Articles

کس کی خبر پر نظر ہے؟

In پاکستان on اپریل 19, 2010 by ابو سعد Tagged:

روز اخبارات کے صفحات پر کئی بڑی باتیں چھوٹی خبروں کی صورت میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ترجیحات کے علاوہ نیوز ایڈیٹرز کی کوتاہ بینی بھی اس کا سبب ہوسکتی ہے۔ پاکستانی میڈیا کے نیوز رومز میں بیٹھے افراد کے ساتھ ایک نشست میں اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ترجیحات اور کوتاہ بینی میں سے کون سا عنصر غالب ہوگا۔

معروف نیوکونز ڈینیل پائپس کے خیال میں وہ زمانہ گیا جب جنگوں کے فیصلے میدانِ جنگ میں موجود سپہ سالار کیا کرتے تھے۔ اب نیوز رومز میں بیٹھے افراد ہی دراصل شہسوار ہیں جن کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔ یہ بات امریکی اخبارات میں بیٹھے خبر سازوں پر تو صادق آتی ہے لیکن پاکستانی نیوز ایڈیٹرز صرف ابلاغی مزدور معلوم ہوتے ہےں جو خبر سازی کے فن کے تو ماہر ہےں لیکن خبر کے اندر کی خبر‘ اور مواد میں خبریت کے ادراک سے عاری۔ وہ دیہاڑی مار ہیں جوکسی کے لکھے ہوئے اسکرپٹ میں خاکے بھرتے ہیں۔ یہ تو اکثریت کا حال ہے۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو ادراک رکھتے ہیں لیکن اس ادراک کی ڈالروں میں قیمت وصول کرلیتے ہیں۔
خبر کے اندر کی خبر کو تلاش کرنے کے دعویداروں اور ہر خبر پر نظر رکھنے والوں سے ابلاغ عامہ کا یہ طالب علم سوال کرتا ہے کہ اندر کی خبر کیا ہے، اور کس کی خبر پر اُن کی نظر ہے؟ اس بات کا جواب صحافت کو انڈسٹری کا درجہ دے کر خبر کا کاروبار کرنے والے تو شاید نہ دے سکیں لیکن کسی ٹی وی چینل کے دن بھر کے نیوز بلیٹن اور اخبارات کا تنقیدی مطالعہ بلاشبہ اس سوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔ خبریت کا پیمانہ‘ اہم اور غیر اہم کی چھان پھٹک‘ سرخی اور مناسب جگہ کا انتخاب…. یہ سب معلومات کو درست خبر میں تبدیل کرنے کے عمل کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ بڑی خبر کا چھوٹا بن جانا اور چھوٹی خبر کو بڑا بناکر پیش کرنا یا تو شعوری طور پرکیا جاتا ہے یا پھر لاشعوری! اس لیے یہ تعین بھی مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ حرکت کسی کی نیت کا فتور ہے یا پھر نااہلی کا نتیجہ! لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا میں صرف یہی ہوتا ہے؟ صرف بڑی خبریں چھوٹی بن جاتی ہےں؟ جی نہیں! یہاں کچھ مثالیں ایسی موجود ہیں جن کو دیکھتے ہوئے اس بدگمانی کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ یہ نااہلی کا نتیجہ نہیں بلکہ شعوری کوشش ہے۔
اپریل2009ءکو سوات کے علاقے کبل میں ایک نوعمر لڑکی کو سرعام کوڑے مارنے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ طالبان کے حُلیے میں ایک شخص لڑکی کی پشت پر کوڑے برسا رہا ہے جبکہ ایک شخص نے اس کے پیروں اور دوسرے نے جسم کے اوپر کے حصے کو دبوچا ہوا ہے۔ اس موقع پر درجنوں افراد دائرے میں کھڑے اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔ لڑکی چیختی چلاّتی پشتو میں فریاد کرتی ہے کہ ”میرے باپ کی توبہ ، میرے دادا کی توبہ آئندہ ایسا نہیں کروں گی‘ خدا کے لیے کچھ رحم کرو“۔

اس ویڈیو کے آتے ہی ٹی وی چینلز پر چلنے والی خبریں، خبریں نہیں رہیں۔ ان خبروں کی معنویت اور خبریت یکایک ختم ہوگئی۔ اب صرف ایک خبر رہ گئی‘ سوات میں کوڑے مارنے کی ویڈیو۔ دینی نظام کے قیام کی دعویدار ”تحریک طالبان سوات“ نے سوات میں لڑکی پر کوڑے برسائے‘ ظلم کی انتہاءہوگئی۔ مذہب کے نام پر نظام آیا تو درندگی کے یہی مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ کوڑے مارنے کی وحشیانہ سزا اور وہ بھی کئی مردوں کے سامنے بیچ سڑک پر…. یہ ہے اسلام کا نظام عدل! کیا اسلامی نظام کے نفاذ کے بعد خواتین کو کوڑے مارے جائیں گے؟ کیا سوات میں اسلامی نظام عدل کے نفاذ کے بعد وحشت و دہشت کے مناظر دیکھنے کو ملیں گے؟ یہ سوالات اتنی دفعہ کیے گئے کہ جیسے اصل مسائل کی جڑ ہی اسلامی نظام عدل تھا جو ابھی نافذ بھی نہیں ہوا تھا۔ ٹی وی چینلز اور اخبارات ہی کیا…. یہ اتنا بڑا واقعہ تھا کہ صرف ایک دن بعد ہی سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس کا ازخود نوٹس لیا۔ اور پھر لندن کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ سے لے کر رائیونڈ تک اور بلاول ہاﺅس سے ولی باغ تک ہر جگہ سے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نیوز رومز کو فیکس موصول ہونا شروع ہوگئے۔
تاہم ایک سال بعد یہ ویڈیو جعلی نکلی۔ اداکاری کرنے والے گرفتار اور بنانے والی ثمر من اللہ جو چیف جسٹس کی معزولی کے وقت ان کے ترجمان اطہر من اللہ کی بہن ہے‘ امریکا فرار ہوگئی۔ ایک ویڈیو جس کی تصدیق کرنا مشکل تھا، بڑی خبر بنی۔ لیکن وہ ثبوتوں کے ساتھ جعلی نکلی تو خبر نہیں۔ یہاں پھر وہی سوال اٹھتا ہے کہ ہمارے میڈیا کی نظر کس کی خبر پر ہے؟ اور خبر کے اندر کی کیا خبر ہے؟ مقام افسوس تو یہ ہے کہ اس کا ’نوٹس‘ بھی نہیں لیا گیا۔ شاید اس لیے کہ میڈیا نے اسے جعلی قرار نہیں دیا؟
عراق کے مضافاتی علاقے میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹروں کی نہتے مسلمان شہریوں پر فائرنگ کی ویڈیو منظرعام پر آئی تو یہ خبر بھی پاکستانی میڈیا کے لیے خبر نہ بن سکی۔ سوات ویڈیو کے جعلی ثابت ہونے کی خبر نہ چلانے کی طرح یہاں بھی جان بوجھ کر اس کو خبر نہیں بنایا گیا کہ اس سے ان کے خیال میں مسلم دنیا کے بچوں میں”پھول“ تقسیم کرنے والے امریکا کے خلاف منفی جذبات جنم لیں گے۔
انتہا تو یہ کہ امریکا کے بارے میں رائے عامہ کو بہتر بنانے کے لیے ”امریکی آواز“ پاکستانی ٹی وی اور ایف ایم چینلز سے سنوائی جاتی ہے لیکن امریکا پاکستانی آواز کو سننے پر تیار نہیں ہے۔ اس وقت دو نجی مگر موثر ٹی وی چینلز پر امریکی سرکاری نشریاتی ادارے ”وائس آف امریکا“ کا اردو پروگرام نشر کرکے پاکستانیوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ سرکاری ریڈیو پر اس کا پروگرام ڈیوہ احتجاج کے بعد بند کردیا گیا لیکن ہر کسی پر تنقید کو اپنا حق سمجھنے والے نجی چینلز اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کو ’کنسپریسی تھیورسٹ‘ قرار دے کر ان کے احتجاج کو نظرانداز کرکے گمراہ کن پروپیگنڈے کے تشہیر کار بند رہے ہیں۔ ایک طرف یہ گمراہ کن پروپیگنڈہ چل رہا ہے تو دوسری طرف بڑی بڑی خبروں کو ’ڈسٹ بِن‘ کی نذر کیا جارہا ہے اور پھر دعویٰ یہ کہ میڈیا آزاد ہے۔ ہاں آزاد ہے مگر اہلِ پاکستان کو گمراہ کرنے کے لیے‘ یک طرفہ موقف پیش کرنے کے لیے۔ ہر خبر پر نظر رکھنے والوں کو جب ایسی کوئی خبر نظر آتی ہے تو ان کی نظر خبر پر پڑنے کے فوراً بعد ’ڈسٹ بِن‘ پر پڑجاتی ہے۔
دلچسپ خبر یہ آئی ہے کہ پاکستان کے ایک ابلاغی گروپ نے نیو یارک ٹائمز کے گلوبل ایڈیشن ’انٹرنیشنل ہیرالڈٹریبیون‘ کے اشتراک سے ”دی ایکسپریس ٹریبیون“ کا اجراءکردیا ہے جو اس گروپ کے اخبار کے 13اپریل کے ادارتی نوٹ کے مطابق ”صرف انگریزی زبان کا ایک اخبار نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔“ یہ مشن کیاہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے اخبار آگے لکھتا ہے: ”یہ روشن خیالی‘ خرد افروزی اور جمہوری اقدار کی حمایت کا مشن ہے۔ ہم قانون کی حکمرانی کے لیے وقف ہیں‘ ہماری ٹیم کا یہ صحافتی عہد ہے کہ ان کے قلم اور صلاحیتیں غربت‘ استحصال‘ انتہا پسندی‘ کٹھ ملائیت‘ عدم رواداری اور دہشت گردی کے خاتمے کی جدوجہد کے لیے وقف ہوں گی۔“
اخبار مزید لکھتا ہے ”اس (ایکسپریس ٹریبیون) کی ادارتی ٹیم وسیع النظر‘ جہاندیدہ‘ تجربہ کار‘ ذہین اور قومی جذبے سے سرشار سینئر صحافیوں پر مشتمل ہے جن کی کوشش ہوگی کہ سیاست‘ معیشت‘ سماج‘ خارجہ پالیسی‘ سرمایہ کاری‘ کھیل اور فنون لطیفہ میں لبرل‘ روشن خیال‘ آزادانہ‘ فکر انگیز اور جامع پریز نٹیشن کے ساتھ رپورٹیں شائع ہوں۔“
لبرل ازم کیا ہے اور رپورٹیں لبرل کیسی ہوں گی اس پر بحث آگے…. پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ادارتی نوٹ مزید کیا بتاتا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان میںایک ’اقلیتی مائنڈسیٹ‘ کی کارروائیوں کے باعث منافرت‘ تعصب‘ دہشت گردی‘ مذہبی انتہاپسندی اور تشدد کو فروغ ملا ہے، اس کے علاوہ بیروزگاری اور مہنگائی کے مسائل ہیں۔ اور ان سب مسائل کا حل وہ یہ بتاتا ہے: ”ایکسپریس ٹریبیون کا اپنے قارئین سے یہ عہد ہے کہ وہ انتہا پسندی کے خاتمے اور معیشت کو استحکام دینے کے لیے ملک کے70فی صد نوجوانوں کی صلاحیتیوں کو بروئے کار لانے کے لیے آزادانہ اور ترقی پسندانہ خیالات کے فروغ میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا۔“
اخبار کے شذرہ نے ”مذہبی انتہا پسندی“ کو بے روزگاری‘ تعصب اور منافرت سمیت پاکستان کی ہر بیماری کی جڑ قرار دیا اور اس کی اصلاح کے لیے ”آزادانہ اور ترقی پسندانہ“ خیالات کو تریاق ٹھیرایا جیسے کہ پاکستان کی سب سے بڑی بیماری بدعنوانی‘ اقربا پروری‘ پولیس اور ریاستی اداروں کے تشدد کے ذمہ دار مذہبی رجحان رکھنے والے لوگ ہوں۔ کسی ذہین اور محب وطن کے لکھے اس ادارتی نوٹ سے بجا طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا جانا چاہیے کہ آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے دیگر بدعنوان رہنما اور امریکی چوکھٹ پر سجدہ ریز میاں نوازشریف‘ جعلی لائسنس جاری کرنے والے بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران‘ گاڑی کے ٹائروں پر سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے خرچ کرنے والی میڈم اسپیکر‘ ریلوے کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے والے غلام احمد بلور‘ خون میں لت پت دہشت گردی کے شکار سرحد کے عوام سے ”ایزی لوڈ“ کروانے والے حیدرہوتی‘ بجلی چور‘ اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے بینکوں کے قرض خور سیاستدان سب کے سب جمعہ کو مساجد میں خطبہ دیا کرتے ہیں؟
اداریہ لبرل ازم اورآزادانہ خیالات کی بات کرتا ہے جو یقیناً اس کے شراکت دار نیویارک ٹائمز کے مقاصد میں بھی شامل ہے۔ یہ نیویارک ٹائمز کی لبرل رپورٹنگ ہی تو تھی کہ ’عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار پائے جاتے ہیں‘۔ اور کیا اس نے غلط کہا تھا؟ بعد میں تلف کیے جانے والے ہتھیار وہ لاکھوں معصوم بچے بڑے ہوکر تباہی تو پھیلا سکتے تھے؟ امریکا مسلمانوں کے بچوں کو ہی تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار سمجھتا ہے۔
امریکا دراصل مسلمانوں کی نسل کشی کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ عراق‘ فلسطین‘ چیچنیا‘ افغانستان اور پاکستان…. سب جگہ مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ خون بہانے والا امریکا ہے۔ کہیں وہ خود مار رہا ہے، کہیں مسلمانوں سے مسلمانوں کو مروا رہا ہے۔ مارنے والوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ پاکستانی میڈیا ”لبرل ازم“ اور ”آزادانہ خیالات“ پر مبنی رپورٹنگ کرتا ہے، جہاں اس خبر کی جگہ نہیں بنتی جس کے مطابق ”خیبر ایجنسی کے علاقہ تیراہ میں پاک فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے71 بے گناہ مسلمان تھے۔ ان کا ’دہشت گردوں‘ سے کوئی کام تھا نہ ہی انتہا پسندی سے کوئی تعلق۔ تعلق تھا تو فوج اور ایف سی سے۔ اکثر شہدا کے بچے فوج اور ایف سی کے ملازم ہیں۔ “
ہفتہ کی صبح خیبر ایجنسی میں پاکستانی جیٹ طیاروں کی اندھادھند بمباری سے71 افراد کی ہلاکت کے بارے میں تصدیق ہوگئی ہے کہ وہ پرامن شہری تھے اور ان کا کوئی تعلق مبینہ دہشت گردوں یا انتہا پسندوں سے نہیں تھا۔ حکومت نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے شہداءکے ورثاءکو ایک لاکھ 25ہزار ڈالرکے برابر معاوضہ دیا ہے جس سے ثابت ہوگیا ہے کہ مرنے والے بے گناہ تھے۔ تاہم فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہرعباس نے پیر کو بھی اصرار کیا ہے کہ پاک فضائیہ کے حملے میں کوئی شہری نہیں مارا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کے پاس پکی اطلاعات تھیں کہ عسکریت پسند اس مقام پر جمع ہورہے ہیں جہاں حملہ کیا گیا ہے۔ تاہم خیبر ایجنسی اے پی کے مطابق فوج ہمیشہ یہی دعویٰ کرتی ہے کہ حملوں میں کوئی بھی شہری نہیں مارا گیا۔ ہفتہ کی صبح کو اس حملے میں زخمی ہونے والے 2افراد نے پشاور کے اسپتال میں بتایا کہ پہلا حملہ علاقے کے ایک بزرگ کے گھر پر ہوا، اور جب مقامی لوگ مدد کودوڑے تو دوسر احملہ کردیا گیا۔ علاقہ کے شہری گل خان نے بتایا کہ گاﺅں سراوالا کے لوگوں کا کوئی تعلق عسکریت پسندوں سے نہیں ہے اور بیشتر گھروں کے نوجوان سیکورٹی فورسز میں کام کررہے ہیں‘ سب سے پہلے حامد خان کے گھر پر بمباری کی گئی جس کے 2لڑکے پیرا ملٹری فرنٹیر کور میں کام کررہے تھے‘ پولیٹیکل افسر نے تصدیق کی ہے کہ شہید ہونے والے 71افراد کے خاندانوں کو معاوضہ ادا کردیا گیا ہے۔ ایک زخمی ولی باز خان نے بتایا کہ جب پہلا حملہ ہوا تو ہم مدد کو دوڑے اور ایک زخمی عورت کو سب نکال رہے تھے کہ پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے دوسرا حملہ کردیا۔ اس نے بتایا کہ پیر کو خیبر پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک افسر نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس آکر اسے اس کے 4رشتہ داروں کی ہلاکت کا معاوضہ 220 ڈالر پیش کیا ہے۔ افسران نے اس سانحہ پر معذرت بھی کی، ہلاک ہونے والوں میں میرا بھائی بھی تھا۔ اپریل کے مہینے میں اب تک پاک فوج کی طرف سے 273 پاکستانی ہلاک کیے جاچکے ہیں‘اب تک ہزاروں پاکستانیوں کو مارا جاچکا ہے‘ لیکن کہا جاتا ہے اور فوج کے ترجمان بضد ہےں کہ مارے جانے والے انسان نہیں‘ معاف کیجیے بے گناہ نہیں بلکہ سب کے سب دہشت گرد تھے۔ جی ہاں سب دہشت گرد تھے کیوں کہ میڈیا نے کہہ دیا کہ وہ دہشت گرد تھے۔ قتل ہونے والوں کا بے گناہ ثابت ہونا ہمارے میڈیا کے نزدیک خبر نہیں ہے، اور ہر وہ خبر‘ خبر ہے جسے پاکستانی میڈیا خبر کہتا ہے۔ اس کا نوٹس بھی لیا جاتا ہے۔ لیکن میڈیا کے قاری اور ناظر دونوںکو اب اس بات کا ادراک ہوجانا چاہیے کہ ہمارے میڈیا کی کس خبر پر نظر ہے۔
یہ مضمون جسارت کے سنڈے میگزین میں شائع ہوا ہے ۔ گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں۔

2 Responses to “کس کی خبر پر نظر ہے؟”

  1. نیوکونز ڈینیل پائپس نے درست کہا ہے ۔ ہمارے ہاں صحافی وہ بنتا ہے جو کچھ اور نہيں کر سکتا

  2. http://www.dw-world.de/dw/article/0,,5659497,00.html?maca=urd-rss-urd-all-1497-rdf

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: