Articles

میڈیا میں مبشر لقمان کی احمدیہ تحریک اور نذیر ناجی

In Uncategorized on ستمبر 10, 2009 by ابو سعد

یوٹیوب بھی کیا چیز ہے یہ گڑھے مردے بلکہ بدبودار مردے اکھاڑنے کا کام اچھا کررہی۔ ہم الطاف حسین سے مبشر لقمان کا انٹرویو سن رہے تھے کہ اس نے مزید ایسی ویڈیوز کو سماعت اور بصارت کے لیے پیش کردیا جس میں مبشر لقمان صاحب کی کوشش یہی ہے کہ مذکورہ قادیانیوں کو کسی طرح مسلمان قرار دلوادیں۔ ان ویڈیوز میں محمد علی درانی کے انٹرویوز کے علاوہ کالم نگار المروف “گالم گلوچ” نذیر ناجی کا بھی انٹرویو شامل ہیں۔ مبشر لقمان کی طرف سے بار بار احمدیوں کے “حقوق” کے لیے آواز اُٹھانا، ان کی “مظلومیت” کا رونا رونااور ان کو کسی طرح مسلمان قرار دلوانا تو اس لیے باعث حیرت نہیں کیوں کہ یہ ان کا مذہب ہے اور اپنے مذہب کو بہتر ثابت کرنا ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے۔ لیکن نذیر ناجی کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اگر ڈاکٹر عبدالسلام نے نوبل انعام حاصل کیا ہے تو ایک غیر مسلم قلیت سے تعلق رکھنے والے اس پاکستانی کے لیے اس اعزاز کو کون نہیں سراہتا لیکن آپ ان کو مسلمان قرار دے کر کیا ثابت کرنا چاہتے۔ ایک لبرل مسلمان یا پھر یہ آپ کا مسلک ہے جس کا تاحال آپ نے اقرار نہیں کیا یا پھر کچھ اور ۔ میں نذیر ناجی کے انٹرویو کو ٹرانسکرائب نہیں کررہا تاکہ آپ خود سماعت فرمائیں وہ سب کچھ جو نذیر ناجی صاحب فرما رہے ہیں۔ نذیر ناجی صاحب کا اگر اپنا موقف دینا چاہیے تو یہ تلخابہ کے نام سے یہ ڈسکشن فورم ان کو خوش آمدید کہے گا۔ اسی طرح مبشر لقمان صاحب کا موقف بھی شائع کیا جائے گا۔  یہاں ایک اور سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ ہر متنازعہ اینکر پرسن “نیوزون” سے ہی فلائٹ کیوں پکڑتا ہے ? اس بارے میں طاہر علی خان صاحب کو سوچنا چاہیے۔

یہاں یہ وضاحت پیش کروں کہ پوری دنیا کے سامنے احمدیوں کو مظلوم ثابت کیا جاتا ہے اوراس میں اس قدر مبالغہ آمیزی سے کام لیا جاتا ہے کہ ایک سادہ لوح مسلمان کو ان پر ترس آنے لگتا ہے حالانکہ ان بدمعاشوں کی پاکستان کے خلاف سازشوں کی تفصیل اتنی خوفناک ہے کہ بندہ پریشان ہوجائے۔ اس وقت بیورکریسی اور فوج سے لے کر پولیس اور یونیورسٹی پروفیسر تک کون کون سا شعبہ ہے جہاں قادیانی نہیں ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ کسی نے زیادتی نہیں کی۔ اور پھر عبدالسلام کی پزیرانی نہ ہونے کا واویلہ مچانے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر انہوں نے یہ مقام حاصل کیا ہے تو ان کو اقلیت ہونے کے مواقع فراہم تھے اس لیے یہ ممکن ہوسکا کہ وہ نوبل انعام حاصل کرسکے۔ لیکن اگر کوئی مملکت خداداد پاکستان کے مسلمان میں ایک خودساختہ مذہب کی تبلیغ کرے گا تو اس کا نہ دین اسلام اجازت دیتا ہے اور نہ ہی آئین پاکستان۔ الطاف حسین یا نذیر ناجی شوق سے اپنی عاقبت خراب  کرکے ان کو تبلیغ دینے کی اجازت دیتے رہے۔

مبشر لقمان : نذیر ناجی

 

 مبشر لقمان: محمدعلی درانی

 

10 Responses to “میڈیا میں مبشر لقمان کی احمدیہ تحریک اور نذیر ناجی”

  1. yeh Altaf Hussain jo Pakistan ki establishment ney eik Kala napak KUTA pala tha woh abb ISLAM ko bhonkney laga hai aur NABI PAK salh ho aleihe wasalm per dust darazi kerney laga,abb insha ALLAH is ki maut ai hai aur is key gunahon ka garha abb bher giya hai aur is Pagal Kutey LUCMAN per to mujhey pehley hi shak tha meger GEO TV ka bhi tou kuch kerna ho ga jo ISLAm kay khilaaf her sazish mein agey agey hota hai ,koi doosrey channels is mudey ko bhi to uthain

    IS gandey Kutey Altaf Hussain ko marr do abb bhi waqt hai aur is kay sarey sathi kuton ko MQM ko khatim ker do abb waqt aa giya hai ,jo aisi bakwas karney lagey hain ,ager abb bhi musalman na utha to phir hamari tabhai per mohr lag jai gi aur ALLAH hum ko ruswa aur zaleel ker dein gay .

    Ager hum NABI PAK sallah ho aleih e wasalm kay liye bhi na uthey to ALLAH ko hum ko waqey hi iss dunya sey utha hi dena chahye,ALLAH ka wasta hai is MQM ki gandgi sey Mullak ko saaf ker do

  2. Now the cat is out of box. One can just remember why Altaf Hussain has been challenging religious parties and so called NGO mafia luberals had been supported him. Nazir Naji is nothing more than a sellable commodity and he is available to who so ever can pay for it. But I remember when my brother was office bearer of Lahore Press Club and Naji was booking the press conference for MQM. Similarly, he also managed Ahmadi’s press releases in Nawai waqt. I think he should have charged more for what he sold out his soul was quite meager.

  3. Thanks for sharing the info about Nazir Na Gi which “Talkhaba” has rightly call “galam Galch”. These journalists never hesitate to sell their soul what about tahir Khan who has given chances to the people who are controvercial. Before he gave space to Zaid hamid a Khalifa of Yousaf Kazab who has claimed prophecy.

  4. آپ نے ایک اچھے مقصد کیلیے بلاگ شروع کیا ہے اس پر مبارک قبول کیجیے۔ امید ہے آپ بلاگنگ کا تسلسل ٹو ٹنے نہیں دیں گے۔

  5. Shane Azam syed is right angry,if we go back in 1990`s remember we read many banners of MQM which were showing that “Altaf Husain is Mohsin e Insaiat.
    A person told that is Qadiani spporter and another person not told something about Qadianis but his struggle is against the Nabi pak struggle then isee him in same line.

  6. کیا ہم آپکا بلاگ آپکے نام سے اخبار میں شائع کر سکتے ہیں؟ اس سے مزید محب وطن پڑھنے والوں کو معلومات ملیں گئ۔

  7. در اصل لبرل طبقہ ملک کے احمدی مخالف قوانین کی وجہ سے اتنا شرمندہ ہے کہ وہ ان کے حق میں بات کرتے ہوے ہچکچاتا ہے اور یہ ہچکچاہٹ ہی ملاں کے لیے بہانہ ہے۔ ھمارے ملا حضرات کو تبھی سکون مل سکتا ہے جب احمدیوں پر ایک عام فتویٰ قتل جاری کیا جاے گا۔

    اگر کسی احمدی پر حرام کمانے اور اکٹھا کرنا ثابت ہو جاے تو یہ ممکن نہیں کہ وہ جماعت میں شامل رہ سکے۔ یہ بات ہمارے حلف میں شامل ہے کہ ہر احمدی ملک اور قوم کا وفادار رہے گا۔

    اس طرح کی بد دیانتیاں اور دینی اور دنیوی خیانتیں ملانوں کا شیوہ ہیں۔ پورا ملک ان کے اور ان کے چیلوں کے ہاتھ یرغمال بنا ہوا ہے۔ ہر دوسرے دن معصوم عوام کو جہاد کے نام پر قتل کیا جا رہا ھے۔ پاکستانی افواج حالت جنگ میں ہیں۔ احمدی فوجی افسران بھی اس جہاد میں شریک ہیں۔ ایک احمدی افسر شہید بھی ہوا۔ اس سے قبل بھی ہر جنگ میں احمدیوں نے ملک کی خاطر اعلیٰ خدمات انجام دیں۔ اور یہ ملاں اپنے فتنوں سے اب بھی باز نہیں آتے- خدا ان کے شر سے ملک کو محفوظ رکھے۔

  8. میرے خیال میں نزیر ناجی صاحب نوائے وقت مین کئی سال پہلے قادیانیون کو پاکستان کے لئے بہت بڑا خطرہ قرار دے چکے ہین۔۔۔کیا آپ ریکارڈ سے نہیں نکال سکتے؟

  9. چائنہ ڈالر کی عزت لوٹنے کے درپے

    تحریر: فرخ صدیقی

    ڈالر کی عزت بچانے کیلئے امریکی یہودیوں کا نیا کھیل شروع

    ڈالر بچانے کی یہ سرد جنگ، امریکہ چین، روس، وینزویلا اور ایران کے درمیان کھیلی جارہی ہے۔

    بیجنگ – امریکہ میں صہیونی یہودیوں کے پھیلائے گئے مصنوعی معاشی طوفان کے بعد جہاں چین نے امریکی ڈالر سے جان چھڑانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے وہیں یہودی نئی بوتل میں پرانی شراب کے مصداق “گولڈ ڈالر“ جاری کرنے کے چکر میں امریکی عوام کو دوبارہ گمراہ کرتے نظر آتے ہیں۔

    بیجنگ کے معاشی نظام کے پیچھے بیٹھے افراد جہاں ایک طرف امریکہ کے قرضوں کی دھڑا دھڑ خریداری کر رہے ہیں وہیں وہ ان قرضے کے معاہدوں کی تجدید میں ڈالر کی جگہ اپنی کرنسی یوآن سے بدل کر ان قرضوں کو بیچتے بھی نظر آتے ہیں۔

    سودی نظام جس کے بانی یہودی ہیں اور اس کام میں انکا کوئی ثانی نہیں، آج چین نے اس خیال کو غلط ثابت کردیا ہے اور صہیونی فیڈرل ریزرو بینک ڈالر کے اس کھیل میں نئے پتے پھینکنے کے باوجود پریشان ہے۔

    چین، روس، وینزویلا اور ایران میں بیٹھے ڈالر مخالف یہ کھلاڑی جو ایکطرف ڈالر کو مٹی میں رولنا چاہتے ہیں وہیں انھوں نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی کرنا شروع کردی ہے جو جان بوجھ کر کمی کی جارہی ہے۔

    اس کمی سے جہاں امریکی قرضوں کی ادائیگی میں آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں وہیں ان ممالک کی ایکسپورٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے اور ایسے اضافہ کا مطلب ہے مزید صنعتیں اور مزید روزگار کے مواقع۔

    ڈالر کے گرد گھیرا ڈلتے دیکھ کر اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ڈالر کا وجود خطرے میں ہے تو شائد آپ ٹھیک ہی سوچ ہے ہیں لیکن یہ یاد رکھیے کہ تقریباً ایک صدی تک اس کاغذ کو عالمی کرنسی منوانے والے یہودی بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے۔

    یہودیوں کے ذاتی بینک فیڈرل ریزرو بینک جو ڈالر کا موجد بھی ہے نے نئے نام “گولڈ ڈالر“ کے نام سے نئی کرنسی کے اجراء کی تیاریاں کر لی ہیں۔ امریکی عوام کو اب یہ کہہ کر الو بنایا جارہا ہے کہ یہ گولڈ ڈالر سانے کے ان ذخائر کے برابر چھاپے جا رہے ہیں جو فیڈرل ریزرو بینک کے پاس موجود ہیں۔

    1862ء سے پہلے امریکی عوام سونے کے سکے ہی استعمال کر رہے تھے، اسوقت بھی انھیں سکوں کو کومت وقت میں موجود یہودیوں نے ضبط کر کے ان کے عوض کاغذ کے ڈالر تھما دیے اور یہی کھیل نئی شکل اور اصولوں کیساتھ دوبارہ کھیلا جائیگا۔

    تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ یہ گولڈ ڈالر نئی بوتل میں پرانی شراب کے مصداق ہیں جو نہ چاہتے ہوئے بھی امریکی عوام کے حلق میں دوبارہ انڈیلی جائیگی۔

    ڈالر کے لٹنے کے تناظر میں یہودی یورو کو بھی متبادل کرنسی کے طور پر متعارف کروانا چاہ رہے ہیں تاکہ جو ایسے نہ پھنسے وہ ویسے پھنس جائے۔ کوئی گولڈ ڈالر لے نہ لے لیکن یورو سے بچ کر تو مشکل ہی نکل پائے گا۔

    اس مسئلہ کا حل کرنے کیلئے چین ان مغربی ممالک جن کیساتھ اسکی تجارت اور لین دین عروج پر ہے، ایسے معاہدے کر رہا ہے جن کی رو سے وہ ممالک چینی کرنسی ہی میں چین کو اور آپس میں بھی چینی کرنسی ہی میں ادائیگی کرسکیں گے، جو عملی اور کاروباری طور پر ان ممالک کے لئے آسان بھی ہوگا اور منافع بخش بھی۔

    اسکی ایک مثال بیلارس، انڈونیشیا اور ملائیشیا ہیں، یہ ممالک چین کیساتھ اور آپس میں ڈالر کو بیچ میں لائے بغیر چینی کرنسی میں تجارت کر رہے ہیں اور چین کیساتھ بھی۔

    امریکی یہودیوں کی پوری کوشش ہے کہ ایسے تجارتی معاہدوں کو مزید پھیلنے سے روکا جائے جس کیلئے وہ سرد جنگ کیساتھ ساتھ چین کیخلاف دیگر دہشتگرد قوتوں کو بھی چین کے حالات خراب کروانے پر کام کر رہے ہیں، یغور میں مسلم کش فسادات اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں قازقستانی یہودی ملوث پائے گئے۔

    آنے والے چند ماہ شاید ڈالر کی موت و حیات کا فیصلہ تو نہ کر پائیں لیکن اس بات کی وضاحت ضرور کریں گے کہ آئندہ دہائی کی عالمی کرنسی بننے کا تاج کس ملک کے سر جائیگا۔

    بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: