Articles

جامعہ کراچی میں امریکی جارحیت کے منہ پر مزاحمت کا جوتا

In پاکستان on اکتوبر 9, 2009 by ابو سعد Tagged: , ,

ہم اُردو میں کہتے ہیں کہ ’’فلاں کو بہت جوتے پڑرہے ہیں۔‘‘ جوتے کی مار اگر چہ مار ہی ہوتی ہے لیکن جوتا پڑنے کا 1mh7MPوہ مطلب نہیں ہے جو معنی کسی کو مارنے یا پیٹنے کے ہیں۔ مارا تو مسلمانوں کو جارہا ہے ۔ جو امریکا صلیبی جنگ کا اعلان کرکے مسلمان ممالک پر جارحیت کا مرتک ہوا تھا اس نے ایک ایک کرکے مسلمانوں کو مارنا شروع کردیا۔ انفارمشن کلیئرنگ ہاوس نامی ویب سائٹ جس کا دعویٰ ہے کہ یہاں ہر وہ خبر بھی ملتی ہے اور بی بی سی اور سی این این پر نہیں ملتی،کہ عراق پر امریکی جارحیت کے بعد سے ۱۳۳۹۷۷۱عراقیوں کا قتل کیا جاچکا ہے، اس کے لیے امریکا کو ۴،۶۶۷ امریکی فوجیوں سے ہاتھ دھوجانا پڑا ہے ، مارے جانے والے دیگر اتحادی افواج کی تعداد ۱۱۴۶ ہے۔ افغانستان کے اعداد وشمار میرے سامنے نہیں ہیں۔ امریکا چن چن کر مسلمانوں کو مار ہی تو رہا ہے۔ لیکن اب امریکیوں کو جوتے پڑنا شروع ہوگئے ہیں تبھی تو انہوں نے افغانستان سے امریکی جنگ پاکستان کی طرف منقتل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن

کلفرڈ ڈی۔ مے

کلفرڈ ڈی۔ مے

امریکی یا تو شاید حسین حقانی نامی غدار کو دیکھتے ہیں یا پھر ہمارے سیاست دانوں اور فوج کے سربراہوں سے واقف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستانی عوام امریکیوں پر مرتے ہیں۔ لیکن کل جامعہ کراچی کے شبعہ بین الاقوامی تعلقات کے طالب علم محمد حسین نے امریکیوں کو ایک اور حقیقت سے روشناس کرایا۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عوام جارح، ظالم اور دہشت گرد امریکا کے چہرے کو دیکھ چکے ہیں اور ان کو ہر گز امریکا سے کوئی محبت نہیں۔ ایک خبر کے مطابق’’ جامعہ کراچی کے طالبعلم نے امریکی اسکالر کو جوتا دے مارا‘‘ اگر میں مذکورہ ٹی وی چینل ’’آج ‘‘ کا کاپی ایڈیٹر ہوتا تو میں اس کی سرخی کچھ یوں جماتا’’ جامعہ کراچی کے طالب  علم نے جارحیت کے نمائندہ کے منہ پر جوتا دے مارا‘‘ خیر اس بحث کو چھوڑیے ،خبر کی تفصیل پڑھیے؛

کراچی: ملکوں کو غلام بنانے اور وسائل پر قبضے کی امریکی جنگ کے خلاف جس نفرت کا آغاز بغداد سے ہوا تھا آج اس کا اظہار جامعہ کراچی میں ایک بار پھر اس وقت ہوا جب ایک امریکی اسکالر کلفرڈ مے کو ایک طالبعلم کے جوتے نے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ امریکا کے سابق صدر بش کو جوتا کیا پڑا کہ اب تودنیا بھر کی اہم شخصیات سر بچانے کی فکر میں رہتی ہیں کہ نجانے کب جوتے کے ذریعے عوامی نفرت کا اظہار ہو جائے۔یہی کچھ ہوا پچھلے دنوں استنبول کے دورہ پر آئے ہوئے آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر کے ساتھ جو یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میں طلباء سے خطاب کر رہے تھے۔ اس دوران ایک طالبعلم صحافی نے اپنا سفید جوتا آئی ایم ایف کے ڈائریکٹرکو دے مارا ۔بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ ، اپوزیشن لیڈر ایل کے ایڈوانی اور وزیر داخلہ چدم برم بھی جوتے کھانے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ اور اب یہی واقعہ دہرایا گیا ہے جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں، جہاں دوران لیکچر امریکی اسکالر کلفرڈ مے بھی جوتے کا شکار ہو گئے ۔امریکی اسکالر آئی ایس او کے محمد حسین کو ان کے سوال پر مطمئن نہیں کر سکے تو طالب علم نے امریکی اسکالر کو اچانک جوتا دے مارا جس سے وہ جھک کر بچ نکلے۔ واقعے کے بعد ہال میں سنا ٹا چھاگیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ لیکچر سے پہلے محمد حسین کا تعارف ایک بہترین طالب علم کے طور پر کرایا گیا تھا۔

دی نیشن کے مطابق؛ پروگرام یونیورسٹی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر منعقد کیا گیا تھا جبکہ اکثر اساتذہ مذکورہ اسلام دشمن جرنلسٹ کو مدعو کرنے پر ناراض تھے اور پروگرام میں شریک نہیں ہوئے۔

دی نیوز کے مطابق؛ صحافی جس کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا (جارج اور شیطان) جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ میں پارٹی کا سرگرم رکن رہ چکا ہے۔

امریکی اسکالر کے روئیے نےجوتا مارنے پرمجبور کیا، طالبعلم

طالب علم کا کہنا ہے  کہ امریکی اسکالر کے رویے نے اس کو ایسا کرنے پر مجبور کردیا۔محمد حسین hussainنے کہا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی حمایت اور تضحیک آمیز روئیے نے اسے جوتا مارنے پر مجبور کیا۔ کراچی پریس کلب کے باہر میڈیا سے بات چیت میں جامعہ کراچی شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے طالبعلم محمد حسین نے کہا کہ امریکی تھنک ٹینک فاوٴنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسییز کے سربراہ کلفورڈیمے نے مسلمانوں کو انتہا پسند اور ایران کے اسلامی انقلاب کو بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کی جڑ قرار دیا۔ طالبعلم کا کہنا تھا کہ اس کے سوالوں پر کلفورڈ نے تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا جس کے جواب میں اس نے کلفورڈ کو جو تا دے مارا۔ محمد حسین نے جامعہ کراچی کی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس کے اقدام کو محب وطن پاکستانی کے امریکیوں کیخلاف جذبات سمجھیں اوراسے مزید تعلیم حاصل کرنے دیں۔محمد حسین نے کہا ہے کہ اسے اپنی جان کا خطرہ ہے کیونکہ اس واقعہ کے بعد کچھ عناصر اسے نشانہ بنا سکتے ہیں۔

المتظر الزیدی

کراچی پریس کلب کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد حسین نے المتظر الزیدی کا بھی حوالہ دیا۔ جی eng_shoe_GBT_BM_Bay_721827gہاں وہی المتظر زیدی جس نے جوتا ماری کی یہ روایت ڈالتے ہوئے سب سے پہلے جوتا صلیبی فوج کے سپریم کمانڈر امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر پھینکا تھا۔ نشانہ باز اچھا نہیں تھا یا پھر بش کی قسمت اچھی تھی کہ نشانہ خطا ہوا لیکن جوتا بہرحال اتنے قریب سے گزرا تھا کہ بش کو جوتے کا نمبر یاد رہ گیا تھا۔ جی ہاں یہ جوتا دس نمبر کا تھا، جو دونمبر آدمی کو ہٹ نہ کرسکا۔

کلیفورڈ ڈی۔ مے کون ہیں؟

کلیفورڈ ڈی۔ مے امریکی تھنک ٹینک فاونڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسی کے صدر ہیں۔  ڈیلی ٹیلی گراف نے موصوف کو امریکا کے سو باثر کنزرویٹیو میں شمار کیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ امریکا کی موجودہ پالیسیوں کی تشکیل میں اس کا بھی حصہ ہے۔ اس کے علاوہ ان کو ۲۰۰۶ میں عراق اسٹڈی گروپ جس کو کانگریس فنڈ کرتا ہے کا ایڈوائزر تعینات ہوا تھا۔

امریکی اسکالر کو جوتا نہیں مارنا چاہیے تھا؟

بہت سارے روشن خیال شاید امریکی اسکالر کو جوتا مارنے سے ناراض ہوئے ہوں لیکن ان کی اطلاع کے لیے ( کیوں کہ قائل نہیں کیا جاسکتا) میں یہاں حال ہی میں آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر پر جوتا پھینکنے والے ترک طالب علم کا ایک جملہ نقل کروں گا ۔طالب علم نے  کہا تھا کہ انہوں آئی ایم ایف کے سربراہ پر اس لیے جوتا پھینکا کیوں کہ وہ ’’ سرمایہ دارانہ نظام کا نمائندہ‘‘ ہیں۔ جارج بش اور کلیفورڈ ڈی۔ مے دراصل جارحیت کے نمائدہ ہیں ۔ جی وہی  جارحیت جس کو اب افغانستان اور عراق میں مزاحمت کے ہاتھوں جوتے پڑ رہے ہیں ۔ ایک جوتا عراق میں منتظر الزیدی نے مارا اب ایک جوتا جامعہ کراچی کے شبعہ بین الاقوامی تعلقات میں اسے پڑا۔  محمد حسین کا جوتا جارحیت کے منہ پر مزاحمت اور آزادی پسندی کا جوتا ہے ۔ یہ دہشت گردی کے منہ پر امن پسندی کا جوتا ہے۔

2 Responses to “جامعہ کراچی میں امریکی جارحیت کے منہ پر مزاحمت کا جوتا”

  1. Boht Shandar Kaam Kia hai Hussain ne. In Amrikiun Ko abb samjh Lena chahiay Keh inko kisi surat qabool nahn kia jaega.

  2. Why are Shiites throwing the shoes? Why are they not fighting the US and its allies directly? Why is US not attacking Iran? Why didn’t Hussain get infuriated when Pakistan was criticized and why when Iran and its system. Is he Pakistani or Iranian?

    The questions are valid, would someone answer these?

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: