Archive for دسمبر, 2009

Articles

گل خان اب کیا کرے؟

In پاکستان on دسمبر 31, 2009 از ابو سعد

 

Advertisements

Articles

تمہاری موت کی خبر ملے گی جماعتی

In پاکستان on دسمبر 22, 2009 از ابو سعد Tagged:

 انصار عباسی نے طلبہ سیاست پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) کے پلیٹ فارم سے کی۔ نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف صلیبی حملے اور پاکستان کے خلاف امریکی سازشوں نے جہاں دائیں بازوں اور نیوٹرل پاکستانیوں کو اس جنگ اور اس میں پاکستان کی شمولیت کا مخالف بنادیا وہاں بائیں بازوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی خاموش نہ رہ سکیں۔ ان لوگوں میں دو بڑے نام پاکستان پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاہد مسعود اور دی نیو ز کے ایڈیٹر انوسٹی گیشن انصار عباسی بھی ہیں۔ انصارعباسی نے تو کچھ عرصے قبل جماعت اسلامی پر تنقید سے بھرے کچھ کالموں کا حوالہ دے کر سرخوں کو باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ وہ بے شک سرخہ نہیں رہے لیکن انہوں ’’جماعتی‘‘ بننے کی گناہ بھی نہیں کی۔ ’’جماعتی‘‘ کراچی والوں کی ایجاد ہے اور اتفاق سے انصار عباسی کو یہ دھمکی کراچی سے ہی ملی ہے۔ یہاں موضوع ’’جماعتی‘‘نہیں بلکہ انصار عباسی کو ملنے والی دھمکی ہے ۔ ’’جماعتی‘‘ کا ذکر ایک وضاحت کے لیے چھیڑا ہے۔

 ذیل میں خبر ملاحظہ کریں۔

 پیپلز پارٹی کے ناپسندیدہ صحافیوں کو خوفزدہ کرنے اوردھمکیاں دینے والے کم از کم ایک مصدقہ ذریعے کا بالآخر اس وقت سراغ لگا لیا گیا جب اسلام آباد کے سینئر صحافی انصار عباسی کو ایک ایس ایم ایس کے ذریعے دھمکی دی گئی، حکام نے ٹریس کیا تو معلوم ہوا کہ یہ کسی اور نے نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب کے بیٹے علی وہاب صدیقی کی طرف سے آئی تھی۔ علی وہاب نے دی نیوز سے گفتگو کے دوران موبائل نمبر 0333-2182500 اپنی ملکیت ہونے کا اعتراف کیا، جس کے ذریعے دی نیوز اسلام آباد کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن کو دھمکیاں دی گئی تھیں ، رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر وہاب نے کہا کہ وہ انصار عباسی کو بھیجے جانے والے اپنے پیغام پر قائم ہے اور ابتدا میں معافی مانگنے سے انکار کردیا، 18دسمبر 2009ء کو علی وہاب کے سیل نمبر سے انصار عباسی کو موصول ہونیوالے پیغام کے الفاظ یہ تھے ”مجھے اس روز کا انتظار ہے جب صرف تمہیں گولی لگنے یا تمہاری موت کی اچھی خبر ملے گی: جماعتی“۔ جب پیپلز پارٹی کی رہنما فوزیہ وہاب کو دھمکی آمیز پیغام اور انکے بیٹے کی خودسری اور بے باکی کے متعلق بتایا گیا کیونکہ انہیں بتایا گیا کہ حکام تصدیق کرچکے ہیں یہ ان کا بیٹا ہی تھا جس نے میسج بھیجے تھے تو فوزیہ وہاب نے معافی مانگ لی۔ جسکے بعد علی وہاب نے ایک میسج کے ذریعے معافی مانگ لی ،انصار عباسی کے مطابق مختلف لوگ انکے کام پر تنقید یا تحسین کیلئے پیغام بھیجتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات ان میں گالیاں بھی ہوتی ہیں مگر انہوں نے کبھی اس کی پروا نہیں کی ۔”تاہم اس نمبر کے پیغامات خاص طور پر ایک ’میں’فائرنگ یا ہلاکت؟“ کے الفاظ نے بہت زیادہ ڈسٹرب کیا اور میں نے ایف آئی اے سائبر انویسٹی گیشن ونگ کوایک شکایت درج کرائی اور خود بھی تحقیقات شروع کی۔“ انصار عباسی نے کہا ”جب حکام نے تصدیق کی کہ یہ کوئی اور نہیں بلکہ حکمران پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات کا بیٹا تھا تو یہ جان کر مجھے دھچکا لگا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ”الیکٹرانک جرائم کے انسدادی آرڈینس 2009“ پر سختی سے عمل کرے گی۔انصار عباسی نے کہا کہ علی وہاب کی طرف سے بھیجے جانے والے پیغامات میں سے کچھ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف انتہائی توہین آمیز تھے۔ ایسے الفاظ استعمال کئے گئے جو تحریر بھی نہیں کئے جا سکتے۔ دی نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق انصار عباسی کی شکایت ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں سائبر کرائم انویسٹی گیشن کے سربراہ شاہد ندیم بلوچ کو فائل کی گئی، دی نیوز نے جب شاہد ندیم سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ انصار کی شکایت موصول ہوئی تھی یہ معلوم ہونے کے بعد کہ یہ کراچی کا نمبر ہے مذکورہ شکایت کراچی ایف آئی اے آفس کو ریفر کردی گئی جہاں ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میر زبیر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر احسان اللہ اس کی قانون کے مطابق تفتیش کریں گے ۔ جب پوچھا گیا کہ اگر جرم ثابت ہوگیا تو قانون کے تحت سزا کیا ہوگی تو انہوں نے کہا کہ اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو الیکٹرانک جرائم کے انسدادی آرڈیننس 2009ء کے تحت زیادہ سے زیادہ 7برس تک سزا ہو سکتی ہے۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے علی وہاب نے کہا کہ اس کے سیل نمبر کی ملکیت طے کرنے سے متعلق کسی تحقیقات کی ضرورت نہیں کیونکہ انصار کو بھیجے جانے والے پیغامات میں سے 3میں انہوں نے اپنا پورا نام لکھا تھا۔ تاہم انصار نے علی کے بیان کی یہ کہتے ہوئے تردید کی کہ ان کے پاس علی کے پیغامات کا ایک ماہ کا ریکارڈ موجود ہے ‘نہ تو اس نے کبھی اپنا نام لکھا اور نہ شناخت کرائی۔ پہلی کال پر علی کا نقطہ نظر تھا کہ وہ انصار کو بھیجے گئے اپنے پیغام پر قائم ہے مگر انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اس کے میسجز میں کوئی دھمکی نہیں تھی اور یہ ان کے جذبات تھے، ان کی والدہ فوزیہ وہاب نے اس نامہ نگارسے سکون سے بات کی اور خوفزدہ کرنے کے پیغامات کا معلوم ہونے پر معافی مانگی، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فوزیہ وہاب نے معافی اس وقت مانگی جب انکے بیٹے کے ملوث ہونے کی تفصیلات اور شہادتیں سامنے آ چکی تھیں۔ بعد ازاں علی وہاب نے انصار عباسی کو ایک پیغام بھیجا جس میں ان کی والدہ کے وعدے کے مطابق معافی کے علاوہ انصار عباسی کیلئے کچھ مشورے بھی تھے۔ پیغام کا متن یہ ہے ”پیارے مسٹر انصار عباسی! مجھے یقین نہیں آتا کہ میرے الفاظ نے آپ کو تحقیقات کرانے پر مجبور کردیا کہ میں کون ہوں۔ آپ کی طرح میں بھی ایک محب وطن پاکستانی ہوں۔ تاہم نقطہ نظر آپ سے مختلف ہے۔ بہرحال اگر آپ نے خوف محسوس کیا تو میں تہہ دل سے معافی چاہتا ہوں۔ کیا مجھ جیسا آدمی خوفزدہ کرنیوالا ہوسکتا ہے میرا ذاتی فون کبھی استعمال نہیں ہوا ہوگا۔ میں کم از کم 3مواقع پر اپنا نام بتا چکا ہوں۔ یاد رکھیں! آپ کے قلم کی طاقت کو جانبدارنہیں ہونا چاہئے اور نہ ہماری عظیم قوم کی قیادت کیخلاف بد خواہی پیدا کرنی چاہئے، پاکستان میری دنیا ہے اور اسکی حفاظت کیلئے اپنا سب کچھ دے دوں گا۔ زندگی مختصر ہے اور ہمیں زندگی میں با معنی وژن رکھنا چاہئے۔اگر ایسا نہ ہو تو ہم ناپسندیدہ عناصر کے وژن کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ میری خواہش ہے کہ آپ کو بھر پور اور صحت مند زندگی نصیب ہو : علی وہاب۔“

Articles

کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں

In پاکستان on دسمبر 16, 2009 از ابو سعد Tagged: , ,

  بزرگ صحافی عباس اطہر نے اپنے اس کالم میں زرداری کا مقدمہ لڑا ہے یا پھر کچھ لوگوں کو آئینہ دکھایا ہے۔ یہ دونوں باتیں ہوسکتی ہیں تاہم مجھے اس مضمون کا یہ نکتہ بے حد پسند آیا کہ جن لوگوں نے آصف زرداری کو عہدہ صدارت پر بھاری مینڈیٹ سے براجمان کرایا وہ کونسا منہ لے کر آج ان کے خلاف صف آرا ’’فوج‘‘ کے صف اول کے سپاہی بن رہے ہیں ؟ اس کالم میں جہاں ناپسندیدہ سینیٹر سیف الرحمان کا کچا چٹھا کھول دیا گیا ہے وہاں ان لوگوں کو بھی کچھ یاد دلایا گیا ہے جو آصف زرداری کے صدر بننے کو تاریخی قرار دے رہے تھے۔ عباس اطہر نے جن لوگوں کو کھری کھری سنائی ہے ان میں قائد تحریک پیر لندن جناب الطاف حسین جن کو بعض دل جلے بھگوڑا کہتے ہیں کا بھی نام لیا گیا ہے تاہم اس امر پر مجھےحیرت ہوئی کہ موصوف بزرگ صحافی نے سیاسی قوتوں کا تو نام لیا لیکن عسکری قائدین کو بھول گئے حالانکہ نہ صرف آصف زرداری کو این آور کے ڈیٹرجنٹ سے دھولانے والا ہی بدنام زمانہ عسکری قائد پرویز میراثی تھا بلکہ بعد میں سردار زرداری کے صدر بننے کے لیے عسکری قائدین اور ان کے مائی باپ امریکا سے بھی این او سی لی گئی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آصف زرداری کرپٹ نہیں ہوں گے لیکن اس سوال کا جواب دیے بغیر ہم اس موذی مرض سے مریض وقت پاکستان کو شفایاب نہیں کراسکتے کہ ایک آدمی جس کو کرپشن کی بنیاد پر ہٹایا جارہا ہے آخر وہ ڈیڑھ سال پہلے قابل قبول کیوں ہوا؟ یقین جانیے اس سوال کا جواب بڑے بڑے ’’پاک بازوں‘‘کو بے لباس کردے گا پھر اگر ان کا احتساب کیا گیا تو اس سے مریض وقت پاکستان شفایاب اور اس کے رہنے والے خوشحال ہوں گے۔
اب آپ عباس اطہر کا کالم پڑھیں اس بحث کو تبصرے کی ذیل میں آگے بڑھائیں گے۔

Articles

ایک اطلاع

In پاکستان,بین الاقوامی تعلقات on دسمبر 14, 2009 از ابو سعد Tagged:

شاہ نواز فاروقی

 امتِ مسلمہ کے پاس جو ”اطلاع“ ہے، وہ اطلاع امریکا کے پاس ہوتی تو اس سے اب تک پانچ سو گھنٹے کی ”ٹیلی نیوز“ برآمد ہوچکی ہوتیں، اس کے حوالے سے دوہزار چھوٹے بڑے مذاکرے نشر ہوچکے ہوتی، ممتاز شخصیات کے ایک ہزار انٹرویوز نشر ہوکر ناظرین کے حافظے کا حصہ بن چکے ہوتی، چھوٹی بڑی دوسو دستاویزی فلمیں تخلیق ہوچکی ہوتیں، ہالی ووڈ میں پانچ چھ بڑے بجٹ کی فیچر فلموں پرکام جاری ہوتا۔ لیکن امتِ مسلمہ کے پاس اطلاع کیا ہی؟ عزیزانِ گرامی قدر! صرف یہ کہ افغانستان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو مجاہدین نے شکست دے دی ہے۔ یہ ایک تاریخ ساز اطلاع ہے۔ کبھی امریکا کے پاس ایسی ہی تاریخ ساز اطلاع تھی۔ امریکا کو معلوم ہوگیا تھا کہ مجاہدین نے افغانستان میں سوویت یونین کو شکست دے دی ہے۔ اس ایک اطلاع پر امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے خبروں‘ تبصروں‘ تجزیوں‘ انٹرویوز‘ دستاویزی اور فیچر فلموں کے کارخانے نہیں ملیں لگالی تھیں۔ ابلاغ کا عمل اسی کا نام ہے۔ مگر امتِ مسلمہ کا معاملہ عجیب ہے۔ اس کے پاس تاریخ ساز اطلاع ہے لیکن اس سے کچھ اور کیا اخبار کی ایک شہ سرخی بھی تخلیق نہیں ہو پارہی۔ یہ ہماری اطلاعاتی عسرت اور ابلاغی غربت کی انتہا ہے۔ اس دائرے میں پوری امتِ مسلمہ بلاشبہ ”خطِ غربت“ سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں تو ٹھیک طرح سے اپنی خوشی منانی بھی نہیں آتی۔ مگر اس کی وجہ کیا ہی؟بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کی وجہ وسائل کی قلت ہے۔ لیکن مسئلہ وسائل کی قلت نہیں، ترجیحات کا درست تعین ہے۔ مسلم معاشروں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو مسجد اور مدرسے کی تعمیر کے لیے آپ کو کروڑوں روپے دے سکتے ہیں، لیکن آپ اُن سے کہیں کہ ہمیں ایک ٹیلی ویژن چینل شروع کرنا ہی، تو اس منصوبے کے لیے وہ آپ کو دس روپے بھی نہیں دیں گی، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی دینی کام نہیں ہے۔ اُن کے ایسا سمجھنے کی ایک وجہ ٹیلی ویژن کا عام تصور ہے۔ ٹیلی ویژن کو عام طور پر فسخ وفجور پھیلانے کا آلہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رائے سازی کی جنگ میں ٹیلی ویژن سب سے بڑے ذریعے کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ کروڑوں لوگوں کے لیے جو کچھ ٹیلی ویژن اسکرین پر ہے وہی حقیقت ہی، اور جو کچھ ٹیلی ویژن پر نہیں ہے اس کا یا تو وجود ہی نہیں، یا ہے تو اس کی اہمیت نہیں۔ ٹیلی ویژن کی یہ اہمیت افسوس ناک ہی، مگر امر واقع یہی ہے۔رائے سازی کے سلسلے میں ٹیلی ویژن کی اہمیت کی ایک اچھی مثال ”الجزیرہ“ ہے۔ مشرق وسطیٰ بادشاہوں اور آمروں کی سرزمین ہے۔ وہاں سیاسی رائے تخلیق کرنا اور عرب عوام کو بیدار و متحرک کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن الجزیرہ نے یہ کام کردکھایا۔ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ الجزیرہ نے یہ کام کس طرح کیا؟ مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیلی جارحیت کی ”تفصیلات“ دکھاکر۔ مگر یہاں تفصیلات کا مفہوم کیا ہی؟ اس کا مفہوم یہ ہے کہ الجزیرہ نے صرف اسرائیل کی بمباری‘گولہ باری اور حملے ہی رپورٹ نہیں کیی، بلکہ اس نے ان حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انسانی صورت حال کو بھی رپورٹ کیا۔ مثلاً یہ کہ جس گھرانے کے لوگ شہید ہوئے اس گھرانے پرکیا گزری؟ وہاں کس طرح گریہ و زاری کی گئی؟ اس گھرکی معاش کا کیا ہوا؟ بچوں کی تعلیم کا کیا ہوا؟ یہ تفصیلات ہمیشہ سے موجود تھیں مگر کبھی رپورٹ نہیں ہوتی تھیں۔ الجزیرہ نے انہیں رپورٹ کرکے اسرائیل ہی نہیں امریکا کے خلاف بھی عرب دنیا میں زبردست ردعمل پیدا کیا۔ ہم اطلاعاتی عسرت اور ابلاغی غربت کے مارے ہوئے نہ ہوتے تو امریکا کی شکست کا کامل ابلاغ امتِ مسلمہ کی نفسیات کو کچھ سے کچھ بناسکتا تھا۔ امتِ مسلمہ مغرب کے حوالے سے احساسِ کمتری میں مبتلا ہی، اسے لگتا ہے کہ ہمارے پاس کچھ نہیں، جوکچھ ہے مغرب کے پاس ہے۔ لیکن جو امت 20 سال میں دوسپر پاورزکو شکست سے دوچار کردے وہ معمولی امت تو نہیں ہوسکتی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امریکا اور مجاہدین کا معرکہ برپا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ افغانستان میں ایک جانب ایمان اور ٹیکنالوجی کا معرکہ برپا ہے اور دوسری جانب شوقِ شہادت اور عسکری طاقت کی پنجہ آزمائی ہورہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان معرکوں میں ایمان کو ٹیکنالوجی پر اورشوقِ شہادت کو عسکری طاقت پر فتح حاصل ہوگئی ہے۔ مگر یہ اطلاع امتِ مسلمہ تک کیسے پہنچی؟

Articles

نجیب پیجی تو ہمیں بہت یا دآئے گا

In Uncategorized on دسمبر 14, 2009 از ابو سعد Tagged:

عطا محمد تبسم

بدھ کی شام کراچی پریس کلب میں بہت گہماگہمی تھی۔ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے سلسلے میں ہیومین نیٹ ورک کا سیمینار تھا۔ پریس کلب کے سابق صدر نجیب احمد کی تقریر بہت جذباتی تھی۔ ظلم اور زیادتی کے واقعات اسے ہمیشہ جذباتی کردیتے تھے۔ وہ ہمیشہ مظلوموں کی حمایت کر تا تھا۔ چاہے اس حمایت کے نتیجے میں اسے کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔کسی کا کوئی کام ہو وہ اسے پورا کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ کسی کا ساتھ دینا ہو۔ کوئی وعدہ نبھانا ہو،کسی کے ساتھ جانا ہو۔ وہ ہمیشہ وقت پر پہنچ جاتا تھا۔ شاید یہی اس کی مقبولیت کا سبب تھا۔ اس نے دل کا روگ پال رکھاتھا۔ لیکن وہ بہت سے صحتمند افراد سےزیادہ کا م کرتا تھا، صحافت میں بہت سے نازک مقام آتے ہیں ۔ لیکن اس کی مسکراہٹ جو اب خواب اور خیال ہوگئی ہے۔ بہت سے شکوﺅں کا بہت پیارا سا جواب ہوتا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ اس سے پہلی ملاقات کب کہاں ہوئی تھی۔ لیکن اس پہلی ملاقات کے بعد وہ دل میں رہتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد اس کی یاد دل کو کچھ اس طرح گرفت میں لئے ہوئے ہے کہ کسی پل چین نہیں پڑتا۔بار بار اس کی صورت سامنے آتی ہے۔ اور ایک تیر سا دل میں لگتا ہے۔ طارق اسلم نے جمعرات کو فون پر یہ اطلاع دی۔تو ذہن پر سناٹا چھا گیا۔پیجی اب اس دنیا سے چلا گیا۔ کتنے سارے لوگوں کو سوگوار کرکے۔ صحافت میں اس نے اپنا مقام خود بنایا تھا۔ وہ ان تھک کام کرنے والا کارکن تھا۔ کام کو منظم کرنے کی اس کی صلاحیتیں بے پناہ تھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ دوست دلدار تھا۔ دوستوں کی دلداری کرتا تھا۔ دائیں بائیں بازو کے سب لوگ اسے پسند کرتے تھے۔ کراچی پریس کلب کے انتخابات اس کی مقبولت کا پیمانہ تھے۔ کئی سال سے وہ مختلف عہدوں پر کامیاب ہوتا رہا۔ ۸۰۰۲ کے سالانہ انتخابات میں نجیب نے 440 ووٹ لیکر سب سے زیادہ ووٹ لینے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے مدمقابل صدر کے عہدے کے امیدوار صبیح الدین غوثی نے 264 لے سکے تھے۔ گذشتہ سال وہ پہلی بار الیکشن ہار گیا۔ لیکن اس نے اس ہار کو اپنی جیت بنا لیا تھا۔ کیونکہ اس کی ہار میں اس کے دوستوں کا ہاتھ تھا۔اور وہ دوستوں کی کامیابی پر نازاں تھا۔ اس نے اپنے دوستوں کے دئیے ہوئے اس تمغہ شکست کو اپنے سینے پا سجائے رکھا ۔اور اسی میدان میں اس شان سے کھڑا رہا۔ کہ دھوکہ دینے والا رو دے۔ ایسی شان سے دھوکہ کھاﺅ۔ کرائم رپورٹر ،بااثرصحافی، جنگ اور جیو کے سینئر رپورٹر اور کراچی پریس کلب کے سابق صدر کی حیثت سے وہ بہت اختیار رکھتا تھا۔ لیکن اس نے اپنے اثر رسوخ سے ہمیشہ دوسروں کی بھلائی کے کام کئے۔ صحافتی حلقوں اور اپنے دوست احباب میں اسے پیار سے ”پیجی“ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔یہ نام اس کی شخصیت سے مناسبت رکھتا تھا۔ وہ اپنے گلی محلے علاقے میں بھی اسی طرح مقبول تھا۔ جامعہ ملیہ میں اسلامی جمعیت طلبہ وابستگی کے بعد اس نے اپنے اس تعلق کو ہمیشہ نبھایا۔ وہ جمعیت کا رکن بنا۔اور اس نے رضائے الہی کے حصول کو اولیت دی۔ اکتوبر 1961ء کو پیدا ہونے والے نجیب احمد کی یہ عمر جانے کی نہ تھی۔ لیکن اسے جلدی تھی اس لئے اس بہت سے بڑے بڑے کام بہت تھوڑے عرصے میں کر لئے۔جمعیت کے ہفتہ کتب کے موقع پر اس نے کہا تھا٬ کہ لوگ مختصر سی زندگی میں ڈاکے ڈالتے ہیں اور لوگوں کی جانیں لےتے ہیں مگر جمعیت کے کارکنان نوجوانی کی عمر میں طلبہ کی امداد اور انکا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کےلئے ہفتہ کتب منعقد کر کے فنڈز جمع کر رہے تاکہ کوئی طالبعلم تعلیم سے محروم نہ رہ جائے اس کام کو جتنا سراہا جائے کم ہے۔نجیب احمد نے کہا تھاکہ آپ جو کام کر رہے ہیں اسے بھرپور طریقے سے جاری رکھیں اس راہ میں رکاوٹیں بھی آئیں گی اور مخالفین آپ پر تنقید بھی کرنگے مگر طلبہ کی بھلائی اور انکی خدمت کا کام جاری رکھیں۔یہی اس کا مشن تھا۔ اس نے مخالفین اور تنقید کی کبھی پروا نہیں کی۔ وہ آزادی صحافت کا جرنیل تھا۔ پرویز مشرف کے پورے دور میں اس نے جرات کے ساتھ آمریت سے لڑائی لڑی۔کراچی میں صحافیوں اور آزادی صحافت کی حامی دوسری تنظیموں نے مزارِ قائد پر دھرنا دیا تو پریس کلب سے ریلی نکالی گئی جس کی قیادت پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم کے رہنما مظہر عباس۔ کراچی پریس کلب کی صدر صبیح الدین غوثی اور نجیب احمد نے کی۔ کراچی میں صحافی رشید چنا، عبدالطیف ابو شامل، محمد طاہر، علی الطاف اور زاہد خٹک کی گرفتاری اور پولیس چھاپوں کے خلاف یہ ریلی نکالی گئی تھی۔شہر میں ایک بڑے عرصے کے بعد صحافیوں نے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔اس موقع پر جلوس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کراچی پریس کلب کے صد کی حییثیت سے نجیب احمد نے کہا تھاکہ اس ملک میں ڈکٹیٹروں نے حکومت زیادہ عرصے کی ہے اور اس دور میں بھی صحافیوں نے اپنے فرائض کوڑے کھاکر اور جیلوں میں جاکر بھی ادا کیے ہیں۔ کراچی پریس کلب نے پہلے ضیاالحق کو للکارہ تھا۔جس کے بعد سیاسی جماعتوں کی تحریک شروع ہوئی تھی۔ اب صدرمشرف کے خلاف جدوجہد کی جائیگی۔ چینلز کی بندش اور پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف احتجاج کے دوران ایک سو اکیاسی صحافیوں کی پریس کلب سے گرفتاری کے موقع پر اس کی جرات اور بہادری یاد رہے گی۔ کئی مواقع پر نجیب کی گرفتاری کے لئے پریس کلب کا گھیراﺅ کیا گیا۔ لیکن اس کے ماتھے پر کبھی شکن نہ آئی اور اس نے کبھی راہ فرار اختیار نہیں کی۔روز نامہ ”اسلام ”کراچی کی بندش کے خلاف احتجاج میں سوائے چند چینلز کے تمام نشریاتی اداروں کی جانب سے شدیدمایوسی کا سامنا رہاتھا۔ تاہم اس موقع پر صحافی حلقوںکی جن چند شخصیات ”پی ایف یو جے ”کے سیکریٹری مظہر عباس،روالپنڈی اسلام آباد پریس کلب کے صدر مشتاق منہاس، بزرگ صحافی عبدالحمید چھاپرا، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری خورشید عباسی ، یوسف خان،مقصود یوسفی کے ساتھ کراچی پریس کلب کے صدر نجیب احمد،سیکریٹری امتیازخان فاران کی آواز سب سے توانا تھی۔نجیب کی موت نے کراچی پریس کلب کو سوگواری کی چادر اوڑھا دی ہے۔اگلے ہفتے کراچی پریس کلب کے الیکشن ہیں، لیکن اس بار ایک مہربان چہرہ نظر نہیں آئے گا۔نجیب پیجی تو ہمیں بہت یادآئے گا۔