Archive for the ‘دہشت گردی’ Category

Articles

آئینہ تصویر

In پاکستان,دہشت گردی on نومبر 6, 2010 از ابو سعد

پروفیسر عنایت علی خان نے عمران خان کے بارے میں کہا تھا
کیچ مس ہو یہ تو ممکن ہی نہیں
تم تو مس کو بھی کیچ کرتے ہو
یہ اُس وقت کہا گیا تھا جب عمران خان دنیائے کرکٹ میں شہرت کی بلندیوں پر تھے اور لندن میں جاکر جمائما سے میچ فکس کیا تھا۔ یہ الگ بات کہ بعد میں کیچ مس ہوگیا۔ عمران خان سیاست میں آئے تو ہر موقع کو کیچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اب تک کرکٹ کی فضا سے باہر نہ آسکے۔
2 اپریل 2010ءکو انہیں ایک اور موقع ملا کہ وہ جامعہ پنجاب کے پروفیسر افتخار حسین بلوچ کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بہانے اپنی چوٹیں سہلا سکیں۔ کچھ دن پہلے ہی انہوں نے جب جامعہ پنجاب میں سیاست کرنے کی کوشش کی تھی تو اسلامی جمعیت طلبہ کے کچھ لڑکوں نے انہیں باہر کا راستہ دکھاتے ہوئے دھکے دیے تھے۔ عمران خان کو بدلہ لینے کا موقع مل گیا۔ جامعہ پنجاب میں اپنے کردار کے حوالے سے ”شہرت یافتہ“ پروفیسر ڈاکٹر افتخار بلوچ کو جمعیت کے کچھ لڑکوں نے اپنے طور پر نامناسب حرکتوں سے باز رکھنے کی کوشش کی اور افتخار بلوچ زخمی ہوگئے تو عمران خان فوراً اس شخص کے لیے گلدستہ لے کر پہنچ گئے جس پر گلوں کو مسلنے کا الزام ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس موقع پر تصویر میں دائیں طرف اور عمران خان کے بائیں بازو سے لگا ہوا جو نوجوان حافظ فرحت کھڑا ہوا ہے یہ ہیلی کالج کا طالب علم ہے اور اسے جمعیت نے عمران خان پر حملے میں ملوث ہونے پر جمعیت سے خارج کردیا تھا۔ حافظ فرحت فوراً ہی عمران خان کے طلبہ ونگ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں چلا گیا اور گلدستہ آگے بڑھانے میں عمران خان کا ہاتھ بٹا رہا ہے۔ انہی ہاتھوں سے عمران خان کو دھکا دیا گیا تھا لیکن عمران خان تو عرصے سے کوچہ سیاست میں دھکے کھا رہے ہیں۔
اس موقع پر عمران خان جمعیت پر خوب گرجے برسے اور کہا کہ جمعیت کے دہشت گردوں کے کھلے عام دندنانے کی سب سے بڑی ذمہ داری وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب پر عائد ہوتی ہے جن کی ناک تلے دہشت گردوں نے پنجاب یونیورسٹی کو یرغمال بنا رکھا ہے، جو معاشرہ استاد کی عزت و احترام نہیں کرتا وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا‘ تحریکِ انصاف اور انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن استاد کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور عمران خان افتخار بلوچ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لیکن اب وہ کیا کہیں گے؟ جمعیت کا الزام تھا کہ افتخار بلوچ بدکردار ہے۔ اساتذہ کا احترام لازمی، لیکن جو استاد اپنے کمرے میں طالبات کو بلا کر ان کا ”احترام“ کریں کیا وہ بھی عمران خان کے نزدیک معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کررہے ہیں؟ اب کیا عمران خان گلدستے لے کر ان خواتین کے پاس جائیں گے جن کی اس نام نہاد استاد نے عزت لوٹنے کی کوشش کی ہے؟ کیا وہ بتائیں گے کہ اصل دہشت گرد کون ہے؟ ممکن ہے ان کے علم میں یہ بات اب تک نہ آئی ہو کہ ان کے ممدوح پروفیسر پر پولیس نے ایک طالبہ اور اس کے شعبہ کی ایک خاتون ایڈمنسٹریٹر کو جنسی طور پر ہراساں کرنے پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔ یہ گزشتہ پیر ہی کی بات ہے۔ چاہیں تو تھانہ مسلم ٹاﺅن میں مقدمہ زیر دفعہ 511 پاکستان پینل کوڈ کی تفصیلات معلوم کرلیں۔ پولیس کے مطابق اس ”قابل احترام“ پروفیسر نے ان خواتین کو اپنے کمرے میں بلا کر ان کی عزت لوٹنے کی کوشش کی، اور کمرہ بھی کیسا! موصوف نے وائس چانسلر کی آشیرواد سے اپنے آفس کے برابر میں ریٹائرنگ روم سجا رکھا ہے جس میں ایک بستر‘ ایک صوفہ کم بیڈ اور دو تکیے موجود ہیں۔ وائس چانسلر صاحب پہلے تو افتخار بلوچ کے ساتھ کھڑے تھے اور جامعہ پنجاب سے جمعیت کا صفایا کرنے کے دعوے کررہے تھے‘ اب تسلیم کررہے ہیں کہ یہ جامعہ کی تاریخ کا تاریک ترین دن ہے۔ جامعہ کی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق افتخار بلوچ خطا کار ثابت ہوگئے ہیں۔ ایس پی روبل اکرام کا کہنا ہے کہ شروع میں انتظامیہ نے تاخیری حربے استعمال کیے مگر اب حقائق سے پردہ اٹھادیا ہے اور وائس چانسلر مجاہد کامران تک نے کہا ہے کہ افتخار بلوچ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ افتخار بلوچ ہتھ چھٹ مشہور ہیں اور انہوں نے اپنی حرکتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے تین ہفتے تک جامعہ پنجاب میں تدریس نہیں ہونے دی۔ افتخار بلوچ کی کئی کہانیاں جامعہ میں مشہور ہیں۔ ان کی اہلیہ رخسانہ تک نے ان کے خلاف وائس چانسلر کو درخواست دے رکھی ہے۔ افتخار بلوچ کی حرکتوں سے تنگ آکر تین کنٹریکٹ معلمات ملازمت چھوڑ چکی ہیں۔ پروفیسر صاحب تو کیفرکردار کو پہنچ جائیں گے لیکن ہمارا سوال اپنے کرکٹ کے ہیرو اور ”انصاف“ کے مبلغ سے ہے کہ اب وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں، اور کیا ایسے ہی استاد ان کے نزدیک احترام کے مستحق ہیں؟ کیا وہ گلدستہ لے کر شیبہ گل کے پاس بھی جائیں گے؟
 

Articles

امریکا کے مقامی ’’سیکولر مجاہد‘‘۔

In میڈیا,پاکستان,دہشت گردی on نومبر 5, 2010 از ابو سعد Tagged: , , , , , ,

شاہنواز فاروقی
ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔ مغربی ذہن ہرچیز کو طاقت کے نقطہ نظر سےدیکھتا ہے، یہاں تک کہ محبت کو بھی۔ اس سےاندازہ کیا جاسکتا ہےکہ مغربی ذہن جنگ کو کتنا ہولناک بناسکتا ہے…. بالخصوص امریکی ذہن۔ اس ذہن کے زیراثر اخبار کی شہ سرخی میزائل اور خبر کا متن بارودی سرنگوں سےبھرا ہوا میدان بن سکتا ہے۔ اس کا تازہ ترین ثبوت 26 اکتوبر کےروزنامہ ڈان کراچی کےصفحہ اوّل پر شائع ہونےوالی خبر ہے۔
شہ سرخی کےساتھ شائع ہونے والی خبر بابا فرید گنج شکر کےمزار پر ہونے والے بم ھماکےسےمتعلق ہے۔ کہنے کو خبر ڈان کے رپورٹر نےفائل کی ہےلیکن خبر کی شہ سرخی اور متن پڑھ کر خیال آتا ہےکہ خبر امریکی فوج کےکسی سپاہی نےسپردِ قلم کی ہوگی۔
اس کا پہلا ثبوت خبر کی شہ سرخی ہے۔ خبر اہم تھی اور تمام اخبارات نے اسےصفحہ اوّل پر شائع کیا ،لیکن ڈان کےسوا کسی اخبار نےبھی اسےشہ سرخی کےساتھ شائع نہیں کیا۔ روزنامہ جنگ کراچی نےخبر کو پانچ کالمی سرخی کےساتھ شائع کیا۔ دی نیوز کراچی نے اسے تین کالمی سرخی کےساتھ رپورٹ کیا ہے۔ روزنامہ جسارت کراچی نےاسےچار کالمی سرخی کےلائق سمجھا۔ لیکن اس پر شہ سرخی صرف روزنامہ ڈان نےلگائی۔ حالانکہ انگریزی اخبارات بالخصوص ڈان اس طرح کی خبروں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ اہم بات یہ ہےکہ ڈان خبر کو شہ سرخی کے ذریعے میزائل بنا کر نہیں رہ گیا، اس نے اپنے سنجیدہ مزاج کےبرعکس سرخی کےالفاظ بھی چیختے چنگھاڑتے منتخب کیے ہیں۔ ڈان کی شہ سرخی یہ تھی:
"Yet another shrine comes under attack”
اس سرخی کے ذریعے رپورٹر نے صرف واقعے کو رپورٹ نہیں کیا بلکہ اس نے اپنے قاری کو یاد دلایا ہےکہ مزارات پر مسلسل حملے ہورہےہیں اور بابا فرید کےمزار پر حملہ اسی سلسلےکی تازہ ترین کڑی ہے۔ تجزیہ کیا جائےتو اس سرخی میں زرد صحافت کرنے والےاخبارات کی طرح کی سنسنی خیزی ہے اور کسی انگریزی اخبار کیا قومی نوعیت کے اردو اخبار سے بھی اس طرح کی سنسنی خیزی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
اس طرح کی خبر تحریر کرنے کا اصولی اور کلاسیکل طریقہ یہ ہےکہ خبر کا ایک جامع ابتدائیہ لکھا جائےجس میں خبر کےتمام اہم پہلوئوں کا احاطہ ہوجائے، اور پھر متن میں ابتدایئے کی تفصیلات دےدی جائیں۔ ڈان میں اکثر خبریں اسی طرح تحریر ہوتی ہیں، مگر زیر بحث خبر اس طریقےسے نہیں لکھی گئی۔ خبر کا ابتدائیہ ختم ہوا تو رپورٹر نے اپنےقارئین کو یاد دلانا ضروری سمجھاکہ یہ گزشتہ چار ماہ میں ہونے والا اس نوعیت کا تیسرا اور 2007ء سے اب تک ہونے والا پانچواں واقعہ ہے۔ رپورٹر چاہتا تو یہاں بات ختم کرکے ابتدایئےکی تفصیلات بیان کرتا، مگر اُس نےاس کےبعد مزارات پر ہونے والےتینوں حملوں کی تفصیلات تحریر کرڈالیں۔ بلاشبہ خبر میں اس طرح کی تفصیلات دی جاتی ہیں مگر خبر کے آخر میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر ”مثلثِ معکوس“ یا Inverted Pyramid کےاصول پر تحریر کی جاتی ہے۔ یعنی خبر کی سب سے اہم بات سب سے پہلےتحریر کی جاتی ہےاور پھر اہمیت کےاعتبار سےدوسری باتیں۔ لیکن ملک کےسب سےبڑی، سب سےاہم، سب سےسنجیدہ اخبار کا رپورٹر یہ خبر فائل کرتےہوئےخبر تحریر کرنےکےاصول کو یکسر بھول گیا۔ اِس سلسلےمیں اُس کی ساری دلچسپی یہ نظرآئی کہ اس کےقارئین خبر کی ابتداء ہی سے یہ باور کرلیں کہ دھماکا یقینا طالبان نےکیا ہےجو خون آشام ہیں، درندےہیں، مزارات کےدشمن ہیں، ان پر جانے والوں کو کافر سمجھتےہیں۔ تو کیا طالبان نے بم دھماکےکی ذمےداری قبول کی ہے؟ اس حوالےسے ڈان کے رپورٹر نےجو کچھ لکھا ہےاسے پڑھ کر بیک وقت رویا بھی جاسکتا ہےاور ہنسا بھی جاسکتا ہے۔ ڈان کےرپورٹر نےلکھا ہے:
"No one claimed responsibility for attack, but in the past Taliban militants have been blamed for such attacks.”
(ترجمہ) ”کسی نےحملےکی ذمےداری قبول نہیں کی تاہم ماضی میں طالبان کےجنگجوئوں پر اس طرح کےحملوں کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔“
تجزیہ کیا جائےتو ڈان کےرپورٹر نےالزام کو ”امر واقع“ کےانداز میں رپورٹ کرڈالا۔ پاکستان میں رائےعامہ کےدرجنوں رہنما کہہ رہےہیں کہ پاکستان میں جتنے بم دھماکے ہورہےہیں ان میں امریکا اور اس کےادارےملوث ہیں، مگر ہم نےڈان کی کسی خبر میں آج تک یہ نہیں پڑھا کہ ماضی میں اس طرح کے واقعات کا الزام امریکا پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ویسےخالص خبر یا Hard news میں کہیں بھی الزامات کا ذکر نہیں ہوتا۔ خبر میں الزام کا حوالہ آتا بھی ہےتو الزام لگانےوالےکا نام ساتھ لکھا جاتا ہے۔ ایسا اس لیےکیا جاتا ہےکہ الزام کا الزام اخبار کےبجائےالزام لگانےوالےکے سر جائے۔ لیکن ڈان کے رپورٹر کو طالبان سے ایسی نفرت ہےکہ اس نےیہ بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا کہ ماضی میں طالبان پر بم دھماکےکرنےکا الزام کون عائد کرتا رہا ہے؟ اگر یہاں یہ فرض کرلیا جائےکہ رپورٹر کا اشارہ حکومت کی طرف ہوگا، تو حکومت کےالزامات کا یہ حال ہےکہ وزیر داخلہ رحمن ملک نےعبداللہ شاہ غازی کےمزار پر حملہ کرنےوالوں کےنام جاری کیےمگر ایک دن بعد ہی معلوم ہوگیا کہ دونوں خودکش بمبار ”زندہ “ ہیں۔
ڈان کے رپورٹر کو داد دینی چاہیےکہ اس نےخودساختہ مذہبی انتہا پسندوں یا طالبان کا تعاقب خبر کی آخری سطروں تک کیا۔ خبر کی آخری سطروں کا ترجمہ یہ ہے:
”کہا جاتا ہےکہ پاک پتن میں واقع (بابا فرید کا) مزار لاہور کے داتا دربار کےبعد ملک کا مقدس ترین مزار ہے۔“
یہاں سوال یہ ہےکہ ان سطروں میں ”داد کےقابل“ بات کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہےکہ خبر میں صوفیائےکرام کےمزارات کو Revered یعنی ”مقدس“ قرار دیا گیا ہے۔ یہ بجائےخود قابلِ اعتراض بات نہیں لیکن ڈان اپنے سیکولر کردار کےباعث مسلمانوں کےقبلہ اوّل کو بھی مقدس قرار نہیں دیتا۔ وہ فلسطینیوں کی جدوجہد کو قومی، سیاسی اور سیکولر جدوجہد باور کراتا رہا ہے، لیکن طالبان کےخلاف عوامی جذبات کو ابھارنے کےلیے اسے صوفیائےکرام کے مزارات میں بھی ”تقدس“ نظر آنےلگا ہے۔
امریکا نےخلیج کی پہلی جنگ ذرائع ابلاغ کی مدد سےلڑی اور جیتی تھی۔ وہ افغانستان کےخلاف جارحیت میں بھی ذرائع ابلاغ کی مدد سےکامیاب ہونا چاہتا ہے۔ لیکن ان دونوں مثالوں کا فرق یہ ہےکہ خلیج کی پہلی جنگ امریکا نے اپنےذرائع ابلاغ کی مدد سےجیتی تھی لیکن افغانستان کی جنگ میں مقامی ”سیکولر مجاہدوں“ کا کردار اہم ہے۔ مالکان اور صحافیوں کی صورت میں یہ سیکولر مجاہد اخبارات اور جرائد میں موجود ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی چینلوں میں موجود ہیں۔ امریکا کی طرح اس کےسیکولر مجاہدوں کو بھی معلوم ہےکہ امریکا افغانستان سے شکست کھا کر نکلےگا تو تاریخ بدل کر رہ جائےگی، چنانچہ وہ ایک ایک خبر اور ایک ایک تجزیے پہ جان لڑا رہےہیں۔

Articles

میرے شہر کے بچوں کے ہاتھ میں بندوق آگئی

In پاکستان,دہشت گردی on ستمبر 15, 2010 از ابو سعد Tagged: ,

  عید کے روز گھر کی بالکنی میں آیا تو ان بچوں کو دیکھا جو بڑے فخر کے ساتھ کھلونا بندوقوں کی نمائش کررہے تھے۔ میرے گھر سے چار گلیاں آگے پختونوں اور اردو بولنے والوں کی مخلوط آبادی ہے۔ ان تصویروں میں آپ ان دونوں قومیتوں کے بچوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان بچوں کے ہاتھ میں کھلونے ہونے چاہیےتھے لیکن آج کراچی کے ماحول نے ان کے ہاتھوں میں کھلونا بندوقیں تھمادی ہیں۔ ہمارے ایک ہردلعزیز شاعرمگر دوراندیش دوست اس کو کھلونا بندوق نہیں بلکہ بندوق کہتے ہیں۔ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے؛
وہ طفل جن کے ہاتھ میں ہونے تھے کھلونے
افسوس ان کے ہاتھ میں بندوق آگئی
مرد و عورت کے رجحانات کے بارے میں کہیں پڑھا تھا کہ بچوں کے سامنے کھلونے رکھ دیے گئے تو لڑکیوں نے گڑیاں جبکہ لڑکوں نے کاریں ‘ موٹر بائیک وغیرہ کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا۔ ہماے دوست نے بجا کہا ہے کیوں کہ یہ کھلونے کو”چوز“ کرنا نہیں بلکہ ایک” وے آف لاف“ کو اختیار کرنا ہے ۔
اہل کراچی کو اس کے لیے ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی کا ’’شکرگزار‘‘ ہونا چاہیے۔ اور شکریہ کے طور پر اسی طرح ان کو ووٹ دیتے رہنا چاہیے تاکہ وہ میرے شہر کے بچوں کو اُن کی ’’منزل مقصول‘‘ تک پہنچا دیں ۔
(آخری تصویر کے لیے روزنامہ امت کا شکریہ)

Articles

اے این پی کے ہاتھوں پختون روایات کا قتل

In حقوق انسانی,دہشت گردی on اگست 23, 2010 از ابو سعد Tagged:

یہ مضمون سچائی کے علمبردار لیکن پاکستانی عوام کے جانب دار واحد پاکستانی انگریزی روزنامے "فرنٹیر پوسٹ” کے لیے لکھا گیا تھا۔ فرنٹیر پوسٹ اس وقت ظلم و جبر اور کرپشن کے خلاف جہاد میں مصروف ہے ، اخبار نے گزشتہ دنوں کراچی کے حالات پر بہت ہی بے باک اداریے لکھے۔ میں نے ذرا نسبتا سخت تحریر لکھ کر اخبار کو ارسال کردی جو تاحال نہیں چھپ سکی ہے۔ اس لیے میں نے اسے اپنے انگریزی بلاگ پر پوسٹ کردیا اور اس کا اردو ترجمہ ضروری اضافے کے ساتھ روزنامہ جسارت کو ارسال کردیا جس نے اسے آج کے ادارتی صفحے پر جگہ دے دی ۔ بلاگرز دوستوں کے لیے مضمون یہاں پیش خدمت ہے جس میں  ایم کیوایم اور اے این پی کے دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
………………………………..
کراچی میں باچا خان کے پیروکاروں کے طرزعمل کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے سرحدی گاندھی کی اہنسا کی تعلیمات کو کوڑے دان میں پھینک دیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف صدیوں پر محیط پختون روایات کو پس پشت ڈال دیا ہے بلکہ اپنی پارٹی کے بانی خان عبدالغفار خان عرف باچا خان کے نظریے کو بھی دفن کردیا ہے۔
کراچی کو اس وقت ٹارگٹ کلنگ کی بلا کا سامنا ہے جبکہ اس کے رہنے والے اس خونیں کھیل کے تین بنیادی کھلاڑیوں کے رحم وکرم پر ہیں۔ شہر کے دعویداروں میں متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی شامل ہیں۔ جتنا بڑا دعوے دار، اہلِ کراچی کے لیے وہ اتنا ہی بڑا عذاب۔ ان تینوں گروہوں نے اس کو اپنا حق سمجھ لیا ہے کہ اپنے کسی رہنماءیا کارکن کی ہلاکت کا انتقام اس بدقسمت شہر کے باسیوں کو خون میں نہلاکر اور ان پر زندگیاں تنگ کرکے لیں۔ جب بھی کسی گروہ کا کوئی رہنما یا کارکن مرتا ہے، کراچی میں آگ و خون کا کھیل شروع ہوجاتا ہے جس میں بیش قیمت جانوں کے ضیاع کے علاوہ شہریوں کو ان کی گاڑیوں سے محروم کردیا جاتا ہے۔ کئی دنوں کی اذیت اور مرنے کا خوف اس کے علاوہ ہے۔ شہری ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں۔ موت کے رقص کی سنگینی کا ادراک رکھتے ہوئے دکاندار اپنی دکانوں کے شٹر گرانے میں زیادہ دیر نہیں لگاتے، اور جو اس کے برعکس کرتا ہے وہ سزا پاتا ہے۔ اسی طرح گاڑیاں چلانے والے بھی سڑک سے غائب ہوجانے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ جتنی بڑی شخصیت، اہلِ کراچی کے لیے اتنا بڑا امتحان۔ لیکن اس پر تو سب لکھ رہے ہیں۔ میں ان باتوں کو اُجاگر نہیں کرنا چاہتا جن پر باقی لوگ لکھ رہے ہوں۔ لوگوں کا مرنا افسوسناک تو ہے لیکن میرے نزدیک تشویش ناک نہیں۔
مجھے جو چیز ڈرا رہی ہے وہ مخالف پارٹی سے متعلق لسانی اکائی پر حملہ ہے جو الطاف حسین کی متحدہ قومی موومنٹ کا وتیرہ رہا ہے۔ ایم کیو ایم کے ممبر صوبائی اسمبلی رضا حیدر کی ہلاکت کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے اس روایت کو زندہ رکھا اور پشتو زبان بولنے والے درجنوں معصوم پختونوں کو بے دردی سے قتل کردیا جن کا عوامی نیشنل پارٹی سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ ان میں اکثر مزدور تھے جو دن بھر مشقت کرکے اپنے اور گھر والوں کے پیٹ کا دوزخ بھرتے تھے، یا پھر گلی گلی کچرا چننے والے۔ حتیٰ کہ بچوں تک کو نہیں بخشا گیا۔
اب کی بار عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے سندھ کے سالار عبیداللہ یوسف زئی کی ہلاکت پر بالکل متحدہ کی دہشت گردی کا ایکشن ری پلے شہر کراچی والوں کو دکھایا اور اردو بولنے والوں کو بلاامتیاز ہراساں کرنا شروع کردیا۔ لسانی یا سیاسی دہشت گردی افسوسناک ہے لیکن ایک چیز اور بھی افسوس ناک ہے، اور وہ ہے اہنسا کی موت…. جو کبھی باچا خان کے منجن کا ٹریڈ مارک ہوا کرتا تھا۔
ایس شیخ ایک نجی ٹی وی چینل میں ملازمت کرتے ہیں۔ عبیداللہ کے قتل کے بعد وہ تین دن تک دفتر نہیں جاسکے، کیوں کہ آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع دفتر جانے کے لیے انہیں بنارس کے باچا خان چوک سے ہوکر گزرنا پڑتا۔ جی ہاں وہی چوک جہاں سے 2بچوں کے باپ آصف اقبال نے گزرنے کی جرا¿ت کی تھی اور نتیجتاً اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔آصف اقبال کو ہنگاموں کے دوران دو دن تک کمپنی نہ جانے پر برطرفی کا الٹی میٹم ملا تھا۔ اورنگی علی گڑھ کے رہائشی ایس شیخ آصف اقبال کی طرح نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ نہیں بننا چاہتے تھے اس لیے گھر پر ٹکے رہے۔ شیخ صاحب اگرچہ اردو بولنے والے ہیں لیکن وہ عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ایک قدر مشترک رکھتے ہیں۔ اے این پی کے کارکنوں کی طرح ایم کیو ایم سے ان کی نفرت کی کوئی انتہا نہیں۔ وہ پختون روایات کے بہت بڑے مداح رہے ہیں، لیکن لوگوں کی حفاظت کے ضامن پختون آج شیخ صاحب جیسے لوگوں کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ یقینا تمام پختون نہیں مگر وہ جو یا تو اے این پی کے کارکن ہیں یا پھر اس جماعت کے منفی پروپیگنڈے سے گمراہ ہوچکے ہیں۔
پختون ہونے کے ناتے میرے لیے لوگوں کی جانوں کو خطرہ تشویش ناک ہے اور اس سے بڑھ کر میرے لیے فکرکی بات وہ شاندار پختون روایات ہیں جن کی موت آج پختونوں کے حقوق کے عَلم برداروں کے ہاتھوں ہورہی ہے۔
یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پختونوں اپنے گھر آئے اپنے دشمنوں کو بھی کبھی نقصان نہیں پہنچاتے چاہے وہ جان بوجھ کر وہاں سے گزرے ہوں یا خودچل کر آئے ہوں۔ پختون قوم نے کبھی معصوم لوگوں کو قتل نہیں کیا لیکن لینڈیا مافیا پرمشتمل عوامی نیشنل پارٹی سندھ یا تو پختون تاریخ بھول گئی ہے یا پھر ایم کیوایم کی طرف سے معصوم پختونوں کے بلاامتیاز قتل عام کے فلسفہ سے متاثر ہوئی ہے جس نے اردو اسپیکنگ علاقوں میں مزدوری کرنے والے پختونوں پر زندگی تنگ کردی ہے۔
اسی طرح اب اے این پی کے حامیوں نے اردو بولنے والوں کے لیے بنارس، کٹی پہاڑی ، قصبہ سمیت دیگر کئی علاقوں سے گزرنا دشوار کردیا ہے۔اے این پی رہنما کی ہلاکت کے فوراً بعد نیوز چینلز نے اسلحہ سے لوگوں کو خوف زدہ کرنے والے این اے پی کے کارکنوں کی فوٹیج دکھانا شروع کردیے۔ ایسے میںکون ان علاقوں سے گزرنے کی ہمت کرسکے گا؟جسارت کی خبر کے مطابق اورنگی ٹاﺅن کے لاکھوں افراد کی نوکریاں داﺅ پر لگی ہوئی ہیں۔
اور روزنامہ اُمت کے مطابق اورنگی ٹاﺅن میں لوگوں نے متحدہ اور اے این پی مخالف ریلی نکالی ہے جس پر پولیس لاٹھی چارج کے نتیجے میں 20افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پختونوں کو بھی اپنے علاقوں میں پاکستانیوں کو زبان کی بنیاد پر تقسیم کرنے والے ان دہشت گردوں کے خلاف ریلی نکالنی چاہیے۔ عام لوگوں کے مرنے سے نفرت پھیلتی ہے اور اس طرح قوم پرست جماعتوں کو ایندھن فراہم ہوتی ہے۔ کچھ کو یہ کھیل سمجھ میں آگئی ہے باقیوں کو بھی نکل آنا چاہیے تاکہ کراچی میں نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کرکے اسے دوبارہ رشنیوں کا شہر بنایا جائے۔

Articles

شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

In فوج,حقوق انسانی,دہشت گردی on اگست 23, 2010 از ابو سعد Tagged:

یہ مضمون "جسارت میگزین” کے تازہ شمارے میں شائع ہوا ہے جس میں امریکی دلالوں کو ایکسپوز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مضمون کو گرافک ویو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
………………………………………………………
 امریکی دوستی کے بھیانک نتائج
 سیلاب زدگان کی مدد میں امریکا رکاوٹ بن گیا
امریکیوں کو بچانے کے لیے جعفرآباد کو ڈبو دیا گیا
 شہباز ائر بیس پاکستانیوں کو بچانے کے لیے استعمال کرنے سے امریکیوں نے روک دیا

………………………………………………………

  سیلاب کی آمد کے ساتھ ہی قومی اخبارات میں شہ سرخیوںکے طور پر خبریں شائع ہونا شروع ہوگئی ہیں کہ امریکا سیلاب میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے اور ان کی مالی مدد میں پیش پیش ہے۔ برسات میں تاریخی مقدار میں پانی برسنے کے بعد ڈالروں کی ’بارش‘ کرکے افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی وائسرائے رچرڈ ہالبروک نے یہ طنز کیا کہ امریکا دل کھول کر مدد کررہا ہے‘ پاکستان کے دوست ایران اور چین کہاں ہیں؟ یعنی دوستوں نے ساتھ چھوڑدیا لیکن امریکا تن تنہا پاکستانی متاثرینِ سیلاب کے غم میں گھلا جارہا ہے۔گزشتہ روز تقریباً تمام اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ امریکا سعودی عرب کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑا مددگار ملک بن گیا ہے۔ جمعہ 20 اگست کو دیگر اخبارات کے علاوہ دائیں بازو کے علم بردار اخبارات نے بھی اس خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا کہ امریکا کیری لوگر بل کے علاوہ 700 ملین ڈالر پاکستان کو دے گا۔ یہ ’خوشخبری‘ کیری لوگر بل کے شریک خالق سینیٹر جان کیری نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ساتھ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے سنائی۔ ان خبروں کو پڑھنے کے بعد قارئین کو یہ سمجھنے پر موردالزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا کہ صلیبی لشکر کا سرخیل امریکا پاکستان اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دوست ہے۔ جاپان پر ایٹم بم گرانے کی تاریخی دہشت گردی ہو یا شمالی کوریا کے خلاف ناجائز جنگ‘ عراق کے مسلمانوں کو خون میں نہلانے کا عمل ہو یا افغانستان پر ننگی جارحیت…. امریکی میڈیا وائٹ ہاﺅس کا ہمیشہ مددگار رہا ہے۔ اب جبکہ امریکا تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے اور ذلت آمیز شکست افغانستان کے پہاڑوں میں اس کا شدت سے انتظار کررہی ہے، ایسے میں امریکا کے زیراثر دنیا بھر کا میڈیا اُس کے امیج کو بہتر بنانے کی کوشش آخر کیوں نہ کرے؟ خبروں کے سیلِ رواں میں غرق عوامی اذہان اِس وقت ذرائع ابلاغ کے سیلاب کی بڑی لہروں یعنی شہ سرخیوں کو ہی بہ مشکل ٹھیک طریقے سے دیکھ پارہے ہیں‘ اور یہ موجیں اتنی تیز ہےں کہ کم نمایاں چھوٹی چھوٹی خبروں میں بڑی خبر کو تلاش کرنے کے لیے وہ سنبھل نہیں پارہے ہیں۔ اور عوام الناس کی نظر کو کیا رونا…. اِدھر نیوز روم میں بیٹھے صحافی یا تو اپنی قیمت لگا چکے ہیں یا پھر اتنے نااہل ہیں کہ مخلص ہونے کے باوجود وہ ادراک کے معاملے میں عام آدمی کی صف میں ہی کھڑے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ دو چار دنوں کے دوران چند ایسی خبریں شائع ہوئیں جو اگرچہ اخبارات کے صفحات پر نمایاں جگہ پانے میں ناکام رہیں، تاہم خبریت اور وزن کے اعتبار سے ان دِنوں شائع ہونے والی سیکڑوں خبریں ان سے چھوٹی معلوم ہوتی ہیں۔ یہ خبریں پاکستانیوں کی آنکھوں پر بندھی کالی پٹیاں کھول کر انہیں ان کی گمراہی کا احساس دلاتی نظر آتی ہیں۔ ایک بہت بڑی خبر معاصر انگریزی اخبار روزنامہ ڈان کے صفحہ آخر پر شائع ہوئی جس کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہیلتھ ریلیف آپریشن اس لیے شروع نہیں کیا جاسکا کہ جیکب آباد میں واقع شہباز ایئربیس امریکی کنٹرول میں ہے۔ اخبار کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ق) کی رکن ِسینیٹ سیمی یوسف صدیقی کے ایک سوال کے جواب میں ہیلتھ سیکریٹری خوشنود لاشاری نے انکشاف کیا کہ علاقے میں ہیلتھ ریلیف آپریشن اس لیے ممکن نہیں ہے کیوں کہ یہاں کا واحد ایئربیس امریکی کنٹرول میں ہے۔ ’ہیلتھ ایمرجنسی پریپرئیڈنیس اینڈ ریسپانس سینٹر‘ کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر جہانزیب اورکزئی نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں اس لیے ریلیف آپریشن شروع نہیں ہوسکا ہے کیوں کہ جیکب آباد سمیت کئی علاقوں کے قریب کوئی ایسی ہوائی پٹی نہیں جہاں طیارہ اترسکے۔ سینیٹر سیمی نے اجلاس کے بعد ڈان کے نمائندے کو بتایا کہ یہ انتہائی بدنصیبی ہے کہ امریکی شہباز ایئربیس سے ڈرون حملے کرسکتے ہیں لیکن حکومت ِپاکستان اپنے ہی ایئربیس کو ریلیف آپریشن کے لیے استعمال کرنے کے معاملے میں بے بس نظر آتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر ِصحت کو فوج سے درخواست کرنی چاہیے کہ وہ امریکیوں سے شہباز ایئربیس سے ریلیف آپریشن کی اجازت مانگیں۔ انہوں نے تاسف کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے نہیں معلوم کہ وزارت صحت متعلقہ حکام خصوصاً پاک فوج کے سامنے یہ معاملہ اٹھانے میں کیوں ناکام رہی ہے؟“ پاکستانی عوام مطلع ہوں کہ شہباز ایئربیس جسے 4 سال قبل پاکستانی تاریخ کے بدترین فوجی سربراہ نے امریکا کو لیز پر دیا تھا‘ سیلاب زدگان کو فوری ہیلتھ ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوسکتا۔ ایسا ہرگز نہیں کہ شہباز ایئربیس امریکا میں واقع ہے یا پاکستان امریکا کی آئینی ریاست کا درجہ رکھتا ہے، بلکہ پاکستان ہی کے صوبہ سندھ کے ضلع جیکب آباد میں واقع ہے جہاں قرب و جوار کے لاکھوں لوگ ریلیف کے لیے اس کے محتاج ہےں۔ جی وہی پاکستان جو سنا ہے 14اگست 1947ءکو آزاد ہوا تھا۔ جیکب آباد میں شہباز ایئربیس کے صرف استعمال پر ہی پابندی نہیں ہے بلکہ 4 سال سے امریکیوں کے کنٹرول میں رہنے والے اس بیس کو بچانے کی خاطر بلوچستان کے ضلع جعفر آباد کو سیلاب کی نذر کردیا گیا، جہاں ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑنے کی مہلت بھی نہ مل سکی۔ گزشتہ سیلابی ریلے نے شہباز ایئربیس کی طرف بڑھنا شروع کیا تو اسلام آباد سے آنے والی ہدایات پر جمائی بائی پاس کو توڑا گیا جس سے نصیرآباد اور جعفرآباد زیرآب آگئے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وفاقی وزیر اعجاز جاکھرانی کے مطالبے پر عسکری دستے اور مقامی انتظامیہ کے افسران سڑک توڑ کر پانی کا رخ موڑنے پر تیار نہیں تھے مگر بعد ازاں ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاﺅس سے ہدایت ملنے پر فوری طور پر سڑکیں توڑ کر پانی کا رخ بدل دیا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے میں امریکی حکام کا اثر و رسوخ شامل ہے، کیوں کہ امریکی حکام نے پہلے اپنے طور پر پانی کا رخ موڑنے کی ہدایت جاری کی‘ جسے تسلیم کرنے سے انکار پر اسلام آباد سے مدد طلب کی گئی۔ دو روز قبل امریکی بیڑے کے کراچی آنے پر کراچی کے امریکی قونصل جنرل نے اپنے عسکری حکام کے ہمراہ بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا تھا جو دراصل شہباز ایئربیس کو کسی ممکنہ خطرے سے بچانے کا راستہ تلاش کرنے کا سروے تھا۔ اس فضائی جائزے میں طے کرلیا گیا تھا کہ اگر پانی اس طرف آیا تو کس جگہ سے بند توڑنے کے لیے کہا جائے گا۔ اور یوں امریکی حکام کی وجہ سے بلوچستان کے ہزاروں شہریوں کو تباہی سے دوچار کردیا گیا۔ روزنامہ ڈان کی خبر شائع ہونے کے بعد پاکستان ایئرفورس نے چند صحافیوں کو ایئربیس کا دورہ کرایا اور بتایا کہ یہاں امریکیوں کا کنٹرول نہیں۔ ایئر برج کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ شہباز ایئربیس اور باقی ایئربیسز کے درمیان قائم کیا گیا ہے تاکہ ریلیف کے سامان کی ترسیل کے ساتھ جیکب آباد سے لوگوں کو نکالا جاسکے۔ پی اے ایف حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ شہباز ایئربیس پر چند امریکی موجود ہیں جو ایف سولہ فائٹرجیٹ کی تکنیکی معاونت پر مامور ہےں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحافیوں کو ایئربیس پر لے جانے کے بجائے قائمہ کمیٹی کے سامنے بقائمی ہوش و حواس بیان دینے والے سیکریٹری ہیلتھ سے کیوں نہ پوچھا گیا کہ انہوں نے یہ بیان کس بنیاد پر دیا ہے؟ جس ملک میں جعلی کیمپوں کی کہانیاں منظرعام پر آرہی ہوں وہاں کوئی طے شدہ دورے میں دکھائے گئے منظر پر کیسے یقین کرسکتا ہے؟ پاکستان میں امریکی موجودگی پر گہری نظر رکھنے والے سوسائٹی میڈیا کے ارکان اس امکان کو رد کرنے پر تیار نہیں کہ اس دورے کا انتظام امریکی معاونت سے کرایا گیا ہو‘ تاکہ خبر کے نتیجے میں امریکا کے لیے پیدا ہونے والی نفرت اور پاکستانی حکومت اور فوج کے بارے میں منفی تاثر کو زائل کیا جاسکے۔ حکومت ِپاکستان اور عسکری قیادت نے لیز کی کبھی تردید نہیں کی ہے۔ اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ شہباز کے علاوہ شمسی ایئربیس امریکا کو لیز پر دیا جاچکا ہے۔ ارکانِ پارلیمان کی رگ ِ حمیت تو صرف اس بات پر پھڑک گئی تھی کہ شہباز ایئربیس ان مشکل حالات میں بھی ریلیف سرگرمیوں کے لیے استعمال کے لیے کیوں نہیں دیا جارہا۔ لیکن صحافیوں کو کرائے گئے دورے کے ذریعے امداد ی سرگرمیوں کی اجازت نہ دینے کے تاثر کو زائل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی دیا گیا ہے کہ مذکورہ ایئربیس لیز پر دیاہی نہیں گیا ہے جو واقعاتی طور پرغلط ہے۔ معاصر اخبار اُمت کے ذرائع کے مطابق شہباز اور شمسی دونوں ایئر بیسز پر پاکستانی حکام کو اندر داخل ہونے تک نہیں دیا جاتا۔پاکستانی فورسزپرصرف ان بیسز کے بیرونی تحفظ کی ذمہ داری ہے۔ بیس پرمکمل کنٹرول امریکیوں کا ہے‘وہ کسی بھی پاکستانی کو اندر جانے نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ بیس کے گردو نواح کی تباہ حال آبادیوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور بیمار ہورہے ہیں۔ سڑکیں نہ ہونے کے سبب ان تک پہنچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ایک رستہ باقی ہے کہ شہباز ایئربیس سے اُڑ کر ان کی مدد کی جائے‘ یہ راستہ بھی امریکا کی مخالفت کے سبب مسدود ہوچکا ہے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل کہتے ہیںکہ ”یہی وہ اڈہ ہے جہاں سے امریکیوں نے افغانستان پر56ہزار حملے کیے۔اب انہوں نے اس کے اندر بہت کچھ اور جمع کرلیا ہے۔ اسی طرح شمسی ایئربیس بھی ہے جہاں سے ڈرون اُڑتے ہیں۔ وہاں بھی امریکی پاکستانی اتھارٹیزکو جواب تک نہیں دیتے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ایسے میں وہ ان بیسز کو سیلاب زدگان کی مدد کے لیے کیوں استعمال ہونے دیں گے؟سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی کے مطابق صحت کی قائمہ کمیٹی نے انہیںبتایا کہ شہباز ایئربیس امدادی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کرنے دیا جارہا ہے تو انہوں نے ہدایت کردی کہ اس معاملے کو سینیٹ میں لایا جائے تاکہ وزارتِ دفاع سے پوچھا جائے کہ کس معاہدے کے تحت یہ اڈہ امریکا کو دیا گیا ہے اور کیوں اسے پاکستانیوںکو بچانے کی خاطر استعمال نہیں کیا جاسکا ہے۔ 12اگست کو ایک ہزار میرینز اور 24ہیلی کاپٹروں کو امداد کی آڑ میں پاکستانی سرزمین پر اُتارا گیا۔اس ”امداد ی کھیپ“ کے پہنچنے پر ہمارے وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ ملک کو ایسی مزید عالمی مدد کی ضرورت ہے۔کراچی میں امریکی قونصل جنرل ولیم مارٹن نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں امریکی شپ اور میرین کی موجودگی اوباما اور امریکی لوگوں کی کمٹمنٹ کا مظہر ہے۔ یہ کمٹمنٹ اور دوستی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستان میں بلیک واٹر اور امریکی فوجیوں کی تعداد11ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک کے ایئربیس پر قابض ہوکر اسے ا ستعمال کی اجازت نہ دینے والا‘ اپنے بیس کو بچانے کے لیے بلوچستان کو ڈبونے والاہمارا”دوست“ملک آخر 11ہزار فوجیوں کے ذریعے کیاکرنا چاہ رہا ہے؟ پاکستان کو بڑی امریکی دہشت گردی کا خطرہ ہے لیکن حکمران دوستی نبھا رہے ہیں۔ سینیٹر سیمی صدیقی کے خیال میں”بدقسمتی یہ ہے کہ بیس پاکستان کا ہے، اس کے ساتھ ہی پاکستانی ڈوب رہے ہیں ‘ ان کو بچانے کی خاطر ہمیں بیس استعمال کرنے کی اجازت امریکی نہیں دے رہے۔ یہ کس طرح کا معاہدہ ہے، کون نہیں جانتا! سنا ہے کہ اڈہ لیز پر دیا گیا ہے، مگر پھر بھی وہ ملکیت تو پاکستان کی ہے۔ پاکستانیوں کو بچانے کی خاطرکیوں استعمال نہیں ہوسکتا؟“ سیمی صاحبہ کتنی بھولی خاتون ہےں! جس ایئربیس کو پاکستانیوں کو مارنے کے لیے وقت کے میر جعفروں سے لیز پر لیا گیا ہے وہاں سے ان کو بچانے کے لیے کسی سرگرمی کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے!سیمی صاحبہ آپ نے درست کہا کہ یہ کیسی دوستی ہے۔اگر یہ دوستی ہے تو دشمنی کسے کہتے ہیں۔امریکی دوستی کی ایک بھیانک تاریخ ہے لیکن سیلاب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کوئی اس تاریخ سے سبق سیکھنے پر تیار نہیں۔

Articles

ہلاک ہونے والوں میں سے قاتل کون تھا؟ایم کیو ایم کے دہشت گردوں سے سوال

In دہشت گردی on اگست 4, 2010 از ابو سعد Tagged:

ریاض سہیل‘بی بی سی اردو کراچی
کراچی کے بارے میں حکومت کی جانب سے کئی فیصلے ہوئے جن میں سے کسی پر بھی عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔ کراچی میں پر تشدد واقعات، ہنگامہ آرائی اور خوف و ہراس میں غروب ہونے والا سورج منگل کو اسی ماحول میں طلوع ہوا۔ صبح کو تمام تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز بند رہے اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ نجی گاڑیاں بھی نہ ہونے کے برابر رہیں۔
ماہ رمضان کی آمد اور سکولوں کی موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد گزشتہ روز بازاروں اور مارکیٹوں میں گہماگہمی تھی۔ مگر آج ہر جگہ ویرانی نظر آئی۔ شہر کے دل کے نام سے پہچانے جانے والے علاقے ایمپریس مارکیٹ میں کچھ پریشان تو کچھ خوفزدہ دکانداروں سے ملاقات ہوئی۔
ان دکانداروں کا کہنا تھا کہ اچانک دو تین لڑکے آتے ہیں اور فائرنگ کر کے چلے جاتے ہیں حالانکہ ان کی دکانیں پہلے سے بند ہیں۔
ان میں اکثر ریڑھی لگانے اور مزدوری کرنے والے تھے جن کو یہ فکر تھی کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو ان کا گذارہ کیسے ہوگا۔
پاکستان کے دیگر علاقوں میں اقتصادی سرگرمیاں محدود ہونے کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کراچی شہر کا رخ کرتی ہے۔ جس وجہ سے اس شہر کی آبادی غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پونے دو کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ اس میں چالیس لاکھ پشتون بھی شامل ہیں۔
دو بندر گاہوں کے ساتھ مرکزی بینک، کئی ملکی اور غیر ملکی مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کے ہیڈ آفیس یہاں موجود ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملکی خزانے میں ساٹھ فیصد آمدن اسی شہر سے جاتی ہے۔
لانڈھی میں ایک پیٹرول پمپ کو جلانے کے بعد مرکزی شہر کے تمام پیٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن قناطیں لگا کر بند کردیئے گئے تھے جس کے باعث نجی گاڑیوں کے مالکان اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
زینب مارکیٹ کے قریب ایک پریشان حال ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ پورا شہر بند اور سواری نایاب ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ ان حالات میں وہ کیوں گھر سے نکلے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ خوف انہیں بھی آتا ہے مگر کیا کریں پیٹ کے لیے تو نکلنا پڑتا ہے۔
پچھلے ہفتے شہر میں پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کے بعد یکم جنوری سے جولائی تک ہلاکتوں کی جوڈیشل انکوائری، شہر کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے سفارشات کی تیاری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے اور رینجرز کا گشت بڑھانے اور چوکیاں قائم کرنے جیسے کئی فیصلے ہوئے جن میں سے کسی پر بھی عملدرآمد ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔
رکن صوبائی اسمبلی رضا حیدر، ان کے محافظ اور عوامی نیشنل پارٹی کے دو کارکنوں کے علاوہ ہلاک ہونے والے کون ہیں؟ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ عام لوگ تھے۔ اس سے قبل بھی دو ہزار سات سے لے کر گزشتہ ہفتے تک ان پرتشدد واقعات کا نشانہ عام لوگ ہی بنے جن کے مقدمات اور تفتیش نامعلوم وجوہات کے بنا پر بند کر دی گئی۔
شام کو ایک ایس ایم ایس آیا ہے جس میں پوچھا گیا کہ ہلاک آخر ہلاک ہونے والے پچاس افراد میں سے رکن صوبائی اسمبلی کا قاتل کون تھا؟

Articles

پختونوں کی تذلیل…. اور میرا جانباز پنجابی سپاہی بھائی

In فوج,پاکستان,حقوق انسانی,دہشت گردی,طالبان on جولائی 27, 2010 از ابو سعد Tagged:

جب میں اپنےساتھی کےساتھ مقبوضہ جامعہ کراچی میں داخل ہونےکےلیےسلور جوبلی گیٹ پر قائم چیک پوسٹ پر قابض رینجرز اہلکار کی جانب بڑھا تو اس نےاس حقیقت کےباوجود کہ میرے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا مجھےصرف اس لیےاندر جانےکا گرین سگنل دےدیا کہ ہم دونوں ایک ہی زبان بولتےتھے۔ اور میں نےیہ ’سہولت‘ حاصل کرنےسےصرف اس لیےانکار کردیا کیوں کہ اس نےمیرےاردو بولنےوالےساتھی کو میرےساتھ جانےکی اجازت نہیں دی‘ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ ہم دونوں ہی جامعہ کراچی کےطالب علم ہیں۔ مجھےزبان کی بنیاد پر اُمتِ محمدیہ کو تقسیم کرنےوالوں سےشدید نفرت ہے۔ باچا خان کےپیروں کاروں کی طرف سے اپنےکارکنوں کو سخت ہدایت تھی کہ اس پختون دشمن کےساتھ ہاتھ نہ ملایا جائے۔ لیکن پتا نہیں 18جولائی کو میرےزبان سےڈیرہ غازی خان کےعلاقےترنول میں ان پولیس والوں کےسامنےیہ الفاظ کیوں نکلےکہ” آپ لوگ پختونوں کی نسل کشی کےبعد اب ان کو ذلیل کرنےکا کوئی موقع بھی ہاتھ سےنہیں جانے رہے ہیں۔‘‘
تقریبا ً ایک دہائی قبل اپنے زمانہ طالب علمی میں اس روٹ کو استعمال کرتارہا۔ راستےمیں مسافروں کےساتھ ٹرانسپورٹ مافیا کی زیادتیاں ہمیشہ مجھےپریشان کیا کرتی تھیں۔ اس لیےمیں نےارادہ کیا کہ میں کافی عرصہ بعد سفر میں اکیلےہونےکا فائدہ اُٹھا کر روڈ کا انتخاب کروں اورمضر صحت کھانے پینےکےسامان اوراس کےبدلےبس والوں کےہاتھوں ’یرغمال ‘مسافروں سے زیادہ پیسوں کےحصول کو ایک فیچر کا موضوع بنائوں۔ مسافروں کےمسائل مجھےپریشان کرتی رہے تو میرے سفر کی ساتھی جان پرکنز کی کتاب اس سےبھی زیادہ پریشان کررہی تھی جس میں انہوں نےسی آئی اےاور معاشی غارت گروں کی وارداتوں پر سےپردہ اُٹھایا ہے۔ کتاب میں پاکستان کا تذکرہ نہ ہونےکےباوجود یہ پاکستان کےحالات پرکس طرح منطبق ہوتی ہےاس کا تذکرہ ایک الگ پوسٹ میں‘فی الحال واپس اپنےموضوع کی طرف۔
کوہاٹ ٹنل پر ایک باوردی نوجوان نےسب کےشناختی کارڈ جمع کیےاور پھر واپس کیےلیکن ایک بزرگ کےپاس کلر فوٹوکاپی تھی‘ نوجوان نے واپس کرنےسےانکار کردیا۔ بزرگ التجا کرتےرہےکہ راستےمیں کئی اور جگہ چیکنگ ہوگی۔ نوجوان نےکہا اُسےآرڈر ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہےجہاں آرڈرز تو جاری ہوتےہیں‘ لیکن اس کےساتھ ہدایات دیےجاتےہیں اور نہ ہی اطلاع کہ کوئی ایسا آرڈر پاس ہوا ہے!لہٰذا آپ کا تجربہ ہی ہدایات ہوتےہیں۔ لیکن پہلی دفعہ کا کیا جائے؟کیا بس اڈوں پر ایسےہدایات واضح طور پر آویزاں نہیں کرنےچاہئیں؟
شاید یہ واقعہ تھا جس نےمجھ سےآگےترنول‘ ڈیرہ غازی کےعلاقےمیں وہ جملہ کہلوایا جو میں شاید عام حالات میں کبھی نہ کہتا۔ ترنول پر بس رُک دی گئی۔ کارڈ جمع کیےگئےاور پھر حکم دیا گیا ۔ پیدل چلنا شروع کردو۔ یہ سرحد اور پنجاب کا بارڈر تھا لیکن مجھےیہ انڈیا پاکستان یا پاکستان افغان بارڈر لگا۔ جہاں لکڑیوں کےبیچ میں گزارا گیا۔ یہ ہزار میٹر سےزیادہ کا راستہ ہوگا۔ ترنول تھانےکےسامنےپہنچ کر وہاں بیٹھےپولیس والوں سےمیں نےکہا”یہ کیا ہے؟ یہ پیدل چلوانا سیکورٹی مسئلےکا حل تو نہیں ہے۔ آپ لوگ پختونوں کی نسل کشی کےبعد اب ان کو ذلیل کرنےکا کوئی موقع بھی ہاتھ سےنہیں جانےدے رہے ہیں‘‘۔
مجھےنہیں پتا کہ ذلیل ہونےکا باوجود مجھےیہ کہنےکا حق تھا یا نہیں لیکن اس پر میرےپنجابی بھائی پولیس والےنےجو کچھ کہا اس نےمجھےکچھ مزید کہنےپر مجبور کردیا۔ اس نےکہا کیا کریں تم دہشت گرد ہو۔ سارےچرسی کہاں ہوتےہیں؟ سرحد سے آتے ہیں چرس اور ہیروئین کہاں سےآتی ہے؟۔‘‘
میں سنتا رہا اور وہ کہتا چلا گیا”بےوقوف یہ کیمرےلگےہیں جس میں اہم دہشت گردوں کو پہچانتےہیں‘ چرسیوں اور ہیرونچیوں کا پتہ چلتا ہے۔‘‘
میں نےعرض کیا”جناب یہ کام تو 10میٹر میں بھی ہوسکتا ہے اس کےلیے1000میٹر کی پریڈ کیوں کراتےہو۔“ اس گستاخی پر اس نےمجھےہاتھ سےپکڑ کر دھکا دیا۔میں نےکہا یہ میرےسوال کا جواب نہیں ۔ مجھےدھکا دےکر کونساجواب دےرہےہیں؟ میں اس وقت جنوبی پنجاب میں تھا او ر میں نےاسےیاد دلایا کہ یہاں بھی طالبان ہیں لیکن آپ ان کےخلاف کچھ کرنےکو تیار نہیں۔اور پھر سرحد میں داخل ہوتےہوئے پنجاب سےآنےوالوں کو ایسا ذلیل نہیں کیا جاتا حالانکہ وزیر ستان میں پائےجانےوالے’پنجابی طالبان‘ پنجاب سےہی آئےہوں گے۔ میں نےمزید کہا کہ ”میں روز پڑھتا ہوں کہ سیکورٹی فورسز نے30،40اور 50شدت پسندوں کا مارا۔ یہ نسل کشی نہیں تو کیا ہے۔ 99فیصد پختون امریکا مخالف ہیں۔ امریکی دشمنی کو ختم کرنےکےلیےتہمیں ایک ایک پختون کو مارنا ہوگا“…. میں وہاں سےبس کی جانب چل پڑا اور سوچتا رہا کہ میں کیا کیا کہہ گیا۔ شاید میں یہ سب کچھ نہ کہتا اگر مجھےمیرےسوال کا جواب ملتا یا صرف اتنا ہی کہہ دیا جاتا کہ ”تم میرےمسلمان پاکستانی بھائی ہو ‘ یہ تم نےکیسےبات کردی۔‘‘