Articles

نجیب پیجی تو ہمیں بہت یا دآئے گا

In Uncategorized on دسمبر 14, 2009 by ابو سعد Tagged:

عطا محمد تبسم

بدھ کی شام کراچی پریس کلب میں بہت گہماگہمی تھی۔ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے سلسلے میں ہیومین نیٹ ورک کا سیمینار تھا۔ پریس کلب کے سابق صدر نجیب احمد کی تقریر بہت جذباتی تھی۔ ظلم اور زیادتی کے واقعات اسے ہمیشہ جذباتی کردیتے تھے۔ وہ ہمیشہ مظلوموں کی حمایت کر تا تھا۔ چاہے اس حمایت کے نتیجے میں اسے کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔کسی کا کوئی کام ہو وہ اسے پورا کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ کسی کا ساتھ دینا ہو۔ کوئی وعدہ نبھانا ہو،کسی کے ساتھ جانا ہو۔ وہ ہمیشہ وقت پر پہنچ جاتا تھا۔ شاید یہی اس کی مقبولیت کا سبب تھا۔ اس نے دل کا روگ پال رکھاتھا۔ لیکن وہ بہت سے صحتمند افراد سےزیادہ کا م کرتا تھا، صحافت میں بہت سے نازک مقام آتے ہیں ۔ لیکن اس کی مسکراہٹ جو اب خواب اور خیال ہوگئی ہے۔ بہت سے شکوﺅں کا بہت پیارا سا جواب ہوتا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ اس سے پہلی ملاقات کب کہاں ہوئی تھی۔ لیکن اس پہلی ملاقات کے بعد وہ دل میں رہتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد اس کی یاد دل کو کچھ اس طرح گرفت میں لئے ہوئے ہے کہ کسی پل چین نہیں پڑتا۔بار بار اس کی صورت سامنے آتی ہے۔ اور ایک تیر سا دل میں لگتا ہے۔ طارق اسلم نے جمعرات کو فون پر یہ اطلاع دی۔تو ذہن پر سناٹا چھا گیا۔پیجی اب اس دنیا سے چلا گیا۔ کتنے سارے لوگوں کو سوگوار کرکے۔ صحافت میں اس نے اپنا مقام خود بنایا تھا۔ وہ ان تھک کام کرنے والا کارکن تھا۔ کام کو منظم کرنے کی اس کی صلاحیتیں بے پناہ تھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ دوست دلدار تھا۔ دوستوں کی دلداری کرتا تھا۔ دائیں بائیں بازو کے سب لوگ اسے پسند کرتے تھے۔ کراچی پریس کلب کے انتخابات اس کی مقبولت کا پیمانہ تھے۔ کئی سال سے وہ مختلف عہدوں پر کامیاب ہوتا رہا۔ ۸۰۰۲ کے سالانہ انتخابات میں نجیب نے 440 ووٹ لیکر سب سے زیادہ ووٹ لینے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے مدمقابل صدر کے عہدے کے امیدوار صبیح الدین غوثی نے 264 لے سکے تھے۔ گذشتہ سال وہ پہلی بار الیکشن ہار گیا۔ لیکن اس نے اس ہار کو اپنی جیت بنا لیا تھا۔ کیونکہ اس کی ہار میں اس کے دوستوں کا ہاتھ تھا۔اور وہ دوستوں کی کامیابی پر نازاں تھا۔ اس نے اپنے دوستوں کے دئیے ہوئے اس تمغہ شکست کو اپنے سینے پا سجائے رکھا ۔اور اسی میدان میں اس شان سے کھڑا رہا۔ کہ دھوکہ دینے والا رو دے۔ ایسی شان سے دھوکہ کھاﺅ۔ کرائم رپورٹر ،بااثرصحافی، جنگ اور جیو کے سینئر رپورٹر اور کراچی پریس کلب کے سابق صدر کی حیثت سے وہ بہت اختیار رکھتا تھا۔ لیکن اس نے اپنے اثر رسوخ سے ہمیشہ دوسروں کی بھلائی کے کام کئے۔ صحافتی حلقوں اور اپنے دوست احباب میں اسے پیار سے ”پیجی“ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔یہ نام اس کی شخصیت سے مناسبت رکھتا تھا۔ وہ اپنے گلی محلے علاقے میں بھی اسی طرح مقبول تھا۔ جامعہ ملیہ میں اسلامی جمعیت طلبہ وابستگی کے بعد اس نے اپنے اس تعلق کو ہمیشہ نبھایا۔ وہ جمعیت کا رکن بنا۔اور اس نے رضائے الہی کے حصول کو اولیت دی۔ اکتوبر 1961ء کو پیدا ہونے والے نجیب احمد کی یہ عمر جانے کی نہ تھی۔ لیکن اسے جلدی تھی اس لئے اس بہت سے بڑے بڑے کام بہت تھوڑے عرصے میں کر لئے۔جمعیت کے ہفتہ کتب کے موقع پر اس نے کہا تھا٬ کہ لوگ مختصر سی زندگی میں ڈاکے ڈالتے ہیں اور لوگوں کی جانیں لےتے ہیں مگر جمعیت کے کارکنان نوجوانی کی عمر میں طلبہ کی امداد اور انکا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کےلئے ہفتہ کتب منعقد کر کے فنڈز جمع کر رہے تاکہ کوئی طالبعلم تعلیم سے محروم نہ رہ جائے اس کام کو جتنا سراہا جائے کم ہے۔نجیب احمد نے کہا تھاکہ آپ جو کام کر رہے ہیں اسے بھرپور طریقے سے جاری رکھیں اس راہ میں رکاوٹیں بھی آئیں گی اور مخالفین آپ پر تنقید بھی کرنگے مگر طلبہ کی بھلائی اور انکی خدمت کا کام جاری رکھیں۔یہی اس کا مشن تھا۔ اس نے مخالفین اور تنقید کی کبھی پروا نہیں کی۔ وہ آزادی صحافت کا جرنیل تھا۔ پرویز مشرف کے پورے دور میں اس نے جرات کے ساتھ آمریت سے لڑائی لڑی۔کراچی میں صحافیوں اور آزادی صحافت کی حامی دوسری تنظیموں نے مزارِ قائد پر دھرنا دیا تو پریس کلب سے ریلی نکالی گئی جس کی قیادت پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم کے رہنما مظہر عباس۔ کراچی پریس کلب کی صدر صبیح الدین غوثی اور نجیب احمد نے کی۔ کراچی میں صحافی رشید چنا، عبدالطیف ابو شامل، محمد طاہر، علی الطاف اور زاہد خٹک کی گرفتاری اور پولیس چھاپوں کے خلاف یہ ریلی نکالی گئی تھی۔شہر میں ایک بڑے عرصے کے بعد صحافیوں نے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔اس موقع پر جلوس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کراچی پریس کلب کے صد کی حییثیت سے نجیب احمد نے کہا تھاکہ اس ملک میں ڈکٹیٹروں نے حکومت زیادہ عرصے کی ہے اور اس دور میں بھی صحافیوں نے اپنے فرائض کوڑے کھاکر اور جیلوں میں جاکر بھی ادا کیے ہیں۔ کراچی پریس کلب نے پہلے ضیاالحق کو للکارہ تھا۔جس کے بعد سیاسی جماعتوں کی تحریک شروع ہوئی تھی۔ اب صدرمشرف کے خلاف جدوجہد کی جائیگی۔ چینلز کی بندش اور پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف احتجاج کے دوران ایک سو اکیاسی صحافیوں کی پریس کلب سے گرفتاری کے موقع پر اس کی جرات اور بہادری یاد رہے گی۔ کئی مواقع پر نجیب کی گرفتاری کے لئے پریس کلب کا گھیراﺅ کیا گیا۔ لیکن اس کے ماتھے پر کبھی شکن نہ آئی اور اس نے کبھی راہ فرار اختیار نہیں کی۔روز نامہ ”اسلام ”کراچی کی بندش کے خلاف احتجاج میں سوائے چند چینلز کے تمام نشریاتی اداروں کی جانب سے شدیدمایوسی کا سامنا رہاتھا۔ تاہم اس موقع پر صحافی حلقوںکی جن چند شخصیات ”پی ایف یو جے ”کے سیکریٹری مظہر عباس،روالپنڈی اسلام آباد پریس کلب کے صدر مشتاق منہاس، بزرگ صحافی عبدالحمید چھاپرا، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری خورشید عباسی ، یوسف خان،مقصود یوسفی کے ساتھ کراچی پریس کلب کے صدر نجیب احمد،سیکریٹری امتیازخان فاران کی آواز سب سے توانا تھی۔نجیب کی موت نے کراچی پریس کلب کو سوگواری کی چادر اوڑھا دی ہے۔اگلے ہفتے کراچی پریس کلب کے الیکشن ہیں، لیکن اس بار ایک مہربان چہرہ نظر نہیں آئے گا۔نجیب پیجی تو ہمیں بہت یادآئے گا۔

One Response to “نجیب پیجی تو ہمیں بہت یا دآئے گا”

  1. نجیب احمد اور سہیل قلندر کی رحلت ایک ہفتے کے دوران شعبۂ صحافت کو لگنے والے بد ترین دھچکے ہیں۔ کراچی اور پشاور کی صحافی برادریاں ان عظیم ہستیوں کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گی جو عالم شباب ہی میں انہیں چھوڑ گئیں۔ اللہ دونوں پر رحم فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: