Articles

اسرائیل کے خلاف لب کشائی کا ”سنگین“ جرم وائٹ ہاﺅس کی دیرینہ خاتون صحافی بے دخل

In Uncategorized on جون 14, 2010 by ابو سعد

اسرائیل کے خلاف لب کشائی کا ”سنگین“ جرم
وائٹ ہاﺅس کی دیرینہ خاتون صحافی بے دخل
ہیلن تھامس کی وائٹ ہاﺅس سے57سالہ وابستگی بھی ان کو نہ بچاسکی
ہیلن کی سالگرہ پر گنگناتے ہوئے کیک پیش کرنے والے بارک اوباما کو بھی ان کی مذمت کرنا پڑی
اس واقعے نے امریکا میں ” اظہارِ رائے کی آزادی“ کا پول کھول دیا‘ فیس بک پر پابندی کے مخالفین کہاں ہیں؟
……..٭٭٭……..
تحریر:ابوسعد
……..٭٭٭……..
بس یہی تو کہا کہ ”ان سے کہیں کہ وہ فلسطین سے نکل جائیں“۔ اور جب پوچھا گیا کہ یہودی کہاں جائیں؟ تو انھوں نے جواباً کہا اور بالکل ٹھیک کہا کہ ”انھیں اپنے گھر جانا چاہیے…. پولینڈ‘ جرمنی‘ امریکا یا پھر دوسرے ملکوں کو چلے جانا چاہیے جہاں سے وہ آئے تھے۔“ انہوں نے ربی کو یاد دلایا کہ ”یہ لوگ (فلسطینی) مقبوضہ ہیں‘ اور یہ انہی کی سرزمین ہے‘ یہ جرمنوں اور پولینڈ والوں کی سرزمین نہیں“۔
ایک دفعہ صحافت سے ریٹائرمنٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا: ”میں سمجھتی ہوں کہ میں ساری زندگی کام کرتی رہوں گی۔ جب آپ کو (اپنے کام میں) مزہ آتا ہو‘ تو پھر اس کا بند کرنا کیسا؟“ اس پایہ کی خاتون کے لیے اپنے کام سے فراغت موت تھی۔ آج اُن کا صحافتی کیریئر ختم کرکے اُن سے اُن کی ”زندگی“ چھین لی گئی ہے…. اسرائیل کے خلاف بات کرنے کے جرم میں‘ اُس ملک میں جہاں سے ”آزادی_¿ اظہارِ رائے“ اور ”آزادی_¿ صحافت“ کے ”صاف وشفاف“ چشمے پھوٹ کر پوری دنیا کو ”سیراب“ کرتے ہیں۔
انہوں نے ایک بار یہ بھی کہا تھا کہ: ”وائٹ ہاﺅس امریکی عوام کی ملکیت ہے۔“ اور آگے کہا: ”کم ازکم میں نے یہ سیکھا ہے تاریخ کی کتابوں سے اور جان ایف کینیڈی سے لے کر آج تک کے صدور کو کور کرتے ہوئے۔“ آج اُن کا کہا ہوا غلط ثابت ہوا۔ 27 مئی کو وائٹ ہاﺅس میں منعقدہ ”جیوش ہریٹیج سیلبریشن“ ان کے لیے ان تمام تجربات اور تاریخی کتب کے مطالعے سے زیادہ عملی ثابت ہوئی۔ اس موقع پر لی گئی اُن کی رائے نے امریکا میں ایک سونامی برپا کردیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ لگ بھگ 6 دہائیوں سے امریکی صحافت میں رہنے کے باوجود انہیں ایسے بے دخل کردیا گیا جیسے کبھی وہ اس کا حصہ تھی ہی نہیں۔
غیر معمولی شہرت حاصل کرنے والی ہیلن تھامس کو وائٹ ہاﺅس جہاں وہ گزشتہ پانچ دہائیوں سے صدارتی نمائندہ_¿ خصوصی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھیں‘ نکال باہر کردیا گیااور وہ بھی ان کی طرف سے اپنی ”غلطی“ تسلیم کیے جانے اور اس پر معافی طلب کرنے کے باوجود۔ وہ کوئی معمولی خاتون نہیں ہیں۔ بعض لوگ انہیں صحافت کی ہیروئن جبکہ امریکی صدر بارک اوباما اپنی ذات میں ایک ’ادارہ‘ قرار دے چکے ہیں۔ جبکہ پیدائش کی تاریخ اور مہینہ ایک ہونے کے سبب دونوں اپنی سالگرہ بھی ایک ساتھ مناچکے ہیں۔
گزشتہ سال 4 اگست کو بارک اوباما کی 48ویں اور ہیلن تھامس کی 89 ویں سالگرہ کے موقع پر وائٹ ہاﺅس میں تقریب منعقد کی گئی۔ امریکی صدر نے ہیلن تھامس کو سالگرہ کی مبارکباد دینے کا منفرد انداز اختیار کیا‘ صدر اوباما کیک ہاتھ میں لیے گاتے ہوئے بریفنگ روم میں داخل ہوئے اور ہیلن تھامس کو سالگرہ کی مبادکباد دی۔
اوباما نے جنہیں ’ادارہ‘ قرار دیا تھا وہ شرمناک امریکی اقدار کے ہاتھوں اب ختم ہوچکا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں‘ کیوں کہ جس نے ادارے کا درجہ پایا ہو وہ یقینا غیر معمولی خاتون ہوگی۔ 4 اگست1920ءکو پیدا ہونے والی ہیلن تھامس نے 57 برس تک بطور نمائندہ_¿ خصوصی خدمات انجام دینے کے بعد یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل کے لیے وائٹ ہاﺅس بیورو چیف کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ جان ایف کینیڈی سے لے کر موجودہ صدر اوباما تک ہر امریکی صدر کی پریس کانفرنس کو کور کیا۔7 جون 2010ءکو زبردستی ریٹائر کی جانے والی ہیلن نیشنل پریس کلب کی پہلی خاتون افسر کے علاوہ وائٹ ہاﺅس کے نامہ نگاروں کی تنظیم ’وائٹ ہاﺅس کو ریسپانڈیڈ ایسوسی ایشن‘ کی پہلی خاتون ممبر اور صدر رہیں۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز واشنگٹن میں ایک چھوٹے سے اخبار میں ’کاپی گرل‘ کے طور پر کیا۔ واشنگٹن کے اس معمولی سے اخبار سے وہ وائٹ ہاو_¿س کے بریفنگ روم میں سب سے اگلی نشستوں کی درمیان والی کرسی تک پہنچیں۔ اس کرسی پر اب ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں ان کا نام کندہ کیا گیا ہے۔ ہیلن نے صدر جان ایف کینیڈی کے ابتدائی دور میں وائٹ ہاو_¿س کی رپورٹنگ شروع کی تھی۔ ابتدا میں ہیلن تھامس اس روزانہ بریفنگ میں باقاعدگی سے جانے لگیں۔ ہیلن نے دس امریکی صدور کے ادوار میں وائٹ ہاو_¿س کی رپورٹنگ کا اعزاز حاصل کیا۔ انہیں نیشنل پریس کلب کی بھی پہلی خاتون افسر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ہیلن ستاون برس تک یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل کے ساتھ وابستہ رہیں۔ انہیں سابق صدر بش کے دور میں عراق اور افغانستان پر بے لاگ سوالات کرنے پر شہرت حاصل ہوئی۔ وہ وائٹ ہاﺅس پریس کور کی واحد رکن تھی جن کی وائٹ ہاﺅس بریفنگ روم میں ذاتی نشست تھی۔ واضح رہے کہ یہاں نشستیں افراد کے بجائے ابلاغی گروپوں کو مختص کی جاتی ہیں۔
ہیلن واحد اخباری خاتون صحافی تھیں جو1972ءمیں رچرڈنکسن کے تاریخی دورہ_¿ چین پر اُن کے ساتھ رہیں۔ تند وتیز سوالات کے لیے مشہور ہیلن تھامس امریکا ہی میں مشہور نہیں تھیں بلکہ عالمی شہرت کی مالک تھیں۔ انہوں نے ایک دلیر صحافی کے طور پر اپنی ساکھ بنائی۔ وہ وائٹ ہاو_¿س کی بریفنگز کے دوران کبھی سخت سے سخت سوال کرنے سے نہیں ہچکچائیں۔ یوایس اے ٹوڈے کے بانی النیوہارٹ نے ایک انٹرویو میں جب کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو سے پوچھا: ”امریکی جمہوریت اور کیوبا کی جمہوریت میں کیا فرق ہے؟“ تو انہوں جواب دیا: ”وہاں مجھے ہیلن تھامس کے سوالوں کے جواب نہیں دینے پڑتے۔“
اس قدر قدآور ہیلن تھامس نے فوری طور پر ایک معافی نامہ اپنی ویب سائٹ پر جاری کردیا: ”مجھے اپنے اس تبصرے پر بے حد افسوس ہے جو میں نے پچھلے ہفتے اسرائیل اور فلسطین کے بارے میں کیا۔ یہ میرے اس یقینِ قلبی کی عکاسی نہیں کرتا جس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امن صرف اسی وقت قائم ہوگا جب تمام فریقین باہمی احترام اور برداشت کی ضرورت کو محسوس کریں گے۔ خدا کرے ایسا جلد ہو۔“
یہی نہیں بلکہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے میڈیا نقاد ’ہورڈکورٹز‘ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ”مجھے اپنے بیان پر بے حد افسوس ہے“ اور ”اعتراف“کیا کہ ”میں سمجھتی ہوں کہ میں نے حد پار کردی…. میں نے غلطی کی“۔
یہ معافی اور غلطی کا اعتراف بھی ان کی (صحافتی) زندگی کو نہیں بچاسکے۔7جون 2010ءکو ہیلن نے ہرسٹ نیوز پیپرز کو اپنا استعفیٰ پیش کیااور اس طرح جبری طور پر ریٹائر کردی گئیں۔ 6 جون کو ہیلن کی ایجنسی ’نائن اسپیکرز‘ نے اعلان کیا کہ ہم نے ہیلن تھامس کے بیان کے سبب انہیں ہٹادیا ہے“۔ ہیلن کی مشہور کتاب کے شریک مصنف کریگ کرافورڈ نے کہا کہ وہ ان کے ساتھ مزید کام نہیں کریں گے۔
1943ءمیں 24 ڈالر فی ہفتہ پر یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل میں نوکری حاصل کرنے والی ہیلن تھامس نے 17مئی 2000ءکو اس ادارے کے ساتھ اپنی57 سالہ وابستگی اُس وقت ختم کردی تھی جب اس کا انتظام یونیفکیشن چرچ کے ادارے نیوز ورلڈ کمیونی کیشن نے سنبھالا۔ اس کے بعد انہوں نے ہرسٹ نیوز پیپرز گروپ جس کے کئی اخبارات شائع ہوتے ہیں‘ کے لیے کالم لکھنا شروع کردیا تھا۔
ویڈیو بنانے والا ربی ڈیوڈ نیسن آف کہتا ہے: ”تکلف برطرف! اس سے مجھے شدید دھچکا لگا ہے“۔ یہ وائٹ ہاﺅس میں27 مئی کو منعقدہ ’جیوش ہیرٹیج سیلبریشن‘ کے موقع پر موجود ہرسٹ اخبارات کا کالم نویس ہیلن تھامس سے پوچھنے لگا: ”اسرائیل کے بارے میں آپ کا کوئی تبصرہ؟ تو انہوں نے وہی جواب دیا جو اگرچہ آزادی_¿ اظہارِ رائے کے چیمپئن ملک امریکا میں ممنوع ہے مگر حقیقت ضرور ہے۔ انہوں نے وہی کہا جو کہنا چاہیے تھا۔ اور مزید یاد دلایا: ”یہ لوگ (فلسطینی) مقبوضہ ہیں‘ اور یہ انہی کی زمین ہے‘ یہ جرمنوں اور پولینڈ والوں کی زمین نہیں“۔ ہیلن نے تاریخی حقیقت بتادی کہ ان کو پولینڈ اور جرمنی سمیت دنیا بھر کے ممالک سے لاکر فلسطینیوں کی سرزمین پر بساکر اس وطن کے اصل باشندوں کو بے گھر کردیا گیا۔
لیکن ربی ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ: ”یہ (گفتگو) نفرت انگیز تھی…. نفرت انگیز گفتگوکا ایک نمونہ۔“ اس لیے کہ صہیونی مو_¿قف سے متصادم تھی؟ یقینا یہودیوں کے خلاف کوئی سچی بات کہنا نفرت انگیز بات قرار پاتی ہے‘ بالکل اسی طرح جس طرح پاکستان میں کوئی امریکی ظلم کے خلاف بات کرے۔ افغانستان میں نیٹو فورسز کا معصوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دینا دہشت گردی نہیں‘ لیکن نیٹو فورسزکے لیے جانے والے ٹینکرز پر پاکستان میں حملہ آور ہونا اور سامان کو جلانا یا نقصان پہنچانا بہت بڑی دہشت گردی ہے! ہم اور آپ اگرچہ ایسا نہیں سمجھتے تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ یہی بتارہے ہیں۔
این بی سی کے ’ٹوڈے شو‘ میں بات کرتے ہوئے ہیلن کی سالگرہ پر گنگناکرکیک پیش کرنے والے صدر بارک اوباما نے ان کے جبری استعفے کو ”درست فیصلہ“قرار دیا۔ انہوں نے ہیلن کے بیان کو ”جارحانہ“ اور ”نامناسب“ قرار دیا اور کہا کہ اس طرح انہوں نے اپنے شاندار کیریئر کو شرمناک طریقے سے ختم کیا۔ بین الاقوامی پانیوں میں نہتے انسانوں کو مارنے والا جارح نہیں لیکن اس قابض کو فلسطین سے نکل جانے کا کہنے والا یقینا جارح ہے۔ اگرچہ رپورٹر جیفری گولڈبرگ نے ہیلن کے تبصرے کو حماس کا سرکاری بیان قرار دیا ہے لیکن مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کو طالبان قرار نہیں دیا گیا۔ بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں ”امریکی طالبان“ کی اصطلاح وضع کرکے ہیلن کو اس تحریک کا بانی قرار دیا جائے۔
ہیلن تھامس کو اپنے ”جرم“ کی سزا مل چکی لیکن ان کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے یہ گمان ہوتا ہے کہ پورا امریکی میڈیا انہیں برداشت کرتا چلا آرہا تھا‘ بس ایک موقع کی تلاش تھی اور وہ موقع ربی ڈیوڈ نے فراہم کیا جس نے اس ویڈیو کو ایک ہفتے بعد اَپ لوڈ کیا اور اس کی وجہ اپنے بیٹے کے فائنل امتحانات کی تیاری میں مصروف ہونا قرار دیا جو اُس کے بقول اُس کا ویب ماسٹر ہے۔ لیکن واشنگٹن سمیت امریکی صحافی برادری میں ای میل کا تبادلہ پہلے سے ہی جاری تھا‘ کیوں کہ ہیلن کے صہیونی مخالف نظریات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔ اور اس ای میل مہم کو نیوکونز ’اری فلیشر‘ نے بخوبی چلایا جو بش دور میں وائٹ ہاﺅس میں ان کا فرسٹ پریس سیکریٹری ہوا کرتا تھا۔ اس کی ایک وجہ عراق جنگ پر جارج بش سے سخت سوالات بھی تھے جو پریس سیکریٹری کی سماعتوں سے ٹکرانے کے بعد سیدھے اس کے دل کو زخمی کردیتے تھے‘ اور تیر سیدھا دل پر اُس وقت لگا تھا جب 2002ءمیں ہیلن نے ’ایری فلیشر‘ سے یہ پوچھنے کی جرا_¿ت کی کہ ”کیا صدر سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں کو 35 سالہ بہیمانہ عسکری قبضے اور جبر کے خلاف مزاحمت کا حق حاصل نہیں؟“ اس کے4سال بعد انہوں نے فلیشر کے جانشین ’ٹونی اسنو‘ سے کہا کہ ”امریکا لبنان کے اوپر اسرائیلی بمباری کو روک سکتا تھا لیکن اس کے برعکس اُس نے لبنانیوں اور فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دی“۔ ان ”حزب اللہ خیالات“ پر ٹونی نے ان کا ”شکریہ“ ادا کیا۔ یعنی اسرائیل کی حمایت درست اور اس کے برعکس خیالات رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا تعلق حزب اللہ یا حماس سے ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق رپورٹرزکی ایک بڑی تعداد نے برسوں تک ان کے کردار پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ 2006ءمیں نیو ریپبلک پیس‘ جوناتھن چیٹ نے ہیلنکے بارے میں کہا کہ ہیلن نے مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے جیسے انہوں نے سوال کیا ہے کہ ”ہم عراق میں لوگوں کو کیوں مار رہے ہیں؟ مردوخواتین اور بچوں کو وہاں مارا گیا ….یہ انتہائی ظالمانہ (حرکت) ہے۔“ یہ امریکی میڈیا کا مکروہ چہرہ ہے جس کے تحت ایک جائز اور سچا سوال مبالغہ آمیزی ہے۔ تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ امریکی اور مغربی میڈیا‘ میڈیا ہے یا یہودی پروپیگنڈا مشنری؟
سی بی ایس کے نمائندے مارک نولر نے لکھا ہے کہ ”وہ ایسے سوال پوچھتی تھیں جو کوئی سخت نیوز رپورٹر نہیں پوچھ سکتا تھا۔ ایسے سوال جو ایک ایجنڈے کے تحت پوچھے جاتے تھے‘ جن کے بارے میں اکثر رپورٹرز کا خیال ہوتا تھا کہ وہ نامناسب تھے۔“ وہ مزید لکھتا ہے کہ ”بطور کالم نگار ہیلن اپنے آپ کو مقصدیت کی پالیسی سے آزاد سمجھتی تھیں۔ ان کے سوالات بعض دفعہ نیوز روم میں موجود رپورٹرز کو ہراساں کرتے تھے۔“
نیشنل ریویو آن لائن کی کالم نگار جوناگولڈبرگ ہیلن کی اس ”سرکشی“ کی وجہ سینیارٹی سسٹم کی وجہ سے ان کو حاصل عزت کو قرار دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ اگر وہ اب تک برداشت ہوتی رہی ہیں تو اس کی واحد وجہ ان کی سینیارٹی تھی‘ ورنہ ان کو کب کا وائٹ ہاﺅس کے بریفنگ روم سے باہر پھینکا جاچکا ہوتا۔ اوباما کے علاوہ وائٹ ہاﺅس کا ردعمل پریس سیکریٹری رابرٹ گبز نے بھی ظاہر کیا ہے جنہوں نے ہیلن کے بیان کو ”جارحانہ“ اور”قابل ملامت“ قرار دیا۔ وائٹ ہاﺅس کرسپانڈنٹ ایسوسی ایشن جس کی کبھی وہ صدر ہوا کرتی تھیں‘ نے ان کے بیان کو ناقابلِ دفاع قرار دیا تو ایسے میں ان کا رخصت ہوجانا لازمی ٹھیر جاتا ہے۔
اعتراف ِجرم اور معافی کے باوجود ایک بہت بڑی صحافتی دیوار گرادی گئی ہے جس سے امریکی میڈیا کی آزادی کا پول کھل گیا۔ توہین آمیز خاکوں کو ’آزادی_¿ اظہارِ رائے‘ کے عین مطابق قرار دینے والوں نے ایک خالص سیاسی بیان پر ہنگامہ مچا دیا۔ مجھے نہیں پتا کہ پاکستان میں ”اعلیٰ امریکی اقدار“ اور آزادی_¿ صحافت کی ”اعلیٰ امریکی قدروں“ کی دلالی کرنے والا پاکستانی لبرل طبقہ اس پر کوئی ردعمل ظاہر کرے گا یا نہیں‘ تاہم اس واقعے نے اس بحث کو منطقی انجام تک پہنچادیا اور ثابت ہوگیا کہ توہین رسالت کو اپنا حق سمجھنے والے امریکا اور مغرب کا ”اظہارِ رائے کی آزادی“ سے دور کا بھی تعلق نہیں۔
یہاں یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ مظاہر نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام بنی نوع انسانی پر اسرائیلی ریاست کے نام پر صہیونی دہشت گردوںکو مٹانا واجب نہیں کرتے؟
(بشکریہ ”جسارت میگزین“ روزنامہ جسارت کراچی)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: