Articles

قادیانیوں کا حمایتی زندیق ہے،الطاف حسین نے کفر کیا، مفتیان کرام

In پاکستان on ستمبر 12, 2009 by ابو سعد Tagged:

الطاف حسین نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں قادیانیوں سے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس کے بعد شریعت کی نظر میں وہ کیا ہے؟ یہ تھریڈ اس سوال کے جواب کے لیے الگ شروع کیا جارہا ہے کیوں کہ ’’ایم کیو ایم قادیانی وٹہ سٹہ ؛الطاف حیسن کا انٹرویو‘‘ خاصہ طویل ہوگیا اس لیے اس کے بارے میں مختلف حلقوں خصوصا علمائے کرام کے موقف کو یہاں پیش کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ اس کے بارے صرف علمائے کرام ہی نہیں بلکہ قوم پرست جماعتوں کا بھی ردعمل آیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ الطاف حسین جس قادیانی کشتی میں بیٹھ رہے ہیں وہاں بیٹھنے کے لیے سیکولر لوگ بھی کو تیار نہیں۔ دوسرا پہلو اس کا یہ بھی کہ یہ واحد قوم پرست جماعت ہے جو سیکولر ہی نہیں بلکہ اسلام دشمن بھی ہے۔

 ردعمل ملاحظہ کریں ۔ سب سے پہلا مولانا اللہ وسایا صاحب کا موقف پیش کیا جارہا ہے۔ ان سے منسوب ایک خبر کل ٹی وی چینلز پر چل رہی تھی اور آج کے روزنامہ جنگ میں چھپی ہے جو غلط ہے۔ مولانا کا موقف اور مفتی منیب الرحمن صاحب کا موقف ذیل میں ملاحظہ کریں۔

الطاف حسین بتائیں کہ قادیانیوں کو کافر سمجھتے ہیں یا نہیں

کراچی ( وقائع نگار خصوصی) عالمی تحفظ ختم نبوت کے رہنماءمولانا اللہ وسایا نے کہا ہے کہ الطاف حسین کا یہ کہنا کہ میں نے مرزا طاہر کی وفات پر تعزیت کی تھی جس پر لوگوں نے مجھ پر کفر کے فتوے لگائے اور اب میں دوبارہ کفر کرنے جارہاہوں ‘اس جملے سے رضا بالکفر ثابت ہوتا ہے اور فقہا کہتے ہیں کہ رضا بالکفر بھی کفر ہے۔ انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا ہے جو ان کے ایمان اور آخرت کے لیے نقصان دہ ہے ‘ اس کے لیے ان کو وضاحت اور صراحت کے ساتھ کھلے دل سے توبہ کرنا چاہیے۔ ان کی خیر خواہی کا تقاضا یہی ہے کہ ان سے یہ مطالبہ کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جسارت سے خصوصی گفتگو میں کیا۔مولانا وسایا نے وضاحت کی کہ ٹی وی چینلز پر جو ٹیکر چل رہا ہے اس ضمن میں میری درخواست ہے کہ مجھ سے کسی نے سوال کیا تھا کہ الطاف حسین کی تازہ وضاحت آئی ہے ‘ اس پر میں نے اتنا کہا کہ انہیں اگر اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور انہوں اپنے آپ کو مسلمان کہلوایا ہے کہ میرے عقائد یہ ہیں اس حد تک تو صحیح ہے لیکن ان کی وضاحت اس وقت تک قابل قبول نہیں ہے کہ جب تک وہ واضح طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرکے وعدہ نہ کریں کہ میں آئندہ قادیانیوں کی حمایت نہیں کروں گا۔ تو اس بیان کا پہلا حصہ لیا گیا اور دوسرا حصہ نشر نہیں کیا گیا۔ جہاں تک اس جملے کا تعلق ہے کہ الطاف حسین نے بروقت وضاحت کرکے شرپسندوں کے منہ بند کردیے ہیں تو میں نے ایسا کوئی جملہ نہیں کہا ہے۔مولانا وسایا نے مزید کہا کہ الطاف حسین کہتے ہیں کہ قادیانیوں کو تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیے تو ہم درخواست کرتے ہیں کہ قادیانی قادیانیت کے نام سے اپنے عقائد کی تبلیغ کریں ‘ اپنی اصطلاحات استعمال کریں ‘ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ قادیانی یہ کہتے ہیں مرزا غلام احمد محمد رسول اللہ تھا ‘ تو کیا ہم قادیانیوں کو یہ اجازت دے دیںکے مرزا قادیانی محمد رسول اللہ تھا؟ یہ کہ مرزا قادیانی کی بیوی ام المومنین تھی اور یہ کہ وہ سید النسا تھی اور یہ کہ مرزا قادیانی کے دیکھنے والے صحابی تھے اور یہ کہ غلام قادیانی کا پہلا خلیفہ نورالدین ابوبکر صدیق تھا ‘ کیا قادیانیوں کو یہ سب کچھ کہنے کی اجازت دے دیں ؟ کیا ایک سادہ سا جملہ ان کو تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیے کہہ کرخلاف اسلام عقائد کی ترویج کی اجازت دی جائی؟الطاف حسین یہ شاید بھول گئے کہ قادیانیت اور اسلام میں مشرق و مغرب کا فرق ہے اور قادیانیوں کے عقائد سراسر اسلام کی نفی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر قادیانیت سچی ہے تو پھر معاذاللہ اسلام غلط ہوگا۔ ان کو تبلیغ کی اجازت دینے کا مطالبہ کرنا الطاف حسین کی لاعلمی کی دلیل ہے۔انہوں نے کہا کہ الطاف حسین ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیںجو دین ودنیا کی خسارے والی بات ہے تو الطاف حسین کو یہ خوش فہمی ہوگی کہ میرے کچھ کہنے سے قادیانیت بچ جائے گی تو انہیں یہ یقین کرنا چاہیے کہ وہ ایک ایسی کشتی میں سوار ہورہے ہیں جس کو یہ بچانے کی کوشش کررہے ہیں ‘ ہمارا موقف یہ ہے کہ قادیانیت خود بھی ڈوبے گی اور جو اس کو بچانے کی کوشش کرے گا وہ بھی انشااللہ ڈوبے گا۔ اب یہ کہنا کہ میں فلاں مفتی کا پوتا ہوں‘یہ سارے عذرلنگ ہیں۔ کاش ان کے دادا زندہ ہوتے تو ان کا بھی وہی موقف ہوتا جو علامہ اقبال کا تھا‘ جو پاکستان کی پارلیمنٹ کا تھا اور جو پاکستان کے سارے مکاتب فکر کے علمائے کرام کا ہے۔ افسوس کہ الطاف حسین کو قادیانیوں کی حمایت کرتے ہوئے اپنے آباواجدا د کا خیال رہا اور نہ ہی محمد عربی کی عزت و ناموس کا۔دوسری جانب تنظیم المدارس پاکستان کے صدر اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمن نے جسارت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قادیانیوں کے ارتداد اور کفر پر اُمت کا اجماع ہے‘ ختم نبوت کا عقیدہ ‘ قرآن و سنت اور اجماع قطعی سے ثابت ہے لہٰذا الطاف حسین یہ نہ بتائیں کہ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں بلکہ یہ بتائیں کہ کیا وہ قادیانیوں کو کافر ومرتد سمجھتے یا نہیں ۔ 

 http://www.jasarat.com/epaper/mmdetails.php?date=12-09-2009&file=05&category=nation

05

http://www.ummatpublication.com/2009/09/12/story1.html

story1

http://ummatpublications.com/2009/09/11/story1.html

story1

http://www.ummatpublication.com/2009/09/12/lead20.html

news-20

http://www.ummatpublication.com/2009/09/12/lead27.html

news-27

http://www.ummatpublication.com/2009/09/12/lead21.html

news-21

http://www.ummatpublication.com/2009/09/12/lead28.html

news-28

http://www.ummatpublication.com/2009/09/12/lead25.html

news-

news-25

news-26 

3 Responses to “قادیانیوں کا حمایتی زندیق ہے،الطاف حسین نے کفر کیا، مفتیان کرام”

  1. time comes on (our) people when Islam will be left merely in its name. Nothing of the Quran will remain except its letters. Their mosques will be full of people, yet will be empty of all righteousness. Their ulema (scholars) will be the worst creatures under the firmament of the heavens. From them will emerge discordance and to them shall it return.
    Shaib-ul-Iman by Imam Bahiqi (d. 484 A.H.), part 2, p. 311, pub. Darul Kutub Al-Ilmia, Beirut. Mishkat Kitab-ul-Ilm Al Furu min Al-Jame Al-Kafi, vol. 3, p. 144 by Allama Abu Jaffar Muhammad bin Kalbi, pub. Nau Lakthur.

  2. Aaj kall tammam ke tammam –so called ulema are slling islam-

    How much fee you get for Janaza, nikah, Imamat or other Islamic fair.

    Ulema out of you getting bribe or land on the name of mudersa but shifting on their own name—-is it Islam.

    Some —so called ulema running with Burka—such Ulema should call them Hijra.

    I real feel shame of such —so called ulema, which dont have Insaniat.

    Kehtay hain Dushmen maray tey kushian na keraye assan vi mer jana.

    Allah ka Khaof khao aap sub aur agher waqaye aap Muslim ho to logon ko achi naseat karo. Insaniat ka sabaq do.

    Hatiar matt do hidaet do—lakin afsos wo aap logon ke paas kud hi nahi.

    Aaj Pakistan main jo kuch ho raha hain aap sub—so called ulema ki waje se hai—agher aap theek sabaq detay to aaj hamain yeh dinn naa dekhney naseeb hotay.

    Zara socho—aik din aap ne bi Allah ko jawab dena hai.

  3. If I had a penny for each time I came to talkhaabau.wordpress.com… Amazing post.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: