Archive for جنوری, 2010

Articles

ملزم ‘بےگناہ اور مجرم کا فیصلہ: وکیل بھی کسی سے پیچھے نہیں

In پاکستان,دہشت گردی on جنوری 28, 2010 از ابو سعد Tagged:

اپنے پچھلے پوسٹ’’مقتول مجرم ہوتا ہے اور سیاسی کارکن معصوم‘‘میں‘ میں نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ جب کسی سیاسی جماعت یا مسلک کا کوئی رکن دہشت گردی کے کسی واقعہ میں پکڑا جاتا ہے تو وہ مسلک یا پارٹی تھانوں کے گھیرا کے ساتھ ساتھ دھمکیوں پر بھی اُتر آتی ہے‘ یہی چلن اب وکلا نے بھی اختیار کیا ہے۔ اگر کسی پر دہشت گردی یا قتل کا الزم لگا یا جاتاہے تو اس پر مقدمہ چلنا چاہیے‘ اگر بے گناہ ثابت ہوتا ہے‘ تو بری ہوجائے گا ‘اگر گناہ گار ہے تو سزا مل جائے گی ۔

لیکن لگتا ہے قانون کی حکمرانی کی بات کرنےوالے ہی اس کی پاسداری پر آمادہ نہیں۔ روزنامہ جسارت نے اس اہم موضوع پر آج کے ادارتی صفحے پر ’’شذرہ‘‘ لکھا ہے (گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں) ۔ قارئین تلخابہ ضرور اس کو پڑھ لیں ‘خصوصا وہ دوست جو میرے پچھلے پوسٹ پر سخت ناراض ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وکلاءبرادری کاملزم کے لیے احتجاج

لاہورمیں گھریلو کام کرنے والی 12 سال کی ایک بچی شازیہ پراسرار حالات میں ہلاک ہوگئی۔ قتل کے الزام میں لاہورہائی کورٹ بارکے سابق صدر ایڈووکیٹ نعیم کو گرفتارکرلیا گیا جس کے گھرمیںیہ بچی کام کرتی تھی۔ ٹی وی چینلز پریہ سانحہ سامنے آنے اور عیسائی برادری کی طرف سے زبردست مظاہرہ کے بعد اعلیٰ حکام بھی متوجہ ہوئے۔ شازیہ کی ہلاکت کے فوراً بعد ایڈووکیٹ نعیم اور اس کے اہل خانہ روپوش ہوگئے تھے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق شازیہ پرجسمانی تشددکیاگیا تھا اور کئی دن سے اسے اپنے گھروالوں سے ملنے بھی نہیں دیاجارہاتھا۔ یہاں تک تو معاملہ بظاہرسیدھا سادا ہے لیکن اب حالات نے ایک نیا موڑلے لیاہے۔ لاہورکے وکلاءاپنے ہم پیشہ اور سابق صدر ہائی کورٹ بارکے حق میں احتجاج پر اترآئے ہیں۔ گزشتہ منگل کو ملزم کی عدالت میں پیشی پروکلاءنے اس کے حق میں نعرہ بازی کی اور اگلے دن یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا۔ موجودہ صدرہائی کورٹ بار کا کہناہے کہ ذرائع ابلاغ نے اس معاملہ کو غیرضروری طورپر اچھالاہے اور صرف یک طرفہ موقف پیش کیاہے۔ ان کے مطابق ملزم بے گناہ ہے۔ لیکن ایک طرف تو ملزم کا مع اہل خانہ روپوش ہوجانا اسے مشکوک ٹھیراتاہے دوسری طرف اسے اپنا موقف پیش کرنے سے کسی نے نہیں روکا۔ لیکن اب تک اس کی طرف سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔ وکلاءعدلیہ کا ایک حصہ ہیں اور معاملہ عدالت میں پیش ہوچکاہے جہاں سے تین دن کا جسمانی ریمانڈ دیاگیاہے۔ مناسب تویہ تھا کہ مظاہرے‘ نعرے بازی اور یوم احتجاج منانے کے بجائے عدالت ہی میں مقدمہ لڑاجاتا اوراگرملزم بے گناہ ہے تو اس کی بریت کی کوشش کی جاتی۔ ملزم کی حمایت کرنے والے خود وکیل ہیں اور وہ یہ کام با آسانی کرسکتے ہیں۔ کسی غریب وبے وسیلہ ملزم کو بے گناہ ہونے کے باوجود وکیلوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے گھرکا سامان تک بیچنا پڑتاہے‘ نعیم کو تو یہ خدمات مفت میں حاصل ہوجائیںگی۔ لیکن صرف اس بنیاد پرکسی ملزم کا ساتھ دینا کہ وہ ہم پیشہ ہے‘ ناانصافی ہے۔ اس طرح تو کوئی بھی اپنے پیشے‘ برادری‘ قبیلے یا جماعت کی بنیاد پر حصول انصاف میں رکاوٹ بن سکتاہے جیساکہ ایک تجزیہ نگارنے 9 اپریل کو کراچی میں وکیلوں ہی کوزندہ جلادینے کا حوالہ دیاہے جب عدالت کا گھیراﺅ کرکے سماعت نہیں ہونے دی گئی تھی۔ آخر ایک جیتی جاگتی زندگی موت کی نیندسوئی ہے۔ اگر وہ کسی بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہے تو اس کا علاج کیوں نہ کروایا گیا۔ پوسٹم مارٹم کی رپورٹ ابھی سامنے نہیں آئی ہے اس سے بہت کچھ معلوم ہوسکے گا۔ اسی سانحہ کے حوالے سے ایک اورگھناﺅنی حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ ہدایت نامی ایک بے ہدایت شخص نے یہ کاروبار بنارکھا تھا کہ غریب والدین کو کم اجرت دے کر ان کے بچے حاصل کرکے امیرگھرانوں میں ملازم رکھواتا تھا اور ان سے بڑی رقم حاصل کرتاتھا۔ ایسا کاروبار اور بھی کئی لوگ کررہے ہوں گے۔ جو لوگ ایسے بچے حاصل کرتے ہیں وہ بھی مجرم ہیں۔ پولیس کی طرف سے یہ تاکید ہے کہ گھریلو ملازمین کے کوائف سے تھانے کو مطلع کیاجائے درحقیقت یہ غلامی کا ایک سلسلہ ہے اور ایسے بچوں پرمظالم کی کہیں داد‘ فریاد بھی نہیں ہوتی۔ گاﺅں‘ دیہات میں آئے دن زمینداروں کی نجی جیلوں سے ہاری‘ کسان‘ اوربھٹہ مالکان کے قبضہ سے مزدور برآمد کیے جارہے ہیں ۔ ایسے ظالموں کو سزادلوانے کے لیے وکلاءکو اپنا اخلاقی کردار اداکرنا چاہیے اور مجرموں کی وکالت سے گریز کرنا چاہیے۔ لیکن وکلاءتو یہ کہتے ہیں کہ انہیں صرف اپنی فیس سے غرض ہے خواہ کروڑوں میں ہو۔ کیا یہ غیراخلاقی اورغیراسلامی حرکت نہیں۔؟

 

 

Articles

مقتول مجرم ہوتا ہے اور سیاسی کارکن معصوم

In پاکستان,دہشت گردی on جنوری 27, 2010 از ابو سعد Tagged: ,

یہ تصویر ان مبینہ دہشت گردوں کی ہے جن پر قوم پرست جماعت کی ریلی پر فائرنگ کا الزام ہے۔ کل رات لسانی جماعت کے کارکنان نے گرفتار شدگان کی رہائی کے لیے تھا نے کا گھیراو کیا۔ آج کی اپ ڈیٹس نہیں پتا ۔ لیکن میرا ایک سوال ہے کہ کیا ملزم کو’’ بے گناہ‘‘ یا ’’گناہ گار‘‘ ثابت کرنا عدالت کا کام ہے یا ہر باثر سیاسی جماعت دہشت گردی کے واقعات میں ملوث کارکنان کی بے گناہی کا فیصلہ کرے گی؟ یہ معاملہ صرف مذکورہ لسانی جماعت تک محدود نہیں ‘ شیعہ ایکشن کمیٹی بھی ’’جلا و گھیراو ‘‘ میں ملوث اپنے دہشت گرد کارکنان کو بے گناہ قرار دے کر روز پریس کانفرنس کررہی ہے۔ سانحہ یوم عاشور کو ایک ماہ گزرنے والا ہے ‘ صرف چند دن قبل ہی کراچی کے سی سی پی او وسیم احمد پر اپنے آقا غلام احمد قادیانی ملعون کی طرح اچانک ’’وحی نازل ‘‘ ہوئی کہ یوم عاشور پر دھماکے کرنے والے ’’جنداللہ ‘‘ کے کارکنان ہیں جنہوں نے ’’اعتراف جرم ‘‘  بھی کرلیا ہے۔

یار لوگ کہتے ہیں یہ ’’ جوڈیشل ایکٹیوازم ‘‘ نہیں ہونا چاہیے۔ کراچی میں گذشتہ کئی برسوں سے جس طرح کی صورت حال ہے اس میں اللہ کے بعد سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں۔ چیف جسٹس کو ایک ازخودنوٹس لے کر سانحہ یوم عاشور میں معصوم عزاداروں کے قتل  اور اس کے بعد کراچی کے معاشی قتل کی تحقیقات کا حکم دینا چاہیے۔ ورنہ یہاں ہر کسی کا کارکن بے گناہ اور معصوم ہے، یہ تو دراصل مرنے اور لٹنے والا ہے جو بدمعاش ہے۔

Articles

قبائلی زندہ باد: عالمی دہشت گرد امریکا کا ڈرون طیارہ مار گرایا

In پاکستان,دہشت گردی on جنوری 25, 2010 از ابو سعد Tagged:

اے میرے غیر ت مند قبائلی تجھے سلام۔ تم نے وہ کام کردیا جوعوام کے تنخواہ داروں کو کرنا چاہیے تھا۔ وہ ہاتھ جو کبھی پاکستان فوج کو سلیوٹ کرنے کے لیے ماتھے تک جاتے تھے آج تمہارے لیے اُٹھ رہے ہیں۔ ایک ایسی وقت میں جب قوم سے ٹیکسوں کی صورت میں لیے جانے والے خون پسینہ کی کمائی کا بڑا حصہ خرچ کرنے والی فوج ڈرون گرانے کی مشقوں میں مصروف ہے تو تم نے غیرت کا شاندار عملی مظاہرہ کرکے دنیا کو پیغام دیا کہ تمہیں شکست دینا اس لیے ناممکن ہے کیوں کہ تمہارے ہاتھ بندوق اٹھانے کے لیے تمہارے رگوں میں دوڑنے والی غیرت مند قبائلی خون کے سوا کسی چیز کا مختاج نہیں۔ لڑا تمہارا پیشہ نہیں۔ تم تنخواہ دار ہوں اور نہ کرائے کے سپاہی۔ ایک دفعہ پھر تمہیں سلام

رکیے ! پا ک فوج کے سپاہیوں خدا را اپنی قوم کے خلاف لڑنا چھوڑ دو۔ دشمن کو پہچانو! پوری قوم تمہارے ساتھ ہوگی۔ محب وطن قبائلیوں کے خلاف آپریشن بند کردو۔ اگر تم اس ملک کی فوج ہو، اگر تم امریکا کی فوج نہیں ہو ‘ اگر تم سیاسی قیادت کی طرح امریکا سے این او سی نہیں لے کر آتے تو پھر ثابت کرو۔ امریکا کے پٹھو حکمرانوں کو گھر کا راستہ ہم عوام دکھائیں گے۔

Articles

ہم بے غیرت ہیں: ڈرون گرانے یا بے بسی کا مظاہرہ؟

In پاکستان,دہشت گردی on جنوری 19, 2010 از ابو سعد Tagged:

خبر تو یہ ہے کہ پاک فوج نے مظفر گڑھ کے نزدیک ڈرون طیارے مار گرانے کا عملی مظاہرہ کیا ہے لیکن یہ مظاہرہ دراصل کسی اور چیز کا ہے۔ فوج اس مظاہرے سے دراصل امریکا کو یہ پیغام دینا چاہ رہی ہے کہ ہمیں کم تر نہیں سمجھو۔ ہمارے فنڈز ریلیز کردو۔ ہمارے ساتھ معاملات اپنی شرائط پر ہی کرنے کی کوشش نہ کرو۔ یہ ایک خیال ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اس مظاہرہ سے فوج اس ملک کی بے غیرت ، بے عزت ، بے شرم اور ہیجڑے اور میراثی سیاسی قیادت سے کہنا چاہ رہی ہے کہ تم ’’حکم ‘‘ تو دو۔ تم ذمہ داری تو لو۔ تم اس کو سیاسی کور تو دو۔ تم ایک بیان تو جاری کرو پھر دیکھو ہم بے لگام امریکی ڈرون کا کیسے علاج کرتے ہیں ۔ یہ دوسری سوچ میری بھی ہے جس کے اظہار پر میرے ایک دوست مجھ پر برس پڑےکہ کیا بے تکی باتیں کررہے ہو۔ کیا فوج نے کیری لوگر بل پر سیاسی قیادت سے پوچھا تھا۔ کیا سیاست دانوں نے فوج کی اس رگ کو پکڑا ہے کہ اس میں غیرت نامی خون کی گردش ہوتی ہے۔
میں نے عرض کیا کہ جناب آپ کا غصہ بجا لیکن فوج کو بھی تو کچھ ’’جسٹی فیکیشن‘‘ چاہیے۔ فوج پر تو الزام ہے کہ اس نے کبھی غیروں سے جنگ نہیں جیتی بلکہ ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ہے ‘ ایسے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں ہتھیار ڈال دیے تھے جیسا اتحاد دنیا میں کہیں نظر نہیں آیا۔ ۹۰ ہزار فوجیوں میں کسی ایک کو بھارتیوں کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے ڈسپلن توڑنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔ ان پر الزام اور بھی ہیں ‘ لیکن ہماری حکومت کو کیا ہوا ہے۔ یہ تو سیاسی ہے، یہ تو عوامی ہے یا تو عوام کے پاس جانے والی حکومت ہے تو پھر ان کی غیرت کی رگ کیوں نہیں پھڑکتی؟
ایسے میں ایک اور دوست کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون گرانے کا مظاہرہ نہیں بلکہ بے بسی کا مظاہرہ ہے کہ صلاحیت ہونے کے باوجود یہ کام نہیں کرسکتے کیوں کہ ہم بے ہمت اور بے غیر ت ہیں۔

Articles

بولٹن مارکیٹ کو آگ کس نے لگائی؟

In پاکستان on جنوری 19, 2010 از ابو سعد Tagged:

پاکستان کے معاشی مرکز کراچی کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ میں آگ لگانے والوں کا "پتا” لگنا ابھی باقی ہے۔ ملک کے انٹیلیجنس ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ایسے لوگوں کے تلاش میں ہیں جن کے سر یہ الزام تھوپا جاسکے۔ ہر خبر کی جڑ تک پہنچنے والے ٹی وی اینکرز اور ان کے چینلز ملک کے سب سے انتہا پسند اوت تشدد پسند گروہ سے دبے نظر آرہے ہیں۔ ایسے میں اللہ بھلا کرے کچھ نوجوانوں نے ایک ایسی فلم بنائی ہے جس میں حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ فلم دو اقساط میں تلخابہ کے انگریزی بلاگ پر دیکھی جاسکتی ہے۔ تحقیقاتی فلم کے لیے یہاں کلک کریں۔

Articles

عوام دوست پارٹی کی حکومت شیعہ دوست ہے‘ ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی کا انکشاف

In پاکستان on جنوری 15, 2010 از ابو سعد Tagged:

پختون کے گھر پیدا ہونے کے باوجود مجھے خان کہلوانا پسند نہیں۔ چاہتا ہوں مجھے صرف پاکستانی پکارا جائے۔ بالکل اسی طرح مجھے ہمیشہ اس بات سے نفرت رہی ہے کہ کوئی مجھے بریلوی ، دیوبندی ، اہل حدیث ، حنفی ، حنبلی ،شافعی ، مالکی ، جعفری ، اہل سنت اوراہل تشیع پکارے۔ کیا ہم صرف مسلمان نہیں کہلائے جاسکتے جس طرح ہمارے نبی مہربان صل اللہ علیہ وسلم ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام مسلمان ہی کہلائے جاتے ہیں۔ جامعہ کراچی میں جو دوست ملے تھے ان میں اہل تشیع ، اہل سنت ، حتیٰ کہ دہریے بھی تھے۔ ایک دوست کا تعلق سپاہ صحابہ سے تھا۔ شاید ہی میں نے کسی سے اتنی بحث کی ہوگی جتنا میں نے ان کو سنایا ہے۔ میں ان کو پاکستان میں فرقہ پرستی کا ذمہ دار ٹھیراتا تھا۔ اب بھی میری سوچ نہیں بدلی ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ بالکل اسی طرح کہ ’’اپنا مذہب چھوڑو نہیں ‘ دوسرے کا مذہب چھیڑو نہیں ‘‘ کہ مصداق ہمیں کسی کے مسلک کو برا کہنے کے بجائے اپنے مسلک کے صحیح ہونے کی گواہی اپنے عمل سے دینی چاہیے۔
یہ تمہید میں نے اس لیے باندھی ہے کہ کہیں مجھے کسی خاص مسلک کا حامی اور کسی دوسرے کا مخالف نہ سمجھا جائے۔
میں نے جب عملی زندگی میں قدم رکھا تو یہ سننے لگا کہ میڈیا پر ایک خاص مسلک کا غلبہ ہے۔ کراچی کے ایک بزرگ صحافی نے تو یہاں کے میڈیا گروپس کے متعلق کہا کہ یہاں یا تو الطاف حسین کے ماننے والوں کی چلتی ہے یا پھر امام حسین کے۔ مجھے نہیں پتا کہ کس کی چلتی ہے اور کس کی نہیں۔ ہمارا میڈیا کس حد تک ’’برابر روزگار فراہم ‘‘ کرنے کے فلسفے پر عمل کرتا ہے۔ لیکن آج ایک بہت ہی دلچسپ خبر نظر سے گذری جس میں ’’عوام دوست‘‘ پیپلز پارٹی کی ایک اہم لیڈر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ’’شیعہ دوست‘‘ ہے۔ آج ۱۵جنوری کو شائع ہونے والی اس خبر کی سرخی کچھ یوں ہے’’ذوالفقار مرزا سے مذاکرات کے بعد شیعہ علما نے احتجاج کی کال واپس لے لی‘‘(تفصیلی خبر کے لیے یہاں کلک کریں)۔ خبر میں شہلا رضا سے متعلق یہ جملے درج ہیں’’اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا نے کہا کہ انہوں نے حکومت اور شیعہ علما کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ حکومت عوام دوست ہے۔‘‘
زرادری اگرچہ لاہور میں دربار لگاتے ہیں لیکن زرداری نے نوڈیرو میں تقریر کے ذریعے سندھ کارڈ کا تاثر دے کر پیپلز پارٹی کو سندھی قوم پرست پارٹی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب شہلا رضا کا یہ بیان یہ ثابت کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی ایک خاص مسلک کی دوست جماعت ہے۔ پیپلز پارٹی کے ناقدین تک کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کتنی کرپٹ اور عوام دشمن نہ ہوجائے اس کی ایک خصوصیت بہر حال اس کی خوبی شمار ہوتی ہے کہ یہ وفاق کی علامت ہے، لگتا یوں ہے اس کے قائدین اس کو سندھ کی پارٹی بنانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح اس پارٹی سے بجا طور پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ یہ مسالک کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دے گی۔ لیکن لگتا یوں ہے کہ یہ لسانی کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ جماعت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔

Articles

کراچی ٹارگٹ کلنگ اور ہماری معصوم سیاسی جماعتیں

In پاکستان on جنوری 11, 2010 از ابو سعد Tagged:

 
سیاست کو اگر منافقت کی ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے تو اس پر ہمیں خفا نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستانی سیاست دانوں کی غالب اکثریت اگر منافق ہے تو ہمارے ابلاغ کے ذرائع بھی کم منافق نہیں ۔ وسیع تر ’’قومی مفاد‘‘ میں ہمارے میڈیا نے حکومتی اتحادیوں کی پریس کانفرنس کو نشر کرنے پر ’’اکتفا‘‘ کیا ہے۔ کراچی کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس وقت یہاں کیا ہورہا ہے؟ کون کس کو مار رہا ہے؟ اسلحہ کس کے پاس ہے؟ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ روکنے میں ناکام کیوں ہیں؟
گزشتہ روز گٹر باغیچے سے ملنے والی بوری بند لاش نے اہل کراچی کو ایک’’عہد‘‘ کی یاد دلادی۔

کل اتحادی گورنر ہاوس میں سر جوڑ کر کراچی کے امن کے لیے غور وفکر کرتے رہے اور پھر ایک نتیجے پر پہنچے ’’ کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات لسانی ہیں نہ سیاسی،ان واقعات میں لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا ملوث ہے جس سے نمٹنے کیلئے رینجرز کو اختیارات دیئے گئے ہیں‘‘
پاکستانی ٹی وی چینلز کے دنیا بھر میں ناظرین نے اسے حقیقت جانا ہوگا لیکن اہل کراچی نے جو کئی روز بلکہ ایک عرصے سے رو رہے ہیں ‘ خوب قہقہے لگائے ہوں گے۔ کیوں نہ ہنسیں گے‘ لطفیہ جو سنا۔
ایم کیو یم کیا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس جماعت نے کراچی اور خود اردو بوالنے والوں کو کتنا نقصان پہنچایا ہے اس کی تفصیل بتانے کی بھی ضرورت نہیں۔ لینڈ مافیا کی صورت میں نظر آنے والی دوسری جماعت اے این پی کے کارنامے بھی اتنے ڈھکے چھپے نہیں ہیں کہ اس کو کوئی انکشاف بناکر پیش کیا جائے۔ سب جانتے ہیں کہ آئے روز رونما ہونے والا لسانی جھگڑا دراصل کراچی کے دو بڑی لسانی اکائیوں کی نام نہاد نمائندگی کرنے والوں کے درمیان زمین پر قبضے کے سوا کچھ نہیں۔
لیکن اس سب جھگڑے میں پیپلز پارٹی کس جگہ کھڑی ہے اس کے لیے آپ نبیل گبول صاحب کا جیو ٹی وی پر نشر ہونے والا یہ ردعمل پڑھ لیں۔ انہوں نے کہا’’رحمان ملک کو اپنی کرسی کی فکر ہے‘‘

تفصیلی خبر کچھ یوں ہے۔

کراچی:۔۔۔۔۔وزیر مملکت برائے پورٹس اینڈ شپنگ اور پیپلز پارٹی کے لیاری سے منتخب رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے لیاری سرچ آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر داخلہ رحمان ملک کو صرف اپنی کرسی بچانے کی فکر ہے۔ آپریشن لانڈھی ، کورنگی ، عزیز آباد اور عثمان آباد میں بھی ہوتا تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے نبیل گبول نے کہا کہ لیاری میں پیپلز پارٹی کے ووٹروں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ حکومت پر جرائم پیشہ افراد ، قبضہ مافیا اور ڈرگ مافیا کے خلاف آپریشن کے لیے دبائو ہے تو اس کی سزا لیاری کی عوام کو نہیں دینی چاہیئے۔

لیاری امن کیمٹی کیا ہے۔ اس کا پیپلز پارٹی سے تعلق کیا ہے اس کی کچھ تفصیل یہاںیہاں اور یہاں ملاحظہ کریں ۔یہ تو لیاری امن کمیٹی کا معاملہ ہے خود پیپلز پارٹی نے اپنی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا انتقام جس طرح عوام اور خصوصا سندھ کے عوام سے لیا وہ سب نے دیکھا ۔

ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے کچھ اعداد وشمار پیش خدمت ہیں جس کے مطابق ’’مہاجر قومی موومنٹ ٹارگٹ کلنگ کا زیادہ شکار بنی ہے‘‘

 

 
 

حساس اداروں نے کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے اعدادوشمار وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے تحقیقات کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کے حوالے کردیے ہیں۔مہاجرقومی موومنٹ کے 72اور پی پی کے 12کارکنوں سمیت 2009ءمیں 182جبکہ 2010ءکے ابتدائی 9دنوں میں 36سیاسی کارکن ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ۔غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 2009ءمیں 486سیاسی کارکنوں کو دہشت گردوں نے قتل کیا ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے مرتب کیے گئے اعدادوشمار میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر واضح تضاد پایا جاتا ہے غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق2009ءمیں 486افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے تھے جن میں سب سے زیادہ تعداد مہاجر قومی موومنٹ اور پی پی پی کے کارکنوں کی تھی ۔دوسری جانب شہر میں جاری حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ آصف نواز کی سربراہی میں قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی کو حساس اداروں کی جانب سے شہر میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے اعدادشمار فراہم کیے گئے جن کے مطابق 2009ءمیں مجموعی طور پر 182افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جن میں اکثریت مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنوں کی تھی ۔اعدادو شمارکے مطابق سال 2009ءمیں مہاجر قومی موومنٹ کے 72کارکنوںکو قتل کردیا گیا جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے 52‘پی پی پی 12‘اے این پی11‘کالعدم سپاہ صحابہ کے 11‘پی ایم یل ن ‘جمعیت اہلحدیث کے 2‘جماعت اسلامی کے 2‘سنی تحریک کے 3‘لیاری امن کمیٹی کے 2فقہ جعفریہ کے 2پی پی پی (ش ب)کے 2کارکنوں سمیت 8دیگر افراد شامل تھے ۔اسی طرح یکم جنوری 2010ءسے 9جنوری تک صرف 9روز میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 36افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں ۔ٹارگٹ کلنگ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کو فراہم کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں برس جنوری 2009ءسے جنوری 2010ءکی 10تاریخ تک ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں متحدہ قومی موومنٹ کے 58کارکنان ہلاک ہوئے جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں‘18جنوری کو ضلع شرقی کے علاقے کھوکھرا ہار میں ندیم بیگ‘17اپریل کو گلبرک کے علاقے میں محمد رضوانُ16مئی کو مبینہ ٹاو ¿ن کے علاقیمیں سید عادل‘4جون کو سعود آباد کے علاقے میں خالد انصاری اور 5جون سہراب گوٹھ میں محمد ارشد‘شاہ فیصل کالونی میں اجمل معین اور عوامی کالونی تھانے کے علاقے میں فاروق صدیقی ۔7جون کو عید گاہ کے علاقے میں رضا اللہ قریشی ‘فقیر محمد اور جوہر آباد میں معین رضا ۔20جون کو نبی بخش کے علاقے میں عتیق ۔26جون کو شاہراہ فیصل کے علاقے میں سید منصور علی ۔7جولائی کو سعود آباد کے علاقے میں زبیر احمد ۔8جولائی کو عوامی کالونی کے علاقے میں حاجی جلال ُعثمان ‘عبداللہ ‘سہیل عدنان ۔9جولائی کو نیو کراچی میں بشیر محمد ۔11جولائی کو عید گاہ کے علاقے میں یاسین اور اسٹیل ٹاﺅن کے علاقے میں صادق ۔14جولائی کو نبی بخش کے علاقے میں سراج الدین ‘16جولائی کورنگی میں محمد نعیم ۔18جولائی کو پی آئی بی کالونی میں محمد فیصل ۔27جولائی کو سعید آباد کے علاقے میں یعقوب کالا ‘شاہد اور ہمیش ‘یکم اگست کو کھوکھراپار میں رعنا ریاض الحسن ‘ماڈل کالونی میں راشد ۔5اگست کواقبال مارکیٹ کے علاقے میں عمران علی ‘شاہ لطیف میں رحمان احمد ۔10اگست کو بلدیہ کے علاقے میں رفیع اللہ ‘جوہر آباد میں فراز غوری اور علی رضا۔21اگست کو ناظم آباد کے علاقے میں شباب رضا عابدی ‘25اگست کو شاہ فیصل کالونی میں عتیق اور عجاز بیگ ۔3ستمبر کو ملیر میں نعمان جاوید ۔11ستمبر کو پاکستان بازار کے علاقے میں محمد قیوم ۔17ستمبر کو شاہراہ نورجہاں میں راشد یوسف ۔21نومبر کو چاکیواڑہ میں علی اصغر ‘بغدادی میں فیضان ۔22نومبر کو کلاکوٹ میں خلیل احمد ‘کھارادر میں شاہ نواز ۔30نومبر کو اقبال مارکیٹ میں سید محمد جاوید ‘15دسمبر کو سعود آباد میں عبدالعزیز ۔17دسمبر کو لانڈھی میں عارف الطاف ۔25دسمبر کو سعید آباد میںحیات علی ۔30دسمبر کو ناظم آباد میں طلحہ ۔31دسمبر کو کلاکوٹ میں باسط ۔یکم جنوری 2010ءکو لانڈھی میں عمران احمد ۔شاہ فیصل میں عامر خلیل ۔7جنوری کو کلاکوٹ میں عامر ۔اقبال مارکیٹ میں متین حسین زیدی ‘8جنوری کو کھارادر میں نعیم اور خیرالبشر شامل ہیں۔ حقیقی یکم جون 2009ءکو شاہ فیصل کالونی کے علاقے میںمسلح افراد نے فائرنگ کرکے حقیقی کے کارکن عمان احمد کو ہلاک کردیا‘ 3 جون کو عوامی کالونی میں محمدنوید‘ فراست علی‘ شاہ فیصل کالونی میں یاسین علی‘ کھوکھراپار میںمسماة سیما‘ 4 جون کو لانڈھی میں عدیل‘ عوامی کالونی میں عزیز الرحمن‘ لانڈھی میں نبی قریشی‘ زمان ٹاﺅن میںثناءاللہ‘ 5جون کو بلال کالونی میں محمد ندیم‘ ثاقب ماڈل کالونی میں بابر راشد‘ 7 جون کوجمشید کوارٹر کے علاقے میں سلیم الدین ‘عوامی کالونی میں محمد ندیم‘ کھوکھراپار میں محمد جمیل‘ سعودآباد میں نسیم احمد‘ عوامی کالونی میں زاہد حسین‘ لانڈھی میں شہزاد‘ 8 جون کو لیاقت آباد کے علاقے میں فہیم الدین اور سیف الحق صدیقی‘ لانڈھی میں امیر‘ گلبہار میں عبدالنعیم‘ شریف آباد میں علی عباس‘ 19 جون کو شریف آباد میں رئیس۔20 جون کو سعودآباد میں محمد اصغر‘ 21 جون کو سعودآباد میں ندیم احمد‘ 22جون کو سعودآباد میں عبداللہ‘ 23 جون کو الفلاح میں نوید‘ 24 جون کو سپر مارکیٹ میں سید معروف علی‘ عوامی کالونی میں محمد فاروق‘ 26 جون کو نیو کراچی میں نعیم الدین‘ 27 جون کو زمان ٹاﺅن میں عبدالنعیم‘ 28 جون کو سعودآباد میں محمد جنید‘ کورنگی میں طارق احمد‘ سرجانی ٹاﺅن میں محمد ریاض‘29 جون کو سچل میں آصف ریاض‘ 4 اگست کو لیاقت آباد میں محمد سکندر‘ مومن آباد میں سلامت خان‘ 5 اگست کو سرجانی میں محمد آصف‘ 6 اگست کو نارتھ ناظم آباد میں سید ندیم احمد‘ سعودآباد میں عتیق‘ ملیر سٹی میں سید محمد حیدر‘ پریڈی میں محمد شاہد‘ 7 اگست کو سرجانی میں فضل الحق‘ 10 اگست کو شریف آباد میں محمد عامر‘ 11 اگست کو شاہ فیصل میں محمد آصف‘ پریڈی میں وسیم‘ بلال کالونی میں محمد عرفان‘ 15 اگست کو رضویہ میں عبدالحفیظ‘ 4 نومبر کو لانڈھی میں رحمان‘ محمد فرید‘ بریگیڈ میں اسرار احمد‘ 11دسمبر کو سعودآباد میں محمد نعیم‘ 14 دسمبر کو سعودآباد میں عاصم حسین‘ 30 دسمبر کو شرافی گوٹھ میں سہیل احمد کو قتل کیا گیا جبکہ یکم جنوری 2010ءکو عوامی کالونی میں محمد الیاس‘ سعودآباد میں محمد علی‘ 2 جنوری کو عوامی کالونی میں دانش‘ ناظم آباد میں نصیر‘ لانڈھی میں اختر خان‘ 3 جنوری کو ماڈل کالونی میں اخلاق حسین‘ 4 جنوری کو لانڈھی میں محمد یامین‘ سعودآباد میں رمضان‘ 5 جنوری کو لانڈھی میں عبدالرﺅف‘ عوامی کالونی میں عامر کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔