Articles

علی خان صاحب قائد تحریک سے مخاطب ہیں

In پاکستان on ستمبر 12, 2009 by ابو سعد Tagged:

Ali KHan

یہ علی خان صاحب کا مضمون مطبوعہ جسارت میگزین ہے جسے ہم نے  کوئی شکریہ ادا کیے بغیر اُٹھا لیا ہے کیوں کہ میگزین  ایڈیٹرالیاس بن زکریا صاحب اور ان کا ادارہ کاپی رائٹ کے چکروں میں نہیں پڑھتا۔ البتہ ہم ان کے اوریجنل آرٹیکل کا لنک دے کر غیر رسمی شکریہ ادا کیے دیتے ہیں ۔ گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں(تلخابہ)۔


ہمیں ایم کیو ایم کے کئی رہنما اچھے لگتے ہیں۔ ان میں ایک جناب حیدر عباس رضوی بھی ہیں۔ کیا خوب بولتے ہیں۔ متحدہ کے بہت تیزی سے ابھرتے ہوئے رہنما ہیں۔ ان کو نظر نہ لگے کیونکہ متحدہ میں جو بھی تیزی سے ابھرا وہ اس سے زیادہ تیزی سے غروب ہوگیا۔ ایسے کتنے ہی ستارے ٹوٹ کر بکھر گئے۔ جناب الطاف حسین کے ابتدائی ساتھیوں اور ایم کیو ایم کے بانیوں میں سے کتنے رہ گئے؟ زیادہ تر قتل کردیے گئے یا نکال دیے گئے۔ سامنے کی مثال عامر لیاقت حسین کی ہے جو اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لگانا پسند کرتے ہیں۔ وہ بھی خوب بولتے تھے اور پھر یہ زعم ہوگیا تھا کہ وہ الطاف حسین سے زیادہ قابل اور ان سے زیادہ اچھا بولتے ہیں۔ اور پھر وہ الطاف بھائی کا فکر وفلسفہ بھلا بیٹھے۔ چنانچہ اب زیادہ تر پاکستان سے باہر رہتے ہیں۔تاہم حیدر عباس رضوی کو تخصص حاصل ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ گزشتہ دنوں وہ الطاف حسین کو ”مرد بچہ“ کہنے پر برا مان گئے، نجانے کیوں؟

Box1
ہم اب تک یہ سمجھتے آرہے تھے کہ کسی کو مرد بچہ کہنا اس کی تعریف کرنا ہے لیکن رضوی صاحب نے اس کا کچھ اور ہی مطلب نکال لیا، ہوا یوں کہ ایک ٹی وی چینل پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے حوالہ دیا کہ متحدہ کے رہنما وسیم اختر نے بریگیڈیئر(ریٹائرڈ) امتیاز کے ”انکشافات“ پر ان کو مرد بچہ قرار دیا ہے، الطاف حسین بھی مرد بچہ بنیں اور پاکستان تشریف لے آئیں۔ اس پر رضوی صاحب بھڑک اٹھے اور یہ شبہ ظاہر کیا کہ خواجہ آصف نے الطاف حسین کو نامرد کہا ہے۔ بہر حال ٹی وی چینل پر تو خواجہ آصف نے انہیں مرد بچہ قرار دینے پر معذرت کرلی لیکن ہم اب تک حیران ہیں، ہمارے خیال میں تو انسان کا ہر بچہ،مرد کا بچہ ہی ہوتا ہے۔
الطاف حسین کی مردانگی اور جرا¿ت اظہار میں کوئی شک نہیں۔ اسی لیے تو انہوں نے ایک ٹی وی چینل کو بڑی تفصیل سے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجھ پر تو پہلے بھی کفر کے فتوے لگ چکے ہیں اور اب ایک بار پھر یہ کفر کرنے جارہا ہوں۔ اور پھر انہوں نے اپنے کیے پر عمل بھی کردکھایا۔ کافروں، مرتدوں، شاتمان رسول اور اسلام کے باغیوں کی کھل کر حمایت کرنا اور ان کی تعظیم کرنا، پھر اپنے کہے سے پھر جانا جرا¿ت ہی کی تو بات ہے۔

Box4
الطاف حسین کے نظریات و خیالات تو بدلتے ہی رہتے ہیں کہ یہی ان کی فکر و فلسفہ ہے اور ان کے معتقدین آنکھ بند کرکے ان کی پوجا کرتے ہیں۔ الطاف حسین کا کروٹن کے پتوں اور پتھروں پر نمودار ہونا کوئی معمولی بات تو نہ تھی۔ ماننے والے جی، جان سے ان کرامات پر ایمان لائے۔ ایک مسجد کے صحن میں لگے پتھر پر الطاف بھائی نمودار ہوئے تو ان کے حواریوں نے صحن کا پتھر ہی اکھاڑ کر الطاف بھائی کے دروازے پر رکھ دیا۔ صحن حرم میں ایک بزرگ نے اچانک نمودار ہو کر الطاف بھائی کو آشیر واد دی اور غائب ہوگئے۔ اب یہ کہانیاں کچھ کم ہوگئی ہیں لیکن آمنا و صدقنا کہنے والے کم نہیں۔ عقیدت بھی عجیب رنگ دکھاتی ہے۔ انتہائی پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ ہندو بھی تو بلا سوچے سمجھے اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے گئے بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور شجر و حجر کو نفع، نقصان کا باعث قرار دیتے ہیں۔ قادیانیوں میں کیسے کیسے پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام تو نوبل انعام یافتہ تھے، پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ بھی بڑے ذہین تھے لیکن یہ سب اس پر ایمان رکھتے تھے اور رکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد نبی تھے، ان پر وحی نازل ہوتی تھی اور جو انہیں نبی ماننے سے کتراتے ہیں وہ کم از کم مسیح موعود تو قرار دیتے ہی ہیں، یعنی حضرت عیسیٰ ؑ، جن کو دنیا میں واپس آنا ہے۔ غلام احمد نے کہا اور انہوں نے مانا کہ مسیح دنیا میں واپس آگئے۔ ویسے تو دجال کو بھی مسیح دجال کہا جاتا ہے۔ انگریز بھی اپنے خود کاشتہ پودے کے اس دعوے سے پریشان ہوگئے تھے کہ وہ مسیح بھی ہے۔ غلام احمد نے بھی اپنے درجات کو رفتہ رفتہ بلند کیا اور اس کی فکر و فلسفہ بھی کروٹیں بدلتی رہی۔
الطاف حسین قادیانیوں کے مبلغ، ہمدرد، سرپرست یا جو کچھ بھی ہیں وہ ان کے انٹرویو سے ظاہر ہوچکا ہے لیکن یہ مرزا مبشر لقمان کون ہیں؟ کیا ہیں؟ اور قادیانی مسئلہ میں ان کی دلچسپی کا اصل سبب کیا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ قادیانی ہیں یا مسلمان، لیکن قادیانیوں کو مسلمان قرار دلوانے میں ان کی کاوشیں قابل توجہ ہیں۔ قادیانی مسئلہ پر الطاف حسین سے انٹرویو” مبشر ڈاٹ کام“ کا پہلا کارنامہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے وہ ڈاکٹر اسرار احمد، محمد علی درانی اور نذیر ناجی تک سے اسی موضوع پر انٹرویو کرچکے ہیں۔ چلیے، ڈاکٹر اسرار احمد تو بہر حال ایک عالم ہیں لیکن ایک علمی مسئلہ پر محمد علی درانی اور نذیر ناجی سے انٹرویو اور ان کے خیالات نشر کرنے کی کیا حیثیت ہے۔ نذیر ناجی کی جو شہرت ہے وہ سب کے علم میں ہے۔ جب ہوش میں نہیں ہوتے تو کیس کیسی گالیاں ایجاد کرتے ہیں، یہ ریکارڈ پر ہے اور اتفاق سے دی نیوز اخبار کے ایک رپورٹر ہی نے یہ گالیاں ریکارڈ کی ہیں۔ ایسے شخص سے عقیدہ ختم نبوت پر بات کرنا اور اسے نشر کرنا مسلمانوں کے خلاف سازش نہیں تو اور کیا ہے۔ نذیر ناجی نے اپنے انٹرویو میں قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کو مسلمان قرار دیا اور حسب عادت علماءکو برا بھلا کہا۔ ملا ملا کہہ کر طنز و تحقیر کرنا آگرہ کے مفتی کے پوتے کی بھی عادت ہے۔ نذیر ناجی کو شکایت تھی کہ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کو قادیانی ہونے کی وجہ سے پاکستان میں کام نہیں کرنے دیا گیا۔ لیکن یہ سلوک تو بہت سے مسلمان زعماءکے ساتھ بھی روا رکھا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے ایٹمی نظام کے خالق ڈاکٹر عبدالکلام بھی پاکستان آئے تھے لیکن پذیرائی نہ ہونے پر واپس چلے گئے۔ مولانا حسرت موہانی پاکستان آئے تو ان کے پیچھے انٹیلی جنس لگا دی گئی۔ پاکستان کا نام دینے والے چودھری رحمت علی بھی ناراض ہو کر واپس چلے گئے تھے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کوئی واحد مثال نہیں۔ پھر نذیر ناجی یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان میں کتنے ہی قادیانی اہم مناصب پر کام کرتے رہے اور کررہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی ناک کا بال اور اہم مشیر طارق عزیز کے نام سے تو واقف ہوں گے۔ قادیانی فوج میں اہم مناصب پر رہے۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے بارے میں ہمارے پاس معلومات نہیں ہیں۔ پطرس بخاری اور ان کے بھائی زیڈ اے بخاری سے کون واقف نہیں، پطرس کے مضامین کو رس میں شامل ہیں اور وہ ایک عرصہ تک اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے۔ ان کے والد پشاور میں قادیانی مبلغ تھے۔ دوسری طرف پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے قائد اعظم کی نماز جنازہ پڑھنے سے اس بنا پر انکار کردیا تھا کہ وہ ان کو مسلمان ہی نہیں مانتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یا تو وہ مسلمان نہیں یا میں مسلمان نہیں۔اور یہ صرف ان کا عقیدہ نہیں بلکہ مرزا غلام احمد نے اپنے پیرو کاروں کے سوا تمام مسلمانوں کو مسلمان تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور یہ ان کی تحریروں میں موجود ہے۔ الطاف حسین صاحب کو بھی قادیانی مسلمان نہیں مانتے۔ اب شاید کوئی تبدیلی آگئی ہو، تاہم یہ سوال قابل توجہ ہے کہ مرزا مبشر لقمان قادیانی مسئلہ پر اتنے سرگرم کیوں ہیں اور اپنے مطلب کی باتیں اگلوانے میں کیوں مصروف ہیں۔ ان کے لیے گئے انٹرویوز سے قادیانیوں کی ویب سائٹ خوب فائدہ اٹھا رہی ہے۔ مبشر لقمان اس سے پہلے جس چینل سے وابستہ تھے وہ چینل ایک اور جھوٹے نبی یوسف کذاب کے خلیفہ¿ اول زید حامد کو بھی پروجیکٹ کرکے اتنا معتبر بنا چکا ہے کہ جو اس کی اصلیت سے واقف نہیں وہ اس کو اسلام کا سپاہی اور بڑا دانشور سمجھ بیٹھا ہے۔کیا مذکورہ چینل نادانستگی میں اسلام کے دشمنوں کو آگے بڑھا رہا ہے؟
اب آیئے الطاف حسین کی طرف۔ موصوف نے پہلے تو قادیانیوں کی عبادت گاہوں کو مسجد قرار دیا اور اعلان کیا کہ اگر وہ برسر اقتدار آگئے تو ایسا کمپاﺅنڈ بنائیں گے جس میں مندر، کلیسا اور احمدیوں کی مسجد ایک جگہ ہوگی۔ وہ نجانے کیوں، یہودیوں کا صومعہ بھول گئے۔ اگر غیر مسلم قادیانیوں، احمدیوں کی عبادت گاہ مسجد کہلائی جاسکتی ہے تو پھر ہندوﺅں کی مسجد، عیسائیوں کی مسجد اور یہودیوں کی مسجد کہنے میں کیا ہرج ہے؟ الطاف حسین ایک عالم ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ مساجد صرف مسلمانوں کی ہوتی ہیں اور یہ قرآنی اصطلاح ہے، یقین نہ آئے تو آگرہ کی مسجد میں رکھے گئے اپنے دادا مفتی رمضان کے فتاویٰ سے رجوع کرلیں، دادا زندہ نہیںلیکن آگرہ میں کوئی تو ان کا جانشین ہوگا، الطاف بھائی کے اپنے فرمودات کے بعد جب بھی ان کے عقائد کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں تو وہ جھٹ یہ دلیل لے آتے ہیں کہ وہ آگرہ کے مفتی کے پوتے ہیں۔ آگرہ کے ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے وہاں یہ نام نہیں سنا تھا۔ لیکن یہ کوئی ضروری نہیں ہے۔
الطاف حسین نے اپنے علم کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ احمدیوں کا کلمہ ایک، ان کی نماز ایک، انہیں تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے قادیانیوں کی ویب سائٹ پر کہا جارہا ہے کہ احمدیوں کے مخالف یہ کہتے ہیں کہ احمدی جب کلمہ پڑھتے ہیں تو محمد رسول اللہ سے ان کی مراد غلام احمد قادیانی سے ہوتی ہے۔ الطاف بھائی کہتے ہیں کہ انہوں نے احمدیوں کا لٹریچر خوب پڑھا ہے اور ان کی مجالس میں بھی شرکت کی ہے۔ لیکن مذکورہ ویب سائٹ پر تو کوئی قادیانی ہی یہ اعتراض کررہا ہے۔ کیا اس نے بھی غلام احمد قادیانی کی کتابیں نہیں پڑھیں۔ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ ” میں محمد ہوں، میں احمد ہوں۔ قرآن کریم میں احمد کا لفظ میرے لیے ہی آیا ہے“۔ پھر اگر مسلمان یہ سمجھیں کہ قادیانی کلمہ پڑھتے ہوئے اپنے نبی کا تصور کرتے ہیں تو غلط کیا ہے۔
Box2

بنیادی بات یہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی نبی آئے ان کے دور میں ان کی امت نے انہی کا کلمہ پڑھا اور لا الہ الا اللہ کے بعد ان کا نام شامل کیا۔ اب اگر مرزا غلام احمد نبوت کا دعویدار ہے تو اس کے امتی اسی کا کلمہ پڑھیں گے نہ کہ محمد رسول اللہ کا۔ مرزا غلام احمد نے کھل کر اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو ریکارڈ پر ہے۔ مثلاً اپنی وفات سے صرف تین دن پہلے 23مئی 1908ءکو ایڈیٹر اخبار عام لاہور کے نام خط میں لکھا” میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں، اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیوں کر اس سے انکار کرسکتا ہوں، میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک کہ میں اس دنیا سے گزر جاﺅں“ ایک اور جگہ(5مارچ 1908ئ) لکھتا ہے” ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں“۔ ان کا خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود اپنی کتاب حقیقتہ النبوت، صفحہ 172 میں لکھتا ہے” پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب(مرزا غلام احمد)ہرگز مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں“۔
نبوت کے دعوے کا لازمی نتیجہ ہے کہ جو شخص بھی اس نبوت پر ایمان نہ لائے وہ کافر قرار دیا جائے۔ چنانچہ قادیانیوں نے یہی کیا۔ وہ ان تمام مسلمانوں کو اپنی تحریر و تقریر میں اعلانیہ کافر قرار دیتے ہیں جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے۔ مثلاً” کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں“۔(آئنہ صداقت، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان، صفحہ 35)قادیانی صاحبزادہ بشیر کی سنیے” ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے مگر ” مسیح موعود“ کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔ مرزا بشیر الدین محمود نے سب جج عدالت گورداسپور میں بیان دیا جو ان کے رسالے الفضل میں 26تا29جون 1922ءمیں شائع ہوا” ہم چونکہ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے اس لیے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی ایک نبی کا انکار بھی کفر ہے، غیر احمدی کافر ہیں“۔

غیر احمدیوں کو کافر قرار دینے سے متعلق قادیانیوں کی تحریریں بھری پڑی ہیں۔ الطاف حسین فرماتے ہیں کہ ان کا کلمہ اور ان کی نماز ایک ہے تو اس کے بارے میں بھی سن لیجیے، شاید توبہ کی توفیق ہوجائے۔
21اگست 1917ءکے اخبار الفضل میں خلیفہ صاحب کی ایک تقریر ”طلباءکو نصائح “کے عنوان سے شائع ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا’ ہمارا خدا، ہمارا اسلام، ہمارا قرآن، ہماری نماز، ہمارا روزہ غرض ہماری ہر چیز مسلمانوں سے الگ ہے۔ وہ فرماتے ہیں” ورنہ حضرت مسیح موعود نے تو فرمایا ہے کہ ان کا(یعنی مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور، اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے“۔یہ قادیانی اور احمدی تو الطاف حسین کو بھی کافر قرار دیتے ہیں اور وہ ہیں کہ ان کی وکالت فرما رہے ہیں۔ قادیانی خود تسلیم کررہے ہیں کہ ان کا خدا، ان کا نبی، ان کا حج، سب کچھ عام مسلمانوں سے مختلف ہے اور الطاف حسین فرما رہے ہیں کہ ان کا کلمہ ان کی نماز سب ہمارے جیسی ہے، کیا بات ہے! پتا نہیں کونسا لٹریچر پڑھ رکھا ہے۔ نذیر ناجی جیسے لوگوں کی تو کوئی اہمیت نہیں لیکن الطاف حسین کے خلفاءاور معتقدین فرمائیں کہ ان کا کیا خیال ہے۔ ان کی تحریروں کے مطابق کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے نہ اس کو لڑکی دی جاسکتی ہے۔ فرمایا” ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“ الطاف حسین فخریہ فرماتے ہیں کہ ایک جھوٹے نبی کے خلیفہ اور رسول اکرم کی توہین کے مرتکب شخص کے آنجہانی ہوجانے پر انہوں نے تعزیتی پیغام بھیجا۔ پیغام میں یقینا درجات کی بلندی، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی ہوگی۔ جو شخص بھی رسول اکرم کو آخری نبی نہیں مانتا اور ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا وہ شاتم رسول بھی ہے اس کے لیے تعزیت خود رسول اکرم کی توہین ہے۔ ایسا شخص بھی شاتم رسول اور کفر کا مرتکب ہے۔ الطاف بھائی فرماتے ہیں کہ احمدیوں کو تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیے۔ ٹھیک ہے، وہ اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دے کر تبلیغ کریں۔ لیکن وہ تو خود کو مسلمان قرار دے کر دھوکا دیتے ہیں اور ان کی تبلیغ کے نتیجے میں جو لوگ ان کا مذہب اختیار کرتے ہیں وہ مسلمان بھی نہیں رہتے۔ عیسائی اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں تو دھوکے سے کام نہیں لیتے۔ الطاف حسین صاحب آپ کس راستے پر جارہے ہیں اور اپنے حواریوں کو کہاں لے جارہے ہیں؟ موصوف نے سب کچھ کہہ کر اعلان فرمایا ہے کہ وہ ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں جس پر ایک ٹی وی چینل سے کچھ علماءکا یہ مشترکہ بیان نشر ہورہا ہے کہ” الطاف حسین نے بروقت شرپسندوں کے منہ بند کردیے“۔ اگر واقعی یہ علماءکا بیان ہے تو وہ یہ وضاحت بھی کردیتے کہ شرپسند کون ہیں، قادیانیوں کی عبادت گاہ کو مسجد، ان کے کلمہ اور نماز کو مسلمان کا کلمہ اور نماز قرار دینے والے ، ان کو اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت دینے والے یا ان کفریا خیالات کی تشہیر کرنے والے؟ شرپسند کون ہیں اور مسلمانوں میں شر پھیلانے والے کون ؟
الطاف بھائی مرد بچہ بنیے۔
box3

3 Responses to “علی خان صاحب قائد تحریک سے مخاطب ہیں”

  1. مھترم بھائی صاحب!

    اللہ آپ کو جزائے خیر دے کہ آپ نے قادیانی فتنے کو اجاگر کرنے اور اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کی سازشوں کو نہائت محنت سے انکا پردہ چاک کیا ہے۔

    الطاف حسین کے سیاسی عزائم سے ہمراے سیاسی اختلاف سے قطع نظر بہتر تو یہ ہوتا کہ الطاف حسین اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کریں ۔ ختم نبوت یعنی نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا اقرار کرنے کے ساتھ ساتھ احمدیوں کا کافر ہونے کا بھی اعلان کریں اور اور اعلانیہ احمدیوں قادیانیوں کی پشت پناہی سے اپنا ہاتھ کینچھ لینے کا اظہار کریں ۔ اور اپنے سابقہ بیان پہ مسلمانوں سے معافی مانگیں ورنہ میں سمجھتا ہوں ایم کیو ایم میں شامل مسلمان الطاف حسین سے ہاتھ کینچھ لیں گے۔

    بہرحال الطاف حسین کو رہنماء ماننے والے بے چاروں کا بھی کیا المیہ ہے کہ انکے قائد کے ہر دوسرے دن پینترے بدل لینے پہ انکی تنظیم کے باقی لوگ وضاحتیں دیتے دیتے عاجز آجاتے ہیں اور ابھی الطاف حسین کا بچھلے بیان کی تلخی کم نہیں ہوتی کہ موصوف ایک نیا شگوفہ فرما دیتے ہیں ۔ مگر اس دفعہ میرے ذاتی رائے میں الطاف حسین ساری حدیں بھلانگ گئے ہیں اور اب بات صرف سیاسی اختلاف یا مخالفت کی نہیں رہی بلکہ ۔ ان ناموس رسالت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اور عزت کی ہے۔ ۔ اسلئیے الطاف حسین کو ساری دنیا کے مسلمانوں سے معافی مانگی چاہئیے یا پپھر قدیانیوں کا پشت پانہ ہونے کا اعلانیہ دعواہ کرنا چاہئیے تانکہ صفیں واضع ہوں کہ کون کس طرف ہے۔ کون قادیانی احمدی اور کافر ہے اور کون مسلمان۔ کون ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویدار اور جان لٹا دینے والا اور کون مرزا ملعون و کزاب کا حامی ہے۔

    میں نے قدیانیوں کے بارے میں چند تجاویز سوچی ہیں جو یہاں درج کر رہا ہوں امید ہے آپ اسے آگے بڑھائیں گے ۔

    اللہ آپ کو خوش رکھے۔

    تمام ختم نبوت ہی یقین رکھنے والے اردو اور انگلش بلاگرز سے میری ایک دردمندانہ اپیل ہے ۔ کہ ناموسِ رسالت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئیے کوئی ایک ایسا بلاگ یا سائٹ بنائی جائے جہاں پہ قادیانی و احمدی فرقے کا طریقہ واردات ان کی دھوکے بازیاں ۔مکاریاں۔ اور مسلمانوں میں منافقانہ طریقے سے گھل مل کر انھیں انکی سادگی کی وجہ سے گمراہ کرنے کی سازشیں بے نقاب کی جاسکیں اور انکے طریقہ واردات اور اسکے سد باب کا طریقہ کار وضع کیا جاسکے۔

    یا پھر ختم نبوت ہی یقین رکھنے والے اردو اور انگلش بلاگرز حضرات اپنے اپنے بلاگ پہ ایک باقاعدہ سکیشن یا موضوع کے طور پہ پیج بنائیں جو ہمہ وقت بلاگ کے پہلے پیج سے کھول کر دیکھا جاسکے ۔ جس پیج پہ قادیانیوں کی مکاریاں ،طریقہ واردات اور مکروہ سازشیں کھل کر بیان کی گئی ہوں اور احمدیوں کا سد باب بیان کیا گیا ہو ۔

    ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے اور نامو س رسالت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئیے اور خود پاکستان کو احمدیوں کی مکروہ سازشوں سے بچانے کے لئیے یہ ضرور کرنا چاہئیے۔ یہ ہمارے قلم اور علم کا صدقہ ہوگا ۔اور یہ ہم پہ فرض بنتا ہے۔

    اس سے جہاں کئی ایک فائدے ہونگے وہیں دوایک فائدے یہ ہیں کہ اب ، اردو انگلش میں لکھے گئے بلاگز اور مواد کی روزانہ کے حساب سے مانگ بڑھ رہی ہے اور مسلمان خاصکر پاکستانی اب پہلے سے زیادہ ایسی سائٹ کا وزٹ کرتے ہیں اور وہ قادیانیوں کی گمراہ کن پروپگنڈے سے محفوظ ہوسکیں گے۔

    دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جو بلاگز یا سائٹس احمدیوں کی سازشوں کا لنک نہیں لگائیں گے یا تو وہ بلاگز وغیرہ احمدیوں کے ہونگے یا پھر مشکوک قرار دیتے ہوئے لوگ انکا مواد نہائت احتیاط سے پڑھیں گے۔

    تیسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ قسم قسم کی سائٹس بناکر اپنا ملعون پروپگنڈا ہ کرنے والے احمدیوں قادیانیوں کا حوصلہ پست ہوگا اور وہ اپنی لن ترانیاں بیان کرنے سے باز آئیں گے۔

    باطل اس وقت تک چھایا رہتا ہے جب تک کوئی ننھی سی روشنی نہ کر دے ۔ ایک چراغ کی روشنی باطل کا اندہیر غائب کر دیتی ہے۔ جب اتنے چراغ جلیں گے تو احمدیوں کے جھوٹ کا پردہ چاک ہوجائے گا۔

    آئیں اسکا آغاز کریں اور ان تجاویز کو ہر جگہ پہنچائیں۔
    ورنہ ہم دنیا میں بھی اور یوم قیامت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی شرمندہ ہونگے۔

    اللہ مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو اور جھوٹوں پہ خدا کی لعنت ہو۔

  2. الطاف صاحب ابنارمل قسم کی شخصیت ہیں جہاں ہڈی ملتی ھے وہیں دم ہلا دیتے ہیں

  3. قادیانی سازش
    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اشتراکی سازش کے بعد 1953ء میں ملک میںپہلی قادیانی سازش ہوئی ‘ مسلمانوں کامطالبہ تھاکہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے لیکن حکومت کے مخصوص عناصر اور قادیانیوں نے ملک میںمارشل لاء نافذ کردیا تاکہ ایسا مطالبہ اٹھانے والوں سے انتقام لیا جاسکے اسلامی نظام کا راستہ روکنے کا یہ حکومت کا دورا حربہ تھا۔
    اس موقع پر سید مودودی نے ’’ قادیانی مسئلہ ‘‘ کے نام سے ایک چھوٹی سی کتاب لکھ کر اصل مسئلے کو واضح کردیا اورساتھ ہی اپیل کی کہ یہ ایک دستوری مسئلہ ہے اس پر فساد اور خون خرابے کی ضرورت نہیں ہے ‘اسے دستور کے ذریعے حل کیا جائے لیکن حکومت تو خود فساد کرنے پرتلی ہوئی تھی چنانچہ اس نے بڑے پیمانے پرفساد کرائے ہزاروں مسلمانوں کو گرفتارکر کے جیلوں میں بند کیا اور اس طرح مسلمانوں کو بتا دیا کہ ان کےلئے دین کی بنیاد پرکوئی مطالبہ اٹھانا اور حکومت سے منوانا ممکن نہیں ہے جو لوگ ملک میں دین کا نام لیں گے انہیں سزا ملے گی ۔
    دارورسن کی آزمائش
    M حکومت کے بے دین افسروں نے قادیانی مسئلے پر فسادات سے خوب فائدہ اٹھایا ‘ حکومت اور اس کے افسر تو سید مودودی سے پہلے ہی ناراض تھے انہوںنے سید مودودی کو بھی قادیانی مسئلہ نامی کتابچہ لکھنے کے جرم میں گرفتار کرلیا اور پھر فوجی عدالت کے ذریعے انہیں یہ کتابچہ ’’ جو ہر جگہ فروخت ہورہا تھا اور اب تک فروخت ہورہا ہے اورکبھی خلاف قانون نہیں ہوا) لکھنے کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنا دیا یہ حکومت کا بد ترین جرم تھا وہ تمام لوگ جو اسلام اورپاکستان کے مخالف تھے اورانہیں چاہتے تھے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست بن جائے حکومت کی اس کاروائی سے بہت خوش ہوئے کہ پاکستان میں اسلام کے سب سے بڑے سپاہی کو ختم کیا جارہا تھا مگر عام مسلمان تو صدق دل سے اسلام کو پسند کرتے تھے اور اس کارروائی کو جرم کہتے تھے سید مودودی کی سزا کی خبر سن کر انہیں بہت افسوس اور دکھ ہوا پورے ملک میں حکومت کے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا بڑے بڑے شہروں اور چھوٹے چھوٹے قصبوں تک میں ہر جگہ جلوس نکالے گئے ہڑتالیں کی گئیں ‘جلوس نکلے ‘ جلسے ہوئے ‘ حکومت کوتار اور خطوط بھیجے گئے پاکستانی اخبارات اور رسائل کے ایڈیٹروں نے ایک مشترکہ بیان میں اس فیصلے پر حکومت سے سخت احتجاج کیا پاکستان کے وکیلوں ‘ طالب علموں ‘ اساتذہ اور دوسرے مختلف طبقوں کی انجمنوں اورمجلسوں نے بھی سید مودودی کو سزائے موت کا حکم سنائے جانے پر حکومت کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار اور غم وغصے کا اظہار کیا اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ۔ ملک کے اندر اور باہر عالم اسلام کی بے شمار شخصیتوں اور اخبارات نے نام نہاد فوجی عدالت کے حکم کو جو کہ ایک سیاسی انتقام تھا غلط قرار دیا اور اس سزا کو منسوخ کرنے کا مسلسل مطالبہ کیا ۔ ساری دنیا کے مسلمانوں نے حکومت پاکستان کو احتجاجی تار دئےے ‘ غرض اتنا زبردست احتجاج کیا گیا کہ ہندو پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ‘ پاکستان کے علاوہ دوسرے ملکوں سے بھی بڑے بڑے علماء اور مسلم لیڈروں نے حکومت پاکستان پر اس سزا کی وجہ سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور اس سزا کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ۔ یہ سزا حیرت ناک اورغیر متوقع تھی اور خالص سیاسی وجوہ کی بناء پردی گئی تھی ‘ جو سراسر ظلم پرمبنی تھی ۔ مولانا مودودی کی سزائے موت پرعالم اسلام کا احتجاج و اضطراب ‘ سید مودودی کو موت کی سزا کا حکم کوئی معمولی بات نہ تھی اس پرانسان تڑپ اٹھا ‘ہر مسلمان چیخ اٹھا ‘لوگ دھاڑیں مار مارکر رونے لگے ‘ سارے عالم اسلام میں اضطراب پھیل گیا ‘ ہرشخص سراپا احتجاج بن گیا۔ مصر کی سب سے بڑی اسلامی جماعت الاخوان المسلمون کے رہنما اور ایک بہت بڑے قانون دان علامہ حسن الضیبی نے حکومت پاکستان کو ایک تار روانہ کیا جس میں لکھا تھا ’’ سید ابوالاعلی مودودی کی سزا کا حکم دراصل تحریک اسلامی کو سزادینے کے برابر ہے یہ ایک بہت بڑا جرم ہے ‘ اقصائے عالم کے سارے مسلمان اس حکم کو نفرت و بیزاری کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کی تنسیخ کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ پاکستان کے ساتھ مسلمانان عالم کی ہمدردیاں اور روابط اسلام کی اساس پر قائم ہیں ۔ عالم اسلام کے ایک اور ممتاز عالم حضرت علامہ نور المشائخ المجددی نے بھی کابل سے ایک تار بھیجا جس میں لکھا تھا’’ سید مودودی کا شمار جلیل القدر علمائے دین میں ہوتا ہے ‘ علمائے حقمیں سے ایک دینی شخصیت کی سزا در حقیقت سزا کے روپ میں دین کی توہین و سزاہے۔لجزائر کے علماء نے سید مودودی کی سزائے موت پر ایک بیان میں کہا ’’ سید مودودی کو سزائے موت کا حکم محض ایک فرد بشر کی موت کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ اسلام کی تلواروں میں سے ایک تلوار کو توڑ دینا ہے ۔ اسلام کی آوازوں میں سب ایک آواز کوخاموش کردینا ہے اور اسلام کے وقار و اعزاز کو مٹا دینا ہے ہم جمعتہ العلماء الجزائر کی جانب سے اور مغرب اقصی کے تین کروڑ مسلمانوں کی طرف سے مولانا مودودی کی سزائے موت اور سزائے قید کے احکام فی الفور واپس لینے کی درخواست کرتے ہیں۔ انڈونیشیا کی ساٹھ مسلم جماعتوں نے اپنے بیان میں کہا ’’ مولانا مودودی صاحب کی اگر پاکستان کو ضرورت نہیں تو دنیائے اسلام کو ان کی زبردست ضرورت ہے ‘ ہم انڈونیشیا کے مسلمان ان کے ساتھ ہیں اور ان کے خیالات کی آج مسلم دنیا کو اشد ضرورت ہے ۔ مولانا مودودی دنیائے اسلام کی قیمتیں امانت ہیں ‘ فلسلین کے مفتی اعظم الحاج محمد الحسینی نے پاکستان کے گورنر جنرل اور وزیراعظم کے نام ایک تار بھیجا جس میں درج تھا ’’ الاستاذ سید ابوالاعلی امیرجماعت اسلامی پاکستان کے متعقل سزا کی خبر نے ان تمام مسلمنانوں کو جنہیں پاکستان سے محبت ہے اور جو پاکستان سے اچھی توقعات رکھتے ہیں شدید صدمہ پہنچایا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان دانشمندی سے کام لے گی اور استاذ مودودی کی سزا کوفورا منسوخ کردے گی ۔ افغانستان کے مشہور عالم نور المشائخ ملا شور بازارنے تار میں کہا ’’ مولانا مودودی کی سزا کا حکم شریعت اسلام سے علانیہ بغاوت ہے اور ان باطل پرستوں کی ہمت افزائی ہے جو اسلام کے خلاف نبرد آزما ہیں ’’ شیعان عراق کے مجتہد اعظم حضرت الامام محمد الخاص اور عراق کے اہل سنت والجماعت کے پیشوائے اعظم علامہ الزبادی نے عراق ‘ سعودی عرب ‘مصر اور ایران کے حکمرانوں کو ایک تار بھیجا جس میںان سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ مولانا مودودی کی سزا منوخ کرانے کی کوشش کریں۔ دمشق (شام) میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنے شامیوں نے سید مودودی کی سزا کے خلاف مظاہرے کئے ماریشیس کے مسلمانوں نے بھی تاروں اورخطوط کے ذریعے حکومت پاکستان سے زبردست احتجاج کیا۔ سید مودودی کی جیل میں استقامت و پامردی سید مودودی کی سزا کے خلاف دنیا بھرمیں تو اس قدر احتجاج ہورہا تھا مگر سید مودودی کو فوجی عدالت کے اس فیصلے پر ذرہ برابر بھی گھبراہٹ نہیں تھی جب ان کے ساتھیوں نے جیل میں ان سے پوچھا کہ کیا حکومت کے فیصلے کے خلاف آپ کی طرف سے رحم کی اپیل دائر کی جائے تو انہوںنے پھانسی کی کوٹھڑی میں کھڑے ہوکر فرمایا ’’ نہیں ہرگز نہیں میں نہیں چاہتا کہ میری طرف سے یا میرے خاندان کے کسی فرد کی طرف سے یا خود جماعت کی طرف سے کوئی رحم کی درخواست پیش کی جائے۔ اس کے بعد انہوںنے اپنے بیٹے عمر فاروق کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ’’ بیٹا ذرا نہ گھبرانا!اگر میرے پروردگار نے مجھے اپنے پاس بلانا منظور کرلیا ہے تو بندہ بخوشی اپنے رب سے جاملے گا اور اگر اس کا ہی ابھی حکم نہیں آیا تو پھرچاہے لوگ الٹے لٹک جائیں مجھ کو نہیں لٹکا سکتے‘‘ چنانچہ سید مودودی نے اپنی سزا کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی ‘ انہوںنے کہاکہ اگر میں ظالم حکمرانوں کے سانے دب گیا اور اپیلیں کرنے لگا تو پھر اس ملک سے انصاف کا جنازہ اٹھ جائے گا بالآخر حکومت نے خود ہی سزائے موت کو چودہ سال کی قید میں تبدیل کردیا۔ سید مودودی کے ساتھی تو کچھ عرصے کے بعد جیل سے رہا کردئےے گئے اور انہوں نے واپس آکر دین کے کام کو آگے بڑھایا لیکن سید مودودی کومزید دو سال اور گیاہ ماہ تک جیل میں رکھا گیا اور بالآخر وہ عدالت عالیہ کے ایک حکم کے ماتحت ہی رہاہوئے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: