Articles

سعودی فرمان رواشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کےنام کھلا خط

In پاکستان on ستمبر 2, 2009 by ابو سعد Tagged:

جناب عزت ماب شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز ‘ فرمان روا سعودی عرب!آپ ایک ایسےملک Shahکےفرمان روا ہیں جہاں دنیا بھر کےمسلمانوں کا مرکز کعب اللہ ہی۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں کی زیارت کرنا اور وہاں جانےکا فریضہ ادا کرنےکی ہر مسلمان کہ خواہش ہوتی ہے۔ پاکستان کےبننے کےوقت سےاس کےسعودی عرب کےساتھ مثالی تعلقات رہےہیں۔سابق سعودی فرمان روا شاہ فیصل نےسابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست پرروزگار کےلیےسعودی عرب جانےکے لیےبڑی تعداد میں پاکستانیوں کو ویزےجاری کیےاور یہ سلسلہ تاحال جاری ہی۔ آج بھی پاکستانی زرمبادلہ کا بڑا حصہ سعودی عرب سےآتا ہے۔ سعودی عرب میں موجود پاکستانی پیسہ پاکستان بھیجتےہیں اور اسی طرح یہ ملکی معیشت کی بہتری کا سبب بنتا ہے۔ خود میرےصوبہ(سرحد) جو ایک پسماندہ صوبہ ہےکا کوئی خاندان ایسا نہیں ہوگا جس کےایک یا اس سےزائد افراد سعودی عرب میں روزگار کےسلسلےمیں مقیم نہیں ہوںگے۔ پاکستان پر آنے والی ناگہانی آفات ہوں یا حکمرانوں کےتخلیق کردہ معاشی بحران‘آخر کس موقع پر سعودی عرب نے پاکستانیوں کی مدد نہیں کی۔اکتوبر2005ءکےزلزلےمیں آپ نےپاکستان کی بھر پور مالی مدد کی۔ اس کےعلاوہ پیٹرول کی ریاعتی نرخوں پر فراہمی اور واجب الادا رقوم کی ادائیگی میں رعایت آخر کس کو معلوم نہیں۔
یکم ستمبر کےروزنامہ جنگ میں آپ کا یہ بیان پڑھاکہ” سعودی عرب پاکستانی عوام کی خوشحالی اورخطےمیں امن واستحکام کےلیے کوششیں جاری رکھےگا۔“سعودی عرب نےبلاشبہ پاکستانی عوام کی خوشحالی کا خیال رکھا ہےاور مستقبل میں اسےجاری رکھنےکا آپ کا عزم باہمی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ اور آپ کےملک سےمحبت نہ صرف ہم پر واجب ہےبلکہ یہ اُمت مسلمہ کی یکجہتی کاتقاضا بھی۔ یکم ستمبر کو ہی روزنامہ جنگ میںطاہر خلیل کی درج ذیل خبر پاکستانیوں کے لیےاطمینان کا باعث بنی جو رحمن ملک کےبعد پرویز مشرف اور شہباز شریف کی سعودی عرب آمد کی خبروں سےبےچین ہورہےتھے۔ طاہر خلیل نےباخبر ذرائع کے حوالے سےخبر دی تھی کہ” سعودی قیادت نےوزیر داخلہ کےذریعےپاکستانی قیادت کو پیغام دیا ہےکہ پاکستانی سیاست میں سعودی عرب کو ملوث نہ کیا جائے، سعودی عرب پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا“
لیکن دو ستمبر کےپاکستانی اخبارات میں یہ خبر کہ ”سعودی فرمان رواں پرویز مشرف کو بچانےکےلیےمیدان میںنکل آئیں “ان پاکستانیوں پر بجلی بن کر گری جو گزشتہ کچھ عرصہ سےاس قومی مجرم کےٹرائل کی آس لگائےبیٹھےتھے۔ پرویز مشرف پر الزامات کی تفصیل یقینا آپ کےعلم میں ہوگی‘ تاہم‘ ہم اسےایک دفعہ پھر درج کررہے ہیں ۔ پرویز مشرف نے 1999ءمیں ایک عوامی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنےکےبعد عوامی رضا کے برعکس امریکی پاکستان کو امریکی جنگ کا حصہ بنایا اورملک میں دہشت کی ایسی فصل بودی جو آج پورے اب وتاب کےساتھ لہلہا رہی ہے۔ جس ملک میں دھماکہ کی خبر کبھی برسوں میں نہیں ملتی تھی اب وہاں دھماکہ اور خود کش حملےکی خبر خبر ہی نہیں رہی بلکہ معمول بن چکا ہی۔ پرویز مشرف کا دوسرا بڑا جرم امریکی جنگ کا حصہ بننے کے بعد بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو امریکا کےہاتھوں بیچنےکا ہے۔ اپنےعوام سےمحبت کرنےوالےفرمان رواں سےزیادہ اس جرم کی سنگینی کو کون بہتر طور پرسمجھ سکتا ہے۔جناب والا! اس شخص نےبےگناہ آدمی ہی نہیں بلکہ دختر ملت کو بھی فروخت کردیا۔ اپنے ہی ہم وطنوں کو مارنےاور ہِٹ کرنےکی دھمکیاں دیں۔ ایک قومی سیاسی رہنما اکبر بگٹی کو قتل کرکےایک صوبےمیں علیحدگی پسندی کےبیچ کو پانی اور گوڈی دینےکا کام کیا ۔ اپنےعوام کےدلوں میں اس فوج کےخلاف نفرت پیدا کی جو ملک کی حفاظت ہی نہیں کرتی تھی بلکہ امت مسلمہ کی محافظ بھی ہوا کرتی تھی۔ اس محب وطن اور محب امہ فوج کی وہ روشن داستان یہاں بیان کرنےکی ضرورت ہر گز نہیں جو انہوں نےمکہ مکرمہ میں دہشت گردوں کےخلاف رقم کی تھی۔ پرویز مشرف نےاس فوج کو آج پاکستانیوں کےلیےقابل نفرت بنایا۔ اگرچہ جنرل مشرف کےاقتدار چھوڑنےکےبعد سےفوج کےبارےمیں منفی تاثر بڑی حد تک مثبت ہوا ہے۔
پرویز مشرف نےاسلام آباد کےایک مدرسےپر کمانڈو ایکشن کرواکر نہ صرف سینکڑوں حفاظ قرآن معصوم بچیوں کو قتل کروایا اور اللہ کےگھر کی بےحرمتی کی بلکہ اس کےنتیجےمیں انتہاءپسندی کو جنم دیا۔ اس واقعہ نےسوات میں فضل اللہ جیسےمجرموں کو جڑیں بنانے میں مدد دی۔اس شخص نی2007ءمیں ملک کی اعلیٰ عدالت کےچیف جسٹس کو برطرف کردیا اور میڈیا پر شب خون مارا اور اپنےحقوق کےلیےپر آمن جہدوجہد کرنے والوں پر بدترین تشدد کیا‘ یہی نہیں بلکہ کراچی میں خون کی ہولی کھیل کر اس پر فخریہ انداز میں کہا کہ انہوں نےاپنی قوت کا اظہارکیا ۔ یہ ان جرائم میں سے چند ایک ہیں ورنہ یہ فہرست کئی صفحات پر مشتمل ہے۔
جس وقت آپ کےنام یہ خط لکھا جارہا ہےاس وقت تک پرویز مشرف ایک خصوصی طیارے کےذریعےسعودی عرب پہنچ کر آپ کےساتھ ملاقات بھی کرچکےہیں۔ تین گھنٹےطویل اس ملاقات کی تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئی ہیں تاہم میڈیا کے ذریعےجو خبریں مل رہی ہیں جن سےان خدشات نےتقویت پانا شروع کیا ہےجس کےنتیجےمیں پاکستانیوں کی اکثریت ایک صدمےسےدوچار ہوگی۔ پرویز مشرف سےمتعلق کوئی بھی ڈیل اور اس کو بچانےکی کوشش پاکستان کےعوام کی نظروں میں پاکستانی قوم کےمفادات کےبرعکس کوئی چیز ہوگی۔ پرویز مشرف ایک قومی مجرم ہیں‘ یہاں پاکستان میں عوام کی اکثریت اس کو ٹرائل سےبچانےکی کوششوں میں کسی حصہ دار کو اچھےنظروں سےنہیں دیکھ رہی ہے۔ میرا خط پاکستانی عوام کےعلاوہ ان سینکڑوں لاپتا افراد کے اہل خانہ جن کو انسانی حقوق اور ملکی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئےاٹھایا گیا کی بھی ترجمانی کررہا ہے۔ میں یہاں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایک غلط تاثر یہ بھی دیا جارہا ہےکہ پرویز مشرف کا ٹرائل شاید کسی ایک فردیا جماعت کی خواہش اور مسئلہ ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ اگر ملک کی تمام جماعتیں پرویز مشرف کےٹرائل کےمطالبےسےدستبردار بھی ہوجائیں تب بھی پاکستانی عوام کی اکثریت کی خواہش اور مطالبہ یہی ہوگا کہ پرویز مشرف پر مقدمہ چلایا جائے۔ مختلف سروےسےیا بات ثابت ہوچکی ہےکسی ڈیل کی صورت میں ان تمام جماعتوں کو ناپسندیدگی کی نظر سےدیکھا جائےگا جو پرویز مشرف کےخلاف ٹرائل کی راہ میں رکاوٹ بنیں گی‘ تاہم ہم یہ گوارا نہیں کرسکتےکہ پاکستانی قوم اس ملک کےبارےمیں منفی انداز سےسوچنا شروع کردےجوہمارےبرےوقت کا دوست ہی نہیں بلکہ اس کےساتھ ہمارےتعلقات کی نوعیت روحانی بھی ہےلیکن اس خبر سےبہت منفی تاثر جنم لےرہا ہےکہ سعودی عرب نےپاکستان کےایک قومی مجرم کا شاہانہ استقبال کیا اور اس کو ایک ایسی وقت میں بچانےکی کوشش کررہا ہےجب وہ اپنےانجام کےقریب پہنچنےوالا تھا۔

4 Responses to “سعودی فرمان رواشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کےنام کھلا خط”

  1. میں اس خط کی حمایت کرتا ہوں

  2. اہلاً و سہلاً مشرفاء!

    وسعت اللہ خان

    جب تاحیات صدر ہِز ایکسیلینسی فیلڈ مارشل الحاج ڈاکٹر عیدی امین اپنی تین بیگمات، درجن سے زائد بچوں، جہاز بھر ذاتی مال و اسباب اور ملازمین کے ہمراہ تین لاکھ کے لگ بھگ لاشیں دفنانے کے بعد ایک بوئنگ طیارے میں سوار ہو کر کمپالا سے طرابلس بھاگے تو دو ہی برس میں میزبان معمر القذافی کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔

    اس موقع پر شاہ خالد بن عبدالعزیز نے عیدی امین کو سندیسہ بھیجا کہ آپ سعودی عرب کی روایتی میزبانی سے تاحیات لطف اٹھانے کے لیے جدہ میں مختص محل میں سیاسی آلودگی سے پاک زندگی گذار سکتے ہیں۔ عیدی امین نے پچیس برس تک مہمانی کا لطف اٹھایا اور سولہ اگست دو ہزار تین کو جدہ کے کنگ فیصل اسپتال میں جان دے دی۔ مرنے سے ایک ماہ پہلے انکی بیوی مدینہ نے یوگانڈا کے صدر یووری موسوینی سے اپیل کی کہ دادا عیدی امین کو مرنے کے لیے وطن آنے دیا جاوے۔ موسوینی نے لکھا خوش آمدید۔ لیکن آپ کے شوہر کو اترتے ہی اپنے گناہوں کا قوم کو حساب دینا پڑے گا۔ عیدی امین کو دو درجن سوگواروں نے جدہ کے رویس قبرستان میں لے جا کر دفن کر دیا۔

    عمر عبداللہ جعفری یمن کی حزبِ اختلاف سنز لیگ پارٹی ( رے) کے قائد ہیں مگر یمنی حکومت کا تختہ الٹنے کے الزامات لگنے کے بعد نوے کے عشرے سے سعودی حکومت کے مہمان ہیں۔

    محمد عثمان المرغانی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس سوڈان کے صدر ہیں۔ چونکہ صدر عمر البشیر انہیں پسند نہیں کرتے اس لیے محمد عثمان کی میزبانی کا بار بھی سعودی حکومت کو اٹھانا پڑ گیا۔

    اپریل دو ہزار سات میں سعودی حکومت نے بیگم خالدہ ضیا کو بھی کرپشن کے مقدمات سے بچانے کے لیے اہلِِ خانہ کے ہمراہ جدہ میں محلاتی رہائش کی پیش کش کی۔ خالدہ نے یہ پیش کش قبول بھی کر لی لیکن عین وقت پر جانے کیا خیال آیا کہ ارادہ ترک کردیا۔

    نواز شریف کا قصہ تو آپ کو معلوم ہی ہے، اور اب اہلاً و سہلاً مشرفاء کی اطلاعات بھی گردش میں ہیں۔

    کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ سعودی حکومت نے ‘مدینے کو جانے کو جی چاہتا ہے’ کا ورد کرنے والے کسی عام سے غیر ملکی ایرے غیرے کو اپنے ہاں پناہ دی ہو۔ جب دو ہزار تین میں عراق پر امریکہ نے قبضہ کیا تو ہزاروں اجڑے عراقیوں نے ہمسایہ ممالک کی سرحدوں پر دستک دینی شروع کی۔ کویت اور سعودی عرب واحد ہمسائے تھے جنہوں نے ان بےحال عراقیوں پر اپنے دروازے مضبوطی سے بند کر دیے۔ بلکہ سعودی عرب نے تو عراق سے متصل سرحد پر باڑھ لگانے کے لیے سات ارب ڈالر بھی خرچ کردیے۔

    اب تک میں نے جن شخصیات کا تذکرہ کیا ان سب میں قدرِ مشترک ایک ہی ہے کہ سب نے یا تو اپنے اپنے ممالک کے قوانین کو پامال کیا یا پھر ان پر قانون کی پامالی کا الزام لگا۔

    لیکن جب خود سعودی باشندے ملک کے قوانین کو پامال کرتے ہیں تو پھر گردن بچانے کے لیے انہیں مغربی ممالک کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ برطانیہ میں گذرے جولائی میں ایک سعودی شہزادی کو عدالتی پناہ دی گئی ہے، جبکہ دس دیگر سعودی باشندے سیاسی پناہ کی قطار میں کھڑے ہیں۔

  3. was on my back to get his mother out of jail and he certainly did not want
    me to be a witness to her attempted murder trial.
    This guy was a stereo-typical wrestling fanatic (actually showed me a belt
    that resembled the belts that the wrestlers would hold
    over their heads when they would win their gymnastics display,
    er, I mean match). Mortgage Loan Amortization Due for the Current Month + Past Due Amount Defaulted from Previous Month.
    These are loans that provide funding to finance the building of a new property.
    Also the lender will require a credit check on the contractor
    that will take on the construction project so as to make sure that the contractor is also trustworthy and that there will be no problems or delays
    on the construction.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: