Posts Tagged ‘چیف جسٹس، افتخار چوہدری ، صدر زرداری، عدلیہ’

Articles

سوات کی ویڈیو کوجعلی ثابت کرنے کے10دلائل

In دہشت گردی,سوات on اپریل 16, 2010 از ابو سعد Tagged: , , , ,

ڈاکٹرعامرلیاقت حسین
ڈھٹائی پر اَڑ جانا،جھوٹ پر ڈٹ جانااور حقائق مسخ کر کے اِترانا،چَلِتَّر بازوں کا پُرانا چلن رہا ہے …مجھے قطعاً حیرت نہیں ہوئی جب ”عالم آن لائن“ کے خصوصی پروگرام کے بعد ”جانگلوؤں“ کے ٹکڑوں پر پلنے والے تنک مزاج یکایک چَرچَرانے لگے…گویاکوڑے مارے جانے کی جعلی ویڈیو تووہ خارِ مغیلاں ثابت ہو ئی کہ بنانے اور دکھانے والے دونوں ہی کذب و ریا کی خارش کے سبب”راڑ“ مچا رہے ہیں…ویڈیو کے اَسرار کھلنے کے بعد بھی اِصرار ہے کہ یہ ”اصلی پری کادھاگا “ ہے …ایک ایک اداکار بے نقاب ہوکر بھی ”روشن خیالی کے نقاب“ میں چہرہ چھپائے بضد ہے کہ اُس کی محنت کا ”ثمر“رائیگاں نہ جائے…اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کس قدر جی جاں سے کوشش کی گئی تھی، زمین پر ایک ”چاند“ تراش کے اُسے ایک لاکھ روپے کے عوض”مظلوم بی بی “ بنایا گیا ، پھر پچاس پچاس ہزار روپے دے کر کنڈل جیسی ذلفوں والے طالبان سے اُسے پکڑوا کر اُلٹا لٹایا گیااور پھر کوڑے کی شڑاپ شڑاپ میں ایک دقیق منظر کو چند ہی دقائق میں کچھ اِس طرح محفوظ کیاگیاکہ جسے صرف رقیق القلب ”محسوس“ کرسکیں…پشاور کی ایک حویلی کے احاطے میں ”متعددایکسٹراز“ اور ”۴ مرکزی کرداروں“ کے ساتھ فلمائی گئی ”انتہائی مختصر دورانیے“ کی اِس غیر واضح ویڈیو فلم نے وہ کام کر دکھایاجو طویل دورانیے تک صدر رہنے والے مشرف بھی نہ کرپائے۔…

گو کہ ایک این جی او کی ”گوپیاں“ تو اپنا کھیل ، کھیل گئیں تھیں مگر ”راجا نل پر بپتا پڑی، بُھونی مچھلی جَل میں پڑی“ کے مصداق، بُرے دِن آئیں تو ہر کام میں نقصان ہوتا ہے…کم بخت سارے اداکار پکڑے گئے اور جو کچھ نگلا تھا سب اُگل دیا…اب تو بھیّا اُفتاد آن پڑی،سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کے لیے عالمی و داخلی کذابوں کو زعفران کے کھیت میں راست گفتاری کے ایسے ایسے جوہر دکھانے پڑے کہ ثانیہ بھی لوٹ پوٹ ہوکرشعیب سے کہہ بیٹھیں”اے میرے سانوریا! تُوجھوٹ بولنا اِن ہی سے سیکھ لیتا“…ایک ہی جست میں ایسی چوکڑیاں، قلابازیاں اور کودپھاند کے مظاہرے کیے جارہے ہیں کہ تاریخ کے بدنام کاذبین کی قبور کروٹوں کے شور سے گونج رہی ہیں …بہتر تھا کہ غلطی مان کر ایک نئی ابتدا کی جاتی،ازالے کے چراغ سے مایوسی کے سیاہ غار کو روشن کیا جاتا اور توبہ کی کرنوں سے ساون کے تمام اندھوں کی آنکھوں کا کامیاب آپریشن کیا جاتامگرجو کچھ ہوا برعکس ہوا…خطا تھی ہی نہیں تو مانی کیوں جاتی؟ایجنڈے پر عمل کرنا لغزش نہیں،منصوبوں کو عملی جامہ پہناناگناہ نہیں اور مقاصد کے حصول کے لیے اختراعات کے مَعبَد میں سازشوں کی پرستش کرناآوازِ سگاں نہیں…بس چہرے صاف ستھرے رہیں، کیونکہ اِن پر لوگوں کی نظر ہے حالانکہ ضرورت تو دل کی گندگیاں صاف کرنے کی تھی، کیونکہ اُس پر خدا کی نظر ہے …بہر کیف…اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ دنیا تو اُسے بھی دیتا ہے جسے پسند نہیں کرتا مگر دین صرف اُسے ہی دیتا ہے جسے پسند کرتا ہے …تو پھر کیجیے دین کے ساتھ استہزا اور اِس جعلی ویڈیو کی آڑ میں اُڑائیے اسلامی سزاؤں کا مذاق، جی بھر کے تمسخر کیجیے(معاذ اللہ) آیاتِ ربانی سے اور بھریے اپنی آخری آرام گاہ کو اُن انگاروں سے جو کفن نہیں، روح جلاتے ہیں…یہ ویڈیو تو ”بندر کا پھوڑا“ ہے جو کبھی اچھا نہیں ہوگا، پاپ کی یہ ناؤ، آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پَرسوں ضرور ڈوبے گی …مجھے ضرورت تو نہیں تھی کہ میں اِس ویڈیو کے جعلی ہونے کے دلائل پیش کرتامگرکچھ ”اعلیٰ نسلی“ اِس کے اصلی”ثمرات“ سے آگاہ ہیں اِسی لیے چراغ پا ہیں کہ کس گستاخ نے اِسے نقلی ثابت کرنے کی جرأت کی ؟ایک پُرہول ماحول خراش کر دن بھر کی پُرگوئی کو وہ یونہی توضائع نہیں ہونے دیں گے اور جھوٹ کی آخری سسکی تک اِسے سچ بنانے کے لیے لڑیں گے

مجھے یقین ہے کہ میرے پیش کردہ دلائل کے بعد کئی پھاپھا کٹنیاں مجھے پھاڑ کھانے دوڑیں گی ،ویسے بھی یہ ایک چو مُکھی لڑائی ہے لیکن لڑنا بھی ضروری ہے ورنہ تو ان کی ریا کے کثیف بھبھکے صداقت کے درپن کو دھندلا کردیں گے

جھوٹ کیوں بولیں فروغِ مصلحت کے نام پر
زندگی پیاری سہی لیکن ہمیں مرنا تو ہے

لیجیے جناب اِس ویڈیو کے جعلی ہونے کی سب سے پہلی دلیل تو یہی ہے کہ جناب عبدالرحمن ملک صاحب نے فرمایا ہے کہ یہ اصلی ہے… آج کے پاکستان کا قاعدہ یہی ہے کہ کسی بھی شے کی ضد جاننے کے لیے ”گفتارِ ملک“ سے استفادہ کیا جائے…مثلاً وہ فرمائیں دن، تو سمجھ لیجیے رات ہے ، وہ کہیں کہ ٹارگٹ کلنگ رُک گئی ہے تو یقین رکھیے کہ کسی بھی وقت شروع ہوا چاہتی ہے اور اگر وہ کہہ دیں کہ خود کش حملے ختم ہوگئے ہیں تو ڈریے کہ کون کس وقت کہاں پھٹ جائے…

دوسری دلیل، موبائل کیمرے کے نحیف و نزار مائیکروفون سے کیچ کی ہوئی وہ دردناک چیخیں ہیں جن کی کوالٹی اتنی صاف اور واضح ہے کہ اب سیاسی جلسوں میں بڑے بڑے لاؤڈ اسپیکر لگانے کے بجائے اِن”منفرد طالبانی موبائل فونز “پر تجربے کیے جارہے ہیں،اِتنے سے قد پہ آواز کا بوجھ سنبھالنے میں اِنہیں زبردست ملکہ حاصل ہے چنانچہ آئندہ سیاسی ریلیوں اور عوامی اجتماعات میں قائدین اِسی موبائل کے مائیک کے ذریعے خطاب کیا کریں گے ،اب ظاہر ہے کہ جو موبائل بنا کسی بھنبھناہٹ کے مظلومہ کی چیخ سنوا سکتا ہے وہ کسی رہنما کی پکارعوام تک نہ پہنچائے یہ ممکن ہی نہیں

تیسری دلیل ”استقامتِ آہ و بکا“ ہے ، آواز میں کیاغضب کا جوار بھاٹا ہے کہ ایک سیکنڈ آگے پیچھے نہیں ہوتی،جتنی بلند، اِتنی ہی پست، کہیں جہری، کہیں سِرّی گویاکسی صوتی گراف کے عین مطابق بھرپور ٹائمنگ کے ساتھ چاند بی بی کے اِس رونے میں تکنیکی ہاتھ دھوئے گئے ہیں…

چوتھی دلیل چاند بی بی کے پاؤں پکڑنے والے ”طالب“ کا حکم کے طالب کی طرح بار بار کیمرے کی جانب دیکھنا ہے کہ کب ڈائریکٹر صاحب یا صاحبہ ”کٹ“ کہیں اور وہ خاتون کے پاؤں چھوڑ دے تاکہ روانگی کا سین عکس بند کیا جاسکے۔

پانچویں دلیل کیمرے کا ’’اسٹیبلشڈ شاٹ‘‘ پر قائم رہنا ہے ، مجال ہے جو کیمرہ چار کرداروں کے ”ماسٹرشاٹ“ سے ہٹ جائے ،اردگرد کے ماحول اور لوگوں کے تاثرات کی فلم بندی”ممنوع“ تھی ، جتنی جگہ کا کرایہ دیاگیا تھا، دیانت داری سے صرف اُسی مقام کو کیمرے میں محفوظ کیاگیا…

چھٹی دلیل کوڑے مکمل ہوتے ہی ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر ہائی ہیل والی چاند بی بی کا پیشہ وارانہ انداز میں اُٹھ کر کھڑے ہوجانا اور فوراً ہی متعین کونے کی جانب رخ کرلینا ہے ، البتہ چیخوں کی ڈبنگ شاید’’پروجیکٹ‘‘ میں پڑی رہ گئی اور ساؤنڈ فائل بند نہیں ہوسکی اِسی لیے چاند بی بی جاتے جاتے بھی اُسی طرح چیختی رہیں جس طرح کوڑے کھاتے ہوئے چلا رہی تھیں…

ساتویں دلیل سپریم کورٹ کے حکم پر تحقیقات کرنے والے مالا کنڈ کے سابق کمشنر سید جاوید کا وہ ”جرم“ ہے جس کے مطابق اُنہوں نے اِس ویڈیوکو جعلی قرار دے کر اِس کے ڈائریکٹر اور کرداروں کی تلاش شروع کردی تھی…

آٹھویں دلیل، مالا کنڈ کے نئے ڈی پی او قاضی جمیل صاحب کی وہ ”تصدیق“ ہے جس میں ڈوب کر وہ فرما رہے ہیں کہ وہ ویڈیو جعلی تھی اور اِسے اسلام آباد کی ایک این جی او نے بنایا تھا…

نویں دلیل، ریلیز سے 9ماہ قبل تیار کی جانے والی اِس ویڈیو کو ”پراسرارمسلم خان“ کی جانب سے ”قبول“ کرتے ہوئے یہ اقرار کرنا ہے کہ ”سزا تو دینا ضروری تھی مگر طریقہ غلط تھا“، یہ وہی مسلم خان ہیں جنہوں نے امریکا میں ایک جنونی کے ہاتھوں متعدد افراد کے قتل اور دھماکے کو بھی اپنا ”کارنامہ“ قرار دیا تھا جس کی دوسرے دن امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ کہہ کر تردید کردی تھی کہ ”مسلم خان اور بیت اللہ محسود کو معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں“…

دسویں دلیل براہِ راست اِس ویڈیو کو”نقلی“ کہنے سے گریز کرتے ہوئے سرکاری طور پر اِس جملے پر اکتفا کرنا ہے کہ ”کوڑے مارنے والوں کی تلاش جاری ہے، ابھی تک کسی نے خود آکر یہ نہیں کہا کہ یہ ویڈیو اُس نے بنائی ہے “…واہ واہ کیا کہنے ہیں

میں یہ نہیں کہتا کہ اسلام کے اِن نام نہاد ٹھیکے داروں نے گلے نہیں کاٹے یا اِن قصائیوں نے باقاعدہ فلمیں بنوا کر لوگوں کو ذبح نہیں کیا…بالکل کیا، یقینا کیا اور یہ جانور کسی بھی طور انسان کہلانے کے مستحق نہیں…مگر…جس ویڈیو کی آڑ میں مقصد عورت کی بھلائی نہیں بلکہ اسلام کی برائی ہو،اسلامی سزاؤں کو ظالمانہ اور بے رحمانہ قرار دے کر ”ہائے اللہ، اف ، اوئی، توبہ توبہ“ کی طے شدہ آوازیں نکالنا ہواورامریکا کو بیچی گئی اپنی بیٹی عافیہ کو بھلا کر اسلام آباد میں خریدی گئی ”چاند بی بی“ کے جسم پر اسکرپٹ کے تحت پڑنے والے کوڑے یاد دلا کر آپریشن پر اکسانا ہووہ اِس لیے بھی کسی طور جائز نہیں کہ کوئی بھی ”فعل حرام“ نیت کے اچھے ہونے سے حلال نہیں بن سکتا، شریعت اسلامی میں حکم عمل پر لگایا جاتا ہے ، نیت پر نہیں…جس طرح جہاد کی نیت اور ارادہ کرلینے سے فساد یا نظام عدل کے نفاذ کی نیت سے دہشت گردی اور قتل و غارت جائز نہیں ہوسکتے بالکل اِسی طرح رحم کے مقاصدکبھی جھوٹی ویڈیو بنا کر حاصل نہیں ہوسکتے…پاک منزل کبھی ناپاک راہ سے نہیں ملتی اورخیر، خیر ہی کے راستے سے آتا ہے ، شر کی راہ سے نہیں۔

Articles

ڈیڑھ منٹ کا راستہ

In پاکستان on فروری 19, 2010 از ابو سعد Tagged: ,

اطہر ہاشمی
عدالت عظمیٰ سے وزیراعظم ہاﺅس تک صرف ڈیڑھ منٹ کا سفرہے مگر اس کے لیے ایک یوٹرن لینا پڑتاہے۔ عجیب بات ہے کہ اس مختصر ترین سفرمیں ایک نہیں متعدد یوٹرن آتے رہے ہیں اورباربارآتے رہے ہیں۔ اب ایک یوٹرن حکومت نے لیاہے۔ منگل کی شب وزیراعظم ٹرن لے کرعدالت عظمیٰ میں دیے گئے عشائیہ میں پہنچ گئے تھے اور اگلے دن جناب چیف جسٹس ایک موڑمڑ کر ایوان وزیراعظم پہنچ گئے۔ اس کے نتیجے میں قوم کے سامنے ایک نیا موڑ آگیاہے لیکن یہ موڑ اس سے بہترہے جس میں عدلیہ کا رخ موڑا یا بازو مروڑا جارہاتھا۔ عشائیہ سے کچھ ہی پہلے تک جناب وزیراعظم قومی اسمبلی میں کچھ اور کہہ رہے تھے۔
قصرصدارت بھی عدالت عظمیٰ سے زیادہ دورنہیں ہے۔ لیکن آئین کی بالادستی یافردکی دراز دستی نے مختصر فاصلوںکوبھی طول دے دیاہے اور راستے میں اسپیڈبریکر بھی بے شمار ہیں۔ یہ دکھائی تو نہیں دیتے اور ان کا پتا صرف اس وقت چلتاہے جب کوئی رواں دواں گاڑی اچانک اچھل جاتی ہے اور گاڑی میں سکون سے سفرکرنے والے مسافرکا سرڈیش بورڈ سے جاٹکراتاہے۔ تب یاتو اسپیڈٹوٹ جاتی ہے یا مسافر ہی اچھل کر باہرآجاتاہے۔
ابھی دوسال بھی نہیں ہوئے کہ اسی قصر صدارت میں ایک باوردی جنرل نشہ
صہبا میں خودفراموشی کے علاوہ خودپسندی ‘ خودنمائی اورخودی کے نشہ سے بھی سرشاریگانہ چنگیزی کے شعرکی تفسیربنابیٹھا تھا کہ
خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا
جنرل صاحب نے ماضی کی روایات کو برقراررکھتے ہوئے صدرکے منصب پربھی قبضہ کررکھا تھا اورہم چوما دیگرے نیست کا نعرہ مستانہ بلند کرتے رہتے تھے۔ سب کو زیرکرنے کے بعد پڑوس میں موجود عدالت عظمیٰ کی عمارت پر نظرپڑی توخیال آیا کہ یہ علاقہ اب تک غیرمفتوحہ ہے۔ عدالتوں کو فتح کرنے کاکام تو ایک بے وردی حکمرانی غلام محمد نے شروع کردیاتھاان کے منصب میں ”جنرل “ کا لفظ موجودتھا‘ شاید اسی کا اثر تھا یا جنرل ایوب خان کی منصوبہ بندی کا کہ پارلیمنٹ توڑ‘ تاڑکے حکومت کو برطرف کرکے عدالت سے نظریہ ضرورت کی سند حاصل کرلی۔ ضرورت گورنر جنرل غلام محمدکی تھی اور نظریہ جسٹس منیرکا۔ اس کی داد تو دینا پڑے گی کہ اس طرح جسٹس منیر عدلیہ کی تاریخ میں امرہوگئے ورنہ تو کتنے ہی جج آئے اورگئے ‘ ایسی شہرت کسی نے نہ پائی اوران کے نام بھی یاد نہ ہوں گے۔
جسٹس منیر کے دامن سے تو منفی شہرت وابستہ ہے لیکن عرصہ بعد پھر ایک شہرت افتخار محمد چوہدری کے حصہ میں آئی جس نے ان کو ہیروبنادیا۔ اس میں بڑا حصہ جنرل پرویزمشرف کا بھی ہے۔ انہوں نے عدلیہ کو بھی کارگل سمجھا اور جی ایچ کیو میں اپنے صدارتی کیمپ میں چیف جسٹس کو بلابھیجا۔ لیکن یہاں بھی بلندی سے اترنا پڑا اور پھرپسپائی کا یہ سفر ۸۱اگست ۸۰۰۲ءتک رکانہیں۔ افتخار محمد چوہدری کی ایک ”نہیں“ نے سارا منظر بدل دیا اور وہ جو سب کو مکے دکھایاکرتے تھے‘ اب راندہ درگاہ ہیں۔ وہ جو کہتے تھے کہ بے نظیر اور نوازشریف کا کردار سیاست سے ختم ہوگیا‘ وہ کبھی واپس نہ آسکیں گے‘ وہ دونوں واپس آگئے بے نظیرختم ہوگئیں لیکن سیاست میں ان کا کردار ختم نہیں ہوا۔ رام چندرجی کو جب ان کی سوتیلی ماں کیکئی کے تریا چلتّرکی وجہ سے بن باس کاٹنا پڑا تو اسی کیکئی کے بیٹے نے ‘جسے ماں تخت وتاج کا وارث بنانا چاہتی تھی بڑے بھائی رام چندرکی کھڑاویں اتروالی تھیں اور کرسی اقتدارپر خودبیٹھنے کے بجائے رام چندرکے جوتے رکھ کر حکومت چلارہاتھا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ کانٹوں بھرے جنگل میں جانے والے بھائی کے جوتے اترواکر اسے پا برہنہ کیوں کیا لیکن ہندوﺅں کی مذہبی تاریخ یہی کہتی ہے۔ اس زمانے میں تصویروں کا رواج نہیں تھا ورنہ تو رام چندرکا سوتیلا بھائی جوتوں کے بجائے تصویر رکھ کرکام چلاتا۔ اب تصویریں عام ہیں۔ اقوام متحدہ میں خطاب کرنا ہوتو بھی پہلے تصویر سامنے رکھی جاتی ہے۔ہمارے موجودہ صدرجناب زرداری کو تو خواب میں ہدایات بھی ملتی رہتی ہیں لیکن ان کے جو اقدامات ہیں انہیں دیکھ کر کوئی بھی یقین نہیں کرے گا کہ یہ محترمہ بے نظیرکی ہدایات ہیں‘ وہ بہرحال ایک سمجھدار خاتون تھیں اور سیاست بھی سیکھ گئی تھیں اس خاردارکی کٹھنائیوں کی وجہ سے انہوں نے اپنے شوہر کو سیاست سے دورہی رکھالیکن تقدیرسے کون لڑسکتاہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ بدترین جمہوریت آمریت سے بہترہوتی ہے۔ درست ہے ‘ ہمیں آمریت سے نجات کے بعد ایسی ہی جمہوریت ملی ہے۔ کسی نے کہابھی ہے کہ مزید 3 سال تک ایسی ہی جمہوریت چلتی رہی تو عوام پرانے کفن چورکی تعریف کرنے پر مجبورہوجائیں گے۔ حبس بڑھ جائے تو لوکی دعاکی جانے لگتی ہے۔ جناب پرویزمشرف نے پوچھا ہے کہ عوام کو ضرورت ہے تو کیا میں واپس آجاﺅں ؟ خداکرے کہ وہ واپس آجائیں‘ ان پر بہت سے قرض واجب ہیں اب تو وہ کسی چیف جسٹس کو طلب کرکے استعفیٰ نہیں مانگ سکیں گے البتہ یہ ممکن ہے کہ چیف جسٹس انہیں خود طلب کرلیں۔
جناب چیف جسٹس جب صدر پرویزکے کیمپ آفس میں جنرلوں کے گھیرے سے باہرآئے تھے تو اس وقت وہ قوم کے ہیروبن چکے تھے۔ اور انہیں فتح کرنے والے خائب وخاسرتھے۔ پھرجو ہوا وہ سب نے دیکھا لیکن نوازشریف کے جانشینوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ایوان صدر میں اب تک پرویز مشرف کی بدروح چکرارہی ہے۔ شہید بی بی بے نظیرکی روح جناب زرداری کو جو مشورے دیتی ہے‘ معلوم ہوتاہے ان پر دھیان نہیں دیاجاتا۔ وہ بھی عدلیہ سے پنگالے بیٹھے اور جلد ہی ثابت ہوگیاکہ اڑنا نہیں جانتے۔ صرف چند دن کی گرما گرمی پیدا کرنے کے بعد آئین کے سامنے سرجھکانا پڑا اور اپنا جاری کردہ حکم نامہ واپس لینا پڑا۔ وزیراعظم نے اسمبلی میں تو خوب گرما گرمی دکھائی لیکن جلد ہی ان پر حقیقت واضح ہوگئی وہ بے چارے بہت دنوں سے فائربریگیڈ کا کام کررہے ہیں۔ وہ جو ایک بی بی پیپلزپارٹی کی سیکریٹری اطلاعات ہیں فوزیہ وہاب ‘ ان کی کچھ نہ پوچھیے ۔ صرف اتنا ہی کہاجاسکتاہے کہ جو بات کی خداکی قسم لاجواب کی۔ دودن پہلے بڑے طمطراق سے فرمارہی تھیں کہ ججوں کے حوالے سے صدرکا نوٹیفکیشن واپس لینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسی ہی کچھ باتیں موصوفہ نے این آر او کے حوالے سے کہی تھیں‘ اب دیکھیے وہ کیا کہتی ہیں لیکن ہمیں اعتراض تو ٹی وی چینلز پر ہے کہ وہ آئین اورقانون جیسے سنجیدہ معاملات میں بھی فوزیہ بی بی کی رائے طلب کرکے انہیں دشواری میں مبتلا کردیتے ہیں۔
چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ایک بارپھر ڈیڑھ منٹ کا فاصلہ طے کیا اور وزیراعظم ہاﺅس جاکرسید صاحب سے ملاقات کی۔ ان دونوں کے درمیان بی بی شہید کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔ شاید کچھ کہہ بھی رہی ہو۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ صدر زرداری کا حکم نامہ منسوخ کردیاگیا اورسوپیازوں وغیرہ کی نوبت آنے سے پہلے معاملہ نمٹ گیا۔ فارسی میں کہتے ہیں کہ :
ہرچہ داناکند‘ کندناداں‘لیک بعد ازخرابی ¿ بسیار
لیکن اردومیں کہتے ہیں کہ نانی نے خصم کیا‘ براکیا۔ کرکے چھوڑ دیا اور براکیا۔ قدم قدم پر وہی ہورہا ہے ۔ بھوربن معاہدے سے لے کر عدلیہ سے نئے پنگے تک۔ آخر یہ حکمران چاہتے کیاہیں۔ کیوں اپنے ہی پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اگر آئین کے مطابق پہلے ہی چیف جسٹس سے مشاورت کرکے فیصلے کیے ہوتے تو نئی شرمندگی کا سامنا تو نہ ہوتا ۔ لیکن لوگ کہتے ہیں کہ حکمرانوں کو اس کی پروا نہیں۔ بچپن کی بات دماغ میں جم گئی ہے کہ جس نے کی بے حیائی‘ اس نے کھائی دودھ ملائی۔ لیکن عوام کے لیے تو چھاچھ بھی نہیں بچا۔
ڈیڑھ منت کا یہ راستہ کئی دن میں طے ہوگیا۔ جب راستے میں کئی یوٹرن ہوں‘ جگہ جگہ اسپیڈ بریکر لگے ہوں تو مختصرسا فاصلہ بھی طویل ہوجاتاہے۔