Archive for مارچ, 2010

Articles

واشنگٹن مذاکرات: کیا جنرل کیانی انگریزوں کے لیے افغانوں سے ابدالی کا بدلہ لینے پر آمادہ ہوئے?

In فوج,پاکستان,بین الاقوامی تعلقات on مارچ 27, 2010 از ابو سعد Tagged:

تحریر :علی خان
زیر نظر عنوان تلخابہ کا ہے۔ صاحب مضمون نے اس کا عنوان "دیکھیے اس بھر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا” رکھا ہے۔

…………………………………………………………..

پاکستان اور امریکا کے تزویراتی (اسٹریٹجک) مذاکرات ختم ہوگئے۔ امریکا نے دامِ تزویر بچھا دیا۔ واشنگٹن میں تین دن تک خوب موج، میلے رہے اور اطلاعات کے مطابق ہمارے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے میلہ لوٹ لیا، باقی سول حکام موج کرتے رہ گئے۔ جانے ان مذاکرات کو اسٹریٹجی کا نام کیوں دیا گیا۔ لغت میں تو اس کا مطلب صف آرائی کی فوجی سائنس یا فن حرب ہے، حکمت عملی بھی ہے لیکن اس اصطلاح کا بنیادی تعلق فوج اور لڑائی بھڑائی سے ہے، شاید اسی لیے مذاکرات کی کمان جنرل صاحب کے ہاتھ میں رہی۔
ہمیں انگریزی کی اصلاحات استعمال کرنے کا بڑا شوق ہے، اس سے رعب بھی پڑتا ہے اور اپنی زبان کی کم مائیگی بھی عیاں ہوجاتی ہے۔ تزویر یا تزویراتی کہو تو لوگ کہتے ہیں یار اپنی زبان میں بات کرو، یہ تزویراتی کیا چیز ہے؟ ایک دیہاتی باہر رہ کر آیا، طبیعت خراب ہوئی اور واٹر، واٹر کہتا بے ہوش ہوگیا۔ دیہاتی بیوی نے بڑے افسوس سے کہا کہ حالت بگڑنے کے باوجود پانی تک نہ مانگا، جانے کیا کہہ رہے تھے۔ اسے چاہیے تھا کہ پہلے بیوی کو بھی واٹر کی تعلیم دے دیتا۔ اب تو اردو اخبارات کی کئی سرخیاں آدھی سے زیادہ انگریزی میں ہوتی ہیں اور ٹی وی چینلز پر جو اردو بولی جارہی ہے اسے سن کر تو کسی مزاحیہ پروگرام کا گمان ہوتا ہے۔
تو کیا یہ اسٹریٹجک مذاکرات بھی مزاحیہ پروگرام تھے؟ استغفر اللہ۔ تاہم صرف مذاکرات کہنے میں کیا ہرج تھا۔ امریکا سے مذاکرات تو برسوں سے ہوتے چلے آرہے ہیں جن میں اسٹریٹجی امریکا طے کرتا ہے۔ بقول کسے ”گداگروں کے پاس انتخاب کا حق نہیں ہوتا، جو دے اس کی بھی خیر اور جو نہ دے اس کی بھی خیر، ہم تودوسروں کو قائل کرتے ہیں کہ ”صدقہ دتیاں کہن مصیب آندی آندی ٹل جاندی اے“ اس طرح ہم دوسروں کی مصیبت خوشی خوشی اپنے سر لے لیتے ہیں۔ بلائیں لینا شاید اسی کو کہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف امریکی دہشت گردی کی جنگ ہم نے ازراہِ محبت و عقیدت اپنے سر لے ہی رکھی ہے۔ امریکا کا کوئی بھی حکمران پاکستان سے گزرتا ہے تو ہم اس کی خدمت میں اپنے بھائیوں کی لاشیں پیش کردیتے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ امریکی ہوائی اڈوں پر ہمارے لیے رکھی گئی اسکریننگ مشینوں سے گزر کر جب ہمارے حکمران وہاں جاتے ہیں تو بھی اپنے پیچھے تحفے کا انتظام کر رکھتے ہیں۔ اب دیکھیے، گزشتہ جمعرات کو واشنگٹن میں ”اطمینان بخش“ مذاکرات کا اعلامیہ جاری ہونے سے پہلے ہم نے اپنے علاقہ اورکزئی کی بستی ماموزئی میں تبلیغی جماعت کے مرکز پر بمباری کرکے ۵۶ مسلمانوں کو شہید کردیا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جس جگہ کو نشانہ بنایا گیا وہ تبلیغی جماعت کا اہم مرکز ہے اور مرکز کے علاوہ مدرسہ اور مسجد پر بھی بمباری کی گئی۔ دعویٰ یہ کہ مرنے والے سب شدت پسند تھے اور ثبوت کوئی نہیں، جس کو چاہا شدت پسند قرار دے دیا گیا، اب کون ان لاشوں کے چیتھڑے جمع کرکے فیصلہ کرے اور اس فیصلے کو مانے گا بھی کون۔ یہ کام تو امریکا گزشتہ نوسال سے افغانستان اور عراق میں کررہا ہے۔ افغانستان میں جتنے ”انتہا پسند“ امریکا مار چکا ہے اس کے حساب سے تو اب وہاں سارے ہی ”ابتدا پسند“ رہ جانے چاہییں لیکن صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور اس کے صلیبی حواریوں کو اپنی عزت بچانا مشکل ہورہی ہے۔ امریکا چاہ رہا ہے کہ پاک فوج اپنے علاقوں سے آگے بڑھ کر افغانستان میں بھی اس کی مدد کرے۔ امریکا کے باخبر اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی خبر ہے کہ ہمارے فوجی سربراہ ۶۵صفحات پر مشتمل تجاویز کی جو فہرست لے کر گئے ہیں اس میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکا امداد بڑھائے تو پاک فوج افغان طالبان سے بھی بھڑ جائے گی۔ ابھی تک اس خبر کی تردید نہیں ہوئی لیکن خدا نہ کرے ایسا ہوا تو وہی حشر ہوگا جو اب امریکا اور اس کے صلیبی حواریوں کا ہورہا ہے، اس سے پہلے سوویت یونین کا اور اس سے بھی پہلے برطانیہ کا ہوچکا ہے۔
خدارا، افغانستان اور افغانوں کی تھوڑی سی تاریخ ضرور پڑھ لیں۔ احمد شاہ ابدالی ہندوستان کے مسلمانوں کو مرہٹوں کی چیرہ دستیوں سے نجات دلانے کے لیے شاہ ولی اللہ کی درخواست پر افغانستان سے آیا تھا۔ اب کیا ہمارے ہاں سے کوئی ”ابدالی“ کوئی کیانی صلیبی حواریوں کو احمد شاہ ابدالی کی نسل سے بچانے کے لیے جائے گا؟
امریکا کی تو پوری کوشش ہے کہ وہ افغانستان میں جس شکنجے میں پھنس گیا ہے، پاکستان اس سے نجات دلائے لیکن اس کے لیے پاکستان کو خود اس شکنجے میں پیر پھنسانا ہوں گے۔ پاکستان امریکی دامِ تزویر میں پہلے ہی پھنسا ہوا ہے، اس سے نکلنے کے بجائے وہ اور پھنسنا چاہ رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ ”چوں قصا آید طبیب ابلہ شود“ اور یہاں تو دور دور تک کوئی طبیب نظر نہیں آرہا، ابلہ اور ابلیسی البتہ ہر جا نمایاں ہے۔
ہماری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ امریکا کو مزید کچھ لاشوں کا تحفہ دینا ہی تھا تو تبلیغی جماعت کے مرکز کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ تبلیغی جماعت تو کسی کے لینے میں نہ دینے میں، اسے بے ضرر طریقہ پر اپنے اندازسے تبلیغ کرنے سے کام۔ تشدد، انتہا پسندی یا دہشت گردی تو دور، یہ تو ظلم کے مقابلہ میں با آواز بلند بھی کچھ نہیں کہتی، دل میں شاید برا جانتی ہو۔ یہودیوں کے تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن نے تبلیغی جماعت کو بالکل بے ضرر جانا ہے چنانچہ کبھی اس کے بارے میں کسی نے، حتیٰ کہ بھارت تک نے کچھ نہیں کہا۔ تبلیغی جماعت کا قبائلی علاقوں میں وجود تو امریکا اور پاک فوج کے لیے باعث رحمت ہے۔ اس جماعت کی تبلیغ اثر انداز ہوگئی تو طاغوت سے بزور قوت برسرپیکار افراد بھی ہتھیار رکھ کر چلّے پر چلے جائیں گے۔ مدرسوں اور مساجد پر تو ہمارے بہادر حملے کرتے ہی رہتے ہیں مگر ابھی تک تبلیغی مرکز کو چھوڑا ہوا تھا۔ ممکن ہے کہ اورکزئی ایجنسی کے ان ۵۶ مسلمانوں کی لاشوں کے تحفے کی خبر سن کر ہی محترم ہیلری کلنٹن اتنا کھلکھلا رہی ہوں اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کہہ رہے ہوں ” اے اپاں دا کم ہے“ (یہ ہمارا کام ہے) امریکی اور پاکستانی وزیر خارجہ میں ایسی قربت، ایسی یکجائی خطرے کی علامت ہے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ، جن کا نام اب یاد نہیں آرہا، صرف اتنا کہ جنگجو شہزادی یا بلیک کوئن کہلاتی تھیں، لکھتی ہیں کہ پاکستان کے ”پرنس چارمنگ“ وزیراعظم شوکت عزیز نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ انہیں ایک مسکراہٹ سے زیر کرلیں گے، ادھر بلیک بیوٹی کا دعویٰ کہ ”جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے“ یوں بھی شوکت عزیز کے نقش نگار یقیناً اچھے تھے لیکن چہرہ سپاٹ تھا، بے تاثر، جانے انہیں یہ غلط فہمی کیسے ہوگئی، ان کے مقابلہ میں تو آصف زرداری کہیں زیادہ ”چارمنگ“ ہیں، کس غضب کی مسکراہٹ ہے۔ کسی نامعقول نے ایس ایم ایس بھیجا ہے کہ ”آصف زرداری کی مسکراہٹ اوراداکارہ میرا کے آنسو دونوں خطرناک ہیں“۔ یہ رحمان ملک کیا کررہے ہیں جنہوں نے ایسے پیغامات بھیجنے والے کے لیے ۴۱سال کی قید تجویز کی تھی۔ وہ ذرا عدالتوں میں پیشی سے نمٹ لیں پھر ایسے لوگوں سے نمٹیں گے۔ جناب آصف زرداری نے اپنی مسکراہٹ کا جال امریکا کی ری پبلکن پارٹی کی نائب صدر کی امیدوار پر بھی پھینکا تھا اور معانقہ کی خواہش ظاہر کی تھی، مگر وہ ہار ہی گئیں۔ حافظہ کی خیر ہو، نام ان کا بھی یاد نہیں آرہا۔ ہارے ہوﺅں کو کون یاد رکھتا ہے۔ لیکن پاکستان میں تو جیتے ہوئے وزراءاتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اکثر کے نام نہیں معلوم۔ چار، پانچ ہی ایسے ہیں جو اپنی کارکردگی یا ناکارکردگی کی وجہ سے تواتر سے سامنے آتے رہتے ہیں، کسی کا نام کیا لینا، یہ تو آپ کو بھی ازبر ہوں گے۔ ہمیں تو خوشی اس بات کی ہے کہ ہمارے وزراءملک سے باہر ہی سہی، کھل کر مسکراتے تو ہیں، ہم نے باخبر ذرائع سے سنا ہے کہ جناب شاہ محمود قریشی، ہیلری کلنٹن سے قریبی ملاقات کے بعد یہ شعر گنگناتے ہوئے پائے گئے:
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیض مت
پوچھ حوصلے دل ناکردہ کار کے
خدا کرے کہ گھر والوں نے یہ تصویریں نہ دیکھی ہوں ورنہ جوابدہی مشکل ہوجائے گی، بشرطیکہ عادی نہ ہوگئے ہوں۔
ہمارے جو وزراءاور دیگر سول حکام واشنگٹن گئے تھے ان کو یہ خبر ہی نہ تھی کہ امریکا سے کس موضوع پر بات ہونی ہے۔ ایک باخبر نے خبر دی کہ اس میں کسی آگہی کی ضرورت نہ تھی، مذاکرات حکمت عملی پر ہونے تھے اور حسب معمول حکمت امریکا کی، عملی ہماری۔ زیادہ باخبر تو امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نکلا جس کے پاس تمام نکات کی تفصیلات تھیں جو فوج نے مرتب کی تھیں۔ واشنگٹن سے تجزیہ کار شاہین صہبائی نے خبر دی ہے کہ اسٹریٹجک مذاکرات کی لگام جنرل کیانی نے سنبھالی ہوئی تھی۔ سول قیادت صرف اس میں دلچسپی رکھتی تھی کہ امریکا مزید کیا دے گا لیکن شرکاءکے تبصرے یہ ہیں کہ شراکت داری یعنی زیادہ سے زیادہ پیسے ملنے کے معاملے پر کچھ نہیں ہوگا۔ اور جہاں تک اسٹریٹجی یا حکمت عملی کا تعلق ہے تو دونوں ممالک کی فوج پہلے ہی اس پر اتفاق کرچکی ہے۔ سویلین قیادت نے مذاکرات کا ڈول اس لیے ڈالا تھا کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ سیاسی اسکور کیا جائے۔ امریکا نے پاکستان سے اپنی محبت ظاہر کرنے کے لیے واشنگٹن میلے کی اجازت دیدی۔ امریکا کو اس محبت کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ تو آئے دن اپنے ڈرونز بھیج کر محبتیں نچھاور کرتا رہتا ہے۔ پھر یہ بلیک واٹر عرف ”زی ورلڈ وائیڈ“ بھی اس کی شفقت اور تعلق خاطر کی مظہر ہے، سی آئی اے اس کے علاوہ۔ امریکی نمائندہ خصوصی رچرڈ ہالبروک کا اصرار تھا کہ فوج کی شمولیت کے بغیر کوئی بات نہیں ہوگی۔ خود پاکستان کے اندر بھی ”بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر“ پاک فوج کی ہمت کو داد دینی چاہیے کہ اس نے پاکستان کے ۲۶ سال میں سے ۳۳ سال براہ راست اپنی جان پر جھیلے ہیں اور باقی عرصہ بھی پس پردہ ”راعی“ کا کام کیا ہے۔ یہ بڑا مشکل کام تھا جو بڑی آسانی سے کرلیا گیا۔ سول حکومت کو اپنی اسٹریٹجی یا حکمت عملی پر چلانا اور یہ تاثر دینا کہ ملک میں فوجی حکومت نہیں جمہوریت ہے بڑی بات ہے۔ پیارے یہ ہمیں سے ہے، ہر کارے و ہر مَردے۔ عزیزم شاہین صہبائی نے تو واشنگٹن مذاکرات کا سارا کریڈٹ جنرل کیانی کو دے دیا کہ اس بارات کے اصلی دولہا وہی تھے۔ پاکستانی سفارتخانے میں یوم پاکستان کی تقریب کا اہتمام حسین حقانی نے کیا لیکن وہاں وزراءخارجہ و دفاع کی حیثیت ”شامل باجا“ کی سی تھی۔ بڑی خاموشی سے آگئے، ہٹو بچو کا کوئی شور نہیں مچا اور جب جنرل کیانی آئے تو سائرن بجنے لگے۔ کس شیر کی آمد تھی کہ رن کانپ رہا تھا۔ تمام کیمروں کا رخ اسی رخ روشن کی طرف تھا۔ امریکی و پاکستانی مرد و خواتین انہی پر ٹوٹے پڑ رہے تھے۔ اپنے چوہدری احمد مختار ‘ جو بلحاظ منصب جنرل کیانی کے باس ہیں اور پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماﺅں کی کیفیت یہ تھی کہ پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں۔ سفیر پاکستان جناب حسین حقانی کا حال کئی بیویوں والے شوہر جیسا تھا۔ پاکستانی وفد میں شامل ایک رکن کا کہنا ہے کہ سفیر پاکستان کے پاﺅں دو کشتیوں میں ہیں اور ہاتھ تیسری کشتی میں ہے۔ یہ ان کا کمال ہے جس کی داد دینی چاہیے لیکن ہمیں یاد پڑتا ہے کہ حسین حقانی کے دو ہاتھ ہیں اور دونوں لمبے، موصوف رکن نے دوسرے ہاتھ کا ذکر نہیں کیا کہ وہ کہاں ہے۔ لگتا ہے جیب میں ہو، شاید اپنی ہی جیب میں۔ سول ارکان کی بے توقیری باعث تعجب نہیں۔ انہیں تو امریکا کو پیش کیے گئے ۶۵صفحات کے مندرجات کا علم بھی نہیں تھا۔ غیر فوجی عناصر کی خواہشات پر مبنی کوئی فہرست بھی نہیں تھی اور اس کی ضرورت بھی کیا ہے۔ اصل کام تو فوجی قیادت ہی کو کرنا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اہم شعبوں میں دیرپا ترقی کا روڈ میپ یا نقشہ امریکا تیار کررہا ہے۔ ہمارے سارے ہی نقشے امریکا کے تیار کردہ ہیں ان راستوں پر ہم بگٹٹ دوڑے چلے جارہے ہیں۔ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں۔ جناب شاہ محمود قریشی کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکا سے سول جوہری تعاون پر مذاکرات سے مطمئن ہیں لیکن اس پر مزید کوئی بات نہیں کریں گے۔ ان کا اطمینان اسی سے ظاہر ہے ورنہ ذرا سی بھی امید ہوتی تو وہ بڑھ چڑھ کر بیان کرتے۔ امریکا بار بار کہہ چکا ہے کہ سول جوہری ٹیکنالوجی جو بھارت کو دی گئی ہے، پاکستان کو نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ ایک غیر ذمہ دار ملک ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے، ایسا لگتا ہے کہ مذاکرات میں اس بار بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ شاید اسی لیے واشنگٹن روانگی سے پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر کے خلاف لاہور کی عدالت میں ایک اور درخواست دائر کردی گئی تاکہ پوچھنے پر بتایا جاسکے کہ دیکھیے صاحب ہم تو اب بھی ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور معاملہ ایک بار پھر عدالت میں ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں رسمی طور پر پاک امریکا تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جس کا مطلب ہے کہ ڈرون حملوں میں مزید تیزی آئے گی۔ پالیسیوں پر عمل کے لیے ایک اسٹیرنگ گروپ بنا دیا گیا۔ اب یہ لفظ اسٹیئرنگ پھر اٹک گیا۔ اس کا کیا ترجمہ کیا جائے؟ لغت میں تو اس کا مطلب خصّی بچھڑا ہے یا اپنی راہ لینا، جہاز چلانا وغیرہ۔ ان میں سے کونسا لفظ یہاں موزوں ہوگا۔ یقیناً پہلے والا نہیں، جہازی گروپ کہا جائے تو مشینی کتابت کی غلطی سے یہ جہادی گروپ بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ اپنی راہ لینے والی بات یہ ہے کہ امریکا بارہا پاکستان کو مشکلات میں ڈال کر اپنی راہ لے چکا ہے۔ تو کیا ترجمہ کیا جائے؟ ہمارے خیال میں تو ”بادنما“ مناسب رہے گا۔ جنرل کیانی کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک تعلقات عوامی تعلقات کے بغیر قائم نہیں ہوسکتے۔ شاید اسی لیے شاہ محمود قریشی عوامی تعلقات قائم کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ امریکا نے اپنے ہوائی اڈوں پر پاکستانیوں کے لیے اسکریننگ مشین بھی عوامی تعلقات کے فروغ کے لیے لگائی ہیں۔ پتا تو چلے کہ ان میں سے عوام کون ہے۔ جانے یہی سلوک پاکستانی وفد کے ساتھ بھی ہوا یا نہیں۔ نہیں ہوا تو امریکیوں کا یہ دعویٰ غلط کہ ان کے ملک میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔ پاک فوج کے سربراہ نے جمعرات کو سفارتخانے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا کو پیشکش کی ہے کہ پاکستان کی توانائی اور معیشت کی ضروریات پوری کردی جائیں تو فوج عسکری سازوسامان سے دستبردار ہوجائے گی۔ اسی کے ساتھ جنرل کیانی نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان اور سوات میں پاک فوج کی کامیابیوں سے امریکی رویہ میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ اس کامیابی کو آگے بڑھانے کے لیے امریکا فوجی سامان دینے سے گریز نہیں کرے گا بلکہ تُرنت دیدے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایران سے گیس پائپ لائن کا سمجھوتا طے پانے کے بعد امریکا پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں دلچسپی ظاہر کرے تاکہ ایران سے معاہدہ ختم کردیا جائے۔ بھارت کو بھی تو اسی طرح روکا گیا ہے۔ ان مذاکرات میں ایک بار پھر ایٹمی عدم پھیلاﺅ کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے جس کا ذکر اعلامیہ میں نہیں۔ امریکا اب بھی اس پر قائم ہے کہ پاکستان ایٹمی پھیلاﺅ کا مرتکب ہوا ہے۔ سول نیو کلیئر معاہدے کے حوالے سے ہیلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ بھارت سے تو برسوں کے مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ طے پایا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق تو پاکستان امریکا کا قدیم ترین دوست ہے، بھارت تو سوویت یونین کے ”پالے“ میں تھا لیکن پاک امریکا تعلقات کو پالا مار گیا۔ بہر حال دیکھتے ہیں کہ اس بحر کی تہہ سے کیا اچھلتا ہے، حکمران تو بہت اچھل رہے ہیں کہ بڑی کامیابی ملی ہے۔ ایک ہفتہ واشنگٹن میں گزارنا بجائے خود ایک کامیابی ہے اور کچھ نہیں تو غلط سلط انگریزی بولنے والے امریکی ہمارے شاہ محمود قریشی کے لب و لہجہ سے ضرور متاثر ہوئے ہوں گے۔ کیا ٹکا کر اور جما کر انگریزی بولتے ہیں کہ مدعا پیچھے رہ جاتا ہے، سننے والا لہجے کے سحر میں گم ہوجاتا ہے۔ مسٹر بش نے تو ہمارے وزیراعظم کی انگریزی کا مذاق اڑانے کی کوشش کی تھی او رجب وہ تقریر کررہے تھے تو آنکھ مار کر مسکرا رہے تھے۔ جناب گیلانی کو چاہیے تھا کہ سرائیکی میں خطاب کرتے پھر دیکھتے کہ کون آنکھ مارتا ہے مگر ہماری اپنی زبان ہی کہاں ہے اور جو ہے وہ دوسروں کے منہ میں ہے یا دوسروں کی زبان اپنے منہ میں۔ پاکستان کو بھارت کی طرح سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی دینے میں امریکا کو خوف ہے کہ بھارت ناراض ہوجائے گا۔ اس وقت بھارت کو خوش رکھنا امریکا کی سب سے بڑی مجبوری ہے، اسرائیل کو راضی رکھنے سے بھی زیادہ‘ کیونکہ امریکا اسرائیل کا تحفظ کرتا ہے جیسا کہ جوبائیڈن نے کہا بھی ہے اور بھارت خود اس خطہ میں امریکی مفادات اور اسٹریٹجی کا تحفظ کررہا ہے۔ باقی رہا خان نیٹ ورک تو یہ محض ایک بہانہ ہے۔ پاک امریکا مذاکرات تو آئندہ بھی چلتے رہیں گے لیکن اسی اثناءمیں خود پاکستان میں ہونے والے اسٹریٹجک مذاکرات فی الحال غت ربود ہوگئے۔ میاں صاحب عین وقت پر ”نعلی موڑ“ مڑ گئے۔( یہ یوٹرن کا خود ساختہ ترجمہ ہے، گھوڑے کی نعل بھی تو U کی شکل کی ہوتی ہے) معاملات اچھے بھلے چل رہے تھے۔ اٹھارہویں ترمیم پر اتفاق ہوگیا تھا۔ رضا ربانی کمیٹی میں (ن) لیگ کے اسحاق ڈار بھی شامل تھے اور ہر بات پر متفق تھے۔ اٹھارہویں ترمیم کا بل جمعہ کو پارلیمنٹ میں پیش ہونا تھا او رجناب زرداری کو پارلیمنٹ کے اجلاس سے تیسری مرتبہ خطاب کرنے کا اعزاز حاصل ہونے والا تھا لیکن ”پکائی تھی کھیر ہوگیا دلیہ“ (ن) لیگ کو شاید یہی بات پسند نہیں آئی کہ آئینی ترمیم کا کریڈٹ پیپلز پارٹی لے جائے۔ سیاست میں عموماً یہی کوشش ہوتی ہے کہ ”بلائیں زلف جاناں کی اگر لیں گے تو ہم لیں گے“ اب ایسا لگتا ہے کہ اس انحراف پر ساری بلائیں (ن) لیگ پر نازل ہوں گی۔ کوئی بھی اس حرکت کی حمایت کرتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ شاید جلد ہی جواب مل جائے۔

Articles

کھلا خط ان نوجوانوں کے نام جو زید حامد سے متاثر ہیں

In مذہب,پاکستان on مارچ 27, 2010 از ابو سعد

ابو محمد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
میرے وطن کے نوجوانوں
السلام علیکم
دوستوں آج آپ کو خط لکھنے کی وجہ بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ زید زمان حامد نامی شخص اس وقت ایک متنازعہ شخصیت بن چکے ہیں اور جسکی وجہ سے ہم آپس میں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے لگ گئے ہیں حالانکہ ہم ایک دوسرے کو کل تک جانتے بھی نہ تھے اور آج ایک دوسرے کو گالم گلوش کر رہے ہیں کیوں؟
اگر ہم ٹائم پاس کرنا چاہتے ہیں لڑائی جھگڑا کرکے تو پھر ٹھیک ہے لگے رہو۔
اور اگر ہم سنجیدہ ہیں تو یہ بات طہ شدہ ہے کہ جب ہم آپس میں ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تو ذاتی معاملہ میں تو ہم لڑ نہیں رہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ ناراضگی کسی نظریہ کی بنیاد پر ہے۔
اور جب ہم فیس بک پے زید حامد صاحب کے پلیٹ فارم پے جمع ہوئے تو اسکی وجہ بھی یہ تھی کہ کسی نظریہ پے ہم سب متفق ہوے۔
چلیں پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کیا نظریات تھے جن پر ہم سب متفق تھے اور ہیں۔
۱) سب سے پہلے تو ہم سب ایک ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ۔جسکی ترقی بقاء وامن امان کے لیئے اپنی تمام قوت و صلاحیتوں کے ساتھ مخلص ہیں۔
۲) ہمارا مذھب اسلام ہے ۔ جس سے محبت کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور یہ ہی ہمارے وطن عزیز کے وجود اور بقاء کی بنیاد ہے۔
۳) ہم سب کسی ایک ایسے لیڈر کی تلاش میں ہیں جو ہمارے ملک اور مذہب سے محبت کرتا ہو۔ نہ صرف زبانی بلکہ اپنے عمل سے ثابت کرتا ہو۔
یہ وہ بنیادیں ہیں جن پر ہم پہلے بھی متفق تھے اور آج بھی ہیں۔
تو پھر یہ گالم گلوچ اور جھگڑے کیوں شروع ہوگئے؟
حالانکہ وہ نظریات جن کی بنیاد پے ہم سب یہاں جمع ہوئے تھے وہ تو ایک ہی تھے تو آخر ایسی کونسی چیز ہمارے درمیان آئی جس نے ہمیں آپس میں لڑادیا؟
کیونکہ ہم ذاتی بنیاد پےتو کسی سے ناراض نہیں ہیں تو لازمی ہمارے نظریات کے ساتھ کچھ نہ کچھ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی نے دھوکہ،فریبی کے ساتھ کام لینے کی کوشش کی ہے۔
آئیےاسی بات کا خلاصہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس وقت ہم دو حصوں میں بٹ گئے ہیں۔
پہلا طبقہ:
جن کے خیال میں زیدزمان حامد ایک ایسی شخصیت ہیں جس نے کھلم کھلا امریکہ ،یہودی،ہندو کی سازشوں کو بےنقاب کیا۔(میڈیا پے پہلی بار یہ شخص ہے جسنے ایسا کیا) ورنہ کتابوں رسالوں میں بہت سے لوگوں نے یہ کام بہت پہلے سے کیا ہوا ہے اور آج تک کر رہے ہیں۔اور جہاں تک یوسف کذاب کی بات ہے وہ زید صاحب کا ذاتی معاملہ ہے۔
دوسرا طبقہ:
اس بات کا اقرار کرتے ہوئے کہ بے شک اس شخص نے ایک انقلاب برپا کیا خاص کر نوجوان نسل میں اور ہم بھی اس سے محبت کرنے والوں میں سے تھے لیکن جب ہمیں پتہ چلا کہ اس شخص کا ماضی ایک ایسے شخص کی خدمت میں گذرا جس نے نعوذباللہ نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اسے سزائے موت سنائی گئی اور اسے اسلام آباد کے عسائیوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا اور زید زمان حامد اس جھوٹے نبی کا چیلہ تھا اور اسکا کیس لڑتا رہا اور اس کے مرنے کے بعد اس نے اخبار میں کالم لکھا کہ ظلم ہوا ہے یوسف کذاب کے ساتھ ۔۔۔۔۔ توبھائی ہمارے لئے ایمان پہلے ہے امریکہ ،یہودی،ہندو بعد میں ہے۔
دونوں طبقوں کی بات جاننے کے بعد یہ بات سمجھ آئی کہ پہلا طبقہ نے نظریات کو چھوڑ کر زید زمان حامد کی ذات کو بنیاد بنا لیا اور دوسرے طبقہ نے نظریات کو اہمیت دی اور زید زمان حامد کو اس لئے چھوڑدیا کہ وہ شخص نظریات پے پورا نہیں اتر سکا۔
خلاصہ:
اس بحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ اس اختلاف کی بنیاد ذات اور نظریات کا تصادم ہے۔اور تصادم کی بنیاد زید زمان حامد صاحب کا ماضی اور اعتقادات ہیں۔
اب دیکھیں پہلے طبقہ والےدوست وہ نظریات ہی بھول گئے جس پے وہ جمع ہوئے تھے اور ذات کی پیروی کرنے لگ گئے اور یہ بات بھول گئے کہ پاکستان کا مطلب لاالہ الاللہ اور محمد رسول اللہ ہے اور زید زمان صاحب کا ماضی یوسف کذاب رسول اللہ گاتے گاتے گزرا ہے۔ اور اوپر جو ہم نے ایک نظریہ کا ذکر کیا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں وہ لیڈر چاہیئے جس میں پاکستان اور ایمان دونوں خصوصیات ایک ساتھ جمع ہوں۔۔۔۔اور زید زمان حامد صاحب اس معیار پے اتر جاتے اگر اپنے ماضی پر شرمندگی اورموجودہ اعتقادات کو درست کر دیتے ۔
ذرا غور فارمائیں ۔۔زید صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسم کی محبت کی تو بات کرتے ہیں لیکن انکا اپنا ماضی ایک ایسے شخص کی خدمت میں گزرا جو جھوٹے نبی ہونے کا دعوے دار تھا۔۔۔۔اور اس بات کا اقرا زید زمان خود کرتے ہیں بلکہ یہاں تک کہتے ہیں کہ یوسف علی ایک شریف آدمی تھا اور اپنی بات ثابت کرنے کے لئیے جتنے علماء زید صاحب نے کوڈ کئے ان سب نے الٹا زید حامد کو جھوٹا ،مکار کہا جسکی ویڈیو فیس بک پے موجود ہیں۔
الزامات اور اسکی وجوھات۔
نبوت کا دعویٰ کرنے کے جرم میں یوسف کذاب کو حکومت پاکستان نے پھانسی کی سزا دی تھی اور تمام مکاتب فکر کے علماء نے متفقہ فتویٰ دیا تھا اس کے قتل ہونے کا اور یہ صرف 10 سال پرانی بات ہے۔
جونظریاتی لوگ زید زمان کے خلاف ہوگئے ہیں اسکی وجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے نہ کہ امریکہ یا ہندوں کی ایجنٹی۔
زید زمان حامد کے کردار کو سمجھنے کے لیئے ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مثال:
ایک شخص میرے دشمن کو میرے لئے گالی دے اور میرے دوسرے دشمن کے بارے میں مجھے کہے کہ نہیں جی وہ تو شریف آدمی ہے آپ کو غلط فہمی ہورہی ہے تو آپ خود بتائیں میں اس شخص کو کیا سمجھوں دوست یا دشمن؟
یاد رہے مسلمان کا سب سے بڑا دشمن وہ ہے جو دعویٰ نبوت کرتا ہے یا نبی کی توہین کرتا ہے جیسے مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا،یوسف کزاب نے کیا،سلمان رشدی،ڈنمارک کا کاٹونسٹ وغیرہ
اب زید زمان صاحب اس بات کا تو اقرار کرتے ہیں کہ وہ محمد صلی اللہ علی وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں
مگر انھوں نے اپنے ماضی کے کئی سال جھوٹے نبی کی خدمت میں جو گذارے اس کے حق میں عدالت میں یوسف کذاب کیس کی پیروی کی تاکہ اسے سزا نہ مل سکے اور اسکے قتل کے فیصلہ پر ڈان اخبار میں مضمون تک لکھا کہ یہ ظلم ہوا ہے ؟ کیا یہ قول اور فعل کا تضاد نہیں؟
زید زمان صاحب اس بات کو نہیں مانتے کہ یوسف کو کذاب،جھوٹا نبی کہا جائے۔ ارے بھائی کیوں نہ کہا جائے ۔۔۔؟ اور آ پ کی کس بات پے ہم یقین کریں کہ آ پ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہو یا جھوٹے مدعی نبوت کو مانتے ہو؟
کیا پورے پاکستان کے علماء جھوٹ بول رہے ہیں؟ کیوں جھوٹ بولینگے؟ اور تمام مکاتب فکر کے علماء ایک ساتھ مل کے جھوٹ بولیں؟ کچھ عقل سے کام لیا جائے۔
عدالت نے جو سزائے موت کا حکم دیا وہ ویسے ہی تھا کیا؟ عدالت میں لوڈو کھیل رہے تھے کہ جو ہار جائے اسے قتل کی سزا دی جائے؟
افسوس ہے کہ پاکستان میں عدالتی نظام گورے کا ہے لیکن جج مسلمان تھا اور یہ فیصلہ اسلامی نقطہ نظر کو سامنے رکھ کے کیا گیا تھا ورنہ گورے کے قانون میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت یا شان میں گستاخی کی کوئی سزا نہیں۔
زید حامد نےپاکستان کی عدالت کو چیلنچ کیا ہے ۔کسی بھی ملک کے اندر رہتے ہوئے اس ملک کے قانون کو چیلنچ کرنا قانون کی زبان میں بغاوت کہلاتا ہے۔ پاکستانی قوم کو کیا درس دیا جا رہا ہے کہ اپنے ملک کے گھسے پٹے قانون کو قانون نہ مانو؟
خلافت راشدہ صحابہ نے قائم کی تھی اور وہ علماء تھے اور جناب زید حامد صاحب علماء کو فسادی کہتے ہیں
انا للہ۔۔۔ علماء اسلام سے اتنی نفرت؟ کیوں؟
پاکستان بننے کے دن سے آج تک علماء ہی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کی جس کا نتجہ ہے کہ الحمد للہ آج ہر مسلمان فخر سے کہ سکتا ہے کہ میرا دین میرا قرآن میرے نبی کی ایک ایک سنت محفوظ ہے۔۔آج امریکہ اور تمام باطل قوتیں مدارس کے خلاف ہیں بند کروانے کی کوشش کر رہے ہیں اور زید حامد بھی علماء کو فسادی کہ رہا ہے تو اب بتائیں زید حامد امریکہ کے ایجنڈے کو فروغ دے رہا ہے یا علماء امریکہ کے ایجند ہیں؟
خلافت کا نعرہ تو جامعہ حفصہ نے بھی اسلام آباد میں بیٹھ کر لگایا تھا اسے امریکہ کے حکم پر پاکستانی فوج کی مدد سے صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا لیکن زید زمان حامد اسی اسلام میں بیٹھ کر حکومت،امریکہ کو گالی دیتے ہیں مگر نہ حکومت نے کچھ کہا نہ امریکہ نے کیوں؟
مولانا سعید احمد جلال پوری شھید ختم نبوت کے مجاھد تھے انہیں دھمکیاں زید زمان کے ان نمبروں سے دی گئیں جو اسکے وزٹنگ کارڈ پے درج ہیں اور پولیس کے مطابق یہ نمبر زید زمان حامد ہی کے نام پے ابھی تک ہیں۔ اور انہیں زید زمان نے 2 ٹکہ کے مولوی کہ کر مخاطب کیا تھا۔۔یہ پاکستانی قوم کے بچوں کو کیا درس دے رہا ہے ؟ علماء کو 2 ٹکہ کا کہنا اسلام سے محبت کی نشانی ہے یا اسلام سے دشمنی کی؟
خلافت راشدہ جیسے عظیم مقصد کی بات ٹی وی پے ایک سے ایک حسین عورت کو سامنے بٹھا کے پروگرام میں کی گئی ۔انا للہ کیا یہ ہی خلافت کا بنیادی تصور ہے؟ عورت کو دکھا کر اپنی بات کرنا یا منوانا یہود ونصاریٰ و ہندوں کا کام ہے مسلمان کا نہیں۔۔۔۔زید زمان صاحب کی اس حرکت کو کیا کہا جائے؟
اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟
کیونکہ اس اختلاف کی بنیاد زید زمان حامد صاحب کا ماضی اور اعتقادات ہیں۔
اور چونکہ انکے پلیٹ فارم پے ہم انہی کی دعوت پے سب جمع ہوئے ہیں لھذا اس اختلاف کو ختم کرنے کی ذمہ داری بھی زید زمان حامد صاحب پے عائد ہوتی ہے انہیں چاہیئے کہ وہ علی الاعلان یوسف علی کو یوسف کذاب تسلیم کریں اور یوسف کذاب کے حق میں جس قسم کی بھی انکی خدمات ہیں ان سب سے توبہ کریں تاکہ امت مسلمہ اور کسی تقسیم سے محفوظ رہ سکے۔
والسلام
ایک اللہ کا بندہ

Articles

’’گھٹ گئےلیڈر‘ بڑھ گئےسائے‘‘

In فوج,مذہب,پاکستان on مارچ 17, 2010 از ابو سعد Tagged:

کاش پاکستانی عوام جن کوووٹ دیتےہیں ان میں کوئی لیڈر بن جاتا۔ ویسےعوام کو ووٹ ہی ان سیاستدانوں کو دینا چاہیےجو لیڈرز ہیں‘لیکن بدقسمتی سےایسا نہیں ہوتا۔ جس وقت میں یہ سطور ضبط تحریر لارہا ہوں ایکسپریس ٹی وی کےپروگرام ”آج کل“ میں ایک ایسا ہی بونا لیڈر نوجوانوں کو یہ تصور دےرہا ہےکہ وہی لیڈر ہیں۔ ہمیں گلہ رہتا ہے کہ وہ جن کا کام ملک کی چوکیداری ہے‘ وہ ایوان اقتدار میں آکر بیٹھ جاتےہیں لیکن اس میں قصور بھی تو ان بونےلیڈروں کا ہوتا ہیے۔ ابھی چند دن قبل جامعہ نعیمہ لاہور میں تقریر کرتے ہوئے ان کی زبان ’’پھسل“ گئی جس پر ان کا محاصرہ ہوا تو انہوں نے”طالبان “ سےمتعلق اپنےبیان کی ”وضاحت“ کےساتھ جاکر سرحدوں کی حفاظت کےلیےبنائی گئی فوج کےسپہ سالار کےقدموں پر گر پڑیے۔ میں ان کو بونا نہ کہوں تو کیا کہوں؟ شاید اسی دن کےلیےجگر مراد آبادی نےکہا تھا۔
جہل ِخرد نےدن یہ دکھائے
گھٹ گئےانسان بڑھ گئےسائے
آپ انسان کو حکمران پڑھ لیں۔
آج جب پورا پاکستان زرداری کی کرپشن کےپیچھےپڑا ہوا ہےجب کہ میں ”شریف بونا کمپنی“ کو زیادہ قابل گرفت سمجھتا ہوں کیوں کہ زرداری عوام سے مینڈیٹ لینےکےلیےجاتےہیں تو ان کو پتا ہوتا ہے۔ زرداری اور ان کی پارٹی کی کرپشن کسی سےڈھکی چھپی ہےاور نا ہی ان کےسیاسی نظریات۔ الفاظ شاید سخت ہیں لیکن کیا کریں ا س سےکم میں ان کی عکاسی نہیں ہوتی کہ یہ منافق ہیں اور ان کا قائد میاں محمد نواز شریف منافق اعظم۔ یہ ووٹ دائیں بازو کےنام پر لیتےہیں اور گرتےہیں ”امریکا کی چوکھٹ“ پر۔ کارگل جنگ کےدوران شہباز شریف کی امریکا یاترا کون بھولا ہے؟ طالبان اور ان کےنظریات ایک جیسےنہیں تو کہا کیوں؟ الیکشن مہم کےدوران عوام کو یہی باور کرایا جاتا ہےکہ ہم امریکی پالیسیوں کےخلاف ہیں۔ جامعہ نعیمہ میں طالبان اور اپنےنقطہ نظر کو بھی تو اسی تناظر میں قرار دیا تھا۔ شہباز شریف کےبیان پر بہت ساروں نےامریکی نمک خوار بن کر ”ردعمل “ ظاہر کیا لیکن سب سےدلچسپ ردعمل یا عمل نگہت اورکزئی کا رہا جنہوں نےدوپٹا پھینک دیا۔ نیویارک سےطیبہ ضیا ءچیمہ نےنوائےوقت میں رپورٹ کیا ہےکہ امریکی مسلم خواتین نےاس پر ردعمل ظاہر کرکےکہا کہ نگہت اوکرزئی نےاپنا نہیں بلکہ تمام مسلمان خواتین کا دوپٹہ اُتار پھینکا ہے۔ ان خواتین کا تعلق یقینا کسی تحریک طالبان غالباً تحریک طالبان امریکا سےہوگا۔ ایک ایسی خاتون نےطالبان بن کر کچھ ”مجرموں“ کی مرہم پٹی کردی تو اس کو قیدی 650بناکر بگرام جیل بھیج دیا۔ وہاں سےامریکا لےجاکر امریکی انصاف کا شاندار مظاہرہ کیا گیا۔ ختم نبوت کےطوفانی صاحب نےسوال کیا ہےکہ ڈاکٹر عافیہ کو امریکا لےجانےوالےآخر زید زمان حامد کو کیوں نہیں اُٹھاتے۔ وہ بھی تو امریکا کےخلاف اور افغان طالبان کےحق میں بات کرتا ہے۔ ان کےبقول معاملہ سیدھا سادہ ہے۔ شہباز شریف کےبیان پر زبان تاسیر بھی بھڑک گئےتھے وہ سلمان تاثیر جوآدھےپاکستان(صوبہ پنجاب) کی جامعات کےچانسلر ہیں اور ان میں بیشتر میں زید حامد اب تک تقریر کرچکا ہے‘ جس میں ا”چھے“ اور”برے“ طالبان کےعلاوہ بھارتی اور امریکی دہشت گردی کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ان کی تقریروں پر ان کےمحسنوں کو بھی اعتراض نہیں حالانکہ ”دی نیوز“ کےابصار عالم کا خیال ہےکہ ان محسنوں نےان کےاوپر سےہاتھ اُٹھالیا ہے۔ بات سےبات نکلتی ہے لیکن ہم اصل موضوع پر آتےہیں کہ منافقت نہیں ہونی چاہیے‘ شہباز شریف کو اگر فوج کی این او سی لیکر اقتدار میں آنا یا روکنا ہےتو وہ عوامی منڈیٹ کےبھاشن دینا بند کردیں۔ جو ہیں اس کا اعتراف کرلیں۔ ورنہ منافقوں سے تو ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے زرداری ہی اچھےہیں کہ جیسےہیں ویسا ہی اپنےآپ کو پیش کرتےہیں۔

Articles

شاباش میرے قبائلی رہنماوں

In پاکستان on مارچ 8, 2010 از ابو سعد Tagged:

قبائلیوں کو جتنا بھی برا بنا کر پیش کردیا جائے میرے لیے یہ ہمیشہ باعث فخر رہے ہیں۔ یہ وہ کام کرجاتے ہیں جو پورا ملک اور اس کے ادارے نہیں کر پاتے ۔ دیکھیے نا ابھی جب دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ایک ‘پاک فوج پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں ڈرون طیارے گرانے کا مظاہرہ کررہی تھی قبائلیوں نے اس کا عملی مظاہرہ کرکے امریکی ڈرون مارگرایا۔ کہا جاتا ہے کہ فوج نے پیغام دے دیا کہ وہ تو ڈرون گراسکتی ہے لیکن اب یہ سیاسی حکومت تو اجازت دے۔ اس کے جواب میں ایک صاحب کا کہنا ہے کہ ایسا فوج نے اس وقت کیوں نہ کیا جب ایک فوجی ملک پر مسلط ہوکر حکومت کررہا تھا ۔ ایک دوسرے صاحب جو اکثر پہلے والے کی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آتے ہیں کہنے لگے فوج نے کس بات میں سیاسی حکومت سے پوچھا ہے؟ کیا کیری لوگر بل میں ؟ خیر یہ فضول بحث ہے ۔ اصل خبر یہ ہے کہ جن لوگوں میں وزیرستان نے امریکی طیارہ مار گرایا تھا ان کے نمائندوں نے واشنگٹن میں ایک ڈرون حملہ کردیا۔ یہ امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کی دعوت پر امریکیوں کو سمجھنے گئے اور صحیح سمجھ کر آگئے۔ قبائلی علاقوں کی قومی اسمبلی اور سینٹ میں چھ نمائندوں نے اپنا امریکی دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس اپنے ملک کا رخ کیا۔
ایک ایسے وقت میں جب ہمارے حکمران سیاسی جماعتوں کے قائدین بشمول میاں محمد نوازشریف امریکی چوکھٹ پر سجدہ ریزی کے لیے بے تاب نظر آرہے ہیں ‘ ان چھ نمائندوں نے اسکینگ کے نام پر برہنگی کو اپنی عزت نفس کے خلاف سمجھا اور اپنا دورہ ادھورا چھوڑکر واپس پاکستان آ گئے۔
پاکستان میں امریکی وزیر داخلہ رحمن ملک (اس کو ڈکیت پڑھا جائے) اور واشنگٹن میں پاکستان کے امریکی سفیر حسین حقانی زبان سے براہ راست نہ کہتے ہوئے بھی وزیرستان کو پاکستان کے موجودہ حالات کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ میں تحریک طالبان پاکستان کو وبا سمجھتا ہوں لیکن اس وبا کی ذمہ داری اسلام آباد(ایوان صدر‘ ایوان وزیر اعظم ‘ اسٹبلشمنٹ ڈویژن اور جی ایچ کیو) میں موجود ڈاکٹروں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے قبائلیوں کو مٹانے کے امریکی منصوبے کے لیے جانے یا انجانے میں تحریک طالبان پاکستان کو جنم دیا ۔ اور امریکا ان قبائلیوں کو مٹانے کا منصوبہ کیوں نہ بنائے جبکہ یہ ان کے منہ پر غیرت کے طمانچے مارتے رہتے ہیں۔ امریکا کو ااس بات کا احساس ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو اس کا احساس ہو نہ ہو لیکن پاکستانی عوام کو بھی احساس ہے تب ہی تو تازہ ترین خبر کے مطابق اسلام آباد ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا گیا ہے۔

Articles

آ ئینہ تصویر۔ کوسووو میں ابھر آنے والی یہ قبریں کن کی ہیں

In پاکستان,حقوق انسانی,دہشت گردی on مارچ 5, 2010 از ابو سعد

پاکستانیوں کو مبارک ہو کہ حکومتِ پاکستان نے نئی اسلامی ریاست کوسووو کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ جمعرات 6 مارچ کو سربیا کے وزیر خارجہ وک جیریمک نے سید بادشاہ یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی اور مسلم ریاست کوسووو کو تسلیم کرنے سے انکار کے فیصلے کو خوب سراہا۔ سراہنا بھی چاہیے۔ یہ بھی سربیا کی بڑی کامیابی ہے کہ مسلم دنیا کا ایک اہم اور واحد ایٹمی ملک پاکستان مقتولوں اور مظلوموں کے بجائے ظالموں اور قاتلوں کا ساتھ دے رہا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جب سرب دہشت گرد بوسنیا ہرزی گوینا اور کوسووو میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہے تھے‘ بچوں کو سنگینوں پر اچھال رہے تھے اور مسلمان عورتوں کی عصمت دری کر رہے تھے‘ سید صاحب اس وقت جیل میں تھے اور شاید ان تک اخبارات بھی نہ پہنچ رہے ہوں۔ ورنہ اس دیدہ دلیری سے کوئی مسلمان کس طرح اپنے بھائیوں کے قاتلوں کا ساتھ دے سکتا ہے۔ امریکا کی بات اور ہے کہ اس کی دہشت حکمرانوں پر طاری ہے۔ سید صاحب ہاتھ ملانے کے بعد غور سے دیکھیے‘ کوسوو کے شہیدوں کا خون آپ کے ہاتھ پر بھی لگ گیا ہوگا۔
عجیب اتفاق ہے کہ جب پاکستان میں ایک بار پھر پیپلزپارٹی کو اقتدار دینے کا فیصلہ ہوا اور وزارت عظمیٰ کے لیے قرعہ فال سید یوسف رضا گیلانی کے نام نکلا‘ انہی دنوں کوسووو کے مسلمانوں کو قاتلوں کے چنگل سے نجات ملی۔ طویل خونریزی کے بعد فروری 2008ءمیں آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرا۔ سابق کمیونسٹ ملک یوگو سلاویہ کے ٹکڑے ہوئے تو سب سے طاقت ور ریاست سربیا نے آس پاس کی ریاستوں پر قبضہ کے لیے قتل و غارت گری کا بازار گرم کردیا اور مسلم اکثریتی علاقے بوسنیا اور کوسووو خاص طور پر نشانہ بنے۔ سربیا کی جارحیت کے دوران کم از کم 12 ہزار مسلمان مرد‘ عورتیں اور بچے شہید کیے گئے اور ایک لاکھ 30 ہزار گھروں کو جلایا گیا۔ نصف آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوئی۔ کوسووو کو تسلیم نہ کرنا اپنے شہید مسلمان بھائیوں کے خون سے غداری ہوگی لیکن پاکستانی حکمرانوں کو شاید تاریخ کا علم ہی نہیں‘ ہم عظیم مجاہد طارق بن زیاد اور ان کے جانثاروں کی توہین کرتے ہوئے ظالموں کے لیے ”بربریت“ کی اصطلاح بڑے شوق سے استعمال کرتے ہیں۔ حقیقت میں اس جگہ ”سربیت“ یا ”سربریت“ کا استعمال زیبا ہے۔ پاکستان نے کوسووو کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا لیکن اپریل 2009ءمیں سعودی عرب اس کی آزاد حیثیت تسلیم کرچکا ہے۔ دونوں میں سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ دنیا کے 58 ممالک اسے تسلیم کرچکے ہیں۔ جی 8کے سات ممالک‘ یورپی یونین کے 27 میں سے 22 اور ناٹو کے 28 میںسے 25 ممالک بھی کوسووو کی آزادی کو تسلیم کرچکے ہیں۔ اسے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی رکنیت بھی مل چکی ہے۔ ابھی دو ماہ قبل ہی 9 دسمبر 2009ءکو برطانیہ میں متعین کوسوو کے جارج ڈی افیئر محمد حتمی نے اپیل کی تھی کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی کوسوو کو جلد باضابطہ طور پر تسلیم کرے‘ کوسووو کی اکثریت آبادی مسلمان ہے اور مسلم ممالک سے برادرانہ تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہے۔ ان کو نوید ہو کہ پاکستانی حکمران صفِ دشمناں میں کھڑے ہیں‘ شاید ابھی امریکا نے کوسووو کو تسلیم نہیں کیا ورنہ ہماری کیا مجال تھی۔ سرب وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں اطلاع دی ہے کہ ہماری کوششوں سے پاکستان سمیت دنیا کے دو تہائی ممالک نے کوسووو کو تسلیم نہیں کیا۔ وزیراعظم پاکستان نے اتنا ہی پوچھ لیا ہوتا کہ کوسووو میں ابھر آنے والی یہ قبریں کن کی ہیں اور یہ ضعیف مسلمان خواتین اپنے بھائیوں‘ اپنے بیٹوں سے کیا کہہ رہی ہیں۔ لیکن ایسے کتبے لیے کھڑی خواتین تو اسلام آباد اور سری نگر میں بھی نظر آتی ہیں جو پوچھتی ہیں ”میں کس کے ہاتھ میں اپنا لہو تلاش کروں؟“ سید صاحب ذرا اپنا ہاتھ غور سے دیکھیں۔
(بشکریہ جسارت میگزین ‘شمارہ 7تا13مارچ2010)

Articles

میجر جنرل طارق خان کا غیر ذ مہ دارانہ بیان

In پاکستان,حقوق انسانی on مارچ 3, 2010 از ابو سعد

بہت سارے نوجوانوں کی طرح میری بھی خواہش تھی کہ فوج میں شمولیت اختیار کروں، پشاور میں ابتدائی مرحلے سے کامیابی کے ساتھ گزرنے کے بعد آئی ایس ایس بی کے لئے کوہاٹ پہنچا اور پورے چار دن وہاں گذارنے کے بعد ناٹ ریکمنڈڈ کا لیٹر ہاتھ میں آیا۔ شاید میں فوج میں بھرتی کے لیے اہل نہیں تھا یا پھر میں اتنا ڈسپلنڈ نہیں تھا کہ ملک دو لخت ہوتا اور میں اپنے جنرل کے حکم پر نوے ہزار دیگر سپاہیوں کی طرح بغیر ڈسپلن توڑے ہتھیار ڈال دیتا ۔
میرے بیج کے دو دوست منتخب ہوگئے تھے ‘ ہم دل جلے جلن کے مارے ان سے کہتے تھے کہ فوجی کا دماغ گھٹنے میں ہوتا ہے۔ فوجی دماغ سے نہیں گھٹنے سے سوچتا ہے۔ آج کے اخبارات میں آئی جی ایف سی میجر جنرل طارق خان کا بیان پڑھ کر احساس ہوا کہ واقعی ان کا دماغ سر میں نہیں گھٹنے میں ہوتا ہے۔ موصوف نے فرمایا جماعت اسلامی کے ہارون رشید کا گھر دہشت گردی کا مرکز تھا۔ میجر جنرل صاحب فوجی ہونے کے ساتھ ساتھ پٹھان بھی ہیں۔ کاش پریس بریفنگ کے وقت موجود ہمارے اردو اسپکینگ بھائی میجر جنرل اطہر عباس ان کو سمجھاتے کہ بھئی بغیر کسی ثبوت کے ایک محب وطن سیاسی جماعت کے صوبائی نائب امیر پر اس طرح کا الزام لگانا کوئی عقل کی بات معلوم نہیں ہوتی۔
ثبوت بھی فوجی ثبوت نہیں ۔ لال مسجد کو فتح کرتے وقت بھی ثبوت دکھائے گئے تھے‘ لیکن اب سپریم کورٹ بھی فوجی آپریشن میں قتل ہونے والوں کو شہدائے لال مسجد پکارتی ہے ۔
یہاں آئی جی فرنٹیر کور میجر جنرل طارق خان کو یہ مشورہ بھی دیاجانا چاہیے کہ وہ باجوڑ اور قلعہ بالا حصار سے ذرا نکل کر دنیا میں دیکھیں کہ کیا ہورہا ہے۔ وہ مغربی سرحد پر ڈالروں کی خاطر میراثی پرویز مشرف کی شروع کی گئی امریکی جنگ لڑ رہے ہیں تو ادھر وہی امریکا ‘بھارتی دشمنوں اور امریکا میں پاکستانی سفیر کی مدد سے فوج کا تعلق ’’مستقبل کی القاعدہ ‘‘ یعنی لشکر طیبہ کے ساتھ جوڑ کر اس پر وار کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ براہ کرم تھوڑا سا وقت نکال کر امریکی پالیسی ساز میگزین نیوز ویک کی یہ ٹائٹل اسٹوری بھی پڑھ ڈالیں ۔ وہ وقت کوئی بہت زیادہ دور نہیں کہ اس وقت قبائلی علاقوں میں امریکی جنگ کو جائز کہنے والے لندن اور واشنگٹن نکل لیں گے اور امریکی فوج آپ کو دنیا کے لئے خطرہ قرار دے کر مشرقی سرحدوں سے حملہ آور ہوگی تو یہی لوگ آپ کے شانہ بشانہ ملکی سرحدوں کی حفاظت میں مصروف ہوں گے جن کو آج آپ کسی طریقے سے باجوڑ کے شدت پسندوں سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہاں ایک اور بات کی بھی وضاحت کرتا چلوں کہ اگر چہ امریکی جنگ کا حصہ بننے کے بعد آُپ ہی کے چیف کی طرف سے ڈالروں کے عوض پاکستانی بیٹی کو امریکیوں کے حوالے کرنے کے اعتراف کے بعد آپ کی حب الوطنی تو مشکوک کہلائی جاسکتی ہے لیکن جماعت اسلامی کی نہیں۔ مجھ سمیت اکثر پاکستانی اگر چہ دہشت گردی کے نام پر قبائلیوں کے خلاف امریکی جنگ کے مخالف ہیں لیکن وہ فوج کے خلاف ہتھیار اُٹھانے والوں کو غلط سمجھتے ہیں۔ جماعت اسلامی پر اس طرح کے الزامات شدت پسندوں کی حمایت کرنے والوں کے موقف کو مضبوط کر سکتے ہیں۔۔
جنرل کیانی صاحب نے اپنے پیشرو پرویز مشرف کی اکثر پالیسیوں کو ریورس کردیا ہے۔ ان کی جمہوریت پسندی اور حب الوطنی کے وجہ سے پرویز مشرف کا خراب کیا ہوا فوج کا برا تاثر بہتر ہونے لگا ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ میجر جنرل طارق خان پرویز مشرف کے خیال کے آدمی ہیں۔ پرویز مشرف پاکستان اور پاک فوج کا بدبودار اور گند ا ماضی ہے ۔ میجر جنرل صاحب کو اپنے ماضی کے اوراق کی تلاوت کے ذریعے جنرل کیانی صاحب کی کوششوں کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔
پاکستانیوں کی بڑی تعداد فسادیو ں کے خلاف قومی لشکر کاحصہ نظر آتی ہے ان کو فسادیوں کی طرف دھکا نہ دیں۔ ایک ایسے وقت میں جب مشرقی سرحد پر پاکستان کے خلاف دشمن متحد ہورہے ہیں پاکستان کو متحد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ تقسیم کرنے کی۔
امریکی جنگ کے خلاف آواز اُٹھانے والے اور اس کی خاطر اقتدار کی کرسی کو ٹھوکر مارنے والے نہایت ہی قابل احترام اور قابل فخر ہارون رشید صاحب کے موقف کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔ شکریہ
منور حسن صاحب کا ردعمل یہاں ملاحظہ کریں۔

Articles

پاک فوج’’ دہشت گردوں‘‘ کے ساتھ ہے‘ نیوز ویک

In پاکستان,بین الاقوامی تعلقات,دہشت گردی on مارچ 3, 2010 از ابو سعد Tagged:

ایک ایسے وقت میں جب بھارتی وزیر اعظم اپنے تین روزہ غیر معمولی دورے پر سعودی عرب میں ایک اہم اسلامی ملک کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں‘ امریکی میڈیا پاکستان کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی تیاری کے ضمن میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے جو بظاہر امریکی لابی کی محنت اور امریکا میں پاکستان کے مفادات کے نام نہاد نگرانوں کے کام کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ امریکی میگزین نیوزویک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مکمل طور پر پاکستان منتقل کرنے کے لیے لشکر طیبہ کو ”نئی القاعدہ“ قرار دے کر واویلا شروع کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف مصروف عمل جہادی تنظیم دراصل عالمی ایجنڈا رکھتی ہے اور یہ اپنی تکنیکی مہارت اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کی آشیر واد کے سبب القاعدہ سے زیادہ خطرناک بن چکی ہے۔ اہم پالیسی ساز میگزین ”نیوزویک“ لکھتا ہے کہ ”ایک ایسے وقت میں جب امریکا کی توجہ پاک افغان بارڈر پر موجود القاعدہ کی اصل قیادت کو شکار کرنے پر مرکوز ہے‘ ایک کم معروف اسلامی عسکری تنظیم روئے زمین پر ایک خطرناک دہشت گرد مرکز کے طور پر سامنے آئی ہے۔“میگزین لکھتا ہے کہ ”لشکر طیبہ گزشتہ15برس سے بھارتی مفادات خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو نشانہ بنارہی تھی لیکن مغربی اور بھارتی انٹیلی جنس ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تنظیم اب غیر ملکیوں پر حملے کرنے اور اپنی پہنچ عالمی سطح تک بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ گروہ بھارت کے باہر بھی تباہ کن حملے کرنے کی صلاحیت رکھتاہے“میگزین کے تازہ شمارے کی ٹائٹل اسٹوری میں کئی مقامات پر ”خطرناک“ لشکر طیبہ کا تعلق پاکستانی فوج سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میگزین کے مطابق”بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک لشکرطیبہ اپنی فنی مہارت‘ عالمی سطح پر بھرتی اور فنڈ نگ نیٹ ورک اور پاکستانی حکومت میں اپنے محافظوں کے ساتھ قریبی تعلق کی بنا پر القا عدہ سے زیادہ بڑا خطرہ بن چکی ہے“ ۔ ”پاکستان کی خطرناک جاسوس ایجنسی آف انٹر سروسزانٹیلی جنس گرم جوشی کے ساتھ پیسوں‘ ہتھیاروں اور تربیت کی صورت میں لشکر طیبہ کی معاونت کرتی رہی ہے۔ مریدکے میں 77ایکڑ پر محیط لشکر طیبہ کے ہیڈکوارٹر کی زمین حکومتِ پاکستان نے عطیہ کی تھی۔ بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں پاکستانی فوج میں کچھ افراد لشکر طیبہ کو ریزرو فوج سمجھتے ہیں‘ جس کو بھارت کے ساتھ لڑائی میں استعمال کیا جاسکے گا“۔نیوز ویک کے مطابق ”لشکر طیبہ اور پاکستانی فوج دونوں بھرتی کے لیے پنجاب کے غریب علاقوں پر انحصار کرتی ہیں اوردونوں طرف بھرتی ہونے والوں کی اکثریت ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔“ آگے لکھتا ہے ”لشکرطیبہ کے فلاحی ونگ نے وادی سوات کو طالبان سے واپس لینے کی مہم کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شہریوں کی مدد فوج کے شانہ بشانہ کی۔“امریکی میگزین کی ہرزہ سرائی جہا ں امریکا میں موجود بھارتی لابی کی طرف سے پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے وہیں امریکا میں پاکستان کے موجودہ سفیر حسین حقانی کی کتاب کے علاوہ ان کا پورا کام اس طرح کی کہانیوں کے لیے بنیاد فراہم کرتا دکھائی دیتا ہے۔ 20جولائی2005ءکی”ساوتھ ایشین ٹربیون“ میں ”پاکستان کا لند ن بم دھماکوں سے تعلق“ کے عنوان سے اپنے مضمون میں حسین حقانی لکھتے ہیں ”بڑے کشمیری جہادی گروہ اپنا انفرااسٹرکچر اس لیے قائم رکھ پائے ہیں کہ پاکستانی فوج نے ابھی تک مستقبل میں بھارت کے ساتھ لڑنے کے آپشن کو ترک نہیں کیا ہے۔“اسی مضمون میں حسین حقانی لکھتے ہیں ”لند ن میں7جولائی کے دہشت گرد دھماکے ”گلوبل جہاد “ کو بڑھانے میں پاکستان کے کردار کی اسکروٹنی کا تقاضا کرتے ہیں۔ لند ن بمبار پاکستانی نژاد تھے اور چار میں سے کم از کم تین نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ عالمی برادری کی طرف سے اس بات پر حیرت کا اظہار فطری ہے کہ اسلامی شدت پسندی کے اکثر عناصر کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے‘‘۔