Articles

قادیانیوں کے سیاسی عزائم

In پاکستان on ستمبر 13, 2009 by ابو سعد Tagged:

سید ابوالاعلیٰ مودودی
دوسرے گروہوں کے کوئی ایسے سیاسی رجحانات نہیں ہیں جو ہمارے لیے کسی حیثیت سے خطرناک ہوں اور ہمیں مجبورکرتے ہوں کہ ہم فوراً ان کے مسئلے کو حل کرنے کی فکر کریں۔ لیکن قادیانیوں کے اندر بعض ایسے خطرناک سیاسی رجحانات پائے جاتے ہیں، جن سے کسی طرح آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔
ان کو ابتدا سے یہ احساس رہا ہے کہ ایک نئی نبوت کا دعویٰ لے کر جو شخص یا گروہ اٹھے گا اُس کا کسی آزاد و بااختیار سوسائٹی کے اندر پنپنا مشکل ہے۔ وہ مسلم قوم کے مزاج سے واقف ہیں کہ وہ طبعاً ایسے دعووں سے متنفر ہے جو ماننے اور نہ ماننے والوں کے درمیان کفر و اسلام کی تفریق کرکے نظام دین کو اور اسلامی معاشرے کے نظام کو درہم برہم کرتے ہوں۔ وہ مسلمانوں کی تاریخ سے واقف ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے دور سے لے کر آج تک اس طرح کے مدعیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا رہا ہے۔ انہیں خوب معلوم ہے کہ جہاں حکومت مسلمانوں کے اپنے ہاتھ میں ہو تو وہاں نئی نئی نبوتوں کے چراح نہ کبھی جلنے دیے گئے ہیں اور نہ آئندہ کبھی امید کی جاسکتی ہے کہ جلنے دیے جائیں گے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ صرف ایک غیر مسلم حکومت ہی میں آدمی کو یہ آزادی مل سکتی ہے کہ حکومت کو اپنی وفاداری و خدمت گزاری کا پورا اطمینان دلانے کے بعد مذہب کے دائرے میں جو دعویٰ چاہے کرے اور مسلمانوں کے دین، ایمان اور معاشرے میں جیسے فتنے چاہے اٹھاتا رہے۔ اس لیے وہ ہمیشہ اسلام کی حکومت پر کفر کی حکومت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگرچہ ان کی شکارگاہ مسلمان قوم ہی ہے، کیونکہ وہ اسلام کے نام پر اپیل کرتے ہیں اور قرآن و حدیث کے اسلحہ سے کام لیتے ہیں۔ لیکن ان کا مفاد یہ مطالبہ کرتا ہے کہ مسلمان قوم ایک کافر اقتدار کے پنجے میں بے بس ہوکر ان کی شکارگاہ بنی رہے اور یہ اس کافر اقتدار کے پکے وفادار بن کر اس کا شکار کرتے رہیں۔ ایک آزاد وخودمختار مسلمان قوم ان کے لیے بڑی سنگلاخ زمین ہے جسے وہ دل سے پسند نہیں کرتے اور نہ ہی کرسکتے ہیں۔
اس کے ثبوت میں مرزا غلام احمد صاحب اور ان کی جماعت کے بکثرت بیانات میں صرف چند کا نقل کردینا کافی ہے:
”بلکہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہیں کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزارا ہوسکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں۔ تو پھر کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں۔“
(ملفوظات ِاحمدیہ۔ جلد اول 146)
”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں‘ نہ روم میں‘ نہ شام میں‘ نہ ایران میں‘ نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لیے دعا کرتا ہوں۔“
(تبلیغ رسالت مرزا غلام احمد صاحب۔ جلد ششم ص 69)
”یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سائے سے باہر نکل جاﺅ تو پھر تمہارا ٹھکانہ کہاں ہے۔ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کرنے کے لیے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھیر چکے ہو۔ تم اس خداداد نعمت کی قدر کرو اور تم یقیناً سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ نے سلطنت ِانگریز تمہاری بھلائی کے لیے اس ملک میں قائم کی ہے‘ اور اگر اس سلطنت پر کوئی آفت آئے تو وہ آفت تمہیں بھی نابود کردے گی…. ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ سنو‘ انگریزی سلطنت تمہارے لیے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لیے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے تمہاری وہ سپر ہے۔ پس تم دل وجان سے اس سپر کی قدر کرو اور ہمارے مخالف جو مسلمان ہیں‘ ہزار ہا درجہ اُن سے انگریز بہتر ہیں کیونکہ وہ ہمیں واجب القتل نہیں سمجھتے۔ وہ تمہیں بے عزت نہیں کرنا چاہتے۔“
(اپنی جماعت کے لیے ضروری نصیحت۔ از: مرزا غلام احمد صاحب۔ مندرجہ تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ 123)
”ایرانی گورنمنٹ نے جو سلوک مرزا علی محمد باب بانی فرقہ بابیہ اور اس کے بے کس مریدوں کے ساتھ مذہبی اختلاف کی وجہ سے کیا اور جو ستم اس فرقے پر توڑے گئے وہ ان دانشمند لوگوں پر مخفی نہیں ہیں جو قوموں کی تاریخ پڑھنے کے عادی ہیں۔ اور پھر سلطنت ِترکی نے جو ایک یورپ کی سلطنت کہلاتی ہے‘ جو برتاﺅ بہاءاللہ بانی فرقہ بابیہ بہائیہ اور اس کے جلاوطن شدہ پیروﺅں سے 1863ءسے لے کر 1892ءتک پہلے قسطنطنیہ‘ پھر ایڈریا نوپل اور بعد ازاں مکہ کے جیل خانے میں کیا وہ بھی دنیا کے اہم واقعات پر اطلاع رکھنے والوں پر پوشیدہ نہیں ہے۔ دنیا میں تین ہی بڑی سلطنتیں کہلاتی ہیں۔ اور تینوں نے جو تنگ دلی اور تعصب کا نمونہ اس شائستگی کے زمانے میں دکھایا وہ احمدی قوم کو یقین دلائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ احمدیوں کی آزادی تاج برطانیہ کے ساتھ وابستہ ہے…. لہٰذا تمام سچے احمدی جو حضرت مرزا کو مامور من اللہ اور ایک مقدس انسان تصور کرتے ہیں بدون کسی خوشامد اور چاپلوسی کے دل سے یقین کرتے ہیں کہ برٹش گورنمنٹ ان کے لیے فضلِ ایزدی اور سایہ¿ رحمت ہے اور اس کی ہستی کو وہ اپنی ہستی خیال کرتے ہیں۔“
(الفضل13ستمبر1914ئ)
یہ عبارات اپنی زبان سے خود کہہ رہی ہیں کہ کفار کی غلامی جو مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی مصیبت ہے، مدعیانِ نبوت اور ان کے پیروﺅں کے لیے وہی عین رحمت اور فضلِ ایزدی ہے‘ کیونکہ اسی کے زیر سایہ ان لوگوں کو اسلام میں نئی نئی نبوتوں کے فتنے اٹھانے اور مسلم معاشرے کی قطع و برید کرنے کی آزادی حاصل ہوسکتی ہے‘ اور اس کے برعکس مسلمانوں کی اپنی آزاد حکومت جو مسلمانوں کے لیے ایک رحمت ہے، ان لوگوں کے لیے وہی ایک آفت ہے‘ کیونکہ بااختیار مسلمان بہرحال اپنے ہی دین کی تخریب اور اپنے ہی معاشرے کی قطع و برید کو بخوشی برداشت نہیں کرسکتے۔
پاکستان میں قادیانی ریاست
اس مستقل رجحان کے علاوہ اب ایک نیا رجحان قادیانی گروہ میں یہ ابھر رہا ہے کہ پاکستان کے اندر ایک قادیانی ریاست کی بِنا ڈالنا چاہتے ہیں۔ قیام پاکستان کو ابھی پورا ایک سال بھی نہ گزرنے پایا تھا کہ 23 جولائی 1948ءکو قادیانی خلیفہ صاحب نے کوئٹہ میں ایک خطبہ دیا جو 13 اگست کے الفضل میں بایں الفاظ شائع ہوا ہے:
”برٹش بلوچستان، جو اب پاکی بلوچستان ہے، کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ یہ آبادی اگرچہ دوسرے صوبوں کی آبادی سے کم ہے مگر بوجہ ایک یونٹ ہونے کے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ دنیا میں جیسے افراد کی قیمت ہوتی ہے یونٹ کی بھی قیمت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکا کی کانسٹی ٹیوشن ہے۔ وہاں اسٹیٹس سینیٹ کے لیے اپنے ممبر منتخب کرتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کس اسٹیٹ کی آبادی دس کروڑ ہے یا ایک کروڑ ہے۔ سب اسٹیٹس کی طرف سے برابر ممبر لیے جاتے ہیں۔ غرض پاکی بلوچستان کی آبادی پانچ چھ لاکھ ہے اور اگر ریاستی بلوچستان کو ملا لیا جائے تو اس کی آبادی گیارہ لاکھ ہے لیکن چونکہ یہ ایک یونٹ ہے اس لیے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہے لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلد احمدی بنایا جاسکتا ہے…. یاد رکھو تبلیغ اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہماری Base مضبوط نہ ہو۔ پہلے بیس مضبوط ہو تو پھر تبلیغ پھلیتی ہے۔ بس پہلے اپنی Base مضبوط کرلو۔ کسی نہ کسی جگہ اپنی Base بنا لو۔ کسی ملک میں ہی بنا لو…. اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنا لیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہوجائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ بڑی آسانی کے ساتھ ہوسکتا ہے۔“
یہ تقریر کسی تشریح کی محتاج نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ دوسرے گروہ جن کی موجودگی کا حوالہ دے کر قادیانیوں کو برداشت کرنے کا ہمیں مشورہ دیا جاتا ہے کیا ان میں سے بھی کسی کے ایسے منصوبے ہیں؟ کیا ان میں سے بھی کوئی ایسا ہے جو اپنے مذہب کے لیے غیر مسلم اقتدار کو مفید سمجھتا ہو اور مسلم اقتدار قائم ہوتے ہی ریاست کے اندر اپنی ریاست بنانے کی فکر میں لگ گیا ہو؟ اگر نہیں ہے تو پھر ان کی مثال قادیانیوں پرکیوں چسپاں کی جاتی ہے؟

عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور مدعی نبوت کی تکفیر کے باب میں علماءامت کے اقوال

امام ابوحنیفہ

 ایک شخص نے امام ابوحنیفہ کے زمانے میں نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں۔ اس پر امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ جو شخص اس سے علامات کا مطالبہ کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

۔ علامہ ابن حزم

”اور یقینا وحی کا سلسلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سے منقطع ہوچکا ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ وحی نہیں ہوتی مگر ایک نبی کی طرف‘ اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں تم میں سے کسی کے باپ‘ مگر وہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم ہیں نبیوں کے۔“

 

 امام غزالی

امت نے اس لفظ (لانبی بعدی) سے بالاجماع یہ سمجھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتادیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کبھی نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ رسول۔ اور یہ کہ اس میں کسی تاویل اور تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔ جو شخص اس کی تاویل کرکے اسے خاص معنی کے ساتھ مخصوص کرے اس کا کلام مجنونانہ بکواس کی قسم سے ہے اور یہ تاویل اس پر تکفیر کا حکم لگانے میں مانع نہیں ہے‘ کیونکہ وہ اس نص کو جھٹلا رہا ہے جس کے متعلق تمام امت کا اجماع ہے کہ اس کی تاویل و تخصیص نہیں کی جا سکتی۔

قاضی عیاض

جو شخص خود اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرے یا جو نبوت کے اکتساب اور صفائی قلب کے ذریعے سے مرتبہ¿ نبوت تک پہنچ جانے کو جائز رکھے جیسا کہ فلسفی لوگ اور غالی متصوفین کہتے ہیں اور اسی طرح جو دعوے کرے کہ اس پر وحی آتی ہے اگرچہ نبی ہونے کا دعویٰ نہ کرے…. ایسے سب لوگ کافر ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے ہیں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں‘ کوئی نبی آپ کے بعد آنے والا نہیں اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں جنہیں تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہے اور تمام امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پر محمول ہے اور اس مفہوم و مراد میں تاویل و تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا ان تمام لوگوں کے کفر میں شک کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے، بربنائے اجماع بھی اور بربنائے نقل بھی…. اور اسی طرح وہ بھی کافر ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یا آپ کے بعد کسی کی نبوت کا قائل و مدعی ہو۔

علامہ شہرستانی

”اور اسی طرح جو کہے…. یا یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عیسیٰ بن مریم کے سوا کوئی نبی ہے تو اس کی تکفیر میں دو آدمیوں کے درمیان بھی اختلاف نہیں ہے۔“(الملل والنحل۔ جلد3۔صفحہ249)

علامہ ابن کثیر

ہر وہ شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس مقام (نبوت) کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔

علامہ ابن نجیم

گر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ان باتوں میں سے ہے جن کا جاننا اور ماننا دین میں ضروری ہے۔
ملا علی قاری 1016ھ
”اور ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کفر ہے باجماع امت۔“
(شرح فقہ اکبر۔ صفحہ202)

شیخ اسماعیل حقی

اہل سنت و الجماعة اس بات کے قائل ہیں کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اب جو کوئی کہے کہ ہمارے نبی کے بعد کوئی نبی ہے تو اس کی تکفیر کی جائے گی کیونکہ اس نے نص کا انکار کیا۔ اسی طرح اس شخص کی تکفیر بھی کی جائے گی جو اس میں شک کرے۔ کیونکہ حجت نے حق کو باطل سے الگ کردیا ہے اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے اس کا دعویٰ باطل کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔

فتاویٰ عالمگیری

اگر آدمی یہ نہ جانے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ اور اگر کہے کہ میں رسول اللہ ہوں یا فارسی میں کہے کہ من پیغمبرم‘ اور اس کی مراد یہ ہو کہ وہ پیغام لانے والا ہے تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔

علامہ آلوسی

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ان باتوں میں سے ہے جن کی کتاب اللہ نے تصریح کی اور سنت نے واشگاف بیان کیا اور امت نے اس پر اجماع کیا۔ لہٰذا اس کے خلاف دعویٰ کرنے والے کی تکفیر کی جائے گی اور اگر اصرار کرے گا تو قتل کیا جائے گا۔

 قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے لیے علماءکی متفقہ تجویز

پاکستان کے سربر آوردہ علماءنے دستوری سفارشات میں جو ترمیمات پیش کی ہیں ان میں سے ایک ترمیم یہ بھی ہے کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دے کر پنجاب سے مرکزی اسمبلی میں ان کے لیے ایک نشست مخصوص کردی جائے اور دوسرے علاقوں کے قادیانیوں کو بھی اس نشست کے لیے کھڑے ہونے اور ووٹ دینے کا حق دے دیا جائے۔ اس ترمیم کو علماءنے ان الفاظ کے ساتھ پیش کیا ہے۔
”یہ ایک نہایت ضروری ترمیم ہے جسے ہم پورے اصرار کے ساتھ پیش کرتے ہیں ملک کے دستور سازوں کے لیے یہ بات کسی طرح موزوں نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات اور مخصوص اجتماعی مسائل سے بے پروا ہو کر محض اپنے ذاتی نظریات کی بناءپر دستور بنانے لگیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کے جن علاقوں میں قادیانیوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کے ساتھ ملی جلی ہے وہاں اس قادیانی مسئلے نے کس قدر نازک صورتحال پیدا کردی ہے ان کو پچھلے دور کے بیرونی حکمرانوں کی طرح نہ ہونا چاہیے جنہوں نے ہندو مسلم مسئلہ کی نزاکت کو اس وقت تک محسوس کرکے ہی نہ دیا جب تک متحدہ ہندوستان کا گوشہ گوشہ دونوں قوموں کے فسادات سے خون آلود نہ ہوگیا۔ جو دستور ساز حضرات خود اس ملک کے رہنے والے ہیں ان کی یہ غلطی بڑی افسوسناک ہوگی کہ وہ جب تک پاکستان میں قادیانی مسلم تصادم کو آگ کی طرح بھڑکتے ہوئے نہ دیکھ لیں…. اس وقت تک انہیں اس بات کا یقین نہ آئے کہ یہاں ایک قادیانی مسلم مسئلہ موجود ہے جسے حل کرنے کی شدید ضرورت ہے اس مسئلہ کو جس چیز نے نزاکت کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے وہ یہ ہے کہ قادیانی ایک طرف مسلمان بن کر مسلمانوں میں گھستے بھی ہیں اور دوسری طرف عقائد، عبادات اور اجتماعی شیرازہ بندی میں مسلمانوں سے نہ صرف…. الگ ہیں بلکہ ان کے خلاف صف آراءبھی ہیں اور مذہبی طور پر تمام مسلمانوں کو اعلانیہ کافر قرار دیتے ہیں۔ اس خرابی کا علاج آج بھی یہی ہے اور پہلے بھی یہی تھا(جیسا کہ علامہ اقبال مرحوم نے اب سے بیس برس پہلے فرمایا تھا) کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دے دیا جائے۔
علماءکے نام
مولانا مفتی محمد حسن صاحب……..خلیفہ حاجی ترنگ زئی
مولانا ابوالحسنات صاحب…….. مولانا اطہر علی صاحب
مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی…….. مولانا محمد اسماعیل صاحب
سید ابو الاعلیٰ مودودی…….. مولانا حبیب اللہ صاحب
مولانا شمس الحق صاحب…….. علامہ سید سلیمان ندوی
مولانا مفتی محمد شفیع صاحب……..مولانا داﺅد غزنوی صاحب
مولانا خیر محمد صاحب……..مولانا احمد علی صاحب
مولانا احتشام الحق صاحب……..قاضی عبدالصمد صاحب سربازی
مولانا عبدالحامد قادری بدایوانی…. مولانا ابو جعفر محمد صالح صاحب
مولانا محمد ادریس صاحب…….. مولانا محمد اسماعیل صاحب
حاجی محمد امین صاحب…….. مولانا محمد صادق صاح

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: