Archive for اپریل, 2010

Articles

کس کی خبر پر نظر ہے؟

In پاکستان on اپریل 19, 2010 از ابو سعد Tagged:

روز اخبارات کے صفحات پر کئی بڑی باتیں چھوٹی خبروں کی صورت میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ترجیحات کے علاوہ نیوز ایڈیٹرز کی کوتاہ بینی بھی اس کا سبب ہوسکتی ہے۔ پاکستانی میڈیا کے نیوز رومز میں بیٹھے افراد کے ساتھ ایک نشست میں اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ترجیحات اور کوتاہ بینی میں سے کون سا عنصر غالب ہوگا۔

معروف نیوکونز ڈینیل پائپس کے خیال میں وہ زمانہ گیا جب جنگوں کے فیصلے میدانِ جنگ میں موجود سپہ سالار کیا کرتے تھے۔ اب نیوز رومز میں بیٹھے افراد ہی دراصل شہسوار ہیں جن کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔ یہ بات امریکی اخبارات میں بیٹھے خبر سازوں پر تو صادق آتی ہے لیکن پاکستانی نیوز ایڈیٹرز صرف ابلاغی مزدور معلوم ہوتے ہےں جو خبر سازی کے فن کے تو ماہر ہےں لیکن خبر کے اندر کی خبر‘ اور مواد میں خبریت کے ادراک سے عاری۔ وہ دیہاڑی مار ہیں جوکسی کے لکھے ہوئے اسکرپٹ میں خاکے بھرتے ہیں۔ یہ تو اکثریت کا حال ہے۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو ادراک رکھتے ہیں لیکن اس ادراک کی ڈالروں میں قیمت وصول کرلیتے ہیں۔
خبر کے اندر کی خبر کو تلاش کرنے کے دعویداروں اور ہر خبر پر نظر رکھنے والوں سے ابلاغ عامہ کا یہ طالب علم سوال کرتا ہے کہ اندر کی خبر کیا ہے، اور کس کی خبر پر اُن کی نظر ہے؟ اس بات کا جواب صحافت کو انڈسٹری کا درجہ دے کر خبر کا کاروبار کرنے والے تو شاید نہ دے سکیں لیکن کسی ٹی وی چینل کے دن بھر کے نیوز بلیٹن اور اخبارات کا تنقیدی مطالعہ بلاشبہ اس سوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔ خبریت کا پیمانہ‘ اہم اور غیر اہم کی چھان پھٹک‘ سرخی اور مناسب جگہ کا انتخاب…. یہ سب معلومات کو درست خبر میں تبدیل کرنے کے عمل کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ بڑی خبر کا چھوٹا بن جانا اور چھوٹی خبر کو بڑا بناکر پیش کرنا یا تو شعوری طور پرکیا جاتا ہے یا پھر لاشعوری! اس لیے یہ تعین بھی مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ حرکت کسی کی نیت کا فتور ہے یا پھر نااہلی کا نتیجہ! لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا میں صرف یہی ہوتا ہے؟ صرف بڑی خبریں چھوٹی بن جاتی ہےں؟ جی نہیں! یہاں کچھ مثالیں ایسی موجود ہیں جن کو دیکھتے ہوئے اس بدگمانی کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ یہ نااہلی کا نتیجہ نہیں بلکہ شعوری کوشش ہے۔
اپریل2009ءکو سوات کے علاقے کبل میں ایک نوعمر لڑکی کو سرعام کوڑے مارنے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ طالبان کے حُلیے میں ایک شخص لڑکی کی پشت پر کوڑے برسا رہا ہے جبکہ ایک شخص نے اس کے پیروں اور دوسرے نے جسم کے اوپر کے حصے کو دبوچا ہوا ہے۔ اس موقع پر درجنوں افراد دائرے میں کھڑے اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔ لڑکی چیختی چلاّتی پشتو میں فریاد کرتی ہے کہ ”میرے باپ کی توبہ ، میرے دادا کی توبہ آئندہ ایسا نہیں کروں گی‘ خدا کے لیے کچھ رحم کرو“۔

اس ویڈیو کے آتے ہی ٹی وی چینلز پر چلنے والی خبریں، خبریں نہیں رہیں۔ ان خبروں کی معنویت اور خبریت یکایک ختم ہوگئی۔ اب صرف ایک خبر رہ گئی‘ سوات میں کوڑے مارنے کی ویڈیو۔ دینی نظام کے قیام کی دعویدار ”تحریک طالبان سوات“ نے سوات میں لڑکی پر کوڑے برسائے‘ ظلم کی انتہاءہوگئی۔ مذہب کے نام پر نظام آیا تو درندگی کے یہی مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ کوڑے مارنے کی وحشیانہ سزا اور وہ بھی کئی مردوں کے سامنے بیچ سڑک پر…. یہ ہے اسلام کا نظام عدل! کیا اسلامی نظام کے نفاذ کے بعد خواتین کو کوڑے مارے جائیں گے؟ کیا سوات میں اسلامی نظام عدل کے نفاذ کے بعد وحشت و دہشت کے مناظر دیکھنے کو ملیں گے؟ یہ سوالات اتنی دفعہ کیے گئے کہ جیسے اصل مسائل کی جڑ ہی اسلامی نظام عدل تھا جو ابھی نافذ بھی نہیں ہوا تھا۔ ٹی وی چینلز اور اخبارات ہی کیا…. یہ اتنا بڑا واقعہ تھا کہ صرف ایک دن بعد ہی سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس کا ازخود نوٹس لیا۔ اور پھر لندن کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ سے لے کر رائیونڈ تک اور بلاول ہاﺅس سے ولی باغ تک ہر جگہ سے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نیوز رومز کو فیکس موصول ہونا شروع ہوگئے۔
تاہم ایک سال بعد یہ ویڈیو جعلی نکلی۔ اداکاری کرنے والے گرفتار اور بنانے والی ثمر من اللہ جو چیف جسٹس کی معزولی کے وقت ان کے ترجمان اطہر من اللہ کی بہن ہے‘ امریکا فرار ہوگئی۔ ایک ویڈیو جس کی تصدیق کرنا مشکل تھا، بڑی خبر بنی۔ لیکن وہ ثبوتوں کے ساتھ جعلی نکلی تو خبر نہیں۔ یہاں پھر وہی سوال اٹھتا ہے کہ ہمارے میڈیا کی نظر کس کی خبر پر ہے؟ اور خبر کے اندر کی کیا خبر ہے؟ مقام افسوس تو یہ ہے کہ اس کا ’نوٹس‘ بھی نہیں لیا گیا۔ شاید اس لیے کہ میڈیا نے اسے جعلی قرار نہیں دیا؟
عراق کے مضافاتی علاقے میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹروں کی نہتے مسلمان شہریوں پر فائرنگ کی ویڈیو منظرعام پر آئی تو یہ خبر بھی پاکستانی میڈیا کے لیے خبر نہ بن سکی۔ سوات ویڈیو کے جعلی ثابت ہونے کی خبر نہ چلانے کی طرح یہاں بھی جان بوجھ کر اس کو خبر نہیں بنایا گیا کہ اس سے ان کے خیال میں مسلم دنیا کے بچوں میں”پھول“ تقسیم کرنے والے امریکا کے خلاف منفی جذبات جنم لیں گے۔
انتہا تو یہ کہ امریکا کے بارے میں رائے عامہ کو بہتر بنانے کے لیے ”امریکی آواز“ پاکستانی ٹی وی اور ایف ایم چینلز سے سنوائی جاتی ہے لیکن امریکا پاکستانی آواز کو سننے پر تیار نہیں ہے۔ اس وقت دو نجی مگر موثر ٹی وی چینلز پر امریکی سرکاری نشریاتی ادارے ”وائس آف امریکا“ کا اردو پروگرام نشر کرکے پاکستانیوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ سرکاری ریڈیو پر اس کا پروگرام ڈیوہ احتجاج کے بعد بند کردیا گیا لیکن ہر کسی پر تنقید کو اپنا حق سمجھنے والے نجی چینلز اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کو ’کنسپریسی تھیورسٹ‘ قرار دے کر ان کے احتجاج کو نظرانداز کرکے گمراہ کن پروپیگنڈے کے تشہیر کار بند رہے ہیں۔ ایک طرف یہ گمراہ کن پروپیگنڈہ چل رہا ہے تو دوسری طرف بڑی بڑی خبروں کو ’ڈسٹ بِن‘ کی نذر کیا جارہا ہے اور پھر دعویٰ یہ کہ میڈیا آزاد ہے۔ ہاں آزاد ہے مگر اہلِ پاکستان کو گمراہ کرنے کے لیے‘ یک طرفہ موقف پیش کرنے کے لیے۔ ہر خبر پر نظر رکھنے والوں کو جب ایسی کوئی خبر نظر آتی ہے تو ان کی نظر خبر پر پڑنے کے فوراً بعد ’ڈسٹ بِن‘ پر پڑجاتی ہے۔
دلچسپ خبر یہ آئی ہے کہ پاکستان کے ایک ابلاغی گروپ نے نیو یارک ٹائمز کے گلوبل ایڈیشن ’انٹرنیشنل ہیرالڈٹریبیون‘ کے اشتراک سے ”دی ایکسپریس ٹریبیون“ کا اجراءکردیا ہے جو اس گروپ کے اخبار کے 13اپریل کے ادارتی نوٹ کے مطابق ”صرف انگریزی زبان کا ایک اخبار نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔“ یہ مشن کیاہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے اخبار آگے لکھتا ہے: ”یہ روشن خیالی‘ خرد افروزی اور جمہوری اقدار کی حمایت کا مشن ہے۔ ہم قانون کی حکمرانی کے لیے وقف ہیں‘ ہماری ٹیم کا یہ صحافتی عہد ہے کہ ان کے قلم اور صلاحیتیں غربت‘ استحصال‘ انتہا پسندی‘ کٹھ ملائیت‘ عدم رواداری اور دہشت گردی کے خاتمے کی جدوجہد کے لیے وقف ہوں گی۔“
اخبار مزید لکھتا ہے ”اس (ایکسپریس ٹریبیون) کی ادارتی ٹیم وسیع النظر‘ جہاندیدہ‘ تجربہ کار‘ ذہین اور قومی جذبے سے سرشار سینئر صحافیوں پر مشتمل ہے جن کی کوشش ہوگی کہ سیاست‘ معیشت‘ سماج‘ خارجہ پالیسی‘ سرمایہ کاری‘ کھیل اور فنون لطیفہ میں لبرل‘ روشن خیال‘ آزادانہ‘ فکر انگیز اور جامع پریز نٹیشن کے ساتھ رپورٹیں شائع ہوں۔“
لبرل ازم کیا ہے اور رپورٹیں لبرل کیسی ہوں گی اس پر بحث آگے…. پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ادارتی نوٹ مزید کیا بتاتا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان میںایک ’اقلیتی مائنڈسیٹ‘ کی کارروائیوں کے باعث منافرت‘ تعصب‘ دہشت گردی‘ مذہبی انتہاپسندی اور تشدد کو فروغ ملا ہے، اس کے علاوہ بیروزگاری اور مہنگائی کے مسائل ہیں۔ اور ان سب مسائل کا حل وہ یہ بتاتا ہے: ”ایکسپریس ٹریبیون کا اپنے قارئین سے یہ عہد ہے کہ وہ انتہا پسندی کے خاتمے اور معیشت کو استحکام دینے کے لیے ملک کے70فی صد نوجوانوں کی صلاحیتیوں کو بروئے کار لانے کے لیے آزادانہ اور ترقی پسندانہ خیالات کے فروغ میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا۔“
اخبار کے شذرہ نے ”مذہبی انتہا پسندی“ کو بے روزگاری‘ تعصب اور منافرت سمیت پاکستان کی ہر بیماری کی جڑ قرار دیا اور اس کی اصلاح کے لیے ”آزادانہ اور ترقی پسندانہ“ خیالات کو تریاق ٹھیرایا جیسے کہ پاکستان کی سب سے بڑی بیماری بدعنوانی‘ اقربا پروری‘ پولیس اور ریاستی اداروں کے تشدد کے ذمہ دار مذہبی رجحان رکھنے والے لوگ ہوں۔ کسی ذہین اور محب وطن کے لکھے اس ادارتی نوٹ سے بجا طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا جانا چاہیے کہ آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے دیگر بدعنوان رہنما اور امریکی چوکھٹ پر سجدہ ریز میاں نوازشریف‘ جعلی لائسنس جاری کرنے والے بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران‘ گاڑی کے ٹائروں پر سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے خرچ کرنے والی میڈم اسپیکر‘ ریلوے کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے والے غلام احمد بلور‘ خون میں لت پت دہشت گردی کے شکار سرحد کے عوام سے ”ایزی لوڈ“ کروانے والے حیدرہوتی‘ بجلی چور‘ اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے بینکوں کے قرض خور سیاستدان سب کے سب جمعہ کو مساجد میں خطبہ دیا کرتے ہیں؟
اداریہ لبرل ازم اورآزادانہ خیالات کی بات کرتا ہے جو یقیناً اس کے شراکت دار نیویارک ٹائمز کے مقاصد میں بھی شامل ہے۔ یہ نیویارک ٹائمز کی لبرل رپورٹنگ ہی تو تھی کہ ’عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار پائے جاتے ہیں‘۔ اور کیا اس نے غلط کہا تھا؟ بعد میں تلف کیے جانے والے ہتھیار وہ لاکھوں معصوم بچے بڑے ہوکر تباہی تو پھیلا سکتے تھے؟ امریکا مسلمانوں کے بچوں کو ہی تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار سمجھتا ہے۔
امریکا دراصل مسلمانوں کی نسل کشی کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ عراق‘ فلسطین‘ چیچنیا‘ افغانستان اور پاکستان…. سب جگہ مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ خون بہانے والا امریکا ہے۔ کہیں وہ خود مار رہا ہے، کہیں مسلمانوں سے مسلمانوں کو مروا رہا ہے۔ مارنے والوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ پاکستانی میڈیا ”لبرل ازم“ اور ”آزادانہ خیالات“ پر مبنی رپورٹنگ کرتا ہے، جہاں اس خبر کی جگہ نہیں بنتی جس کے مطابق ”خیبر ایجنسی کے علاقہ تیراہ میں پاک فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے71 بے گناہ مسلمان تھے۔ ان کا ’دہشت گردوں‘ سے کوئی کام تھا نہ ہی انتہا پسندی سے کوئی تعلق۔ تعلق تھا تو فوج اور ایف سی سے۔ اکثر شہدا کے بچے فوج اور ایف سی کے ملازم ہیں۔ “
ہفتہ کی صبح خیبر ایجنسی میں پاکستانی جیٹ طیاروں کی اندھادھند بمباری سے71 افراد کی ہلاکت کے بارے میں تصدیق ہوگئی ہے کہ وہ پرامن شہری تھے اور ان کا کوئی تعلق مبینہ دہشت گردوں یا انتہا پسندوں سے نہیں تھا۔ حکومت نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے شہداءکے ورثاءکو ایک لاکھ 25ہزار ڈالرکے برابر معاوضہ دیا ہے جس سے ثابت ہوگیا ہے کہ مرنے والے بے گناہ تھے۔ تاہم فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہرعباس نے پیر کو بھی اصرار کیا ہے کہ پاک فضائیہ کے حملے میں کوئی شہری نہیں مارا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کے پاس پکی اطلاعات تھیں کہ عسکریت پسند اس مقام پر جمع ہورہے ہیں جہاں حملہ کیا گیا ہے۔ تاہم خیبر ایجنسی اے پی کے مطابق فوج ہمیشہ یہی دعویٰ کرتی ہے کہ حملوں میں کوئی بھی شہری نہیں مارا گیا۔ ہفتہ کی صبح کو اس حملے میں زخمی ہونے والے 2افراد نے پشاور کے اسپتال میں بتایا کہ پہلا حملہ علاقے کے ایک بزرگ کے گھر پر ہوا، اور جب مقامی لوگ مدد کودوڑے تو دوسر احملہ کردیا گیا۔ علاقہ کے شہری گل خان نے بتایا کہ گاﺅں سراوالا کے لوگوں کا کوئی تعلق عسکریت پسندوں سے نہیں ہے اور بیشتر گھروں کے نوجوان سیکورٹی فورسز میں کام کررہے ہیں‘ سب سے پہلے حامد خان کے گھر پر بمباری کی گئی جس کے 2لڑکے پیرا ملٹری فرنٹیر کور میں کام کررہے تھے‘ پولیٹیکل افسر نے تصدیق کی ہے کہ شہید ہونے والے 71افراد کے خاندانوں کو معاوضہ ادا کردیا گیا ہے۔ ایک زخمی ولی باز خان نے بتایا کہ جب پہلا حملہ ہوا تو ہم مدد کو دوڑے اور ایک زخمی عورت کو سب نکال رہے تھے کہ پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے دوسرا حملہ کردیا۔ اس نے بتایا کہ پیر کو خیبر پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک افسر نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس آکر اسے اس کے 4رشتہ داروں کی ہلاکت کا معاوضہ 220 ڈالر پیش کیا ہے۔ افسران نے اس سانحہ پر معذرت بھی کی، ہلاک ہونے والوں میں میرا بھائی بھی تھا۔ اپریل کے مہینے میں اب تک پاک فوج کی طرف سے 273 پاکستانی ہلاک کیے جاچکے ہیں‘اب تک ہزاروں پاکستانیوں کو مارا جاچکا ہے‘ لیکن کہا جاتا ہے اور فوج کے ترجمان بضد ہےں کہ مارے جانے والے انسان نہیں‘ معاف کیجیے بے گناہ نہیں بلکہ سب کے سب دہشت گرد تھے۔ جی ہاں سب دہشت گرد تھے کیوں کہ میڈیا نے کہہ دیا کہ وہ دہشت گرد تھے۔ قتل ہونے والوں کا بے گناہ ثابت ہونا ہمارے میڈیا کے نزدیک خبر نہیں ہے، اور ہر وہ خبر‘ خبر ہے جسے پاکستانی میڈیا خبر کہتا ہے۔ اس کا نوٹس بھی لیا جاتا ہے۔ لیکن میڈیا کے قاری اور ناظر دونوںکو اب اس بات کا ادراک ہوجانا چاہیے کہ ہمارے میڈیا کی کس خبر پر نظر ہے۔
یہ مضمون جسارت کے سنڈے میگزین میں شائع ہوا ہے ۔ گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں۔
Advertisements

Articles

سوات کی ویڈیو کوجعلی ثابت کرنے کے10دلائل

In دہشت گردی,سوات on اپریل 16, 2010 از ابو سعد Tagged: , , , ,

ڈاکٹرعامرلیاقت حسین
ڈھٹائی پر اَڑ جانا،جھوٹ پر ڈٹ جانااور حقائق مسخ کر کے اِترانا،چَلِتَّر بازوں کا پُرانا چلن رہا ہے …مجھے قطعاً حیرت نہیں ہوئی جب ”عالم آن لائن“ کے خصوصی پروگرام کے بعد ”جانگلوؤں“ کے ٹکڑوں پر پلنے والے تنک مزاج یکایک چَرچَرانے لگے…گویاکوڑے مارے جانے کی جعلی ویڈیو تووہ خارِ مغیلاں ثابت ہو ئی کہ بنانے اور دکھانے والے دونوں ہی کذب و ریا کی خارش کے سبب”راڑ“ مچا رہے ہیں…ویڈیو کے اَسرار کھلنے کے بعد بھی اِصرار ہے کہ یہ ”اصلی پری کادھاگا “ ہے …ایک ایک اداکار بے نقاب ہوکر بھی ”روشن خیالی کے نقاب“ میں چہرہ چھپائے بضد ہے کہ اُس کی محنت کا ”ثمر“رائیگاں نہ جائے…اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کس قدر جی جاں سے کوشش کی گئی تھی، زمین پر ایک ”چاند“ تراش کے اُسے ایک لاکھ روپے کے عوض”مظلوم بی بی “ بنایا گیا ، پھر پچاس پچاس ہزار روپے دے کر کنڈل جیسی ذلفوں والے طالبان سے اُسے پکڑوا کر اُلٹا لٹایا گیااور پھر کوڑے کی شڑاپ شڑاپ میں ایک دقیق منظر کو چند ہی دقائق میں کچھ اِس طرح محفوظ کیاگیاکہ جسے صرف رقیق القلب ”محسوس“ کرسکیں…پشاور کی ایک حویلی کے احاطے میں ”متعددایکسٹراز“ اور ”۴ مرکزی کرداروں“ کے ساتھ فلمائی گئی ”انتہائی مختصر دورانیے“ کی اِس غیر واضح ویڈیو فلم نے وہ کام کر دکھایاجو طویل دورانیے تک صدر رہنے والے مشرف بھی نہ کرپائے۔…

گو کہ ایک این جی او کی ”گوپیاں“ تو اپنا کھیل ، کھیل گئیں تھیں مگر ”راجا نل پر بپتا پڑی، بُھونی مچھلی جَل میں پڑی“ کے مصداق، بُرے دِن آئیں تو ہر کام میں نقصان ہوتا ہے…کم بخت سارے اداکار پکڑے گئے اور جو کچھ نگلا تھا سب اُگل دیا…اب تو بھیّا اُفتاد آن پڑی،سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کے لیے عالمی و داخلی کذابوں کو زعفران کے کھیت میں راست گفتاری کے ایسے ایسے جوہر دکھانے پڑے کہ ثانیہ بھی لوٹ پوٹ ہوکرشعیب سے کہہ بیٹھیں”اے میرے سانوریا! تُوجھوٹ بولنا اِن ہی سے سیکھ لیتا“…ایک ہی جست میں ایسی چوکڑیاں، قلابازیاں اور کودپھاند کے مظاہرے کیے جارہے ہیں کہ تاریخ کے بدنام کاذبین کی قبور کروٹوں کے شور سے گونج رہی ہیں …بہتر تھا کہ غلطی مان کر ایک نئی ابتدا کی جاتی،ازالے کے چراغ سے مایوسی کے سیاہ غار کو روشن کیا جاتا اور توبہ کی کرنوں سے ساون کے تمام اندھوں کی آنکھوں کا کامیاب آپریشن کیا جاتامگرجو کچھ ہوا برعکس ہوا…خطا تھی ہی نہیں تو مانی کیوں جاتی؟ایجنڈے پر عمل کرنا لغزش نہیں،منصوبوں کو عملی جامہ پہناناگناہ نہیں اور مقاصد کے حصول کے لیے اختراعات کے مَعبَد میں سازشوں کی پرستش کرناآوازِ سگاں نہیں…بس چہرے صاف ستھرے رہیں، کیونکہ اِن پر لوگوں کی نظر ہے حالانکہ ضرورت تو دل کی گندگیاں صاف کرنے کی تھی، کیونکہ اُس پر خدا کی نظر ہے …بہر کیف…اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ دنیا تو اُسے بھی دیتا ہے جسے پسند نہیں کرتا مگر دین صرف اُسے ہی دیتا ہے جسے پسند کرتا ہے …تو پھر کیجیے دین کے ساتھ استہزا اور اِس جعلی ویڈیو کی آڑ میں اُڑائیے اسلامی سزاؤں کا مذاق، جی بھر کے تمسخر کیجیے(معاذ اللہ) آیاتِ ربانی سے اور بھریے اپنی آخری آرام گاہ کو اُن انگاروں سے جو کفن نہیں، روح جلاتے ہیں…یہ ویڈیو تو ”بندر کا پھوڑا“ ہے جو کبھی اچھا نہیں ہوگا، پاپ کی یہ ناؤ، آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پَرسوں ضرور ڈوبے گی …مجھے ضرورت تو نہیں تھی کہ میں اِس ویڈیو کے جعلی ہونے کے دلائل پیش کرتامگرکچھ ”اعلیٰ نسلی“ اِس کے اصلی”ثمرات“ سے آگاہ ہیں اِسی لیے چراغ پا ہیں کہ کس گستاخ نے اِسے نقلی ثابت کرنے کی جرأت کی ؟ایک پُرہول ماحول خراش کر دن بھر کی پُرگوئی کو وہ یونہی توضائع نہیں ہونے دیں گے اور جھوٹ کی آخری سسکی تک اِسے سچ بنانے کے لیے لڑیں گے

مجھے یقین ہے کہ میرے پیش کردہ دلائل کے بعد کئی پھاپھا کٹنیاں مجھے پھاڑ کھانے دوڑیں گی ،ویسے بھی یہ ایک چو مُکھی لڑائی ہے لیکن لڑنا بھی ضروری ہے ورنہ تو ان کی ریا کے کثیف بھبھکے صداقت کے درپن کو دھندلا کردیں گے

جھوٹ کیوں بولیں فروغِ مصلحت کے نام پر
زندگی پیاری سہی لیکن ہمیں مرنا تو ہے

لیجیے جناب اِس ویڈیو کے جعلی ہونے کی سب سے پہلی دلیل تو یہی ہے کہ جناب عبدالرحمن ملک صاحب نے فرمایا ہے کہ یہ اصلی ہے… آج کے پاکستان کا قاعدہ یہی ہے کہ کسی بھی شے کی ضد جاننے کے لیے ”گفتارِ ملک“ سے استفادہ کیا جائے…مثلاً وہ فرمائیں دن، تو سمجھ لیجیے رات ہے ، وہ کہیں کہ ٹارگٹ کلنگ رُک گئی ہے تو یقین رکھیے کہ کسی بھی وقت شروع ہوا چاہتی ہے اور اگر وہ کہہ دیں کہ خود کش حملے ختم ہوگئے ہیں تو ڈریے کہ کون کس وقت کہاں پھٹ جائے…

دوسری دلیل، موبائل کیمرے کے نحیف و نزار مائیکروفون سے کیچ کی ہوئی وہ دردناک چیخیں ہیں جن کی کوالٹی اتنی صاف اور واضح ہے کہ اب سیاسی جلسوں میں بڑے بڑے لاؤڈ اسپیکر لگانے کے بجائے اِن”منفرد طالبانی موبائل فونز “پر تجربے کیے جارہے ہیں،اِتنے سے قد پہ آواز کا بوجھ سنبھالنے میں اِنہیں زبردست ملکہ حاصل ہے چنانچہ آئندہ سیاسی ریلیوں اور عوامی اجتماعات میں قائدین اِسی موبائل کے مائیک کے ذریعے خطاب کیا کریں گے ،اب ظاہر ہے کہ جو موبائل بنا کسی بھنبھناہٹ کے مظلومہ کی چیخ سنوا سکتا ہے وہ کسی رہنما کی پکارعوام تک نہ پہنچائے یہ ممکن ہی نہیں

تیسری دلیل ”استقامتِ آہ و بکا“ ہے ، آواز میں کیاغضب کا جوار بھاٹا ہے کہ ایک سیکنڈ آگے پیچھے نہیں ہوتی،جتنی بلند، اِتنی ہی پست، کہیں جہری، کہیں سِرّی گویاکسی صوتی گراف کے عین مطابق بھرپور ٹائمنگ کے ساتھ چاند بی بی کے اِس رونے میں تکنیکی ہاتھ دھوئے گئے ہیں…

چوتھی دلیل چاند بی بی کے پاؤں پکڑنے والے ”طالب“ کا حکم کے طالب کی طرح بار بار کیمرے کی جانب دیکھنا ہے کہ کب ڈائریکٹر صاحب یا صاحبہ ”کٹ“ کہیں اور وہ خاتون کے پاؤں چھوڑ دے تاکہ روانگی کا سین عکس بند کیا جاسکے۔

پانچویں دلیل کیمرے کا ’’اسٹیبلشڈ شاٹ‘‘ پر قائم رہنا ہے ، مجال ہے جو کیمرہ چار کرداروں کے ”ماسٹرشاٹ“ سے ہٹ جائے ،اردگرد کے ماحول اور لوگوں کے تاثرات کی فلم بندی”ممنوع“ تھی ، جتنی جگہ کا کرایہ دیاگیا تھا، دیانت داری سے صرف اُسی مقام کو کیمرے میں محفوظ کیاگیا…

چھٹی دلیل کوڑے مکمل ہوتے ہی ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر ہائی ہیل والی چاند بی بی کا پیشہ وارانہ انداز میں اُٹھ کر کھڑے ہوجانا اور فوراً ہی متعین کونے کی جانب رخ کرلینا ہے ، البتہ چیخوں کی ڈبنگ شاید’’پروجیکٹ‘‘ میں پڑی رہ گئی اور ساؤنڈ فائل بند نہیں ہوسکی اِسی لیے چاند بی بی جاتے جاتے بھی اُسی طرح چیختی رہیں جس طرح کوڑے کھاتے ہوئے چلا رہی تھیں…

ساتویں دلیل سپریم کورٹ کے حکم پر تحقیقات کرنے والے مالا کنڈ کے سابق کمشنر سید جاوید کا وہ ”جرم“ ہے جس کے مطابق اُنہوں نے اِس ویڈیوکو جعلی قرار دے کر اِس کے ڈائریکٹر اور کرداروں کی تلاش شروع کردی تھی…

آٹھویں دلیل، مالا کنڈ کے نئے ڈی پی او قاضی جمیل صاحب کی وہ ”تصدیق“ ہے جس میں ڈوب کر وہ فرما رہے ہیں کہ وہ ویڈیو جعلی تھی اور اِسے اسلام آباد کی ایک این جی او نے بنایا تھا…

نویں دلیل، ریلیز سے 9ماہ قبل تیار کی جانے والی اِس ویڈیو کو ”پراسرارمسلم خان“ کی جانب سے ”قبول“ کرتے ہوئے یہ اقرار کرنا ہے کہ ”سزا تو دینا ضروری تھی مگر طریقہ غلط تھا“، یہ وہی مسلم خان ہیں جنہوں نے امریکا میں ایک جنونی کے ہاتھوں متعدد افراد کے قتل اور دھماکے کو بھی اپنا ”کارنامہ“ قرار دیا تھا جس کی دوسرے دن امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ کہہ کر تردید کردی تھی کہ ”مسلم خان اور بیت اللہ محسود کو معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں“…

دسویں دلیل براہِ راست اِس ویڈیو کو”نقلی“ کہنے سے گریز کرتے ہوئے سرکاری طور پر اِس جملے پر اکتفا کرنا ہے کہ ”کوڑے مارنے والوں کی تلاش جاری ہے، ابھی تک کسی نے خود آکر یہ نہیں کہا کہ یہ ویڈیو اُس نے بنائی ہے “…واہ واہ کیا کہنے ہیں

میں یہ نہیں کہتا کہ اسلام کے اِن نام نہاد ٹھیکے داروں نے گلے نہیں کاٹے یا اِن قصائیوں نے باقاعدہ فلمیں بنوا کر لوگوں کو ذبح نہیں کیا…بالکل کیا، یقینا کیا اور یہ جانور کسی بھی طور انسان کہلانے کے مستحق نہیں…مگر…جس ویڈیو کی آڑ میں مقصد عورت کی بھلائی نہیں بلکہ اسلام کی برائی ہو،اسلامی سزاؤں کو ظالمانہ اور بے رحمانہ قرار دے کر ”ہائے اللہ، اف ، اوئی، توبہ توبہ“ کی طے شدہ آوازیں نکالنا ہواورامریکا کو بیچی گئی اپنی بیٹی عافیہ کو بھلا کر اسلام آباد میں خریدی گئی ”چاند بی بی“ کے جسم پر اسکرپٹ کے تحت پڑنے والے کوڑے یاد دلا کر آپریشن پر اکسانا ہووہ اِس لیے بھی کسی طور جائز نہیں کہ کوئی بھی ”فعل حرام“ نیت کے اچھے ہونے سے حلال نہیں بن سکتا، شریعت اسلامی میں حکم عمل پر لگایا جاتا ہے ، نیت پر نہیں…جس طرح جہاد کی نیت اور ارادہ کرلینے سے فساد یا نظام عدل کے نفاذ کی نیت سے دہشت گردی اور قتل و غارت جائز نہیں ہوسکتے بالکل اِسی طرح رحم کے مقاصدکبھی جھوٹی ویڈیو بنا کر حاصل نہیں ہوسکتے…پاک منزل کبھی ناپاک راہ سے نہیں ملتی اورخیر، خیر ہی کے راستے سے آتا ہے ، شر کی راہ سے نہیں۔

Articles

لالہ کی مدہوشی‘ ایم کیو ایم اور مبشر لقمان کی بے ہوشی

In پاکستان on اپریل 15, 2010 از ابو سعد

جس طرح نیم حکیم خطرہ جان اور نیم ملا خطرہ ایمان ہوتا ہے اسی طرح آدھا سچ پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ ’ پاکستانی نیوز چینل ‘ ایکسپریس کے نیوز اینکر آدھا سچ بہت شاندار طریقے سے بول لیتے ہیں۔ یہاں دیکھیے یہ ویڈیو اس بات کا ثبوت ہے۔ قصہ یہ ہے کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ۱۴اپریل کو اچانک کوریڈور فور کے فلائی اوورکے معائنے پر چلےگئے۔ بطور ایڈمنسٹریٹر کراچی فضل الرحمن لالہ کا ہوناضروری تھا۔ شہری حکومت کی ویب سائٹ پر موجود تصویر بتاتی ہے کہ یہ دورہ رات کے اندھیرے میں کیا گیا ۔ تب تک لالہ دفتری کام سے فارغ ہو نے کے بعد گھر پہنچ کر غرق مئے ناب  ہوچکے تھے۔ گورنر کے ساتھ جانا ضروری ہوگا اس لیے آنا تو پڑا لیکن چلنا بغیر کسی سہارے کے ممکن نہیں تھا۔ تصویریں کھنچی گئیں اور ویڈیو بنائی گئی۔ گورنر کے دورے کی تشہیر نہ ہو یہ ممکن نہیں تھا‘ ویڈیو نشر کرنے کے لئے بھیجی گئی تو اس میں لالہ کی آنکھوں کا خمار بھی نظر آیا۔
مبشر لقمان نے بالکل درست فرمایا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ایسے لوگوں پر کیوں نہیں ہوتا ۔ لالہ کے خمار کو دکھانا اور اس کو برا سمجھنا اور دکھانا آدھا سچ تھا۔ لیکن انہوں نے لالہ جی کا موازنہ مصطفیٰ کمال سے بھی کیا یعنی ایک طرف تو وہ عظیم آدمی اور دوسری طرف ان کی کرسی پر بٹھایا جانے والا یہ مدہوش شخص۔ نیو ز اینکر اتنے بھولے تو نہیں کہ وہ یہ نہ جانتے ہوں کہ ایڈمنسٹریٹر کس کا انتخاب ہیں؟ ان کو کس نے مقرر کیا؟ ان کو مصطفیٰ کمال کی کرسی پر کس نے اور کیوں بٹھایا؟کور کمیٹی کے جو اجلاس ہوتے تھے ان کی خبریں ایکسپریس میں بھی لگتی ہوں گی اور پھر انہوں نے یہ خبر بھی پڑھی ہوگی کہ متحدہ اور پی پی کی کورکمیٹی میں ایڈمنسٹریٹرز کے ناموں پر اتفاق ہوگیا۔

یہ تو سامنے کی خبر ہے کچھ خبر یں ہم مبشر لقمان کے ساتھ شیئر کردیتے ہیں جو یقینا ایکسپریس نشر نہیں کریگا۔ یہ خبریں واٹر بورڈ میں غیر قانونی بھرتیوں کی ہیں۔ اس وقت واٹر بورڈ کے ایم ڈی لالہ جی ہوا کرتے تھے دو سال قبل کی بات ہے ۔ غیر قانونی بھرتیاں کرنے والا لالہ اور بھرتی ہونے والے ہزاروں افراد متحدہ کے عہدیدار اور کارکنان جو اب تک تنخواہ واٹر بورڈ سے لیتے ہیں اور کام متحدہ کا کرتے ہیں۔ خبروں کے لیے یہاں یہاں یہاں اور یہاں کلک کریں۔
نعمت اللہ خان کا دور ختم ہوتے وقت واٹر بورڈ کے کل ملازمین کی تعداد چھ ہزار تھی ۔ اب یہ تعداد انیس ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ کیا یہ کم خدمت تھی جو لالہ نے ایم کیو ایم کی تھی؟ دراصل یہی ان کی کوالیفکیشن تھی‘ ستر فیصد ریونیو جنریٹ کرنے والے شہر کراچی کا ایڈمنسٹریٹر بننے کےلیے۔ یہ دراصل ریوارڈ بھی تھا لیکن مقصد صرف ریوارڈ دینا نہیں تھا۔ بلکہ ایک ایسے شخص کو لانا تھا جس کے اخلاقی دیوالیہ پن کو اس کی کمزوری بناکر اس سے مزید کام کرائے جائیں۔ یہ سٹی گورنمنٹ کی ویب سائٹ ہے جس پر مصطفیٰ کمال بطور واحد’ایکس سٹی ‘ ناظم کے موجود ہیں۔ شہری حکومت کے منتظم کا چہرہ لالہ جی کا ہے لیکن اصل میں ایم کیو ایم اب بھی موجود ہے۔
مبشر لقمان صاحب ! پورا سچ بولیں ورنہ آدھا سچ بولنے سے آپ کی پوزیشن خراب ہوگی۔

Articles

کہ ہدیہ دل پیش کیجیے!

In پاکستان on اپریل 10, 2010 از ابو سعد

شاگردوں پر استاد کی عزت فرض ہے لیکن کیا ہمارے کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھانے والا ہر شخص استاد کہلانے کا مستحق ہے ‘ اس پر منگل تک تفصیلی گزارشات  پیش کروں گا فی الحال استاد کے روپ میں ایک شیطان کے بارے میں روزنامہ امت میں شائع ہونے  والے اس مضمون کو پڑھیے۔ شکریہ