Posts Tagged ‘پاک فوج، امریکا، دہشت گردی، لشکر طیبہ، بھارت ، اجمل قصاب، نئی القاعدہ، اگلی القاعدہ ، عالمی دہشت گردی، عالمی د’

Articles

پاک فوج’’ دہشت گردوں‘‘ کے ساتھ ہے‘ نیوز ویک

In پاکستان,بین الاقوامی تعلقات,دہشت گردی on مارچ 3, 2010 از ابو سعد Tagged:

ایک ایسے وقت میں جب بھارتی وزیر اعظم اپنے تین روزہ غیر معمولی دورے پر سعودی عرب میں ایک اہم اسلامی ملک کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں‘ امریکی میڈیا پاکستان کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی تیاری کے ضمن میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے جو بظاہر امریکی لابی کی محنت اور امریکا میں پاکستان کے مفادات کے نام نہاد نگرانوں کے کام کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ امریکی میگزین نیوزویک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مکمل طور پر پاکستان منتقل کرنے کے لیے لشکر طیبہ کو ”نئی القاعدہ“ قرار دے کر واویلا شروع کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف مصروف عمل جہادی تنظیم دراصل عالمی ایجنڈا رکھتی ہے اور یہ اپنی تکنیکی مہارت اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کی آشیر واد کے سبب القاعدہ سے زیادہ خطرناک بن چکی ہے۔ اہم پالیسی ساز میگزین ”نیوزویک“ لکھتا ہے کہ ”ایک ایسے وقت میں جب امریکا کی توجہ پاک افغان بارڈر پر موجود القاعدہ کی اصل قیادت کو شکار کرنے پر مرکوز ہے‘ ایک کم معروف اسلامی عسکری تنظیم روئے زمین پر ایک خطرناک دہشت گرد مرکز کے طور پر سامنے آئی ہے۔“میگزین لکھتا ہے کہ ”لشکر طیبہ گزشتہ15برس سے بھارتی مفادات خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو نشانہ بنارہی تھی لیکن مغربی اور بھارتی انٹیلی جنس ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تنظیم اب غیر ملکیوں پر حملے کرنے اور اپنی پہنچ عالمی سطح تک بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ گروہ بھارت کے باہر بھی تباہ کن حملے کرنے کی صلاحیت رکھتاہے“میگزین کے تازہ شمارے کی ٹائٹل اسٹوری میں کئی مقامات پر ”خطرناک“ لشکر طیبہ کا تعلق پاکستانی فوج سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میگزین کے مطابق”بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک لشکرطیبہ اپنی فنی مہارت‘ عالمی سطح پر بھرتی اور فنڈ نگ نیٹ ورک اور پاکستانی حکومت میں اپنے محافظوں کے ساتھ قریبی تعلق کی بنا پر القا عدہ سے زیادہ بڑا خطرہ بن چکی ہے“ ۔ ”پاکستان کی خطرناک جاسوس ایجنسی آف انٹر سروسزانٹیلی جنس گرم جوشی کے ساتھ پیسوں‘ ہتھیاروں اور تربیت کی صورت میں لشکر طیبہ کی معاونت کرتی رہی ہے۔ مریدکے میں 77ایکڑ پر محیط لشکر طیبہ کے ہیڈکوارٹر کی زمین حکومتِ پاکستان نے عطیہ کی تھی۔ بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں پاکستانی فوج میں کچھ افراد لشکر طیبہ کو ریزرو فوج سمجھتے ہیں‘ جس کو بھارت کے ساتھ لڑائی میں استعمال کیا جاسکے گا“۔نیوز ویک کے مطابق ”لشکر طیبہ اور پاکستانی فوج دونوں بھرتی کے لیے پنجاب کے غریب علاقوں پر انحصار کرتی ہیں اوردونوں طرف بھرتی ہونے والوں کی اکثریت ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔“ آگے لکھتا ہے ”لشکرطیبہ کے فلاحی ونگ نے وادی سوات کو طالبان سے واپس لینے کی مہم کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شہریوں کی مدد فوج کے شانہ بشانہ کی۔“امریکی میگزین کی ہرزہ سرائی جہا ں امریکا میں موجود بھارتی لابی کی طرف سے پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے وہیں امریکا میں پاکستان کے موجودہ سفیر حسین حقانی کی کتاب کے علاوہ ان کا پورا کام اس طرح کی کہانیوں کے لیے بنیاد فراہم کرتا دکھائی دیتا ہے۔ 20جولائی2005ءکی”ساوتھ ایشین ٹربیون“ میں ”پاکستان کا لند ن بم دھماکوں سے تعلق“ کے عنوان سے اپنے مضمون میں حسین حقانی لکھتے ہیں ”بڑے کشمیری جہادی گروہ اپنا انفرااسٹرکچر اس لیے قائم رکھ پائے ہیں کہ پاکستانی فوج نے ابھی تک مستقبل میں بھارت کے ساتھ لڑنے کے آپشن کو ترک نہیں کیا ہے۔“اسی مضمون میں حسین حقانی لکھتے ہیں ”لند ن میں7جولائی کے دہشت گرد دھماکے ”گلوبل جہاد “ کو بڑھانے میں پاکستان کے کردار کی اسکروٹنی کا تقاضا کرتے ہیں۔ لند ن بمبار پاکستانی نژاد تھے اور چار میں سے کم از کم تین نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ عالمی برادری کی طرف سے اس بات پر حیرت کا اظہار فطری ہے کہ اسلامی شدت پسندی کے اکثر عناصر کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے‘‘۔
Advertisements