Articles

ہاں میں ملا ہوں

In پاکستان on نومبر 2, 2009 by ابو سعد

پاکستان بننے کے بعد سے ستر کی دہائی تک جامعات کے کمیپسز میں دوپٹے والی اور داڑھی والے کا داخل ہونے ’طالبان‘ جامعہ کے لیے کمیپس کے اندر ہی عجائب گھر کی کسی مخلوق کی آمد ہوتی تھی۔ ایک بزرگ وکیل سے انڈین چینلز کے ذریعے آئے عریانی کی شکایت کی کہ معاشرے کو ڈرامے میں دکھائے گئے کرداروں جیسا بن دے گی تو موصوف مسکرا نے لگیں۔ بتایا ایک وقت وہ بھی تھا جب کراچی کے پارسی انسٹی ٹیوٹ میں مکمل عریاں رقص ہوا کرتا تھا اور شہر کی شرافیہ کے علاوہ مڈل کلاس کے شہری بھی اہل خانہ سمیت وہاں آکر زندگی کی ’رنگینیوں‘ سے لطف اندوز ہوتے تھے۔

یہ تو دور کی بات ہے۔ نوے کی دہائی میں اسکول اور کالج کا زمانہ دیکھا۔ یہی شعور والا زمانہ ہوتا ہے ۔ والدمحترم جو پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں کی طرف  سےکرفیو جیسی پابندی تھی۔ میرا کوئی بیٹا مسجد میں آذان نہیں دے گا۔ مولوی ہمارا ’کسب گر‘ ہوتا ہے جیسے نائی ، موچی اور ترکھان ہمارے کسب گر ہوتے ہیں۔ اب بھلا میرا کوئی بیٹا کسب گروں والا کام کرے گا۔

اب اللہ کا شکر ہے سوچ بدل گئی ، والد صاحب بھی بدل گئے البتہ اب بھی جیالے ہی ہیں لیکن فرق اتنا پڑا ہے کہ چاروں بیٹوں کے ملا بننے سے اعتراض رہا اور نہ ہی ان کے اذان دینے پر پابندی ہے۔ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ گھر میں جمہوریت ہے کیا ہوا اگر ان کی پارٹی میں جمہوریت نہیں۔

تمہید کچھ لمبی ہوگئی لیکن بتاتے چلیں کہ جب سے نائن الیون ہوا ہے تو ملا ایک گالی بن چکا ہے ۔ کچھ قصور ہماری دینی سیاسی جماعتوں بالخصوص مولانا اقتدار کا بھی ہے لیکن اصل حصہ لبرل فاشسٹوں کے پروپیگنڈا ہے۔ فاشسٹ پروپیگنڈے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ یہی حالت پاکستان کے لبرل فاشسٹوں کا بھی ہے۔ یہ لبرل فاشسٹ اسی کی دہائی سے پہلے اپنے آپ کو کمیونسٹ کہلاتے تھے۔ اب اپرچونسٹ بن گئے ہیں امریکا کی مالا چپتے ہیں۔ کہلاتے لبرل ہیں لیکن اصل میں لبرل فاشسٹ ہیں۔ کراچی میں حق پرست فاشستوں کا میڈیا مانیٹرنگ سسٹم  دیکھا تو حیران ہوا ایسا سسٹم تو کسی ملک کا بھی نہیں ہوسکتا  بھلا ایک پارٹی کو اس کی کیا ضرورت پڑھ گئی؟ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ دکھانے کے لیے پروپیگنڈے کی ضرورت تو ہوتی اور اس کے لیے پوری کی پوری پروپیگنڈا مشنری درکار ہوتی ہے۔

 تو عرض کررہا تھا کہ نائن الیون کے بعد مذہبی رحجان رکھنے والوں کی طرف سے معذرت خواہانہ رویہ اپنایا گیا ہے ۔ مجھے کبھی شرمندگی نہیں ہوئی۔ میں ملا ہوں لیکن مسجد کا پیش امام یا مدرسہ کا فارغ و تحصیل مولوی نہیں ۔ اقبال کا ملا ہوں اگر چہ میں افغانی ملا ہوں لیکن میں اپنے اپنے آپ کو عالمگیر ملا سمجھتا ہوں۔

 عنوان تو ’’اقبال کی شاعری میں ملا کا کردار‘‘ ہے لیکن شاہ نواز فاروقی کا یہ مضمون(گرافک ویو) دراصل ملا کا مقدمہ ہے جس کو پڑھنے سے ملابوفیا میں مبتلا اکثر لبرل دوستوں کو افاقہ ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دس بارہ سال تک طالبان کی مسلسل حمایت کے بعد جو لوگ اچانک اُن کے خلاف ہوگئے ہیں اُن میں ایک نام ملک کے معروف کالم نویس ہارون الرشید کا بھی ہے۔ وہ طالبان اور ان کی ملاّئیت کے خلاف ہوگئے ہیں تو خیر یہ اُن کا ذاتی مسئلہ ہے‘ مگر وہ اپنے ایک کالم میں علامہ اقبال کو بھی گھسیٹ لائے ہیں اور انہوں نے فرمایا ہیں
”کبھی کسی نے سوچا کہ اقبال کی پوری شاعری ملاّ کی مذمت سے کیوں بھری ہے؟ اس لیے کہ وہ ماضی میں زندہ رہتا ہے۔ اختلاف کرنے والوں سےنفرت کرتا ہے اور انہیں جہنم کی وعید دیتا ہے۔“
اب مسئلہ یہ ہے کہ اوّل تو اقبال کی پوری شاعری ملاّ کی مذمت سے بھری ہوئی نہیں ہے۔ آپ اقبال کی اردو کلیات سے ملاّ کے بار ے میں بمشکل دس بارہ شعر نکال کر دکھا سکتے ہیں۔ پھر مزید دشواری یہ ہے کہ اقبال نے کہیں بھی ملاّ کی مذمت نہیں کی ہے۔ دراصل اقبال کو ملاّ کے کردار سے گہری ”شکایت“ ہے‘ اور شکایت و مذمت اور ان کی نفسیات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مگر اقبال کو ملاّ سے شکایت کیا ہے؟ آیئے اس شکایت کا مرحلہ وار مطالعہ کرتے ہیں۔ اقبال کی ایک چار مصرعوں پر مشتمل نظم ہے جس کا عنوان ہے ”ملاّئے حرم“۔ اس نظم میں اقبال فرماتے ہیں
عجب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو
تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام
تری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال
تری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام
اس نظم میں اقبال کو ملاّ سے شکایت یہ ہے کہ وہ ”پہلے کی طرح“ خدا شناس یا ”عارف بااللہ“ نہیں رہا‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے انسان شناسی یا خودشناسی کی اہلیت کھو دی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اقبال کے نزدیک آدمی کا مقام کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آدمی اشرف المخلوقات ہے۔ مسجود ملائک ہے۔ اس کی نماز میں جلال اور جمال اس کی اسی حیثیت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس نظم میں ملاّ کے لیے اقبال کا مشورہ یہ ہے کہ اسے خداشناسی کے ہدف تک پہنچنے کے لیے خود شناسی پیدا کرنی چاہیے تاکہ اس کی نماز میں جلال و جمال پیدا ہوسکے اور اس کی اذان اقبال کی سحر یعنی غلبہ اسلام کی پیامبر بن سکے۔ سوال یہ ہے کہ اس نظم میں اقبال نے ملا کی مذمت کی ہے یا اس سے گہرے تعلق کی بنا پر شکایت کی ہے؟
خودشناسی اور خدا شناسی سےمحرومی معمولی بات نہیں۔ اس سےبڑ ے بڑے مسائل جنم لیتےہیں۔ اقبال کا ملاّ چوں کہ خداشناس نہیں رہا اس لیے وہ صرف تقریروں پر اکتفا کرنےلگا ہے اور اس نے”زورِ خطابت“ کو اپنےاور مسلمانوں کےلیے کافی سمجھ لیا ہے۔ اقبال نےاس امر کی بھی شکایت کی ہے‘کہتے ہیں؛
صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال
ملا کی شریعت میں فقط مستی گفتار
ظاہر ہے کہ ’’مستی گفتار‘‘ میں مبتلا ہونے کا نتیجہیہ نکلتا ہے کہ ’’قول‘‘ ’’عمل‘‘ کا متبادل بن جاتا ے۔ انسان کو لگتا ہے کہ اس کی گفتگو ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔ اقبال کی نظراس مسئلے پر بھی ہے‘ چنانچہ انہوں نے کہا ہے۔
آہ اِس راز سےواقف ہے نہ ملاّ نہ فقیہ
وحدت افکار کی ب ے وحدت کردار ہے خام
مطلب یہ ہے کہ جب تک قول عمل نہ بن جائے اور عمل میں ایک قرینہ نہ پیدا ہوجائے اُس وقت تک فکر کا بھی کوئی خاص مفہوم نہیں‘ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسی فکر سےخود فریبی پیدا ہوسکتی ہے۔ وہ خود فریبی جو ہند کےملا ّکو لاحق ہوئی۔ اقبال کےاپنےالفاظ ہیں:۔
ملاّ کو جو ہے ہند میں سجد ے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
صرف یہی نہیں‘ اسےملوکیت بھی اسلامی اسلامی سی لگنےلگتی ہے۔ اس معاملے کی طرف اشارہ کرتےہوئے اقبال نےشیطان کی زبان سےکہلوا دیا ہے:۔
یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام
ظاہر ہے کہ جس کردار میں اتنی کمزوریاں در آئی ہوں اس کے پاس فراست تو نہیں ہوگی ‘چنانچہ اقبال نےملاّ کےخلاف یہ شکایت بھی درج کرائی ہے:۔
ملاّ کی نظر نورِ فراست سےہے خالی
مگر ان تمام باتوں کےباوجود اقبال ملا ّسےتعلق نہیں توڑتے۔ اِس کا ثبوت ان کی شکایات ہیں۔ مذمت اور شکایت کی نفسیات میں بڑا فرق ہے۔ مذمت لاتعلقی کےساتھ کی جاتی ہے اور شکایت تعلق کےساتھ۔ لیکن ملا ّکےکردار کا معاملہ اقبال کےیہاں اور بھی گہرا ہے۔
دراصل اقبال کےیہاں ”ملاّ“ اور ”مجاہد“ دو الگ شخصیتیں نہیں ہیں بلکہ وہ ایک ہی شخصیت کےدو پہلو ہیں۔ مجاہد ملاّ کا عروج ہے اور ملاّ مجاہد کا زوال۔ یعنی اقبال کےیہاں ملاّ جب خود شناس ہوجاتا ہے تو وہ مجاہد بن جاتا ہے‘ اور جب مجاہد نسیان میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ ملاّ کےکردار میں ڈھل جاتا ہے۔ اقبال کا ایک شعر ہے:۔
الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملاّ کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور
مگر اس شعر کا مطلب کیا ہے؟ اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ ملاّ کےلیے اذان دینا ایک کام ہے ‘ ایک جاب ہے جس کا اسے معاوضہ ملتا ہے۔ اس کے برعکس مجاد کے لیے اذان ایک وجودی حقیقت ہے‘ جان کا سودا ہے‘ اس بات کا اعلان ہے کہ مجاہد وجود نہیں رکھتا‘ صرف اللہ وجود رکھتا ہے۔ اور اگر مجاہد کا وجود ہے تو صرف حق کی گواہی دینےکےلیے۔ اقبال کےاس شعر سےیہ مفہوم بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ملاّ اور مجاہد کی فکری کائنات ایک ہے۔ ان کی لغت ایک ہے۔ لیکن اس کائنات میں مجاہد اسلام کی روح اور ملاّ جسم کی علامت ہے۔ یعنی ملاّ محض لفظ ہے اور مجاہد اس لفظ کا مفہوم۔ البتہ یہ بات طے شدہ ہے کہ ملاّ اسلام اور اقبال کی فکری کائنات کا ایک ”ناگزیر“ کردار ہے۔ اس کی جگہ نہ کوئی ”مسٹر“ لے سکتا ہے نہ کوئی میجر جنرل یا جنرل۔ مگر پھر مسئلے کا حل کیا ہیے؟ مسئلے کا حل یہ ہے کہ ملاّ کو مجاہد بننےپر مائل کیا جائے‘ اس کےسوا مسئلے کا ہر حل غلط اور فضول ہے۔ مگر ملاّ کےسلسلے میں اقبال کا سب سےمعرکہ آراءشعر تو رہ ہی گیا۔ اقبال نےکہا ہے:۔
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
ملاّ کو اس کےکوہ و دمن سےنکال دو
اس شعر میں اقبال نےملاّ کو غیرتِ دین کی علامت کےطور پر پیش کیا ہے۔ بلاشبہ اس کا حوالہ افغانی ہیں مگر اقبال کےیہاں ملاّ کا کردار عالمگیر یا عالم اسلام کے حوالے سے یونیورسل ہے۔ چنانچہ ملا صرف افغانیوں کے لیے نہیں تمام مسلمانوں کے لیے اہم ہے‘ اس لیے کہ وہ قرآن وحدیث کا حافظ ہے ‘ دینی فکر اور مذہبی ورثے کی منتقلی کا ایک ذریعہ ہے۔ وہ ان امور پر مطلع ہے جس سے محض آگاہ ہونے کے لیے بھی ایک عمر اور طویل تربیت درکار ہے۔ اقبال بھی ملا کو بدلنا یا ریپلیس کرنا نہیں چاہتے‘ اس لیے انہوں اس کی شکایات درج کرائی ہیں‘ مذمت نہیں کی۔ اور خواہش کی ہے کہ کاش وہ ایک بار پھر خودشناس اور خدا شناس ہوجائے۔ یعنی اقبال کا مجاہد اور مومن بن جائے۔

25 Responses to “ہاں میں ملا ہوں”

  1. زبردست تحریر لکھی ہے آپ نے ۔ لگتا ہے کسی قابل اُستاذ سے اقبالیات پڑھی ہے

  2. تحریر بہت لمبی ہے ساری نہیں پڑھ سکا، دوسری بات کوئی مناسب فونٹ استعمال کریں جس سے پڑھنے میں آسانی ہو۔

  3. آپ ایچ ٹی ایم ایل میں جمیل نستعلیق یا کوئی اور فانٹ کا ٹیگ ڈال کر پوسٹ کیا کریں۔ ویسے تو سٹائل شیٹ کو بدل نہیں سکتے ورڈپریس ڈاٹ کوم پر۔
    بہت اچھی اور ثقیل تحریر ہے۔ آدھی پڑھ کے ہی بس ہوگئی۔

  4. افتخار صاحب میری تحریر بلیو فونٹ میں ہے۔ اصل تحریر محترم شاہ نواز فاروقی صاحب کی ہے جو ایک نوجوان دانشور اور کالم نگار ہیں۔

    جہاں تک فونٹ کا تعلق ہے تو یہ میری مجبوری ہے۔ میں فونٹ بڑھا سکتا ہوں تبدیل نہیں کرسکتا۔ اگر ورڈ پریس پر فونٹ کو بدلنے کا کوئی طریقہ ہے تو براہ کرم گائیڈ کیجیے ممنون رہوں گا۔

  5. شاہ نواز صاحب کے مضمون کے آگے وہ لنک دیا گیا ہے جہاں یہ شائع ہوا ہے۔ وہاں اس کو پڑھنے میں دشواری نہیں

  6. @ فرحان دانش صاحب ، کاش ایم کیو ایم کے قائد کا یہ بیان نیک نیتی پر مبنی ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد کی رنگ کالی ، سوچ کالی اور کرتوت کالے ، ایسا فرد این آر او پر بارگینگ کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتا ۔ پیپلز پارٹی سے مجھے نفرت ہے۔ این آر او قطعا” پاس نہیں ہو نا چاہیے لیکن الطاف حسین نے بروقت شاٹ کھیلا ہے ، مقصد پوائنٹ اسکور کرنے کے علاوہ سٹی گورنمنٹ نظام کی بقا جس میں ایم کیو ایم کی پلاٹوں پر قبضے کے سسٹم کی بقا ہے ۔ اگر سٹی گورنمنٹ چلی گئی اور ایم کیو ایم نے سرکاری زمینوں ، پارکوں اور حتیٰ کہ قبرستانوں کی زمینوں پر قبضہ کیا ہے اگر یہ سب کچھ سامنے آگیا تو یہ این آر او کے تحت معاف کیے گئے کیسز سے زیادہ سنگین نوعیت کے کیسز ہوں گے۔

    جناب تلخابہ صاحب وہ کہتے ہیں نا کہ بندے کی شکل اچھی نہ ہو تو بات ہی اچھی کرلیا کرے،تو شکل تو مینے آپ کی دیکھی نہیں مگر نام جو آپ نے رکھا ہے وہ اسم بامسمی ہے:)یہ بات آپکے اوپر کیئے گئے تبصرے کو پڑھ کر کہہ رہا ہوں!
    برا مت مانیئے گا مگر آپ جیسے ملاؤں نے ہی دین کا یہ حال کیا ہے،
    ایک بر حضرت ابوذر غفاری نے اپنے غلام کو اے کالی عورت کے بیٹے کہہ کر اواز دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ناگوار گزرا اور آپنے ناراضگی سے فرمایا کہ اے ابو ذر ابھی تم میں ذمانئے جاہلیت کی خو بو باقی ہے اس پر وہ بے حد شرمندہ ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے غلام سے معافی مانگی،
    اس کے علاوہ یہ الزامات جو آپنے ایم کیو ایم پر لگائے ہیں اس کے آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں؟
    پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے آپکو شدید نفرت ہے تو محبت یقینا نواز لیگ سے ہوگی:)
    ان کی بھی چند خوبیوں پر روشنی ڈالیئے کہ ان کے کون کون سے کارہائے نمایاں ہیں جن کی وجہ سے آپکو ان سے محبت ہے،

  7. ویسے لوگوں کی نیت نیک ہے یا بد یہ دیکھنے کی کونسی مشین ہے آپکے پاس یا اس کا فیصلہ آپلوگوں کے گورے اور کالے رنگ سے کرتے ہیں🙂

  8. بہت اچھے جناب ،،، میں بھی ایک ملا ہوں (لول)۔

  9. حیرت ہے قرآن میں تو اللہ کہتا ہے کہ ہم نے قرآن نازل کیا اور ہم ہی اسکے محافظ ہیں۔ لیکن آپ نے تو نقشہ ہی بدل دیا۔ آپکا زور تو اس بات پہ ہوگیا کہ ملا کو قرآن اور حدیث کا حافظ بنا دیا۔ یہ جو عیسائیت کے پوپ سے متاءثر ہو کر آپ نے ملائیت کی شان میں قصیدہ خوانی کی ہے یہ تو حب علی نہیں بلکہ بغض معاویہ ہے۔۔ آپکو ملا ہونے پہ فخر ہے اس لئیے کہ یہ آپ کے انر گھمنڈ، غرور اور طاقت کا احساس پیدا کتا ہے۔ یہ کوئ پہلی دفعہ یا اسلام کے ساتھ صرف مسئلہ نہیں کہ اسپہ ایسے لوگوں کا قبضہ ہوگیا۔ اور نتیجتاً دین کی شکل بگاڑنے والے اسکے محافظ ہو گئے۔ دنیا میں بیشتر مذاہب کے ساتھ یہ ہوا اور خدا کو اسی لئیے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجنا پڑے۔ اب کوئ نبی تو آئیگا نہیں دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ کب تک ملائیت کا پیش کردہ اسلام چلتا ہے اور کب تک اسکے ماننے والے ایکدوسرے کو زبردست تحریروں پہ مبارکباد دیتے رہیں گے۔

  10. عبداللہ ؛پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے آپکو شدید نفرت ہے تو محبت یقینا نواز لیگ سے ہوگی:)
    ان کی بھی چند خوبیوں پر روشنی ڈالیئے کہ ان کے کون کون سے کارہائے نمایاں ہیں جن کی وجہ سے آپکو ان سے محبت ہے،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے کسی سیاسی جماعت سے کوئی ہمدردی نہیں۔ مسلم لیگ ن تو سب سے بڑی خائن ہے۔ پیپلز پارٹی والے تو منافق نہیں لیکن ن لیگ والے تو ووٹ امریکی مخالفت کا لیتے ہیں اور کرتے اس کا الٹ ہے۔ جہاں تک الطاف حسین صاحب کی نیت پر شک کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں ایک کلیہ یاد رکھیے کہ میں عبداللہ کی نیت پر شک نہیں کرسکتا لیکن کسی سیاست دان کے سیاسی چال کو اس کے ماضی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ میں شہر کراچی کا صحافی ہوں، آج اخبارات میں خبریں ہیں کہ ایم کیو ایم کے کارکنا ن پٹھانوں کو کارروبار بند کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اور یہ سب کچھ میں نے آپنے آنکھوں سے دیکھا ہے۔ پھر ایم کیو ایم نے این آر او سے یہ فائدہ اُٹھایا کہ اس سے اس کے چھ ہزار پانچ سو کارکنان کے کیسز ختم ہوئے۔ ایم کیو ایم نے چالاکی کرکے اس کا پورا ریکارڈ غائب کرادیا اور اب علان کردیا۔

  11. عنیقہ صاحبہ آپ کے اس تبصرے کی وجہ ایسے لوگ ہیں جن پر میں نے سبیلنا سبیلنا اقتدار اقتدار کے عنوان سے بلاگ لکھا ہے۔ کارٹون میں جو صاحب نظر آرہے ہیں اگر ان کا عمل درست ہوتا تو آپ اس طرح کا تبصرہ نہ کرتیں۔ یقین جانیے اس ملک میں ملاازم سے جو تبدیلی آئے گی وہی اس اصل تبدیلی ہوگی بس اس میں مولانا اقتدار نہیں ہوں گے۔

  12. خوب یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ نواز لیگ کو بھی سمجھتے ہیں،
    مگر آپکے اس الزام کا جواب تو الطاف حسین نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام میں دے دیا ہے کہ ان کے کارکنان کے مقدمات باقائدہ ججز کی نگرانی میں ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ختم ہوئے ہیں اور انہوں نے یہ دعوہ بھی کیا ہے کہ اگر پھر بھی کوئی عدالت ان کے کارکنان کو دوبارہ طلب کرے گی تو وہ ضرور حاضر ہوں گے،
    اب رہا سوال جناب کے اس پروپگینڈے کا کہ متحدہ پٹھانوں کو کروبار بند کرنے کی دھمکی دے رہی ہے اور یہ سب آپنے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھا ہے اور آپ ایک صحافی ہونے کا دعوہ بھی کرتے ہیں تو جناب آپکو رابعہ سٹی میں پٹھانوں نے جس طرح کراچی والوں کی بند دکانوں اور فلٹوں کے تالے توڑ کر ان پر قبضہ کیا ہے اس کا بھی علم ہوگا اور کراچی میں اس وجہ سے ہونے والے دنگا فساد کو متحدہ نے اپنی حکمت عملی سے کنٹرول کیا ہے اور یہی کام پٹھان ماضی میں ال آصف اسکوائر میں بھی کر چکے ہیں اور کس طرح پٹھان(جن کا سر غنہ شاہی سید جیسا بدمعاش ہے) کراچی میں کچی آبادیاں قائم کر کے زمینوں پر قبضے کے بعد وہاں سی این جی اس ٹیشن کھول رہے ہیں اور کس طرح ان کے علاقوں میں دہشت گردوں کو پناہ دی جارہی ہے اور اسلحہ جمع کیا جارہا ہے،
    اور بی بی سی کی یہ رپورٹ کچھ تو سچائی اپنے اندر رکھتی ہی ہوگی!

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/10/091030_karachi_situation.shtml
    آج کراچی والوں کی کتنی بڑی ضرورت ہے متحدہ اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ پچھلے دنوں میرے ایک رشتہ دار کی دکان پر ناجائز قبضہ ہو گیا تو انہوں نے ایک ریٹارڈ نیوی آفیسر جو ہیں تو پنجابی مگر ہیں کراچی والے اور انکا بیٹا حاضر نیوی آفیسر ہے کے سامنے ذکر کیا تو انہوں نے چھوٹتے ہی کہا کہ اس مسئلے پر آپکو ایم کیو ایم والوں سے مدد لینا ہوگی وہی کچھ کرسکتے ہیں باقی ہماری پولس تو خود زیادہ تر کرپٹ ہے!

  13. جناب عبداللہ صاحب کون کہہ رہا ہے کہ اے این پی والے دودھ سے دھولے ہوئے ہیں؟ شاہی سید کا پس منظر بھی سب کو پتا ہے۔ شاہی سید جیسے لوگوں کراچی کے پختونوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے لیکن مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب شاہی سید کہتے ہیں کہ پورے کراچی سے لائسنس اور بغیر لائسنس کے دونوں قسم کا سلحہ جمع کرنا چاہیے تو ایم کیو ایم کیو ں اتفاق نہیں کرتی؟ ظاہر ہے ایم کیو ایم کے پاس اس وقت اسلحہ بڑی مقدار میں ہے جو پاکستان میں خانہ جنگی کی صورت میں استعمال کیا جائے گا۔

  14. ابو سعد صاحب، فاروقی صاحب کا یہ مضمون میں نے اخبار میں پڑھا تھا۔ آپ نے اس کا ابتدائیہ بہت اچھا لکھا ہے۔ ہوسکتاہے اسلاموفوبیا میں مبتلا نام نہاد دنشوروں کو اس سے افاقہ ہوجائے:

    اپنے بلاگ پوسٹ کے فونٹ کو تبدیل کرنے کے لیے اگر آپ ورڈپریس کے پوسٹنگ پیج میں پوسٹنگ ونڈو کے اوپر دائیں طرف دئے گئے
    HTML
    کے ٹیب پر کلک کریں اور مندرجہ ذیل کوڈ کاپی کرکے اس کوڈ میں موجود اردو ٹیکسٹ کی جگہ اپنا مضمون لکھیں اور پھر
    Visual
    کے ٹیب پر کلک کریں تو آپ کا مضمون کسی بھی پہلے دستیاب فونٹ میں نظر آئے گا۔
    The code is:

    پاکستان
    کا مطلب کیا
    لاالہ اللہ

  15. پاکستان
    کا مطلب کیا
    لاالہ اللہ

  16. code is not showing here, sorry for that…

  17. آپ کوڈ ای میل کردوپلیز ، ای میل ایڈرس یہ ہے
    talkhaba@gmail.com

  18. میں حیران ہوں کہ آپ کس قسم کے صحافی ہیں کہ مسلسل من گھڑت باتیں لکھے جارہے ہیں متحدہ والون نے نا صرف اس تجویز سے اتفاق کیا بلکل اس سے بڑھ کر یہ بھی کہا ہے کہ صوبہ سرحد میں جتنی ناجائز اسلحے کی فیکٹریاں ہیں ان کا بھی آپریشن کلین اپ ہو نا چاہیئے تاکہ ناجائز اسلحہ بننا بھی بند ہو سکے، شاہی صید ایک بڑا کمینہ شکاری ہے وہ اس طرح کے بیانات صرف اس لیئے دیتا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ ہونا ہوانا تو کچھ ہے نہیں میں ایسی باتیں کر کے ہی اچھا بن جاؤں اور اسے یہ بھی اطمینان ہے کہ اگر شہر میں ایسی کوئی مہم شروع بھی ہوئی تو جو اسلحہ جمع کروایا جائے گا اس سے کہیں زیادہ اسلحہ وہ دوبارہ علاقہ غیر سے منگوا لے گاآپ کو کراچی میں اسلحے سے بھری منی بسیں پکڑنے والی بات تو معلوم ہی ہوگی نااور جانے کتنی بسیں نا بھی پکڑی گئی ہوں اور منی بسیں کون چلاتا ہے یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں ہوگی؟

  19. اس ملک میں ایم کیو ایم کے خلاف بات کرنے کے لیے حوصلہ چاہیے۔ خیر مناسب یہ ہے کہ اس بحث کو ہم برادر اجمل کے بلاگ پر جاری رکھیں۔جہا ں سے یہ متعلق ہے اور جہاں سے آپ میرے جملے کاپی کرکے یہاں لے کر آئے ہیں۔
    اگر آپ کو “ہاں میں ملا ہوں” موضوع پر کچھ لکھنا ہے تو یہاں تحریر کریں۔

  20. میں حیران ہوں کہ جب کبھی ملائیت اور طالبان کا تذکرہ ہوتا ہے تو آپ سب لوگ ایم کیو ایم کو کیوں گھسیٹ لیتے ہیں۔ کیوں آپ نے اس سوال کا جواب ایم کیو ایم بنایا ہوا ہے۔ اسی سے آپ لوگوں کی طاقت پہ قبضے کی بے پناہ خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔ طاقت صرف ہمارے پاس ہونی چاہئیے یعنی مذہبی دیشت گردوں کے پاس اور بس۔ اسکے لئیے وہ مذہب کو استعمال کریں۔ اسی کو اسلانمی نفاذ کا نام دیا جاتا ہے اور اسیکو ہر صورت لا کر رہیں گے۔ کوئ بھی ذی ہوش شخص پوچھے کہ اس وقت آپکو طالبان کے خلاف کام کرنا چاہئیے یا ایم کیو ایم کے خلاف۔
    طالبان کے خلاف بات کرنے کا حوصلہ کیوں نہیں پیدا کرنے کے بارے میں سوچا جاتا ہے۔
    اور آپ اپنی یہ غلط فہمی دور کر یں کہ میں صرف ان لوگوں کے متعلق بات کر رہی ہوں جنہیں آپ نے سبیلنا میں ظاہر کیا ہے۔ یہ وہ لوگ بھی ہیں جنکی پشت پناہی کے لئیے آپ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

  21. ایم کیو ایم کے خلاف بولنے کے لیئے نہیں ابو سعد جھوٹ اور غلط بیانی کرنے کے لیئے حوصلہ چاہیئے ہوتا ہے،اور وہ مجھے لگتا ہے کہ آپ میں بدرجہ اتم موجود ہے🙂
    اگر آپ غور کریں تو یہ آپکے موضوع سے ہی ریلیٹیڈ ہے، ملا بہ مقابلہ ایم کیو ایم:)

  22. عنیقہ جی اگر آپ اپنے تبصرہ سے اوپر میرا تبصرہ پڑھ لیتی تو شاید آپ ایم کیو ایم کو یہاں گھسیٹ کر لانے کا الزام مجھ پر نہیں لگاتیں۔ ایم کیو ایم کو ئی بہت اچھا خیال نہیں کہ اس کو ہر وقت ذہن میں تازہ رکھا جائے۔ میں نے اور اپنے تبصرہ میں عبداللہ صاحب کو توجہ دلائی تھی کہ ایم کیو ایم یہاں کا موضوع نہیں ہے۔ دراصل عبداللہ صاحب اجمل بھائی کے بلاگ پر میرا کیا گیا تبصرہ کاپی کرکے یہاں پیسٹ کرگئے۔

  23. شاہ نواز فاروقی کا مضمون بہت عمدہ ہے۔۔۔
    باقی “چند” تبصرہ نگاران تو پارٹی ڈیوٹی ادا کررہے ہیں
    ان کی باتوں کا گسہ نہ کیا کریں
    یہ تو شاید الطاف حسین کے ساتھ ان کی قبر میں بھی چلے جائیں اور منکر نکیر کو ان کی صفائیاں دینے لگیں۔۔۔
    طالبان پر ان لوگوں کے غصے کی اصل وجہ کوئی روشن خیالی یا انسان دوستی نہیں بلکہ یہ ہے کہ طالبان نے بھی ان کے قائد کے فلسفے پر ہی عمل کرنا شروع کردیا ہے
    یعنی جس کی لاٹھی اس کا ناظم۔۔۔
    ہیں جی۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: