Articles

دیانت ‘ بدیانتی

In پاکستان on اکتوبر 22, 2009 by ابو سعد Tagged:

اپنے پاک ٹی ہاوس والے دیسی انگریزوں کو اردو میڈیا سے سخت شکایت ہے۔ وہ آئے دن اردو میڈیا کو موضوع بحث بناد یتے ہیں۔ اردو پریس کی بددیانتی اور بے ایمانی کے بارے میں لکھے گئے ایک کالم کے ذیل میں تبصرہ کرتے ہوئے اسی گروہ کے ایک صاحب نے اس شاندار کام پر یاسر لطیف ہمدانی کو سراہتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ لاہور سے نکلنے والے انگریزی ہفت روزہ نے تو اس کام کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا ہے۔ ان کی اطلاع کم از کم ہمارے لیے اس لیے خبر نہیں ہے کیوں کہ ہم ایک عرصے سے خالد احمد صاحب  کا ’فرائیڈ ے ٹائمز‘ میں اردو پریس کے بارے میں چھپے اس کالم کو ’شوق‘ سے پڑھتے ہیں۔ لیکن اس کالم میں کیا ہوتا ہے؟ اردو اخبارات کے ادارتی صفحات پر قادیانیوں اور امریکیوں سے متعلق ’’منفی‘‘ خبروں اور رائے کا تجزیہ۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ہوتا ہے لیکن جہاں تک ہم نے اس کالم کو پڑھا ہے اس کا مقصد یہی ہے۔ یہی کام کچھ ادارے بھی کرتے ہیں جو پیسے دے کر اردو پریس میں منفی خبروں کا انگریزی میں ترجمہ کرکے امریکی عوام کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ جس کو دہشت گردی کی جنگ کہنا غلط نہیں ہوگا ‘ دراصل ناگزیر ہے‘ اس کے لیے بیشک آپ کا دیوالیہ نکل جائے لیکن ’اسلامی‘ دیو کو بند کیے بغیر چارہ بھی تو نہیں۔

خیر یہ ہم کہاں پہنچ گئے۔ بات اردو میڈیا سے گلے کی ہورہی تھی۔ اور یہ شکایت ’فرائیڈے ٹائمز‘ یعنی ’ڈیلی ٹائمز‘ کے قبیلے والوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ اور اس گروپ نے خیر سے اپنا اردو اخبار ’آج کل‘ بھی نکالنا شروع کردیا ہے جو باقی اردو پریس کی طرح نہیں ہے۔ اس لیے ہم اس میں شائع ایک تصویر شیئر کریں گے۔ یہ تصویر جس میں مظاہرین کا جمع غفیر نظر آرہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تصویر صفحہ اول پر نمایاں چھپی ہے۔

Fp_n12

جب آپ نے تصویر دیکھ لی ہے تو آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہ مظاہرہ اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی پر دہشت گرد حملوں کے خلاف کیا جارہا ہے۔ اس حملے کے خلاف اسلام آباد بھر میں مظاہرے ہوئے ، ظاہر سی بات ہے کہ اس کی تصویرں نہ تو ’آج کل‘ نے چھاپی اور نہ ہی اس کے انگریزی اخبار ’ڈیلی ٹائمز‘ نے اس کو جگہ دی۔ یونیورسٹی پر دہشت گرد حملوں سے متعلق لاہور کے ’’دی نیشن‘‘ کی یہ خبر اس واقعہ کے پس پردہ عناصر تک پہنچنے میں مدد دے گی۔

خبر کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ دارلاحکومت کے مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا کی ایک بڑی تعداد نے دہشت گردوں کی طرف سے دو خودکش دھماکوں میں انٹرنیشل اسلامک یونیورسٹی کے  ان کے ساتھیوں کے ظالمانہ قتل کے خلاف مظاہرے کیے۔

شریعہ اور لا فیکلٹی کے طالب علم حسن جاوید نے رحمن ملک کے طرف سے اسپیشل ٹاسک فورس کے خیال کو گمراہ کن قرار دے کر اس کو خودکش حملوں کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس نے کہا جب قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود ہیں تو اسے میں طلبا اور تعلیمی اداروں کو اس میں گھسیٹنے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔ واضح رہے کہ طلبا نے رحمن ملک کو وہاں سے بھاگنے پر بھی مجبور کیا تھا۔ طلبا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو دہشت گردی کی اس امریکی جنگ سے الگ کردے۔ میری رائے میں اس واقعہ کا بنیفشری امریکا ہی ہے اور وہی یہ حملے کرسکتا ہے۔ جی وہی امریکا جو روات کے مقام پر قائم ایک خفیہ ٹریننگ سنیٹر میں دو سو ریٹائرڈ پاکستانی فوجی افسروں کو ٹریننگ دے رہا ہے اور پولیس کی طرف سے ان ریٹائرڈ فوجیوں کی تفصیل امریکا نے دینے سے انکار کردیا ہے۔ جی وہی امریکا جس کو ہماری جمہوری حکومت نے سہالہ کالج کی حدود  میں ٹرننگ سینٹر کے نام پر اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہ فراہم کی ہے ( واضح رہے کہ مشرف میراثی کی فوجی حکومت ہی اصل ذمہ دار ہے لیکن ہماری توقع جمہوری حکومت سے یہ نہیں تھی کہ وہ جنرل مشرف کی حکومت کی ایکسٹنش ہوگی) اور جب اس کی شکایت کالج کے پرنسیپل ناصر خان درانی نے آئی جی پنجاب کو خط لکھ کر کی تو الٹا رحمن ملک نے ان پر برس کر کہا کہ معصوم امریکی ایسا کہاں کرسکتے ہیں؟ جی ہاں وہی رحمن ملک جن کو اسلام آباد کے طلبا نے بھگا دیا لیکن اس کی خبر ہمدانی کے قبیل کے انگریزی اخبار نے لگائی اور نہ ہی اس کے اردو ورژن یعنی آج کل نے۔

2 Responses to “دیانت ‘ بدیانتی”

  1. جناب آپ نے درست تجزیہ کیا ہے سلمان تاثیر کے قبیلے سے اچھی توقع رکھنا عبث ہے اسلام دشمنی کا کوءی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔حالانکہ دینی جماعتیں بھی اسلام آباد کی یونیورٹی میںہونے والے بم دھماکوں کو جھاد نہیں سمجھتیں بلکہ اسلامی جمعیت طلبہ نے تو اس واقعہ کے خلاف کراچی سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی کءے ہیں۔
    ڈیلی ٹاءم اور آج کل پاکستان کی بجاءے بھارت ترجمان اخبار ہیں ۔چند ماہ قبل جب بھارت کی ایما پر اقوام متحدہ نے پاکستان کی دینی و فلاحی تنظیم جماعۃ الدعوہ پر پابندی لگاءی تو ملک بھر کا میڈیا اس جماعت کے تعلیمی اور فلاحی کاموں کی تعاریف کررہاتھا اور ٹی وی چینل پر اینکر پرسن اور مہمان بھی گواہی دے رہے تھے کہ یہ تنظیم کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملقث نہیں تو اس وقت بھی ڈیلی ٹاءم اور آج کل اپنے ادارے ، مضامین اور خبروں میں بھارتی زبان استعمال کررہا تھا۔
    نا جانے نام نہاد طالبان کو یہ ادارے کیوں نظر نہیں آتے؟
    شاید اسی لءے کے جن کے اشاروں پر وہ کام کررہے ہیں انہی کے لءے یہ اخنارات بھی کام لر رہے ہیں۔

  2. جناب ندیم اعوان صاحب آپ کا بالکل درست تجزیہ ہے۔ اگر آپ کے پاس جماعة الادعوہ پر پابندی کے وقت آج کل اور ڈیلی ٹائمز کے اداریوں اور کالموں کے دیگر اخبارات اور ٹی وی چینلز سے موازنہ ایک تحریر کو صورت میں ہوں اور اس میں اعداد و شمار کے حوالے ہوں تو اسی تحریر یہاں شائع کی جائے گی بلکہ ایسی چیزیں بڑی تعداد میں شائع ہونی چاہیے تاکہ عام پاکستانی پر یہ واضح ہوجائے کہ کون پاکستان کا دوست اور کون دشمن ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: