Archive for اکتوبر, 2010

Articles

کوئی باغیرت مرد اس معاشرے میں نہیں

In میڈیا,پاکستان on اکتوبر 18, 2010 از ابو سعد Tagged: , , , , , , ,

مریم گیلانی روزنامہ مشرق کی معروف کالمسٹ ہیں۔ وہ پاکستان ریلوے کی ریجنل ڈائریکٹر ہیں اور ان دنوں بلاضابطہ بھرتیوں کی مخالفت پر عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے حاجی بلور کی زیر اعتاب ہیں۔ حاجی صاحب ریلوے کے وفاقی وزیر ہیں جو پشاور کے اکثر سنیما ہاوسز کے مالک ہیں اور ٹوٹے چلانے کے لیے مشہور ہیں۔ مریم گیلانی نے سوال کیا ہے کہ کیا کوئی باغیرت مرد اس معاشرے میں نہیں ہے؟ شاید کسی عجائب خانے میں ہو کہ یہ آج کل کوئی غیرت آج کل کے زمانے میں عجیب چیز بن گئی ہے جو’’اپنے گھر‘‘ یعنی عجائب خانے میں ہی ہوسکتی ہے۔
پورا مضمون ملاحظہ کیجیے۔
……………………………………….
کبھی کوئی آواز سنائی دیتی ہےجو کہتی ہے سب کہہ دو‘ کبھی ٹی وی اسکرین پر بےشمار نوجوان لڑکےاور لڑکیاں ہنستےمسکراتے آپس میں باتیں کرتےدکھائی دیتےہیں ‘ کبھی ایک ہی لڑکےکے پیچھےدو لڑکے چلتے چلتےاسےمختلف قسم کےلالچ دےرہےہوتےہیں اور لڑکی انہیں درخوراعتناءنہیں سمجھتی‘ یکایک ایک لڑکا چلّا کر کہتا ہےمیں تم سےدن رات لگاتار بات کروں گا اور بس لڑکی ریجھ جاتی ہے۔ شریف لوگ یہ باتیں آخر کیسےبرداشت کرسکتےہیں اور جہاں تک میں اس قوم کو جانتی ہو یہ شرفاءکی قوم ہے۔ اپنی بچیوں کےحوالےسےہم بڑےہی غیرت مند ثابت ہوئےہیں۔ یہ ٹھیک ہےترقی پسند کہلانےکا جنون اس قوم کو پرو یزمشرف نےبخشا ہےاور موجودہ حکومت بھی اس ترقی پسند کےاظہار میں کچھ نہیں لیکن اس سب سےاس قوم کی آنکھ کی شرم مر نہیں جاتی۔ ہم کتنےبھی ترقی پسند ہوجائیں‘ دنیا کی روایات سےجس قدر بھی کاندھا ملا کر چلنا چاہیں اس کےباوجود اپنی بچیوں کےحوالےسےہمیشہ انہی دقیانوسی خیالات کےمالک رہتےہیں۔ کوئی راہ چلتا لڑکا‘ کسی بچی سےفون پر بات کرنا چاہے‘ کوئی لڑکا اور لڑکی آپس میں ساری رات گفتگو کرنا چاہیں‘ کوئی انجانا شخص ہماری کسی بیٹی کو سب کہہ دینا چاہے‘ یہ باتیں صرف معیوب ہی نہیں ایک باغیرت آدمی کےلیےڈوب مرنےکا مقام ہےکیونکہ ہم اتنےماڈرن کبھی نہیں ہوسکتے۔
کمال کی بات یہ ہےکہ ہمارا میڈیا یہ سب چیزیں دن رات دکھارہا ہےاور کسی کو ان پر کوئی اعتراض نہیں ‘ ہر ٹیلی فون نیٹ ورک صرف یہ دکھا کر اپنی سم بیچنےکی کوشش کررہا ہےکہ اس ایک سم کےخریدنے سےایک لڑکا کتنی آسانی سےکسی بھی لڑکی سےبات کرسکتا ہے۔ کیا ہماری زندگیوں کا بس اب صرف یہی مقصد رہ گیا ہے؟ کیا زندگی میں اس سے بہتر ہدف کوئی اور دکھائی ہی نہیں دیتا کہ کس طور ایک ہاتھ نہ آنےوالی لڑکی کو گفتگو کےجال میں پھنسایا جاسکےاور کیا ہر وہ شخص جو کسی بچی کا باپ ہےیہ برداشت کرسکتا ہےکہ اس کی بیٹی دن رات لگاتار لڑکو ں سےبات کرتی رہے۔ اس معاشرےکی اقدار میں بگاڑ بلاشبہ ہوگا‘ ہم ترقی پسند ہوگئے ہوں گےلیکن اس طرح بیٹیاں موبائل فونوں کےٹھیلوں پر لگا کر لوگوں کےحوالےنہیں کردی جاتیں۔ عورت کی آزادی کےبھی ہم بہت شوقین ہوں گےلیکن اتنی بےمحابہ آزادی کون شریف آدمی برداشت کرےگا؟ یہ ٹیلی فون کمپنیاں عورت کو ایک سودےکی طرح بیچنےکی کوشش کررہی ہیں۔
حیرت مجھےاس بات پر ہےکہ یا تو ہمیں اس بات کا ادراک ہی نہیں اور یا پھر ہمیں اس بات پر اعتراض نہیں کیونکہ ایک صبح جب میں نے ایک نیوز چینل لگانےکےلیےٹی وی کھولا تو اس پر ایک فون کمپنی کا یہ اشتہار آرہا تھا جس میں ایک لڑکےکےپیچھےدو لڑکےلگےہوئےتھے۔ غصےنے یوں طبیعت پر گرفت کی کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کروں۔ کیا اب شرافت کی کوئی بات نہ ہوگی اور وہ بچیاں جو اس معاشرےکے ہر گھر میں موجود ہیں صرف غیرمردوں کے لبھانےکو ہی رہ گئی ہیں۔
یہ دور ماڈرن دور ہے لڑکا اور لڑکی کےبات کرنےمیں معیوب بات نہیں سمجھے جاتی لیکن کیا ہم اتنےبےغیرت ہوگئےہیں کہ میڈیا سرعام یہ پیغام نشر کرتا ہےکہ لڑکیوں کےلیے وہ لڑکےپسندیدہ ہونےچاہئیں جو ان سےدن رات بات کریں۔ تو پھر ماں باپ کی ضرورت ہی کیا ہے۔ عورت کا عورت کہلایا جانا ہی کیا ضروری ہےکیونکہ مستور کےمعنی تو ڈھکےہوئےہونےکےہیں۔ یہ وقت اور یہ ترقی تو عورت کےآسکار ہوجانےکی دعوت دےرہی ہےاور اگر ہم خاموش ہیں تو دراصل کہیں نہ کہیں اس سب کےلیےآمادگی ہمارےدلوں میں گھر کرچکی ہی۔ اب عورت نہیں ہےکیک پیسٹری ہوگئی اور بیکری میں داخل ہونےوالا ہر شخص اسےللچائی ہوئی نظروں سےدیکھ رہا ہے۔ آج ان فون کمپنیوں کا اسےمشورہ یہ ہےکہ ہر للچائی ہوئی نظر اور رال ٹپکاتےفقرےکےجواب میں اسےاترانا چاہیےخود پر ناز محسوس ہونا چاہیے۔ یہ اسےسکھارہےہیں کہ کون کون سی ادائیں کیسےدکھائی جاسکتی ہیں تاکہ تماش بینوں کےلیےمنظر دلفریب ہوسکےاور موبائل فون کی سمیں زیادہ سےزیادہ بک سکیں۔ کیا ہم واقعی بےغیرتی کی اس حد تک پہنچ چکےہیں جہاں ایسی باتوں نےاثر کرنا بند کردیا ہےیا ہم روٹی‘ کپڑا اور مکان میں ایسےالجھ گئےہیں کہ عزت اور غیرت جیسی کیفیات اپنےہی پیروں تلےروندی گئی ہیں۔ کیا ہمارےآنگنوں میں پلتی بچیاں اتنی سستی اور اتنی بےوقعت ہیں کہ ایک سو روپےکی سم بیچنےکےلیےانہیں شکار بنا کر دکھایا جائے۔ آنکھوں کی شرم و حیات کی بات تو چھوڑیے یہ لڑکےبھی کیا لڑکےہیں جو ان اشتہاروں میں دکھائےجاتےہیں جن کےرویوں میں کوئی وقار نہیں اور لہجوں میں کسی عورت کا احترام نہیں۔ وہ غیرت کی بات کیا کریں گے اپنی بہنوں کی عزتوں کےکیا ضامن ہوں گےجو دن رات دوسری لڑکیوں کو صرف حاصل کرنےکی چیز سمجھ کر پیچھا کریں گے۔
اس معاشرےمیں عورت کا کیا مقام ہونا چاہیے‘ کیسا احترام اس کی ذات سےوابستہ کیا جانا چاہیے کہ یہ ایک اسلامی معاشرہ ہےیہ باتیں تو اب پرانی ہوگئیں شاید ہم بھول گئےہیں لیکن کیا انسان ہونا بھی بھول گئےہیں آپس کا احترام اور حدیں بھی بھول گئےہیں؟ اگر عورت خود اپنا تحفظ کرسکنےسے قاصر ہوگئی ہےتو کیا ایسا کوئی باغیرت مرد اس معاشرے میں نہیں جو کم از کم یہ اعتراض ہی اٹھاسکے کہ اس طور کےاشتہارات بند کیےجائیں جو اسےایسا کم حیثیت ثابت کرتےہوں۔ اور سوچنا تو یہ بھی ہےکہ عورت کی آزادی کےاس دور میں آخر عورتوں کو یہ اعتراض کیوں نہیں کہ انہیں انسان دکھانےکےبجائےخاصےکی ایک چیز بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ ان ٹیلی فون کمپنیوں پر تو مقدمہ ہونا چاہیےکیا پیمرا میں کوئی باضمیر شخص موجود نہیں۔آخر کس قسم کی سنسر شپ پالیسی ہےجو ایسی بےغیرتی کو کروڑوں لوگوں کی بصارتوں تک پہنچنےسےروک نہیں سکتی۔ ٹیلی فون کمپنیوں کا ہی محاسبہ کیا جانا چاہیےجنہیں اقدار کی شائستگی کا تو علم نہیں اور پامالی کو انہوں نےتفاخر بنالیا ہے۔ لیکن بات پھر بھی وہی ہے۔ وہ کہتےہیں سب کہہ دو کیونکہ ہم اور آپ کچھ نہیں کہتے۔

Articles

اے این پی والے سیلاب زدگان کے پیسے کھا گئے‘ خود اے این پی کا اپنے اوپر الزام

In پاکستان on اکتوبر 9, 2010 از ابو سعد Tagged: , , , , , , , , , ,

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی المعروف ایزی لوڈ والے بابا کے شہر مردان سے ان کی اپنی پارٹی کے ممبر قومی اسمبلی نوابزادہ محمد خان ہوتی نے انکشاف کیا ہے کہ اے این پی کی حکومت سیلاب زدگان کے لیے جمع شدہ اربوں روپے کا بڑا حصہ خود ہڑپ کرگئی ہے اور باقی کھانے میں مصروف ہے۔ میرے لیے یہ خبر باعث تعجب نہیں بہر حال گھر کی گواہی اہم ضرور ہے۔ اے این پی کا اگر اس کی پاکستان دشمنی اور بھارت و روس دوستی کے علاوہ کوئی حوالہ تھا تو وہ کفن چور اور آٹا چور پارٹی کا تھا۔ اس کی حکومت میں خیبر پختونخوا کے عوام آٹے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اب سیلاب زدگان کے لیے جمع ہونے والی امدادی رقوم بھی یہ کھاگئے۔
 
 
 

امیر حیدر خان کے پی اے کا نام رسول شاہ سے وصول شاہ صرف اس لیے پڑ گیا ہے کیوں کہ وہ وزیر اعلیٰ کے لیے وصولی کرتا ہے۔ مردان شہر کے رکشوں کے پیچھے ’’ باباته ايزي لوډ اوکه‘‘( بابا کو ایزی لوڈ کردو) اور حکومت کی طرف سے جبری طور پر اُسے ہٹانے کے بعد ’’بابا په خفه کيږي”(بابا اس سے ناراض ہوتے ہیں) سب نے لکھا ہوا دیکھا۔ لیکن سیلاب زدگان کے لیے جمع رقوم کو دونوں ہاتھوں سے کھانا بہت ہی زیادہ بے ہودہ بات ہے، یہ الگ بات ہے کہ بے ہودہ کیا ہوتا ہے یہ ان کو نہیں پتہ۔

 

نوابزادہ صاحب نے یہ بھی بتایا کہ پٹواریوں کو جعلی وطن کارڈ لسٹوں کی تیاری میں لگا دیا گیا ہے ۔ اے این پی کے رہنما وطن کارڈ کے ذریعے اپنی جیبیں بھرنے کا پلان بناچکے ہیں۔

Articles

خواہ مخواہ –میرا پشتو بلاگ

In پاکستان on اکتوبر 7, 2010 از ابو سعد Tagged: , , , , ,

میرا انگریزی سے اردو بلاگستان کی طرف سفر بڑا خوشگوار رہا۔ اگرچہ اس کا تھوڑا بہت اثر انگریزی بلاگ پر پڑھا اور میں اسے مناسب وقت نہ دے سکا لیکن میں نے دونوں کو جاری رکھا۔ حال ہی میں میں نے آج ٹی کے بلاگ کے لیے لکھنا شروع کردیا ہے ‘ اور میرا پہلا پوسٹ بھائی سے متعلق ہے۔
انگریزی اور اردو کے علاوہ اب آپ ميرا پشتو بلاگ ’’خواہ مخواہ‘‘ بھی وِزٹ کرسکتے ہیں۔ یہاں خواہ مخواہ لازمی کے معنوں میں ہے اور اس بلاگ پر یہ لازم ہے کہ اخوا( ادھر) دیخوا ( ادھر) کی خبریں اور ان پر تبصرے پشتو سمجھنے والے قارئین تک پہنچائے۔
 یہاں یہ بتاتا چلوں کہ پشتو بلاگزکی تعداداگرچہ اتنی زیادہ نہیں ہے لیکن پشتو ویب پیجز اور بلاگز اردو بلاگزسے زیادہ موثر ہیں۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ میرے ایک دوست پشتو کے بلاگ کو ایڈیٹ کرتے ہیں افغان صدارتی الیکشن سے ایک سال قبل ان کو پیشکش ہوئی کہ وہ حامد کرزئی کے بارے میں صدارتی انتخاب تک مضامین شائع نہ کریں، اس کے بدلے ان کو 1000امریکی ڈالرز ماہانہ دیے جائیں گے۔ اس سے آپ اندازہ لگ اسکتے ہیں کہ ان کا کتنا اثر ہوگا۔ ویسے پشتو بلاگستان پر موجود اکثر بلاگرز سرخ انقلاب کی تحریک کی پیداوار ہیں۔