج نہیں ہے۔
    بس صرف والدہ محترمہ اور باجی جان کا نکاح ضرور کروا لینا کیونکہ وہ فسخ ہو چکا ہے

  169. TUMHARA MIRZAY LAANATI KE BAARE MEIN KIA KHIYAAL HAI, WOH MIRZA QADIANI LAANATI THHA IBLEES KA USTAAD THHA ? GAALIYAN AUR LAANAT MALAMAT KARNE MAIN. MIRZA MARDOOD QADIANI LAANATI IBLEES SE BARA IBLEES AAJ TAK KOI PAIDA NAHIN HUWA AUR SHAED QAYAAMAT NA HI KOI PAIDA HOGA.USKI KITAABE SUN/PARH KAR IBLEES BHI SHARM SE SAR JHUKA LETA HOGA.

    WAISEY EK BAAT, US MIRZA QADAINI SUAR KHINZEER E QADIAN KO JAHANNAMI QABR SE NIKALNE SE ROKNA WARNA SHAHR E SODOOM (QADIAN) MEIN US MARDOOD KE NIKALNE SE SWINE FLU KA KHATRAH ZIADA BARH JAYE GA, WAISEY HI WOH LAANATI HAZAARO BIMAARYAN SAATH LEKAR JAHANNAM WAASIL HUA HAI.

  170. فصیح کیا تمھاری والدہ ماجدہ کا
    کیا نکاح ہو گیا؟

  171. IMRAAZE KHABEESA KA CHAMPION KHINZEER E QADIAN MIRZA SUAR LAEEN QADIANI APNE JAHANNAMI QABR SE NIKAL PARA HAI KIA ? ZARA KHIYAL KARNA SWINE FLU KA.

  172. فصیح کیا تمھاری والدہ ماجدہ کا
    کیا نکاح ہو گیا؟

  173. IMRAAZE KHABEESA KE CHAMPION KHINZEER E QADIAN MIRZA QADIANI MALAOON KO LATRIN YA BAITUL KHULAA KA SHAHZADA BHI KAHA JA SAKTA HAI JISE DIN MEIN 100, 100 BAR PESHAAB AATA THHA, AGAR KOI HESAAB LAGAYE KE RESHMI GHARAREY KE RESHMI AZARBAND KHOLNE PHER FAARIGH HONE MEIN AGAR KAM AZ KAM 10 MINUTE LAGAYEN (IMRAAZE KHABEESA KI WAJAH SE ) TO 100*10=1000 MINUTES, TO YEH KHINZEER E QADIAN SHAZADA E BAITUL KHULAA MIRZA LAEEN QADIANI TO DIN BHAR MEIN 16,17 GHANTE TO LATRINE PAR QABZA JAMA KAR RAHTA THA, AB BATAO YEH MIRZAI NABI HAI YA SAHZADA E BAITUL KHULA ?

  174. SEERAT E MAHDI JILD-3,SAFHA-110 AZ MIRZA BASHIR AHMED M.A IBNE MIRZA QADIANI YANI DAJJAL IBNE DAJJAL NE RESHMI AZARBAND KE FAWAED KE BAARE MEIN LIKHA HAI JISKA KHOLASA YEH HAI KE MIRZA QADIANI KO PESHAAB KASRAT SE AUR JALDI JALDI AATA THHA TO AISEY AZARBAND KE KHOLNE MEIN ASAANI HOTI THHI.

  175. فصیح تمھاری والدہ کا نکاح ہوا یا نہیں
    یہ لو اپنے مولویوں کے کرتوتوں کی ایک اور ویڈیو دیکھو

  176. YEH PAANCHWIN VIDEO DEKHO:
    MIRZA PALEED QADIANI MIRZAI CHAUTHA LAANATI KHALIFA KA JHOOT:

  177. MIIRZA LAANATI QADIANI KI EK BIWI JISEY AAM LOG PHAJJEY DI MAAN KAHTE THHEY
    MIRZA KE BETE MIRZA FAZAL AHMED KI MAA JIS SE MIRZA LAANATI QADIANI KO BE RAQBATI THHI ,AUR MIRZA QADIANI NE US SE MUBASHRAT TARK KAR DI THHI.
    (SEERAT E MAHDI JILD-1, SAFHA-33, MIRZA BASHIR AHMED M.A) (GHAR KA BHEDI)

    PHAJJEY DI MAA KA BETA MIRZA FAZAL AHMED NE MIRZA QADIANI KI MIRZAI NUBUWWAT KO TASLEEM KARNE SE INKAAR KAR DIYA THHA, AB BATAO KE MIRZA LAANTI QADIANI KE MUTABIQ TO PHAJJEY DI MAA KANJRI AUR USKA BETA TO HARAMI HUA.

  178. u jealous people r faaar away from ahamdiya power.u urself cant convince ur own people how u can fight with billions of ahmadiz around the world.ye khuda ki jamat hai or koi bimaar mulas jesa k tum sab ho unka raasta na rok saka hai or na hi rok sake ga.tum jalte raho sarte raho.tumhari okaat hi kya hai apne bachon ko bahir bhej ker perhate ho.logon k bachon ko marwate ho jihad k naam per.

  179. MIRZA PALEED QADIANI MIRZAIYON KA CHAUTHA KAHLIFA KI TARAH JHOOT KA EK AUR MIRZAI CHARGHA PAIDA HOWA YA MAULA BAS HI NAAM BADAL KAR AAGAYA HAI.

    MIRZA PALEED QADIANI KE DAAWON KE MUTABIQ JIS RAFTAAR SE WOH KHABEES DAJJAL LAANATI KARORO MIRZAIYON KI BAIT KI BAKWAAS KARATA THHA WOH LAANATI AGAR CHNAD SAAL AUR ZINDA HOTAA TO CHAND SALON MEIN KISI AUR SAYYAREY SE INSAANO KO BOLA KAR ZAMEEN PAR ABAAD KARNA HOTA IS LIYE KE MIRZAIYON KI TAADAD ARBO KHARBO TAK POHOCH JAATI, MIRZAIYO JHOOT KI BHI EK HAD HOTI TUM LAANATIYON NE WOH HAD BHI PHALANG DAALI HAI. BILLION KI TAADAD ZARA CHOTI PAR RAHI HAI TRILLION YA IS SE UPAR MIRZAIYON KI TADAAD BATAO, JHOTE, MAKKAR, DHOKEY BAAZ BESHARM, BEHAYA, BEGHAIRAT LAANATI MIRZAIYO.

  180. PAIDA HUWA JAB MIRZA QADIANI TO IBLEES NE KAHA
    LO AAJ HAM BHI SAHEB E AULAAD HO GAYE;

  181. MIRZA LAANATI QADIANI KI EK BIWI JISEY AAM LOG PHAJJEY DI MAAN KAHTE THHEY
    MIRZA KE BETE MIRZA FAZAL AHMED KI MAA JIS SE MIRZA LAANATI QADIANI KO BE RAQBATI THHI ,AUR MIRZA QADIANI NE US SE MUBASHRAT TARK KAR DI THHI.
    (SEERAT E MAHDI JILD-1, SAFHA-33, MIRZA BASHIR AHMED M.A) (GHAR KA BHEDI)

    PHAJJEY DI MAA KA BETA MIRZA FAZAL AHMED NE MIRZA QADIANI KI MIRZAI NUBUWWAT KO TASLEEM KARNE SE INKAAR KAR DIYA THHA, MIRZA LAANTI QADIANI KE MUTABIQ PHAJJEY DI MAA AUR USKA BETA KIA BANEY ????

    MIRZA LAANATI KI BIWI PHAJJEY DI MAA KANJRI AUR USKA BETA HARAAMI .

    ALLAH (SWT) NE MIRZA QADIANI MARDOOD KA THHU KIA HUWA USI LAANATI KE MUNH PAR WAAPAS PHENK DIYA, ALLAH (SWT) KI SHAAN HAI DOOSRON KO KANJRI JANGAL KA SUAR, HARAMI KAHNE WALE KE GHAR QADIAN KE MIRZAI QASRE NUBUWWAT MEIN HI PAIDA KAR DIYA. (SUBHAAN ALLAH)

    ALLAH (SWT) KISI KO ISEE TARAH ZALEEN O KHUAR KARTA HAI.

  182. Laanat ho esi siyasat pr

  183. Aslam O Alikum!

    Dear All i read few comments from different peoples. Just to advise you that we do have a holy book with us that can guide us, just open that book and read it rather than to read books of Ullmaah and other scholars. And we should seek guidance from the Sunnah, that what our Prophet SAW did. So if we are doing the same we can claim to be the true followers and muslims and if we are not following his Sunnah but following the preaches and tactics of Abu Jehal and other people (we are reading all about from the class one in our Islamic Books). If you know that what pople did with Hazrat Muhammad SAW and how he replied to them and how he suffered all the evils of those people and alwasy pray for them and we know how they stop him to practice the Islamic principles you must understand who is right and who is wrong. with respect to the concerned that who is on the right Islam and who is not, only our almighty Allah can judge this. We don’ t have the right to say anything. and you can see the defination of muslam in Quran, so why you are not following that defination, why do you need to create your own definations. why??? it means that Almighty Allah don’t know about whats going on know??? you must know what we are and what we are following and preaching???
    Please read Holy Quran and try to find out yourself the right Path and in the End Just
    Pray to Almighty Allah for the Right Path… My prayers are with all who are participating in the discussion that Almighty Allah guide them to the right path which is actually going towards him.
    Aslam O Alikum WA Rahmatulah Wa Barakathoo . Allah Hafiz

  184. YEH MIRZAI MANHOOS SURAT WALA BEGHAIRAT KIS DEHTAAI SE MIRZA LAANAI QADIANI KO ALAIHIS SALAM KAH KAR KIS BESHARMI SE KAH RAHA HAI MIRZA LAEEN QADIANI NE AASHIQE RASOOL (SAW), KI JAMAT TAYYAR KI HAI.

    US MIRZA LAANATI NE TO JAHANNAM KO JALD AZ JALD BHARNE KE LIYE MUNAFIQON AUR ZINDIQON KI JAMAAT MIRZAIYON KI SHAKAL MEIN TAYYAR KAR CHORIH HAI.

    WOH MIRZA LAANAT QADIANI LAANATI PARLE DARJE KA JHOOTA, MAKKAR, DHOKEBAAZ JISKI KAMEENGEE AAKHRI HAD KO PAR KAR GAYE THHI, TUM LOG US BAHRUPEYE KO INSAAN TO SAABIT KARO BADBAKHT LAANATI KABHI MARYAM/ESSA/MASSIEH/MAHDI BAN JATA, KABHI USEY AURTON KI TARAH HAIZ SHURU HO JATA HAI, KHABI WOH LAANATI ALLAH (SWT) KI TARAF AISY SHARMNAAK,GHATIYA BAAT MANSOOB KARTA HAI KE DUNIYA MEIN AAJ TAK US LAANATI MARDOOD IBLEES KI AULAAD MIRZA QADIANI LAEEN KE SEWA KISI NE NAHIN KAHI.

    KISI NE SAHI KAHA HAI:

    PAIDA HUWA MIRZA QADIANI TO IBLEES NE KAHA ..
    LO AJJ HAM BHI SAHEB E AULAAD HO GAYE

  185. والسلام علی من اتبع الھدی
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں
    گالیان سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو
    رحم ہے جوش میں اور غیض گھٹایا ہم نے

    فصیح اللہ تعالی تم پر رحم کرے

  186. LAGTA HAI TUM NE US KAANE LULLEH MIRZAI MASSIEH AUR MIRZAI PESHAABI NABI KI KITAABEN NAHIN PARHI HAIN JIS MEIN US LAANATI NE RAJJ KE MUSALMAANO KO GALIYAN DI HAIN US LAANATI , KHABEES , MALAOON NE AMBIYA (AS), SAHABA (RA), AULIYA, ULAMAA SAB KI TAUHEEN KI HAI , US LAANATI KI ZAHREELI ZABAAN AUR QALAM SE BATAO KAON MAHFOOZ RAHA. US MARDOOD LAANATI KI KITAABEN PARHO, MIRZA LAANATI KI GALIYON KA KUCH’H NAMOONA DEKHNA HAI TO US BADBAKHT LAANATI MARDOOD KI KITAABEN EJAAZE AHMADI , ANJAAM E ATHAM, QADIAN KE AARYAA AUR HAM PARHO, PATA NAHIN LAANATI KIS NASL KA THHA ??????????????KISI MIRZAI MURABBE SE POOCH’H LENA.

    • فصیح یہ اقتباس پڑھ لو اور شرم سے ڈوب مرو
      مرزا غلام احمد قادیانی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرماتے ہیں
      ”میں ہمیشہ تعجب کی نظرسے دیکھتا ہوں کہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزارہزاردرود اور سلام اس پر )یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے اس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہو سکتااور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں ،افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے بجز اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جودوبارہ اس کو دنیامیں لایا۔اس نے خداسے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی