بلیک واٹر سے ڈرنے والی قوم کی ‘بہادر‘ بیٹیاں کسے کالوں پر گر رہی ہیں. شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
سبسکرائب
Pages
ٹویٹ
- @taslimanasreen Yup! Not like the minority like u think. Every speech has some limitstweeted1 month ago
- Altaf Hussain’s Letter: MQM’s Own Website Proves It Wrong http://t.co/oDVQtcQtweeted5 months ago
- MQM: A shame for the people of Karachi! http://t.co/fbdWjVhtweeted6 months ago
- The Creation of Perception/ Mind Playing http://t.co/S8ofyLftweeted6 months ago
- MQM’s Terrorists in ‘Command and Control’? http://t.co/WdKjf4Htweeted6 months ago
Recent Comments
| عمرفاروق on کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر… | |
| Atif Salman on کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر… | |
| Ellis Ketterer on ایم کیو ایم قادیانی وٹہ سٹہ ؛ … | |
| Kindle Fire on ایم کیو ایم قادیانی وٹہ سٹہ ؛ … | |
| راہنورد شوق on میرے شہر کے بچوں کے ہاتھ میں… | |
| راہنورد شوق on جوتے کی سیلف رسپیکٹ | |
| راہنورد شوق on ‘ناپاکستان‘ | |
| راہنورد شوق on بلیک واٹر سے ڈرنے والی قوم کی … | |
| راہنورد شوق on اے این پی کے ہاتھوں پختون… | |
| Kashif Naseer on کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر… |
Top Posts & Pages
Top Rated
Archives
- December 2010
- November 2010
- October 2010
- September 2010
- August 2010
- July 2010
- June 2010
- April 2010
- March 2010
- February 2010
- January 2010
- December 2009
- November 2009
- October 2009
- September 2009
- August 2009
Blogroll
- kashif Naseer
- قدیر احمد
- منظر نامہ
- میرا پاکستان
- نعمان کی ڈائری
- یاسر عمران مرزا
- کاشفیات
- ھیدرآبادی( بھارت)۔
- افتخار احمد بھوپال
- ابوشامل
- اردو بلاگز
- اردو سیارہ
- اردو سیارہ
- بدتمیز
- جلال نورزئی
Visitors

بلیک واٹر سے ڈرنے والی قوم کی ‘بہادر‘ بیٹیاں
In پاکستان on February 1, 2010 by ابو سعد
6 Responses to “بلیک واٹر سے ڈرنے والی قوم کی ‘بہادر‘ بیٹیاں”
Leave a Reply Cancel reply
View more by category: پاکستان (92), دہشت گردی (28), Uncategorized (13), فوج (13), حقوق انسانی (8), بین الاقوامی تعلقات (7), میڈیا (5), طالبان (3), مذہب (3), سوات (2). .










کڑوا سچ۔۔۔
Inko Kisi Ne Bataya hai ka kalon kai pass ko hota hai. Yeh Salian Randian Hai, Balkeh Randia Achi hoti hein , Kam Azm Kam Jism Bechti hai, Inki Tarah Zameer aur Jisim DOno Tu Nahen
یہ آزادی اظہار کی روایت ہے بھیا
روشن خیالی و اعتدال پسندی شاید اسے ہی کہتے ہیں۔
کس کس کو روئيں ؟
ویسے عنوان سے یوں لگا کہ جیسے بنیادی اعتراض ان مردوں کے کالے ہونے پر ہے. گویا گورے ہوتے تو شاید پھر بھی گوارا ہوتے. افسوس کہ ہم بلال حبشی کی ثناء گاتے اور گورے کو کالے پر اور عربی کو عجمی پر فوقیت نہ ہونے کا راگ الاپتے نہیں تھکتے مگر عملی طور پر، نسل پرستی ہمارے معاشرتی خمیر کا غیر محسوس حصہ ہے جو ان تصاویر پر عنوان لگاتے ہوۓ کھل کر سامنے آ گیا ہے. اسی طرح ایک خاتون کے حجاب پوش ہونے کو ان کی پارسائی کا نشان قرار دیا گیا ہے. اور دوسری خواتین کم و بیش ویسی ہی حالت میں ہونے کے باوجود ننگے سر کی وجہ سے گردن زدنی ٹھیریں. سبحان اللہ! جو چاہے آپ کا..