ایک مدت سےمیری ماں نہیں سوئی تابش
میں نےاک بار کہا تھا مجھےڈر لگتا ہے
اس شعر کی تصویر میری ماں طویل عرصےتک کالےیرقان کی بیماری سےبہادری کےساتھ لڑتےہوئے5دسمبر2010ءکو منوں مٹی اوڑھ کر سوگئیں۔ کوئی 2سال قبل ہپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوئی تو وہ اس اسٹیج تک پہنچ چکا تھا جس میں انٹرفیرون تھراپی ممکن نہیں تھی۔ تب سےمستقل علاج جاری تھا۔ انٹی بائیوٹیک دوائیں چہرےکارنگ اُڑا دیتی ہیں جبکہ خود جگر کی یہ ہلاکت خیز بیماری بھی چہرےکی سرخی چھین لیتی ہےلیکن انتقال سے2دن قبل جس طرح ان کی اصل رنگت نمودار ہونےلگی تو ہمیں اُمید ہوئی کہ شاید وہ بہتر ہونےلگی ہیں۔ لیکن ربّ کےحضور ان کی پیشی کےدن قریب آرہےتھے۔ دنیا سےرخصتی کےدن ‘5دسمبر کی صبح ان کا چہرہ روشن تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ابدی نہیں بلکہ معمول کی نیند سورہی ہیں۔ان للہ و انا الیہ راجعون!۔
ان کی تین بہووئیں ‘چار نندیں اور کئی ایک ایسےرشتےبھی تھےجن سےزندگی میں اگر کوئی چپقلش ہوتی تو کوئی حیرانی کی بات نہ ہوتی۔ لیکن میں نےاپنی ماں کےلیےان کی زندگی میں کوئی منفی تبصرہ سنا اور نہ ہی دنیا سےرخصت ہونےکےبعد!۔
میں اپنی زندگی کےآخری بارہ سالوں کےایک بڑےحصےمیں ان سےدور رہا لیکن چودہ‘ پندرہ سو کلومیٹر کا فاصلہ مجھے‘ان سےدور تو رکھ سکا لیکن ان کی دعاوں اور میرےدرمیان رکاوٹ نہیں بن سکا۔
ماں کےسونےکےبعدسےمیں ڈرنےلگا لیکن پرسوں تعزیت کےلیےآئےایک بزرگ کےان الفاظ نےتو مجھےجیسےہلا کر رکھ دیا۔ انہوں میرےکندھےپر ہاتھ رکھ کر کہا’ بیٹا اب ذرا سنبھل کر! وہ نہیں رہیں جن کی دعائوں کی بدولت بلائیں ٹلتی تھیں۔
”ماں“ دنیا کا واحد بےغرض رشتہ!جو صرف دینا جانتی ہے۔ ”ماں“پیار کا سمندر جہاں دنیا بھرکےہاتھوں نفرت کےماروں کی پیاس بجھ جاتی ہے۔ ”ماں“ ایک گھنا چھائوں جہاں دنیا کی دھوپ کےمارےسستاتےہیں ‘ آرام کرتےہیں۔”ماں“ بلاوں کےسامنےڈھال ! ماں کیا کچھ نہیں لیکن ہمیں اس عظیم شخصیت کےجانےکےبعد ہی کیوں احساس ہوتا ہے؟میں نیک بن کر ماں کےلیےصدقہ جاریہ بن سکتا ہوں‘اللہ مجھےتوفیق دےلیکن جن کی مائیں حیات ہیں وہ ان کو صرف محبت بھری نظر سےدیکھ کر جنت پاسکتےہیں ‘ بتائیےجو خدمت بھی کرلےگا وہ تو کیا کچھ نہیں پائےگا۔
اللہ تعالیٰ میری ماں سمیت دنیائےفانی سےکوچ کرنےوالی ماوں کو جنت الفردس میں اعلیٰ مقام عطا فرما! ہمیں نیک بنا اور جن کی مائیں حیات ہیں ان کو تادیر اپنےبچوں کےلیےچھائوں اور ڈھال بنا۔ آمین۔
ایک نظم ماں کے نام
موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
تب کہیں جا کر سکوں تھوڑا سا پا جاتی ہے ماں
فکر میں بچوں کی کچھ اسطرح گھل جاتی ہے ماں
نوجواں ہوتے ہوئے بوڑھی نظر آتی ہے ماں
اوڑھتی ہے خود تو غربتوں کا بوسیدہ کفن
چاہتوں کا پیرہن بچوں کو پہناتی ہے ماں
روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں
اپنے پہلو میں لٹا کر اور طوطے کی طرح
اللہ اللہ ہم کو رٹواتی ہے ماں
گھر سے جب بھی دور جاتا ہے کوئی نور نظر
ہاتھ میں قرآن لے کر در پہ آجاتی ہے ماں
دے کے بچوں کو ضمانت میں رضائے پاک کی
پیچھے پیچھے سر جھکائے دور تک جاتی ہے ماں
لوٹ کے جب بھی سفر سے گھر آتے ہیں ہم
ڈال کے بانہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں
وقت آخر ہے اگر پردیس میں نور نظر
اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پر رکھ جاتی ہے ماں
پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے
کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں
سال بھر میں یا کبھی ہفتے میں جمعرات کو
ذندگی بھر کا صلہ اک فاتحہ پاتی ہے ماں
(ماخذ۔ پاک لنکس ڈاٹ کام۔ بشکریہ علی عامر)
پروفیسر عنایت علی خان نے عمران خان کے بارے میں کہا تھا
کیچ مس ہو یہ تو ممکن ہی نہیں
تم تو مس کو بھی کیچ کرتے ہو
یہ اُس وقت کہا گیا تھا جب عمران خان دنیائے کرکٹ میں شہرت کی بلندیوں پر تھے اور لندن میں جاکر جمائما سے میچ فکس کیا تھا۔ یہ الگ بات کہ بعد میں کیچ مس ہوگیا۔ عمران خان سیاست میں آئے تو ہر موقع کو کیچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اب تک کرکٹ کی فضا سے باہر نہ آسکے۔
2 اپریل 2010ءکو انہیں ایک اور موقع ملا کہ وہ جامعہ پنجاب کے پروفیسر افتخار حسین بلوچ کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بہانے اپنی چوٹیں سہلا سکیں۔ کچھ دن پہلے ہی انہوں نے جب جامعہ پنجاب میں سیاست کرنے کی کوشش کی تھی تو اسلامی جمعیت طلبہ کے کچھ لڑکوں نے انہیں باہر کا راستہ دکھاتے ہوئے دھکے دیے تھے۔ عمران خان کو بدلہ لینے کا موقع مل گیا۔ جامعہ پنجاب میں اپنے کردار کے حوالے سے ”شہرت یافتہ“ پروفیسر ڈاکٹر افتخار بلوچ کو جمعیت کے کچھ لڑکوں نے اپنے طور پر نامناسب حرکتوں سے باز رکھنے کی کوشش کی اور افتخار بلوچ زخمی ہوگئے تو عمران خان فوراً اس شخص کے لیے گلدستہ لے کر پہنچ گئے جس پر گلوں کو مسلنے کا الزام ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس موقع پر تصویر میں دائیں طرف اور عمران خان کے بائیں بازو سے لگا ہوا جو نوجوان حافظ فرحت کھڑا ہوا ہے یہ ہیلی کالج کا طالب علم ہے اور اسے جمعیت نے عمران خان پر حملے میں ملوث ہونے پر جمعیت سے خارج کردیا تھا۔ حافظ فرحت فوراً ہی عمران خان کے طلبہ ونگ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں چلا گیا اور گلدستہ آگے بڑھانے میں عمران خان کا ہاتھ بٹا رہا ہے۔ انہی ہاتھوں سے عمران خان کو دھکا دیا گیا تھا لیکن عمران خان تو عرصے سے کوچہ سیاست میں دھکے کھا رہے ہیں۔
اس موقع پر عمران خان جمعیت پر خوب گرجے برسے اور کہا کہ جمعیت کے دہشت گردوں کے کھلے عام دندنانے کی سب سے بڑی ذمہ داری وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب پر عائد ہوتی ہے جن کی ناک تلے دہشت گردوں نے پنجاب یونیورسٹی کو یرغمال بنا رکھا ہے، جو معاشرہ استاد کی عزت و احترام نہیں کرتا وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا‘ تحریکِ انصاف اور انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن استاد کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور عمران خان افتخار بلوچ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لیکن اب وہ کیا کہیں گے؟ جمعیت کا الزام تھا کہ افتخار بلوچ بدکردار ہے۔ اساتذہ کا احترام لازمی، لیکن جو استاد اپنے کمرے میں طالبات کو بلا کر ان کا ”احترام“ کریں کیا وہ بھی عمران خان کے نزدیک معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کررہے ہیں؟ اب کیا عمران خان گلدستے لے کر ان خواتین کے پاس جائیں گے جن کی اس نام نہاد استاد نے عزت لوٹنے کی کوشش کی ہے؟ کیا وہ بتائیں گے کہ اصل دہشت گرد کون ہے؟ ممکن ہے ان کے علم میں یہ بات اب تک نہ آئی ہو کہ ان کے ممدوح پروفیسر پر پولیس نے ایک طالبہ اور اس کے شعبہ کی ایک خاتون ایڈمنسٹریٹر کو جنسی طور پر ہراساں کرنے پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔ یہ گزشتہ پیر ہی کی بات ہے۔ چاہیں تو تھانہ مسلم ٹاﺅن میں مقدمہ زیر دفعہ 511 پاکستان پینل کوڈ کی تفصیلات معلوم کرلیں۔ پولیس کے مطابق اس ”قابل احترام“ پروفیسر نے ان خواتین کو اپنے کمرے میں بلا کر ان کی عزت لوٹنے کی کوشش کی، اور کمرہ بھی کیسا! موصوف نے وائس چانسلر کی آشیرواد سے اپنے آفس کے برابر میں ریٹائرنگ روم سجا رکھا ہے جس میں ایک بستر‘ ایک صوفہ کم بیڈ اور دو تکیے موجود ہیں۔ وائس چانسلر صاحب پہلے تو افتخار بلوچ کے ساتھ کھڑے تھے اور جامعہ پنجاب سے جمعیت کا صفایا کرنے کے دعوے کررہے تھے‘ اب تسلیم کررہے ہیں کہ یہ جامعہ کی تاریخ کا تاریک ترین دن ہے۔ جامعہ کی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق افتخار بلوچ خطا کار ثابت ہوگئے ہیں۔ ایس پی روبل اکرام کا کہنا ہے کہ شروع میں انتظامیہ نے تاخیری حربے استعمال کیے مگر اب حقائق سے پردہ اٹھادیا ہے اور وائس چانسلر مجاہد کامران تک نے کہا ہے کہ افتخار بلوچ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ افتخار بلوچ ہتھ چھٹ مشہور ہیں اور انہوں نے اپنی حرکتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے تین ہفتے تک جامعہ پنجاب میں تدریس نہیں ہونے دی۔ افتخار بلوچ کی کئی کہانیاں جامعہ میں مشہور ہیں۔ ان کی اہلیہ رخسانہ تک نے ان کے خلاف وائس چانسلر کو درخواست دے رکھی ہے۔ افتخار بلوچ کی حرکتوں سے تنگ آکر تین کنٹریکٹ معلمات ملازمت چھوڑ چکی ہیں۔ پروفیسر صاحب تو کیفرکردار کو پہنچ جائیں گے لیکن ہمارا سوال اپنے کرکٹ کے ہیرو اور ”انصاف“ کے مبلغ سے ہے کہ اب وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں، اور کیا ایسے ہی استاد ان کے نزدیک احترام کے مستحق ہیں؟ کیا وہ گلدستہ لے کر شیبہ گل کے پاس بھی جائیں گے؟
شاہنواز فاروقی
ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔ مغربی ذہن ہرچیز کو طاقت کے نقطہ نظر سےدیکھتا ہے، یہاں تک کہ محبت کو بھی۔ اس سےاندازہ کیا جاسکتا ہےکہ مغربی ذہن جنگ کو کتنا ہولناک بناسکتا ہے…. بالخصوص امریکی ذہن۔ اس ذہن کے زیراثر اخبار کی شہ سرخی میزائل اور خبر کا متن بارودی سرنگوں سےبھرا ہوا میدان بن سکتا ہے۔ اس کا تازہ ترین ثبوت 26 اکتوبر کےروزنامہ ڈان کراچی کےصفحہ اوّل پر شائع ہونےوالی خبر ہے۔
شہ سرخی کےساتھ شائع ہونے والی خبر بابا فرید گنج شکر کےمزار پر ہونے والے بم ھماکےسےمتعلق ہے۔ کہنے کو خبر ڈان کے رپورٹر نےفائل کی ہےلیکن خبر کی شہ سرخی اور متن پڑھ کر خیال آتا ہےکہ خبر امریکی فوج کےکسی سپاہی نےسپردِ قلم کی ہوگی۔
اس کا پہلا ثبوت خبر کی شہ سرخی ہے۔ خبر اہم تھی اور تمام اخبارات نے اسےصفحہ اوّل پر شائع کیا ،لیکن ڈان کےسوا کسی اخبار نےبھی اسےشہ سرخی کےساتھ شائع نہیں کیا۔ روزنامہ جنگ کراچی نےخبر کو پانچ کالمی سرخی کےساتھ شائع کیا۔ دی نیوز کراچی نے اسے تین کالمی سرخی کےساتھ رپورٹ کیا ہے۔ روزنامہ جسارت کراچی نےاسےچار کالمی سرخی کےلائق سمجھا۔ لیکن اس پر شہ سرخی صرف روزنامہ ڈان نےلگائی۔ حالانکہ انگریزی اخبارات بالخصوص ڈان اس طرح کی خبروں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ اہم بات یہ ہےکہ ڈان خبر کو شہ سرخی کے ذریعے میزائل بنا کر نہیں رہ گیا، اس نے اپنے سنجیدہ مزاج کےبرعکس سرخی کےالفاظ بھی چیختے چنگھاڑتے منتخب کیے ہیں۔ ڈان کی شہ سرخی یہ تھی:
“Yet another shrine comes under attack”
اس سرخی کے ذریعے رپورٹر نے صرف واقعے کو رپورٹ نہیں کیا بلکہ اس نے اپنے قاری کو یاد دلایا ہےکہ مزارات پر مسلسل حملے ہورہےہیں اور بابا فرید کےمزار پر حملہ اسی سلسلےکی تازہ ترین کڑی ہے۔ تجزیہ کیا جائےتو اس سرخی میں زرد صحافت کرنے والےاخبارات کی طرح کی سنسنی خیزی ہے اور کسی انگریزی اخبار کیا قومی نوعیت کے اردو اخبار سے بھی اس طرح کی سنسنی خیزی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
اس طرح کی خبر تحریر کرنے کا اصولی اور کلاسیکل طریقہ یہ ہےکہ خبر کا ایک جامع ابتدائیہ لکھا جائےجس میں خبر کےتمام اہم پہلوئوں کا احاطہ ہوجائے، اور پھر متن میں ابتدایئے کی تفصیلات دےدی جائیں۔ ڈان میں اکثر خبریں اسی طرح تحریر ہوتی ہیں، مگر زیر بحث خبر اس طریقےسے نہیں لکھی گئی۔ خبر کا ابتدائیہ ختم ہوا تو رپورٹر نے اپنےقارئین کو یاد دلانا ضروری سمجھاکہ یہ گزشتہ چار ماہ میں ہونے والا اس نوعیت کا تیسرا اور 2007ء سے اب تک ہونے والا پانچواں واقعہ ہے۔ رپورٹر چاہتا تو یہاں بات ختم کرکے ابتدایئےکی تفصیلات بیان کرتا، مگر اُس نےاس کےبعد مزارات پر ہونے والےتینوں حملوں کی تفصیلات تحریر کرڈالیں۔ بلاشبہ خبر میں اس طرح کی تفصیلات دی جاتی ہیں مگر خبر کے آخر میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر ”مثلثِ معکوس“ یا Inverted Pyramid کےاصول پر تحریر کی جاتی ہے۔ یعنی خبر کی سب سے اہم بات سب سے پہلےتحریر کی جاتی ہےاور پھر اہمیت کےاعتبار سےدوسری باتیں۔ لیکن ملک کےسب سےبڑی، سب سےاہم، سب سےسنجیدہ اخبار کا رپورٹر یہ خبر فائل کرتےہوئےخبر تحریر کرنےکےاصول کو یکسر بھول گیا۔ اِس سلسلےمیں اُس کی ساری دلچسپی یہ نظرآئی کہ اس کےقارئین خبر کی ابتداء ہی سے یہ باور کرلیں کہ دھماکا یقینا طالبان نےکیا ہےجو خون آشام ہیں، درندےہیں، مزارات کےدشمن ہیں، ان پر جانے والوں کو کافر سمجھتےہیں۔ تو کیا طالبان نے بم دھماکےکی ذمےداری قبول کی ہے؟ اس حوالےسے ڈان کے رپورٹر نےجو کچھ لکھا ہےاسے پڑھ کر بیک وقت رویا بھی جاسکتا ہےاور ہنسا بھی جاسکتا ہے۔ ڈان کےرپورٹر نےلکھا ہے:
“No one claimed responsibility for attack, but in the past Taliban militants have been blamed for such attacks.”
(ترجمہ) ”کسی نےحملےکی ذمےداری قبول نہیں کی تاہم ماضی میں طالبان کےجنگجوئوں پر اس طرح کےحملوں کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔“
تجزیہ کیا جائےتو ڈان کےرپورٹر نےالزام کو ”امر واقع“ کےانداز میں رپورٹ کرڈالا۔ پاکستان میں رائےعامہ کےدرجنوں رہنما کہہ رہےہیں کہ پاکستان میں جتنے بم دھماکے ہورہےہیں ان میں امریکا اور اس کےادارےملوث ہیں، مگر ہم نےڈان کی کسی خبر میں آج تک یہ نہیں پڑھا کہ ماضی میں اس طرح کے واقعات کا الزام امریکا پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ویسےخالص خبر یا Hard news میں کہیں بھی الزامات کا ذکر نہیں ہوتا۔ خبر میں الزام کا حوالہ آتا بھی ہےتو الزام لگانےوالےکا نام ساتھ لکھا جاتا ہے۔ ایسا اس لیےکیا جاتا ہےکہ الزام کا الزام اخبار کےبجائےالزام لگانےوالےکے سر جائے۔ لیکن ڈان کے رپورٹر کو طالبان سے ایسی نفرت ہےکہ اس نےیہ بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا کہ ماضی میں طالبان پر بم دھماکےکرنےکا الزام کون عائد کرتا رہا ہے؟ اگر یہاں یہ فرض کرلیا جائےکہ رپورٹر کا اشارہ حکومت کی طرف ہوگا، تو حکومت کےالزامات کا یہ حال ہےکہ وزیر داخلہ رحمن ملک نےعبداللہ شاہ غازی کےمزار پر حملہ کرنےوالوں کےنام جاری کیےمگر ایک دن بعد ہی معلوم ہوگیا کہ دونوں خودکش بمبار ”زندہ “ ہیں۔
ڈان کے رپورٹر کو داد دینی چاہیےکہ اس نےخودساختہ مذہبی انتہا پسندوں یا طالبان کا تعاقب خبر کی آخری سطروں تک کیا۔ خبر کی آخری سطروں کا ترجمہ یہ ہے:
”کہا جاتا ہےکہ پاک پتن میں واقع (بابا فرید کا) مزار لاہور کے داتا دربار کےبعد ملک کا مقدس ترین مزار ہے۔“
یہاں سوال یہ ہےکہ ان سطروں میں ”داد کےقابل“ بات کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہےکہ خبر میں صوفیائےکرام کےمزارات کو Revered یعنی ”مقدس“ قرار دیا گیا ہے۔ یہ بجائےخود قابلِ اعتراض بات نہیں لیکن ڈان اپنے سیکولر کردار کےباعث مسلمانوں کےقبلہ اوّل کو بھی مقدس قرار نہیں دیتا۔ وہ فلسطینیوں کی جدوجہد کو قومی، سیاسی اور سیکولر جدوجہد باور کراتا رہا ہے، لیکن طالبان کےخلاف عوامی جذبات کو ابھارنے کےلیے اسے صوفیائےکرام کے مزارات میں بھی ”تقدس“ نظر آنےلگا ہے۔
امریکا نےخلیج کی پہلی جنگ ذرائع ابلاغ کی مدد سےلڑی اور جیتی تھی۔ وہ افغانستان کےخلاف جارحیت میں بھی ذرائع ابلاغ کی مدد سےکامیاب ہونا چاہتا ہے۔ لیکن ان دونوں مثالوں کا فرق یہ ہےکہ خلیج کی پہلی جنگ امریکا نے اپنےذرائع ابلاغ کی مدد سےجیتی تھی لیکن افغانستان کی جنگ میں مقامی ”سیکولر مجاہدوں“ کا کردار اہم ہے۔ مالکان اور صحافیوں کی صورت میں یہ سیکولر مجاہد اخبارات اور جرائد میں موجود ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی چینلوں میں موجود ہیں۔ امریکا کی طرح اس کےسیکولر مجاہدوں کو بھی معلوم ہےکہ امریکا افغانستان سے شکست کھا کر نکلےگا تو تاریخ بدل کر رہ جائےگی، چنانچہ وہ ایک ایک خبر اور ایک ایک تجزیے پہ جان لڑا رہےہیں۔
مریم گیلانی روزنامہ مشرق کی معروف کالمسٹ ہیں۔ وہ پاکستان ریلوے کی ریجنل ڈائریکٹر ہیں اور ان دنوں بلاضابطہ بھرتیوں کی مخالفت پر عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے حاجی بلور کی زیر اعتاب ہیں۔ حاجی صاحب ریلوے کے وفاقی وزیر ہیں جو پشاور کے اکثر سنیما ہاوسز کے مالک ہیں اور ٹوٹے چلانے کے لیے مشہور ہیں۔ مریم گیلانی نے سوال کیا ہے کہ کیا کوئی باغیرت مرد اس معاشرے میں نہیں ہے؟ شاید کسی عجائب خانے میں ہو کہ یہ آج کل کوئی غیرت آج کل کے زمانے میں عجیب چیز بن گئی ہے جو’’اپنے گھر‘‘ یعنی عجائب خانے میں ہی ہوسکتی ہے۔
پورا مضمون ملاحظہ کیجیے۔
……………………………………….
کبھی کوئی آواز سنائی دیتی ہےجو کہتی ہے سب کہہ دو‘ کبھی ٹی وی اسکرین پر بےشمار نوجوان لڑکےاور لڑکیاں ہنستےمسکراتے آپس میں باتیں کرتےدکھائی دیتےہیں ‘ کبھی ایک ہی لڑکےکے پیچھےدو لڑکے چلتے چلتےاسےمختلف قسم کےلالچ دےرہےہوتےہیں اور لڑکی انہیں درخوراعتناءنہیں سمجھتی‘ یکایک ایک لڑکا چلّا کر کہتا ہےمیں تم سےدن رات لگاتار بات کروں گا اور بس لڑکی ریجھ جاتی ہے۔ شریف لوگ یہ باتیں آخر کیسےبرداشت کرسکتےہیں اور جہاں تک میں اس قوم کو جانتی ہو یہ شرفاءکی قوم ہے۔ اپنی بچیوں کےحوالےسےہم بڑےہی غیرت مند ثابت ہوئےہیں۔ یہ ٹھیک ہےترقی پسند کہلانےکا جنون اس قوم کو پرو یزمشرف نےبخشا ہےاور موجودہ حکومت بھی اس ترقی پسند کےاظہار میں کچھ نہیں لیکن اس سب سےاس قوم کی آنکھ کی شرم مر نہیں جاتی۔ ہم کتنےبھی ترقی پسند ہوجائیں‘ دنیا کی روایات سےجس قدر بھی کاندھا ملا کر چلنا چاہیں اس کےباوجود اپنی بچیوں کےحوالےسےہمیشہ انہی دقیانوسی خیالات کےمالک رہتےہیں۔ کوئی راہ چلتا لڑکا‘ کسی بچی سےفون پر بات کرنا چاہے‘ کوئی لڑکا اور لڑکی آپس میں ساری رات گفتگو کرنا چاہیں‘ کوئی انجانا شخص ہماری کسی بیٹی کو سب کہہ دینا چاہے‘ یہ باتیں صرف معیوب ہی نہیں ایک باغیرت آدمی کےلیےڈوب مرنےکا مقام ہےکیونکہ ہم اتنےماڈرن کبھی نہیں ہوسکتے۔
کمال کی بات یہ ہےکہ ہمارا میڈیا یہ سب چیزیں دن رات دکھارہا ہےاور کسی کو ان پر کوئی اعتراض نہیں ‘ ہر ٹیلی فون نیٹ ورک صرف یہ دکھا کر اپنی سم بیچنےکی کوشش کررہا ہےکہ اس ایک سم کےخریدنے سےایک لڑکا کتنی آسانی سےکسی بھی لڑکی سےبات کرسکتا ہے۔ کیا ہماری زندگیوں کا بس اب صرف یہی مقصد رہ گیا ہے؟ کیا زندگی میں اس سے بہتر ہدف کوئی اور دکھائی ہی نہیں دیتا کہ کس طور ایک ہاتھ نہ آنےوالی لڑکی کو گفتگو کےجال میں پھنسایا جاسکےاور کیا ہر وہ شخص جو کسی بچی کا باپ ہےیہ برداشت کرسکتا ہےکہ اس کی بیٹی دن رات لگاتار لڑکو ں سےبات کرتی رہے۔ اس معاشرےکی اقدار میں بگاڑ بلاشبہ ہوگا‘ ہم ترقی پسند ہوگئے ہوں گےلیکن اس طرح بیٹیاں موبائل فونوں کےٹھیلوں پر لگا کر لوگوں کےحوالےنہیں کردی جاتیں۔ عورت کی آزادی کےبھی ہم بہت شوقین ہوں گےلیکن اتنی بےمحابہ آزادی کون شریف آدمی برداشت کرےگا؟ یہ ٹیلی فون کمپنیاں عورت کو ایک سودےکی طرح بیچنےکی کوشش کررہی ہیں۔
حیرت مجھےاس بات پر ہےکہ یا تو ہمیں اس بات کا ادراک ہی نہیں اور یا پھر ہمیں اس بات پر اعتراض نہیں کیونکہ ایک صبح جب میں نے ایک نیوز چینل لگانےکےلیےٹی وی کھولا تو اس پر ایک فون کمپنی کا یہ اشتہار آرہا تھا جس میں ایک لڑکےکےپیچھےدو لڑکےلگےہوئےتھے۔ غصےنے یوں طبیعت پر گرفت کی کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کروں۔ کیا اب شرافت کی کوئی بات نہ ہوگی اور وہ بچیاں جو اس معاشرےکے ہر گھر میں موجود ہیں صرف غیرمردوں کے لبھانےکو ہی رہ گئی ہیں۔
یہ دور ماڈرن دور ہے لڑکا اور لڑکی کےبات کرنےمیں معیوب بات نہیں سمجھے جاتی لیکن کیا ہم اتنےبےغیرت ہوگئےہیں کہ میڈیا سرعام یہ پیغام نشر کرتا ہےکہ لڑکیوں کےلیے وہ لڑکےپسندیدہ ہونےچاہئیں جو ان سےدن رات بات کریں۔ تو پھر ماں باپ کی ضرورت ہی کیا ہے۔ عورت کا عورت کہلایا جانا ہی کیا ضروری ہےکیونکہ مستور کےمعنی تو ڈھکےہوئےہونےکےہیں۔ یہ وقت اور یہ ترقی تو عورت کےآسکار ہوجانےکی دعوت دےرہی ہےاور اگر ہم خاموش ہیں تو دراصل کہیں نہ کہیں اس سب کےلیےآمادگی ہمارےدلوں میں گھر کرچکی ہی۔ اب عورت نہیں ہےکیک پیسٹری ہوگئی اور بیکری میں داخل ہونےوالا ہر شخص اسےللچائی ہوئی نظروں سےدیکھ رہا ہے۔ آج ان فون کمپنیوں کا اسےمشورہ یہ ہےکہ ہر للچائی ہوئی نظر اور رال ٹپکاتےفقرےکےجواب میں اسےاترانا چاہیےخود پر ناز محسوس ہونا چاہیے۔ یہ اسےسکھارہےہیں کہ کون کون سی ادائیں کیسےدکھائی جاسکتی ہیں تاکہ تماش بینوں کےلیےمنظر دلفریب ہوسکےاور موبائل فون کی سمیں زیادہ سےزیادہ بک سکیں۔ کیا ہم واقعی بےغیرتی کی اس حد تک پہنچ چکےہیں جہاں ایسی باتوں نےاثر کرنا بند کردیا ہےیا ہم روٹی‘ کپڑا اور مکان میں ایسےالجھ گئےہیں کہ عزت اور غیرت جیسی کیفیات اپنےہی پیروں تلےروندی گئی ہیں۔ کیا ہمارےآنگنوں میں پلتی بچیاں اتنی سستی اور اتنی بےوقعت ہیں کہ ایک سو روپےکی سم بیچنےکےلیےانہیں شکار بنا کر دکھایا جائے۔ آنکھوں کی شرم و حیات کی بات تو چھوڑیے یہ لڑکےبھی کیا لڑکےہیں جو ان اشتہاروں میں دکھائےجاتےہیں جن کےرویوں میں کوئی وقار نہیں اور لہجوں میں کسی عورت کا احترام نہیں۔ وہ غیرت کی بات کیا کریں گے اپنی بہنوں کی عزتوں کےکیا ضامن ہوں گےجو دن رات دوسری لڑکیوں کو صرف حاصل کرنےکی چیز سمجھ کر پیچھا کریں گے۔
اس معاشرےمیں عورت کا کیا مقام ہونا چاہیے‘ کیسا احترام اس کی ذات سےوابستہ کیا جانا چاہیے کہ یہ ایک اسلامی معاشرہ ہےیہ باتیں تو اب پرانی ہوگئیں شاید ہم بھول گئےہیں لیکن کیا انسان ہونا بھی بھول گئےہیں آپس کا احترام اور حدیں بھی بھول گئےہیں؟ اگر عورت خود اپنا تحفظ کرسکنےسے قاصر ہوگئی ہےتو کیا ایسا کوئی باغیرت مرد اس معاشرے میں نہیں جو کم از کم یہ اعتراض ہی اٹھاسکے کہ اس طور کےاشتہارات بند کیےجائیں جو اسےایسا کم حیثیت ثابت کرتےہوں۔ اور سوچنا تو یہ بھی ہےکہ عورت کی آزادی کےاس دور میں آخر عورتوں کو یہ اعتراض کیوں نہیں کہ انہیں انسان دکھانےکےبجائےخاصےکی ایک چیز بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ ان ٹیلی فون کمپنیوں پر تو مقدمہ ہونا چاہیےکیا پیمرا میں کوئی باضمیر شخص موجود نہیں۔آخر کس قسم کی سنسر شپ پالیسی ہےجو ایسی بےغیرتی کو کروڑوں لوگوں کی بصارتوں تک پہنچنےسےروک نہیں سکتی۔ ٹیلی فون کمپنیوں کا ہی محاسبہ کیا جانا چاہیےجنہیں اقدار کی شائستگی کا تو علم نہیں اور پامالی کو انہوں نےتفاخر بنالیا ہے۔ لیکن بات پھر بھی وہی ہے۔ وہ کہتےہیں سب کہہ دو کیونکہ ہم اور آپ کچھ نہیں کہتے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی المعروف ایزی لوڈ والے بابا کے شہر مردان سے ان کی اپنی پارٹی کے ممبر قومی اسمبلی نوابزادہ محمد خان ہوتی نے انکشاف کیا ہے کہ اے این پی کی حکومت سیلاب زدگان کے لیے جمع شدہ اربوں روپے کا بڑا حصہ خود ہڑپ کرگئی ہے اور باقی کھانے میں مصروف ہے۔ میرے لیے یہ خبر باعث تعجب نہیں بہر حال گھر کی گواہی اہم ضرور ہے۔ اے این پی کا اگر اس کی پاکستان دشمنی اور بھارت و روس دوستی کے علاوہ کوئی حوالہ تھا تو وہ کفن چور اور آٹا چور پارٹی کا تھا۔ اس کی حکومت میں خیبر پختونخوا کے عوام آٹے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اب سیلاب زدگان کے لیے جمع ہونے والی امدادی رقوم بھی یہ کھاگئے۔
امیر حیدر خان کے پی اے کا نام رسول شاہ سے وصول شاہ صرف اس لیے پڑ گیا ہے کیوں کہ وہ وزیر اعلیٰ کے لیے وصولی کرتا ہے۔ مردان شہر کے رکشوں کے پیچھے ’’ باباته ايزي لوډ اوکه‘‘( بابا کو ایزی لوڈ کردو) اور حکومت کی طرف سے جبری طور پر اُسے ہٹانے کے بعد ’’بابا په خفه کيږي”(بابا اس سے ناراض ہوتے ہیں) سب نے لکھا ہوا دیکھا۔ لیکن سیلاب زدگان کے لیے جمع رقوم کو دونوں ہاتھوں سے کھانا بہت ہی زیادہ بے ہودہ بات ہے، یہ الگ بات ہے کہ بے ہودہ کیا ہوتا ہے یہ ان کو نہیں پتہ۔
نوابزادہ صاحب نے یہ بھی بتایا کہ پٹواریوں کو جعلی وطن کارڈ لسٹوں کی تیاری میں لگا دیا گیا ہے ۔ اے این پی کے رہنما وطن کارڈ کے ذریعے اپنی جیبیں بھرنے کا پلان بناچکے ہیں۔
میرا انگریزی سے اردو بلاگستان کی طرف سفر بڑا خوشگوار رہا۔ اگرچہ اس کا تھوڑا بہت اثر انگریزی بلاگ پر پڑھا اور میں اسے مناسب وقت نہ دے سکا لیکن میں نے دونوں کو جاری رکھا۔ حال ہی میں میں نے آج ٹی کے بلاگ کے لیے لکھنا شروع کردیا ہے ‘ اور میرا پہلا پوسٹ بھائی سے متعلق ہے۔
انگریزی اور اردو کے علاوہ اب آپ ميرا پشتو بلاگ ’’خواہ مخواہ‘‘ بھی وِزٹ کرسکتے ہیں۔ یہاں خواہ مخواہ لازمی کے معنوں میں ہے اور اس بلاگ پر یہ لازم ہے کہ اخوا( ادھر) دیخوا ( ادھر) کی خبریں اور ان پر تبصرے پشتو سمجھنے والے قارئین تک پہنچائے۔
یہاں یہ بتاتا چلوں کہ پشتو بلاگزکی تعداداگرچہ اتنی زیادہ نہیں ہے لیکن پشتو ویب پیجز اور بلاگز اردو بلاگزسے زیادہ موثر ہیں۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ میرے ایک دوست پشتو کے بلاگ کو ایڈیٹ کرتے ہیں افغان صدارتی الیکشن سے ایک سال قبل ان کو پیشکش ہوئی کہ وہ حامد کرزئی کے بارے میں صدارتی انتخاب تک مضامین شائع نہ کریں، اس کے بدلے ان کو 1000امریکی ڈالرز ماہانہ دیے جائیں گے۔ اس سے آپ اندازہ لگ اسکتے ہیں کہ ان کا کتنا اثر ہوگا۔ ویسے پشتو بلاگستان پر موجود اکثر بلاگرز سرخ انقلاب کی تحریک کی پیداوار ہیں۔
کوئی کہتا ہےالطاف حسین نےپنیترا بدل دیا‘بعض کا خیال ہےکہ یہ لندن میں اپنےگرد گھیرا تنگ کرنےوالوں کو دھمکی ہے‘کچھ کی رائےمیں اس کا تعلق ملک کےاندر کےجوڑ توڑ سے ہے۔ عافیہ صدیقی کی سزا کےخلاف فقید المثال ریلیوں سےبھائی کےٹیلی فونک خطاب سے دو دن قبل انہوں نےایک خط کےذریعےاطلاع دی کہ پنجابی/پاکستانی اسٹبلشمنٹ کےبعد اب انٹرنیشنل اسٹبلشمنٹ بھی ان کےپیچھےپڑگئی ہےاور ان کو مٹانےکےدرپے ہے۔ یہ غیر معمولی اطلاع(بریکنگ نیوز) تھی کیوں کہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کےحوالےسےقادیانی لابی کی پرچی اور سرٹیفکیٹ بھی الطاف بھائی کےپاس تھی۔پھر متحدہ سےامریکا کےتعلق کی حالت یہ ہےکہ امریکی سفیر پاکستان آتےجاتےبھائی کےلوگوں سےملنا ضروری سمجھتی ہیں(تصویر اور تبصرہ بشکریہ جسارت ذیل میں ملاحظہ کریں)
اب ممکنا ت پرکچھ بات کریں۔ ہوسکتا ہےالطاف حسین کا ذہن بدلا ہو اور اسی کےسبب انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ یعنی امریکا ان کےپیچھےپڑگیا ہو۔ ہم اللہ سےجو دعائیں مانگتےہیں ان میں ایک دعا موت کےوقت زبان پر کلمہ طیبہ کےحوالےسےبھی ہے۔ لہٰذا اللہ کسی انتہائی نیک بندےکو آخری لمحےکےعمل کےسبب جہنم اور کسی برےبندےکوآخری لمحات میں اچھےعمل کےسبب جنت میں داخل فرماتےہیں۔ ممکن ہو کہ الطاف بھائی کی سوچ بدلی ہو اور میری دعا ہےکہ وہ اپنی باتوں پر قائم رہےتو میری دلی نفرت ان کےلیےمحبت میں تبدیل ہوتےدیر نہیں لگےگی۔
متحدہ مخالف کچھ لوگوں کو یہ کہتےبھی ہم نےسنا ہےکہ الطاف حسین کےاندر منور حسن کی روح چلی تھی/ہے۔ بعض نےکہا کہ جماعت والوں نےلندن سکریٹریٹ پر قبضہ کرکےمنور حسن سےالطاف حسین کی آواز میں تقریر کروائی ہے۔ ایک صاحب اس پر کہنے لگےکہ تقریر تو یقینا الطاف حسین نےکی ہےلیکن انہوں بالآخر وہی باتیں کیں جو جماعت اسلامی گزشتہ 9برسوں سےکررہی ہے۔
معاملہ جو بھی ہو‘ الطاف حسین کےتمام تر تاریک ماضی کےباوجود کل وہ ہمیں کچھ اچھےلگ رہےتھی۔ اللہ کرےوہ مستقل اچھےلگنےکا سامان کرتےرہیں اور ان کا ’یوٹرن‘ ’یوں ٹرن‘ نہ ہو۔
نوٹ: جنگ اخبار کی آج کی سرخی بھی خلاف معمول دلچسپ ہے۔
نواب اکبر بگٹی کے صاحب زادے اور جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ طلال بگٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرف کے لیے تارا مسیح بننے والے کو ایک ہزار ایکٹر اراضی دیں گے۔ ایک ہزار ایکٹر زمین کی قیمت بہت بڑی ہوتی ہے۔ میری خاندانی زمین ہزارنہیں بلکہ چند ایکٹر ہے اس لیے میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں پرویز مشرف کے لیے ’’تارا مسیح‘‘ بننے والے کے لیے اراضی کو اعلان کروں لیکن اگر کسی نے جامعہ حفصہ کی حفاظ قرآن بچیوں کے قاتل بدبخت میراثی جو بدقسمتی سے فوجی جنرل اور پھر صدر پاکستان بنا کو اس کے انجام (قانونی طریقے سے ) تک پہنچایا تو اس کو میری طرف سے 25ہزار روپے کا انعام ملے گا۔
بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک شخص نے دلت خاتون کے
یہ کتا دلت خاتون سے روٹی کھانے کے سبب اپنے مالک کے گھر نہیں رہ سکتا
ہاتھوں روٹی کھانے پر اپنے پالتو کتّے کو گھر سے نکال دیا ہے۔
مذکورہ کتّا ایک راجپوت خاندان کا ہے جسے دلت خاتون نے روٹی کھلائی۔ بطور سزا پنچایت نے روٹی کھلانے کے جرم میں خاتون پر بھی پندرہ ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
خاتون نے اس زیادتی کے لیے پولیس سے شکایت کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ حکام نے اس بارے میں کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔
کتے کا نام شیرو اور اس کے مالک کا نام امرت لال ہے۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش کے ضلع مرینا میں مانیکا پور گاؤں کا ہے۔
ہوا یوں ہے کہ دلت خاتون سنیتا جاٹو کھیت میں کام کرنے والے اپنے شوہر کے لیے کھانا لے کر گئی تھیں۔ شوہر کے کھانے کے بعد روٹی کے جو ٹکڑے بچے تھے وہ انہوں نے اس پالتو کتے کو ڈال دیے۔
شیرو نے روٹی بڑے شوق سے کھالی مگر اس کے مالک امرت لال نے دیکھ لیا۔ پہلے تو امرت لال نے سنیتا کو کھری کھوٹی سنائی پھر یہ کہہ کر کہ چونکہ اس کے کتّے نے دلت کے گھر کی روٹی کھا لی ہے اس لیے اب وہ اس لائق نہیں رہا کہ اس کے گھر میں رہ سکے۔
اب یہ کتّا گاؤں میں دلتوں کی اکثریت والے علاقے میں ایک کھمبے سے باندھ دیا گیا ہے۔ اور مالک اسے لے جانے کے لیے تیار نہیں۔
کتے کے اونچی ذات کے مالک نےگاؤں کی پنچایت میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کتّے کی شکل میں اس کا بہت نقصان ہوا اس لیے پنچایت نے دلت خاتون پر پندرہ ہزار روپے کا جرمانہ عائد کر دیا۔
یہ معاملہ اب اس خصوصی تھانے میں ہے جس میں ہریجن اور دلتوں کے معاملات کی دیکھ ریکھ ہوتی ہے۔
بھارت میں ذات پات کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک ایک عام بات ہے۔ دیہی علاقوں میں نام نہاد اونچی ذات کے لوگ اپنے کنویں سے دلتوں کو پانی نہیں بھرنے دیتے اور نا ہی ان کے کنویں سے پیتے ہیں۔ بشکریہ:بی بی سی اردو
انتہائی دکھ کے ساتھ یہ اطلاع دی جارہی ہے کہ ہمارے ہردلعزیز بلاگر ساتھی ابوشامل ( فہد کیہر ) کے والد محترم آج شام 5 بجے رضائے الٰہی سے انتقال فرما گئے۔ مرحوم کی نماز جنازہ کل صبح جامعہ مسجد ملیر ہومز میں ادا کی جائے گی۔ ہماری اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ابوشامل اور ان کے گھر والوں کو صبر جمیل اور ان کے والد کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
جس وقت ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں اس وقت کی’ صدر‘ جنرل پرویز مشرف کےساتھ ڈیل کرنےمیں مصروف تھیں‘ سوسائٹی میڈیا ( بلاگرز) سول سوسائٹی ‘وکلاءاور چند سیاسی جماعتوں کےساتھ مل کر ایک ایسی تحریک چلارہا تھا جو عدلیہ کی آزادی پر منتج ہوئی ۔ یہ ایک تاریخی تحریک تھی جس کا سبق بھی تاریخی ہےیعنی اگر سوسائٹی کا پڑھا لکھا طبقہ کوئی تبدیلی لانےکی ٹھان لےتو پھر یہ تبدیلی لاکر رہتا ہے۔ ویسےبھی موجود ہ حکمرانوں کےہاتھوں اقتداراعلیٰ سےمحروم پاکستان ریاست کی تعریف پر پورا نہیں اُترتا بلکہ سیاسیات کی تعریف کی رو سےپاکستان ریاست نہیں بلکہ معاشرہ ہے‘ اس معاشرےکےارکان ‘ سول سوسائٹی اور کسی مالی لالچ و طمع سےماورا سوسائٹی میڈیا کےارکان ہی کوئی تبدیلی لاسکتےہیں یا پھر وہ سیاسی جماعتیں جو اقتدار پر براجماں ہونےسےزیادہ ملک کی بقا کی جنگ لڑنےمیں سنجیدہ ہوں۔ یہ جملہ معترضہ تھا۔ دوسری مثال گزشتہ دنوں ایک امریکی امیگریشن ایجنسی کی جانب سےبلوچستان کو ایک ریاست کےطور پر فارم میں شامل کرنےکا واقعہ ہے۔ بلوچستان کو سوسائٹی میڈیا خصوصاً ”یونین آف پیٹریاٹیک بلاگرز فار ساورن پاکستان “کی مہم کےنتیجےمیں اس فارم سے نکال دیا گیا۔ ان دونوں واقعات سےیہی سبق ملتا ہے اور یہ پیغام ہے ’’ملک کے نوجوان بلاگرو آگےآئو ! یہ تبدیلی آپ ہی لائیں گے۔ ۔سائبرس سپیس محاذ پر ملک کی حفاظت آپ ہی کی ذمہ داری ہے۔ واضح رہےکہ میرا مقصد سیاسی جماعتوں سےلوگوں کو بدظن کرنا نہیں بلکہ بتانا یہ مقصود ہےکہ آپ ان کےبغیر بھی کوئی تبدیلی لاسکتےہیں‘ آپ ان میں سےان پارٹیوں کےساتھ مل کر کچھ کرسکتےہیں جو واقعی مخلص ہیں۔
بلیک واٹر کی موجودگی کےثبوت
حکومت اس دعویٰ کو غلط ثابت کرنےکےلیےسوائےبیان بازی کےکوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکی ہےکہ ملک میں بلیک واٹر کو منظم کیا جارہا ہےتاہم ہمارےپاس اپنےدعویٰ کےحق میں ثبوت ہیں جن کو قطعی طور پر جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔ ایسا ایک ثبوت بلیک واٹر کی طرف سےاردواور پنجابی زبان پر عبور رکھنےوالوں کا بطور ایجنٹ بھرتی کرنا ہے۔ ظاہر سی بات ہےکہ اردو اور پنجابی بولنےوالوں کو چین یا ویت نام کےلیےبھرتی نہیں کیا جا رہا ہےبلکہ ان کوپاکستان میں ہی تعینات کیا جائےگا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہےکہ بلیک واٹر پاکستان میں ہے۔ اس کےعلاوہ بھی بہت سارےثبوت ہیں۔ اب اگر حکومت نہیں مانتی تو نہ مانے‘ ہم مانتےہیں اور اس حوالےسےپورے پاکستانی معاشرےمیں آگاہی پھیلانےکو اپنا فرض سمجھتےہیں۔
ایک تازہ خبر یہ ہےکہ بلیک واٹر نےپشاور اور اسلام آباد میں منظم ہونےکےبعد اب کراچی میں بھی اپنا نیٹ ورک قائم کرلیا ہےاور اس مقصد کےلیے11بنگلےڈیفنس اور گلشن اقبال کےعلاقوں میں کرایہ پر حاصل کرلیےگئےہیں۔ ان میں سےایک بنگلہ ڈیفنس کےعلاقےخیابان شمشیر میں واقع ہے‘ جس کو بلیک واٹر کےریجنل ہیڈکوارٹر کےطور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کےعلاوہ 22افراد کو بھرتی کیا گیا ہے جن میں اکثریت قانون نافذ کرنےوالےاداروں کےسابق افسران ہیں۔
ہمارے یا ان کےسفیر ؟
بلاگز اور اخبارات میں اس مسئلہ پر خبر یں اور کالم چھپنے‘ خصوصاً ڈاکٹر شیرین مزاری کےکالموں کےبعد ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نےامریکیوں کی تھوڑی بہت نگرانی شروع کردی تھی اور چارٹڈ فلائٹس کا سلسلہ بھی کچھ وقت کےلیےروک گیا تھا۔ لیکن اب امریکی سفیر معاف کیجیےگا امریکا میں پاکستانی سفیر میدان میں آگئےہیں اور انہوں نےسیکرٹری خارجہ اور آئی ایس آئی کےچیف کو ایک خط کےذریعےخبردار کردیا ہےکہ وہ ایسا نہ کریں کیوں کہ اس کےپاکستان کےلیےکچھ اچھےنتائج نہیں نکلیں گی۔ کوئی حقانی صاحب کو بتائیں کہ جناب امریکا تو اپنےشہریوں کو پاکستان کا دورہ کرنےسےگریز کا مشورہ دیتا رہا ہے پھر آپ کی خصوصی اجازت سےسیکڑوں کی تعداد میں آنےوالےکون ہیں؟ ان کو پورےملک میں خونخوار امریکی قاتلوں کےٹولےبلیک واٹر کی سرگرمیوں پر تشویش سےآگاہ ہونا چاہیےلیکن ان کو زیادہ سروکار امریکی ناراضی سےہے۔
کرنا کیا چاہیے؟
کیا یہ صورت حال تشویش ناک نہیں ہے؟ کیا اس صورت حال میں ہماری کوئی ذمہ داری نہیں بنتی ؟ اگر ہاں تو پھر آئیں اور’’بلیک واٹراور امریکی میرینز کو نکالو‘ امریکا کو پیش قدمی سے رکو‘‘مہم کا حصہ بنیں ۔ اس سلسلےمیں درج ذیل کام کرنےکےہیں ۔ آپ مزید تجاویز دےسکتےہیں۔اور ان تجاویز کو ان میں شامل کرکےاپ ڈیٹ کیا جاتا رہےگا۔
آپ اس سلسلےمیں انٹرنیٹ پر زیادہ سےزیادہ کمیونٹیاں بنائیں۔ اس سلسلےمیں میں عبداللہ رضا کی مثال دوں گا جنہوں نےفیس بک پر ایسی ہی ایک کمیونٹی بنائی ہے۔
انہوں نےایک تجویز دی ہےجس سےاتفاق کرنا چاہیےکہ جو بلاگر کسی اسکول ‘ کالج یا ونیورسٹی میں زیر تعلیم ہےوہ وہاں کےنوٹس بورڈز پر پوسٹر آویزان کرےتاکہ عام طالب علم ان خونخوار کرایہ کےقاتلوں سےآگاہ ہوسکیں۔
اسلام آباد میں امریکی سفارت خانےاور واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے( واضح رہےدونوں جگہ انہیں کےسفیر ہیں) کو زیادہ سےزیادہ تعداد میں ای میلز لکھ کر بدنام زمانہ بلیک واٹر سےمتعلق ثبوت بھیجیں اور مطالبہ کریں کہ بلیک واٹراور امریکی میرینز کو فی الفور پاکستان سےنکالاجائے۔ اس کےعلاوہ دیگر سفارت خانوں کو بھی ای میلز کر کےجمہوریت کےنام نہاد علمبردار امریکا کی کرتوتوں سےآگاہ کریں۔
سیاسی جماعتوں کےقائدین ‘ ارکان سینٹ ‘ اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کو ای میلز اور خطوط لکھ کر شرم و غیرت دلائیں کہ وہ پاکستان کی خاطر اس مسئلےپر آواز اُٹھائیں۔ ان کو یقین دلایا جائےکہ کل امریکا تو ان کو حکومت نہیں دلا سکےگا البتہ پاکستانی معاشرہ بیدار ہورہا ہےاور وہ سب کو بغورنوٹ کررہا ہے‘ وہ ہرگز کسی ایسی سیاسی جماعت یا سیاست دان کو قبول نہیں کرےگا جو ملک کےخلاف سازشوں پر خاموش رہا ہو۔کیوں کہ خاموشی نیم رضامندی ہوتی ہے۔
دانشوروں ‘ کالم نوسیوں اور ٹی وی شوز کےمیزبانوں کو خطوط لکھےجائیں۔
آپ اپنےعلاقےمیں کم ازکم ایک بینر لگا کر آگاہی کا سبب بنیں۔
اپنےعلاقےکے100ایسےلوگوں کو بلیک واٹر سےمتعلق معلومات دیں جو انٹرنٹ تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے۔اگر اتنی تعدادتک رسائی ممکن نہ ہو تو کم ازکم 10لوگوں کو تفصیلات فراہم کریں تاکہ وہ مزید لوگوں کی آگاہی کا سبب بنیں۔
اس سلسلےمیں مزید تجاویز اس ای امیل ایڈرس پر بھیج دیں تاکہ انہیں دیگر ساتھی بلاگرز کےساتھ شیئر کیا جا سکے۔
بدنام زمانہ امریکی سیکورٹی ایجنسی کے اہلکاروں نے وزراءکاطریقہ اختیار کرتے ہوئے گاڑیاں استعمال کرنا شروع کردیں
بھرتی کیے جانے والے مقامی افراد کی تعداد60ہوگئی‘مقامی ہوٹل میں ایک فلور کی بکنگ سمیت کئی علاقوں میں بنگلے حاصل کرلیے
روزنامہ جسارت کراچی نے انتہائی باخبر (یونی کوڈ/گرافک ویو)کے حوالے سے خبر دی ہے کہ حساس اداروں نے مرکزی حکومت کو بلیک واٹر کے ٹھکانوں کی رپورٹ بھیج دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بدنام زمانہ امریکی سیکورٹی ایجنسی بلیک واٹر نے کراچی میں سرگرمیوں کے معاملات منظر عام پر آنے کے بعد تیزی سے ٹھکانے تبدیل کرنے شروع کردیے ہیں‘ بلیک واٹر کے اہلکاروں نے وزراءکا طریقہ اختیار کرتے ہوئے گاڑیاں استعمال کرنا شروع کردیں‘مقامی ہوٹل میں ایک فلور کی بکنگ سمیت دیگر علاقوں میں بھی بنگلے حاصل کرلیے گئے ‘ کراچی سے بھرتی کیے جانے والے افراد کی تعداد 60ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق امریکی سیکورٹی ایجنسی بلیک واٹر کے اہلکاروں نے کراچی میں سرگرمیوں کے حوالے سے معاملات منظر عام پر آنے کے بعد تیزی سے ٹھکانے تبدیل کرنا شروع کردیے ہیںجبکہ حکومتی اتحادی جماعتوں کے افراد کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی باقاعدہ کام کرنے کے لیے رضامند کرلیا ہے۔ بلیک واٹر کے لیے کام کرنے والے مقامی افراد کی تعداد 60ہوگئی ہے جن میں 32سے زائد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریٹائرڈ اہلکارہےں۔ حکومتی اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی بھاری رقم کے عوض نہ صرف بلیک واٹر کو سہولیات فراہم کررہے ہیں بلکہ اس امریکی ایجنسی کے لیے باقاعدہ کام بھی کررہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ بلیک واٹر نے جنرلز کالونی میں سابق صدر پاکستان اور سابق گورنر سندھ کے گھروں کے قریب واقع 7گھر کرائے پر حاصل کرلیے ہیںاور حکومتی سطح پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان گھروں میں کورین اور جاپانی شہری رہائش پذیر ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ کے ڈی اے اسکیم ون میں واقع امریکی تعلیمی ادارہ میں 8گھر قائم ہیں جن میں سے ایک گھر میں امریکی قونصل خانہ کے ذمہ دار رہائش پذیر ہیں جبکہ دیگر 7گھر بلیک واٹر کے اہلکاروں اورامریکی میرینز کے استعمال میں دے دیے گئے ہیں۔ حساس ادارے کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ایک مہنگے ترین ہوٹل میں امریکی قونصل خانے کے ذمہ دار کی ہدایت پر ہوٹل کا ساتواں فلور بک کرالیا گیا ہے اور اسے بلیک واٹر کے استعمال میں دے دیا گیا ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ بلیک واٹر کو ایک اور رہائش گاہ کارساز پر واقع مسلم لیگ ہاﺅس کے قریب فراہم کی گئی ہے جبکہ اس رہائش گاہ کی جانب جانے والے راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا ہے ۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ بلیک واٹر کے اہلکاروں نے کراچی میں نقل و حرکت کے لیے BBاور BDنمبرز کی سیاہ شیشوں والی لینڈ کروزرز استعمال کرنا شروع کردی ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اس نمبر کی گاڑیاں عام طور پر کراچی میں وزراءاور قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے ان گاڑیوں کو روک کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ان کی تلاشی نہیں لیتے۔
کراچی (انٹرویو۔ طارق حبیب)ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ بلیک واٹر والے میرے پڑوس میں آچکے ہیں مگر میں ان سے نہیں ڈرتا۔حکمران بے حس ہیں میرے قتل پر صرف قوم سے معافی مانگیں گے۔ جلد بہت سے انکشافات کروں گا۔کوئٹہ پر حملے کی باتیں پاکستان کو بلیک میل کرنے کے لئے کی جارہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار قوم کے ہیرو اور معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ٹیلی فون پر جسارت سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ وہ امریکا ، ڈرون حملوں اور بلیک واٹر سے نہیں ڈرتے ۔بلیک واٹر کے اہلکار ان کے پڑوس میں آگئے ہیں اورانہیں اور ان کے اہل خانہ کو خوفزدہ کرنے کی کوششیں کرتے ہیں تاہم انہیں کسی بات کا ڈر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرانہیں قتل بھی کردیا گیا تو حکمران قوم سے معافی مانگنے کے علاوہ کچھ نہیں کریں گے جبکہ چار دن اخبارات میں خبریں شائع ہوں گی اور اس کے بعد معاملہ ختم ہوجائے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ اگر زندگی نے موقع دیا تو جلد عوام کے سامنے انتہائی اہم انکشافات کروں گا جس سے بہت سے چہرے بے نقاب ہونگے اور اہم معاملات منظر عام پر آئینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ رحمن ملک ضیاءالحق کے دور کی پیداوار ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مشرف کا ٹرائل عوامی امنگوں کی ترجمانی ہوگا مگر حکمران ایسا نہیں کریں گے۔ لال مسجد اور اکبر بگٹی قتل کے حوالے سے مشرف کا ٹرائل ضرور ہونا چاہئے۔ انہوںنے انکشاف کیا کہ بلیک واٹر نے پہلے بھی پاکستان میں سیٹ اپ قائم کرنے کی کوشش کی تھی تاہم حساس اداروں نے یہ کوشش ناکام بنادی تھی اور اس نیٹ ورک کوتوڑ دیا تھا۔ تاہم امریکا نے ناکامی کے بعد کوئٹہ پر ڈرون حملوں کا شوشا چھوڑ کر حکمرانوں کو بلیک میل کرنا شروع کردیا جس سے بزدل حکمران امریکی بلیک میلنگ میں آگئے ۔ موجودہ حکومت بے بس ہے اور کچھ نہیں کرسکتی ۔ جسارت کی جانب سے کئے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کیری لوگر بل کے مضمرات صرف صدر زرداری کے علم میں تھے اور اس حوالے سے صدر کی جانب سے کسی ادارے کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ اس بل پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرینڈز آف پاکستان کا راگ الاپنے والے پہلے خود پاکستان کے فرینڈز بن جائیں پھر کوئی دوسری بات کریں۔ ورنہ حالات بہتر نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ذولفقار علی بھٹو کے ساتھ مل کر “روکھی سوکھی کھائیں گی، ایٹم بنائیں گی”کا نعرہ لگایا تھامگر آ ج کھانے کے لئے روکھی سوکھی بھی میسر نہیں ہے اور حکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہاکہ امریکا کو ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی کی فکر چھوڑ دینی چاہیے کیونکہ ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی محفوظ ہے ۔ امریکہ صرف بلیک میل کرنے کے لئے اس طرح کا پروپیگنڈا کرتا ہے ۔
چند دن قبل فیس بک اور اس کے بعد یوٹیوب کے ذریعے سوات میں باریش بزرگوں پر پاک فوج کے’’ جوانوں‘‘ کی طرف سے بدترین تشدد کی ویڈیو کے منظر عام پرآنے کے بعد کئی ہفتوں تک جعلی ویڈیوز دکھانا والا میڈیا مجرمانہ طور پر خاموش رہا۔ میری معلومات کی حد تک اب تک سیاسی قیادت میں سے صرف جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر اسلم سلیمی صاحب کا بیان آیا ہے ۔ اس کے علاوہ انگریزی روزنامہ’’ڈان‘‘ ’’ڈیلی ٹائمز‘‘ اور ’’دی نیوز ‘‘ کے علاوہ اردو روزنامہ ’’جسارت‘‘ کو صرف اتنی توفیق ہوئی کہ بین الاقوامی میڈیا میں شائع آئی ایس پی آر کا وضاحتی بیان شائع کیا جائے اور وہ بھی انتہائی غیر نمایاں۔ اردو پریس اور ٹی وی چینلز پر مکمل بائی کاٹ۔ شاید کل روزنامہ جسارت نے اس پر شذرہ بھی لکھ ڈالاہے۔ اتنے شاندار ’’ کوریج‘‘ پر معروف صحافی حامد میر نے قوم کو مبارک بعد دی ہے۔ حسب معمول سوسائٹی میڈیا نے بتادیا کہ وہی اصل میڈیا ہے۔ اور پیپلز ریزسٹنس کے تحت پرسوں شام پانج بجے کراچی پریس کلب پر مظاہرہ کا اہتممام کیا گیا ہے۔ معاشی مفادات کے لیے کام کرنا والا میڈیا تو میڈیا نہیں بلکہ ایک صعنت ہے بالکل دیگر سرمایہ دارانہ صنعتوں کی طرح۔ اس مسئلہ پر میرے خیالات انگریزی بلاگ میں ملاحظہ کریں۔ فی الحال حامد میر کا کالم بعنوان ’’ کافر تو صرف ہم ٹھیرے‘‘ پڑھیے۔
پوری قوم کو مبارک ہو۔ ایک قومی مجرم گرفتار کر لیا گیا۔ یہ وہ شخص ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں صرف پاکستان نہیں بلکہ مسلمان بھی بدنام ہوئے۔ اس شخص نے سوات میں ایک لڑکی پر سرعام کوڑے برسا کر انسانیت کی تذلیل کی۔ لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو فلم کو پاکستانی میڈیا نے کئی دن تک ٹیلیویژن اسکرینوں اور اخبارات کی زینت بنائے رکھا۔ اس ویڈیو فلم نے سوات میں مولانا صوفی محمد اور حکومت کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی اہمیت بھی ختم کر دی اور صرف چند دنوں کے اندر اندر نہ صرف امن معاہدہ ختم ہو گیا بلکہ سوات میں ایک بڑا فوجی آپریشن بھی شروع ہوگیا۔ ایک لڑکی کو کوڑے مارنے کی فلم مارچ 2009ء میں منظر عام پر آئی تو سپریم کورٹ نے بھی اس کا از خود نوٹس لیا تھا۔ چھ ماہ کے بعد حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ سوات میں ایک لڑکی کو کوڑے مارنے والا الیاس نامی شخص ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس شخص پر جلد از جلد مقدمہ درج کر کے عدالتی کارروائی شروع کی جانی چاہئے اور جرم ثابت ہونے پر اسے سخت سزا دی جانی چاہئے۔مجھے یاد ہے کہ جب پاکستانی ٹی وی چینلز لڑکی کو کوڑے مارنے کے مناظر دن رات دکھاتے تھے اور مجبور لڑکی چیخیں بار بار سنواتے تھے تو کئی سیاسی رہنماؤں نے باقاعدہ اپنی آنکھوں میں آنسو لا کر اس وحشیانہ عمل مذمت کی تھی لیکن نجانے اب یہ رہنما ایک ایسی ویڈیو فلم پر کیوں خاموش ہیں جس میں سفید داڑھیوں والے بزرگوں پر صرف کوڑے نہیں برسائے جاتے بلکہ انہیں بھاری بھر کم بوٹوں سے زوردار ٹھڈے بھی مارے جاتے ہیں۔ یہ بزرگ کوڑے کھا کر صرف ایک ہی لفظ زبان سے نکالتے ہیں اور وہ ہے ”یا اللہ“۔
اس خاکسار نے یہ ویڈیو فلم لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کو دکھائی اور پوچھا کہ کیا کسی تھانے کے اندر درجنوں حوالاتیوں کے سامنے سفید داڑھیوں والے بزرگوں کو کوڑے مارنے سے سوات میں دہشت گردی کم ہوگی یا مزید پھیلے گی؟ قیوم صاحب خاموش رہے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ انتہائی ندامت کے ساتھ آٹھ منٹ کی یہ فلم دیکھتے رہے جو بی بی سی اور یوٹیوب کے ذریعہ پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ اس فلم میں سوات کے ایک تھانے میں چار پانچ فوجی جوان اپنے ایک افسر کی موجودگی میں گرفتار حوالاتیوں پر تشدد کرتے نظر آتے ہیں۔ حوالاتیوں کی چیخ و پکار اور آہ و بکا پشتو زبان میں ہے کوڑے مارنے والے انہیں پنجابی زبان میں گالیوں سے نواز رہے ہیں اور ایک افسر انتہائی شستہ اردو میں حوالاتیوں کو دھمکیاں دیتا ہے۔ یہ فلم ختم ہوئی تو لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا کہ گرفتار قیدیوں اور بالخصوص بزرگوں پر وحشیانہ انداز میں تشدد کرنے والے فوجی جوانوں اور افسر کا کورٹ مارشل ہونا چاہئے کیونکہ اس ویڈیو فلم سے صرف فوج اور پاکستان نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس ویڈیو فلم میں فوجی جوانوں کی طرف سے بزرگ قیدیوں پر جو تشدد نظر آتا ہے وہ طالبان کی طرف سے ایک لڑکی پر کئے جانے والے تشدد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق افواج پاکستان کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ بی بی سی اور یوٹیوب پر موجود فلم میں نظر آنے والے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔ یہ کارروائی جتنی جلد کی جائے اتنا بہتر ہوگا۔ چند دن قبل مولانا فضل الرحمن نے ایک محفل میں ایسے ہی کئی واقعات سنائے جو ڈیرہ اسماعیل خان کے آس پاس پیش آئے۔ اس محفل میں مولانا عبدالمجید ندیم شاہ، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا نذیر فاروقی، مولانا عبدالجبار، پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان، مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے انجم عقیل خان، حمید گل، سلیم صافی اور یہ خاکسار بھی موجود تھا۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ فوج اور طالبان کی لڑائی میں سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں کا ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ فوج نے طالبان کی تلاش میں ایک گاؤں کو گھیرا ڈالا اور ایک بزرگ سے پوچھ گچھ شروع کی۔ فوجیوں کو شک تھا کہ گاؤں کے لوگ طالبان کے حامی ہیں ایک فوجی افسر نے بزرگ سے پوچھا کہ پاکستان آرمی کے بارے میں تمہارا کیاخیال ہے؟ بزرگ نے کہا کہ پاکستان آرمی ہماری محافظ ہے اور ہم اپنی آرمی کی بہت قدر کرتے ہیں۔ فوجی نے کہا کہ کیا تم ہمیں کافر سمجھتے ہو؟ بزرگ نے جواب میں کہا کہ استغفراللہ ہم تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ فوجی افسر نے پوچھا کہ تم طالبان کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہو؟ بزرگ نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ طالبان نفاذ شریعت چاہتے ہیں، امریکا کے مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے سپاہی ہیں۔ فوجی افسر نے پوچھا کہ کیا تم طالبان کو کافر نہیں سمجھتے؟ بزرگ نے کہا کہ حضور نہ ہم آپ کو کافر سمجھتے ہیں نہ طالبان کو کافر سمجھتے ہیں۔ یہ سن کر فوجی افسر جھنجھلا اٹھا اور اس نے غصے سے بزرگ کو پوچھا کہ اگر طالبان بھی مسلمان اور ہم بھی مسلمان ہیں تو پھر کافر کون ہے؟ بزرگ نے بڑی عاجزی سے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ جناب کافر توہم عام لوگ ہیں جنہیں آپ دونوں سے مار پڑتی ہے۔
یہ قصہ سنا کر مولانا فضل الرحمن اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہوگئے جبکہ محفل میں موجود بزرگوں نے کیری لوگر بل، این آر او اور توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی خبروں کے حوالے سے اپنے تمام سوالوں کا رخ میری طرف موڑ دیا۔ سوالوں میں شدت اور حدت اتنی زیادہ تھی کہ میرے پسینے چھوٹ گئے اور میں نے برادرم سلیم صافی کے ہمراہ یہاں سے فرار میں عافیت سمجھی۔ خبر یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے جنوبی وزیرستان میں مجوزہ فوجی آپریشن کے بارے میں حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے نواز شریف اور آصف علی زرداری بھی مسلسل ٹیلی فون پر ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں۔ نواز شریف کیری لوگر بل اور این آر او پر رائے عامہ کی مخالف سمت میں نہیں چلیں گے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات پاکستان کو ایک ایسے موڑ ہر لے آئے ہیں جہاں کیری لوگر بل اور این آر او پر پارلیمینٹ کو وہ فیصلہ کرنا پڑے گا جو عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔ پارلیمینٹ کے فیصلے سے پاکستان بھی مضبوط ہوگا اور جمہوریت بھی مضبوط ہوگی۔ اگر ان معاملات پر پارلیمینٹ نے فیصلہ نہ کیا تو پھر معاملات نہ تو آصف زرداری اور نواز شریف کے کنٹرول میں رہیں گے اور نہ ہی فوج کنٹرول کر سکے گی۔ پھر تمام فیصلے سڑکوں پر ہوں گے اس لئے ہوش کے ناخن لئے جائیں اور قوم کی تقدیر کے فیصلے صرف پارلیمینٹ میں کئے جائیں۔
ہم اُردو میں کہتے ہیں کہ ’’فلاں کو بہت جوتے پڑرہے ہیں۔‘‘ جوتے کی مار اگر چہ مار ہی ہوتی ہے لیکن جوتا پڑنے کا وہ مطلب نہیں ہے جو معنی کسی کو مارنے یا پیٹنے کے ہیں۔ مارا تو مسلمانوں کو جارہا ہے ۔ جو امریکا صلیبی جنگ کا اعلان کرکے مسلمان ممالک پر جارحیت کا مرتک ہوا تھا اس نے ایک ایک کرکے مسلمانوں کو مارنا شروع کردیا۔ انفارمشن کلیئرنگ ہاوس نامی ویب سائٹ جس کا دعویٰ ہے کہ یہاں ہر وہ خبر بھی ملتی ہے اور بی بی سی اور سی این این پر نہیں ملتی،کہ عراق پر امریکی جارحیت کے بعد سے ۱۳۳۹۷۷۱عراقیوں کا قتل کیا جاچکا ہے، اس کے لیے امریکا کو ۴،۶۶۷ امریکی فوجیوں سے ہاتھ دھوجانا پڑا ہے ، مارے جانے والے دیگر اتحادی افواج کی تعداد ۱۱۴۶ ہے۔ افغانستان کے اعداد وشمار میرے سامنے نہیں ہیں۔ امریکا چن چن کر مسلمانوں کو مار ہی تو رہا ہے۔ لیکن اب امریکیوں کو جوتے پڑنا شروع ہوگئے ہیں تبھی تو انہوں نے افغانستان سے امریکی جنگ پاکستان کی طرف منقتل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن
کلفرڈ ڈی۔ مے
امریکی یا تو شاید حسین حقانی نامی غدار کو دیکھتے ہیں یا پھر ہمارے سیاست دانوں اور فوج کے سربراہوں سے واقف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستانی عوام امریکیوں پر مرتے ہیں۔ لیکن کل جامعہ کراچی کے شبعہ بین الاقوامی تعلقات کے طالب علم محمد حسین نے امریکیوں کو ایک اور حقیقت سے روشناس کرایا۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عوام جارح، ظالم اور دہشت گرد امریکا کے چہرے کو دیکھ چکے ہیں اور ان کو ہر گز امریکا سے کوئی محبت نہیں۔ ایک خبر کے مطابق’’ جامعہ کراچی کے طالبعلم نے امریکی اسکالر کو جوتا دے مارا‘‘ اگر میں مذکورہ ٹی وی چینل ’’آج ‘‘ کا کاپی ایڈیٹر ہوتا تو میں اس کی سرخی کچھ یوں جماتا’’ جامعہ کراچی کے طالب علم نے جارحیت کے نمائندہ کے منہ پر جوتا دے مارا‘‘ خیر اس بحث کو چھوڑیے ،خبر کی تفصیل پڑھیے؛
کراچی: ملکوں کو غلام بنانے اور وسائل پر قبضے کی امریکی جنگ کے خلاف جس نفرت کا آغاز بغداد سے ہوا تھا آج اس کا اظہار جامعہ کراچی میں ایک بار پھر اس وقت ہوا جب ایک امریکی اسکالر کلفرڈ مے کو ایک طالبعلم کے جوتے نے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ امریکا کے سابق صدر بش کو جوتا کیا پڑا کہ اب تودنیا بھر کی اہم شخصیات سر بچانے کی فکر میں رہتی ہیں کہ نجانے کب جوتے کے ذریعے عوامی نفرت کا اظہار ہو جائے۔یہی کچھ ہوا پچھلے دنوں استنبول کے دورہ پر آئے ہوئے آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر کے ساتھ جو یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میں طلباء سے خطاب کر رہے تھے۔ اس دوران ایک طالبعلم صحافی نے اپنا سفید جوتا آئی ایم ایف کے ڈائریکٹرکو دے مارا ۔بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ ، اپوزیشن لیڈر ایل کے ایڈوانی اور وزیر داخلہ چدم برم بھی جوتے کھانے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ اور اب یہی واقعہ دہرایا گیا ہے جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں، جہاں دوران لیکچر امریکی اسکالر کلفرڈ مے بھی جوتے کا شکار ہو گئے ۔امریکی اسکالر آئی ایس او کے محمد حسین کو ان کے سوال پر مطمئن نہیں کر سکے تو طالب علم نے امریکی اسکالر کو اچانک جوتا دے مارا جس سے وہ جھک کر بچ نکلے۔ واقعے کے بعد ہال میں سنا ٹا چھاگیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ لیکچر سے پہلے محمد حسین کا تعارف ایک بہترین طالب علم کے طور پر کرایا گیا تھا۔
دی نیشن کے مطابق؛ پروگرام یونیورسٹی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر منعقد کیا گیا تھا جبکہ اکثر اساتذہ مذکورہ اسلام دشمن جرنلسٹ کو مدعو کرنے پر ناراض تھے اور پروگرام میں شریک نہیں ہوئے۔
دی نیوز کے مطابق؛ صحافی جس کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا (جارج اور شیطان) جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ میں پارٹی کا سرگرم رکن رہ چکا ہے۔
امریکی اسکالر کے روئیے نےجوتا مارنے پرمجبور کیا، طالبعلم
طالب علم کا کہنا ہے کہ امریکی اسکالر کے رویے نے اس کو ایسا کرنے پر مجبور کردیا۔محمد حسین نے کہا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی حمایت اور تضحیک آمیز روئیے نے اسے جوتا مارنے پر مجبور کیا۔ کراچی پریس کلب کے باہر میڈیا سے بات چیت میں جامعہ کراچی شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے طالبعلم محمد حسین نے کہا کہ امریکی تھنک ٹینک فاوٴنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسییز کے سربراہ کلفورڈیمے نے مسلمانوں کو انتہا پسند اور ایران کے اسلامی انقلاب کو بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کی جڑ قرار دیا۔ طالبعلم کا کہنا تھا کہ اس کے سوالوں پر کلفورڈ نے تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا جس کے جواب میں اس نے کلفورڈ کو جو تا دے مارا۔ محمد حسین نے جامعہ کراچی کی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس کے اقدام کو محب وطن پاکستانی کے امریکیوں کیخلاف جذبات سمجھیں اوراسے مزید تعلیم حاصل کرنے دیں۔محمد حسین نے کہا ہے کہ اسے اپنی جان کا خطرہ ہے کیونکہ اس واقعہ کے بعد کچھ عناصر اسے نشانہ بنا سکتے ہیں۔
المتظر الزیدی
کراچی پریس کلب کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد حسین نے المتظر الزیدی کا بھی حوالہ دیا۔ جی ہاں وہی المتظر زیدی جس نے جوتا ماری کی یہ روایت ڈالتے ہوئے سب سے پہلے جوتا صلیبی فوج کے سپریم کمانڈر امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر پھینکا تھا۔ نشانہ باز اچھا نہیں تھا یا پھر بش کی قسمت اچھی تھی کہ نشانہ خطا ہوا لیکن جوتا بہرحال اتنے قریب سے گزرا تھا کہ بش کو جوتے کا نمبر یاد رہ گیا تھا۔ جی ہاں یہ جوتا دس نمبر کا تھا، جو دونمبر آدمی کو ہٹ نہ کرسکا۔
کلیفورڈ ڈی۔ مے کون ہیں؟
کلیفورڈ ڈی۔ مےامریکی تھنک ٹینک فاونڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسی کے صدر ہیں۔ ڈیلی ٹیلی گراف نے موصوف کو امریکا کے سو باثر کنزرویٹیو میں شمار کیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ امریکا کی موجودہ پالیسیوں کی تشکیل میں اس کا بھی حصہ ہے۔ اس کے علاوہ ان کو ۲۰۰۶ میں عراق اسٹڈی گروپ جس کو کانگریس فنڈ کرتا ہے کا ایڈوائزر تعینات ہوا تھا۔
امریکی اسکالر کو جوتا نہیں مارنا چاہیے تھا؟
بہت سارے روشن خیال شاید امریکی اسکالر کو جوتا مارنے سے ناراض ہوئے ہوں لیکن ان کی اطلاع کے لیے ( کیوں کہ قائل نہیں کیا جاسکتا) میں یہاں حال ہی میں آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر پر جوتا پھینکنے والے ترک طالب علم کا ایک جملہ نقل کروں گا ۔طالب علم نے کہا تھا کہ انہوں آئی ایم ایف کے سربراہ پر اس لیے جوتا پھینکا کیوں کہ وہ ’’ سرمایہ دارانہ نظام کا نمائندہ‘‘ ہیں۔ جارج بش اور کلیفورڈ ڈی۔ مے دراصل جارحیت کے نمائدہ ہیں ۔ جی وہی جارحیت جس کو اب افغانستان اور عراق میں مزاحمت کے ہاتھوں جوتے پڑ رہے ہیں ۔ ایک جوتا عراق میں منتظر الزیدی نے مارا اب ایک جوتا جامعہ کراچی کے شبعہ بین الاقوامی تعلقات میں اسے پڑا۔ محمد حسین کا جوتا جارحیت کے منہ پر مزاحمت اور آزادی پسندی کا جوتا ہے ۔ یہ دہشت گردی کے منہ پر امن پسندی کا جوتا ہے۔
ایک عرصے پہلے سرکاری ٹی وی پر ’’اصلی پری دھاگہ‘‘ کا اشہتار چلتا تھا۔ اب’’ اصلی‘‘ اور ’’پری‘‘ دونوں نہیں رہیں البتہ لوگوں کا واسطہ نقالوں سے ہوشیار ہونے کے باوجود ایسے دانشوروں سے پڑگیا ہے جو اپنی سحر انگیز گفتگو سے اکثر خواتین اور کچھ حضرات کو اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں لیکن حقیقت میں ان دانشوروں کا دانش سے فاصلہ اتنا ہی ہوتا ہے جتنا زمین کا آسمان سے ہے۔ آسمان اور زمین تو پھر بھی کہیں نہ کہیں مل جاتے ہیں لیکن یہ نقلی دانشور ایسے گڑھے کی مانند ہوتے ہیں جس پر کبھی پانی نہیں ٹھیرتا۔ ایسے لوگ اکثر ’میں‘، ’میں‘ کا ورد کرکے اپنوں کو بھی بھول کرشکایت کرنے لگتے ہیں’’ بیگم تم نے میری اولاد کو سرکش بنادیا۔ دنیا میں میری واہ واہ ہورہی ہے اور جب میں اپنے گھر پر آتا ہوں تو میری بیٹی مجھ سے پوچھتی ہے بابا آپ ٹی وی پر بولتا اچھا ہے لیکن یہ میں میں کیو ں کرتے ہیں۔ ویسے یہ وہ والا میں میں نہیں جو بکریاں کرتی ہیں۔
تو میں میں کرنے والے ان نقالوں میں سے ایک نقال یوسف کذاب کا خلیفہ وقت زید زمان المروف زید حامد براسٹک والا ہے۔ موصوف جعلی ہے لیکن لوگوں کے اذہان کو بخوبی سمجھتا ہے۔ بخوبی واقف ہے کہ یہود وہنود کو گالیاں دینے اور بھارت کو ختم کرنے کی باتوں سے لوگ انہیں اپنا ہیروسمجھ لیں گے۔ سمجھ لیں گے کیا۔ سمجھ لیا ہے۔
موصوف کی دوجعل سازیوں کا تذکرہ کرکے آپ سے یوٹیوب کی ویڈیوز کے دو لنک شیئر کروں گا۔ ایک موصوف زید حامد یوسف کذاب اور براسٹیک والا کا ہے جبکہ دوسرے لنک میں آپ ڈیوڈ آئک کو دیکھ اور سن سکیں گے۔ لنک کو دیکھ کر آپ فیصلہ کریں کہ موصوف دانش ور ہیں یا پھر نقال۔
لیکن اس سے قبل دو واقعات۔ پہلا واقعہ گزشتہ برس یعنی ۲۰۰۸ میں رمضان کے مہینے کا ہے جب میں چند دستوں کے ساتھ ایک ہوٹل میں افطار کرنے گیا، وہاں مزید دو دوستوں کو آنا تھا جن سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ ان دوستوں میں ایک نے سونے کے سکوں کے ذریعے معیشت کی ڈوبتی نیا کو پار لگانے کی تقریر شروع کردی تو میں نے بتایا کہ باتیں ہم زید حامد کے براسٹیک میں اکنامک ٹررازم سیریز میں تفصیل کے ساتھ سن چکے ہیں ۔ اس پر دوست نے بتایا کہ یہ ساری معلومات انہوں نے زید صاحب کو فراہم کی تھی۔ گو کہ مقرر زید صاحب تھے لیکن ریسرچ اس دوست کی تھی۔ ان پر جب یہ راز منکشف ہوا کہ موصوف یوسف کذاب کا خلیفہ اور اپنے دین پر تاحال قائم ہے تو ان کو افسوس ہوا۔
دوسرا واقعہ چند مہینے قبل کا ہے جب زید حامد کے سسر سید فیاض الدین احمد صاحب نے چند دوستوں کے ساتھ مجھے اپنے گھر واقع ڈیفنس کراچی مدعو کیا۔ وہاں دوران گفتگو فیاض صاحب نے ایک واقعہ سنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے’’ یو کے اسلامک مشن‘‘ لسٹر کے اپنے ایک ساتھی رشید احمد صدیقی کی کتاب’’ دی ڈسٹینی آف اقبال‘‘ لاکر ان کو دے دی۔ اگلی دفعہ جب فیاض صاحب کراچی تشریف لے آئیں تو پنڈی اپنے داماد، بیٹی سے ملنے گئے۔ کیا دیکھا کہ موصوف کسی کو فون پر مشورے دے رہے تھے کہ وہ علی گڑھ انڈیا کے رشید احمد کی کتاب’’ دی ڈسٹینی آف اقبال‘‘ پڑھیں۔ وہ بتارہے تھے کہ رشید احمد صاحب (علی گڑھ ) والے کتنے عالم وفاضل آدمی تھے اور ان کی یہ شاہکار تخلیق کس طرح ان کی علمیت کی عکاسی کرتی ہے۔ فیاض صاحب نے اپنے داماد زید حامد کو بتایا کہ’’ بیٹا پہلے کتاب پر لکھنے والے کے متعلق دیے گئے چند سطریں تو پڑھ لی ہوتیں۔آپ کو کس نے بتایا کہ یہ علی گڑھ والے رشید احمد صدیقی کی لکھی ہوئی کتاب ہے ۔ ان کا تو انتقال ہوئے ایک زمانہ گزر چکا ہے۔ یہ تو میرے دوست رشید احمد صدیقی کی کتاب ہے جو میرے ساتھ یوکے اسلامک مشن لسٹر میں اب بھی کام کرتے ہیں۔( واضح رہے موصوف آج کل اقبال کا پاکستان نامی پروگرام میں اقبال پر لیکچر دیتے ہیں جس میں وہ ایک آدھ دفعہ کاغذ سے پڑھنے کے باوجود اقبال کے اشعار کو غلط کہتے ہوئے پائیں گئے)۔
دوستو! یہ دو ایسے کئی واقعات ہیں جن سے زید احمد المعروف یوسف کذاب اور براسٹیک والے کی جہالت عیاں ہوتی ہے۔ لیکن چلیے آپ زید حامد اور ڈیوڈ آئک کے ویڈیوز دیکھ لیں اور خود فیصلہ کریں کہ جعل سازی کیا ہے اور دانشوری کیا؟
ہم یہی سنتے چلے آرہے ہیں کہ امریکا نہ صرف یہ کہ جمہوری اقدار پر کامل یقین رکھتا ہے بلکہ آزادی¿ اظہارِ رائے اور آزادی صحافت کے لیے اس کی محبت بھی بے مثال ہے۔ امریکی بچے کو پہلا سبق ہی جمہوریت‘ دوسروں کے لیے محبت‘ امن‘ بھائی چارہ‘ انسانیت کی فلاح‘ اسلحہ اور جنگ سے نفرت‘ دوسروں کے لیے احترام اور اظہارِ رائے کی آزادی کا دیا جاتا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سیکھو نالائقو کچھ توسیکھو امریکا سے‘ اگر دنیا میں کچھ ترقی کرنا چاہتے ہو تو۔ اچھا بننا ہے یا اپنے آپ کو دنیا میں مہذب کہلوانا ہے تو امریکی معاشرے کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کرنا ہوںگی۔
”مدرسہ¿ تہذیب“ کے ان اساتذہ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ افغانستان اور عراق میں امریکی تہذیب کے ’پریکٹیکل‘کو دیکھ کر آپ کے مرتب کردہ نصاب میں بیان کردہ تھیوری پرکوئی بھی شاگرد ِ مکتب یقین کرنے کو تیار نہیں۔ اس بدتہذیبی‘ معاف کیجیے گا امریکی تہذیب کی تفصیل بیان کرنا سورج کی روشنی میں دیا جلانے کے مترادف ہوگا‘ تاہم آزادی¿ اظہارِ رائے اور آزادی¿ صحافت کے بارے میں امریکی طرزعمل کے چند شواہد امریکی سحر میں مبتلا ان کے پاکستانی ’وکیلوں‘کے گوش گزار کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ان کی وکالت سے امریکا کا مقدمہ تو نہیں جیتا جاسکتا البتہ اس سے ان کی اپنی اخلاقی پوزیشن کافی خراب ہوجاتی ہے۔
آزادی¿ صحافت کے حوالے سے معروف نام اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والے ادارے ”رپورٹرز وِد آﺅٹ بارڈر“ کے2008ءکے پریس فریڈم کے حوالے سے 173ممالک کی فہرست میں 38 ویں نمبر پر آنے والے امریکا نے اسی فہرست میں 152نمبر پر آنے والے ملک یعنی کافی خراب ’پوزیشن‘ والے پاکستان کے معروف اور اہم انگریزی روزنامہ ”دی نیوز“ کو براہِ راست خط لکھ کر اخبار پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ وہ امریکی پالیسیوں کی ناقد کالم نگار ڈاکٹر شیریں مزاری کا گزشتہ ایک دہائی سے جاری مستقل ہفتہ وار کالم بند کردے۔ امریکا کو اپنی فہرست میں38 واں نمبر دینے والے ’رپورٹرز وِد آﺅٹ بارڈر‘ کا اس واقعے پر مہینے سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی ردعمل ظاہر نہ کرنا معنی خیز ہی نہیں بلکہ اس ادارے کی معتبریت پر سوالیہ نشان بھی ہے۔ امریکی سفیر کا یہ انوکھا عمل عالمی قوانین اور سفارتی آداب کے خلاف ہی نہیں بلکہ آزادی¿ اظہار رائے پر قدغن لگانے کے مترادف بھی ہے۔ کیسے؟ اس سوال کا جواب واقعے کی تفصیل کے ساتھ آنے والی سطور میں زیربحث لایا جائے گا‘ تاہم اس سے قبل ”دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت“کی طرف سے اسی طرح کے طرزعمل کی اطلاع بھی آپ تک پہنچنا ضروری ہے۔
’خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے‘ کے مصداق بھارت نے بھی ایک پاکستانی اخبار کی ”خبر“ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے طریقہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کرکے بیک وقت اسلام آباد اور بیجنگ سے طلوع ہونے والے آن لائن اخبار ’ڈیلی میل نیوز‘ کو بند کرانے کے لیے دباﺅ ڈالا جائے گا۔ اس اخبار نے ایسا کیا کیا ہے جس کی وجہ سے اس کو لشکر طیبہ کی صف میں کھڑا ہونا پڑا؟ اس کی تفصیل بھی بعد میں‘ اس سے قبل امریکی سفیر کے خط بنام ’دی نیوز‘ کے بارے میں کچھ جانتے ہیں‘ لیکن اس سے پہلے اس سال آزادی¿ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کی خبر جس کو آپ امریکی بھاشن بھی کہہ سکتے ہیں‘ ذیل میں بزبانِ نیوز ایجنسی ’ثنا‘ درج کی جارہی ہے۔
……..٭٭٭……..
خبر کچھ یوں ہے:
”صحافت کے عالمی دن کے موقع پر امریکی وزارت ِخارجہ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو ان کی حکومتوں نے بنیادی حقوق سے محروم کیے رکھا۔ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے یہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے حقوقِ انسانی کے آدرشوں پر پورا اترنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حقوق انسانی کا فروغ امریکی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔ رپورٹ میںکئی ممالک کے اندر غیر حکومتی تنظیموں اور میڈیا کے خلاف جابرانہ قوانین کو پریشان کن بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس سلسلے میں ویت نام، چین، روس، کرغزستان اور قازقستان کا نام لیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق افریقہ میں کئی ملک ایسے ہیں جہاں انسانی حقوق اور جمہوری قوتوں کو شدید مسائل کا سامنا ہے، مثال کے طور پر زمبابوے، گنی اور موریطانیہ۔ رپورٹ میں آرمینیا اور روس میں انتخابات پر اور مصر، ایران‘ لیبیا اور شام میں سماجی کارکنوں کی مسلسل گرفتاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دراصل سیاسی نظاموں کے اندر پائی جانے والی وسیع تر خامیوں کی نشان دہی کرتی ہیں اور اکثر ان ملکوں میں ہوتی ہیں جہاں ایسے طاقت ور حکمران ہیں جو احتساب سے بالاتر ہیں۔“
امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے آخر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سبب احتساب سے بالاتر طاقت ور حکمرانوں کو قرار دیا گیا ہے لیکن ان کو ادراک نہیں کہ خود امریکا طاقت ور ہونے کی وجہ سے کس طرح اپنے آپ کو احتساب سے بالاتر سمجھ کر کسی بھی قانون یا اخلاقی ضابطے کو روند کر بداخلاقی‘ بدتمیزی اور بدتہذیبی کی مثالیں رقم کررہا ہے۔
……..٭٭٭……..
قصہ کچھ یوں ہے کہ پاکستان میں امریکی سفیر این۔ ڈبلیو۔پیٹرسن نے جنگ گروپ کے مالکان کو ایک خط لکھا ہے جس میں شکایت کی گئی ہے کہ اس کے انگریزی اخبار ”دی نیوز انٹرنیشنل“ کی کالم نگار اور امریکی پالیسیوں کی سخت ترین ناقد ڈاکٹر شیریں مزاری کے کالموں کی وجہ سے ایک امریکی شہری (جس کا نام نہیں بتایا گیا)کی جان خطرے میں پڑ گئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ خط برائے اشاعت نہیں تھا‘ جبکہ سفارتی آداب کے مطابق کوئی سفیر کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے سے براہِ راست خط وکتابت کرکے اس پر کسی قسم کا دباﺅ ڈال سکتا ہے نہ ہی کچھ کرنے یا نہ کرنے پر مجبور کرسکتا ہے‘ البتہ اس کے ملک سے متعلق چھپنے والے کسی مسئلے کی وضاحت مذکورہ اخبار میں خط کی اشاعت کی صورت میں کی جاسکتی ہے۔ لیکن امریکی سفیر نے یہ سفارتی رویہ نہیں اپنایا بلکہ سفارتی آداب سے ناآشنا‘ اس سفیر نے براہِ راست اخبار کو خط لکھا جس پر اخبار نے ڈاکٹر شیریں مزاری سے وضاحت طلب کرلی۔ اسی اثناءڈاکٹر شیریں مزاری نے ایک اور کالم اخبارکی 3 ستمبر کی اشاعت کے لیے لکھ بھیجا جس کو بوجوہ شائع نہیں کیا گیا‘ یہی کالم اسی دن بعض دیگر ویب سائٹس پر جاری کیا گیا‘ تاہم ”دی نیوز“ نے بغیر کسی ایڈیٹنگ یعنی کاٹ چھانٹ کے اس کالم کو اگلے دن کی اشاعت میں جگہ دی۔ واضح رہے کہ دی نیوز خصوصاً اس کا انوسٹی گیشن سیل امریکی سفارت خانے کی پراسرار اور غیر سفارتی سرگرمیوں کی رپورٹنگ بغیر کوئی دباﺅ قبول کیے کرتا رہا ہے۔ 3 ستمبر 2009ءکو ہی شیریں مزاری نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں کہا کہ اگر ان کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار امریکا اور رحمن (ملک) ہوں گے۔ اسی پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی سفارت خانہ ان کے کالم بند کرانے کے لیے اخبار پر دباﺅ ڈال رہا ہے اور اس سلسلے میں ان کا آج (یعنی 3ستمبر)کا کالم روک لیا گیا ہے۔ اس کے بعد شیریں مزاری نے مذکورہ اخبار سے اپنا ایک دہائی پر محیط تعلق ختم کرکے لاہور سے چھپنے والے ’وقت گروپ‘ کے انگریزی اخبار ”دی نیشن“ کو بحیثیت ایڈیٹر جوائن کیا۔
7ستمبر 2009ءکو دی نیوز کی ایڈیٹوریل ٹیم کی طرف سے ایک وضاحت جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ خط پرائیویٹ تھا اور نہ ہی جنگ گروپ نے کسی قسم کا دباﺅ قبول کیا ہے۔ اس کا شیریں مزاری کی جانب سے جواب بھی دیا گیا جس میں جہاں کئی اور باتیں شامل تھیں وہیں انہوں نے اخبار سے دریافت کیا کہ انہوں نے میرا کالم روکنے اور مجھ سے وضاحت اور ثبوت طلب کرنے کے بجائے سفیر سے کیوں نہ پوچھا کہ اس کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ میرے کالم کی وجہ سے امریکی شہری کی جان خطرے میں پڑگئی ہے۔ اخبار اور کالم نگار کے درمیان تعلق غلط فہمی کی وجہ سے ٹوٹ چکا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس ”ڈاکٹر شیریں مزاری“اور ”دی نیوز“دونوں کی کوششوں سے ایک پاکستان اور اسلام مخالف امریکی جنرل کی اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں بطور ڈیفنس اتاشی تقرری رک پائی تھی۔
ڈاکٹرشیریں مزاری کے کالموں کو روکنے کی یہ پہلی کوشش نہیں تھی۔ 2006ءمیں بھی امریکی سفیر نے حکومت ِپاکستان پر دباﺅ ڈالا تھا کہ وہ شیریں مزاری کو کالم نہ لکھنے پر مجبور کریں۔ جب تک ریاض کھوکھر سیکریٹری داخلہ تھے ‘ انہوں نے اس دباﺅ کو قبول کرنے سے انکار کردیا‘ لیکن نئی حکومت آجانے کے فوراً بعد امریکا میں پاکستان کے موجودہ سفیر حسین حقانی نے جمہوری حکومت سے پہلا کام ڈاکٹر شیریں مزاری کی انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر کے عہدے سے برطرفی کا کروایا۔
دی نیوز اور ڈاکٹر شیریں مزاری کی وضاحتوں کی تفصیل لمبی اور دلچسپ ہے‘ لیکن ہم یہاں صرف یہ عرض کریں گے کہ اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ امریکی سفیر نے معاصر اخبار کو خط لکھا۔ گو کہ اخبار نے دباﺅ قبول نہیں کیا لیکن اس نے کالم نگار اور اخبار کے دس سالہ تعلق کو ختم کردیا۔ شیریں مزاری کی آوازآج ایک اور اخبار کے ذریعے پہنچ رہی ہے (اگرچہ وہاں امریکی فارن پالیسی میگزین میں خبر شائع ہونے پر ڈاکٹر مزاری کو امریکی سفیر‘ معاف کیجیے امریکا میں بظاہر پاکستانی سفیر حسین حقانی کی طرف سے ہرجانے کا نوٹس مل گیا) لیکن یہ ثابت ہوچکا ہے کہ امریکی سفیر نے سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی‘ اور آزادی¿ صحافت کا دم بھرنے والے امریکا کے منہ پر کالک مل دی۔ اگرچہ انسانیت دشمن سرگرمیوں کی وجہ سے امریکا کا چہرہ پہلے ہی کافی کالا ہوچکا ہے۔
…………٭٭٭…………
درحقیقت دہشت گردوں کا سرخیل امریکا ہی وہ ملک ہے جس نے عسکری اور معاشی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ صحافتی دہشت گردی کی بنیاد رکھی۔ کیا ہی بہتر ہوتا اگر دوسروں سے ”الزامات“ کے ثبوت مانگنے والی امریکی سفیر اپنے ملک کے میڈیا سے عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی خبروں کا ثبوت مانگ لیتی‘ جن سے ایک عراقی شہری کی جان خطرے میں نہیں پڑی بلکہ میڈیا کی غلط رپورٹس چھپنے کے سبب شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں 1339,771 عراقی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ثبوت مانگنے ہیں تو اپنے ملک کے میڈیا سے مانگےں‘ جو بغیر کسی ثبوت کے روز ہی پاکستان کے خلاف کوئی زہر آلود خبر چھاپ دیتا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام اب تک طالبان کے ہاتھ میں ہونا چاہیے تھا‘ اور ایک آدھ ایٹم بم اسرائیل پر گرجانا چاہیے تھا۔ یہ ہے صحافتی دہشت گردی کی بنیاد ڈالنے والے عالمی دہشت گرد کا رویہ۔ میڈیا صرف امریکا کا ہی دہشت گرد نہیں بلکہ ”دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت“ بھارت کا بھی ہے‘ جس کی دکان ہی پاکستان مخالف خبروں پر چلتی ہے۔ لیکن بھارت کو نہ تو خود اپنی ریاستی دہشت گردی نظر آتی ہے اور نہ ہی اپنے میڈیا کی صحافتی دہشت گردی۔ البتہ پاکستانی میڈیا میں بھارت سے متعلق چھپنے والی ایک خبر نے ایسا سونامی بپا کردیا ہے کہ بھارت نے تمام تر ریاستی، ملکی، بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکی روش اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
……..٭٭٭……..
خبر کچھ یوں ہے:
انڈیا اُس وقت جلنے بھننے لگا جب ایک پاکستانی اخبار نے خبر دی کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر وہاں ’وومن یونٹ‘ یعنی خواتین دستے کے نام پر طوائفوںکو بھیج رہا ہے۔ اس خبر پر بھارت اس قدر سیخ پا ہوگیا ہے کہ ’مڈ ڈے‘ کے رپورٹر انشومان گی دت کے مطابق اس نے دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کے سامنے غیر معمولی احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ It was Chidambaram’s order ( یہ چدم برم کا حکم تھا) کے نام سے اس نیوز اسٹوری میں بتایا گیا ہے کہ ”پاکستانی میڈیا کی طرف سے حال ہی میں تعینات کیے جانے والے بارڈر سیکورٹی فورسز (بی ایس ایف) کے خواتین دستے کو طوائف کہنے کا بھارتی حکومت نے نوٹس لے لیا ہے۔ وزارت ِ امورخارجہ اس سلسلے میں پڑوسی ملک کے اخبار میںشائع اس مضمون کے بارے میں حکومت ِپاکستان کے سامنے اپنی ناراضی رجسٹر کروانے کی پلاننگ کررہی ہے۔“
بھارتی اخبار مزید لکھتا ہے کہ: ”این ایچ اے نے یہ فیصلہ پاکستانی میڈیا کی طرف سے اس خبر کی اشاعت کے بعد کیا جس میں کہا گیا کہ بھارتی سیکورٹی فورسز نے اپنے مرد فوجیوں کی فطری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تقریباً دو سو طوائفوں کو بھرتی کیا ہے۔“
اخبار نے یہ بھی اطلاع دی کہ وزارت ِداخلہ کے ایک افسر نے تصدیق کی ہے کہ شکایت رجسٹر کروانے کا حکم براہِ راست یونین منسٹر پی چدم برم کے دفتر سے آیا ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے 60 سال پر محیط خراب تعلقات میں ایسا پہلی دفعہ ہوگا جب نئی دلی ایک پاکستانی اخبار کے خلاف شکایت اسلام آباد سے کرے گا۔
یہ خبر دراصل کوئی ٹیبل اسٹوری نہیں تھی بلکہ 11ستمبر 2009ءکو ڈیلی میل نیوز کی نیو دہلی میں نمائندہ¿ خصوصی کرسٹینا پالمر نے یہ خبر باخبر ذرائع کے حوالے سے دی تھی۔ اس کی بنیاد بارڈر سیکورٹی فورسز کے انسپکٹر جنرل ہمت سنگھ کا ایک بیان بھی تھا۔ اس سلسلے میں جب کرسٹینا پالمر نے نئی دلی کے سینئر دفاعی تجزیہ کار روہت شرما سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ”یہ ایک شاندار پیش رفت ہے‘ کیوں کہ یہ وادی میں تعینات سپاہیوں کی طبی اور ذہنی صحت کے لیے بہت مفید ثابت ہوگی اور اس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔“
دراصل جب وادی میں تعینات بھارتی فوجیوں میں خودکشی کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا تو بھارت نے ایک اعلیٰ فوجی وفد روس بھیجا تاکہ معلوم کرسکے کہ روس نے اپنے ہاں اس مسئلے پر کیسے قابو پایا تھا۔ کرسٹینا پالمر کے ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں بھارتی حکومت کے بعض ڈیپارٹمنٹس کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ مختلف شہروں میں لائسنس یافتہ طوائف خانوں سے رابطہ قائم کرکے طوائفوں کی طرف سے فوج میں بھرتی ہونے کے میلان کو معلوم کریں۔
……..٭٭٭……..
بھارت کی طرف سے اس غیر معمولی ردعمل کی خبر سن کر ’ڈیلی میل نیوز‘کے ایڈیٹر مخدوم بابر نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ ”حیران کن طور پر بھارت کے یونین منسٹر فار ہوم مسٹر پی چدم برم نے ڈیلی میل کو سرکاری شکایت درج کرانے کی دھمکی دی ہے۔ اس پیش رفت نے پوری بین الاقومی میڈیا کمیونٹی کو سکتے میں ڈالا ہے‘ کیوں کہ پہلی دفعہ کسی ملک کے بڑے وزیر نے ایک دوسرے ملک کے آزاد اخبار کے خلاف شکایت درج کرانے کی انوکھی روایت قائم کردی ہے“۔ آگے لکھتے ہیں:”ایم ایچ اے کی طرف سے اس اقدام نے نام نہاد سیکولر بھارت کے چہرے کو بے نقاب کیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھارتی میڈیا آرگنائزیشن ’آئی بی این‘نیو دلی نے پاکستان کے واشنگٹن میں سفیر کی طرف سے آئی ایس آئی چیف کو لکھے گئے ایک بہت ہی کلاسیفائیڈ خط کو شائع کیا لیکن پاکستانی حکومت نے اس پربھارتی حکومت سے کسی قسم کی سرکاری شکایت نہیں کی تھی۔ یہ ایک کلاسیفائیڈ انفارمیشن تھی جس کو نہیں چھپنا چاہیے تھا‘تاہم ڈیلی میل نیوز نے جو رپورٹ شائع کی ہے وہ ایک تحقیقاتی رپورٹ ہے‘ جس کے ذرائع اور شواہد موجود ہیں۔
…………٭٭٭……..
مخدوم بابر صحیح کہہ رہے ہیں‘ اس اقدام سے نام نہاد بھارتی سیکولرازم کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوتا ہے۔ جمہوریت اور آزادی¿ صحافت کی مالا جپنے والا امریکا ہو یا سیکولرازم کی دعویدار نام نہاد بڑی جمہوریت‘ دونوں کے میڈیا نے ان ممالک کی جانب سے ہونے والی دہشت گردی کو صحافت گردی میں تبدیل کرکے پاکستان اور اسلامی دنیا کے خلاف پروپیگنڈے کو معمول بنالیا ہے۔ خصوصاً جس دن بھارتی میڈیا میں پاکستان کے خلاف کوئی خبر نہیں چلتی‘ اُس دن اُن کے ناظرین کی تعداد حیرت انگیز طور پر گر جاتی ہے۔ لیکن جیسا منہ‘ ویسی بات۔ امریکا اور بھارت جن کا میڈیا پروپیگنڈا مشینری میں تبدیل ہوچکا ہے‘ پاکستانی میڈیا کی طرف سے ایک سچی رپورٹ کو پروپیگنڈے کا نام دے کر برداشت نہیں کرتے۔ اگر ایسی کوئی رپورٹ نشر ہوجاتی ہے تو عالمی دہشت گردی کے سرخیل‘ پاکستانی میڈیا پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ لیکن کیا پاکستانی میڈیا ان حملوں کی وجہ سے امریکی اور بھارتی کرتوتوں کے خلاف کچھ لکھنا یا شائع کرنا بند کردے گا؟ بظاہر ایسا نہیں لگتا۔ پاکستانی میڈیا اب میچور ہوچکا ہے‘ اور اگرچہ تاحال اس کو پوری طرح آزاد میڈیا نہیں کہا جاسکتا‘ لیکن اس نے کسی نہ کسی حد تک دباﺅ مسترد کرنا شروع کردیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکا کو 173ممالک میں 38 ویں نمبر پر جگہ دینے والا ”رپورٹرز وِد بارڈر“ اور آزادی¿ صحافت کے عَلم بردار دیگر ادارے امریکی اور بھارتی اقدام کا نوٹس لیں گے؟
(بشکریہ جسارت میگزین ‘ روزنامہ جسارت کراچی)
پشاور سے آیا ہوا ہی نشانہ کیوں بنا؟ کیوں کہ بندر نے بھی اسے پہچان لیا۔
موبائل چھیننے کی وارداتیں یوں تو عاہم ہیں لیکن اتوار کی شام بندر نے بھی موبائل فون چھین یا۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ کراچی کے سفاری پارک میں پشاور سے تفریح کے لیے آئے ہوئے خاندان کے ایک فرد نے بندر کے پنجرے کے قریب پہنچ کر تصویر کھینچنے کی کوشش کی۔ اسی دوران بندر نے ہاتھ ڈال کر اس شخص سے موبائل چھین لیا جس کے بعد پنجرے کے قریب سیکڑوں افراد جمع ہوگئے۔ تقریبا نصف گھنٹنے کی کوشش کے باوجود بندر سے موبائل فون حاصل نہ کیا جاسکا۔ بعد ازاں سفاری پارک کے عملے پہنجرے میں پہنچا تاہم بندر نے ان کی بھی دوڑیں لگوادیں ۔ کافی جدوجہد کے بعد بندر نے موبائل زمین پر پھینک دیا جو ناقابل استعمال ہوگیا۔
رونامہ جسارت میں چھپنے والی مذکورہ خبر کی اطلاع جب خان لالا کو دے کر ان کی رائے طلب کی گئی تو انہوں نے کہا کہ حکمران اور عوام ادراک رکھتے ہو یا نہ رکھتے ہو بندر سمجھ دار ہوگئے ہیں اور ان کو پتا چل گیا ہے کہ اب پختون بھائیوں پر برا وقت آچکا ہے اور ان کو ہر طرف سے مارا پیٹا جارہا ہے اگر ایسے میں میں نے ان سے موبائل چھین لیا تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہوگی اور ویسے بھی اس حرکت پر عالمی پولیس مین امریکا مجھے ’سپورٹ‘ کرے گا لہٰذا ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین تلخابہ کو گلہ ہوتا ہے کہ یہ سیاسی بلاگ ہونے کے باعث بور ہوتا ہے۔ اگر چہ مجھے طنز کرنا آتا ہے اور نہ ہی مذاح کا کوئی خاص سنس ہے تاہم میں نے آپ کو گدگدانے کی کوشش کی ہے گو کہ میرے پاس آپ کو دینے کے ’’اومور‘‘ کی آئیس کریم نہیں ہے۔
برادر راشد کامران کی طرف سے برادر ابوشامل کو آئی ٹیگ کی ڈوری انہوں نے ہماری طرف بڑھا دی ہے ۔ یہ پانچ مختصر سوالات ہمیں اپنے تجزیہ کا موقع دیتے نظر آتے ہیں۔ انٹرنیٹ نے ہماری زندگی پر کیا اثر ڈالا ہے؟ اس سوال کا جواب ان پانچ سوالوں کے آگے درج جوابوں میں جو قارئین تلخابہ کے یہاں دیے جارہے ہیں۔ آپ ان سوالوں کے کیا جواب دیں گے یا آپ کے ذہن میں کیا ایسے مزید سوال جن کے جواب آنے چاہیے۔ اس سے آگاہ کیجیے۔ شکریہ ۔
اب سوال وجواب؛
انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
روزانہ تقریبا چودہ گھنٹے گزارتا ہوں جس میں آفس کا کام بھی شامل ہے۔ لیکن بلاگ کے لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ تقریبا روز ۳ گھنٹے نکالتا ہوں۔
انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
مختصر اگر کہوں تو کوئی خاص تبدیلی نہیں۔ آپنے آپ کو نظریاتی کہتا ہوں لیکن یہاں آنے کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ مکالمہ کی افادیت سے آگاہ ہوا ہوں ۔ میں نے بہت سارے لوگوں کو اپنا ہم نوا بنادیا ہے اور میری سوچ اور فکر میں جو خامیاں تھیں یا جو منفی پہلو میری شخصیت میں تھے وہ ان دوستوں کے سبب ختم ہوگئے۔ میں اپنے آپ کو اسلام پسند کہتا ہوں لیکن میری نیٹ یا بلاگ سے شروع ہوئی دوستی ان لوگوں کے ساتھ بھی ہیں جن کو آپ ان درجوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔ اسلام پسند، سیاسی اسلام کے حامی ، مذہبی رجحان رکھنے والے ، وہ جو اپنے آپ کو ماڈریٹس کہتے ہیں ، وہ جو لبرلز ہیں ، سوشلسٹ نظریات کے حامل ‘ مذہب مخالف اور دہریے وغیرہ۔ کئی دہریوں سے میری بہت گہری دوستی ہے۔
کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
بہت زیادہ۔ اتفاق کی بات ہے جب بیچلر تھا تب انٹرنیٹ کا استعمال اتنا نہیں تھا۔ لیکن شادی کے بعد بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ البتہ میں کوشش کرتا ہوں کہ کسی طرح توازن پیدا کروں۔ اس کے لیے اب میں اپنی سوشل لائف کی قربانی دے رہا ہوں۔ عرصہ ہوا ہے کہ ہوٹلوں پر رات گئے تک بیٹھنا چھوڑ دیا ہے۔ دوستوں کے ہاں آنا جانا کم ہوگیا۔ اپنی پیاری جامعہ گئے ہوئے بھی عرصہ ہوگیا۔ اتوار کے دن کہیں نہیں جاتا مگر بیگم اور سعد خان صاحب کے ساتھ ان کو گھمانے ۔ اتوار کے روز کمپیوٹر اور انٹر نیٹ سے اتنا دور رہتا ہوں کہ جیسے یہ گناہ کبیرہ کی فہرست میں سب سے اوپر ہو۔
اس لت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
نہیں کبھی نہیں کی۔ انٹرنیٹ پر میں زیادہ تر بلاگنگ کرتا ہوں یا پھر میگزین کے آرٹیکلز کے لیے ریسرچ ۔ فیس بک کا اکاونٹ بھی بلاگ کو مشتہر کرنے کے لیے بنایا ہے۔ مافیا گیم کیا ہوتے ہیں، چیٹ کیا چیز ہے یہ جاننے کی کوشش کبھی نہیں کی۔ بلاگنگ میرا مشغلہ بھی اور ترویج خیالات کا ذریعہ بھی ہے اس لیے اس کو میں لت کہتاہوں نہ ہی اس سے جان چھڑانے کی کوشش کبھی کی ۔
کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
گیم کھیلنا بہت پہلے چھوڑ دیا تھا۔ سال میں ایک مہینہ آبائی گائوں میں گزرتا ہے۔ ٹی وی خبریں دن میں ایک مرتبہ ۔ اس کے علاوہ نہ اخبار اور نہ ہی نیٹ۔ گھر ، دوست اور شام کو کرکٹ خوب کرکٹ کیوں کہ یہ مہینہ کرکٹ کھیلنے کے لیے مختص ہے۔ اب سولہ نومبر سے ایک مہنے یعنی پندرہ دسمبر تک گیم ہی گیم۔
اگر میں ٹیک کی ڈوری آگے نہ بڑھاوں تو اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ میں ان ہی اردو بلاگر دوستوں کو جانتا ہوں جن سے ہوتے ہوئے یہ ڈوری مجھ تک پہنچی ہے۔
اپنے پاک ٹی ہاوس والے دیسی انگریزوں کو اردو میڈیا سے سخت شکایت ہے۔ وہ آئے دن اردو میڈیا کو موضوع بحث بناد یتے ہیں۔ اردو پریس کی بددیانتی اور بے ایمانی کے بارے میں لکھے گئے ایک کالم کے ذیل میں تبصرہ کرتے ہوئے اسی گروہ کے ایک صاحب نے اس شاندار کام پر یاسر لطیف ہمدانی کو سراہتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ لاہور سے نکلنے والے انگریزی ہفت روزہ نے تو اس کام کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا ہے۔ ان کی اطلاع کم از کم ہمارے لیے اس لیے خبر نہیں ہے کیوں کہ ہم ایک عرصے سے خالد احمد صاحب کا ’فرائیڈ ے ٹائمز‘ میں اردو پریس کے بارے میں چھپے اس کالم کو ’شوق‘ سے پڑھتے ہیں۔ لیکن اس کالم میں کیا ہوتا ہے؟ اردو اخبارات کے ادارتی صفحات پر قادیانیوں اور امریکیوں سے متعلق ’’منفی‘‘ خبروں اور رائے کا تجزیہ۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ہوتا ہے لیکن جہاں تک ہم نے اس کالم کو پڑھا ہے اس کا مقصد یہی ہے۔ یہی کام کچھ ادارے بھی کرتے ہیں جو پیسے دے کر اردو پریس میں منفی خبروں کا انگریزی میں ترجمہ کرکے امریکی عوام کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ جس کو دہشت گردی کی جنگ کہنا غلط نہیں ہوگا ‘ دراصل ناگزیر ہے‘ اس کے لیے بیشک آپ کا دیوالیہ نکل جائے لیکن ’اسلامی‘ دیو کو بند کیے بغیر چارہ بھی تو نہیں۔
خیر یہ ہم کہاں پہنچ گئے۔ بات اردو میڈیا سے گلے کی ہورہی تھی۔ اور یہ شکایت ’فرائیڈے ٹائمز‘ یعنی ’ڈیلی ٹائمز‘ کے قبیلے والوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ اور اس گروپ نے خیر سے اپنا اردو اخبار ’آج کل‘ بھی نکالنا شروع کردیا ہے جو باقی اردو پریس کی طرح نہیں ہے۔ اس لیے ہم اس میں شائع ایک تصویر شیئر کریں گے۔ یہ تصویر جس میں مظاہرین کا جمع غفیر نظر آرہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تصویر صفحہ اول پر نمایاں چھپی ہے۔
جب آپ نے تصویر دیکھ لی ہے تو آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہ مظاہرہ اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی پر دہشت گرد حملوں کے خلاف کیا جارہا ہے۔ اس حملے کے خلاف اسلام آباد بھر میں مظاہرے ہوئے ، ظاہر سی بات ہے کہ اس کی تصویرں نہ تو ’آج کل‘ نے چھاپی اور نہ ہی اس کے انگریزی اخبار ’ڈیلی ٹائمز‘ نے اس کو جگہ دی۔ یونیورسٹی پر دہشت گرد حملوں سے متعلق لاہور کے ’’دی نیشن‘‘ کی یہ خبر اس واقعہ کے پس پردہ عناصر تک پہنچنے میں مدد دے گی۔
خبر کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ دارلاحکومت کے مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا کی ایک بڑی تعداد نے دہشت گردوں کی طرف سے دو خودکش دھماکوں میں انٹرنیشل اسلامک یونیورسٹی کے ان کے ساتھیوں کے ظالمانہ قتل کے خلاف مظاہرے کیے۔
شریعہ اور لا فیکلٹی کے طالب علم حسن جاوید نے رحمن ملک کے طرف سے اسپیشل ٹاسک فورس کے خیال کو گمراہ کن قرار دے کر اس کو خودکش حملوں کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس نے کہا جب قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود ہیں تو اسے میں طلبا اور تعلیمی اداروں کو اس میں گھسیٹنے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔ واضح رہے کہ طلبا نے رحمن ملک کو وہاں سے بھاگنے پر بھی مجبور کیا تھا۔ طلبا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو دہشت گردی کی اس امریکی جنگ سے الگ کردے۔ میری رائے میں اس واقعہ کا بنیفشری امریکا ہی ہے اور وہی یہ حملے کرسکتا ہے۔ جی وہی امریکا جو روات کے مقام پر قائم ایک خفیہ ٹریننگ سنیٹر میں دو سو ریٹائرڈ پاکستانی فوجی افسروں کو ٹریننگ دے رہا ہے اور پولیس کی طرف سے ان ریٹائرڈ فوجیوں کی تفصیل امریکا نے دینے سے انکار کردیا ہے۔ جی وہی امریکا جس کو ہماری جمہوری حکومت نے سہالہ کالج کی حدود میں ٹرننگ سینٹر کے نام پر اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہ فراہم کی ہے ( واضح رہے کہ مشرف میراثی کی فوجی حکومت ہی اصل ذمہ دار ہے لیکن ہماری توقع جمہوری حکومت سے یہ نہیں تھی کہ وہ جنرل مشرف کی حکومت کی ایکسٹنش ہوگی) اور جب اس کی شکایت کالج کے پرنسیپل ناصر خان درانی نے آئی جی پنجاب کو خط لکھ کر کی تو الٹا رحمن ملک نے ان پر برس کر کہا کہ معصوم امریکی ایسا کہاں کرسکتے ہیں؟ جی ہاں وہی رحمن ملک جن کو اسلام آباد کے طلبا نے بھگا دیا لیکن اس کی خبر ہمدانی کے قبیل کے انگریزی اخبار نے لگائی اور نہ ہی اس کے اردو ورژن یعنی آج کل نے۔
کیری لوگر بل پر تحفظات کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے امریکا پاکستان کی مائیکرو مینجمنٹ کرے گا‘ لیکن دوسری طرف عملی صورت حال یوں ہے کہ ملک کے اعلیٰ سول اور عسکری عہدوں پر فائز شخصیات سمیت کون ہے جو امریکی پالیسیوں پر عمل درآمد کو یقینی نہیں بناتا؟ بہت زیادہ محتاط ہوکر یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ یہ مائیکرو مینجمنٹ فوجی آمر جنرل پرویزمشرف کے دور سے شروع ہوگئی تھی۔ ایسے میں کیری لوگر بل پر فوج کی مزاحمت دیکھ کر ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے عسکری قیادت کی طرف دیکھنے والوں کی سادگی پر مرنے کو جی کرتا ہے۔
واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اُن کو بجا طور پر واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے میں امریکی سفیر کہا جانے لگا ہے‘ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون ہے جو امریکی مفادات کا تحفظ کرتا ہوا نہ نظر آرہا ہو؟ کسی ملک کی وزارت داخلہ کا بنیادی کام اس ملک کے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہی کام مملکت ِ خداداد پاکستان کی وزارت داخلہ کا بھی ہونا چاہیے‘ لیکن کیری لوگر بل کو پاکستان کی مائیکرو مینجمنٹ کا ہتھیار سمجھنے والوں کے لیے یہ خبرضرور پریشانی کا باعث ہوگی کہ وزیر داخلہ رحمن ملک نے امریکیوں کے تحفظ کے لیے ایسا اقدام اُٹھایا ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ معاصر انگریزی اخبار ”دی نیشن“ کے مطابق ”وزیر داخلہ رحمن ملک نے اپنے سخت جواب میں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب پر واضح کردیا ہے کہ امریکی سیکورٹی اہلکاروںکو[سہالہ کالج سے ] کسی اور جگہ منتقل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت دی ہے کہ اس [ سہالہ کالج میں امریکی مرکز] کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ بند کردیا جائے بصورت ِدیگر یہ [ناصر خان] درانی کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ اخبار کے مطابق وزارت ِداخلہ نے اتنی حساس اور خفیہ معلومات میڈیا کو افشاءکرنے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت کی ہے کہ حساس معاملات کو وسیع تر قومی مفاد میں خفیہ رکھا جائے۔“
……..٭٭٭……..
وزیر موصوف کے ”وسیع تر قومی مفاد“ اور پاکستانیوں کے ”وسیع تر قومی مفاد“ شاید مختلف ہیں‘ ورنہ سہالہ کالج کے کمانڈنٹ ناصر خان درانی نے میڈیا کو جو معلومات فراہم کی ہیں ان کو پڑھ کر تو یہی لگتا ہے کہ ان کا پھیلنا قومی مفاد میں ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اس کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ضروری تھا۔ قومی اخبارات میں چھپنے والی یہ خبر ملاحظہ کیجیے:
”انسداد دہشت گردی کی تربیت دینے کے لیے پاکستان آنے والے امریکی سیکورٹی حکام نے سہالہ پولیس ٹریننگ کالج میں بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد اسٹور کرلیا، کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج ناصر خان درانی سمیت کسی کو بھی اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں۔ کمانڈنٹ نے تمام صورت حال سے آئی جی پنجاب کو آگاہ کردیا۔ کمانڈنٹ پولیس کالج سہالہ ناصر خان درانی کی طرف سے آئی جی پولیس پنجاب کو بھیجے گئے میمورنڈم نمبر 12981 میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کے بیورو آف ڈپلومیٹک سیکورٹی نے پولیس کالج سہالہ میں انسداد دہشت گردی ریسپانس ٹیمز کی تربیت کے لیے 2003ءمیں انسداد دہشت گردی کی مدد ( اے ٹی اے) کا دفتر قائم کیا۔ وزارت داخلہ نے19جولائی 2003ءکو ایک میمورنڈم نمبر 1/41/2003 کے ذریعے اس آفس کے قیام میں اپنی رضامندی ظاہر کی اور کہا کہ امریکی سفارت خانے کو مذکورہ تربیتی مقاصد کےی لئے پولیس کالج سہالہ کی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے‘ انہیں فائرنگ رینج، آرمری اور دیگر متعلقہ سہولیات و انفرااسٹرکچر کی تعمیر کی بھی اجازت دی گئی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے کو نہ صرف پولیس کالج سہالہ کی انتظامیہ بلکہ زیرتربیت اہلکاروں کے لئے بھی نوگو ایریا قرار دیا گیا ہے‘ اور یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کالج کی حدود میں بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد بھی ذخیرہ کیا گیا ہے جو کہ اس تربیتی ادارے کے لیے بہت بڑا سیکورٹی رسک ہے۔ کمانڈنٹ سہالہ پولیس نے آئی جی پنجاب سے کہا ہے کہ وہ وزارت داخلہ اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کو اس معاملے میں ملوث کریں تاکہ مناسب حفاظتی اقدامات کیے جاسکیں۔“ (روزنامہ جنگ‘ روزنامہ ایکسپریس‘ روزنامہ امت کراچی)
……..٭٭٭……..
کمانڈنٹ سہالہ ٹریننگ کالج نے اس خوش فہمی میںآئی جی پنجاب سے وزارت ِداخلہ کو اس معاملے میں ملوث کرنے کے لیے کہا ہوگا کہ مذکورہ وزارت کا کام پاکستانی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ ناصر خان درانی جیسے پولیس اہلکار شاید اس حقیقت سے واقف نہیں کہ ان کی طرح کے چند ایماندار آفیسرز اگر ملک و قوم کی بقاءکے لیے کبھی کوئی کردار ادا کریں گے تو ان کو میڈلز نہیں پہنائے جائیں گے‘ یہ کام نامساعد حالات میں وسیع تر قومی مفاد میں کرنا ہوگا۔ یہ وسیع تر مفاد یقینا اُس وسیع تر مفاد سے مختلف ہوگا جو رحمن ملک کا ہے۔ لیکن ناصر خان درانی یہ یقین رکھیں کہ امریکی دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی قوم ان کی پشت پر ہے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ جو اس دنیا کی اصل سپرپاور ہے‘ کا ہاتھ اُن کے اوپر۔
اگرچہ رحمن ملک جیسے لوگوں سے یہ توقع کرنا ہی غلط ہے کہ امریکیوں کی حرکتوں کا نوٹس لیں گے‘ تاہم ایک عام آدمی یہ سوچتا ہے کہ کیا رحمن ملک کو امریکیوں کے دہشت گرد کیمپ کے بارے میں معلومات دینے والے پولیس کمانڈنٹ کو دھمکیاں دینے کے بجائے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا کہ وہ فوری طور پر امریکیوں کے اس مرکز پر چھاپہ مار کر وہاں سے دھماکا خیز مواد برآمد کرتے اور امریکیوں سے پوچھتے کہ انہوں نے کس مقصد کے لیے دھماکا خیز مواد یہاں ذخیرہ کیا ہے؟ یہ یہاں آیا کیسے؟ اس کا اب تک کہاں کہاں استعمال ہوچکا ہے؟ کیا اس دھماکا خیز مواد کا استعمال جی ایچ کیو اور اسلامی یونیورسٹی پر ہونے والے حملوں میں تو نہیں ہوا ہے؟ وہ وہاں سے مواد اٹھاکر اس کا موازنہ جی ایچ کیو اور اسلامی یونیورسٹی میں ہونے والے حملوں کے بعد اکٹھے کیے گئے سیمپلز سے کرتے اور اس بات کا سراغ لگاتے کہ ان حملوں میں امریکی کس حد تک ملوث ہیں؟ لیکن بھلا رحمن ملک ایسا کیوں کریں گے! یہاں ایک عام آدمی ایک اور سوال بھی اُٹھاتا ہے کہ رحمن ملک تو این آر او کی وجہ سے اس عہدے پر فائز ہیں‘ ورنہ ان کو تو کرپشن کے الزامات کے تحت جیل میں ہونا چاہیے تھا۔‘ ان کی طرف سے امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ رحمن ملک کی طرف سے کیری لوگر بل پر کابینہ کے اجلاس میں قرارداد پیش کرنے کی خبر تو طنز ومزاح کا موضوع بنی ہوئی ہے‘ لیکن کیا اسی کیری لوگر بل کے خلاف ”میدانِ عمل“ میں اُتر کر ”عوامی امنگوں“ کی ترجمانی کرنے والی فوج اس معاملے میں کود پڑے گی یا وہ فی الحال وزیرستان کے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے؟ اگر سیاست دان ناکام ہوچکے ہیں تو فوج تو پاکستان کی اصل ”محافظ“ ہے‘ وہ کیوں اس معاملے میں چپ ہے؟ کیا عالمی دہشت گرد امریکا کی جانب سے صف ِاول میں شامل ہونے والی فوج ان واقعات کو سیاسی حکومت کی بساط لپیٹنے کا بہانہ تو نہیں بنائے گی؟ عام آدمی تو پتا نہیں کیا کیا سوالات کرتا ہے۔ وہ سوالات کرے گا‘ شاید کبھی اس سے بڑھ کر بھی کچھ کرے…. میدان عمل میں اتر کر‘ احتجاج کے ذریعے امریکیوں اور ان کے حواریوں کو پیغام دے کر۔
تاہم یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ سہالہ کالج کی حدود میں قائم امریکی بیس بھی ایک فوجی آمر ہی کی دین ہے۔ پاکستانی عوام کا حافظہ بہت کمزور ہے۔ لہٰذا یہاں جمعہ 23 اکتوبر 2009ءکے ”دی نیشن“ میں شائع ہونے والی اس خبر کے چند پوائنٹس درج کرکے عوام کو یہ یاد دلانا بہت ضروری ہے کہ جنرل پرویزمشرف کے نامہ اعمال میں اس ”صدقہ جاریہ“ کا ثواب ملتا رہے گا ‘ جس کا کفارہ موجودہ فوجی سربراہ کو ادا کرنا چاہیے۔
……..٭٭٭……..
مقامی انگریزی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ کہوٹہ میں پاکستان کی جوہری تنصیبات کے قریب واقع سہالہ کالج میں ٹریننگ سینٹر کے نام پر امریکی 2003ءسے مستقل رہ رہے ہیں۔ ذرائع سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ ناصر خان درانی کی طرف سے شکایت کوئی انوکھی بات نہیں‘ کیوں کہ ماضی میں بھی کئی اعلیٰ پولیس افسران اسلام آباد کے اعلیٰ حکام کو امریکیوں کی طرف سے سینئر پولیس افسران کے لیے تربیتی کورسز پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ یہ افسران حکومت سے کہتے رہے ہیں کہ امریکی ان کو جو تربیت دے رہے ہیں اس سے کہیں زیادہ بہتر تربیت مقامی پولیس افسران دے سکتے ہیں‘ اس لیے ان کو کہوٹہ کے قریب اس حساس علاقے میں ٹھیرانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ لیکن اسلام آباد کے اعلیٰ حکام پاکستان پولیس کے تحفظات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ پولیس افسران یہ سوال بھی اُٹھاتے رہے ہیں کہ اگر یہ ٹریننگ بہت ضروری ہے تو اس کے لیے اس حساس علاقے کا انتخاب ہی کیوں؟ درحقیقت امریکیوں کو پاکستانی پولیس کی ٹریننگ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے‘ بلکہ یہاں آلات نصب کرکے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کی نگرانی کرناان کا مقصود ہے۔ واضح رہے کہ کالج کے اندر یہ امریکی بیس چار سے پانچ کنال پر قائم ہے جس کی دیواریں اونچی ہیں اور اس کے داخلی راستوں پر بڑے بڑے کنٹینر لگا دیے گئے ہیں‘ جبکہ کالج کی سینئر مینجمنٹ تک کو اندر جانے کی اجاز ت نہیں ہے۔
……..٭٭٭……..
مزید یہ بتاتے چلیں کہ سہالہ کالج کہوٹہ سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کالج کے ایک حصے میں قلعہ نما عمارت تعمیر کرکے اس میں بڑے پیمانے پر دھماکا خیز مواد ذخیرہ کرنا دراصل اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت پاکستان کے جوہری پروگرام پر قبضے کی تیاریوں کی ایک کڑی ہے۔ اس کڑی کو پرونے میں مددگار کون کون ہیں؟ یہ ایک ہم اور تحقیق طلب موضوع ہے‘ لیکن اس کڑی کو توڑنے کے لیے حکومت ِپاکستان اور فوجی قیادت پر دباﺅ ڈالنے کے لیے ایک بڑی قومی تحریک کی ضرورت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو اپنے سیاسی رہنماﺅں کی طرف دیکھنے کے بجائے اس تحریک کو لے کر چلنے والی سیاسی جماعتوں کا ساتھ وسیع تر قومی مفاد میں دینا ہوگا۔ جی وہی وسیع تر قومی مفاد جو رحمن ملک‘ حسین حقانی اور ہماری سول سیاسی اور عسکری قیادت کے مفاد سے الگ ہے۔
یہاں امریکی مداخلت کی سنگینی کو مزید واضح کرنے کے لیے مزید دو خبریں قارئین جسارت میگزین سے شیئر کرتے چلیں۔
……..٭٭٭……..
آن لائن نیوز ایجنسی نے نیویارک کی ڈیڈلائن سے ایک خبر جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں پاکستانی سفارت خانے نے گزشتہ15مہینے کے دوران افغانستان کے لیے جانے کے نام پر 26 سفارت کاروں‘ 1200فوجیوں اور 2500 امریکی شہریوں کو ویزے جاری کیے ہیں۔ یہ ویزے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ”درخواست“ پر جاری کیے گئے ہیں۔ سفارت خانے کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ ویزے افغانستان کے لیے جاری کیے گئے ہیں لیکن ان میں ایک مختصر دورانیہ کے لیے پاکستان میں قیام کی اجازت دی گئی ہے۔ اس خبر میں ایک اور دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ امریکی دفترخارجہ کی طرف سے مختصر نوٹس پر پاکستان جانے کے لیے ویزوں کے لیے پاکستانی دفتر خارجہ سے اجازت طلب نہیں کی جاتی۔ افغانستان جانے والے امریکی شہری آخر پاکستان سے ہی ہوکر کیوں گزرتے ہیں؟ کیا یہ سمندری راستے سے آتے ہیں اور افغانستان میں کوئی بندرگاہ نہیں ہے اس لیے کراچی اترکر یہ آگے منزل کی جانب بڑھتے ہیں؟ پٹاخے کی آواز سے ڈرنے والے عام امریکی شہری 2500 کی تعداد میں افغانستان کیا کرنے جاتے ہیں‘ اورکیا وہاں جانے کے لیے دھماکوں کے ملک پاکستان کی سیاحت کو ایک عام امریکی شہری افورڈ کرسکتا ہے؟ کیا یہ عام شہری ہیں یا بلیک واٹر کے اہلکار؟ واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار ان ویزوں سے الگ ہےں جو پاکستان کے نام پر جاری ہوتے ہیں‘ اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے بھی سرزمین پاکستان پر لینڈ کرتی ہے۔
……..٭٭٭……..
اسلام آباد سے تقریباً تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک ایسے مرکز کا پتا لگالیا گیا ہے جہاں دو سو سے زائد پاکستانی ریٹائرڈ نیوی، ایئر فورس اور فوجی افسران کو تربیت دی جارہی تھی۔ اس مرکز کو لوگوں کی نظر سے چھپانے کے لیے اس پر” آٹو ریپئر ورکشاپ“کا بورڈ لگایا گیا ہے۔ نوجوان صحافی اور ٹی وی اینکر احمد قریشی کے مطابق اس مرکز کو پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ افسران کو بھرتی اور تربیت دینے کے لیے استعمال کیا جارہا تھا تاکہ ایک ایسی پرائیویٹ ملیشیا تشکیل دی جائے جو پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی جاسوسی کرسکے۔ یہ مرکز ایک صنعتی علاقے میں واقع ہے۔ اس ”آٹو ریپئر ورک شاپ“ کی اونچی دیواروں پر ایسی تاریں لگا دی گئی ہیں جو کسی فوجی چھاﺅنی کے گرد لگائی جاتی ہےں‘ جبکہ اس پر ایک سیکورٹی ٹاور بھی قائم کیا گیا ہے جس طرح کے سیکورٹی ٹاور انٹیلی جنس ایجنسی کے ہیڈکوارٹر پر لگائے جاتے ہیں۔
احمد قریشی کے مطابق اگر آپ اسلام آباد سے روات کے لیے جارہے ہوں اور مین روڈ پر کسی بھی عام شہری کے سامنے ’امریکی‘ ’پرائیویٹ‘ اور ’ملٹری ٹریننگ‘ کے الفاظ کہہ دیں تو آپ حیران ہوجائیں گے کہ سب کو اس کے بارے میں پتا ہے لیکن یہ خاموش ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ ’ورک شاپ‘ دراصل امریکی دفاعی کنٹریکٹر ’ڈائن کارپ‘ کا ہے ۔ اس علاقے کی سیکورٹی بھی اس فرم کے ہاتھوں میں ہے۔ جب آپ اس بلڈنگ کے قریب جاتے ہیں تو لوگ آپ کو محتاط ہونے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جب پولیس نے امریکی سفارت خانے سے یہاں تربیت پانے والوں کی تفصیل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تو امریکی سفارت خانے نے نہ صرف یہ کہ لسٹ دینے سے انکار کردیا بلکہ یہ اطلاع بھی دی کہ اس مرکز کے منظرعام پر آجانے کے بعد ان دو سو پاکستانی ریٹائرڈ فوجی افسران کی جانوں کو خطرے کے پیش نظر ان کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے جس کا پتا نہیں بتایا جائے گا۔ کیا اس کے بعد بھی کوئی اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو سفات خانہ کہے گا؟ کیا اسلام آباد میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن واقعی سفیر ہیں یا ان کے ناپسندیدہ کردار کو دیکھتے ہوئے ان کے عہدے کو کوئی نیا نام دینا ہوگا؟
اس سے بھی بڑھ کر یہ سوال اہم ہے کہ کیا ہمارے حکمران پاکستانی کہلانے کے مستحق ہیں؟ کیا امریکی مطالبے پر محب وطن قبائلیوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے والی عسکری قیادت کے اندر حب الوطنی کا جذبہ ہے؟ کیری لوگر بل پر شیر کی طرح غرانے والے فوجی جرنیل پاکستان کے دل اسلام آباد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر رہائش پذیر امریکی دہشت گردوں کے خلاف کسی اقدام سے کیوں گریزاں ہیں؟
……..٭٭٭……..
ہاں پاکستانی حکمران امریکی خدمت کی تاریخ رقم کررہے ہیں‘ وہیں ترکی کے حکمرانوں نے نامساعد حالات اور ایک دین دشمن فوج کے ہوتے ہوئے اسرائیل کے اس مطالبے کو یکسر مسترد کردیا ہے کہ وہ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر نشر ہونے والے اس ڈرامے کو بند کرائے جس میں اسرائیلی فوجیوں کو معصوم فلسطینیوں کو مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ترک وزیر خارجہ پروفیسر احمد داووتوغلو نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ مذکورہ ڈراما کسی صورت بند نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ماضی کی اسلام دشمن ترک حکومتوں نے اسرائیل کے ساتھ بڑے ”خوش گوار“ تعلقات قائم کررکھے ہیں جس کے تحت امریکی روش اپناتے ہوئے اسرائیل اس کو اپنا حق سمجھتا ہے کہ وہ ترک حکومت کو کوئی بھی حکم دے۔ لیکن غیرت مند ترک حکمرانوں نے اسے بتادیا ہے کہ ترکی کوئی اسرائیلی کالونی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اسی برس ’ورلڈ اکنامک فورم‘ کے اجلاس کے موقع پر شمعون پیریز سے گرماگرم بحث کے بعد ترک وزیراعظم نے اجلاس سے واک آﺅٹ کیا تھا۔ اور جب وزیراعظم رجب طیب ایردوغان ملک لوٹے تو کروڑوں کی تعداد میں ترکوں نے اسرائیل کے خلاف وزیراعظم کے غصے پر ان کا شاندار استقبال کیا۔
یہ تو ترکی ہے‘ اور اِدھر پاکستان سے یہ خبریں سننے کو مل رہی ہیں کہ امریکا نے پاکستان کے نجی چینلز اور فلم پروڈیوسرز میں بڑی رقوم تقسیم کرکے جہاد اور اسلام مخالف فلمیں بناکر نوجوانوں کو کنفیوز کرنے کے کام پر لگادیا ہے۔ اس خبر کی تصدیق کے لیے پاکستانی چینلز کے ڈراموں کو مانیٹر کیا جاسکتا ہے‘ تاہم راقم کو چند دن قبل پشتو زبان کے نجی ٹی وی چینلز پر ایسے کئی ڈرامے دیکھنے کا اتفاق ہوا جن میں نوجوانوں کو جہاد سے متنفر کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اس میں ایسے ٹی وی چینلز اور فلم پروڈیوسرز بھی ہوں گے جنہوں نے امریکی رقم لینے سے انکار کیا ہوگا۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکی ایجنڈے سے انکاری محب وطن پاکستانی امریکی جارحیت کے خلاف نبردآزما قوتوں کی صفوں میں آجائیں اور محب وطن سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر امریکا مخالف تحریک میں شامل ہوکر امریکا کے ساتھ ساتھ اس کے نمک خواروں کو بھی مدینہ ثانی، ملک ِخداداد پاکستان سے چلتا کردیں (بشکریہ جسارت میگزین )
’’ایران ہمیشہ پاکستان مخالف کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، زاہدان اور چہار باغ میں ’’را‘‘کے اڈوں سے ہمارے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ اکہتر کی جنگ کے دوران بلوچستان پر قبضے کی دھمکی دی تھی۔ ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے میں بھارت کے مشورے ہر پاکستان کو پھنسوایا تھا، سابق سفارت کار ڈاکٹر نذیر ذاکر‘‘یہ آج روزنامہ امت کراچی کے صفحہ چھ پرشائع ہوئے ایک انٹرویو کی سرخی اور ذیلی سرخیوں کے الفاظ ہیں۔ (پورا انٹرویو پڑھنے کے یہاں کلک کریں)۔
کچھ تین برس قبل ایران کے قومی تقریبات میں شرکت کرکے واپس آنے والے ایک دانشور نے ایک نجی محفل میں جب ایران کو پاکستان کے لیے انڈیا سے زیادہ بڑا خطرہ قرار دیا تو یہ بات مجھ سے ہضم نہیں ہوئی لیکن مذکورہ دانشور نہ صرف یہ کہ ایران کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہوئے پائے گئے تھے بلکہ وہ اپنے مضامین اور کالموں کے سبب ان کا شمار ایران کے حمایتیوں میں ہوتا تھا۔ اس کے باوجود میں نے ان کی اس بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔
تاہم ۱۹ستمبر کو ایران کے صوبہ سیستان میں خودکش حملے میں پاسداران انقلاب کے کئی اعلیٰ کمانڈروں سمیت ۵۰ سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس المناک حادثے کے بعد ایران کے ردعمل نے مجھ تین برس قبل اس دانشور کی بات یاد دلادی۔ حیرت انگیز طورپر ایران نے برطانیہ اور امریکا پر بھی الزام لگایا۔ سوال یہ اُٹھتا ہے کہ پاکستان کو آخر ایران میں دھماکے سے کیا فائدہ پہنچتا ہے اور اگر ایران کے پاس پاکستان کے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اندر کچھ عناصر کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کے ثبوت تھے بھی تو اس نے بیان بازی کے بجائے حکومت پاکستان سے شیئر کیوں نہیں کیے۔ اس نے بھارت والا طرز عمل کیوں نہ اپنا یا؟ آخر بھارت اور ایران میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران ریاست پاکستان کو بحیثیت مجموعی اپنا دشمن سمجھ کر اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے؟
اس افسوس ناک واقعہ جس میں ۵۰ سے زائد ایرانیوں کی جانیں چلی گئیں کے صرف پانچ دن بعد ایران نے بھارتی طرز عمل اپناتے ہوئے پانچ پاکستانیوں کی لاشیں پاکستان بھیج دی اور دعویٰ کیا کہ یہ سیستان دھماکے میں جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ حقائق اس دعویٰ کو جھٹلاتے نظر آتے ہیں۔
ایران نے پانچ پاکستانیوں کی میتیں حوالے کردیں، تشدد کے نشانات ، تمام افراد خودکش حملے میں مرے، ایران کا دعویٰ ۔ بم دھماکہ نہیں تشدد کے نشانات ہیں۔ پاکستانی حکام۔ گرفتاری کے بعد ہلاک کیا گیا، ورثا۔ خبر کی تفصیل کے مطابق ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام افراد سیستان میں ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر زاہد شاہ کے مطابق میتیوں کے ابتدائی طبی معائنے سے کسی مرنے والے کے جسم پر بم دھماکے کے زخموں کے نشانات نہیں۔ مقامی پولیس انسپکٹر عابدعلی کا کہنا ہے کہ پانچوں کے جسموں پر تشدد کے نشانات ہیں ۔ ۲ لاشوں کے کانوں سے خون نکل رہا تھا۔ ورثا نے الزام عائد کیا ہے کہ تمام افراد گرفتار کرکے ہلاک کیے گئے۔( پوری خبر کے لیے یہاں کلک کریں)
ادھر ایران کے پاسداران انقلاب نے اپنی حکومت سے درخواست کی کہ سیستان بلوچستان میں خودکش حملے میں ملوث افرادکو پاکستان سے طلب کیاجائے ورنہ انہیں اجازت دی جائے کہ وہ خود ان افراد سے نمٹ لیں۔ایرانی نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے پاسدارن انقلاب کے زمینی لشکر کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور نے کہا ہے کہ ایران کی وزارت خارجہ پاکستان سے مذاکرات کر کے دہشت گردوں کی گرفتاری اور حوالگی کا مطالبہ کرے۔یا حکام انہیں اجازت دیں کہ پاسداران انقلاب خود ان دہشت گردوں سے نمٹ لے۔
حیر ت انگیز طور پر امریکی پالیسیوں کے سب سے بڑے ناقد ایران کے پاسداران انقلاب کا یہ طرزعمل بالکل بے لگام امریکا کی طرح ہے۔ یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ پاسداران انقلاب کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی اجازت دی گئی ہے ہا نہیں البتہ
اس کے علاوہ فرقہ وارانہ کارروائیوں میں ملوث سپاہ محمد کے کارکن اور سزا یافتہ دہشت گرد ارشد موٹا کی ایران روپوشی کا بھی انکشاف ہوا۔( خبر کے لیے یہاں کلک کریں)
یہ ساری بری خبریں ہیں۔ چمن دھماکے میں ایران کا بڑا نقصان ہوا ہے لیکن اس واقعہ سے فائدہ کس کو ہوا ہے یہ قابل غور وقابل تحقیق موضوع ہے۔ ایران کو چوٹ پہنچی ہے لیکن وہ بھول رہا ہے کہ پاکستان اس کا ہمسایہ ہی نہیں اس کا برادر اسلامی ملک بھی ہے۔ اگر کبھی ایران پر حملہ ہوتا ہے اور پاکستانی حکمران اس کا ساتھ دیں یا نہ دیں پاکستانی عوام فرقے اور مسلک سے بالاتر ہوکر اپنے ایرانی بھائیوں کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ ایران کا سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کرنا بہت بڑا احسان ہے لیکن اس وقت حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں ممالک کو اپنی صفحوں میں سے ایسے عناصر کو باہر نکالنا ہوگا جو ان برادر ممالک کے تعلقات کو کشیدہ کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایران یاد رکھے کہ امریکا اور اس کے حواری تمام مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ یہ سنی عراق او ر پاکستان ہے یا شیعہ ایران۔ پھر ہم کیوں دشمنوں کو موقع دیں؟ ایران کو پاکستان کے دوست ہونے کا ثبوت دینا ہوگا اور عالمی دہشت گردوں ، امریکا اور بھارت والا طرز عمل ترک کرنا ہوگا۔
ہندوستان کی ریاست گجرات میں اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو سوائن فلو ہوگیا ہے۔ نریندر مودی کو سوائن فلو کی تصدیق ان کے روس کے دورے سے واپس آنے کے ایک دن بعد ہوئی ہے۔
نریندر مودی کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر آر کے پٹیل نے گاندھی نگر میں اس بات کی تصدیق کی ہے۔
نریندر مودی 25 اکتوبر کو روس کے دورے پر گئے اور تین دن کے دورے کے بعد 28 اکتوبر کو ہندوستان واپس آئے تھے۔ واپس آنے کے بعد 29 اکتوبر کو انہوں نے سینے میں درد، کھانسی اور بدن میں درد کی شکایت کی۔ اس کے بعد نریندر مودی نے کہا کہ وہ ایچ ون این ون وائرس کی جانچ کرانا چاہتے۔ طبی جانچ کے بعد پتہ چلا کہ انہیں سوائن فلو ہوا ہے۔
ڈاکٹروں نے انہیں اپنے گھر میں تنہا رہنے کی صلاح دی ہے۔
ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کيے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مودی زیر علاج ہیں اور آئندہ ہفتے کے ان کی ساری مصروفیات منسوخ کر دی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی کے ساتھ ان کے وفد کے جو لوگ روس گئے تھے ان میں سے کسی کو بھی سوائن فلو نہیں ہوا ہے۔
ہندوستان میں گزشتہ مہنیوں میں سوائن فلو کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں اور سوائن فلو سے اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ سب سے زیادہ اموات ریاست مہاراشٹر میں ہوئی ہیں۔ پونے شہر میں اب تک اس بیماری سے 44 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
پوری دنیا میں سوائن فلو سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریبا تین ہزار ہے۔
ایک فلم میں دیکھا تھا کہ ایک عورت غنڈوں سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے اس خیال سے تھانے کے اندر چلی جاتی ہے کہ قانون کے رکھوالے اور شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کے ذمہ دار پولیس والے‘ غنڈوں سے اس کی جان بچا لیں گے۔ لیکن وہاں پہنچ کر اُسے پتا چلتا ہے کہ یہ تھانہ ویسے تو سرکاری ہے لیکن اصل میں یہ ان غنڈوں کا ایک یونٹ آفس ہے۔ آج پشاور سے تعلق رکھنے والا صحافی سید فواد علی شاہ بھی کچھ ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہے کہ وہ بھاگے تو کہاں بھاگے، چھپے تو کہاں چھپے، کس سے پناہ مانگے‘ کس پر اعتبار کرے اور کس کو اپنا محافظ سمجھے!
فواد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے تحفظ کے لیے آئی جی سرحد پولیس ملک نوید خان کو درخواست دی کہ وہ اس کو بلیک واٹر صلیبی ملیشیا سے بچالیں‘ لیکن وہ بھی امریکیوں سے اپنی دوستی نبھا رہے ہیں۔ دسمبر 2007ء کے سرد دنوں میں پشاور کے مقامی اخبار کے اس انویسٹی گیٹو رپورٹر نے جب 83 طالبان کی ایک فہرست مرتب کردی تو ناموں اور پتے کی تفصیلات پر مبنی یہ فہرست امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز“ میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد تو جیسے اس کی ”لاٹری“ نکل آئی اور امریکیوں نے اس کو سونے کی چڑیا سمجھ کر اسے اپنے قبضے میں لینے کی کوششیں شروع کردیں۔ طالبان کے خلاف خبریں چھاپنے پر پشاور میں امریکی قونصل خانے کے چار سفارت کاروں اسٹیون‘ کیش روڈرک‘کرسٹوفر اور ایشاکمبلی نے اس سے رابطہ قائم کیا۔ یہ چاروں سفارت کار اس سے ملاقات کرکے پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرنے کی ترغیب دیتے۔ انہوں نے فواد کو ہزاروں ڈالر کی پیش کش کی جبکہ ہر ملاقات میں اسے ایک ہزار ڈالر بطور انعام بھی دیتے تھے۔
فواد سے ان افراد کی ملاقاتیں پشاور میں یونیورسٹی ٹاﺅن کے مختلف گھروں میں ہوتی تھیں‘ اور ہر ملاقات میں اسے ایک ہزار ڈالر کے ساتھ شراب کی دو بوتلیں بھی دی جاتیں۔ شراب وہ واپس کردیتا لیکن رقم رکھ لیتا تھا۔ اس طرح ایک سال کے عرصے میں اس کی ان امریکیوں سے تقریباً14ملاقاتیں ہوئیں۔ پہلی ملاقات میں ان افراد نے اسے کھانا کھلایا اور ملکی مفاد کے خلاف کام کی پیشکش کی۔ (بقول فواد)اس نے جواب دیا کہ سوچ کر بتاﺅں گا۔ دوران ملاقات امریکی اس سے پشاور کی مختلف شخصیات کے بارے میں کوائف بھی حاصل کرتے۔
یہاں یہ واضح رہے کہ فواد نے پہلی ملاقات کے فوراً بعد ہی پاکستان کے حساس اداروں کو اس بارے میں آگاہ کردیا۔ تاہم انہوں نے ان امریکیوں کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان کے ساتھ ملاقاتیں جاری رکھنے اور اس کی تفصیلات فراہم کرنے کا کام لینا شروع کردیا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ لیکن ایک وقت ایسا آیا جب فواد نے امریکیوں کی پراسرار سرگرمیوں کی خبریں اخبارات میں رپورٹ کرنا شروع کردیں۔
بلیک واٹر کے موضوع پر بنیادی معلومات رکھنے والے شاید یہ جانتے ہوں گے کہ اس بدنام زمانہ دہشت گرد صلیبی فوج کے خلاف سب سے پہلی خبر یہ شائع ہوئی تھی کہ اس نے پشاور کے یونیورسٹی ٹاﺅن میں ایک این جی او کے روپ میں کام کرنا شروع کردیا ہے اور سیکڑوں پاکستانیوں کو بھرتی کرنے کے بعد صوبہ سرحد اور خصوصاً قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں انہیں استعمال کررہی ہے۔ یہ خبر فواد علی شاہ نے ہی بریک کی تھی جس کے بعد ملک کے کئی حصوں خصوصاً اسلام آباد میں بلیک واٹر کی سرگرمیوں کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔ بلیک واٹر کے بارے میں ان اہم انکشافات کی بناءپر ہی امریکی قونصل خانہ فواد کی جان کے درپے ہوا اور اس کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔
پشاور میں امریکی قونصل خانہ جو قونصل خانے سے زیادہ صلیبی دہشت گردوں کا عسکری ہیڈکوارٹر بنا ہوا ہے‘ کی طرف سے دھمکیاں ملنے کے بعد ایک پاکستانی کیا کرسکتا ہے؟ پولیس سے تحفظ مانگ سکتا ہے‘ حکومت کے پاس جاسکتا ہے۔ لیکن پشاور میں طالبان ، بلیک واٹر اور دہشت گردی کی اس پوری امریکی جنگ کے بارے میں بنیادی معلومات رکھنے کے سبب اس کو ادراک ہوا کہ پولیس کے پاس جانا شاید امریکی قونصل خانے کے ہتھے چڑھنے سے بھی زیادہ خطرنا ک ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ یہاں سے ایران چلا گیا اور وہاں مو ¿قف اختیار کیا کہ چونکہ اس نے امریکا کے خلاف کام کیا ہے‘ اس لیے امریکی اس کی جان کے درپے ہوگئے ہیں لہٰذا حکومت ِایران اس کو پناہ دے۔ لیکن وہاں اس کو معلوم ہوا کہ ایرانی حکومت ایسی کوئی خدمت انجام دینے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی ایرانی قوانین میں اس بات کی گنجائش ہے کہ اپنے ملک میں جان کے خطرے کے سبب بھاگ کر آنے والے کو پناہ دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جان بچانے کے لیے آرمینیا جانے کا فیصلہ کیا اور غیر قانونی طریقے سے سرحد عبور کرکے وہاں چلا گیا‘ تاہم پکڑا گیا اور نتیجتاً واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔ گزشتہ روز اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے اس نے حکومت سے اپنے تحفظ کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر اسے کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری امریکیوں کے علاوہ پشاور پولیس پر بھی عائد ہوگی۔
سید فواد علی شاہ اس وقت اپنے ملک کے اپنے ہی شہر میں امریکی درندوں سے جان بچانے کے لیے چھپتا پھر رہا ہے۔ اس کو ادراک ہے کہ جنگل کی شکل لیے اس ملک میں یہاں کے شہریوں کی جان کے تحفظ کے قوانین معطل ہیں اور یہاں کے لوگوں کو چیڑ پھاڑ کر کھانے والے آدم خور امریکی درندے قانون سے بالاتر ہیں۔ پشاور کے نامعلوم مقام سے جسارت میگزین سے فون پر بات کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ میں اس حکومت اور اس کی پولیس پر کیسے اعتبار کروں جو اسلحہ سمیت پکڑے گئے امریکی سفارت کاروں کے روپ میں دندناتے پھرنے والے امریکیوں کو ایک فون کال پر چھوڑ دیتی ہے!
اس کا کہنا تھا کہ رحمن ملک نہ یہ بات ماننے پر تیار ہیں کہ ملک میں بلیک واٹر ہے‘ اور نہ ہی امریکیوں کو قانون کے دائرے میں لانے کے بارے میں سنجیدہ ہےں۔ اس نے بتایا کہ اِس وقت اُس کے پاس ان بنگلوں کی مکمل تفصیلات موجود ہیں جو بلیک واٹر نے کرایہ پر لیے ہوئے ہیں۔ لیکن ثبوتوں کے باوجود اگر ہمارے وزیر داخلہ بلیک واٹر اور صلیبی فوجوں کی موجودگی سے انکار کریں تو اسے کیا قرار دیا جاسکتا ہے؟ فواد کا دعویٰ ہے کہ اس وقت اسلام آباد میں 278، پشاور میں 62 اور کراچی میں 35 بنگلوں میں بلیک واٹر کے اہلکار رہ رہے ہیں۔ یہ بنگلے مختلف فائیو اسٹار ہوٹلوں کے علاوہ ہیں جہاں بدنام زمانہ بلیک واٹر کے اعلیٰ افسران رہ رہے ہیں اور پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو یقینی بنانے کے لیے اس کی نگرانی کرتے ہیں۔
بلیک واٹر کے طریقہ واردات کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ سب سے پہلے کرپٹ، عیاش اور شرابی افسران، خفیہ ایجنسیوں اور پولیس کے اہلکاروں کی فہرست مرتب کرتی ہے‘ پھر ان سے رابطہ کرکے ڈالرز، شراب اور لڑکیوں کی پیشکش کی جاتی ہے۔ فواد کا کہنا ہے کہ ان افسران سے ملک کے اہم رازوں کے علاوہ متعلقہ اداروں کی پوری کارروائیوں کی تفصیلات حاصل کی جاتی ہیں۔ فواد کا کہنا ہے کہ امریکی بعض دفعہ افراد کو پہچاننے میں غلطی بھی کرجاتے ہیں۔ ایک واقعہ یوں ہوا کہ انہوں نے ڈی آئی جی اشرف نور کو پیشکش کی کہ وہ ڈالرز کے بدلے ان کے لیے کام کریں۔لیکن اشرف نور نمازی پرہیزگار پولیس آفیسر ہیں‘ اس لیے انہوں نے نہ صرف امریکیوں کی پیشکش مسترد کردی بلکہ اپنے اعلیٰ افسر کو اس بارے میں مطلع کردیا۔ جس پر اس اعلیٰ افسر نے امریکیوں سے رابطہ کرکے بتادیا کہ آپ نے غلط آدمی کو پیشکش کی ہے۔ اس کے بعد امریکی پشاور پولیس پر بہت زیادہ اثرانداز ہونے لگے۔ فواد علی شاہ کا دعویٰ ہے کہ اب امریکی ہر وقت پشاور کے سینٹرل پولیس آفس میں موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے اکثر پولیس اہلکاروں کو خرید لیا ہے۔
معتوب مگر نڈر صحافی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پشاور میں اس وقت بلیک واٹر کے زیر تربیت 6 بیچز فارغ ہوچکے ہیں۔ ہر بیچ میں دو سو سے تین سو افراد کو تربیت دی جاتی ہے۔ تربیت حاصل کرنے والوں میں اکثر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سابق افسران ہوتے ہیں۔ فواد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایک بڑی تعداد کو بھرتی کرکے پورے سرحد میں پھیلادیا گیا ہے جن کے ذریعے تباہی پھیلائی جارہی ہے۔ پشاور بم دھماکے کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ سو فیصد امریکیوں کی کارروائی ہے۔ اس نے بتایا کہ امریکیوں کی سرگرمیاں قریب سے دیکھنے کے علاوہ میں جلال آباد اور کابل میں امریکی قونصل خانوں میں بھی جاچکا ہوں اور میں وہاں کی صورت حال دیکھنے کے بعد وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ قونصل خانے دراصل امریکی جنگی مراکز ہےں جن کا استعمال پاکستان کے خلاف ہوتا ہے اور جہاں سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے علاوہ ان کے ہونے کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا پشاور کا واقعہ امریکیوں نے خود کیا ہے یا انہوں نے مقامی لوگوں کے ذریعے کروایا ہے؟ فواد کا کہنا تھا کہ اس وقت پشاور میں غربت نے لوگوں کو اس حد تک پہنچادیا ہے کہ آپ کو پانچ ہزار میں ایک تجربہ کار کرایہ کا قاتل بآسانی مل سکتا ہے۔ اس نے بتایا کہ اسے جیل میں طالبان کے رہنما مولوی رفیع الدین سے ملنے کا اتفاق ہوا‘ اور ان کے ساتھ طویل گفتگو سے یہ اندازہ ہوا کہ طالبان سخت امریکا مخالف ہےں اور ان کا ایجنڈا صرف اور صرف امریکیوں کا خاتمہ ہے، ہاں طالبان اُن شخصیات اور اداروں کو بھی نشانہ بنانا درست سمجھتے ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ امریکیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ طالبان عوام کو نشانہ بناسکتے ہیں اور نہ ہی عوامی مقامات پر دھماکا کرسکتے ہیں۔ پشاور کا واقعہ سو فی صد امریکی کارروائی ہے اور اس کو پشاور میں موجود بلیک واٹر نیٹ ورک کے ذریعے کرایا گیا ہے۔
سرحد حکومت کی کارکردگی کے بار ے میں فواد کا کہنا ہے کہ اسے اس جنگی حالت میں بھی عوام سے کوئی سروکار نہیں۔آپ پشاور کے ہر صحافی اور عام باخبر شخص سے پوچھیں کہ ”بابا کو ایزی لوڈ کرادو“ کا کیا مطلب ہے؟ تو وہ بتادے گا کہ ’بابا‘ حیدر خان ہوتی اور’ایزی لوڈ‘ پیسوں کو کہتے ہیں۔ فواد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایسی کرپٹ حکومت کا عوام اور ان کے جان ومال کے تحفظ سے بھلا کیا سروکار ہوسکتا ہے؟ وہ تو اس حالت میں بھی پیسے کمانے کے چکر میں لگی ہے‘ ایسے میں آپ سرحد پولیس سے کیا توقع کرسکتے ہیں جس کے اکثر اعلیٰ افسران امریکیوں کے ہاتھوں بک چکے ہیں۔ پشاور کے اس بہادر صحافی نے بتایا کہ اس وقت پشاور میں لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ امریکی کسی کو بھی طالبان کے نام پر اٹھا لیتے ہیں، امریکی نہ تو پشاور پولیس کو مطلع کرتے ہیں نہ ہی کسی اور حکومتی ادارے کو خاطر میں لاتے ہیں، تو ایسے میں میرے پاس چھپنے کے علاوہ کیا چارہ رہ جاتا ہے؟ اور ویسے بھی پولیس اور وزارت داخلہ کا کام اپنے شہریوں کی حفاظت کرنا نہیں بلکہ یہاں گھومنے والے خونی امریکی درندوں کو پولیس سے چھڑا کر یہ پیغام دینا ہے کہ امریکی پاکستانی قانون سے بالاتر بہت ہی اعلیٰ درجے کے انسان ہیں‘ جن کے لیے کیڑے مکوڑوں یعنی پاکستانیوں کی قربانی بھی دی جاسکتی ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا سرحد اور پشاور کی صحافتی برادری آپ کے ساتھ کھڑی ہے اور یہ کہ آپ نے پشاور کے بجائے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کیوں کی؟ فواد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پشاور پریس کلب دراصل امریکی کلب بنا ہوا ہے۔ وہاں ایک دن سی آئی اے کے اہلکار آتے ہیں اور تمام صحافیوں کو نکال دیا جاتا ہے۔ جس کو آپ پشاور پریس کلب کہتے ہیں اس کا کوئی رکن کلب کے اندر نہیں جاسکتا۔ پھر امریکی قونصل جنرل آتا ہے اور صحافیوں کو باہر نکال دیا جاتا ہے۔ فواد نے بتایا کہ اس وقت پشاور کے صحافیوں کے ہاتھوں میں کمائی کا ایک بڑا ذریعہ آگیا ہے اور وہ ڈالروں میں کماتے ہیں۔ پشاور پریس کلب کے ایک اعلیٰ عہدے دارکے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اس نے امریکیوں سے دس ہزار ڈالر لیے ہیں۔ اس نے امریکا کے لیے اِپلائی کیا ہوا ہے اور کسی بھی وقت امریکا چلاجائے گا۔
فواد علی کا قصہ ایک رپورٹر پر آنے والی مصیبت کی کہانی نہیں بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے محب وطن پاکستانیوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ اگر اس پوری کہانی پر نظر ڈالی جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہمارے ملک میں امریکی عسکری اور دہشت گرد ملیشیا کس حد تک اپنا نیٹ ورک قائم کرچکی ہے۔ بلیک واٹر کس طرح ہمارے ملک کے اندر بے گناہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے۔ اس کھیل میں کس حد تک پاکستانی حکمران اور یہاں کے قانون نافذ کرنے والے ادارے شریک ہیں۔ کس نے ان کو آزادی دی ہے اور کون ان سے چشم پوشی کررہا ہے۔ امریکا نے کتنے لوگوں کو خرید لیا ہے اور کس کی کتنی بولی لگتی ہے۔ اس ملک میں امریکا کے لیے اور وطن کے خلاف کام کرنا کتنا آسان اور ملک کی بقا کی جنگ لڑنا کتنا مشکل ہوگیا ہے۔ ہمارا میڈیا خصوصاً صوبہ سرحد کے صحافی کس حد تک درست رپورٹنگ کررہے ہیں‘ کون کتنے ڈالر وصول کررہا ہے؟ فواد علی شاہ کے ان انکشافات سے ان سارے سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ اپنے ضمیر کو بیچنے والے سیکڑوں یا ہزاروں افسران‘ صحافی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو خرید کر کیا کروڑوں پاکستانیوں کو غلام بنایا جاسکتا ہے؟ مایوسی کی خوفناک اندھیری خبروں کے بیچ میں نظر آنے والی چھوٹی سی کرن کے پیچھے ایک ایسی روشنی بھی نظر آرہی ہے جو ان کالے چہروں کو پاکستان سے بھاگنے پر مجبور کردے گی۔ گزشتہ دنوں امریکی کیری لوگر بل کے خلاف ریفرنڈم میں جوق درجوق آنے والوں کے چہروں سے صاف لگ رہا تھا کہ پاکستانی عوام امریکا اور اس کے مقامی تنخواہ دار ایجنٹوں کے خلاف جدوجہد پر نہ صرف آمادہ بلکہ اس کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ فواد علی جیسے صحافیوں کو دوڑانے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عنقریب ان کی دوڑ لگنے والی ہے، عنقریب عوامی سیلاب سے ایک ایسا انقلاب رونما ہونے والا ہے جس میں وطن کے لیے کام کرنے والوں کے لیے آسانیاں اور دشمن کے تنخواہ داروں کے لیے مشکلیں ہی مشکلیں ہوں گی۔
………………………………………………………………………………………………………….
یہ مضمون جسارت میگزین کے یکم نومبر کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس کے گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں۔
اس مضمون پر میرے انگریزی بلاگ کے لیے یہاں کلک کریں۔
پاکستان بننے کے بعد سے ستر کی دہائی تک جامعات کے کمیپسز میں دوپٹے والی اور داڑھی والے کا داخل ہونے ’طالبان‘ جامعہ کے لیے کمیپس کے اندر ہی عجائب گھر کی کسی مخلوق کی آمد ہوتی تھی۔ ایک بزرگ وکیل سے انڈین چینلز کے ذریعے آئے عریانی کی شکایت کی کہ معاشرے کو ڈرامے میں دکھائے گئے کرداروں جیسا بن دے گی تو موصوف مسکرا نے لگیں۔ بتایا ایک وقت وہ بھی تھا جب کراچی کے پارسی انسٹی ٹیوٹ میں مکمل عریاں رقص ہوا کرتا تھا اور شہر کی شرافیہ کے علاوہ مڈل کلاس کے شہری بھی اہل خانہ سمیت وہاں آکر زندگی کی ’رنگینیوں‘ سے لطف اندوز ہوتے تھے۔
یہ تو دور کی بات ہے۔ نوے کی دہائی میں اسکول اور کالج کا زمانہ دیکھا۔ یہی شعور والا زمانہ ہوتا ہے ۔ والدمحترم جو پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں کی طرف سےکرفیو جیسی پابندی تھی۔ میرا کوئی بیٹا مسجد میں آذان نہیں دے گا۔ مولوی ہمارا ’کسب گر‘ ہوتا ہے جیسے نائی ، موچی اور ترکھان ہمارے کسب گر ہوتے ہیں۔ اب بھلا میرا کوئی بیٹا کسب گروں والا کام کرے گا۔
اب اللہ کا شکر ہے سوچ بدل گئی ، والد صاحب بھی بدل گئے البتہ اب بھی جیالے ہی ہیں لیکن فرق اتنا پڑا ہے کہ چاروں بیٹوں کے ملا بننے سے اعتراض رہا اور نہ ہی ان کے اذان دینے پر پابندی ہے۔ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ گھر میں جمہوریت ہے کیا ہوا اگر ان کی پارٹی میں جمہوریت نہیں۔
تمہید کچھ لمبی ہوگئی لیکن بتاتے چلیں کہ جب سے نائن الیون ہوا ہے تو ملا ایک گالی بن چکا ہے ۔ کچھ قصور ہماری دینی سیاسی جماعتوں بالخصوص مولانا اقتدار کا بھی ہے لیکن اصل حصہ لبرل فاشسٹوں کے پروپیگنڈا ہے۔ فاشسٹ پروپیگنڈے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ یہی حالت پاکستان کے لبرل فاشسٹوں کا بھی ہے۔ یہ لبرل فاشسٹ اسی کی دہائی سے پہلے اپنے آپ کو کمیونسٹ کہلاتے تھے۔ اب اپرچونسٹ بن گئے ہیں امریکا کی مالا چپتے ہیں۔ کہلاتے لبرل ہیں لیکن اصل میں لبرل فاشسٹ ہیں۔ کراچی میں حق پرست فاشستوں کا میڈیا مانیٹرنگ سسٹم دیکھا تو حیران ہوا ایسا سسٹم تو کسی ملک کا بھی نہیں ہوسکتا بھلا ایک پارٹی کو اس کی کیا ضرورت پڑھ گئی؟ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ دکھانے کے لیے پروپیگنڈے کی ضرورت تو ہوتی اور اس کے لیے پوری کی پوری پروپیگنڈا مشنری درکار ہوتی ہے۔
تو عرض کررہا تھا کہ نائن الیون کے بعد مذہبی رحجان رکھنے والوں کی طرف سے معذرت خواہانہ رویہ اپنایا گیا ہے ۔ مجھے کبھی شرمندگی نہیں ہوئی۔ میں ملا ہوں لیکن مسجد کا پیش امام یا مدرسہ کا فارغ و تحصیل مولوی نہیں ۔ اقبال کا ملا ہوں اگر چہ میں افغانی ملا ہوں لیکن میں اپنے اپنے آپ کو عالمگیر ملا سمجھتا ہوں۔
عنوان تو ’’اقبال کی شاعری میں ملا کا کردار‘‘ ہے لیکنشاہ نواز فاروقی کا یہ مضمون(گرافک ویو) دراصل ملا کا مقدمہ ہے جس کو پڑھنے سے ملابوفیا میں مبتلا اکثر لبرل دوستوں کو افاقہ ہوگا۔
دس بارہ سال تک طالبان کی مسلسل حمایت کے بعد جو لوگ اچانک اُن کے خلاف ہوگئے ہیں اُن میں ایک نام ملک کے معروف کالم نویس ہارون الرشید کا بھی ہے۔ وہ طالبان اور ان کی ملاّئیت کے خلاف ہوگئے ہیں تو خیر یہ اُن کا ذاتی مسئلہ ہے‘ مگر وہ اپنے ایک کالم میں علامہ اقبال کو بھی گھسیٹ لائے ہیں اور انہوں نے فرمایا ہیں
”کبھی کسی نے سوچا کہ اقبال کی پوری شاعری ملاّ کی مذمت سے کیوں بھری ہے؟ اس لیے کہ وہ ماضی میں زندہ رہتا ہے۔ اختلاف کرنے والوں سےنفرت کرتا ہے اور انہیں جہنم کی وعید دیتا ہے۔“
اب مسئلہ یہ ہے کہ اوّل تو اقبال کی پوری شاعری ملاّ کی مذمت سے بھری ہوئی نہیں ہے۔ آپ اقبال کی اردو کلیات سے ملاّ کے بار ے میں بمشکل دس بارہ شعر نکال کر دکھا سکتے ہیں۔ پھر مزید دشواری یہ ہے کہ اقبال نے کہیں بھی ملاّ کی مذمت نہیں کی ہے۔ دراصل اقبال کو ملاّ کے کردار سے گہری ”شکایت“ ہے‘ اور شکایت و مذمت اور ان کی نفسیات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مگر اقبال کو ملاّ سے شکایت کیا ہے؟ آیئے اس شکایت کا مرحلہ وار مطالعہ کرتے ہیں۔ اقبال کی ایک چار مصرعوں پر مشتمل نظم ہے جس کا عنوان ہے ”ملاّئے حرم“۔ اس نظم میں اقبال فرماتے ہیں
عجب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو
تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام
تری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال
تری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام
اس نظم میں اقبال کو ملاّ سے شکایت یہ ہے کہ وہ ”پہلے کی طرح“ خدا شناس یا ”عارف بااللہ“ نہیں رہا‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے انسان شناسی یا خودشناسی کی اہلیت کھو دی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اقبال کے نزدیک آدمی کا مقام کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آدمی اشرف المخلوقات ہے۔ مسجود ملائک ہے۔ اس کی نماز میں جلال اور جمال اس کی اسی حیثیت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس نظم میں ملاّ کے لیے اقبال کا مشورہ یہ ہے کہ اسے خداشناسی کے ہدف تک پہنچنے کے لیے خود شناسی پیدا کرنی چاہیے تاکہ اس کی نماز میں جلال و جمال پیدا ہوسکے اور اس کی اذان اقبال کی سحر یعنی غلبہ اسلام کی پیامبر بن سکے۔ سوال یہ ہے کہ اس نظم میں اقبال نے ملا کی مذمت کی ہے یا اس سے گہرے تعلق کی بنا پر شکایت کی ہے؟
خودشناسی اور خدا شناسی سےمحرومی معمولی بات نہیں۔ اس سےبڑ ے بڑے مسائل جنم لیتےہیں۔ اقبال کا ملاّ چوں کہ خداشناس نہیں رہا اس لیے وہ صرف تقریروں پر اکتفا کرنےلگا ہے اور اس نے”زورِ خطابت“ کو اپنےاور مسلمانوں کےلیے کافی سمجھ لیا ہے۔ اقبال نےاس امر کی بھی شکایت کی ہے‘کہتے ہیں؛
صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال
ملا کی شریعت میں فقط مستی گفتار
ظاہر ہے کہ ’’مستی گفتار‘‘ میں مبتلا ہونے کا نتیجہیہ نکلتا ہے کہ ’’قول‘‘ ’’عمل‘‘ کا متبادل بن جاتا ے۔ انسان کو لگتا ہے کہ اس کی گفتگو ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔ اقبال کی نظراس مسئلے پر بھی ہے‘ چنانچہ انہوں نے کہا ہے۔
آہ اِس راز سےواقف ہے نہ ملاّ نہ فقیہ
وحدت افکار کی ب ے وحدت کردار ہے خام
مطلب یہ ہے کہ جب تک قول عمل نہ بن جائے اور عمل میں ایک قرینہ نہ پیدا ہوجائے اُس وقت تک فکر کا بھی کوئی خاص مفہوم نہیں‘ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسی فکر سےخود فریبی پیدا ہوسکتی ہے۔ وہ خود فریبی جو ہند کےملا ّکو لاحق ہوئی۔ اقبال کےاپنےالفاظ ہیں:۔
ملاّ کو جو ہے ہند میں سجد ے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
صرف یہی نہیں‘ اسےملوکیت بھی اسلامی اسلامی سی لگنےلگتی ہے۔ اس معاملے کی طرف اشارہ کرتےہوئے اقبال نےشیطان کی زبان سےکہلوا دیا ہے:۔
یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام
ظاہر ہے کہ جس کردار میں اتنی کمزوریاں در آئی ہوں اس کے پاس فراست تو نہیں ہوگی ‘چنانچہ اقبال نےملاّ کےخلاف یہ شکایت بھی درج کرائی ہے:۔
ملاّ کی نظر نورِ فراست سےہے خالی
مگر ان تمام باتوں کےباوجود اقبال ملا ّسےتعلق نہیں توڑتے۔ اِس کا ثبوت ان کی شکایات ہیں۔ مذمت اور شکایت کی نفسیات میں بڑا فرق ہے۔ مذمت لاتعلقی کےساتھ کی جاتی ہے اور شکایت تعلق کےساتھ۔ لیکن ملا ّکےکردار کا معاملہ اقبال کےیہاں اور بھی گہرا ہے۔
دراصل اقبال کےیہاں ”ملاّ“ اور ”مجاہد“ دو الگ شخصیتیں نہیں ہیں بلکہ وہ ایک ہی شخصیت کےدو پہلو ہیں۔ مجاہد ملاّ کا عروج ہے اور ملاّ مجاہد کا زوال۔ یعنی اقبال کےیہاں ملاّ جب خود شناس ہوجاتا ہے تو وہ مجاہد بن جاتا ہے‘ اور جب مجاہد نسیان میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ ملاّ کےکردار میں ڈھل جاتا ہے۔ اقبال کا ایک شعر ہے:۔
الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملاّ کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور
مگر اس شعر کا مطلب کیا ہے؟ اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ ملاّ کےلیے اذان دینا ایک کام ہے ‘ ایک جاب ہے جس کا اسے معاوضہ ملتا ہے۔ اس کے برعکس مجاد کے لیے اذان ایک وجودی حقیقت ہے‘ جان کا سودا ہے‘ اس بات کا اعلان ہے کہ مجاہد وجود نہیں رکھتا‘ صرف اللہ وجود رکھتا ہے۔ اور اگر مجاہد کا وجود ہے تو صرف حق کی گواہی دینےکےلیے۔ اقبال کےاس شعر سےیہ مفہوم بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ملاّ اور مجاہد کی فکری کائنات ایک ہے۔ ان کی لغت ایک ہے۔ لیکن اس کائنات میں مجاہد اسلام کی روح اور ملاّ جسم کی علامت ہے۔ یعنی ملاّ محض لفظ ہے اور مجاہد اس لفظ کا مفہوم۔ البتہ یہ بات طے شدہ ہے کہ ملاّ اسلام اور اقبال کی فکری کائنات کا ایک ”ناگزیر“ کردار ہے۔ اس کی جگہ نہ کوئی ”مسٹر“ لے سکتا ہے نہ کوئی میجر جنرل یا جنرل۔ مگر پھر مسئلے کا حل کیا ہیے؟ مسئلے کا حل یہ ہے کہ ملاّ کو مجاہد بننےپر مائل کیا جائے‘ اس کےسوا مسئلے کا ہر حل غلط اور فضول ہے۔ مگر ملاّ کےسلسلے میں اقبال کا سب سےمعرکہ آراءشعر تو رہ ہی گیا۔ اقبال نےکہا ہے:۔
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
ملاّ کو اس کےکوہ و دمن سےنکال دو
اس شعر میں اقبال نےملاّ کو غیرتِ دین کی علامت کےطور پر پیش کیا ہے۔ بلاشبہ اس کا حوالہ افغانی ہیں مگر اقبال کےیہاں ملاّ کا کردار عالمگیر یا عالم اسلام کے حوالے سے یونیورسل ہے۔ چنانچہ ملا صرف افغانیوں کے لیے نہیں تمام مسلمانوں کے لیے اہم ہے‘ اس لیے کہ وہ قرآن وحدیث کا حافظ ہے ‘ دینی فکر اور مذہبی ورثے کی منتقلی کا ایک ذریعہ ہے۔ وہ ان امور پر مطلع ہے جس سے محض آگاہ ہونے کے لیے بھی ایک عمر اور طویل تربیت درکار ہے۔ اقبال بھی ملا کو بدلنا یا ریپلیس کرنا نہیں چاہتے‘ اس لیے انہوں اس کی شکایات درج کرائی ہیں‘ مذمت نہیں کی۔ اور خواہش کی ہے کہ کاش وہ ایک بار پھر خودشناس اور خدا شناس ہوجائے۔ یعنی اقبال کا مجاہد اور مومن بن جائے۔
منو بھائی نے ایک ایسے معاشرتی مسئلے پر قلم اٹھایا ہے جو ہر کسی کی توجہ کا مرکز ہونا چاہیے۔ جہیز کی لعنت کے سبب ہماری کتنی بہنیں اور بیٹیاں گھروں پر بیٹھی رہ جاتی ہیں۔ ان بہنوں کے مسائل کیا ہیں اور معاشرہ ان کی کیا مدد کرسکتا ہے۔ یہ جاننے کے لیے منوبھائی کا یہ کالم پڑھ لیتے ہیں۔ امید ہے کہ میرے ساتھی بلاگرز اس موضوع پر کچھ تجاویز بھی دیں گے کہ ہم ایسی بہنوں بیٹیوں کی کیا مدد کرسکتے ہیں؟ مضمون کے گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں
…………………………………………………………………..
سب سے پہلے میں اس خاتون کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو اپنے حلقہ احباب اور عزیزوں میں منی باجی کے طور پر یاد کی جاتی ہیں۔ شکریہ ادا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے میری توجہ پاکستانی معاشرے کے ایک ایسے معاشرتی اور انسانی حقوق کے مسئلہ پر دلائی جو بہت کم لوگوں کی توجہ میں آیا ہے اور یہ مسئلہ ان خواتین کا ہے جو مناسب اور موزوں رشتے نہ ملنے کی وجہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں ہوسکتیں اور ایک خاص عمر کے بعد غیر شادی شدہ رہ جاتی ہیں اور یوں اپنی زندگی تنہائی میں گزار کر اس دنیائے فانی سے رخصت ہو جاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے معاشرے میں ایسی خواتین کا تناسب پندرہ فیصد سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے، خاص طور پر مربوط اور مشترکہ گھرانوں کے بکھر جانے کے بعد اور ہجرت درہجرت کے دردناک تجربات سے گزرنے اور دیہات سے شہروں میں نقل مکانی کے بعد پردہ دار متوسط گھرانوں کی لڑکیوں کے لئے مناسب اور موزوں رشتوں کی تلاش مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی گئی اور محتاط گھرانوں کے بزرگوں نے رشتوں کا جواء کھیلنے سے گریز کو ہی مناسب سمجھا چنانچہ غیر شادی شدہ حالت میں اپنی زندگی گزارنے والی خواتین کا تناسب گھر گھر ہستی کی رونق اور نعمت سے فیض یاب ہونے والی خواتین کے مقابلے میں پندرہ بیس فیصد سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے اور معاشرتی زندگی میں اجنبیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے مستقبل میں ایسی خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہوسکتا ہے۔ ایسی غیر شادی شدہ خواتین کا موازنہ اگر بیوگان کے ساتھ کیا جائے تو اس نوعیت کے حقائق سامنے آئیں گے کہ بیوگان کے پاس ان کے مرحوم شوہروں کی چھوڑی ہوئی املاک اور مراعات ہوسکتی ہیں، ان کی اولادیں بھی ہوسکتی ہیں جو ان کے بڑھاپے کا سہارا بن سکیں اس کے علاوہ بیوگان کو ایک معاشرتی ہمدردی بھی حاصل ہوتی ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں بیوگان کااحترام بھی ہوتا ہے جبکہ غیر شادی شدہ خواتین ان تمام دنیاوی نعمتوں اور مراعات و حقوق سے محروم ہوتی ہیں۔ بھائیوں اور بہنوں، والدین اور عزیز رشتہ داروں کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ان خواتین کو کوئی سہارا، آسرا یامدد میسر نہیں ہوتی۔ ایک بہت ہی خوفناک اداسی اور تنہائی ہوتی ہے اور مردانہ یا پدرانہ طرز کے معاشروں میں یہ اداسی اور تنہائی اور بھی زیادہ خوفناک اور اذیت دینے والی ثابت ہوتی ہے۔ بعض حالات میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جن خواتین کو ڈولی اٹھانے والے کہار نہیں مل سکے انہیں جنازہ اٹھانے والے چارکندھے بھی نصیب نہیں ہوتے ہیں۔ منی باجی نے سر راہ مجھے روک کر کہا کہ منو بھائی میں آپ کی تحریروں میں خواتین کے لئے پائے جانے والے احترام اور ان کی تکریم میں کہی گئی باتیں پسند کرتی ہوں مگر کبھی آپ نے زندگی بھر کنواری رہنے والی خواتین کے مسائل پر بھی غور کیا ہے؟ منی باجی نے یہ شکایت بھی کی کہ حکومتوں کی طرف سے عوامی فلاح و بہبود کے جو پروگرام اور منصوبے جاری کئے جاتے ہیں ان میں بیوگان کے امدادی منصوبے اور پروگرام تو ہوتے ہیں مگر زندگی بھر کنواری رہ جانے والی خواتین کی داد رسی، مدد، اور اشک شوئی کی کسی کوشش کا ذکر نہیں ہوتا۔ غیر شادی شدہ خواتین کی امداد یا سہارے کا کوئی حوالہ بیت المال کے منصوبوں اور پروگرام میں بھی نہیں ہوتا اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے نام سے جاری ہونے والے بے نظیر سپورٹ پروگرام میں بھی غیر شادی شدہ خواتین کے لئے کوئی ہمدردی کا اشارہ نہیں ملتا۔ منو بھائی! کیا آپ اپنے ملک اور معاشرے کی ان غیر شادی شدہ خواتین کے معاشرتی حقوق اور انسانی حقوق کی پاسداری کے سلسلے میں حکمرانوں کو کوئی مفید مشورہ دے سکتے ہیں؟ میں نے منی باجی کی یہ فرمائش پوری کرنے کا وعدہ تو کر لیا مگر اب سوچتا ہوں کہ منی باجی کا یہ مشورہ حکمرانوں تک کیسے پہنچاؤں کیونکہ بزرگوں کا کہنا ہے اور سو فیصد درست ہے کہ مشورہ دینے سے کام نہیں بنتا مشورہ لینے سے کام بنتا ہے اور پھر یہ مشورہ دیا کس کو جائے کیونکہ کسی کو مشورے لینے کی فرصت بھی نہیں ہے اور مشورے لیں بھی لیں تو اس پر عملدرآمد کی فرصت نہیں ملتی۔
بات وزنی ہے۔ شاید یہ بہت ساروں کی دل کی بات ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب میں زرداری ، رحمن ملک(ڈکیت) اور حسین حقانی ( نہ کہ پیپلز پارٹی ) کی حکومت سے سخت اکتا چکا ہوں یہ سمجھتا ہوں کہ جنرل پرویز میراثی و طبلچی کی فوجی حکومت پاکستان کی بری حکومتوں میں سے ایک بلکہ سب سے بری حکومت تھی۔ فوج کا سیاسی کردار انتہائی بے ہودہ اور کالا ہے کہ اس کا سوچ کر بھی روح کانپ جاتی ہے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ موجود حکومت کی امریکا نوازی اور کرپشن کو دیکھتے ہوئے خوش ہوا جائے؟
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے۔ امریکا اور اس کے حواریوں نے اب تک پاکستان کی ایٹمی قوت کو تسلیم نہیں کیا چنانچہ پہلے ہی دن سے پاکستان پر طرح طرح سے دباﺅ ڈالا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکی پالیسی اورمعیشت یہودیوں کے شکنجے میں ہے چنانچہ امریکی زعماءوہی کچھ کرنے پر مجبور ہیں جو یہودی ان سے کرانا چاہتے ہیں اور یہودیوں نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ ایک مسلم ملک بھی ایٹمی طاقت بن سکے۔اوراب تو ایران بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کررہا ہے جس سے اسرائیل خوف زدہ ہے۔ پورے خطہ عرب میں صرف اورصرف اسرائیل ایک ایٹمی طاقت ہے لیکن اس کی طرف سے امریکا اور اس کے حواریوں نے آنکھیں بندکررکھی ہیں۔ برعظیم میں پاکستان سے پہلے بھارت نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی اور1974ءہی میں پوکھران میں ایٹمی دھماکا کرکے پاکستان کو دھمکی آمیز پیغام دے دیا تھا‘ لیکن اس پر کبھی کوئی پابندی نہیں لگی۔پاکستان نے تو بہت بعد میں ایٹمی دھماکے کیے اور وہ بھی بھارت کے جواب میں۔لیکن پاکستان کے دیرینہ ”دوست“ امریکا نے پاکستان پر پابندیاں عائد کردیں مگر پاکستان اپنے ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کرچکاتھا۔ اس کے بعد ہی سے امریکا مختلف حیلوں سے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور طاقت کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جو امریکا اپنے تمام صلیبی حواریوں کو لے کر پاکستان کے پڑوس افغانستان میں اتر آیا ہے یہ بھی پاکستان کو نقصان پہنچانے اور اس کی ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کرنے کے طویل المیعاد منصوبے کا حصہ ہے۔یہ تو سب کو نظر آرہا ہے کہ امریکا نے اپنی دہشت گردی کی جنگ پاکستان میں داخل کردی ہے اورکہا جارہا ہے کہ افغانستان سے زیادہ پاکستان خطرناک ہے۔تازہ ترین بیان برطانوی مسلح افواج کے سربراہ سرجوک اسٹریپ کا ہے کہ القاعدہ افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان کے نسبتاً ایک چھوٹے علاقہ میں منتقل ہوگئی ہے۔امریکا وبرطانیہ کو القاعدہ اورطالبان کبھی قبائلی علاقوں میں نظر آتے ہیں اور کبھی کوئٹہ میں۔ یہ محض بیانات اورقیاس آرائیاں نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جارہی ہے اورالقاعدہ وطالبان کے بہانے آئندہ کسی بھی وقت بری فوجیں پاکستان میں داخل کی جاسکتی ہیں‘ فضائی حملے تو ہوہی رہے ہیں اورپاکستان کے حکمران دم سادھے بیٹھے ہیں۔زمینی فوج داخل ہوگئی تو شاید اس کے خلاف بھی پارلیمنٹ سے متفقہ قرار داد منظور کرانے کے سوا کچھ نہ کیا جائے۔ امریکی جریدے نیویارکر نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے جو رپورٹ شائع کی ہے وہ بے مقصد نہیں ہے۔پاکستان کی طرف سے اس رپورٹ کی سختی سے تردید کی گئی ہے لیکن جو کچھ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے وہ خالی ازعلت نہیں اور اس میں بین السطور پڑھنے اورسمجھنے کی ضرورت ہے‘ صرف تردید کافی نہیں ہے۔مذکورہ رپورٹ امریکا کے مشہور صحافی اوربرعظیم کے امور کا ماہر سمجھے جانے والے شخص سیمورہرش کی تیار کردہ ہے جس کے رابطے اہم شخصیات سے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لیے پاکستان اورامریکا میں مذاکرات ہورہے ہیں اورایٹمی تنصیبات کو دہشت گردوں کے ہاتھوں کسی بھی خطرے کے پیش نظر چند گھنٹوں میں اپنی تحویل میں لینے کے لیے امریکی جوائنٹ اسپیشل آپریشن کمان کے دستے علاقے میں موجود ہیں جن کے پاس سیکورٹی پلان بھی موجود ہے۔یہ دستے فوری طور پر پاکستان پہنچ کر ایٹمی اسلحہ اپنے قبضہ میں لے سکتے ہیں۔رپورٹ میں یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ سرگودھا ائیربیس پر ایف 16طیاروں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ ایٹمی تنصیبات اس علاقہ میں موجود ہیں۔سیمورہرش کی باخبری کا اندازہ اس بات سے ہوجاتا ہے کہ ان کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ ایف 16طیارے تو پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے پہلے بھی سرگودھا ائیربیس پر ہوتے تھے۔رپورٹ کا بیشتر حصہ تو اخباری اصطلاح میں”ٹیبل اسٹوری“ معلوم ہوتا ہے تاہم اس کا خطرناک ترین پہلو یہ انکشاف ہے کہ”گزشتہ گرمیوں میں ایک جھوٹی خبر یہ ملی کہ پاکستان کے 80سی100تک کے ایٹم بموں میں سے ایک غائب ہے جس پر دبئی میں موجود ایف بی آئی‘سی آئی اے‘ پینٹا گون اورانرجی ڈیپارٹمنٹ کی ایکشن ٹیم پاکستان پر حملے کے لیے تیار ہوگئی۔تاہم چار گھنٹے بعد یہ خبرغلط ثابت ہوئی تو ٹیم کو روانگی سے روک دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ تحقیق تو نہیں کی گئی ہوگی کہ یہ افواہ کن ذرائع سے پھیلائی گئی۔لیکن تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر اور کچھ دیر تک افواہ کی تردید نہ ہوتی تو کیا ہوتا۔اس سے زیادہ خطرناک یہ ہے کہ ایسی ہی کسی اورافواہ کی بنیاد پر پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر یلغارہوسکتی ہے۔یہ افواہ خود امریکی ذرائع بھی اڑاسکتے ہیں اورامریکا اس پرفوری عمل کرسکتا ہے۔کیونکہ دبئی میں تربیت یافتہ ایکشن ٹیم کی موجودگی ظاہر کررہی ہے کہ امریکا اس کے لیے تلا بیٹھا ہے۔نیویارک کی اس رپورٹ کے مطابق جنرل کیانی اور امریکی ایڈمرل مائیکل مولن میں ذاتی دوستی ہے اورروزانہ کی بنیاد پر باہم رابطے ہیں چنانچہ امریکا اورپاکستانی فوج میں یہ مذاکرات ہورہے ہیں کہ ایٹمی تنصیبات اوراسلحہ کو کوئی خطرہ درپیش ہو تو ماہرین پر مشتمل امریکی ٹیم کو حرکت میں آنے کی اجازت ہوگی اورامریکی دستے جوہری ہتھیاراپنے قبضے میں لے سکتے ہیں۔یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمان نے پاکستانی ایٹمی اسلحہ کی منتقلی کے لیے بھی منصوبہ بندی کرلی ہے‘ پاک فوج کو خصوصی فنڈز دیے جائیں گے‘ پاکستان نے ہتھیاروں کے مقامات اورکمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے بارے میں معلومات فراہم کردی ہیں۔ پاکستان کے دفترخارجہ نے اس رپورٹ کو بے بنیاد اورمن گھڑت قرار دیا ہے۔امریکی سفیراین ڈبلیو پیٹرسن نے بھی اس کی تردید کی ہے کہ امریکا پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے پاک فوج کو مدد فراہم کررہا ہے یا ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کی خواہش رکھتا ہے۔امریکی سفیر کو تویہی کہنا چاہیے تھا لیکن پاکستان کے عوام امریکی خواہشات سے بخوبی واقف ہیں۔سیمورہرش کی رپورٹ ایک خواہش کی عکاسی ہی تو ہے۔ امریکی سفیر نے اس رپورٹ کو ایک الزام قرار دیا ہے۔ صحافتی آزادی کا نام لے کر امریکی انتظامیہ اس الزام تراشی پر نیویارکر یا سیمورہرش سے تو کوئی بازپرس نہیں کرے گی لیکن اہم سوال یہ ہے کہ دبئی میں اسپیشل ٹیم کیا کررہی ہے۔سوال تو یہ بھی ہے کہ پاکستان کے اندر بلیک واٹر‘ زی وغیرہ جیسی متعدد امریکی ایجنسیوں کے ہوتے ہوئے باہر سے کسی ٹیم کو بھیجنے کی ضرورت کیا ہے۔ امریکی تو کہوٹہ کے قریب ہی ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔
جنہوں نے انڈین فلم ’’شوٹ آوٹ اِٹ لوکھنڈوالا‘‘ دیکھی ہے وہ سمجھ گئے ہوں گے کہ عنوان کیا بتارہا ہے! شوٹ آوٹ اِٹ لوکھنڈ والا ممبئی پولیس کے ’انکاونٹر ‘پر بننے والی بولی ووڈ فلموں میں سے ایک ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ آپ میں سے کتنوں نے یہ فلم دیکھی ہے لیکن لگتا ہے کہ اسلام آبادپولیس کے کرتادھرتاوں نے یہ فلم ضرور دیکھی ہوگی جب ہی تو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے پہلے سے تھانے میں بند ایک دہشت پسند جن پر الزام ثابت نہیں ہوا تھا کو پولیس نے چیک پوسٹ پر لے جاکر اُڑادیا۔ انگریزی اخبار دی نیشن کے مطابق اسلام آباد پولیس خصوصا آئی جی پر دہشت گرد واقعات کو روکنے میں ناکامی کی صورت میں سخت دباو تھا اس لیے انہوں نے پہلے سے پولیس کسٹڈی میں بند ایک ملزم کا قربانی کا بکرا بنا کر اس کا جھوٹا انکاونٹر کرواکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انہوں اس دہشت گرد کو قتل کرکے گویا پورے اسلام آباد کو بچا لیا۔ لوکھنڈوالا اب کسی رہائشی کمپلیکس کا نام نہیں بلکہ پولیس انکاونٹر کا دوسرا نام بن چکا ہے۔ اللہ پہلےہمیں ایسے آئی جی پولیس اور ایسے حکمرانوں سے اپنے امان میں رکھے۔ بھارت اور امریکا سے جانوں کو خطرہ بعد کی بات ہے۔
ایم کیو ایم ایک ’’ملک گیر‘‘ جماعت ہے جس کا ’’پیغام‘‘ جہاں جہاں پہنچتا ہے وہاں ایک انقلاب رونما ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے جلسے اتنے بڑے نہیں ہوتے جتنے بڑے دکھائیں جاتے ہیں لیکن ہم ان لوگوں کی نیتوں کو شک کی نگاہ سے اس لیے دیکھتے ہیں کہ ایم کیو ایم ایک عوامی جماعت ہے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا کرکے ’’جاگیردارں ‘‘اپنے نظام کی بقا کی ایک ناکام جدوجہد کر رہے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ایم کیو ایم پر اعتراض کرنے والے نائن زیرو کے اندر نصب جدید ترین مانیٹرنگ نظام کی طرف توجہ دلا کرکہتے ہیں کہ ایسے نظام کی بھلا ایک پارٹی کو کیا ضرورت؟ ایسی بہکی بہکی باتیں کرنے والے اب کہتے ہیں کہ سکردو میں عوام کا ٹھاٹے مارتا ہوا سمندر دکھانے والی تصویر دراصل اسی نائن زیرو کے اندر قائم میڈیا ونگ کی حسن کارکردگی ہے جس نے بلتستان میں الطاف بھائی کے خطاب کے لیے سننے والوں کی ’’صحیح ‘‘ عکاسی کی ہے۔ ایک کیفے پیالہ والے ( بلاگ کا نام ہے) نے اس پر ایک تحریر لکھی ہے جو ہم نے اپنے انگریزی بلاگ پر ہو بہو نقل کی لیکن ضروری سمجھا کہ ہمارے اردو بلاگرز ساتھی بھی اس اہم موضوع پر اظہار خیال کریں۔ واضح رہے کہ مذکورہ بلاگر نے اس تصویر کو چھاپنے والے اخبار ایکسپریس پر بھی سخت تنقید کی ہے۔ اس کے جواب میں ایکسپریس والے بچارے کہہ رہے ہوں گے( ہمارا گمان ہے ) کہ ایسا کون نہیں کرتا؟ آخر ہمیں ہی کیوں سنگل آوٹ کیا جارہا ہے؟
بدھ کی شام کراچی پریس کلب میں بہت گہماگہمی تھی۔ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے سلسلے میں ہیومین نیٹ ورک کا سیمینار تھا۔ پریس کلب کے سابق صدر نجیب احمد کی تقریر بہت جذباتی تھی۔ ظلم اور زیادتی کے واقعات اسے ہمیشہ جذباتی کردیتے تھے۔ وہ ہمیشہ مظلوموں کی حمایت کر تا تھا۔ چاہے اس حمایت کے نتیجے میں اسے کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔کسی کا کوئی کام ہو وہ اسے پورا کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ کسی کا ساتھ دینا ہو۔ کوئی وعدہ نبھانا ہو،کسی کے ساتھ جانا ہو۔ وہ ہمیشہ وقت پر پہنچ جاتا تھا۔ شاید یہی اس کی مقبولیت کا سبب تھا۔ اس نے دل کا روگ پال رکھاتھا۔ لیکن وہ بہت سے صحتمند افراد سےزیادہ کا م کرتا تھا، صحافت میں بہت سے نازک مقام آتے ہیں ۔ لیکن اس کی مسکراہٹ جو اب خواب اور خیال ہوگئی ہے۔ بہت سے شکوﺅں کا بہت پیارا سا جواب ہوتا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ اس سے پہلی ملاقات کب کہاں ہوئی تھی۔ لیکن اس پہلی ملاقات کے بعد وہ دل میں رہتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد اس کی یاد دل کو کچھ اس طرح گرفت میں لئے ہوئے ہے کہ کسی پل چین نہیں پڑتا۔بار بار اس کی صورت سامنے آتی ہے۔ اور ایک تیر سا دل میں لگتا ہے۔ طارق اسلم نے جمعرات کو فون پر یہ اطلاع دی۔تو ذہن پر سناٹا چھا گیا۔پیجی اب اس دنیا سے چلا گیا۔ کتنے سارے لوگوں کو سوگوار کرکے۔ صحافت میں اس نے اپنا مقام خود بنایا تھا۔ وہ ان تھک کام کرنے والا کارکن تھا۔ کام کو منظم کرنے کی اس کی صلاحیتیں بے پناہ تھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ دوست دلدار تھا۔ دوستوں کی دلداری کرتا تھا۔ دائیں بائیں بازو کے سب لوگ اسے پسند کرتے تھے۔ کراچی پریس کلب کے انتخابات اس کی مقبولت کا پیمانہ تھے۔ کئی سال سے وہ مختلف عہدوں پر کامیاب ہوتا رہا۔ ۸۰۰۲ کے سالانہ انتخابات میں نجیب نے 440 ووٹ لیکر سب سے زیادہ ووٹ لینے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے مدمقابل صدر کے عہدے کے امیدوار صبیح الدین غوثی نے 264 لے سکے تھے۔ گذشتہ سال وہ پہلی بار الیکشن ہار گیا۔ لیکن اس نے اس ہار کو اپنی جیت بنا لیا تھا۔ کیونکہ اس کی ہار میں اس کے دوستوں کا ہاتھ تھا۔اور وہ دوستوں کی کامیابی پر نازاں تھا۔ اس نے اپنے دوستوں کے دئیے ہوئے اس تمغہ شکست کو اپنے سینے پا سجائے رکھا ۔اور اسی میدان میں اس شان سے کھڑا رہا۔ کہ دھوکہ دینے والا رو دے۔ ایسی شان سے دھوکہ کھاﺅ۔ کرائم رپورٹر ،بااثرصحافی، جنگ اور جیو کے سینئر رپورٹر اور کراچی پریس کلب کے سابق صدر کی حیثت سے وہ بہت اختیار رکھتا تھا۔ لیکن اس نے اپنے اثر رسوخ سے ہمیشہ دوسروں کی بھلائی کے کام کئے۔ صحافتی حلقوں اور اپنے دوست احباب میں اسے پیار سے ”پیجی“ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔یہ نام اس کی شخصیت سے مناسبت رکھتا تھا۔ وہ اپنے گلی محلے علاقے میں بھی اسی طرح مقبول تھا۔ جامعہ ملیہ میں اسلامی جمعیت طلبہ وابستگی کے بعد اس نے اپنے اس تعلق کو ہمیشہ نبھایا۔ وہ جمعیت کا رکن بنا۔اور اس نے رضائے الہی کے حصول کو اولیت دی۔ اکتوبر 1961ء کو پیدا ہونے والے نجیب احمد کی یہ عمر جانے کی نہ تھی۔ لیکن اسے جلدی تھی اس لئے اس بہت سے بڑے بڑے کام بہت تھوڑے عرصے میں کر لئے۔جمعیت کے ہفتہ کتب کے موقع پر اس نے کہا تھا٬ کہ لوگ مختصر سی زندگی میں ڈاکے ڈالتے ہیں اور لوگوں کی جانیں لےتے ہیں مگر جمعیت کے کارکنان نوجوانی کی عمر میں طلبہ کی امداد اور انکا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کےلئے ہفتہ کتب منعقد کر کے فنڈز جمع کر رہے تاکہ کوئی طالبعلم تعلیم سے محروم نہ رہ جائے اس کام کو جتنا سراہا جائے کم ہے۔نجیب احمد نے کہا تھاکہ آپ جو کام کر رہے ہیں اسے بھرپور طریقے سے جاری رکھیں اس راہ میں رکاوٹیں بھی آئیں گی اور مخالفین آپ پر تنقید بھی کرنگے مگر طلبہ کی بھلائی اور انکی خدمت کا کام جاری رکھیں۔یہی اس کا مشن تھا۔ اس نے مخالفین اور تنقید کی کبھی پروا نہیں کی۔ وہ آزادی صحافت کا جرنیل تھا۔ پرویز مشرف کے پورے دور میں اس نے جرات کے ساتھ آمریت سے لڑائی لڑی۔کراچی میں صحافیوں اور آزادی صحافت کی حامی دوسری تنظیموں نے مزارِ قائد پر دھرنا دیا تو پریس کلب سے ریلی نکالی گئی جس کی قیادت پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم کے رہنما مظہر عباس۔ کراچی پریس کلب کی صدر صبیح الدین غوثی اور نجیب احمد نے کی۔ کراچی میں صحافی رشید چنا، عبدالطیف ابو شامل، محمد طاہر، علی الطاف اور زاہد خٹک کی گرفتاری اور پولیس چھاپوں کے خلاف یہ ریلی نکالی گئی تھی۔شہر میں ایک بڑے عرصے کے بعد صحافیوں نے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔اس موقع پر جلوس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کراچی پریس کلب کے صد کی حییثیت سے نجیب احمد نے کہا تھاکہ اس ملک میں ڈکٹیٹروں نے حکومت زیادہ عرصے کی ہے اور اس دور میں بھی صحافیوں نے اپنے فرائض کوڑے کھاکر اور جیلوں میں جاکر بھی ادا کیے ہیں۔ کراچی پریس کلب نے پہلے ضیاالحق کو للکارہ تھا۔جس کے بعد سیاسی جماعتوں کی تحریک شروع ہوئی تھی۔ اب صدرمشرف کے خلاف جدوجہد کی جائیگی۔ چینلز کی بندش اور پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف احتجاج کے دوران ایک سو اکیاسی صحافیوں کی پریس کلب سے گرفتاری کے موقع پر اس کی جرات اور بہادری یاد رہے گی۔ کئی مواقع پر نجیب کی گرفتاری کے لئے پریس کلب کا گھیراﺅ کیا گیا۔ لیکن اس کے ماتھے پر کبھی شکن نہ آئی اور اس نے کبھی راہ فرار اختیار نہیں کی۔روز نامہ ”اسلام ”کراچی کی بندش کے خلاف احتجاج میں سوائے چند چینلز کے تمام نشریاتی اداروں کی جانب سے شدیدمایوسی کا سامنا رہاتھا۔ تاہم اس موقع پر صحافی حلقوںکی جن چند شخصیات ”پی ایف یو جے ”کے سیکریٹری مظہر عباس،روالپنڈی اسلام آباد پریس کلب کے صدر مشتاق منہاس، بزرگ صحافی عبدالحمید چھاپرا، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری خورشید عباسی ، یوسف خان،مقصود یوسفی کے ساتھ کراچی پریس کلب کے صدر نجیب احمد،سیکریٹری امتیازخان فاران کی آواز سب سے توانا تھی۔نجیب کی موت نے کراچی پریس کلب کو سوگواری کی چادر اوڑھا دی ہے۔اگلے ہفتے کراچی پریس کلب کے الیکشن ہیں، لیکن اس بار ایک مہربان چہرہ نظر نہیں آئے گا۔نجیب پیجی تو ہمیں بہت یادآئے گا۔
امتِ مسلمہ کے پاس جو ”اطلاع“ ہے، وہ اطلاع امریکا کے پاس ہوتی تو اس سے اب تک پانچ سو گھنٹے کی ”ٹیلی نیوز“ برآمد ہوچکی ہوتیں، اس کے حوالے سے دوہزار چھوٹے بڑے مذاکرے نشر ہوچکے ہوتی، ممتاز شخصیات کے ایک ہزار انٹرویوز نشر ہوکر ناظرین کے حافظے کا حصہ بن چکے ہوتی، چھوٹی بڑی دوسو دستاویزی فلمیں تخلیق ہوچکی ہوتیں، ہالی ووڈ میں پانچ چھ بڑے بجٹ کی فیچر فلموں پرکام جاری ہوتا۔ لیکن امتِ مسلمہ کے پاس اطلاع کیا ہی؟ عزیزانِ گرامی قدر! صرف یہ کہ افغانستان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو مجاہدین نے شکست دے دی ہے۔ یہ ایک تاریخ ساز اطلاع ہے۔ کبھی امریکا کے پاس ایسی ہی تاریخ ساز اطلاع تھی۔ امریکا کو معلوم ہوگیا تھا کہ مجاہدین نے افغانستان میں سوویت یونین کو شکست دے دی ہے۔ اس ایک اطلاع پر امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے خبروں‘ تبصروں‘ تجزیوں‘ انٹرویوز‘ دستاویزی اور فیچر فلموں کے کارخانے نہیں ملیں لگالی تھیں۔ ابلاغ کا عمل اسی کا نام ہے۔ مگر امتِ مسلمہ کا معاملہ عجیب ہے۔ اس کے پاس تاریخ ساز اطلاع ہے لیکن اس سے کچھ اور کیا اخبار کی ایک شہ سرخی بھی تخلیق نہیں ہو پارہی۔ یہ ہماری اطلاعاتی عسرت اور ابلاغی غربت کی انتہا ہے۔ اس دائرے میں پوری امتِ مسلمہ بلاشبہ ”خطِ غربت“ سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں تو ٹھیک طرح سے اپنی خوشی منانی بھی نہیں آتی۔ مگر اس کی وجہ کیا ہی؟بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کی وجہ وسائل کی قلت ہے۔ لیکن مسئلہ وسائل کی قلت نہیں، ترجیحات کا درست تعین ہے۔ مسلم معاشروں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو مسجد اور مدرسے کی تعمیر کے لیے آپ کو کروڑوں روپے دے سکتے ہیں، لیکن آپ اُن سے کہیں کہ ہمیں ایک ٹیلی ویژن چینل شروع کرنا ہی، تو اس منصوبے کے لیے وہ آپ کو دس روپے بھی نہیں دیں گی، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی دینی کام نہیں ہے۔ اُن کے ایسا سمجھنے کی ایک وجہ ٹیلی ویژن کا عام تصور ہے۔ ٹیلی ویژن کو عام طور پر فسخ وفجور پھیلانے کا آلہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رائے سازی کی جنگ میں ٹیلی ویژن سب سے بڑے ذریعے کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ کروڑوں لوگوں کے لیے جو کچھ ٹیلی ویژن اسکرین پر ہے وہی حقیقت ہی، اور جو کچھ ٹیلی ویژن پر نہیں ہے اس کا یا تو وجود ہی نہیں، یا ہے تو اس کی اہمیت نہیں۔ ٹیلی ویژن کی یہ اہمیت افسوس ناک ہی، مگر امر واقع یہی ہے۔رائے سازی کے سلسلے میں ٹیلی ویژن کی اہمیت کی ایک اچھی مثال ”الجزیرہ“ ہے۔ مشرق وسطیٰ بادشاہوں اور آمروں کی سرزمین ہے۔ وہاں سیاسی رائے تخلیق کرنا اور عرب عوام کو بیدار و متحرک کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن الجزیرہ نے یہ کام کردکھایا۔ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ الجزیرہ نے یہ کام کس طرح کیا؟ مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیلی جارحیت کی ”تفصیلات“ دکھاکر۔ مگر یہاں تفصیلات کا مفہوم کیا ہی؟ اس کا مفہوم یہ ہے کہ الجزیرہ نے صرف اسرائیل کی بمباری‘گولہ باری اور حملے ہی رپورٹ نہیں کیی، بلکہ اس نے ان حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انسانی صورت حال کو بھی رپورٹ کیا۔ مثلاً یہ کہ جس گھرانے کے لوگ شہید ہوئے اس گھرانے پرکیا گزری؟ وہاں کس طرح گریہ و زاری کی گئی؟ اس گھرکی معاش کا کیا ہوا؟ بچوں کی تعلیم کا کیا ہوا؟ یہ تفصیلات ہمیشہ سے موجود تھیں مگر کبھی رپورٹ نہیں ہوتی تھیں۔ الجزیرہ نے انہیں رپورٹ کرکے اسرائیل ہی نہیں امریکا کے خلاف بھی عرب دنیا میں زبردست ردعمل پیدا کیا۔ ہم اطلاعاتی عسرت اور ابلاغی غربت کے مارے ہوئے نہ ہوتے تو امریکا کی شکست کا کامل ابلاغ امتِ مسلمہ کی نفسیات کو کچھ سے کچھ بناسکتا تھا۔ امتِ مسلمہ مغرب کے حوالے سے احساسِ کمتری میں مبتلا ہی، اسے لگتا ہے کہ ہمارے پاس کچھ نہیں، جوکچھ ہے مغرب کے پاس ہے۔ لیکن جو امت 20 سال میں دوسپر پاورزکو شکست سے دوچار کردے وہ معمولی امت تو نہیں ہوسکتی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امریکا اور مجاہدین کا معرکہ برپا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ افغانستان میں ایک جانب ایمان اور ٹیکنالوجی کا معرکہ برپا ہے اور دوسری جانب شوقِ شہادت اور عسکری طاقت کی پنجہ آزمائی ہورہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان معرکوں میں ایمان کو ٹیکنالوجی پر اورشوقِ شہادت کو عسکری طاقت پر فتح حاصل ہوگئی ہے۔ مگر یہ اطلاع امتِ مسلمہ تک کیسے پہنچی؟
بزرگ صحافی عباس اطہر نے اپنے اس کالم میں زرداری کا مقدمہ لڑا ہے یا پھر کچھ لوگوں کو آئینہ دکھایا ہے۔ یہ دونوں باتیں ہوسکتی ہیں تاہم مجھے اس مضمون کا یہ نکتہ بے حد پسند آیا کہ جن لوگوں نے آصف زرداری کو عہدہ صدارت پر بھاری مینڈیٹ سے براجمان کرایا وہ کونسا منہ لے کر آج ان کے خلاف صف آرا ’’فوج‘‘ کے صف اول کے سپاہی بن رہے ہیں ؟ اس کالم میں جہاں ناپسندیدہ سینیٹر سیف الرحمان کا کچا چٹھا کھول دیا گیا ہے وہاں ان لوگوں کو بھی کچھ یاد دلایا گیا ہے جو آصف زرداری کے صدر بننے کو تاریخی قرار دے رہے تھے۔ عباس اطہر نے جن لوگوں کو کھری کھری سنائی ہے ان میں قائد تحریک پیر لندن جناب الطاف حسین جن کو بعض دل جلے بھگوڑا کہتے ہیں کا بھی نام لیا گیا ہے تاہم اس امر پر مجھےحیرت ہوئی کہ موصوف بزرگ صحافی نے سیاسی قوتوں کا تو نام لیا لیکن عسکری قائدین کو بھول گئے حالانکہ نہ صرف آصف زرداری کو این آور کے ڈیٹرجنٹ سے دھولانے والا ہی بدنام زمانہ عسکری قائد پرویز میراثی تھا بلکہ بعد میں سردار زرداری کے صدر بننے کے لیے عسکری قائدین اور ان کے مائی باپ امریکا سے بھی این او سی لی گئی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آصف زرداری کرپٹ نہیں ہوں گے لیکن اس سوال کا جواب دیے بغیر ہم اس موذی مرض سے مریض وقت پاکستان کو شفایاب نہیں کراسکتے کہ ایک آدمی جس کو کرپشن کی بنیاد پر ہٹایا جارہا ہے آخر وہ ڈیڑھ سال پہلے قابل قبول کیوں ہوا؟ یقین جانیے اس سوال کا جواب بڑے بڑے ’’پاک بازوں‘‘کو بے لباس کردے گا پھر اگر ان کا احتساب کیا گیا تو اس سے مریض وقت پاکستان شفایاب اور اس کے رہنے والے خوشحال ہوں گے۔
اب آپ عباس اطہر کا کالم پڑھیں اس بحث کو تبصرے کی ذیل میں آگے بڑھائیں گے۔
انصار عباسی نے طلبہ سیاست پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) کے پلیٹ فارم سے کی۔ نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف صلیبی حملے اور پاکستان کے خلاف امریکی سازشوں نے جہاں دائیں بازوں اور نیوٹرل پاکستانیوں کو اس جنگ اور اس میں پاکستان کی شمولیت کا مخالف بنادیا وہاں بائیں بازوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی خاموش نہ رہ سکیں۔ ان لوگوں میں دو بڑے نام پاکستان پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاہد مسعود اور دی نیو ز کے ایڈیٹر انوسٹی گیشن انصار عباسی بھی ہیں۔ انصارعباسی نے تو کچھ عرصے قبل جماعت اسلامی پر تنقید سے بھرے کچھ کالموں کا حوالہ دے کر سرخوں کو باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ وہ بے شک سرخہ نہیں رہے لیکن انہوں ’’جماعتی‘‘ بننے کی گناہ بھی نہیں کی۔ ’’جماعتی‘‘ کراچی والوں کی ایجاد ہے اور اتفاق سے انصار عباسی کو یہ دھمکی کراچی سے ہی ملی ہے۔ یہاں موضوع ’’جماعتی‘‘نہیں بلکہ انصار عباسی کو ملنے والی دھمکی ہے ۔ ’’جماعتی‘‘ کا ذکر ایک وضاحت کے لیے چھیڑا ہے۔
ذیل میں خبر ملاحظہ کریں۔
پیپلز پارٹی کے ناپسندیدہ صحافیوں کو خوفزدہ کرنے اوردھمکیاں دینے والے کم از کم ایک مصدقہ ذریعے کا بالآخر اس وقت سراغ لگا لیا گیا جب اسلام آباد کے سینئر صحافی انصار عباسی کو ایک ایس ایم ایس کے ذریعے دھمکی دی گئی، حکام نے ٹریس کیا تو معلوم ہوا کہ یہ کسی اور نے نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب کے بیٹے علی وہاب صدیقی کی طرف سے آئی تھی۔ علی وہاب نے دی نیوز سے گفتگو کے دوران موبائل نمبر 0333-2182500 اپنی ملکیت ہونے کا اعتراف کیا، جس کے ذریعے دی نیوز اسلام آباد کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن کو دھمکیاں دی گئی تھیں ، رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر وہاب نے کہا کہ وہ انصار عباسی کو بھیجے جانے والے اپنے پیغام پر قائم ہے اور ابتدا میں معافی مانگنے سے انکار کردیا، 18دسمبر 2009ء کو علی وہاب کے سیل نمبر سے انصار عباسی کو موصول ہونیوالے پیغام کے الفاظ یہ تھے ”مجھے اس روز کا انتظار ہے جب صرف تمہیں گولی لگنے یا تمہاری موت کی اچھی خبر ملے گی: جماعتی“۔ جب پیپلز پارٹی کی رہنما فوزیہ وہاب کو دھمکی آمیز پیغام اور انکے بیٹے کی خودسری اور بے باکی کے متعلق بتایا گیا کیونکہ انہیں بتایا گیا کہ حکام تصدیق کرچکے ہیں یہ ان کا بیٹا ہی تھا جس نے میسج بھیجے تھے تو فوزیہ وہاب نے معافی مانگ لی۔ جسکے بعد علی وہاب نے ایک میسج کے ذریعے معافی مانگ لی ،انصار عباسی کے مطابق مختلف لوگ انکے کام پر تنقید یا تحسین کیلئے پیغام بھیجتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات ان میں گالیاں بھی ہوتی ہیں مگر انہوں نے کبھی اس کی پروا نہیں کی ۔”تاہم اس نمبر کے پیغامات خاص طور پر ایک ’میں’فائرنگ یا ہلاکت؟“ کے الفاظ نے بہت زیادہ ڈسٹرب کیا اور میں نے ایف آئی اے سائبر انویسٹی گیشن ونگ کوایک شکایت درج کرائی اور خود بھی تحقیقات شروع کی۔“ انصار عباسی نے کہا ”جب حکام نے تصدیق کی کہ یہ کوئی اور نہیں بلکہ حکمران پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات کا بیٹا تھا تو یہ جان کر مجھے دھچکا لگا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ”الیکٹرانک جرائم کے انسدادی آرڈینس 2009“ پر سختی سے عمل کرے گی۔انصار عباسی نے کہا کہ علی وہاب کی طرف سے بھیجے جانے والے پیغامات میں سے کچھ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف انتہائی توہین آمیز تھے۔ ایسے الفاظ استعمال کئے گئے جو تحریر بھی نہیں کئے جا سکتے۔ دی نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق انصار عباسی کی شکایت ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں سائبر کرائم انویسٹی گیشن کے سربراہ شاہد ندیم بلوچ کو فائل کی گئی، دی نیوز نے جب شاہد ندیم سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ انصار کی شکایت موصول ہوئی تھی یہ معلوم ہونے کے بعد کہ یہ کراچی کا نمبر ہے مذکورہ شکایت کراچی ایف آئی اے آفس کو ریفر کردی گئی جہاں ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میر زبیر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر احسان اللہ اس کی قانون کے مطابق تفتیش کریں گے ۔ جب پوچھا گیا کہ اگر جرم ثابت ہوگیا تو قانون کے تحت سزا کیا ہوگی تو انہوں نے کہا کہ اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو الیکٹرانک جرائم کے انسدادی آرڈیننس 2009ء کے تحت زیادہ سے زیادہ 7برس تک سزا ہو سکتی ہے۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے علی وہاب نے کہا کہ اس کے سیل نمبر کی ملکیت طے کرنے سے متعلق کسی تحقیقات کی ضرورت نہیں کیونکہ انصار کو بھیجے جانے والے پیغامات میں سے 3میں انہوں نے اپنا پورا نام لکھا تھا۔ تاہم انصار نے علی کے بیان کی یہ کہتے ہوئے تردید کی کہ ان کے پاس علی کے پیغامات کا ایک ماہ کا ریکارڈ موجود ہے ‘نہ تو اس نے کبھی اپنا نام لکھا اور نہ شناخت کرائی۔ پہلی کال پر علی کا نقطہ نظر تھا کہ وہ انصار کو بھیجے گئے اپنے پیغام پر قائم ہے مگر انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اس کے میسجز میں کوئی دھمکی نہیں تھی اور یہ ان کے جذبات تھے، ان کی والدہ فوزیہ وہاب نے اس نامہ نگارسے سکون سے بات کی اور خوفزدہ کرنے کے پیغامات کا معلوم ہونے پر معافی مانگی، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فوزیہ وہاب نے معافی اس وقت مانگی جب انکے بیٹے کے ملوث ہونے کی تفصیلات اور شہادتیں سامنے آ چکی تھیں۔ بعد ازاں علی وہاب نے انصار عباسی کو ایک پیغام بھیجا جس میں ان کی والدہ کے وعدے کے مطابق معافی کے علاوہ انصار عباسی کیلئے کچھ مشورے بھی تھے۔ پیغام کا متن یہ ہے ”پیارے مسٹر انصار عباسی! مجھے یقین نہیں آتا کہ میرے الفاظ نے آپ کو تحقیقات کرانے پر مجبور کردیا کہ میں کون ہوں۔ آپ کی طرح میں بھی ایک محب وطن پاکستانی ہوں۔ تاہم نقطہ نظر آپ سے مختلف ہے۔ بہرحال اگر آپ نے خوف محسوس کیا تو میں تہہ دل سے معافی چاہتا ہوں۔ کیا مجھ جیسا آدمی خوفزدہ کرنیوالا ہوسکتا ہے میرا ذاتی فون کبھی استعمال نہیں ہوا ہوگا۔ میں کم از کم 3مواقع پر اپنا نام بتا چکا ہوں۔ یاد رکھیں! آپ کے قلم کی طاقت کو جانبدارنہیں ہونا چاہئے اور نہ ہماری عظیم قوم کی قیادت کیخلاف بد خواہی پیدا کرنی چاہئے، پاکستان میری دنیا ہے اور اسکی حفاظت کیلئے اپنا سب کچھ دے دوں گا۔ زندگی مختصر ہے اور ہمیں زندگی میں با معنی وژن رکھنا چاہئے۔اگر ایسا نہ ہو تو ہم ناپسندیدہ عناصر کے وژن کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ میری خواہش ہے کہ آپ کو بھر پور اور صحت مند زندگی نصیب ہو : علی وہاب۔“
پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر آنے والے میئر جنہوں نے چار سال میں ترقیاتی کاموں کے ذریعے کراچی کی شکل تبدیل کردی ، حال ہی میں دنیا ٹی وی سے ایک انٹریو میں الو کے پٹے ٹی وی اینکر کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے ہیڈز یعنی قائدین پر لعنت بھیجتے ہیں۔ یادش بخیر جناب الطاف حسین بھی ایک سیاسی پارٹی کے قائد ہیں۔
معروف کالم نویس حامد میر نے روزنامہ جنگ میں شائع اپنے آج کے کالم (میڈیا کا اصل امتحان) میں انکشاف کیا ہے کہ ہمارے اپنے ملک کی خفیہ (دہشت گرد) اداروں نے آمنہ مسعود کے شوہر مسعود جنجوعہ کو دوران حراست شہید کردیا ہے( انا للہ و انا الیہِ راجعون) اس کالم میں یہ بھی کہا گیا ہے اس وقت این آر او سے زیادہ جس مسئلے پر عوام کو عدلیہ کا ساتھ دینا چاہیے وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ ہے۔ ان لاپتا افراد میں اکثر بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر وہ لوگ ہیں جن کو دہشت گردی کی امریکی جنگ کے نام پاکستان کی خفیہ اداروں نے اُٹھایا ہے۔ آئیے سب مل کر عدلیہ کا ساتھ دے کر لاقانون خفیہ اداروں کو شکست دے کر اس ملک میں قانونی کی بالادستی کے کار خیر میں حصہ ڈالیں۔
کالم ملاحظہ کریں۔
میڈیا کا اصل امتحان ….قلم کمان …حامد میر
سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال نے بالکل درست کہا کہ عدلیہ سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں البتہ اگر لاپتہ افراد جیسے مسائل حل نہ ہوئے تو جمہوریت کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے یہ ریمارکس لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لاپتہ افراد کا مقدمہ این آر او سے بڑا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس راجہ فیاض احمد اور جسٹس سائر علی پر مشتمل تین رکنی بنچ لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کررہا ہے۔
ان جج صاحبان کے ریمارکس پر بہت غور کی ضرورت ہے۔ میں بھی ذاتی طور پر لاپتہ افراد کے مقدمے کو این آر او سے بڑا مقدمہ سمجھا ہوں کیونکہ دراصل یہی وہ مقدمہ تھا جس کی وجہ سے خفیہ ادارے جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ناراض ہوئے اور انہوں نے اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے کان بھرنے شروع کئے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی ڈانٹ ڈپٹ شروع کردی تھی کیونکہ وہ عدالت کو نہ تو لاپتہ افراد کے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کرتے تھے اور جب یہ پتہ چل جاتا کہ کوئی لاپتہ شخص واقعی کسی مقدمے کے بغیر ان کی تحویل میں ہے اور عدالت اس کی رہائی کا حکم دیتی تو خفیہ ادارے اسے رہا کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری جن لاپتہ افراد کی بازیابی کا حکم دے رہے تھے۔ ان میں سے اکثر کا تعلق بلوچستان سے تھا اور اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل ندیم اعجاز اپنے معاملات میں سپریم کورٹ کی ”مداخلت“ سے قطعاً خوش نہ تھے۔ انہوں نے خود ذاتی طور پر جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں سمجھانے بجھانے کی کوشش کی لیکن چیف جسٹس نے اس اہم مقدمے کی سماعت جاری رکھی تو پھر ملٹری انٹیلی جنس نے دیگر خفیہ اداروں کے ساتھ مل کر چیف جسٹس کے خلاف ایک مہم شروع کردی اور انہیں پرویز مشرف کے اقتدار کے لئے ایک خطرہ قرار دینا شروع کردیا۔ اسی مہم کے نتیجے میں 9مارچ 2007ء کو چیف جسٹس سے استعفیٰ لینے کی کوشش کی گئی اور ناکامی پر انہیں معزول کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے 20جولائی 2007ء کو اپنے ہی چیف جسٹس کو ان کے عہدے پر بحال کردیا تو چیف جسٹس نے واپسی کے فوراً بعد لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع کردی۔
20جولائی2007ء کے بعد پاکستانی سیاست میں بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے۔ پرویز مشرف نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ این آر او کے نام پر ایک جعلی مفاہمت کی۔ اس این آر او کا مقصد وطن عزیز میں مفاہمت کی سیاست کو فروغ دینا نہیں بلکہ جسٹس افتخار کے خلاف محاذ میں پیپلزپارٹی کو ساتھ ملانا تھا۔ 5/اکتوبر 2007ء کو این آر او جاری ہوا اور 17/اکتوبر 2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آگئیں۔ دوسری طرف لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت جاری تھی، خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی پریشانیاں پہلے سے زیادہ بڑھ چکی تھیں کیونکہ عدالت جن افراد کی بازیابی کا حکم دے رہی تھی ان میں سے بعض افراد ان اداروں کی تحویل میں تشدد سے مارے جاچکے تھے۔ خفیہ اداروں کے سربراہوں کو خدشہ تھا کہ اگر عدالت کو بتا دیا گیا کہ بعض لاپتہ افراد ان کی حراست میں جاں بحق ہوچکے ہیں تو چیف جسٹس ان اداروں کے افسران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔ ملک قیوم ان دنوں اٹارنی جنرل تھے۔ انہوں نے خود کئی مرتبہ کوشش کی کہ خفیہ ادارے کم از کم آمنہ مسعود جنجوعہ کے شوہر اور چند لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنوں کو عدالت میں پیش کردیں تاکہ یہ تاثر دور ہوکہ حکومت سپریم کورٹ سے تعاون نہیں کررہی۔ ملک قیوم نے سیکرٹری داخلہ کمال شاہ کے ساتھ مل کر دیواروں کے ساتھ بہت ٹکریں ماریں لیکن کسی کو رحم نہ آیا۔ آخر کار ایک دن ملک قیوم کو ایک طاقتور خفیہ ادارے کے ایک طاقتور افسر نے بلاکر کہا کہ جاؤ اور جاکر آمنہ مسعود جنجوعہ کو بتادو کہ اس کا شوہر دنیا میں نہیں رہا۔ یہ سن کر ملک قیوم کانپ گئے اور انہوں نے مذکورہ افسر سے کہا کہ حضور والا یہ بات مجھے تحریری طور پر لکھ کر دے دیں کیونکہ آمنہ مسعود جنجوعہ مجھ سے ثبوت مانگے گی اور اپنے شوہر کی لاش مانگے گی میں یہ سب کہاں سے لاؤں گا؟ طاقتور افسر نے ملک قیوم کی التجا کو نظر انداز کردیا لہٰذا ملک صاحب خاموش ہوگئے۔
ذرا یاد کیجئے! 20جولائی کے بعد سپریم کورٹ نے ایک باوردی صدر کو دوبارہ الیکشن میں حصہ لینے سے نہیں روکا تھا البتہ لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت جاری رکھی۔ 2نومبر 2007ء کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وارننگ دی تھی کہ اگر عدالت کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہوا تو پھر خفیہ اداروں کے سربراہوں کو عدالت میں طلب کیا جاسکتا ہے۔ اگلے دن 3نومبر 2007ء کو ایمرجنسی نافذ کرکے چیف جسٹس اور انکے ساتھیوں کو ان کی رہائش گاہوں پر نظربند کردیا گا۔ خاکسار نے یہ تمام تفصیل محض یہ ثابت کرنے کیلئے بیان کی ہے کہ 3نومبر 2007ء کو جمہوریت کا خاتمہ لاپتہ افراد کے مقدمے کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس دن معزول ہونیوالے جج صاحبان 16 مارچ 2009ء کو ایک عوامی لانگ مارچ کے نتیجے میں بحال ہوئے۔ بحالی کے بعد ان ججوں نے لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع کردی ہے لیکن خفیہ اداروں کے رویّے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آرہی۔ ان خفیہ اداروں کو یہ سمجھ ہی نہیں آرہی کہ پاکستان بدل چکا ہے۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ معزول جج صاحبان آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بحال کروائے ہیں لہٰذا اس مہربانی کی وجہ سے سپریم کورٹ لاپتہ افراد کے مقدمے میں نرمی اختیار کرے گی۔ جسٹس جاوید اقبال کے ریمارکس کو خفیہ ادارے اپنے لئے وارننگ سمجھ لیں تو اچھا ہوگا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ منتخب حکومت ان خفیہ اداروں کے سامنے بدستور بے بس ہے۔ 30دسمبر کو اس ملک کے چار صوبوں کے منتخب وزرائے اعلیٰ گوادر میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ایک مشترکہ اپیل بھی جاری کرچکے ہیں لیکن خود کو سویلیں حکومت سے زیادہ طاقتور سمجھنے والے چند مغرور انسانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور شاید اسی لئے جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ جمہوریت کو عدلیہ سے نہیں بلکہ لاپتہ افراد جیسے مسائل سے خطرہ ہوسکتا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے طوفانی لہروں والے ایک خطرناک دریا کو اپنے الفاظ کے کوزے میں بند کردیا ہے۔ سول سوسائٹی، میڈیا اور سیاسی جماعتوں کو ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کا ساتھ دینا ہے کیونکہ یہ ہم سب کا امتحان ہے۔ ہم سب این آر او کیس میں اچھل اچھل کر عدلیہ کی حمایت کا اعلان کرتے رہے ہیں کیونکہ مقابلے پر چند کرپٹ لیکن کمزور سیاست دان کھڑے ہوتے ہیں۔ لاپتہ افراد کا مقدمہ ہمارا اصل امتحان ہے کیونکہ سپریم کورٹ کا مقابلہ بہت مضبوط خفیہ اداروں سے ہے اور اسی لئے جج صاحبان اسے این آر او سے بڑا مقدمہ قرار دے رہے ہیں۔ اس امتحان میں پورا اتر کر ہم چند کرپٹ سیاست دانوں کی طرف سے عدلیہ اور میڈیا پر جمہوریت کے خلاف سازش کرنے کے الزام کو واپس ان کے منہ پر مار سکتے ہیں۔
ہماری قومی زندگی میں امریکہ کہاں نہیں ہے! ہماری حکومتیں امریکہ تخلیق کرتا ہے۔ ہمارے سیاست دانوں کے چہروں پر امریکی ساختہ لکھا ہوا ہے۔ ہماری بیشتر سیاسی جماعتیں امریکہ کی سیاسی موسیقی پر رقص کرتی ہیں۔ ہمارے دفاع پر امریکہ کی مہر لگی ہوئی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کے قلب میں امریکی پرچم لہرا رہا ہے۔ ہماری معیشت امریکہ کے مالیاتی اداروں کے احکامات پر چلتی ہے۔ ہماری داخلہ پالیسی امریکی ترجیحات کے مطابق مرتب ہوتی ہے۔ ہمارے جرنیل اپنے ہی ملک میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑرہے ہیں۔ امریکی ماہرین ہمارا قومی بجٹ بناتے ہیں۔ جنرل پرویز کے دور میں ہمارے تعلیمی نصاب کا بڑا حصہ مشرف بہ امریکہ ہوچکا ہے۔ ہمارے بہت سے دینی مدارس میں امریکہ کی اصلاحات تاریکی پھیلا رہی ہیں۔ آغا خان بورڈ پر بہت سے لوگوں کو امریکہ کا سایہ نظر آتا ہے۔ یہ پاکستان پر امریکہ کی مکمل گرفت کا منظرنامہ ہے، مگر امریکہ اس پر بھی مطمئن نہیں ہے اور اُس نے پاکستان کے ”ابلاغی اغوا“ کا منصوبہ بنایا ہے۔
اس منصوبے کا ایک پہلو پاکستان پر امریکی چینلوں کی یلغار ہے۔ پاکستان میں سی این این، فوکس نیوز اور سی این بی سی پہلے ہی موجود تھے مگر پاکستان میں امریکی چینلوں کا اردو روپ بھی ظاہر ہوچکا ہے اور تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس منصوبے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ امریکہ ہمارے ذرائع ابلاغ میں مواد کی اشاعت و پیشکش پر اثرانداز ہورہا ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری کے معاملے سے یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہوگئی ہے۔ اس معاملے کا لب ِلباب یہ ہے کہ شیریں مزاری نے پاکستان کے ایک بڑے انگریزی اخبار میں بلیک واٹر کے حوالے سے ایک مضمون لکھا، مگر امریکی سفارت کاروں نے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے یہ مضمون شائع ہونے سے رکوا دیا، تاہم جب شیریں مزاری کا یہ مضمون انٹرنیٹ کے ایک بلاگ پر طلوع ہوگیا تو مذکورہ اخبار نے بھی اسے شائع کردیا۔ اس واقعے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امریکی ہمارے ابلاغی اغوا کے لیے کس سطح پر اتر کر کام کررہے ہیں۔ لیکن یہ معاملات یہیں تک محدود نہیں۔
دی نیوز کراچی کی 24 دسمبر کی اشاعت میں امریکی ادارے یو ایس ایڈ کا ایک اشتہار شائع ہوا ہے جس میں یو ایس ایڈ نے پاکستان میں بچوںکے ٹیلی وژن پروگرام کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ اشتہار کے مطابق ان پروگراموں کا عرصہ چار سال پر محیط ہوگا اور اس پر امریکہ ڈیڑھ سے دو کروڑ ڈالر خرچ کرے گا۔ اس رقم کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کیا جائے تو امریکہ پاکستان میں بچوں کے ٹی وی پروگراموں کی تیاری پر تقریباً ایک ارب 50 کروڑ روپے کی خطیر رقم صرف کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس منصوبے کے تحت بچوں کے لیے مقامی امریکی ٹی وی چینل شروع ہوگا یا محض بچوںکے لیے پروگرام تیار کیے جائیں گے؟ یہ امر اشتہار سے پوری طرح واضح نہیں، لیکن اشتہار میں منصوبے کے تین مقاصد واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ اشتہار میں منصوبے کا پہلا مقصد بچوں کو زبان کی تشکیل میں مدد دینا، دوسرا مقصد بچوں میں مسائل حل کرنے کی استعداد پیدا کرنا ہے۔ منصوبے کا تیسرا مقصد بچوں میں ”تنقیدی فکر“ کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے۔
منصوبے کے یہ تینوں مقاصد بظاہر سیدھے سادے نظر آتے ہیں، لیکن ان کا تجزیہ کیا جائے تو اصل حقیقت تک رسائی ہوجاتی ہے۔ زبان بیرونی دنیا سے بچے کے تعلق اور رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔ بچے زبان کے وسیلے ہی سے دنیا کو پہچانتے ہیں۔ چنانچہ جیسی ان کی زبان ہوگی ویسی ہی ان کی دنیا بھی ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اگر زبان کا ”ماڈل“ بھی امریکی ہوگا تو بچوں کا زاویہ ¿ نگاہ ابتدا ہی سے ”امریکی“ ہوجائے گا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ زبان کے ذریعے ذہن اور تصور کی ”امریکہ کاری“ ہے۔ زبان ”تعمیر“ کا ذریعہ ہے۔ ”تخلیق“ کا وسیلہ ہے۔ مگر امریکہ پاکستان میں اسے بھی ”تخریب“ کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
بچوں میں مسائل کو حل کرنے کی استعداد پیدا کرنا اچھی بات ہے، مگر سوال یہ ہے کہ مسائل کا ”تصور“ کیا پیش کیا جاتا ہے۔ زندگی کی ترجیحات کے حوالے سے مسائل کی ایک فہرست ”اسلامی“ ہے۔ ترجیحات کے اعتبار سے مسائل کی دوسری فہرست ”مغربی“ ہے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ امریکہ ہمارے بچوں کو مسائل کی اسلامی فہرست کے ذریعے تو تربیت دینے سے رہا۔
بچوں میں تنقیدی فکر کی صلاحیت پیدا کرنا بظاہر بڑی دانش ورانہ بات لگتی ہے، لیکن مغرب اسلام کے ساتھ جو کچھ کررہا ہے اُسے دیکھ کر وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ بچوں میں تنقیدی فکر پیدا کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ پاکستانی بچوں میں اسلامی عقائد و نظریات اور اسلامی تصورات و اقدار کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کا رجحان پیدا کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ہماری نئی نسل کے روحانی، تہذیبی، نفسیاتی و ذہنی اغوا کا منصوبہ ہے جو ہماری ہی سرزمین پر ہمارے ہی لوگوں کی مدد سے بروئے کار آنے والا ہے۔ لیکن اس منصوبے کے کچھ اور پہلو بھی ہیں۔
ہمارے یہاں امریکی فکر اور امریکی اقدامات کے حوالے سے ”امریکی سازش“ کی اصطلاح مروج ہے۔ اس اصطلاح کے تحت ہم کہتے ہیں کہ امریکہ ہمارے خلاف فلاں سازش کررہا ہے۔ لیکن سازش ”خفیہ“ ہوتی ہے۔ امریکہ زیربحث اقدام کے حوالے سے جو کچھ کررہا ہے وہ سازش نہیں ہے، ”منصوبہ“ ہے۔ سازش خفیہ ہوتی ہے اور منصوبہ سرعام بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اور امریکہ نے تو اس منصوبے کے لیے باقاعدہ اشتہار دیا ہے۔ اس سے امریکہ کے اس اعتماد کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ پاکستان میں کچھ بھی کرسکتا ہے۔ آخر یہ ہماری کیسی ”پاکستانیت“ ہے جو بھارت کے نیوز چینلز کو روکتی ہے مگر امریکہ کے کسی طرح کے چینلز پر بھی اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
امریکہ کا زیر بحث منصوبہ چار سال پر محیط ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان کے سلسلے میں طویل المیعاد منصوبہ بندی کررہا ہے اور وہ ایک آدھ سال میں پاکستان سے جانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس کا مسئلہ ”اسلامی انتہا پسند“ ہیں۔ لیکن امریکہ کا مذکورہ منصوبہ اسلامی انتہا پسندوں سے متعلق نہیں ہے۔ اس کا تعلق پورے معاشرے سے ہے۔ اس کے معنی اس کے سوا کیا ہیں کہ امریکہ ہمارے پورے معاشرے کی تشکیلِ نو چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ بچوں تک کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔
اس سلسلے میں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ پاکستان میں پہلے ہی بچوں کے لیے مغربی چینلوں کی بھرمار ہے۔ ان میں کارٹون نیٹ ورک، ڈزنی، نکلوڈین اور بے بی ٹی وی سرفہرست ہیں۔ ان چینلوں کی نشریات چوبیس گھنٹے جاری رہتی ہیں اور ہمارے ملک میں ان چینلوں نے لاکھوں بچوں کو ٹی وی کا قیدی اور ٹی وی کا مریض بنادیا ہے۔ مگر امریکہ کے لیے یہ کافی نہیں ہے، اور وہ ہمارے بچوں کے لیے مقامی ابلاغی قتل گاہیں تعمیر کرنے کے منصوبے پر کام کررہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے جس طرح جیکب آباد اور پسنی کے ہوائی اڈوں پر امریکی قبضے کو قبول کرلیا ہے اسی طرح وہ پاکستان کے ابلاغی اغوا کے امریکی منصوبے کو بھی قبول کیے ہوئے ہیں۔
ایک وقت تھا کہ ہمارے یہاں روسی ایجنٹ کی اصطلاح رائج تھی اور ان ایجنٹوں کی شناخت واضح تھی۔ بھارتی ایجنٹوں کی شناخت بھی ہمارے یہاں واضح رہی ہے۔ مگر امریکہ کے لیے کام کرنے والوں کو تو ہم امریکی ایجنٹ تک کہنے اور ان کی شناخت متعین کرنے کے لیے تیار نہیں۔
بشکریہ : فرائیڈے اسپیشل ، کراچی
کیا 18کروڑ پاکستانی مل کر ایک ارب 68کروڑ روپے جمع کرسکتے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ ہم اپنی ذات سے آگے سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ ایک ارب 68 کروڑ روپے کا ہوگا کیا؟ امریکا کے کھلے اور چھپے ناپاک مکروہ عزائم پورے کرنے میں معاون اس کا ادارہ یو ایس ایڈ جو پاکستان میں 1955ءسے سرگرم ہے، اس نے پاکستانی اخبارات میں ایک اشتہار شائع کیا ہے۔ اس اشتہار کے مطابق یو ایس ایڈ نے ایسے تمام پاکستانی اور امریکی اداروں سے منصوبے اور تجاویز طلب کیے ہیں جو بچوں کے پروگرام بناسکتے ہیں اور یو ایس ایڈ کو پاکستانی بچوں کے لئے ایک ٹیلی ویژن چینل قائم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے یو ایس ایڈ ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے لے کر 2کروڑ ڈالر تک کا سرمایہ فراہم کرے گا۔ یعنی تقریباً ایک ارب 68کروڑ پاکستانی روپے۔
عقل حیران ہے کہ یہاں بڑے بڑے اعلیٰ ذہن اور وژن رکھنے والے لوگ پورے 18کروڑ عوام کی رہنمائی کیلئے ایک نیوز چینل قائم کرنے کو تیار نہیں۔ اس کے لئے 5سے 10کروڑ روپے نکالنے کیلئے تیار نہیں۔ دوسری طرف امریکی حکومت ببانگِ دہل صرف پاکستانی بچوں کیلئے ایک ارب 68کروڑ روپے سے ٹی وی چینل قائم کررہی ہے۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ پینٹاگون کے پاس اربوں ڈالر کا بجٹ صرف اور صرف اس لیے ہے کہ اسلامی ممالک میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے مسلمان عوام کا ذہنی غسل کیا جائے اور رائے عامہ کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال دیا جائے۔ آپ کو کیا دکھانا ہے، کیسے دکھاناہے، کیاسوچنے پر مجبورکرناہے، کس طرح کی رائے قائم کراناہے اور کس طرح کا کردار اداکروانا ہے یہ وہ تمام مقاصد ہیں جو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی مددسے حاصل کئے جارہے ہیں۔
امریکی ٹکڑوں یامشروبات پر پلنے والے نام نہاد کالم نویس اور دانشور صبح تا شام پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے صرف اسلام اور دہشت گردی کا تعلق ثابت کرتے نظر آتے ہیں۔
ان کوتمام مسائل کی جڑ اسلام اور لوگوں کا اسلام سے تعلق نظر آتاہے۔ طالبان کے نام پر دہشت گردی کے ہرطرح کے واقعات رونماہورہے ہیں اور ہر واقعے کے بعد لوگوں کے لاشعور میں متواتر ٹی وی مذاکروں کے ذریعے صرف ایک ہی بات بٹھائی جاتی ہے کہ یہ اسلام کے نام لیواﺅں کی کارروائی ہے اوریہ کہ ہمیں ان سے اپنے تعلق کو مکمل ختم کرناہوگا، یعنی ہر اُ س شخص سے جونمازپڑھتا، داڑھی رکھتا یا خلافِ اسلام رویّوں کو رد کرتا یا پھر امریکا کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی بات کرتا یا اس کی دہشت گردی کی کاروائیوں کی مذّمت کرتاہے۔
راقم نے یہ بات خاص طورپر نوٹ کی ہے کہ پاکستانی میڈیا میں ہر اس شخص یا تنظیم کو طالبان یادہشت گردوں کا ہمدرد، ساتھی اور معاون قراردیاجاتاہے جو پاکستان میں امریکی مداخلت یا افغانستان میں ہزاروں بے گناہوں کی شہادت کی بات کرتاہے اور ناپاک امریکی عزائم کو موضوعِ بحث بناتاہے۔
جماعتِ اسلامی کے نئے امیر سید منور حسن اس بات کے گواہ اور شاہد ہیں کہ کس طرح پاکستانی میڈیا نے ان کے امیر بننے کے بعد ان کے متواتر انٹریوز شائع اور نشر کیے اور ہر انٹرویو میں ان کو مخصوص سوالات کے ذریعے گھیرنے کی کوششیں کی گئیںاور انٹرویوز کرنے والے سننے اور دیکھنے والوں کو یہ تاثر دیتے رہے کہ جماعتِ اسلامی پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذّمت نہیں کرتی ہے بلکہ ملک میں طالبان کے نام سے دہشت گردی کی کاروائیوں کی ہمدردہے اور امریکا کی بلاوجہ مخالفت کرتی ہے۔ یو ایس ایڈفنڈڈ ایک چینل جس کا سی ای اوبھی یو ایس ایڈکا باقاعدہ ملازم ہواکرتاتھا اس کے ایک سینئراینکرجوکسی زمانے میں کراچی یونیورسٹی میں این ایس ایف کے کارکن اور کیپیٹل ازم اور امریکاکے بہت بڑے مخالف سمجھے جاتے تھے انہوں نے امیر جماعتِ اسلامی سے انٹریو میں اس حدتک اشتعال انگیز سوالات کئے کہ منورحسن کو کہنا پڑا کہ “یہ آپ امریکی ذہن سے سوچ رہے ہیں اور امریکی سوالات پوچھ رہے ہیں”۔ منورحسن صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ جس چینل کو خاص طورپر امریکی امداد کے ذریعے بنایاگیاہے اور جہاں ان تمام لوگوں کونوکری فراہم کی جاتی ہے جو اسلام یا اس کے نام لیواﺅں سے بیزاری رکھتے اور مغرب سے اپنا ناتا جوڑے ہوئے ہوں ۔ توکیا ایسے ٹیلی ویژن امریکی اور مغربی سوچ کی نمائندگی نہیں کریں گے؟
جویو ایس ایڈصرف بچوں کے چینل کےلئے ایک ارب 68کروڑ روپے فراہم کر رہی ہے اس نے 18کروڑ جیتے جاگتے باشعور پاکستانیوں کی ذہن سازی کیلئے اگر 100ارب بھی خرچ کئے ہیں تو یہ تھوڑے ہیں۔ اسی چینل پر اکثروبیشتر مذاکرے نشر ہوتے ہیں جن کا واحد مقصد عوام کے لاشعور یہ بات بٹھانا ہے کہ اچھے لوگ صرف وہ ہیں جو صبح کام پر جاتے ہیں اور اپنے ساتھ اور ملک کے ساتھ ہونے والی کسی بھی زیادتی پر زبان سے ایک حرف نہیں نکالتے۔ یہ اچھے لوگ نہ صرف کہ اسلام سے واجبی ساتعلق رکھتے ہیں بلکہ اسلامی کے نام لینے والوں یا ملک کی اسلامی اساس پر ضرب لگانے والوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں یا احتجاج کرنے والوں سے بھی کوئی تعلق نہیں رکھتے ۔ کیونکہ یہ لوگ شلوار قمیض پہنتے، نماز پڑھتے اور داڑھی رکھتے ہیں اور مغرب خاص طورپر امریکا کی جانب سے بے گناہ مسلمانوں کا خون بہائے جانے پر احتجاج کرتے اور کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں لہٰذا ان میں اور طالبان میں کوئی فرق نہیں ہے لوگوں کا نہ صرف کہ ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے بلکہ ان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔
ایم کیوایم کی جانب سے بھی میڈیا کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے اور اب اکثر ایسی دینی سیاسی جماعتوں پر تنقید کی جاتی ہے جو ملک میں دہشت گردی کا ذمہ دار مغرب اور امریکا کو ٹھراتے ہیں۔ یہ تمام چینل کی امریکی یا مغرب مخالف خبر کو چند سیکنڈدیتے ہیں۔ لیکن اسلام کا دہشت گردی سے تعلق جوڑ نے میں ان کا بیشتر وقت گزر جاتا ہے۔
یو ایس ایڈکی جانب سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری نہ صرف کہ پاکستانی معاشرے میں رنگ لارہی ہے بلکہ وہ دن زیادہ دور دکھائی نہیں دیتا جب اسلام کا نام لینا ایک جرم قرار پائے گا اور عوام میڈیا کے مستقل پراپیگنڈے کے زیرِ اثر پاکستانی عوام سے بات کرنابھی ناممکن ہوجائے گا۔ ابھی پاکستانی عوام کی مستقل طورپر دینی جماعتوں، مدرسوں اور علما کے خلاف ذہن سازی کی جارہی ہے تاکہ وہ ان کو معاشرے کا ناسور سمجھنا شروع ہوجائیں اور دوسرے مرحلے میں عوام اور سرکاری اداروں کو میڈیا کے پراپیگنڈے کے ذریعے اسلام کا نام لینے والی جماعتوں اور مدرسوں کے خلاف کاروائیوں پر اکسایاجائے گا۔ یو ایس ایڈکے فنڈڈ اسی چینل سے چند روز پہلے ڈاکٹر ہود بھا ئے اور ظفر خان مدرسوں اور اسلامی جماعتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنارہے تھے اور مدرسوں کو دہشت گردی کی نرسریاں قراردیاجارہاتھا۔ یہاں تک کہاگیا کہ یہ مدرسے ہی دراصل اسلامی سیاسی جماعتوں اور دہشت گردوں کے مشترکہ طاقت کے مراکز ہیں اور اگرپاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے تو ان مدرسوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
اگر ملک کے تمام علمائ، مدارس، دینی جماعتیں اور دینی سیاسی جماعتیں ایک ایسے پاکستان کے لیے تیار ہیں جہاں پر صرف اور صرف مغرب کا راج ہوگا اور جبرکے ذریعے اسلامی شعائر کی پابندی سے روکاجائے گا تو پھر ہمیں پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں مگر اگر ہم پاکستان اور اسلام کے تعلق کو سمجھتے ہیں اور واقعتا اسلام اور اللہ سے وابستگی رکھتے ہیں تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمیں مغرب کی یلغار خاص طورپر میڈیا کی یلغار سے کس طرح نمٹناہے۔
اس ملک میں جہاں لوگ دوسروں کی مدد کی خاطر سالانہ سور ارب سے زائد صدقہ وخیرات کرتے ہیں اور جہاں ایک سچے پاکستانی کی اپیل پرکینسر جیسے ہسپتال کو تعمیر اور کامیابی سے چلنا ممکن بناسکتے ہیں وہاں مغرب کے فنڈڈ چینل اور اخبارات کے مقابلے کیلئے 10 ،20یا 30کروڑ روپے جمع نہیں کئے جاسکتے؟ بات صرف اس کام کی اہمیت کو سمجھنے اور عزم کی ہے۔
یہاں ہنگامی بنیادوں پر ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جس کاا پنا نیوز چینل، انگریزی اور اردو کا اخبار ،پبلشنگ ہاﺅس اور لکھنے والوں کی ایک معقول تعداد ہو جوکہ نہ صرف اردو میں بلکہ انگریزی میں شائع ہونے والے اسلام مخالف سینکڑوں مضامین کو چیلنج کریں اور ان کے خلاف دلائل کے ساتھ تحریریں لکھیں اور ان تمام اخبارات، رسائل اور چینلز کی باقاعدہ مانیٹرنگ کرےں تاکہ روزانہ کی بنیاد پر ان کے پراپیگنڈے کا مقابلہ کیاجائے۔
مغرب کے خلاف اردوزبان میں بہت سا ایسامواد موجود ہے جس کو انگریزی میں ترجمہ کرکے انٹرنیٹ کے ذریعے اور کتابوں اور رسائل کی شکل میں پاکستان میں انگریزی پڑھنے اور سمجھنے والے لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے بلکہ مغرب اور دنیابھر میں بسنے والے مسلمانوں کو بھی بتانا ضروری ہے۔ اس وقت پوری دنیا کا میڈیا یہودیوں اور اسلام دشمنوں کے ہاتھ میں ہے ایسے میں یہ سمجھنا کم فہمی ہے کہ ہم لوگوں کو مغرب کے ناپاک عزائم سے صرف بیانات اور احتجاجی مظاہروں سے آگاہ کر کے ان کی رائے کو مغرب کے ناپاک عزائم کے خلاف ہموار کرلیں گے۔
سیاست کو اگر منافقت کی ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے تو اس پر ہمیں خفا نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستانی سیاست دانوں کی غالب اکثریت اگر منافق ہے تو ہمارے ابلاغ کے ذرائع بھی کم منافق نہیں ۔ وسیع تر ’’قومی مفاد‘‘ میں ہمارے میڈیا نے حکومتی اتحادیوں کی پریس کانفرنس کو نشر کرنے پر ’’اکتفا‘‘ کیا ہے۔ کراچی کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس وقت یہاں کیا ہورہا ہے؟ کون کس کو مار رہا ہے؟ اسلحہ کس کے پاس ہے؟ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ روکنے میں ناکام کیوں ہیں؟
گزشتہ روز گٹر باغیچے سے ملنے والی بوری بند لاش نے اہل کراچی کو ایک’’عہد‘‘ کی یاد دلادی۔
کل اتحادی گورنر ہاوس میں سر جوڑ کر کراچی کے امن کے لیے غور وفکر کرتے رہے اور پھر ایک نتیجے پر پہنچے ’’ کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات لسانی ہیں نہ سیاسی،ان واقعات میں لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا ملوث ہے جس سے نمٹنے کیلئے رینجرز کو اختیارات دیئے گئے ہیں‘‘
پاکستانی ٹی وی چینلز کے دنیا بھر میں ناظرین نے اسے حقیقت جانا ہوگا لیکن اہل کراچی نے جو کئی روز بلکہ ایک عرصے سے رو رہے ہیں ‘ خوب قہقہے لگائے ہوں گے۔ کیوں نہ ہنسیں گے‘ لطفیہ جو سنا۔
ایم کیو یم کیا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس جماعت نے کراچی اور خود اردو بوالنے والوں کو کتنا نقصان پہنچایا ہے اس کی تفصیل بتانے کی بھی ضرورت نہیں۔ لینڈ مافیا کی صورت میں نظر آنے والی دوسری جماعت اے این پی کے کارنامے بھی اتنے ڈھکے چھپے نہیں ہیں کہ اس کو کوئی انکشاف بناکر پیش کیا جائے۔ سب جانتے ہیں کہ آئے روز رونما ہونے والا لسانی جھگڑا دراصل کراچی کے دو بڑی لسانی اکائیوں کی نام نہاد نمائندگی کرنے والوں کے درمیان زمین پر قبضے کے سوا کچھ نہیں۔
لیکن اس سب جھگڑے میں پیپلز پارٹی کس جگہ کھڑی ہے اس کے لیے آپ نبیل گبول صاحب کا جیو ٹی وی پر نشر ہونے والا یہ ردعمل پڑھ لیں۔ انہوں نے کہا’’رحمان ملک کو اپنی کرسی کی فکر ہے‘‘
تفصیلی خبر کچھ یوں ہے۔
کراچی:۔۔۔۔۔وزیر مملکت برائے پورٹس اینڈ شپنگ اور پیپلز پارٹی کے لیاری سے منتخب رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے لیاری سرچ آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر داخلہ رحمان ملک کو صرف اپنی کرسی بچانے کی فکر ہے۔ آپریشن لانڈھی ، کورنگی ، عزیز آباد اور عثمان آباد میں بھی ہوتا تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے نبیل گبول نے کہا کہ لیاری میں پیپلز پارٹی کے ووٹروں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ حکومت پر جرائم پیشہ افراد ، قبضہ مافیا اور ڈرگ مافیا کے خلاف آپریشن کے لیے دبائو ہے تو اس کی سزا لیاری کی عوام کو نہیں دینی چاہیئے۔
لیاری امن کیمٹی کیا ہے۔ اس کا پیپلز پارٹی سے تعلق کیا ہے اس کی کچھ تفصیل یہاں ‘ یہاں اور یہاں ملاحظہ کریں ۔یہ تو لیاری امن کمیٹی کا معاملہ ہے خود پیپلز پارٹی نے اپنی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا انتقام جس طرح عوام اور خصوصا سندھ کے عوام سے لیا وہ سب نے دیکھا ۔
حساس اداروں نے کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے اعدادوشمار وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے تحقیقات کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کے حوالے کردیے ہیں۔مہاجرقومی موومنٹ کے 72اور پی پی کے 12کارکنوں سمیت 2009ءمیں 182جبکہ 2010ءکے ابتدائی 9دنوں میں 36سیاسی کارکن ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ۔غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 2009ءمیں 486سیاسی کارکنوں کو دہشت گردوں نے قتل کیا ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے مرتب کیے گئے اعدادوشمار میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر واضح تضاد پایا جاتا ہے غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق2009ءمیں 486افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے تھے جن میں سب سے زیادہ تعداد مہاجر قومی موومنٹ اور پی پی پی کے کارکنوں کی تھی ۔دوسری جانب شہر میں جاری حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ آصف نواز کی سربراہی میں قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی کو حساس اداروں کی جانب سے شہر میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے اعدادشمار فراہم کیے گئے جن کے مطابق 2009ءمیں مجموعی طور پر 182افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جن میں اکثریت مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنوں کی تھی ۔اعدادو شمارکے مطابق سال 2009ءمیں مہاجر قومی موومنٹ کے 72کارکنوںکو قتل کردیا گیا جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے 52‘پی پی پی 12‘اے این پی11‘کالعدم سپاہ صحابہ کے 11‘پی ایم یل ن ‘جمعیت اہلحدیث کے 2‘جماعت اسلامی کے 2‘سنی تحریک کے 3‘لیاری امن کمیٹی کے 2فقہ جعفریہ کے 2پی پی پی (ش ب)کے 2کارکنوں سمیت 8دیگر افراد شامل تھے ۔اسی طرح یکم جنوری 2010ءسے 9جنوری تک صرف 9روز میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 36افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں ۔ٹارگٹ کلنگ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کو فراہم کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں برس جنوری 2009ءسے جنوری 2010ءکی 10تاریخ تک ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں متحدہ قومی موومنٹ کے 58کارکنان ہلاک ہوئے جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں‘18جنوری کو ضلع شرقی کے علاقے کھوکھرا ہار میں ندیم بیگ‘17اپریل کو گلبرک کے علاقے میں محمد رضوانُ16مئی کو مبینہ ٹاو ¿ن کے علاقیمیں سید عادل‘4جون کو سعود آباد کے علاقے میں خالد انصاری اور 5جون سہراب گوٹھ میں محمد ارشد‘شاہ فیصل کالونی میں اجمل معین اور عوامی کالونی تھانے کے علاقے میں فاروق صدیقی ۔7جون کو عید گاہ کے علاقے میں رضا اللہ قریشی ‘فقیر محمد اور جوہر آباد میں معین رضا ۔20جون کو نبی بخش کے علاقے میں عتیق ۔26جون کو شاہراہ فیصل کے علاقے میں سید منصور علی ۔7جولائی کو سعود آباد کے علاقے میں زبیر احمد ۔8جولائی کو عوامی کالونی کے علاقے میں حاجی جلال ُعثمان ‘عبداللہ ‘سہیل عدنان ۔9جولائی کو نیو کراچی میں بشیر محمد ۔11جولائی کو عید گاہ کے علاقے میں یاسین اور اسٹیل ٹاﺅن کے علاقے میں صادق ۔14جولائی کو نبی بخش کے علاقے میں سراج الدین ‘16جولائی کورنگی میں محمد نعیم ۔18جولائی کو پی آئی بی کالونی میں محمد فیصل ۔27جولائی کو سعید آباد کے علاقے میں یعقوب کالا ‘شاہد اور ہمیش ‘یکم اگست کو کھوکھراپار میں رعنا ریاض الحسن ‘ماڈل کالونی میں راشد ۔5اگست کواقبال مارکیٹ کے علاقے میں عمران علی ‘شاہ لطیف میں رحمان احمد ۔10اگست کو بلدیہ کے علاقے میں رفیع اللہ ‘جوہر آباد میں فراز غوری اور علی رضا۔21اگست کو ناظم آباد کے علاقے میں شباب رضا عابدی ‘25اگست کو شاہ فیصل کالونی میں عتیق اور عجاز بیگ ۔3ستمبر کو ملیر میں نعمان جاوید ۔11ستمبر کو پاکستان بازار کے علاقے میں محمد قیوم ۔17ستمبر کو شاہراہ نورجہاں میں راشد یوسف ۔21نومبر کو چاکیواڑہ میں علی اصغر ‘بغدادی میں فیضان ۔22نومبر کو کلاکوٹ میں خلیل احمد ‘کھارادر میں شاہ نواز ۔30نومبر کو اقبال مارکیٹ میں سید محمد جاوید ‘15دسمبر کو سعود آباد میں عبدالعزیز ۔17دسمبر کو لانڈھی میں عارف الطاف ۔25دسمبر کو سعید آباد میںحیات علی ۔30دسمبر کو ناظم آباد میں طلحہ ۔31دسمبر کو کلاکوٹ میں باسط ۔یکم جنوری 2010ءکو لانڈھی میں عمران احمد ۔شاہ فیصل میں عامر خلیل ۔7جنوری کو کلاکوٹ میں عامر ۔اقبال مارکیٹ میں متین حسین زیدی ‘8جنوری کو کھارادر میں نعیم اور خیرالبشر شامل ہیں۔ حقیقی یکم جون 2009ءکو شاہ فیصل کالونی کے علاقے میںمسلح افراد نے فائرنگ کرکے حقیقی کے کارکن عمان احمد کو ہلاک کردیا‘ 3 جون کو عوامی کالونی میں محمدنوید‘ فراست علی‘ شاہ فیصل کالونی میں یاسین علی‘ کھوکھراپار میںمسماة سیما‘ 4 جون کو لانڈھی میں عدیل‘ عوامی کالونی میں عزیز الرحمن‘ لانڈھی میں نبی قریشی‘ زمان ٹاﺅن میںثناءاللہ‘ 5جون کو بلال کالونی میں محمد ندیم‘ ثاقب ماڈل کالونی میں بابر راشد‘ 7 جون کوجمشید کوارٹر کے علاقے میں سلیم الدین ‘عوامی کالونی میں محمد ندیم‘ کھوکھراپار میں محمد جمیل‘ سعودآباد میں نسیم احمد‘ عوامی کالونی میں زاہد حسین‘ لانڈھی میں شہزاد‘ 8 جون کو لیاقت آباد کے علاقے میں فہیم الدین اور سیف الحق صدیقی‘ لانڈھی میں امیر‘ گلبہار میں عبدالنعیم‘ شریف آباد میں علی عباس‘ 19 جون کو شریف آباد میں رئیس۔20 جون کو سعودآباد میں محمد اصغر‘ 21 جون کو سعودآباد میں ندیم احمد‘ 22جون کو سعودآباد میں عبداللہ‘ 23 جون کو الفلاح میں نوید‘ 24 جون کو سپر مارکیٹ میں سید معروف علی‘ عوامی کالونی میں محمد فاروق‘ 26 جون کو نیو کراچی میں نعیم الدین‘ 27 جون کو زمان ٹاﺅن میں عبدالنعیم‘ 28 جون کو سعودآباد میں محمد جنید‘ کورنگی میں طارق احمد‘ سرجانی ٹاﺅن میں محمد ریاض‘29 جون کو سچل میں آصف ریاض‘ 4 اگست کو لیاقت آباد میں محمد سکندر‘ مومن آباد میں سلامت خان‘ 5 اگست کو سرجانی میں محمد آصف‘ 6 اگست کو نارتھ ناظم آباد میں سید ندیم احمد‘ سعودآباد میں عتیق‘ ملیر سٹی میں سید محمد حیدر‘ پریڈی میں محمد شاہد‘ 7 اگست کو سرجانی میں فضل الحق‘ 10 اگست کو شریف آباد میں محمد عامر‘ 11 اگست کو شاہ فیصل میں محمد آصف‘ پریڈی میں وسیم‘ بلال کالونی میں محمد عرفان‘ 15 اگست کو رضویہ میں عبدالحفیظ‘ 4 نومبر کو لانڈھی میں رحمان‘ محمد فرید‘ بریگیڈ میں اسرار احمد‘ 11دسمبر کو سعودآباد میں محمد نعیم‘ 14 دسمبر کو سعودآباد میں عاصم حسین‘ 30 دسمبر کو شرافی گوٹھ میں سہیل احمد کو قتل کیا گیا جبکہ یکم جنوری 2010ءکو عوامی کالونی میں محمد الیاس‘ سعودآباد میں محمد علی‘ 2 جنوری کو عوامی کالونی میں دانش‘ ناظم آباد میں نصیر‘ لانڈھی میں اختر خان‘ 3 جنوری کو ماڈل کالونی میں اخلاق حسین‘ 4 جنوری کو لانڈھی میں محمد یامین‘ سعودآباد میں رمضان‘ 5 جنوری کو لانڈھی میں عبدالرﺅف‘ عوامی کالونی میں عامر کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔
پاکستان کے معاشی مرکز کراچی کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ میں آگ لگانے والوں کا “پتا” لگنا ابھی باقی ہے۔ ملک کے انٹیلیجنس ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ایسے لوگوں کے تلاش میں ہیں جن کے سر یہ الزام تھوپا جاسکے۔ ہر خبر کی جڑ تک پہنچنے والے ٹی وی اینکرز اور ان کے چینلز ملک کے سب سے انتہا پسند اوت تشدد پسند گروہ سے دبے نظر آرہے ہیں۔ ایسے میں اللہ بھلا کرے کچھ نوجوانوں نے ایک ایسی فلم بنائی ہے جس میں حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ فلم دو اقساط میں تلخابہ کے انگریزی بلاگ پر دیکھی جاسکتی ہے۔ تحقیقاتی فلم کے لیے یہاں کلک کریں۔
خبر تو یہ ہے کہ پاک فوج نے مظفر گڑھ کے نزدیک ڈرون طیارے مار گرانے کا عملی مظاہرہ کیا ہے لیکن یہ مظاہرہ دراصل کسی اور چیز کا ہے۔ فوج اس مظاہرے سے دراصل امریکا کو یہ پیغام دینا چاہ رہی ہے کہ ہمیں کم تر نہیں سمجھو۔ ہمارے فنڈز ریلیز کردو۔ ہمارے ساتھ معاملات اپنی شرائط پر ہی کرنے کی کوشش نہ کرو۔ یہ ایک خیال ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اس مظاہرہ سے فوج اس ملک کی بے غیرت ، بے عزت ، بے شرم اور ہیجڑے اور میراثی سیاسی قیادت سے کہنا چاہ رہی ہے کہ تم ’’حکم ‘‘ تو دو۔ تم ذمہ داری تو لو۔ تم اس کو سیاسی کور تو دو۔ تم ایک بیان تو جاری کرو پھر دیکھو ہم بے لگام امریکی ڈرون کا کیسے علاج کرتے ہیں ۔ یہ دوسری سوچ میری بھی ہے جس کے اظہار پر میرے ایک دوست مجھ پر برس پڑےکہ کیا بے تکی باتیں کررہے ہو۔ کیا فوج نے کیری لوگر بل پر سیاسی قیادت سے پوچھا تھا۔ کیا سیاست دانوں نے فوج کی اس رگ کو پکڑا ہے کہ اس میں غیرت نامی خون کی گردش ہوتی ہے۔
میں نے عرض کیا کہ جناب آپ کا غصہ بجا لیکن فوج کو بھی تو کچھ ’’جسٹی فیکیشن‘‘ چاہیے۔ فوج پر تو الزام ہے کہ اس نے کبھی غیروں سے جنگ نہیں جیتی بلکہ ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ہے ‘ ایسے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں ہتھیار ڈال دیے تھے جیسا اتحاد دنیا میں کہیں نظر نہیں آیا۔ ۹۰ ہزار فوجیوں میں کسی ایک کو بھارتیوں کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے ڈسپلن توڑنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔ ان پر الزام اور بھی ہیں ‘ لیکن ہماری حکومت کو کیا ہوا ہے۔ یہ تو سیاسی ہے، یہ تو عوامی ہے یا تو عوام کے پاس جانے والی حکومت ہے تو پھر ان کی غیرت کی رگ کیوں نہیں پھڑکتی؟
ایسے میں ایک اور دوست کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون گرانے کا مظاہرہ نہیں بلکہ بے بسی کا مظاہرہ ہے کہ صلاحیت ہونے کے باوجود یہ کام نہیں کرسکتے کیوں کہ ہم بے ہمت اور بے غیر ت ہیں۔
اے میرے غیر ت مند قبائلی تجھے سلام۔ تم نے وہ کام کردیا جوعوام کے تنخواہ داروں کو کرنا چاہیے تھا۔ وہ ہاتھ جو کبھی پاکستان فوج کو سلیوٹ کرنے کے لیے ماتھے تک جاتے تھے آج تمہارے لیے اُٹھ رہے ہیں۔ ایک ایسی وقت میں جب قوم سے ٹیکسوں کی صورت میں لیے جانے والے خون پسینہ کی کمائی کا بڑا حصہ خرچ کرنے والی فوج ڈرون گرانے کی مشقوں میں مصروف ہے تو تم نے غیرت کا شاندار عملی مظاہرہ کرکے دنیا کو پیغام دیا کہ تمہیں شکست دینا اس لیے ناممکن ہے کیوں کہ تمہارے ہاتھ بندوق اٹھانے کے لیے تمہارے رگوں میں دوڑنے والی غیرت مند قبائلی خون کے سوا کسی چیز کا مختاج نہیں۔ لڑا تمہارا پیشہ نہیں۔ تم تنخواہ دار ہوں اور نہ کرائے کے سپاہی۔ ایک دفعہ پھر تمہیں سلام
رکیے ! پا ک فوج کے سپاہیوں خدا را اپنی قوم کے خلاف لڑنا چھوڑ دو۔ دشمن کو پہچانو! پوری قوم تمہارے ساتھ ہوگی۔ محب وطن قبائلیوں کے خلاف آپریشن بند کردو۔ اگر تم اس ملک کی فوج ہو، اگر تم امریکا کی فوج نہیں ہو ‘ اگر تم سیاسی قیادت کی طرح امریکا سے این او سی نہیں لے کر آتے تو پھر ثابت کرو۔ امریکا کے پٹھو حکمرانوں کو گھر کا راستہ ہم عوام دکھائیں گے۔
یہ تصویر ان مبینہ دہشت گردوں کی ہے جن پر قوم پرست جماعت کی ریلی پر فائرنگ کا الزام ہے۔ کل رات لسانی جماعت کے کارکنان نے گرفتار شدگان کی رہائی کے لیے تھا نے کا گھیراو کیا۔ آج کی اپ ڈیٹس نہیں پتا ۔ لیکن میرا ایک سوال ہے کہ کیا ملزم کو’’ بے گناہ‘‘ یا ’’گناہ گار‘‘ ثابت کرنا عدالت کا کام ہے یا ہر باثر سیاسی جماعت دہشت گردی کے واقعات میں ملوث کارکنان کی بے گناہی کا فیصلہ کرے گی؟ یہ معاملہ صرف مذکورہ لسانی جماعت تک محدود نہیں ‘ شیعہ ایکشن کمیٹی بھی ’’جلا و گھیراو ‘‘ میں ملوث اپنے دہشت گرد کارکنان کو بے گناہ قرار دے کر روز پریس کانفرنس کررہی ہے۔ سانحہ یوم عاشور کو ایک ماہ گزرنے والا ہے ‘ صرف چند دن قبل ہی کراچی کے سی سی پی او وسیم احمد پر اپنے آقا غلام احمد قادیانی ملعون کی طرح اچانک ’’وحی نازل ‘‘ ہوئی کہ یوم عاشور پر دھماکے کرنے والے ’’جنداللہ ‘‘ کے کارکنان ہیں جنہوں نے ’’اعتراف جرم ‘‘ بھی کرلیا ہے۔
یار لوگ کہتے ہیں یہ ’’ جوڈیشل ایکٹیوازم ‘‘ نہیں ہونا چاہیے۔ کراچی میں گذشتہ کئی برسوں سے جس طرح کی صورت حال ہے اس میں اللہ کے بعد سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں۔ چیف جسٹس کو ایک ازخودنوٹس لے کر سانحہ یوم عاشور میں معصوم عزاداروں کے قتل اور اس کے بعد کراچی کے معاشی قتل کی تحقیقات کا حکم دینا چاہیے۔ ورنہ یہاں ہر کسی کا کارکن بے گناہ اور معصوم ہے، یہ تو دراصل مرنے اور لٹنے والا ہے جو بدمعاش ہے۔
اپنے پچھلے پوسٹ’’مقتول مجرم ہوتا ہے اور سیاسی کارکن معصوم‘‘میں‘ میں نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ جب کسی سیاسی جماعت یا مسلک کا کوئی رکن دہشت گردی کے کسی واقعہ میں پکڑا جاتا ہے تو وہ مسلک یا پارٹی تھانوں کے گھیرا کے ساتھ ساتھ دھمکیوں پر بھی اُتر آتی ہے‘ یہی چلن اب وکلا نے بھی اختیار کیا ہے۔ اگر کسی پر دہشت گردی یا قتل کا الزم لگا یا جاتاہے تو اس پر مقدمہ چلنا چاہیے‘ اگر بے گناہ ثابت ہوتا ہے‘ تو بری ہوجائے گا ‘اگر گناہ گار ہے تو سزا مل جائے گی ۔
لیکن لگتا ہے قانون کی حکمرانی کی بات کرنےوالے ہی اس کی پاسداری پر آمادہ نہیں۔ روزنامہ جسارت نے اس اہم موضوع پر آج کے ادارتی صفحے پر ’’شذرہ‘‘ لکھا ہے (گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں) ۔ قارئین تلخابہ ضرور اس کو پڑھ لیں ‘خصوصا وہ دوست جو میرے پچھلے پوسٹ پر سخت ناراض ہیں۔
لاہورمیں گھریلو کام کرنے والی 12 سال کی ایک بچی شازیہ پراسرار حالات میں ہلاک ہوگئی۔ قتل کے الزام میں لاہورہائی کورٹ بارکے سابق صدر ایڈووکیٹ نعیم کو گرفتارکرلیا گیا جس کے گھرمیںیہ بچی کام کرتی تھی۔ ٹی وی چینلز پریہ سانحہ سامنے آنے اور عیسائی برادری کی طرف سے زبردست مظاہرہ کے بعد اعلیٰ حکام بھی متوجہ ہوئے۔ شازیہ کی ہلاکت کے فوراً بعد ایڈووکیٹ نعیم اور اس کے اہل خانہ روپوش ہوگئے تھے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق شازیہ پرجسمانی تشددکیاگیا تھا اور کئی دن سے اسے اپنے گھروالوں سے ملنے بھی نہیں دیاجارہاتھا۔ یہاں تک تو معاملہ بظاہرسیدھا سادا ہے لیکن اب حالات نے ایک نیا موڑلے لیاہے۔ لاہورکے وکلاءاپنے ہم پیشہ اور سابق صدر ہائی کورٹ بارکے حق میں احتجاج پر اترآئے ہیں۔ گزشتہ منگل کو ملزم کی عدالت میں پیشی پروکلاءنے اس کے حق میں نعرہ بازی کی اور اگلے دن یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا۔ موجودہ صدرہائی کورٹ بار کا کہناہے کہ ذرائع ابلاغ نے اس معاملہ کو غیرضروری طورپر اچھالاہے اور صرف یک طرفہ موقف پیش کیاہے۔ ان کے مطابق ملزم بے گناہ ہے۔ لیکن ایک طرف تو ملزم کا مع اہل خانہ روپوش ہوجانا اسے مشکوک ٹھیراتاہے دوسری طرف اسے اپنا موقف پیش کرنے سے کسی نے نہیں روکا۔ لیکن اب تک اس کی طرف سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔ وکلاءعدلیہ کا ایک حصہ ہیں اور معاملہ عدالت میں پیش ہوچکاہے جہاں سے تین دن کا جسمانی ریمانڈ دیاگیاہے۔ مناسب تویہ تھا کہ مظاہرے‘ نعرے بازی اور یوم احتجاج منانے کے بجائے عدالت ہی میں مقدمہ لڑاجاتا اوراگرملزم بے گناہ ہے تو اس کی بریت کی کوشش کی جاتی۔ ملزم کی حمایت کرنے والے خود وکیل ہیں اور وہ یہ کام با آسانی کرسکتے ہیں۔ کسی غریب وبے وسیلہ ملزم کو بے گناہ ہونے کے باوجود وکیلوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے گھرکا سامان تک بیچنا پڑتاہے‘ نعیم کو تو یہ خدمات مفت میں حاصل ہوجائیںگی۔ لیکن صرف اس بنیاد پرکسی ملزم کا ساتھ دینا کہ وہ ہم پیشہ ہے‘ ناانصافی ہے۔ اس طرح تو کوئی بھی اپنے پیشے‘ برادری‘ قبیلے یا جماعت کی بنیاد پر حصول انصاف میں رکاوٹ بن سکتاہے جیساکہ ایک تجزیہ نگارنے 9 اپریل کو کراچی میں وکیلوں ہی کوزندہ جلادینے کا حوالہ دیاہے جب عدالت کا گھیراﺅ کرکے سماعت نہیں ہونے دی گئی تھی۔ آخر ایک جیتی جاگتی زندگی موت کی نیندسوئی ہے۔ اگر وہ کسی بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہے تو اس کا علاج کیوں نہ کروایا گیا۔ پوسٹم مارٹم کی رپورٹ ابھی سامنے نہیں آئی ہے اس سے بہت کچھ معلوم ہوسکے گا۔ اسی سانحہ کے حوالے سے ایک اورگھناﺅنی حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ ہدایت نامی ایک بے ہدایت شخص نے یہ کاروبار بنارکھا تھا کہ غریب والدین کو کم اجرت دے کر ان کے بچے حاصل کرکے امیرگھرانوں میں ملازم رکھواتا تھا اور ان سے بڑی رقم حاصل کرتاتھا۔ ایسا کاروبار اور بھی کئی لوگ کررہے ہوں گے۔ جو لوگ ایسے بچے حاصل کرتے ہیں وہ بھی مجرم ہیں۔ پولیس کی طرف سے یہ تاکید ہے کہ گھریلو ملازمین کے کوائف سے تھانے کو مطلع کیاجائے درحقیقت یہ غلامی کا ایک سلسلہ ہے اور ایسے بچوں پرمظالم کی کہیں داد‘ فریاد بھی نہیں ہوتی۔ گاﺅں‘ دیہات میں آئے دن زمینداروں کی نجی جیلوں سے ہاری‘ کسان‘ اوربھٹہ مالکان کے قبضہ سے مزدور برآمد کیے جارہے ہیں ۔ ایسے ظالموں کو سزادلوانے کے لیے وکلاءکو اپنا اخلاقی کردار اداکرنا چاہیے اور مجرموں کی وکالت سے گریز کرنا چاہیے۔ لیکن وکلاءتو یہ کہتے ہیں کہ انہیں صرف اپنی فیس سے غرض ہے خواہ کروڑوں میں ہو۔ کیا یہ غیراخلاقی اورغیراسلامی حرکت نہیں۔؟
کراچی میں جاری لسانی فساد کو سمجھنے کے لیے شہر پر قابض دو دہشت پسند جماعتوں ایم کیو ایم اور اے این پی کے لیڈران کی گفتگو ہی کافی ہے ۔ میں پہلے ہی اس کے بارے میں افتخار بھائی کے بلاگ پر اظہار خیال کرچکا ہوں، یہاں سترہ جنوری کو شائع ہونے والے علی خان صاحب کا مضمون پیش خدمت ہے جو قارئین کو بتاتا ہے کہ اس شہر قائد پر کس آسیب کا سایہ ہے۔
………………….
رضی اختر شوق مرحوم ایک بار بہاولپور آئے، ڈپٹی کمشنر برلاس صاحب نرے سرکاری ملازم نہ تھے بلکہ اچھے شاعر اور اس سے زیادہ شاعر گر تھے۔ ان کی شاگردی سے خواتین نے زیادہ فیض پایا۔ بہرحال وہ جب تک بہاولپور کے حکمران رہے، باقاعدگی سے مشاعرے کرواتے رہے۔ رضی اختر شوق بھی گھومتے گھامتے آگئے، ان دنوں ان کی اس غزل کی بڑی دھوم تھی:
سنگ ہے، نازک دشنام ہے، رسوائی ہے
یہ ترے شہر کا انداز پذیرائی ہے!
لیکن مذکورہ محفل میں انہوں نے اپنے شہر کراچی کے حوالے سے ایک شعر سنایا:
کوئی اس شہر میں آسیب صدا دیتا ہے
جو دیا لے کے نکلتا ہوں، بجھا دیتا ہے
یہ اس دور کی بات ہے جب کراچی میں قتل و غارت گری عروج پر تھی اور بوری بند لاشوں کے کلچر کی ابتدا ہوئی تھی۔ رضی اختر نے آسیب کا نام لیے بغیر غزل کی زبان میں حقیقت بیان کردی۔ لیکن ہم تو اس شعر سے صرف اتنا ہی سمجھ پائے کہ حضرت کے گھر میں بہت سے دیے رکھے ہوئے تھے، پتا نہیں کسی نے دیے تھے یا وہ دیاگر تھے۔ اتنا تو سوچا ہوتا کہ جب دیا بجھنا ہی ہے تو ایک ہی دیے کو بار بار لے کر باہر نکلتے۔ اور مصرعہ یوں بھی ہوسکتا تھا کہ ”جب دیا لے کے نکلتا ہوں بجھا دیتا ہے۔
اس عرصہ میں بہت سے دیے بجھے، روشنیوں کے دشمن اب تک دیے بجھانے میں جی، جان سے لگے ہوئے ہیں لیکن وہ شہر جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا، وہاں ایسے دیوانے بے شمار ہیں جو اپنے حصے کی شمع، اپنی جرا ¿ت کا دیا روشن کرنے میں مصروف ہیں اور روشنی کا فیصلہ ہواﺅں پر نہیں چھوڑ رکھا۔ بھلے کتنے ہی آسیب چنگھاڑتے پھر رہے ہوں، ہوائیں تندو تیز ہوں، شرار بولہبی شرر پر تلا ہوا ہو، اندھیر اور اندھیرا کیسا ہی گمبھیر ہو، کہیں نہ کہیں دیے تو روشن ہیں۔
ہمارے حکمران سیاسی مخالفین اور اپنی ذات پر تنقید کرنے والوں کے ہاتھ کاٹنے، آنکھیں نوچنے، ٹانگیں توڑنے اور گردن اڑانے کی دھمکیاں تو دیتے ہیں، اپنی ذات کے حوالے سے سازشوں کا چرچا بھی خوب کرتے ہیں لیکن ان ہاتھوں کو توڑنے پر قادر نہیں جن ہاتھوں نے ایک عرصہ سے اس شہر خوباں کو شہر خرابہ بنا کر یہاں کا امن و امان مسل کر رکھ دیا ہے۔ ان آنکھوں کو نوچ پھینکنے کی کوئی فکر نہیں جو قومی سلامتی اور ہم آہنگی کو نظر لگا رہی ہیں، ان گِدھوں کو کوئی شکار نہیں کرتا جو مظلوموں کی لاشوں پر پل رہے ہیں۔ذرا کوئی حکمرانوں پر تنقید کردے یا ان کے حواریوں کی طرف انگلی اٹھا دے تو طیش میں آجاتے ہیں۔
شہر کراچی دسمبر کے سانحہ کے بعد سے اب تک سنبھل نہیں سکا ہے۔ جن کے گھروں سے لاشے اٹھے اور جن گھروں کے چولہے بجھ گئے وہ ہنوز سکتہ کے عالم میں ہیں۔ اس سانحہ عظیم کے بعد اس سے توجہ ہٹانے اور مجرموں کی پردہ پوشی کے لیے شہر میں ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگ کا کھیل شروع ہوگیا۔ مجرموں کا تعین اب تک نہیں ہوسکا۔ ذمہ داران آئیں، بائیں، شائیں کررہے ہیں۔ بم دھماکا ہو یا آتش زنی، شہر بھر میں ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتیں ہوں یا لیاری میں آپریشن، کسی بھی بات کا واضح جواب نہیں مل رہا، مل بھی نہیں سکتا۔ چوروں، ڈاکوﺅں کی ریت ہے کہ ایک دوسرے کی مخبری نہیں کرتے۔ ایک کہاوت ہے کہ اپنے بھائی کو چور کون کہے۔ اور یہاں تو اعلان کیا جارہا ہے کہ فلاں فلاں ہمارا بھائی ہے، ہمارا بازو ہے، ہمارا اتحادی ہے۔ ایک بوکھلاہٹ یا کھسیاہٹ کا عالم طاری ہے۔ عجیب عجیب بیانات سامنے آرہے ہیں، جناب قائم علی شاہ چونکہ سندھ کے بڑے وزیر ہیں اس لیے ان کی بات بھی بڑی ہے۔ لیاری میں رینجرز نے آپریشن کیا جس پر لیاری کے ہزاروں افراد نے بہت بڑا جلوس نکال دیا۔ ایک بڑی شخصیت کا فرضی جنازہ اٹھا کر وزیراعلیٰ ہاﺅس کی سمت جارہے تھے لیکن وہ لوگ جو کہہ رہے ہیں کہ لیاری میں سب ہمارے جیالے ہیں اور یہ علاقہ پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے، وہ سب یہ ریلی دیکھ کر دبک گئے۔ یہ جو بڑے بڑے ہاﺅس ہیں، ان کی حفاظت پولیس کرتی ہے اور پولیس کا یہی کام ہے ان کی طرف کوئی بڑھے تو وہ خود اس حرکت کا ذمہ دار ہوگا۔ سندھ کے بڑے وزیر کو کہنا پڑا کہ مجھے کیا پتا، آپریشن کا حکم کس نے دیا، میں تو انجان ہوں۔ یہ حقیقت بھی ہے وہ بیشتر معاملات سے انجان رہتے ہیں۔ ایک دفعہ ہمارے کچھ دوستوں نے شرارتاً ہمیں بھنگ پلادی تھی تو ہم بھی پورا ایک دن انجان رہے، پتا ہی نہیں چلا، اطراف میں کیا ہورہا ہے۔ نشہ تو ہر ایک ہی برا ہے لیکن بھنگ کا نشہ گندا بھی ہے، اور اقتدار کا نشہ خطرناک۔ کبھی کبھی دو، تین نشے آپس میں مل کر دو آتشہ و سہ آتشہ ہوجاتے ہیں۔ بھنگ تو حافظہ معطل کردیتی ہے لیکن تکیوں اور مزاروںپر بڑی مقبول ہے۔ اس کے عقیدت مندوں میں سے کسی کا شعر ہے:
بنگِ (بھنگ) زدیم و سردو عالم شدآشکار
مارا ازیں گیاہِ ضعیف ایں گماں نہ بود
یعنی بھنگ پی کر دو عالم کے اسرار کھل جاتے ہیں، اس کمزور سی گھاس سے ایسا گماں کب تھا۔ یاد رہے کہ بھنگ کے حوالے سے ہمارے تمام اشارے خود اپنی ہی طرف ہیں گو کہ ایک ہی بار اس گیاہ ضعیف کے ہتھے چڑھے تھے۔ اب بڑے وزیر اگر شوکت ترین کو بار بار شوکت عزیز کہیں یا گوادر کے تفریحی دورے میں پنجاب کے بڑے وزیر کو بار بار شہاب شریف کہتے رہیں تو اس کا تعلق کسی اور چیز سے نہیں، عمر سے ہے۔ پینے والے تو اور بہت ہیں جو بہت کچھ پی جاتے ہیں ،خون تک۔
یہ جناب قائم علی شاہ کی سادگی ہے کہ انہوں نے کراچی میں کسی بھی قسم کے آپریشن سے برا ¿ت کا اعلان کردیا ۔ مخمصہ یہ ہے کہ کس کے خلاف آپریشن کیا جائے، سب آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ اگر یوم عاشور کے جلوس میں بم دھماکا خود کش حملہ قرار دیا جاسکتا تو ان الجھنوں سے نجات مل جاتی۔ شاید اسی لیے حادثہ کے چند منٹ کے اندر اندر لندن سے الطاف بھائی تک نے اسے خود کش حملہ اور طالبان کی کارروائی قرار دیا۔ جناب رحمن ملک نے اسلام آباد سے یہ اطلاع جاری کی۔ اب انہیں چاہیے کہ اپنے غلط اندازے اور تفتیش کو غلط رخ پر ڈالنے کی اس سوچی سمجھی کوشش پر معذرت تو کرلیں۔ ویسے ہمیں حیرت ہے کہ اس دھماکے کو خود کش حملہ باور کرانے میں کیا دشواری تھی؟ فوری طور پر تو حملہ آور کا سر اور دھڑ تک دریافت کرلیا گیا تھا اور ایک جوان کے لیے تمغہ شجاعت یا ستارہ جرا ¿ت کی سفارش بھی کردی گئی تھی کہ اس نے خودکش حملہ آور کو دبوچ کر زیادہ بڑی تباہی سے بچا لیا۔ اگر لندن سے اسلام آباد تک سب یکسو ہوجاتے کہ یہ خودکش حملہ ہی تھا تو کوئی کیا کرلیتا۔ لیکن اس کے بعد جو آگ کا کھیل کھیلا گیا یہ کس کا ”کارنامہ“ ہے؟ اس کا ابھی تعین نہیں ہوا کہ کس کو بلکہ کس کس کو مجرموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ آگ لگانے اور لوٹ مار کرنے والوں کی تو تصویریں بھی موجود ہیں، یہ بھی آسانی کے بجائے دشواری بن گئی۔ تصویروں کے مطابق جو لوگ پکڑے گئے یا پکڑے جائیں گے ان کی وابستگیاں حسب منشا ثابت کرنا آسان نہ ہوگا۔
اس کا بھی حل ہمارے ذہین ترین وزیر جناب عبدالرحمن نے نکال لیا ہے، واضح رہے کہ ان کے نام کے ساتھ ملک لگا ہوا ہے، کچھ اور نہ سمجھا جائے۔ تو وفاقی وزیر داخلہ جناب رحمان ملک نے گزشتہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں انکشاف کیا کہ عاشورہ کے جلوس میں بم دھماکا کالعدم لشکر جھنگوی نے کیا۔ چلیے، مان لیا، لیکن اس سے آگے موصوف نے مزید انکشاف کیا کہ تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی، جیش محمد اور القاعدہ نے مل کر ایک نیٹ ورک قائم کرلیا ہے جو دہشت گردی کی وارداتوں کے پیچھے ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ آتش زنی اور لوٹ مار کے تیس ملزم گرفتار ہوئے ہیں جن کا تعلق مختلف گروہوں سے ہے، لوٹے گئے ہتھیار بھی ان سے برآمد کرلیے گئے ہیں۔ ان دہشت گردوں کا نشانہ متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم حقیقی سمیت کئی سیاسی جماعتوں کے کارکن بنے۔ اب گزشتہ تین دن سے کراچی میں کوئی ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوئی۔ جناب وزیر داخلہ نے ”مجرموں“ کا دائرہ بڑا وسیع کردیا ہے اور اس میں کسی نہ کسی طرح طالبان اور القاعدہ کو بھی لے آئے ہیں۔یہ ان کی ضرورت بھی ہے، تاہم ایک سوال یہ ہے کہ لشکر جھنگوی، طالبان اور القاعدہ سے وابستہ تمام لوگ سنی ہیں۔ دھماکے تک تو ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد بولٹن مارکیٹ اور اس کے اطراف کی مارکیٹیں پھر لنڈا بازار کی جو دکانیں پھونکی گئیں وہ سب کی سب سنیوں کی ہیں اور لنڈا بازار تو بالخصوص پٹھانوں کا ہے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان میں غلبہ پشتو بولنے والوں کا ہے اور وہ سب کٹر سنی ہیں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ طالبان پٹھانوں کی دکانیں جلا کر انہیں معاشی طور پر فقیر کردیں اور لشکر جھنگوی سنیوں کی دکانیں جلا ڈالے۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ تاجر حضرات میں سے بیشتر تبلیغی جماعت سے متاثر ہیں اور خیر کے کاموں میں دل کھول کر چندہ دیتے رہے ہیں۔ یوم عاشور کے سانحہ سے پہلے یہ کہا جارہا تھا کہ کراچی خود کش حملوں اور بم دھماکوں سے اب تک اس لیے محفوظ ہے کہ یہاں سے طالبان یا جہادی تنظیموں کو چندہ ملتا ہے، تو کیا یہ اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف نہیں ہے؟
تصاویر سے ظاہر ہے کہ یہ شر پسند جو بھی تھے، کالے کپڑے پہن کر عاشورہ کے جلوس میں شامل ہوگئے تھے اور یہیں سے نکل کر لوٹ مار اور آتشزنی شروع کی۔ یہ لوگ آتش گیر مادہ سے لیس تھے۔ صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے ان تخریب کاروں کو پولیس کے ذریعہ نہ روکنے کی یہ عجیب دلیل پیش کی کہ یہ لوگ کالے کپڑوں میں ملبوس تھے ان پر فائرنگ کی جاتی تو پورے ملک میں فساد برپا ہوجاتا۔ یہ ایسی بات ہے جو حکمرانوں ہی کو سوجھ سکتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کالے کپڑے پہن کر ڈاکو، لٹیرے اور تخریب کار جو چاہیں کرتے پھریں، پولیس یا رینجرز انہیں نہیں روکیں گے۔ یہ جو شہر شہر گیس اور بجلی کی عدم دستیابی پر مظاہرے ہورہے ہیں جن پر پولیس ٹوٹی پڑ رہی ہے، ان مظاہرین کو چاہیے کہ کالے کپڑے پہن کر احتجاج کریں، محفوظ رہیں گے۔ اللہ خیر کرے ابھی تو چالیسویں کے جلوس نکلنے باقی ہیں۔
جناب رحمن ملک نے واقعات کو خاص رخ دینے کے لیے یہ بھی فرمایا تھا کہ بلدیہ ٹاﺅن اور شیرپاﺅ کالونی سے لوگوں کو اٹھا کر لے جایا جاتا ہے اور قتل کردیا جاتا ہے۔ یہ بستیاں ان کے شعور یا لاشعور پر حاوی ہیں، کیوں؟ انہوں نے قومی اسمبلی میں بھی کہا کہ پاک کالونی، ملیر، بلدیہ ٹاﺅن اور شیرپاﺅ کالونی خطرناک ترین علاقے قرار دیے جاچکے ہیں۔ ان علاقوں میں گینگسٹر(گروہ بند بدمعاش) چھپے ہوئے ہیں۔ وہاں ہر قیمت پر کارروائی ہوگی۔ اگلی سانس میں فرمایا کہ ملیر میں کوئی آپریشن نہیں کیا گیا حالانکہ ان کی اپنی پارٹی کے لوگوں نے شکوہ کیا تھا کہ ملیر میں آپریشن ہورہا ہے۔ ایک سوال یہ کہ ملیر میں آپریشن ہو تو پیپلز پارٹی کو اس پر اعتراض کیوں؟ وفاقی وزیر تو فرمارہے ہیں کہ یہ علاقہ گروہ بند بدمعاشوں کا گڑھ ہے۔ چلیے، ملیر اور لیاری تو آپریشن کے خطرے سے باہر ہوگئے۔ پاک کالونی پر اہل لیاری کی اجارہ داری ہے، وہ بھی بچ گیا۔ رہے بلدیہ ٹاﺅن اور شیرپاﺅ کالونی تو یہ اے این پی والے جانیں۔ کراچی میں اے این پی کے رہنما جناب شاہی سید صدر مملکت آصف زرداری سے ملے ہیں اور ملاقات کے سرور میں ڈوبے ہوئے ہیں، ان سے پوچھا گیا کہ کراچی کے مسائل اور پٹھانوں کے معاملات پر صدر سے کیا بات ہوئی تو انہوں نے فرمایا ”ہم تو صدر کو سلام کرنے گئے تھے، انہوں نے پہلی بار ملاقات کا شرف بخشا، ہم نے کسی مسئلہ پر بات نہیں کی“ ان کا انداز ایسا تھا جیسے گنگو تیلی راجا بھوج سے مل کر آیا ہو، اور بھاگ کھلنے پر نازاں ہوں،” مارا ازیں مرد قوی ایں گماں نہ بود“
جناب رحمن ملک کا تعلق حکومت سے ہے، دیگر بہت سے عہدیداروں اور مشیروں کی طرح پیپلز پارٹی سے نہیں۔ اور ستم یہ کہ کراچی ان کے لیے اور وہ کراچی کے لیے اجنبی ہیں۔ لیکن خود پیپلز پارٹی کے رہنما کراچی میں برسوں سے جاری ٹارگٹ کلنگ کے مجرموں کا نام لے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں طالبان اور القاعدہ کو بھی ملوث کیا ہے۔ وہ ایک عرصہ تک پاکستان سے باہر رہے اس لیے یہ یاد نہ رہا ہوگا کہ جب طالبان اور القاعدہ کا کسی نے نام بھی نہ سنا تھا تب سے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے۔ کا آپریشن طالبان اور القاعدہ کے خلاف نہیں تھا اور پیپلز پارٹی ہی کے سابق وفاقی وزیر داخلہ اور رحمن ملک کے پیشرو جنرل فرحت اللہ بابر کراچی میں لشکر جھنگوی، طالبان پاکستان اور القاعدہ سے نبرد آزما نہ تھے۔ جناب الطاف حسین نے اپنے کارکنوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام لشکر جھنگوی، طالبان یا القاعدہ پر نہیں لگایا۔ یہ ٹارگٹ کلنگ تو کب سے جاری ہے اور جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے کے مصداق کراچی کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ کون کس کو مار رہا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ رحمن ملک مصلحتوں کے اسیر ہیں اور وہ ہی کیا جب جناب صدر خود سجدہ ریز ہوں تو وفاقی وزیر کس شمار، قطار میں۔
جب تک اصل مجرموں کی نشاندہی نہ ہوگی اور ان کے خلاف کارروائی نہ ہوگی تب تک شہر کراچی پر آسیب کے سائے منڈلاتے رہیں گے اور دیے بجھتے رہیں گے۔ اب تو پولیس افسران بھی اصل مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جن افسران نے مجرموں کے خلاف کارروائی کی تھی وہ اب منوں مٹی کے نیچے دفن ہیں۔ ایک ایک کرکے سب مار دیے گئے۔ ریٹائر ہونے کے بعد بھی نہیں چھوڑا گیا۔ وہ سب موت کے حقدار ٹھیرے، ڈیتھ وارنٹ جاری ہوچکا تھا جو اب تک منسوخ نہیں ہوا ہے۔
کراچی وقفہ وقفہ سے خون میں نہاتا رہے گا۔ رحمن ملک خوش ہیں کہ تین دن سے کوئی ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوئی۔ لیکن یہ ”ملتے ہیں ایک وقفہ کے بعد“ کی صورتحال تو کتنی بار پیش آچکی ہے۔ مقصد تو دہشت بٹھانا اور یہ جتانا ہوتا ہے کہ شہر کس کے قبضہ میں ہے، کسی اور نے سر اٹھایا تو انجام یاد رہے۔ پس منظر میں بلدیاتی اجارہ داری بھی ہے۔ لوگ کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ یہ شہر صرف ہمارا ہے، ہم سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں۔ پیپلز پارٹی اتحادی ہوگی لیکن وہ کراچی اور حیدر آباد کی شہری حکومتوں کو بھول جائے۔ عوام کا حال یہ ہے کہ:
یہاں ہر شخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے
کھلونا ہے جو مٹی کا، فنا ہونے سے ڈرتا ہے
مرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ
بڑوں کی دیکھ کے دنیا، بڑا ہونے سے ڈرتا ہے
اور صاحبو! ڈرتے تو ہم بھی ہیں، اس لیے تھوڑا لکھے تو بہت جانیے۔
علی خان یقین کیجیے (نہ کریں تو بھی کیا) ہمیں نہیں معلوم یہ شعر کس کا ہے، ابو نثر کو ضرور معلوم ہوگا۔
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے
جانے کن حالات میں یہ شعر کہا گیا ہوگا اور کون ایسا جی دار ہوگا کہ جبر ناروا کو مسترد کرکے کسی بلا سے لڑنے پر ”اتارو“ ہوا ہوگا۔ ہم تو ایک عرصہ سے مفاہمت کی پتنگیں فضاﺅں میں اڑتے دیکھ رہے ہیں۔ جمہوریت کے چیمپئن کہلانے والے فوجی جنرلوں سے چپکے چپکے مفاہمت کرلیتے ہیں اور اسے این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس کا نام دے کر خود بلا بن جاتے ہیں۔ شہر میں ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہیں اور کھل کر ایک دوسرے پر الزام بھی عائد کرتے ہیں پھر اسلام آباد سے کوئی بیٹ مین اتر کر آتا ہے اور مفاہمت کا سبق پڑھاتا ہے اور کفن میں لپٹی لاشیں پوچھتی رہتی ہیں کہ ہمارے خون کا سودا کتنے میں طے ہوا، مفاہمت کس بنیاد پر ہوئی۔ لیکن کشتگان مفاہمت کی آواز کسی کے کانوں تک نہیں پہنچتی، ان کے لواحقین کا بلکنا، تڑپنا‘اس پر صدائے برنخواست…. ہاں! حکومت لاشوں کا معاوضہ بڑھا دیتی ہے کہ اسے کونسا اپنی جیب سے دینا ہوتا ہے۔ یہ معاوضے کسی صدر، وزیراعظم، وزیراعلیٰ یا کسی اور وزیر کی تنخواہ میں سے نہیں ہمارے، آپ کے خون پسینے کی کمائی سے دیے جاتے ہیں۔ یہی رقم اگر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے، قاتلوں کو پکڑنے پر صرف کی جائے تو جبرناروا سے مفاہمت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ گجرات میں برسوں سے جاری دشمنی کی بناءپر پچھلے دنوں پندرہ افراد کھیت رہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب وہاں تشریف لے گئے تو مقتولوں کے گھر کی سوگوار خواتین نے بیک زبان کہا کہ ہمیں رقم نہیں انصاف چاہیے۔ جناب شہباز شریف نے انصاف دلانے کا وعدہ تو کیا ہے لیکن دل میں کہتے ہوں گے کہ یہ مطالبہ پورا کرنا تو بہت مشکل ہے، عوام کے ٹیکس سے وصول ہونے والی رقم میں سے کچھ لے کر مفاہمت کرلو۔ گجرات میں خاندانی دشمنی کا یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے، جب پہلا شخص قتل ہوا تھا اسی وقت قانون حرکت میں آجاتا، انصاف بروئے کار لایا جاتا تو اب تک دونوں طرف سے پھنتالیس افراد نہ مارے جاتے۔ لیکن ایک گجرات کیا، یہ تو شہر شہر کی داستان ہے۔ جب بھی کوئی گردن کٹتی ہے، کوئی مظلوم مارا جاتا ہے تو کبھی دور سے آواز آتی ہے ”مٹی پاﺅ“ یہ عمل ہر جگہ جاری و ساری ہے۔ این آر او کا لب لباب بھی یہی تو تھا کہ مٹی پاﺅ اور پھر ہر معاملہ کو منوں مٹی تلے دفن کردیا جاتا ہے۔ کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ پر بھی مفاہمت کی مٹی ڈال دی گئی۔ بلدیاتی معاملات پر سمجھوتا ہوگیا جس پر کسی نے تبصرہ کیا ہے کہ ”نہاری ڈپلومیسی کامیاب ہوگئی“ رحمن ملک کو ایک بار پھر کراچی آنے کی زحمت اٹھانا پڑی اور نہاری کی پلیٹ پر سمجھوتا ہوگیا۔ ایڈمنسٹریٹر مقرر کیے جائیں گے اور ان کا فیصلہ مفاہمت سے ہوگا، یہ تیرا، یہ میرا، تیسرا فریق اے این پی اس پر برہم ہے کہ رحمن ملک نے یہ کیسے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ نہیں ہورہی اور یہ جو لوگ مرے ہیں یہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار نہ تھے تو کیا تھا؟ اتنا نہیں معلوم، یہ مفاہمت کے شکار تھے۔ مفاہمت کے حوالے سے ایک لطیفہ سن لیجیے:
”امی ، امی، پپو نے کھڑکی کا شیشہ توڑ دیا“۔
”وہ کیسے؟“
”میں نے اسے پتھر مارا، وہ سامنے سے ہٹ گیا“۔
اسے آپ بچپنا کہہ لیجیے، لطیفہ سمجھ لیں لیکن ذہانت تو جھلک رہی ہے۔ گمان غالب ہے کہ پپو کا یہ بھائی بڑا ہو کر ضرور سیاست میں آگیا ہوگا۔ ایسا ہوا تو اس پر یہ انکشاف ضرور ہوگا کہ یہاں تو پہلے ہی پپو بھی ہیں اور ان کے بھائی بھی، ایسے کہ کھڑکی کا شیشہ نہیں گردن توڑ کر بھی الزام گردن کو دیتے ہیں کہ کیسی کمزور نکلی۔ آپس میں لڑبھڑ کر کسی پپو کو تلاش کرتے ہیں کہ قصور اس کا ہے۔
کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن پر ماہ و سال اثر نہیں کرتے، مزاج طفلی غالب رہتا ہے، کہتے ہیں کہ ہر شخص کے اندر ایک بچہ چھپا رہتا ہے لیکن سنجیدہ اور معقول لوگ اسے مچلنے نہیں دیتے اور بہت سے ایسے ہیں جو اس بچے کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں اور یہ بچہ شیشے توڑتا رہتا ہے، پتھراﺅ کرتا رہتا ہے اور کسی پپو کو الزام دیتا رہتا ہے۔ اس فن میں تو امریکا بھی ماہر ہے، افغانستان کے حالات بگاڑ کر پاکستان کو پپو بنا رہا ہے، اس کے شاگرد پاکستان میں بہت۔
مفاہمت ہوگئی، اچھا ہوا، ورنہ شاید مقتولوں کی تعداد سوسے اوپر جاتی، لیکن ابھی مفاہمت سندھ حکومت میں شامل دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور متحدہ میں ہوئی ہے جو قومی موومنٹ ہونے کی دعویدار ہے، بالکل اسی طرح جیسے پیپلز پارٹی ”پیپلز“ کی جماعت ہے۔ ایک طرف متحدہ اتحاد کے پیچھے پڑی ہوئی ہے اور دوسری طرف پیپلز پارٹی پیپلز کا تیل نکال رہی ہے۔ مفاہمت کی بنیاد صرف یہ ہے کہ اقتدار قائم رہے، عوام مرتے ہیں تو مرتے رہیں، قتل ہوں یا مہنگائی کے ہاتھوں دم توڑدیں۔ کاش کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مفاہمت عوام کی بہبود کے لیے ہوتی، ملکی سلامتی کے لیے ہوتی، قاتلوں کی گرفتاری کے لیے ہوتی، امن و امان کے لیے ہوتی۔ یہ مفاہمت تو اس لیے ہے کہ تم بھی قتل کرو، غارت گری کرو، لوٹ مار کرو، ہم بھی کریں اور عوام کی نظروں میں سرخرو ہونے کے لیے ایک دوسرے پر الزامات لگائیں۔ گرما گرم تقریریں کریں اور پھر ہاتھ ملالیں۔ ہمارے وڈیرے، جاگیردار، زمیندار اور خوانین خوب جانتے ہیں کہ ایسی مفاہمت ڈاکوﺅں اور رسہ گیروں میں ہوتی ہے، علاقے بانٹ لیے جاتے ہیں، کوئی دوسرے کے علاقے میں واردات نہیں کرتا۔ اس غیر تحریری آئین کی کوئی خلاف ورزی کرے تو علاقے کا بڑا ایک جرگہ بلا کر فیصلہ کرتا ہے، ڈاکوﺅں کے سرداروں کا مصافحہ، معانقہ کروادیا جاتا ہے اور سب ایک دستر خوان پر بیٹھ کر لوٹ کے مال پر دعوت اڑاتے ہیں، مہذب ڈاکوﺅں میں یہ دستر خوان اسمبلی کہلاتا ہے۔
کیسی عجیب بات ہے کہ شہر میں کئی دن سے روزانہ چودہ پندرہ افراد قتل ہورہے تھے، فساد پھیلتا جارہا تھا کہ لندن اور اسلام آباد میں مفاہمت ہوگئی۔ اپنے اپنے ”ہاکس“ کو اپنی چونچ پروں میں دینے اور دم دبا لینے کا حکم دیدیا گیا تو اچانک قتل و غارت گری رک گئی، کیوں؟ یہ صورتحال کس طرف اشارہ کررہی ہے؟ گزشتہ منگل کو کیسی گرما گرمی تھی۔ سندھ اسمبلی میں وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا اور وزیر بلدیات آغا سراج درانی متحدہ کے بارے میں جو کچھ کہہ رہے تھے اس کے جواب میں اسی دن متحدہ کے ہاکس پریس کانفرنس میں کہہ رہے تھے کہ ”پیپلز پارٹی کراچی پر قبضہ کی سازش کررہی ہے، اپنا ناظم لانے کے لیے یہ سب کچھ کررہی ہے“ چلئے اب مفاہمت ہوگئی، نہاری کھایئے۔
سندھ میں تو عارضی طور پر پھر سیز فائر ہوگیا۔ بلدیاتی انتخابات اگر ہو ہی گئے تو ایک بار پھر لپاڈگی، کشتم کشتا، اکھاڑ، پچھاڑ اور اس سے آگے بڑھ کر خون خرابے کی نوبت آسکتی ہے۔ لیکن پنجاب میں خاص طور پر اور ملک بھر کی سیاست میں عمومی طور پر ”قومی مزاحمتی آرڈیننس“ کارفرما ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کردیا ہے کہ عدالت کے فیصلوں پر عمل نہ کرنے والے اب سیدھے جیل جائیں گے۔ عدالتی احکامات کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور صریحاً خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا ہے کہ ”وہ کون شخص ہے جو عدالت کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کررہا ہے؟“
ہمیںمعلوم ہے مگر ہم بتائیں گے نہیں۔ معلوم تو معزز عدلیہ کو بھی ہوگا لیکن عدالت میں گواہی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ این آر او پر عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر مِن و عن عمل نہیں ہورہا لیکن حکمران کہہ رہے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ ایک لطیفہ یہ ہے کہ ججوں کے تقرر کے حوالے سے حکمرانوں نے کہا ہے کہ یہ تقرر’سی او ڈی‘ یا میثاق جمہوریت کے مطابق ہوگا۔ یعنی یہ میثاق آئین اور قانون سے بالاتر ہے۔ یاد رہے کہ ’سی او ڈی‘چارٹر آف ڈیموکریسی کا مخفف بھی ہے اور فوج کے ادارے سینٹرل آرڈیننس ڈپو کا بھی۔ اس ڈپو میں عموماً خطرناک اسلحہ اسٹور کیا جاتا ہے۔ راولپنڈی سے اسلام آباد کی طرف جاتے ہوئے دائیں ہاتھ پر واقع اوجڑی کیمپ میں بھی ’سی او ڈی‘تھا جہاں پراسرار دھماکوں سے بڑی تباہی پھیلی تھی اور اس کی تحقیقات کے حوالے سے سیاسی تباہی پھیلی۔ ایسا ہی ایک اسلحہ ڈپو لاہور چھاﺅنی میں بھی دھماکے سے تباہ ہوکر سیکڑوں قیمتی جانیں لے بیٹھا۔ کہیں یہ سیاسی ’سی او ڈی‘یا چارٹر آف ڈیموکریسی بھی دھماکہ خیز نہ ثابت ہو۔ یوں بھی یہ دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے درمیان میثاق تھا جسے الطاف بھائی مذاقِ جمہوریت کہتے تھے، اب وہ پیپلز پارٹی کے گاڈ فادرز میں سے ایک ہیں۔
شاید ہی کسی کی سمجھ میں یہ بات آئے کہ عدالتوں میں ججوں کی کمی پوری کرنے میں کیا رکاوٹ ہے، یہ ہچکچاہٹ، تردد اور اغماض کیوں؟ کیا ایسا نہیں لگتا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت خود اپنے لیے کنویں کھودتی جارہی ہے۔ سنا تو یہ ہے کہ ” چاہ کن راہ چاہ درپیش“ (کن کے قاف پر زبر پڑھا جائے،پلیز) یعنی دوسروں کے لیے کنواں کھودو گے تو تمہارے سامنے کنواں آجائے گا۔ لگتا یوں ہے کہ حکمرانوں نے ذوق کا (غالباً) یہ شعر رٹ لیا ہے کہ:
نام منظور ہے تو فیض کے اسباب بنا
پل بنا، چاہ بنا، مسجد و تالاب بنا
لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ فیض احمد فیض کا شعر ہے اور یہ منظور صاحب کون ہیں۔ رہے حکمراں تو وہ مفاہمت کے نام پر جبرناروا کے پل بنا رہے ہیں اور اپنے لیے ہی کنویں کھود رہے ہیں، مسجد و تالاب تک ابھی نہیں پہنچے بالکل ایسے ہی جیسے دو برس بعد بھی اور چوتھی مرتبہ اقتدار ملنے کے باوجود روٹی، کپڑا، مکان میں سے ابھی تک روٹی تک نہیں پہنچے، اپنی روٹی نہیں، عوام کے لیے روٹی۔
کیا حکومت نے عدلیہ سے گتھم گتھا ہونے کی ٹھان لی ہے؟ لیکن خودکش حملہ آور پہلے خود مارے جاتے ہیں۔ چلیے، یہ تو بڑے معاملات ہیں اور بڑوں کے معاملات ہیں۔ لیکن ہر سال کی طرح اس بار بھی بسنت اور پتنگ بازی پنجاب میں متنازعہ بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف سیاسی فضاﺅں میں رنگ برنگی پتنگیں اڑ رہی ہیں۔ کچھ سیاسی پتنگ باز دھاتی ڈور استعمال کررہے ہیں، گردنیں کٹنے کا خدشہ ہے۔ راولپنڈی میں برسوں پہلے فرزند راولپنڈی کہلانے والے شیخ رشید پر حملہ ہوچکا ہے۔ اندھی گولیوں کی بوچھاڑ میں شیخ رشید صاف بچ نکلے۔ جاکو راکھے سائیں، مار سکے نہ کوئی۔ شیخ صاحب اگر خوفزدہ ہو کر نہ بھاگتے تو ٹانگ پر خراشیں تک نہ آتیں، لیکن چوہدری نثار کا یہ مطالبہ انفرادی زیادتی ہے کہ شیخ صاحب کی پتلون اٹھا کر دیکھا جائے، خراش بھی آئی ہے یا نہیں۔ شیخ صاحب کی پتلون ان کے مربی پرویز مشرف کی وردی تو نہیں جسے اتارنے کا مطالبہ کیا جاتا تھا او رجنرل صاحب کی ’سی‘ ٹیم کے ایک وزیر جناب رﺅف صدیقی یہ مصرعہ پڑھا کرتے تھے کہ ”کیا چاہتی ہے دیکھنا یہ مجلس عمل“ ہوا یوں کہ وردی کو اپنی کھال کہنے والے کھال سے باہر ہوگئے اور رﺅف صدیقی اور ان کی جماعت نے دوسرے مربی تلاش کرلیے۔ ایک پتنگ کٹ گئی تو نیا مانجھا لگا لیا۔
عدالت نے حکم دیدیا ہے کہ پتنگیں نہیں اڑیں گی۔ گورنر پنجاب جناب سلمان تاثیر، جن کے بارے میں افواہ ہے کہ وہ سلطان راہی اور مصطفی قریشی کی فلمیں بڑے شوق سے دیکھتے ہیں اور کیسٹ جمع کر رکھے ہیں، انہوں نے نعرہ لگایا ہے کہ پتنگیں تو ضرور اڑیں گی۔ بچوں، بزرگوں کے گلے کٹیں تو ان کی بلا سے۔ ادھر مسلم لیگ (ن) کے پرویز رشید نے گرہ لگائی کہ پتنگ اڑائی تو گورنر کو بھی ہتھکڑیاں پہنادیں گے۔ دوسری طرف سے پنجاب کے سینئر وزیر راجا ریاض نے جنرل پرویز کے مقرر کردہ گورنر کی حمایت میں چیلنج کیا کہ کسی میں جرات ہے تو گورنر پنجاب کے ہتھکڑیاں لگا کر دکھائے۔ (ن) لیگ کا کہنا ہے کہ گورنر تو کیا کسی نے گورنر ہاﺅس میں بھی پتنگ اڑائی تو عدالت کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے گرفتار کرلیں گے۔ لیکن گورنر ہاﺅس میں گھسنے کون دے گا؟ پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری جناب جہانگیر بدر نے تو کہہ دیا ہے کہ عدالت کے فیصلے پر عمل کریں گے۔ انہوں نے ایک بڑی اچھی تجویز دی ہے کہ کائیٹ فلائنگ ایسوسی ایشن والے اپنے مقصد سے مخلص ہیں تو کسی کی گردن کٹنے پر اپنا ایک بندہ جیل بھیجنے کی تیاری کرلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بھی سیاسی وجوہات کی بناءپر جیل جاتے رہے ہیں، یہ پتنگ باز سجنا اپنے مقصد کے لیے جیل کاٹیں۔
پتنگ بازی اور اس سے جانی و مالی نقصانات کوئی آج کی بات نہیں۔ یہ مقدمہ مرحوم جسٹس کیانی کے سامنے بھی پیش ہوا تھا او رجناب ایس ایم ظفر نے پتنگ بازوں کی وکالت کی تھی۔ پتنگ بازی اگر ایک کھیل ہے تو اسے کھیل ہی رہنا چاہیے، بے گناہوں کے قتل کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ شوقین حضرات میدانوں میں نکل جائیں اور خوب ایک دوسرے کی پتنگ کاٹیں مگر کسی کا گلا کٹا تو اس کا مقدمہ گورنر سلمان تاثیر اور یوسف صلاح الدین جیسوں کے خلاف درج ہونا چاہیے، اب تو وہ خاتون بھی شرمندہ ہیں جو لہک لہک کر گاتی تھیں کہ ”اَکھ وی لڑانی اے تے گڈی وی اڑانی اے“ کچھ عمر کا تقاصا ہے کہ اب وہ پیچ نہیں لڑاسکتیں۔
بسنت تو ہر سال کی طرح گزر ہی جائے گی لیکن یہ جو سیاسی پیچ لڑ رہے ہیں یہ زیادہ خطرناک ہیں۔ ڈر ہے کہ کوئی اور نہ کانٹی ڈال دے اور پتنگ باز سجنوں کی کٹی پتنگیں فضاﺅں میں ڈولتی نظر آئیں، گلی کے بچے لمبے لمبے بانس اور جھاڑ لیے پیچھے دوڑتے ہوں۔ یہ بچے عوام کی علامت ہیں جو ایک عرصہ سے یونہی دوڑ رہے ہیں اور پتنگیں کوئی اور لوٹ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک و قوم کے تمام مسائل حل ہوگئے، اب صرف پتنگ بازی کا مسئلہ رہ گیا۔ عوام ایک طرف ضروریات زندگی کے لیے لمبی لمبی قطاروں میں لگے ہوئے ہیں اور حکمران پتنگوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ حکمران کہتے ہیں کہ آئین کی بات ہی نہ کرو، محترمہ شہید ہوئی ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ ”ہتھکڑی کے خوف سے کچھ لوگ ڈر جائیں گے کیا؟“ سلمان تاثیر میں جرات ہے تو مال روڈ پر اپنے قصر سے باہر نکل کر پتنگ اڑا کر دکھائیں۔ اقبال نے کہا ہے ” لڑادے ممولے کو شہباز سے“۔
اطہر ہاشمی
عدالت عظمیٰ سے وزیراعظم ہاﺅس تک صرف ڈیڑھ منٹ کا سفرہے مگر اس کے لیے ایک یوٹرن لینا پڑتاہے۔ عجیب بات ہے کہ اس مختصر ترین سفرمیں ایک نہیں متعدد یوٹرن آتے رہے ہیں اورباربارآتے رہے ہیں۔ اب ایک یوٹرن حکومت نے لیاہے۔ منگل کی شب وزیراعظم ٹرن لے کرعدالت عظمیٰ میں دیے گئے عشائیہ میں پہنچ گئے تھے اور اگلے دن جناب چیف جسٹس ایک موڑمڑ کر ایوان وزیراعظم پہنچ گئے۔ اس کے نتیجے میں قوم کے سامنے ایک نیا موڑ آگیاہے لیکن یہ موڑ اس سے بہترہے جس میں عدلیہ کا رخ موڑا یا بازو مروڑا جارہاتھا۔ عشائیہ سے کچھ ہی پہلے تک جناب وزیراعظم قومی اسمبلی میں کچھ اور کہہ رہے تھے۔
قصرصدارت بھی عدالت عظمیٰ سے زیادہ دورنہیں ہے۔ لیکن آئین کی بالادستی یافردکی دراز دستی نے مختصر فاصلوںکوبھی طول دے دیاہے اور راستے میں اسپیڈبریکر بھی بے شمار ہیں۔ یہ دکھائی تو نہیں دیتے اور ان کا پتا صرف اس وقت چلتاہے جب کوئی رواں دواں گاڑی اچانک اچھل جاتی ہے اور گاڑی میں سکون سے سفرکرنے والے مسافرکا سرڈیش بورڈ سے جاٹکراتاہے۔ تب یاتو اسپیڈٹوٹ جاتی ہے یا مسافر ہی اچھل کر باہرآجاتاہے۔
ابھی دوسال بھی نہیں ہوئے کہ اسی قصر صدارت میں ایک باوردی جنرل نشہ
صہبا میں خودفراموشی کے علاوہ خودپسندی ‘ خودنمائی اورخودی کے نشہ سے بھی سرشاریگانہ چنگیزی کے شعرکی تفسیربنابیٹھا تھا کہ
خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا
جنرل صاحب نے ماضی کی روایات کو برقراررکھتے ہوئے صدرکے منصب پربھی قبضہ کررکھا تھا اورہم چوما دیگرے نیست کا نعرہ مستانہ بلند کرتے رہتے تھے۔ سب کو زیرکرنے کے بعد پڑوس میں موجود عدالت عظمیٰ کی عمارت پر نظرپڑی توخیال آیا کہ یہ علاقہ اب تک غیرمفتوحہ ہے۔ عدالتوں کو فتح کرنے کاکام تو ایک بے وردی حکمرانی غلام محمد نے شروع کردیاتھاان کے منصب میں ”جنرل “ کا لفظ موجودتھا‘ شاید اسی کا اثر تھا یا جنرل ایوب خان کی منصوبہ بندی کا کہ پارلیمنٹ توڑ‘ تاڑکے حکومت کو برطرف کرکے عدالت سے نظریہ ضرورت کی سند حاصل کرلی۔ ضرورت گورنر جنرل غلام محمدکی تھی اور نظریہ جسٹس منیرکا۔ اس کی داد تو دینا پڑے گی کہ اس طرح جسٹس منیر عدلیہ کی تاریخ میں امرہوگئے ورنہ تو کتنے ہی جج آئے اورگئے ‘ ایسی شہرت کسی نے نہ پائی اوران کے نام بھی یاد نہ ہوں گے۔
جسٹس منیر کے دامن سے تو منفی شہرت وابستہ ہے لیکن عرصہ بعد پھر ایک شہرت افتخار محمد چوہدری کے حصہ میں آئی جس نے ان کو ہیروبنادیا۔ اس میں بڑا حصہ جنرل پرویزمشرف کا بھی ہے۔ انہوں نے عدلیہ کو بھی کارگل سمجھا اور جی ایچ کیو میں اپنے صدارتی کیمپ میں چیف جسٹس کو بلابھیجا۔ لیکن یہاں بھی بلندی سے اترنا پڑا اور پھرپسپائی کا یہ سفر ۸۱اگست ۸۰۰۲ءتک رکانہیں۔ افتخار محمد چوہدری کی ایک ”نہیں“ نے سارا منظر بدل دیا اور وہ جو سب کو مکے دکھایاکرتے تھے‘ اب راندہ درگاہ ہیں۔ وہ جو کہتے تھے کہ بے نظیر اور نوازشریف کا کردار سیاست سے ختم ہوگیا‘ وہ کبھی واپس نہ آسکیں گے‘ وہ دونوں واپس آگئے بے نظیرختم ہوگئیں لیکن سیاست میں ان کا کردار ختم نہیں ہوا۔ رام چندرجی کو جب ان کی سوتیلی ماں کیکئی کے تریا چلتّرکی وجہ سے بن باس کاٹنا پڑا تو اسی کیکئی کے بیٹے نے ‘جسے ماں تخت وتاج کا وارث بنانا چاہتی تھی بڑے بھائی رام چندرکی کھڑاویں اتروالی تھیں اور کرسی اقتدارپر خودبیٹھنے کے بجائے رام چندرکے جوتے رکھ کر حکومت چلارہاتھا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ کانٹوں بھرے جنگل میں جانے والے بھائی کے جوتے اترواکر اسے پا برہنہ کیوں کیا لیکن ہندوﺅں کی مذہبی تاریخ یہی کہتی ہے۔ اس زمانے میں تصویروں کا رواج نہیں تھا ورنہ تو رام چندرکا سوتیلا بھائی جوتوں کے بجائے تصویر رکھ کرکام چلاتا۔ اب تصویریں عام ہیں۔ اقوام متحدہ میں خطاب کرنا ہوتو بھی پہلے تصویر سامنے رکھی جاتی ہے۔ہمارے موجودہ صدرجناب زرداری کو تو خواب میں ہدایات بھی ملتی رہتی ہیں لیکن ان کے جو اقدامات ہیں انہیں دیکھ کر کوئی بھی یقین نہیں کرے گا کہ یہ محترمہ بے نظیرکی ہدایات ہیں‘ وہ بہرحال ایک سمجھدار خاتون تھیں اور سیاست بھی سیکھ گئی تھیں اس خاردارکی کٹھنائیوں کی وجہ سے انہوں نے اپنے شوہر کو سیاست سے دورہی رکھالیکن تقدیرسے کون لڑسکتاہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ بدترین جمہوریت آمریت سے بہترہوتی ہے۔ درست ہے ‘ ہمیں آمریت سے نجات کے بعد ایسی ہی جمہوریت ملی ہے۔ کسی نے کہابھی ہے کہ مزید 3 سال تک ایسی ہی جمہوریت چلتی رہی تو عوام پرانے کفن چورکی تعریف کرنے پر مجبورہوجائیں گے۔ حبس بڑھ جائے تو لوکی دعاکی جانے لگتی ہے۔ جناب پرویزمشرف نے پوچھا ہے کہ عوام کو ضرورت ہے تو کیا میں واپس آجاﺅں ؟ خداکرے کہ وہ واپس آجائیں‘ ان پر بہت سے قرض واجب ہیں اب تو وہ کسی چیف جسٹس کو طلب کرکے استعفیٰ نہیں مانگ سکیں گے البتہ یہ ممکن ہے کہ چیف جسٹس انہیں خود طلب کرلیں۔
جناب چیف جسٹس جب صدر پرویزکے کیمپ آفس میں جنرلوں کے گھیرے سے باہرآئے تھے تو اس وقت وہ قوم کے ہیروبن چکے تھے۔ اور انہیں فتح کرنے والے خائب وخاسرتھے۔ پھرجو ہوا وہ سب نے دیکھا لیکن نوازشریف کے جانشینوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ایوان صدر میں اب تک پرویز مشرف کی بدروح چکرارہی ہے۔ شہید بی بی بے نظیرکی روح جناب زرداری کو جو مشورے دیتی ہے‘ معلوم ہوتاہے ان پر دھیان نہیں دیاجاتا۔ وہ بھی عدلیہ سے پنگالے بیٹھے اور جلد ہی ثابت ہوگیاکہ اڑنا نہیں جانتے۔ صرف چند دن کی گرما گرمی پیدا کرنے کے بعد آئین کے سامنے سرجھکانا پڑا اور اپنا جاری کردہ حکم نامہ واپس لینا پڑا۔ وزیراعظم نے اسمبلی میں تو خوب گرما گرمی دکھائی لیکن جلد ہی ان پر حقیقت واضح ہوگئی وہ بے چارے بہت دنوں سے فائربریگیڈ کا کام کررہے ہیں۔ وہ جو ایک بی بی پیپلزپارٹی کی سیکریٹری اطلاعات ہیں فوزیہ وہاب ‘ ان کی کچھ نہ پوچھیے ۔ صرف اتنا ہی کہاجاسکتاہے کہ جو بات کی خداکی قسم لاجواب کی۔ دودن پہلے بڑے طمطراق سے فرمارہی تھیں کہ ججوں کے حوالے سے صدرکا نوٹیفکیشن واپس لینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسی ہی کچھ باتیں موصوفہ نے این آر او کے حوالے سے کہی تھیں‘ اب دیکھیے وہ کیا کہتی ہیں لیکن ہمیں اعتراض تو ٹی وی چینلز پر ہے کہ وہ آئین اورقانون جیسے سنجیدہ معاملات میں بھی فوزیہ بی بی کی رائے طلب کرکے انہیں دشواری میں مبتلا کردیتے ہیں۔
چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ایک بارپھر ڈیڑھ منٹ کا فاصلہ طے کیا اور وزیراعظم ہاﺅس جاکرسید صاحب سے ملاقات کی۔ ان دونوں کے درمیان بی بی شہید کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔ شاید کچھ کہہ بھی رہی ہو۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ صدر زرداری کا حکم نامہ منسوخ کردیاگیا اورسوپیازوں وغیرہ کی نوبت آنے سے پہلے معاملہ نمٹ گیا۔ فارسی میں کہتے ہیں کہ :
ہرچہ داناکند‘ کندناداں‘لیک بعد ازخرابی ¿ بسیار
لیکن اردومیں کہتے ہیں کہ نانی نے خصم کیا‘ براکیا۔ کرکے چھوڑ دیا اور براکیا۔ قدم قدم پر وہی ہورہا ہے ۔ بھوربن معاہدے سے لے کر عدلیہ سے نئے پنگے تک۔ آخر یہ حکمران چاہتے کیاہیں۔ کیوں اپنے ہی پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اگر آئین کے مطابق پہلے ہی چیف جسٹس سے مشاورت کرکے فیصلے کیے ہوتے تو نئی شرمندگی کا سامنا تو نہ ہوتا ۔ لیکن لوگ کہتے ہیں کہ حکمرانوں کو اس کی پروا نہیں۔ بچپن کی بات دماغ میں جم گئی ہے کہ جس نے کی بے حیائی‘ اس نے کھائی دودھ ملائی۔ لیکن عوام کے لیے تو چھاچھ بھی نہیں بچا۔
ڈیڑھ منت کا یہ راستہ کئی دن میں طے ہوگیا۔ جب راستے میں کئی یوٹرن ہوں‘ جگہ جگہ اسپیڈ بریکر لگے ہوں تو مختصرسا فاصلہ بھی طویل ہوجاتاہے۔
شاہنواز فاروقی
اسلام میں شہادت کی عظمت یہ ہے کہ خود سردارِ انبیاءحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آرزو کی ہے۔ شہادت کی اس عظمت سے جہاد اور مجاہد کی عظمت نمودار ہوتی ہے۔ مجاہد کی عظمت بیان کرتے ہوئے اقبال نے کیا خوب کہا ہے ۔
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
اقبال کے ان شعروں میں مجاہدوں کی ”پراسراریت“ یہ ہے کہ اگرچہ وہ زمین پر چلتے پھرتے نظر آتے ہیں مگر ان کا تعلق زمین سے زیادہ آسمان کے ساتھ ہے۔ وہ انسان ہیں مگر فرشتوں سے بہتر ہیں۔ ان کے ذوق خدائی کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جو ارادہ کرلیتے ہیں وہ پورا ہوکر رہتا ہے۔ وہ صحراﺅں اور دریاﺅں پر حکم چلاتے ہیں اور پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی بن جاتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں یہ شاعرانہ باتیں ہیں۔ بھلا انسان کی ہیبت سے کبھی پہاڑ بھی رائی بنتے ہیں! مگر ہم دیکھ چکے کہ مجاہدین نے ہماری آنکھوں کے سامنے ”سوویت یونین“ کو محدود کرکے صرف ”روس“ بنا دیا۔ یہی پہاڑ کو رائی بنانے کا عمل ہے۔ کیا آپ کو محسوس نہیں ہورہا ہے کہ افغانستان میں امریکا ”سپرپاور“ نہیں ہے، صرف ایک عام ملک ہے۔ یہ پہاڑ کو رائی بنانے کی ایک اور مثال ہے۔ لیکن ایک جانب مجاہدین کا یہ عظیم تصور ہے اور دوسری جانب پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا تصورِ مجاہد۔ لیکن ہماری اسٹیبلشمنٹ کا تصورِ مجاہد کیا ہے؟ آئیے نصرت مرزا کی زبان سے سنتے ہیں جنہوں نے ۱۱فروری ۰۱۰۲ءکے روز جنگ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا ہے:
”نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکی پاکستان میں جہادی تنظیموں پر کریک ڈاﺅن کے لیے دباﺅ ڈال رہے تھے…. آئی ایس آئی چیف نے امریکی نمائندوں خصوصاً رچرڈ آرمٹیج کو سمجھایا کہ ایک دم کریک ڈاﺅن سے شدید ردعمل ہوگا، ان کا آہستہ آہستہ سمجھایا جاسکتا ہے…. ظاہر ہے تنظیمیں ایک مقصد کے لیے کھڑی کی جاتی ہیں۔ انہیں کسی مشین کی طرح کھول کر رکھا نہیں جا سکتا۔ وہ انسانوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ان کو ایک دفعہ چارج کرکے ڈسچارج کرنے کے لیے وقت اور دوسری تھیوری دینے کی ضرورت ہوتی ہے…. پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کافی حد تک (جہادی تنظیموں کی پیدا کردہ) صورت ِحال پر قابو پالیا ہے اور بہت سے سوراخ بند کردیئے ہیں۔ باقی بچے ہوئے سوراخوں پر سیسہ ڈال کر انہیں بند کررہے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ…. وہ ایسی حکمت ِعملی وضع کرے جو ان تنظیموں کو عزت و احترام کے ساتھ معاشرے میں بسائے اور وہ ان کی طاقت کو مثبت کاموں میں لگانے کی کوشش کرے۔“
ان سطور کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ مجاہدین کو کرائے کے فوجی اور بھاڑے کے ٹٹو سمجھتی ہے جنہیں جب چاہے کام پر رکھا اور جب چاہے ”جاب“ سے برطرف کیا جا سکتا ہے۔ ان سطور سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے لیے جہاد کوئی ”عقیدہ“ نہیں ہے بلکہ ایک ”تھیوری“ ہے جو امریکا کی ہدایت پر لپیٹ کر رکھی جاسکتی ہے اور اس کی جگہ کوئی نئی ”تھیوری“ وضع کی جاسکتی ہے۔ لکھنے کو تو نصرت مرزا صاحب نے یہ لکھا ہے کہ انسان مشین نہیں ہوتے، لیکن عملاً دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ ہماری ایجنسیاں مجاہدین کو انسان کے بجائے ”روبوٹس“ سمجھتی ہیں جن میں جب چاہے جہاد کا ”پروگرام“ داخل کیا جاسکتا ہے اور جب چاہے کوئی اور تھیوری ”فیڈ“ کی جاسکتی ہے۔ جہادی تنظیموں کو معاشرے میں عزت کے ساتھ بسانے کے تصور سے خیال آتا ہے کہ جیسے جہادی تنظیمیں ”بیوائیں“ ہیں۔ چونکہ ان کا پہلا شوہر مرگیا ہے اس لیے اب ”ذمہ داروں“ کو ان کی دوسری شادی کی فکر ہے تاکہ وہ معاشرے میں نصرت مرزا کے الفاظ میں باعزت طریقے سے رہ سکیں۔ اس تجزیے کو دیکھا جائے تو اس میں نہ قرآن کے تصورِ جہاد اور تصورِ مجاہد کا کوئی پاس ہے، نہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا کوئی احترام ہے۔ اس تجزیے میں صرف ایک چیز اہم ہے‘ دنیا اور اس کا (بھی) پست تصور۔ مگر سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مجاہدین کے بارے میں جو کچھ سمجھتی ہے اس کی وجہ کیا ہے؟
زندگی کا اصول ہے کہ انسان جیسا خود ہوتا ہے دوسروں کو بھی ویسا ہی تصور کرتا ہے۔ بے ایمان انسان کو ساری دنیا بے ایمان نظر آتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ چونکہ خود کرائے کی فوجی ہے اس لیے وہ مجاہدین کو بھی کرائے کا فوجی سمجھتی ہے۔ چونکہ اس کا کوئی ”مستقل“ عقیدہ نہیں اس لیے اس کا خیال ہے کہ مجاہدین کے لیے بھی جہاد کو مستقل عقیدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے نزدیک جہاد ایک فوجی حربہ ہے اور بس۔ اور فوجی حربے کو کسی بھی وقت بدلا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی یہ ذہنیت اسلام اور فکر ِاقبال کی ضد ہے، اس سے جہادی عناصر ہی کیا، صاحب ِعزت سیکولر فرد میں بھی شدید ردعمل پیدا ہو سکتا ہے۔
انسانی تاریخ میں کیسے کیسے باطل نظریات ابھرے ہیں مگر ان کے ماننے والوں نے ہر قیمت پر ان باطل نظریات کو سینے سے لگائے رکھا ہے۔ کسی کو سوشلزم سے محبت تھی اور اس نے سوشلزم کے ساتھ ستّر سال گزار دئیے۔ کسی کو سیکولر ازم سے اُنس ہے تو وہ ایک صدی سے اس کے ساتھ زندہ ہے۔ دنیا میں کروڑوں انسان ہیں جو خود کو قوم پرست کہتے ہیں اور وہ کسی قیمت پر قوم پرستی سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن ایک ہم ہیں، ہمارے پاس ”حق“ ہے مگر امریکا کا دباﺅ آجائے تو ہم اپنے حق کو بھی بدل ڈالتے ہیں۔ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟؟
اگرچہ میرا پہلا جوتا اس وقت چوری ہوا جب میرا شمار طالبان ِجامعہ میں ہوتا تھا۔ خالدہ انتہائی لائق اور اچھی کلاس فیلو تھی۔ سنتےآئےہیں کہ اچھےلوگوں کودنیا سےجلدی اُٹھالیا جاتا ہے۔ تب جب سمسٹر کی چھٹیاں تھیں تو ایک اور کلاس فیلو ثمینہ امتیاز سےفون پر رابطہ ہوا۔ برق رفتار رابطہ کا ذریعہ موبائل فون اس وقت عام نہیں تھا۔ جب پتا چلا تو مرحومہ کےبھائی کےساتھ ڈیفنس قبرستان میں خالدہ کی قبر پر گیا۔ واپسی پران کےگھر واقع پی سی ایچ ایس کے قریب ایک مسجد میں نماز پڑھنےگیا۔ باہر نکلا تو جوتے غائب تھے۔
کل عشاءکی نماز میں میرےجوتے پھرچوری ہوئے۔ اس سےقبل 29جنوری جمعہ کےدن اسی مسجد سے میرے پشاوری چپل چوری ہوئےتھے۔ ایک مہینہ قبل ہی چارسدہ سےلایا تھا۔ اس کےلئےخصوصی طور پراپنےگائوں سےچارسدہ گیا۔ ایک دوست نےکہا میرےلئےنہیں لایا تھا اس لئےتمہارے بھی چوری ہوگئے۔
کل مسجد سےپلٹنےکےبعد جب علی خان صاحب کو جوتا چوری کی خبر دی تو انہوں نےکہا کہ ایسا ہوتا ہے۔ میں نےکہا زمانہ خراب ہوگیا۔ مسجد کےباہر تک جوتےنہیں چھوڑتے۔ نمازی جوتےاندر لےجانےپرمجبور ہیں۔ وہ مسکرائےاور پھر کہنےلگے؛
اپنےجوتوں سے رہیں سارےنمازی ہوشیار
اِک بزرگ آتےہیں مسجد میں خضر کی صورت
علی خان صاحب نے اس کم علم کو یہ بھی بتایا کہ یہ شعرمولانا الطاف حسین حالی کا ہے۔
کہنےلگے اگرچہ مولانا کےنام میں حالی ہی ہے‘ لیکن وہ ہر گز حال ہی میں نہیں گزرےہیں۔ 1915ءمیں حالی صاحب اس دنیا میں نہیں رہےتھےکیوں کہ اس سے پچھلےسال کےآخری دن وہ خالق حقیقی سےجاملےتھے۔
۲۰۰۲ء میں جب پہلی دفعہ میرا جوتاچوری ہوا تھا تو اگرچہ مجھےالطاف حسین حالی کےمشورےکا علم نہیں تھا پھر بھی ہوشیار رہنےلگا تھا۔ ایک دفعہ فضل محمد بھائی کےساتھ مسجد گیا۔ میں نےاپنےجوتےآگےرکھے۔ فضل بھائی نے پوری تقریر جھاڑ دی۔ جماعت ہوچکی تھی ‘غالبا ً عصر کا وقت تھا۔ اپنی انفرادی نماز پڑھ کر پیچھے پلٹے تو فضل بھائی کے جوتے غائب تھے۔ ایک دن قبل ہی باٹا سےخریدے تھے۔ ان کی تقریر سن کر دل تو نہیں کررہاتھا کہ ان کےکام آوں لیکن گیا او رقریبی دکان سےہوائی چپل لاکر دئیے۔
درمیان میں8سے10سال گزرےتو میں نےجوتےباہر رکھنا شروع کردیئے‘ لیکن اب میں حالی صاحب کےمشورےکو کبھی نہیں بھولوں گا۔
یا رسول اللہ !دامن عمل تار تار ہے اور نافرمانی کے اتنے چھید ہیں کہ ہربھیدپر پردہ ڈالنے والا میرا رب ہم سب سے ناراض ہے…وہی رب جس نے آپ کو اپنا محبوب بنا کر تذکیہٴ نفس کے لیے ہمارے درمیان ہادی لقب عطا کر کے بھیجا…آقا کریم!اُس کی بارگاہ میں سفارش فرمادیجیے اورگذارش کردیجیے کہ وہ ہم خطاکاروں کو اپنے رحم کی چھایا میں پناہ دیدے، گناہوں کی تمازت نے تواحساسِ گناہ کوبھی جھلسا کے رکھ دیا ہے اور اب تو یہ حال ہے کہ اچھائی اور برائی میں کوئی فرق ہی محسوس نہیں ہوتا…آپ نے تو یتیموں کے سر پہ ہاتھ رکھنے کا حکم دیا تھا مگر ہمیں دیکھیے!اور اپنے نام لیواؤں کی شقاوت ملاحظہ فرمائیے کہ ہم نفرت اور عقیدوں کے خنجر سے قتل و غارت کے مزے لوٹ کر یتیموں ہی کو جنم دے رہے ہیں…اے ختمی مرتبت! آج آپ کی ختم نبوت کی حفاظت کے لیے اگر آپ کا کوئی عاشق منکرین ختم نبوت کے خلاف آواز بھی بلند کرتا ہے تو اُسے انتہا پسند، جابر اور ظالم کہہ کر اُس کے ایمان ہی پر سوالیہ نشان لگادیے جاتے ہیں، آپ ہی فرمائیے سرکار! کوئی آپ کو خاتم النبیین تسلیم ہی نہ کرے اور اُس کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے پر تُلا رہے تو آپ کے پروانے کیا کریں؟صاحب یمامہ ہَوزہ نے جب یہ کہا تھا کہ میں ”محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے لیے تیار ہوں، بس وہ مجھے اپنے کاموں میں شریک کرلیں اوراپنی نبوت میں حصے دار بنالیں“ تو پیارے آقا! میں غلط تو نہیں کہہ رہا نا کہ آپ کا رخِ انور جلال سے سرخ ہوگیا تھا…سیدی، مُرشدی!میں آپ پر بہتان کیسے باندھ سکتا ہوں ، اے سراہے گئے محمود! اپنے کسی بھی خیال پر آپ کے قول پاک کوگواہ بنانے کی سزااِس سے کم نہیں کہ میں خود ہی اپنا راستہ جہنم اختیار کرلوں لہٰذااے سب کے بعد آنے والے میرے پیارے عاقب!آپ ہی تو ختم نبوت کے پہلے محافظ ہیں اور آپ نے اپنے قاصد ِ محترم حضرت سلیط بن عمرو عامری
سے یہ فرمایا کہ” اگروہ زمین کا ایک ٹکڑابھی مجھ سے طلب کرے گاتو میں اُسے نہ دوں گا، وہ خود بھی تباہ ہوگا اور جو کچھ اُس کے ہاتھ میں ہے وہ بھی تباہ ہوگا“ اور یقینا ایسا ہی ہواتو پھر ہم عشاق کے لیے آپ کا یہ جلال کیاسنت نہیں؟ کہ جسے ہم ہرجھوٹے مدعی نبوت کے خلاف اختیار کریں؟ اور ایسا کرنے پر ہمیں کنویں کا وہ ٹرٹراتا مینڈک کیوں کہا جاتا ہے جو باہر نکل کر دنیا دیکھنے کو تیار ہی نہیں، ہم ایسوں کوکیسے سمجھائیں سرکارکہ اسباقِ عشق پڑھ کر آخرت بسانے کے لیے تسلیم و رضا کی دنیا کا مسافر بننا پڑتا ہے جہاں صرف ایک ہی بولی ، بولی جاتی ہے …عشق کی بولی!…
جب وقت کڑا تھا تو معتبرین، معتقدین کے درمیان یہ جملے ادا کیے کرتے تھے کہ ”ہم اللہ کے سوا اور کسی کو جواب دہ نہیں“ اور اب اِن معززین کا یہ حال ہے کہ بلا ٹلتے ہی سراُٹھا کر کہتے ہیں کہ ”ہم آئین کے بعد اللہ کو جواب دہ ہیں“…اے میرے مصدق! مجھے بتائیے تو سہی کہ ”اللہ کے بعد“ جیسے الفاظ موحد پرستی کا دعویٰ کرنے والے کسی فرد کی زبان سے ادا ہی کیسے ہوجاتے ہیں؟ فکر کی اِس پراگندہ لہر کو لفظ بننے سے پہلے ہی زبان اپنے آپ کو اُن پہرے دار دانتوں کے سپرد کیوں نہیں کردیتی جو اُسے اِس جرم میں چپا ہی ڈالیں…اختیارکے ساتھ تواضع نہ ہوتو غرور کے چھینٹے سفید پوش ایمان پر داغ ڈال ہی دیتے ہیں…آئین کے بعد اللہ …اُف! مجھ گناہ گار کے لیے تو یہ تصور بھی محال ہے ،جو کچھ ہے رب کے بعد ہے ، رب سے پہلے تو میرے آقا آپ بھی نہیں، وہ کہ جن پر میری ہر سانس نثار ، اے میرے سرکار آپ بھی نہیں! اور وہ جو خدا کا کلام ہے ، اُس کا بھی توخدا کے بعد ہی نام ہے …پھر یہ آئین کیا ہے جو ایک منصف کے بقول ”خدا سے بھی پہلے ہے “، اب جس کے جملے ہی ناانصافی کی شبیہ بن کر ابھرنے لگے ہوں، اُس سے انصاف کی اُمید کیسے لگائیں؟ جس کے تین گھنٹے تین منصفین کی تقرری کے لیے گفت و شنید کااثاثہ بن جائیں اور جو ایک دفعہ بھی یہ نہ پوچھ سکے کہ ”میں نے شَکر کی قیمت40روپے مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا، اِس پر عمل درآمد کیوں نہ ہوا؟“اُس کی برہمیاں، تبصرے اور ریمارکس پہاڑ کی چوٹی پرکسی کامیاب کوہِ پیما کی وہ پکار لگتے ہیں۔
آج اگر پاکستان اپنا نام امریکا رکھ لے تو ”حُسین“ کے ساتھ اپنا تعلق جوڑنے کی ناکام کوشش کرنے والے منافق اوبامہ کو بھی تکلیف ہوگی…برطانیہ چلا اٹھے گا اگر فلسطین اپنے آپ کو انگلستان کہنے لگے، اِن سب کا غصہ اور احتجاج ، انسانیت اور انسانی اصولوں کے پلڑے میں انصاف کے توازن کے مطابق بجا ہے لیکن مسلمانوں کی شناخت پر اگر کوئی غیر مسلم حملہ کر کے اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے پر مصر رہے تو شناخت میں عدم ملاوٹ کے یہ علمبردار اُس ڈاکو کے سب سے بڑے محافظ بن جاتے ہیں اور ختم نبوت کے محافظین کو جاہل، کم علم اور پُرتشدد فکر کا مالک قرار دے دیتے ہیں…اے گواہی دینے والے میرے آقا مشہود! ہم کیاکریں؟جال تو اغیار بُنتے ہیں مگر اُسے پھینکتے آپ کے اُمتی ہیں،نشاط و فرحت اور طاقت و برتری کی سڑاند نے ہم میں سے بعضوں کے ہاتھوں میں وہ تیز دھار خنجر تھمادیے ہیں جنہیں حق سمجھ کر ہم اُس کی دھار سے عقیدت کا گلا عقیدہ سمجھ کر کاٹ رہے ہیں…
اے نجی اللہ!صدیق اکبر
کی نسبت سے ایک مظلوم صدیقی، آپ کی عافیہ، لجّا کے درپن کے سامنے روز ہی اپنی بے حرمتی کا تماشا آنسوؤں کے قطروں سے دیکھتی ہے اور اُس کی لاج بچانے کے ذمے دار اپنی سوختہ آبرو کی راکھ میں ساکھ بچانے کے اشلوک پڑھ رہے ہیں…اے ہمارے مامون! اپنی بے بس عافیہ کو اب آپ ہی بچالیجیے کہ آپ کے ”غریب دین“ میں (آپ ہی نے فرمایا تھا کہ اسلام ایک دن غریب ہوجائے گا)اب ایمان کا ایساکوئی امیر نہیں بچا کہ جسے یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں ایک مسلمان عورت کی برہنہ تلاشی کے قصے سنائے جاتے ہوں اور اُس کا لہو کھول اٹھتا ہو…البتہ چچ چچ اور ”بڑے افسوس کی بات ہے “ جیسی سرگوشیاں ماحول کا ایک چکر لگا کر ہوا میں ضرور تحلیل ہوجاتی ہیں، بس اِس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا…اے پسند فرمائے گئے مجتبیٰ!ہمارے لیے ہدایت کی التجا فرمایے تا کہ اللہ جل مجدُہ ہم سیاہ کاروں کو بھی پسند فرمالے ،ہم جانتے ہیں کہ وہ روٹھا ہوا ہے لیکن اِس کے باوجود خمیر کی اکڑ نے ہاتھوں کو اِس طرح سے جکڑ رکھا ہے کہ اجتماعی توبہ میں بھی گویا شان گھٹتی نظر آتی ہے اور بارگاہ میں لجاجت سے ہاتھ اٹھتے ہی نہیں …اب توہم وہ ہیں جو استکبار سے بہت قریب اور استغفار سے بہت دور ہیں، ہم تو وہ ہیں جنہوں نے دنیا کے چند روزہ میلے میں نشاط کامستقل جھولا لگا کر یہ گمان کر لیا ہے کہ شایدیہی آسودگی کی انتہا ہے…توپھراے درخواستوں کے قبول کرنے والے مجیب! ہمیں سنبھالیے، گمراہی کی گھاٹیاں منہ کھولے راہ تک رہی ہیں اور ہم آنکھ میں حیاتِ نظر کی حقیقت کے باوجودبصد شوق گرنے کے لیے تیار ہیں…!
اے خبر رکھنے والے حفّی! ہم بیکسوں کی خبر تو لیجیے، دیکھیے کہ ہر شے میں سے برکت اٹھتی ہی جارہی ہے ، سکون و اطمینا ن کا کہیں نام و نشان تک نہیں،جن پہ تکیہ تھا وہ بھی اب بدلتے جارہے ہیں،کیسا منظر ہے کہ ہر فرد کو اپنی ہی پڑی ہے ، کوئی کسی کا پرسانِ حال نہیں،اب یہاں اصولوں کے نہیں فتح و شکست کے سکے چلتے ہیں…جب وقت کڑا تھا تو معتبرین، معتقدین کے درمیان یہ جملے ادا کیے کرتے تھے کہ ”ہم اللہ کے سوا اور کسی کو جواب دہ نہیں“ اور اب اِن معززین کا یہ حال ہے کہ بلا ٹلتے ہی سراُٹھا کر کہتے ہیں کہ ”ہم آئین کے بعد اللہ کو جواب دہ ہیں“…اے میرے مصدق! مجھے بتائیے تو سہی کہ ”اللہ کے بعد“ جیسے الفاظ موحد پرستی کا دعویٰ کرنے والے کسی فرد کی زبان سے ادا ہی کیسے ہوجاتے ہیں؟ فکر کی اِس پراگندہ لہر کو لفظ بننے سے پہلے ہی زبان اپنے آپ کو اُن پہرے دار دانتوں کے سپرد کیوں نہیں کردیتی جو اُسے اِس جرم میں چپا ہی ڈالیں…اختیارکے ساتھ تواضع نہ ہوتو غرور کے چھینٹے سفید پوش ایمان پر داغ ڈال ہی دیتے ہیں…آئین کے بعد اللہ …اُف! مجھ گناہ گار کے لیے تو یہ تصور بھی محال ہے ،جو کچھ ہے رب کے بعد ہے ، رب سے پہلے تو میرے آقا آپ بھی نہیں، وہ کہ جن پر میری ہر سانس نثار ، اے میرے سرکار آپ بھی نہیں! اور وہ جو خدا کا کلام ہے ، اُس کا بھی توخدا کے بعد ہی نام ہے …پھر یہ آئین کیا ہے جو ایک منصف کے بقول ”خدا سے بھی پہلے ہے “، اب جس کے جملے ہی ناانصافی کی شبیہ بن کر ابھرنے لگے ہوں، اُس سے انصاف کی اُمید کیسے لگائیں؟ جس کے تین گھنٹے تین منصفین کی تقرری کے لیے گفت و شنید کااثاثہ بن جائیں اور جو ایک دفعہ بھی یہ نہ پوچھ سکے کہ ”میں نے شَکر کی قیمت40روپے مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا، اِس پر عمل درآمد کیوں نہ ہوا؟“اُس کی برہمیاں، تبصرے اور ریمارکس پہاڑ کی چوٹی پرکسی کامیاب کوہِ پیما کی وہ پکار لگتے ہیں۔
جس کی گونج پلٹ کر صرف اُسی کو سنائی دیتی ہو…اے خوشخبری دینے والے بشیر! کوئی خوشخبری سنائیے،دل بیٹھا جارہا ہے، عقل پرستوں کے تصادم سے نئی فکر کی چمکتی بجلیاں ڈرائے دے رہی ہیں،کہیں بہت برا نہ ہوجائے ،ایک بار ہم ناسمجھوں کو بتادیجیے نا کہ اللہ کو کیسے راضی کریں…اے کامل ! ہمارے اردگرد ہرطاقت ور جسے اپنی حکومت پر ناز ہیتیار بیمھا ہے کہ آج نہیں تو کل ہمیں تکلیف ضرور پہنچائے گا، بس آپ باری تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش فرما کر ہمیں یہ شعور عطا کرادیجیے کہ ہم ایک بار یہ فیصلہ کر ہی لیں کہ ہمارے لیے وہ درد اہم ہے یا درد پہنچانے والا ظالم…تاکہ اِن میں سے کسی کو بھی ”دور“ کرنے کا فیصلہ آسان ہوجائے۔۔۔!
ایک ایسے وقت میں جب بھارتی وزیر اعظم اپنے تین روزہ غیر معمولی دورے پر سعودی عرب میں ایک اہم اسلامی ملک کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں‘ امریکی میڈیا پاکستان کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی تیاری کے ضمن میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے جو بظاہر امریکی لابی کی محنت اور امریکا میں پاکستان کے مفادات کے نام نہاد نگرانوں کے کام کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ امریکی میگزین نیوزویک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مکمل طور پر پاکستان منتقل کرنے کے لیے لشکر طیبہ کو ”نئی القاعدہ“ قرار دے کر واویلا شروع کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف مصروف عمل جہادی تنظیم دراصل عالمی ایجنڈا رکھتی ہے اور یہ اپنی تکنیکی مہارت اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کی آشیر واد کے سبب القاعدہ سے زیادہ خطرناک بن چکی ہے۔ اہم پالیسی ساز میگزین ”نیوزویک“ لکھتا ہے کہ ”ایک ایسے وقت میں جب امریکا کی توجہ پاک افغان بارڈر پر موجود القاعدہ کی اصل قیادت کو شکار کرنے پر مرکوز ہے‘ ایک کم معروف اسلامی عسکری تنظیم روئے زمین پر ایک خطرناک دہشت گرد مرکز کے طور پر سامنے آئی ہے۔“میگزین لکھتا ہے کہ ”لشکر طیبہ گزشتہ15برس سے بھارتی مفادات خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو نشانہ بنارہی تھی لیکن مغربی اور بھارتی انٹیلی جنس ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تنظیم اب غیر ملکیوں پر حملے کرنے اور اپنی پہنچ عالمی سطح تک بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ گروہ بھارت کے باہر بھی تباہ کن حملے کرنے کی صلاحیت رکھتاہے“میگزین کے تازہ شمارے کی ٹائٹل اسٹوری میں کئی مقامات پر ”خطرناک“ لشکر طیبہ کا تعلق پاکستانی فوج سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میگزین کے مطابق”بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک لشکرطیبہ اپنی فنی مہارت‘ عالمی سطح پر بھرتی اور فنڈ نگ نیٹ ورک اور پاکستانی حکومت میں اپنے محافظوں کے ساتھ قریبی تعلق کی بنا پر القا عدہ سے زیادہ بڑا خطرہ بن چکی ہے“ ۔ ”پاکستان کی خطرناک جاسوس ایجنسی آف انٹر سروسزانٹیلی جنس گرم جوشی کے ساتھ پیسوں‘ ہتھیاروں اور تربیت کی صورت میں لشکر طیبہ کی معاونت کرتی رہی ہے۔ مریدکے میں 77ایکڑ پر محیط لشکر طیبہ کے ہیڈکوارٹر کی زمین حکومتِ پاکستان نے عطیہ کی تھی۔ بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں پاکستانی فوج میں کچھ افراد لشکر طیبہ کو ریزرو فوج سمجھتے ہیں‘ جس کو بھارت کے ساتھ لڑائی میں استعمال کیا جاسکے گا“۔نیوز ویک کے مطابق ”لشکر طیبہ اور پاکستانی فوج دونوں بھرتی کے لیے پنجاب کے غریب علاقوں پر انحصار کرتی ہیں اوردونوں طرف بھرتی ہونے والوں کی اکثریت ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔“ آگے لکھتا ہے ”لشکرطیبہ کے فلاحی ونگ نے وادی سوات کو طالبان سے واپس لینے کی مہم کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شہریوں کی مدد فوج کے شانہ بشانہ کی۔“امریکی میگزین کی ہرزہ سرائی جہا ں امریکا میں موجود بھارتی لابی کی طرف سے پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے وہیں امریکا میں پاکستان کے موجودہ سفیر حسین حقانی کی کتاب کے علاوہ ان کا پورا کام اس طرح کی کہانیوں کے لیے بنیاد فراہم کرتا دکھائی دیتا ہے۔ 20جولائی2005ءکی”ساوتھ ایشین ٹربیون“ میں ”پاکستان کا لند ن بم دھماکوں سے تعلق“ کے عنوان سے اپنے مضمون میں حسین حقانی لکھتے ہیں ”بڑے کشمیری جہادی گروہ اپنا انفرااسٹرکچر اس لیے قائم رکھ پائے ہیں کہ پاکستانی فوج نے ابھی تک مستقبل میں بھارت کے ساتھ لڑنے کے آپشن کو ترک نہیں کیا ہے۔“اسی مضمون میں حسین حقانی لکھتے ہیں ”لند ن میں7جولائی کے دہشت گرد دھماکے ”گلوبل جہاد “ کو بڑھانے میں پاکستان کے کردار کی اسکروٹنی کا تقاضا کرتے ہیں۔ لند ن بمبار پاکستانی نژاد تھے اور چار میں سے کم از کم تین نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ عالمی برادری کی طرف سے اس بات پر حیرت کا اظہار فطری ہے کہ اسلامی شدت پسندی کے اکثر عناصر کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے‘‘۔
بہت سارے نوجوانوں کی طرح میری بھی خواہش تھی کہ فوج میں شمولیت اختیار کروں، پشاور میں ابتدائی مرحلے سے کامیابی کے ساتھ گزرنے کے بعد آئی ایس ایس بی کے لئے کوہاٹ پہنچا اور پورے چار دن وہاں گذارنے کے بعد ناٹ ریکمنڈڈ کا لیٹر ہاتھ میں آیا۔ شاید میں فوج میں بھرتی کے لیے اہل نہیں تھا یا پھر میں اتنا ڈسپلنڈ نہیں تھا کہ ملک دو لخت ہوتا اور میں اپنے جنرل کے حکم پر نوے ہزار دیگر سپاہیوں کی طرح بغیر ڈسپلن توڑے ہتھیار ڈال دیتا ۔
میرے بیج کے دو دوست منتخب ہوگئے تھے ‘ ہم دل جلے جلن کے مارے ان سے کہتے تھے کہ فوجی کا دماغ گھٹنے میں ہوتا ہے۔ فوجی دماغ سے نہیں گھٹنے سے سوچتا ہے۔ آج کے اخبارات میں آئی جی ایف سی میجر جنرل طارق خان کا بیان پڑھ کر احساس ہوا کہ واقعی ان کا دماغ سر میں نہیں گھٹنے میں ہوتا ہے۔ موصوف نے فرمایا جماعت اسلامی کے ہارون رشید کا گھر دہشت گردی کا مرکز تھا۔ میجر جنرل صاحب فوجی ہونے کے ساتھ ساتھ پٹھان بھی ہیں۔ کاش پریس بریفنگ کے وقت موجود ہمارے اردو اسپکینگ بھائی میجر جنرل اطہر عباس ان کو سمجھاتے کہ بھئی بغیر کسی ثبوت کے ایک محب وطن سیاسی جماعت کے صوبائی نائب امیر پر اس طرح کا الزام لگانا کوئی عقل کی بات معلوم نہیں ہوتی۔
ثبوت بھی فوجی ثبوت نہیں ۔ لال مسجد کو فتح کرتے وقت بھی ثبوت دکھائے گئے تھے‘ لیکن اب سپریم کورٹ بھی فوجی آپریشن میں قتل ہونے والوں کو شہدائے لال مسجد پکارتی ہے ۔
یہاں آئی جی فرنٹیر کور میجر جنرل طارق خان کو یہ مشورہ بھی دیاجانا چاہیے کہ وہ باجوڑ اور قلعہ بالا حصار سے ذرا نکل کر دنیا میں دیکھیں کہ کیا ہورہا ہے۔ وہ مغربی سرحد پر ڈالروں کی خاطر میراثی پرویز مشرف کی شروع کی گئی امریکی جنگ لڑ رہے ہیں تو ادھر وہی امریکا ‘بھارتی دشمنوں اور امریکا میں پاکستانی سفیر کی مدد سے فوج کا تعلق ’’مستقبل کی القاعدہ ‘‘ یعنی لشکر طیبہ کے ساتھ جوڑ کر اس پر وار کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ براہ کرم تھوڑا سا وقت نکال کر امریکی پالیسی ساز میگزین نیوز ویک کی یہ ٹائٹل اسٹوری بھی پڑھ ڈالیں ۔ وہ وقت کوئی بہت زیادہ دور نہیں کہ اس وقت قبائلی علاقوں میں امریکی جنگ کو جائز کہنے والے لندن اور واشنگٹن نکل لیں گے اور امریکی فوج آپ کو دنیا کے لئے خطرہ قرار دے کر مشرقی سرحدوں سے حملہ آور ہوگی تو یہی لوگ آپ کے شانہ بشانہ ملکی سرحدوں کی حفاظت میں مصروف ہوں گے جن کو آج آپ کسی طریقے سے باجوڑ کے شدت پسندوں سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہاں ایک اور بات کی بھی وضاحت کرتا چلوں کہ اگر چہ امریکی جنگ کا حصہ بننے کے بعد آُپ ہی کے چیف کی طرف سے ڈالروں کے عوض پاکستانی بیٹی کو امریکیوں کے حوالے کرنے کے اعتراف کے بعد آپ کی حب الوطنی تو مشکوک کہلائی جاسکتی ہے لیکن جماعت اسلامی کی نہیں۔ مجھ سمیت اکثر پاکستانی اگر چہ دہشت گردی کے نام پر قبائلیوں کے خلاف امریکی جنگ کے مخالف ہیں لیکن وہ فوج کے خلاف ہتھیار اُٹھانے والوں کو غلط سمجھتے ہیں۔ جماعت اسلامی پر اس طرح کے الزامات شدت پسندوں کی حمایت کرنے والوں کے موقف کو مضبوط کر سکتے ہیں۔۔
جنرل کیانی صاحب نے اپنے پیشرو پرویز مشرف کی اکثر پالیسیوں کو ریورس کردیا ہے۔ ان کی جمہوریت پسندی اور حب الوطنی کے وجہ سے پرویز مشرف کا خراب کیا ہوا فوج کا برا تاثر بہتر ہونے لگا ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ میجر جنرل طارق خان پرویز مشرف کے خیال کے آدمی ہیں۔ پرویز مشرف پاکستان اور پاک فوج کا بدبودار اور گند ا ماضی ہے ۔ میجر جنرل صاحب کو اپنے ماضی کے اوراق کی تلاوت کے ذریعے جنرل کیانی صاحب کی کوششوں کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔
پاکستانیوں کی بڑی تعداد فسادیو ں کے خلاف قومی لشکر کاحصہ نظر آتی ہے ان کو فسادیوں کی طرف دھکا نہ دیں۔ ایک ایسے وقت میں جب مشرقی سرحد پر پاکستان کے خلاف دشمن متحد ہورہے ہیں پاکستان کو متحد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ تقسیم کرنے کی۔
امریکی جنگ کے خلاف آواز اُٹھانے والے اور اس کی خاطر اقتدار کی کرسی کو ٹھوکر مارنے والے نہایت ہی قابل احترام اور قابل فخر ہارون رشید صاحب کے موقف کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔ شکریہ
منور حسن صاحب کا ردعمل یہاں ملاحظہ کریں۔
پاکستانیوں کو مبارک ہو کہ حکومتِ پاکستان نے نئی اسلامی ریاست کوسووو کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ جمعرات 6 مارچ کو سربیا کے وزیر خارجہ وک جیریمک نے سید بادشاہ یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی اور مسلم ریاست کوسووو کو تسلیم کرنے سے انکار کے فیصلے کو خوب سراہا۔ سراہنا بھی چاہیے۔ یہ بھی سربیا کی بڑی کامیابی ہے کہ مسلم دنیا کا ایک اہم اور واحد ایٹمی ملک پاکستان مقتولوں اور مظلوموں کے بجائے ظالموں اور قاتلوں کا ساتھ دے رہا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جب سرب دہشت گرد بوسنیا ہرزی گوینا اور کوسووو میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہے تھے‘ بچوں کو سنگینوں پر اچھال رہے تھے اور مسلمان عورتوں کی عصمت دری کر رہے تھے‘ سید صاحب اس وقت جیل میں تھے اور شاید ان تک اخبارات بھی نہ پہنچ رہے ہوں۔ ورنہ اس دیدہ دلیری سے کوئی مسلمان کس طرح اپنے بھائیوں کے قاتلوں کا ساتھ دے سکتا ہے۔ امریکا کی بات اور ہے کہ اس کی دہشت حکمرانوں پر طاری ہے۔ سید صاحب ہاتھ ملانے کے بعد غور سے دیکھیے‘ کوسوو کے شہیدوں کا خون آپ کے ہاتھ پر بھی لگ گیا ہوگا۔
عجیب اتفاق ہے کہ جب پاکستان میں ایک بار پھر پیپلزپارٹی کو اقتدار دینے کا فیصلہ ہوا اور وزارت عظمیٰ کے لیے قرعہ فال سید یوسف رضا گیلانی کے نام نکلا‘ انہی دنوں کوسووو کے مسلمانوں کو قاتلوں کے چنگل سے نجات ملی۔ طویل خونریزی کے بعد فروری 2008ءمیں آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرا۔ سابق کمیونسٹ ملک یوگو سلاویہ کے ٹکڑے ہوئے تو سب سے طاقت ور ریاست سربیا نے آس پاس کی ریاستوں پر قبضہ کے لیے قتل و غارت گری کا بازار گرم کردیا اور مسلم اکثریتی علاقے بوسنیا اور کوسووو خاص طور پر نشانہ بنے۔ سربیا کی جارحیت کے دوران کم از کم 12 ہزار مسلمان مرد‘ عورتیں اور بچے شہید کیے گئے اور ایک لاکھ 30 ہزار گھروں کو جلایا گیا۔ نصف آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوئی۔ کوسووو کو تسلیم نہ کرنا اپنے شہید مسلمان بھائیوں کے خون سے غداری ہوگی لیکن پاکستانی حکمرانوں کو شاید تاریخ کا علم ہی نہیں‘ ہم عظیم مجاہد طارق بن زیاد اور ان کے جانثاروں کی توہین کرتے ہوئے ظالموں کے لیے ”بربریت“ کی اصطلاح بڑے شوق سے استعمال کرتے ہیں۔ حقیقت میں اس جگہ ”سربیت“ یا ”سربریت“ کا استعمال زیبا ہے۔ پاکستان نے کوسووو کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا لیکن اپریل 2009ءمیں سعودی عرب اس کی آزاد حیثیت تسلیم کرچکا ہے۔ دونوں میں سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ دنیا کے 58 ممالک اسے تسلیم کرچکے ہیں۔ جی 8کے سات ممالک‘ یورپی یونین کے 27 میں سے 22 اور ناٹو کے 28 میںسے 25 ممالک بھی کوسووو کی آزادی کو تسلیم کرچکے ہیں۔ اسے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی رکنیت بھی مل چکی ہے۔ ابھی دو ماہ قبل ہی 9 دسمبر 2009ءکو برطانیہ میں متعین کوسوو کے جارج ڈی افیئر محمد حتمی نے اپیل کی تھی کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی کوسوو کو جلد باضابطہ طور پر تسلیم کرے‘ کوسووو کی اکثریت آبادی مسلمان ہے اور مسلم ممالک سے برادرانہ تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہے۔ ان کو نوید ہو کہ پاکستانی حکمران صفِ دشمناں میں کھڑے ہیں‘ شاید ابھی امریکا نے کوسووو کو تسلیم نہیں کیا ورنہ ہماری کیا مجال تھی۔ سرب وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں اطلاع دی ہے کہ ہماری کوششوں سے پاکستان سمیت دنیا کے دو تہائی ممالک نے کوسووو کو تسلیم نہیں کیا۔ وزیراعظم پاکستان نے اتنا ہی پوچھ لیا ہوتا کہ کوسووو میں ابھر آنے والی یہ قبریں کن کی ہیں اور یہ ضعیف مسلمان خواتین اپنے بھائیوں‘ اپنے بیٹوں سے کیا کہہ رہی ہیں۔ لیکن ایسے کتبے لیے کھڑی خواتین تو اسلام آباد اور سری نگر میں بھی نظر آتی ہیں جو پوچھتی ہیں ”میں کس کے ہاتھ میں اپنا لہو تلاش کروں؟“ سید صاحب ذرا اپنا ہاتھ غور سے دیکھیں۔
(بشکریہ جسارت میگزین ‘شمارہ 7تا13مارچ2010)
In پاکستان on March 8, 2010 by ابو سعد Tagged: غیرت
قبائلیوں کو جتنا بھی برا بنا کر پیش کردیا جائے میرے لیے یہ ہمیشہ باعث فخر رہے ہیں۔ یہ وہ کام کرجاتے ہیں جو پورا ملک اور اس کے ادارے نہیں کر پاتے ۔ دیکھیے نا ابھی جب دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ایک ‘پاک فوج پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں ڈرون طیارے گرانے کا مظاہرہ کررہی تھی قبائلیوں نے اس کا عملی مظاہرہ کرکے امریکی ڈرون مارگرایا۔ کہا جاتا ہے کہ فوج نے پیغام دے دیا کہ وہ تو ڈرون گراسکتی ہے لیکن اب یہ سیاسی حکومت تو اجازت دے۔ اس کے جواب میں ایک صاحب کا کہنا ہے کہ ایسا فوج نے اس وقت کیوں نہ کیا جب ایک فوجی ملک پر مسلط ہوکر حکومت کررہا تھا ۔ ایک دوسرے صاحب جو اکثر پہلے والے کی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آتے ہیں کہنے لگے فوج نے کس بات میں سیاسی حکومت سے پوچھا ہے؟ کیا کیری لوگر بل میں ؟ خیر یہ فضول بحث ہے ۔ اصل خبر یہ ہے کہ جن لوگوں میں وزیرستان نے امریکی طیارہ مار گرایا تھا ان کے نمائندوں نے واشنگٹن میں ایک ڈرون حملہ کردیا۔ یہ امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کی دعوت پر امریکیوں کو سمجھنے گئے اور صحیح سمجھ کر آگئے۔ قبائلی علاقوں کی قومی اسمبلی اور سینٹ میں چھ نمائندوں نے اپنا امریکی دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس اپنے ملک کا رخ کیا۔
ایک ایسے وقت میں جب ہمارے حکمران سیاسی جماعتوں کے قائدین بشمول میاں محمد نوازشریف امریکی چوکھٹ پر سجدہ ریزی کے لیے بے تاب نظر آرہے ہیں ‘ ان چھ نمائندوں نے اسکینگ کے نام پر برہنگی کو اپنی عزت نفس کے خلاف سمجھا اور اپنا دورہ ادھورا چھوڑکر واپس پاکستان آ گئے۔
پاکستان میں امریکی وزیر داخلہ رحمن ملک (اس کو ڈکیت پڑھا جائے) اور واشنگٹن میں پاکستان کے امریکی سفیر حسین حقانی زبان سے براہ راست نہ کہتے ہوئے بھی وزیرستان کو پاکستان کے موجودہ حالات کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ میں تحریک طالبان پاکستان کو وبا سمجھتا ہوں لیکن اس وبا کی ذمہ داری اسلام آباد(ایوان صدر‘ ایوان وزیر اعظم ‘ اسٹبلشمنٹ ڈویژن اور جی ایچ کیو) میں موجود ڈاکٹروں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے قبائلیوں کو مٹانے کے امریکی منصوبے کے لیے جانے یا انجانے میں تحریک طالبان پاکستان کو جنم دیا ۔ اور امریکا ان قبائلیوں کو مٹانے کا منصوبہ کیوں نہ بنائے جبکہ یہ ان کے منہ پر غیرت کے طمانچے مارتے رہتے ہیں۔ امریکا کو ااس بات کا احساس ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو اس کا احساس ہو نہ ہو لیکن پاکستانی عوام کو بھی احساس ہے تب ہی تو تازہ ترین خبر کے مطابق اسلام آباد ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا گیا ہے۔
کاش پاکستانی عوام جن کوووٹ دیتےہیں ان میں کوئی لیڈر بن جاتا۔ ویسےعوام کو ووٹ ہی ان سیاستدانوں کو دینا چاہیےجو لیڈرز ہیں‘لیکن بدقسمتی سےایسا نہیں ہوتا۔ جس وقت میں یہ سطور ضبط تحریر لارہا ہوں ایکسپریس ٹی وی کےپروگرام ”آج کل“ میں ایک ایسا ہی بونا لیڈر نوجوانوں کو یہ تصور دےرہا ہےکہ وہی لیڈر ہیں۔ ہمیں گلہ رہتا ہے کہ وہ جن کا کام ملک کی چوکیداری ہے‘ وہ ایوان اقتدار میں آکر بیٹھ جاتےہیں لیکن اس میں قصور بھی تو ان بونےلیڈروں کا ہوتا ہیے۔ ابھی چند دن قبل جامعہ نعیمہ لاہور میں تقریر کرتے ہوئے ان کی زبان ’’پھسل“ گئی جس پر ان کا محاصرہ ہوا تو انہوں نے”طالبان “ سےمتعلق اپنےبیان کی ”وضاحت“ کےساتھ جاکر سرحدوں کی حفاظت کےلیےبنائی گئی فوج کےسپہ سالار کےقدموں پر گر پڑیے۔ میں ان کو بونا نہ کہوں تو کیا کہوں؟ شاید اسی دن کےلیےجگر مراد آبادی نےکہا تھا۔
جہل ِخرد نےدن یہ دکھائے
گھٹ گئےانسان بڑھ گئےسائے
آپ انسان کو حکمران پڑھ لیں۔
آج جب پورا پاکستان زرداری کی کرپشن کےپیچھےپڑا ہوا ہےجب کہ میں ”شریف بونا کمپنی“ کو زیادہ قابل گرفت سمجھتا ہوں کیوں کہ زرداری عوام سے مینڈیٹ لینےکےلیےجاتےہیں تو ان کو پتا ہوتا ہے۔ زرداری اور ان کی پارٹی کی کرپشن کسی سےڈھکی چھپی ہےاور نا ہی ان کےسیاسی نظریات۔ الفاظ شاید سخت ہیں لیکن کیا کریں ا س سےکم میں ان کی عکاسی نہیں ہوتی کہ یہ منافق ہیں اور ان کا قائد میاں محمد نواز شریف منافق اعظم۔ یہ ووٹ دائیں بازو کےنام پر لیتےہیں اور گرتےہیں ”امریکا کی چوکھٹ“ پر۔ کارگل جنگ کےدوران شہباز شریف کی امریکا یاترا کون بھولا ہے؟ طالبان اور ان کےنظریات ایک جیسےنہیں تو کہا کیوں؟ الیکشن مہم کےدوران عوام کو یہی باور کرایا جاتا ہےکہ ہم امریکی پالیسیوں کےخلاف ہیں۔ جامعہ نعیمہ میں طالبان اور اپنےنقطہ نظر کو بھی تو اسی تناظر میں قرار دیا تھا۔ شہباز شریف کےبیان پر بہت ساروں نےامریکی نمک خوار بن کر ”ردعمل “ ظاہر کیا لیکن سب سےدلچسپ ردعمل یا عمل نگہت اورکزئی کا رہا جنہوں نےدوپٹا پھینک دیا۔ نیویارک سےطیبہ ضیا ءچیمہ نےنوائےوقت میں رپورٹ کیا ہےکہ امریکی مسلم خواتین نےاس پر ردعمل ظاہر کرکےکہا کہ نگہت اوکرزئی نےاپنا نہیں بلکہ تمام مسلمان خواتین کا دوپٹہ اُتار پھینکا ہے۔ ان خواتین کا تعلق یقینا کسی تحریک طالبان غالباً تحریک طالبان امریکا سےہوگا۔ ایک ایسی خاتون نےطالبان بن کر کچھ ”مجرموں“ کی مرہم پٹی کردی تو اس کو قیدی 650بناکر بگرام جیل بھیج دیا۔ وہاں سےامریکا لےجاکر امریکی انصاف کا شاندار مظاہرہ کیا گیا۔ ختم نبوت کےطوفانی صاحب نےسوال کیا ہےکہ ڈاکٹر عافیہ کو امریکا لےجانےوالےآخر زید زمان حامد کو کیوں نہیں اُٹھاتے۔ وہ بھی تو امریکا کےخلاف اور افغان طالبان کےحق میں بات کرتا ہے۔ ان کےبقول معاملہ سیدھا سادہ ہے۔ شہباز شریف کےبیان پر زبان تاسیر بھی بھڑک گئےتھے وہ سلمان تاثیر جوآدھےپاکستان(صوبہ پنجاب) کی جامعات کےچانسلر ہیں اور ان میں بیشتر میں زید حامد اب تک تقریر کرچکا ہے‘ جس میں ا”چھے“ اور”برے“ طالبان کےعلاوہ بھارتی اور امریکی دہشت گردی کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ان کی تقریروں پر ان کےمحسنوں کو بھی اعتراض نہیں حالانکہ ”دی نیوز“ کےابصار عالم کا خیال ہےکہ ان محسنوں نےان کےاوپر سےہاتھ اُٹھالیا ہے۔ بات سےبات نکلتی ہے لیکن ہم اصل موضوع پر آتےہیں کہ منافقت نہیں ہونی چاہیے‘ شہباز شریف کو اگر فوج کی این او سی لیکر اقتدار میں آنا یا روکنا ہےتو وہ عوامی منڈیٹ کےبھاشن دینا بند کردیں۔ جو ہیں اس کا اعتراف کرلیں۔ ورنہ منافقوں سے تو ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے زرداری ہی اچھےہیں کہ جیسےہیں ویسا ہی اپنےآپ کو پیش کرتےہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
میرے وطن کے نوجوانوں
السلام علیکم
دوستوں آج آپ کو خط لکھنے کی وجہ بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ زید زمان حامد نامی شخص اس وقت ایک متنازعہ شخصیت بن چکے ہیں اور جسکی وجہ سے ہم آپس میں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے لگ گئے ہیں حالانکہ ہم ایک دوسرے کو کل تک جانتے بھی نہ تھے اور آج ایک دوسرے کو گالم گلوش کر رہے ہیں کیوں؟
اگر ہم ٹائم پاس کرنا چاہتے ہیں لڑائی جھگڑا کرکے تو پھر ٹھیک ہے لگے رہو۔
اور اگر ہم سنجیدہ ہیں تو یہ بات طہ شدہ ہے کہ جب ہم آپس میں ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تو ذاتی معاملہ میں تو ہم لڑ نہیں رہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ ناراضگی کسی نظریہ کی بنیاد پر ہے۔
اور جب ہم فیس بک پے زید حامد صاحب کے پلیٹ فارم پے جمع ہوئے تو اسکی وجہ بھی یہ تھی کہ کسی نظریہ پے ہم سب متفق ہوے۔
چلیں پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کیا نظریات تھے جن پر ہم سب متفق تھے اور ہیں۔
۱) سب سے پہلے تو ہم سب ایک ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ۔جسکی ترقی بقاء وامن امان کے لیئے اپنی تمام قوت و صلاحیتوں کے ساتھ مخلص ہیں۔
۲) ہمارا مذھب اسلام ہے ۔ جس سے محبت کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور یہ ہی ہمارے وطن عزیز کے وجود اور بقاء کی بنیاد ہے۔
۳) ہم سب کسی ایک ایسے لیڈر کی تلاش میں ہیں جو ہمارے ملک اور مذہب سے محبت کرتا ہو۔ نہ صرف زبانی بلکہ اپنے عمل سے ثابت کرتا ہو۔
یہ وہ بنیادیں ہیں جن پر ہم پہلے بھی متفق تھے اور آج بھی ہیں۔
تو پھر یہ گالم گلوچ اور جھگڑے کیوں شروع ہوگئے؟
حالانکہ وہ نظریات جن کی بنیاد پے ہم سب یہاں جمع ہوئے تھے وہ تو ایک ہی تھے تو آخر ایسی کونسی چیز ہمارے درمیان آئی جس نے ہمیں آپس میں لڑادیا؟
کیونکہ ہم ذاتی بنیاد پےتو کسی سے ناراض نہیں ہیں تو لازمی ہمارے نظریات کے ساتھ کچھ نہ کچھ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی نے دھوکہ،فریبی کے ساتھ کام لینے کی کوشش کی ہے۔
آئیےاسی بات کا خلاصہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس وقت ہم دو حصوں میں بٹ گئے ہیں۔ پہلا طبقہ:
جن کے خیال میں زیدزمان حامد ایک ایسی شخصیت ہیں جس نے کھلم کھلا امریکہ ،یہودی،ہندو کی سازشوں کو بےنقاب کیا۔(میڈیا پے پہلی بار یہ شخص ہے جسنے ایسا کیا) ورنہ کتابوں رسالوں میں بہت سے لوگوں نے یہ کام بہت پہلے سے کیا ہوا ہے اور آج تک کر رہے ہیں۔اور جہاں تک یوسف کذاب کی بات ہے وہ زید صاحب کا ذاتی معاملہ ہے۔ دوسرا طبقہ:
اس بات کا اقرار کرتے ہوئے کہ بے شک اس شخص نے ایک انقلاب برپا کیا خاص کر نوجوان نسل میں اور ہم بھی اس سے محبت کرنے والوں میں سے تھے لیکن جب ہمیں پتہ چلا کہ اس شخص کا ماضی ایک ایسے شخص کی خدمت میں گذرا جس نے نعوذباللہ نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اسے سزائے موت سنائی گئی اور اسے اسلام آباد کے عسائیوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا اور زید زمان حامد اس جھوٹے نبی کا چیلہ تھا اور اسکا کیس لڑتا رہا اور اس کے مرنے کے بعد اس نے اخبار میں کالم لکھا کہ ظلم ہوا ہے یوسف کذاب کے ساتھ ۔۔۔۔۔ توبھائی ہمارے لئے ایمان پہلے ہے امریکہ ،یہودی،ہندو بعد میں ہے۔
دونوں طبقوں کی بات جاننے کے بعد یہ بات سمجھ آئی کہ پہلا طبقہ نے نظریات کو چھوڑ کر زید زمان حامد کی ذات کو بنیاد بنا لیا اور دوسرے طبقہ نے نظریات کو اہمیت دی اور زید زمان حامد کو اس لئے چھوڑدیا کہ وہ شخص نظریات پے پورا نہیں اتر سکا۔
خلاصہ:
اس بحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ اس اختلاف کی بنیاد ذات اور نظریات کا تصادم ہے۔اور تصادم کی بنیاد زید زمان حامد صاحب کا ماضی اور اعتقادات ہیں۔
اب دیکھیں پہلے طبقہ والےدوست وہ نظریات ہی بھول گئے جس پے وہ جمع ہوئے تھے اور ذات کی پیروی کرنے لگ گئے اور یہ بات بھول گئے کہ پاکستان کا مطلب لاالہ الاللہ اور محمد رسول اللہ ہے اور زید زمان صاحب کا ماضی یوسف کذاب رسول اللہ گاتے گاتے گزرا ہے۔ اور اوپر جو ہم نے ایک نظریہ کا ذکر کیا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں وہ لیڈر چاہیئے جس میں پاکستان اور ایمان دونوں خصوصیات ایک ساتھ جمع ہوں۔۔۔۔اور زید زمان حامد صاحب اس معیار پے اتر جاتے اگر اپنے ماضی پر شرمندگی اورموجودہ اعتقادات کو درست کر دیتے ۔
ذرا غور فارمائیں ۔۔زید صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسم کی محبت کی تو بات کرتے ہیں لیکن انکا اپنا ماضی ایک ایسے شخص کی خدمت میں گزرا جو جھوٹے نبی ہونے کا دعوے دار تھا۔۔۔۔اور اس بات کا اقرا زید زمان خود کرتے ہیں بلکہ یہاں تک کہتے ہیں کہ یوسف علی ایک شریف آدمی تھا اور اپنی بات ثابت کرنے کے لئیے جتنے علماء زید صاحب نے کوڈ کئے ان سب نے الٹا زید حامد کو جھوٹا ،مکار کہا جسکی ویڈیو فیس بک پے موجود ہیں۔
الزامات اور اسکی وجوھات۔
نبوت کا دعویٰ کرنے کے جرم میں یوسف کذاب کو حکومت پاکستان نے پھانسی کی سزا دی تھی اور تمام مکاتب فکر کے علماء نے متفقہ فتویٰ دیا تھا اس کے قتل ہونے کا اور یہ صرف 10 سال پرانی بات ہے۔
جونظریاتی لوگ زید زمان کے خلاف ہوگئے ہیں اسکی وجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے نہ کہ امریکہ یا ہندوں کی ایجنٹی۔
زید زمان حامد کے کردار کو سمجھنے کے لیئے ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مثال:
ایک شخص میرے دشمن کو میرے لئے گالی دے اور میرے دوسرے دشمن کے بارے میں مجھے کہے کہ نہیں جی وہ تو شریف آدمی ہے آپ کو غلط فہمی ہورہی ہے تو آپ خود بتائیں میں اس شخص کو کیا سمجھوں دوست یا دشمن؟
یاد رہے مسلمان کا سب سے بڑا دشمن وہ ہے جو دعویٰ نبوت کرتا ہے یا نبی کی توہین کرتا ہے جیسے مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا،یوسف کزاب نے کیا،سلمان رشدی،ڈنمارک کا کاٹونسٹ وغیرہ
اب زید زمان صاحب اس بات کا تو اقرار کرتے ہیں کہ وہ محمد صلی اللہ علی وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں
مگر انھوں نے اپنے ماضی کے کئی سال جھوٹے نبی کی خدمت میں جو گذارے اس کے حق میں عدالت میں یوسف کذاب کیس کی پیروی کی تاکہ اسے سزا نہ مل سکے اور اسکے قتل کے فیصلہ پر ڈان اخبار میں مضمون تک لکھا کہ یہ ظلم ہوا ہے ؟ کیا یہ قول اور فعل کا تضاد نہیں؟
زید زمان صاحب اس بات کو نہیں مانتے کہ یوسف کو کذاب،جھوٹا نبی کہا جائے۔ ارے بھائی کیوں نہ کہا جائے ۔۔۔؟ اور آ پ کی کس بات پے ہم یقین کریں کہ آ پ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہو یا جھوٹے مدعی نبوت کو مانتے ہو؟
کیا پورے پاکستان کے علماء جھوٹ بول رہے ہیں؟ کیوں جھوٹ بولینگے؟ اور تمام مکاتب فکر کے علماء ایک ساتھ مل کے جھوٹ بولیں؟ کچھ عقل سے کام لیا جائے۔
عدالت نے جو سزائے موت کا حکم دیا وہ ویسے ہی تھا کیا؟ عدالت میں لوڈو کھیل رہے تھے کہ جو ہار جائے اسے قتل کی سزا دی جائے؟
افسوس ہے کہ پاکستان میں عدالتی نظام گورے کا ہے لیکن جج مسلمان تھا اور یہ فیصلہ اسلامی نقطہ نظر کو سامنے رکھ کے کیا گیا تھا ورنہ گورے کے قانون میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت یا شان میں گستاخی کی کوئی سزا نہیں۔
زید حامد نےپاکستان کی عدالت کو چیلنچ کیا ہے ۔کسی بھی ملک کے اندر رہتے ہوئے اس ملک کے قانون کو چیلنچ کرنا قانون کی زبان میں بغاوت کہلاتا ہے۔ پاکستانی قوم کو کیا درس دیا جا رہا ہے کہ اپنے ملک کے گھسے پٹے قانون کو قانون نہ مانو؟
خلافت راشدہ صحابہ نے قائم کی تھی اور وہ علماء تھے اور جناب زید حامد صاحب علماء کو فسادی کہتے ہیں
انا للہ۔۔۔ علماء اسلام سے اتنی نفرت؟ کیوں؟
پاکستان بننے کے دن سے آج تک علماء ہی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کی جس کا نتجہ ہے کہ الحمد للہ آج ہر مسلمان فخر سے کہ سکتا ہے کہ میرا دین میرا قرآن میرے نبی کی ایک ایک سنت محفوظ ہے۔۔آج امریکہ اور تمام باطل قوتیں مدارس کے خلاف ہیں بند کروانے کی کوشش کر رہے ہیں اور زید حامد بھی علماء کو فسادی کہ رہا ہے تو اب بتائیں زید حامد امریکہ کے ایجنڈے کو فروغ دے رہا ہے یا علماء امریکہ کے ایجند ہیں؟
خلافت کا نعرہ تو جامعہ حفصہ نے بھی اسلام آباد میں بیٹھ کر لگایا تھا اسے امریکہ کے حکم پر پاکستانی فوج کی مدد سے صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا لیکن زید زمان حامد اسی اسلام میں بیٹھ کر حکومت،امریکہ کو گالی دیتے ہیں مگر نہ حکومت نے کچھ کہا نہ امریکہ نے کیوں؟
مولانا سعید احمد جلال پوری شھید ختم نبوت کے مجاھد تھے انہیں دھمکیاں زید زمان کے ان نمبروں سے دی گئیں جو اسکے وزٹنگ کارڈ پے درج ہیں اور پولیس کے مطابق یہ نمبر زید زمان حامد ہی کے نام پے ابھی تک ہیں۔ اور انہیں زید زمان نے 2 ٹکہ کے مولوی کہ کر مخاطب کیا تھا۔۔یہ پاکستانی قوم کے بچوں کو کیا درس دے رہا ہے ؟ علماء کو 2 ٹکہ کا کہنا اسلام سے محبت کی نشانی ہے یا اسلام سے دشمنی کی؟
خلافت راشدہ جیسے عظیم مقصد کی بات ٹی وی پے ایک سے ایک حسین عورت کو سامنے بٹھا کے پروگرام میں کی گئی ۔انا للہ کیا یہ ہی خلافت کا بنیادی تصور ہے؟ عورت کو دکھا کر اپنی بات کرنا یا منوانا یہود ونصاریٰ و ہندوں کا کام ہے مسلمان کا نہیں۔۔۔۔زید زمان صاحب کی اس حرکت کو کیا کہا جائے؟
اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟
کیونکہ اس اختلاف کی بنیاد زید زمان حامد صاحب کا ماضی اور اعتقادات ہیں۔
اور چونکہ انکے پلیٹ فارم پے ہم انہی کی دعوت پے سب جمع ہوئے ہیں لھذا اس اختلاف کو ختم کرنے کی ذمہ داری بھی زید زمان حامد صاحب پے عائد ہوتی ہے انہیں چاہیئے کہ وہ علی الاعلان یوسف علی کو یوسف کذاب تسلیم کریں اور یوسف کذاب کے حق میں جس قسم کی بھی انکی خدمات ہیں ان سب سے توبہ کریں تاکہ امت مسلمہ اور کسی تقسیم سے محفوظ رہ سکے۔
والسلام
ایک اللہ کا بندہ
تحریر :علی خان
زیر نظر عنوان تلخابہ کا ہے۔ صاحب مضمون نے اس کا عنوان “دیکھیے اس بھر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا” رکھا ہے۔
…………………………………………………………..
پاکستان اور امریکا کے تزویراتی (اسٹریٹجک) مذاکرات ختم ہوگئے۔ امریکا نے دامِ تزویر بچھا دیا۔ واشنگٹن میں تین دن تک خوب موج، میلے رہے اور اطلاعات کے مطابق ہمارے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے میلہ لوٹ لیا، باقی سول حکام موج کرتے رہ گئے۔ جانے ان مذاکرات کو اسٹریٹجی کا نام کیوں دیا گیا۔ لغت میں تو اس کا مطلب صف آرائی کی فوجی سائنس یا فن حرب ہے، حکمت عملی بھی ہے لیکن اس اصطلاح کا بنیادی تعلق فوج اور لڑائی بھڑائی سے ہے، شاید اسی لیے مذاکرات کی کمان جنرل صاحب کے ہاتھ میں رہی۔
ہمیں انگریزی کی اصلاحات استعمال کرنے کا بڑا شوق ہے، اس سے رعب بھی پڑتا ہے اور اپنی زبان کی کم مائیگی بھی عیاں ہوجاتی ہے۔ تزویر یا تزویراتی کہو تو لوگ کہتے ہیں یار اپنی زبان میں بات کرو، یہ تزویراتی کیا چیز ہے؟ ایک دیہاتی باہر رہ کر آیا، طبیعت خراب ہوئی اور واٹر، واٹر کہتا بے ہوش ہوگیا۔ دیہاتی بیوی نے بڑے افسوس سے کہا کہ حالت بگڑنے کے باوجود پانی تک نہ مانگا، جانے کیا کہہ رہے تھے۔ اسے چاہیے تھا کہ پہلے بیوی کو بھی واٹر کی تعلیم دے دیتا۔ اب تو اردو اخبارات کی کئی سرخیاں آدھی سے زیادہ انگریزی میں ہوتی ہیں اور ٹی وی چینلز پر جو اردو بولی جارہی ہے اسے سن کر تو کسی مزاحیہ پروگرام کا گمان ہوتا ہے۔
تو کیا یہ اسٹریٹجک مذاکرات بھی مزاحیہ پروگرام تھے؟ استغفر اللہ۔ تاہم صرف مذاکرات کہنے میں کیا ہرج تھا۔ امریکا سے مذاکرات تو برسوں سے ہوتے چلے آرہے ہیں جن میں اسٹریٹجی امریکا طے کرتا ہے۔ بقول کسے ”گداگروں کے پاس انتخاب کا حق نہیں ہوتا، جو دے اس کی بھی خیر اور جو نہ دے اس کی بھی خیر، ہم تودوسروں کو قائل کرتے ہیں کہ ”صدقہ دتیاں کہن مصیب آندی آندی ٹل جاندی اے“ اس طرح ہم دوسروں کی مصیبت خوشی خوشی اپنے سر لے لیتے ہیں۔ بلائیں لینا شاید اسی کو کہتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف امریکی دہشت گردی کی جنگ ہم نے ازراہِ محبت و عقیدت اپنے سر لے ہی رکھی ہے۔ امریکا کا کوئی بھی حکمران پاکستان سے گزرتا ہے تو ہم اس کی خدمت میں اپنے بھائیوں کی لاشیں پیش کردیتے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ امریکی ہوائی اڈوں پر ہمارے لیے رکھی گئی اسکریننگ مشینوں سے گزر کر جب ہمارے حکمران وہاں جاتے ہیں تو بھی اپنے پیچھے تحفے کا انتظام کر رکھتے ہیں۔ اب دیکھیے، گزشتہ جمعرات کو واشنگٹن میں ”اطمینان بخش“ مذاکرات کا اعلامیہ جاری ہونے سے پہلے ہم نے اپنے علاقہ اورکزئی کی بستی ماموزئی میں تبلیغی جماعت کے مرکز پر بمباری کرکے ۵۶ مسلمانوں کو شہید کردیا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جس جگہ کو نشانہ بنایا گیا وہ تبلیغی جماعت کا اہم مرکز ہے اور مرکز کے علاوہ مدرسہ اور مسجد پر بھی بمباری کی گئی۔ دعویٰ یہ کہ مرنے والے سب شدت پسند تھے اور ثبوت کوئی نہیں، جس کو چاہا شدت پسند قرار دے دیا گیا، اب کون ان لاشوں کے چیتھڑے جمع کرکے فیصلہ کرے اور اس فیصلے کو مانے گا بھی کون۔ یہ کام تو امریکا گزشتہ نوسال سے افغانستان اور عراق میں کررہا ہے۔ افغانستان میں جتنے ”انتہا پسند“ امریکا مار چکا ہے اس کے حساب سے تو اب وہاں سارے ہی ”ابتدا پسند“ رہ جانے چاہییں لیکن صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور اس کے صلیبی حواریوں کو اپنی عزت بچانا مشکل ہورہی ہے۔ امریکا چاہ رہا ہے کہ پاک فوج اپنے علاقوں سے آگے بڑھ کر افغانستان میں بھی اس کی مدد کرے۔ امریکا کے باخبر اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی خبر ہے کہ ہمارے فوجی سربراہ ۶۵صفحات پر مشتمل تجاویز کی جو فہرست لے کر گئے ہیں اس میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکا امداد بڑھائے تو پاک فوج افغان طالبان سے بھی بھڑ جائے گی۔ ابھی تک اس خبر کی تردید نہیں ہوئی لیکن خدا نہ کرے ایسا ہوا تو وہی حشر ہوگا جو اب امریکا اور اس کے صلیبی حواریوں کا ہورہا ہے، اس سے پہلے سوویت یونین کا اور اس سے بھی پہلے برطانیہ کا ہوچکا ہے۔
خدارا، افغانستان اور افغانوں کی تھوڑی سی تاریخ ضرور پڑھ لیں۔ احمد شاہ ابدالی ہندوستان کے مسلمانوں کو مرہٹوں کی چیرہ دستیوں سے نجات دلانے کے لیے شاہ ولی اللہ کی درخواست پر افغانستان سے آیا تھا۔ اب کیا ہمارے ہاں سے کوئی ”ابدالی“ کوئی کیانی صلیبی حواریوں کو احمد شاہ ابدالی کی نسل سے بچانے کے لیے جائے گا؟
امریکا کی تو پوری کوشش ہے کہ وہ افغانستان میں جس شکنجے میں پھنس گیا ہے، پاکستان اس سے نجات دلائے لیکن اس کے لیے پاکستان کو خود اس شکنجے میں پیر پھنسانا ہوں گے۔ پاکستان امریکی دامِ تزویر میں پہلے ہی پھنسا ہوا ہے، اس سے نکلنے کے بجائے وہ اور پھنسنا چاہ رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ ”چوں قصا آید طبیب ابلہ شود“ اور یہاں تو دور دور تک کوئی طبیب نظر نہیں آرہا، ابلہ اور ابلیسی البتہ ہر جا نمایاں ہے۔
ہماری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ امریکا کو مزید کچھ لاشوں کا تحفہ دینا ہی تھا تو تبلیغی جماعت کے مرکز کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ تبلیغی جماعت تو کسی کے لینے میں نہ دینے میں، اسے بے ضرر طریقہ پر اپنے اندازسے تبلیغ کرنے سے کام۔ تشدد، انتہا پسندی یا دہشت گردی تو دور، یہ تو ظلم کے مقابلہ میں با آواز بلند بھی کچھ نہیں کہتی، دل میں شاید برا جانتی ہو۔ یہودیوں کے تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن نے تبلیغی جماعت کو بالکل بے ضرر جانا ہے چنانچہ کبھی اس کے بارے میں کسی نے، حتیٰ کہ بھارت تک نے کچھ نہیں کہا۔ تبلیغی جماعت کا قبائلی علاقوں میں وجود تو امریکا اور پاک فوج کے لیے باعث رحمت ہے۔ اس جماعت کی تبلیغ اثر انداز ہوگئی تو طاغوت سے بزور قوت برسرپیکار افراد بھی ہتھیار رکھ کر چلّے پر چلے جائیں گے۔ مدرسوں اور مساجد پر تو ہمارے بہادر حملے کرتے ہی رہتے ہیں مگر ابھی تک تبلیغی مرکز کو چھوڑا ہوا تھا۔ ممکن ہے کہ اورکزئی ایجنسی کے ان ۵۶ مسلمانوں کی لاشوں کے تحفے کی خبر سن کر ہی محترم ہیلری کلنٹن اتنا کھلکھلا رہی ہوں اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کہہ رہے ہوں ” اے اپاں دا کم ہے“ (یہ ہمارا کام ہے) امریکی اور پاکستانی وزیر خارجہ میں ایسی قربت، ایسی یکجائی خطرے کی علامت ہے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ، جن کا نام اب یاد نہیں آرہا، صرف اتنا کہ جنگجو شہزادی یا بلیک کوئن کہلاتی تھیں، لکھتی ہیں کہ پاکستان کے ”پرنس چارمنگ“ وزیراعظم شوکت عزیز نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ انہیں ایک مسکراہٹ سے زیر کرلیں گے، ادھر بلیک بیوٹی کا دعویٰ کہ ”جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے“ یوں بھی شوکت عزیز کے نقش نگار یقیناً اچھے تھے لیکن چہرہ سپاٹ تھا، بے تاثر، جانے انہیں یہ غلط فہمی کیسے ہوگئی، ان کے مقابلہ میں تو آصف زرداری کہیں زیادہ ”چارمنگ“ ہیں، کس غضب کی مسکراہٹ ہے۔ کسی نامعقول نے ایس ایم ایس بھیجا ہے کہ ”آصف زرداری کی مسکراہٹ اوراداکارہ میرا کے آنسو دونوں خطرناک ہیں“۔ یہ رحمان ملک کیا کررہے ہیں جنہوں نے ایسے پیغامات بھیجنے والے کے لیے ۴۱سال کی قید تجویز کی تھی۔ وہ ذرا عدالتوں میں پیشی سے نمٹ لیں پھر ایسے لوگوں سے نمٹیں گے۔ جناب آصف زرداری نے اپنی مسکراہٹ کا جال امریکا کی ری پبلکن پارٹی کی نائب صدر کی امیدوار پر بھی پھینکا تھا اور معانقہ کی خواہش ظاہر کی تھی، مگر وہ ہار ہی گئیں۔ حافظہ کی خیر ہو، نام ان کا بھی یاد نہیں آرہا۔ ہارے ہوﺅں کو کون یاد رکھتا ہے۔ لیکن پاکستان میں تو جیتے ہوئے وزراءاتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اکثر کے نام نہیں معلوم۔ چار، پانچ ہی ایسے ہیں جو اپنی کارکردگی یا ناکارکردگی کی وجہ سے تواتر سے سامنے آتے رہتے ہیں، کسی کا نام کیا لینا، یہ تو آپ کو بھی ازبر ہوں گے۔ ہمیں تو خوشی اس بات کی ہے کہ ہمارے وزراءملک سے باہر ہی سہی، کھل کر مسکراتے تو ہیں، ہم نے باخبر ذرائع سے سنا ہے کہ جناب شاہ محمود قریشی، ہیلری کلنٹن سے قریبی ملاقات کے بعد یہ شعر گنگناتے ہوئے پائے گئے:
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیض مت
پوچھ حوصلے دل ناکردہ کار کے
خدا کرے کہ گھر والوں نے یہ تصویریں نہ دیکھی ہوں ورنہ جوابدہی مشکل ہوجائے گی، بشرطیکہ عادی نہ ہوگئے ہوں۔
ہمارے جو وزراءاور دیگر سول حکام واشنگٹن گئے تھے ان کو یہ خبر ہی نہ تھی کہ امریکا سے کس موضوع پر بات ہونی ہے۔ ایک باخبر نے خبر دی کہ اس میں کسی آگہی کی ضرورت نہ تھی، مذاکرات حکمت عملی پر ہونے تھے اور حسب معمول حکمت امریکا کی، عملی ہماری۔ زیادہ باخبر تو امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نکلا جس کے پاس تمام نکات کی تفصیلات تھیں جو فوج نے مرتب کی تھیں۔ واشنگٹن سے تجزیہ کار شاہین صہبائی نے خبر دی ہے کہ اسٹریٹجک مذاکرات کی لگام جنرل کیانی نے سنبھالی ہوئی تھی۔ سول قیادت صرف اس میں دلچسپی رکھتی تھی کہ امریکا مزید کیا دے گا لیکن شرکاءکے تبصرے یہ ہیں کہ شراکت داری یعنی زیادہ سے زیادہ پیسے ملنے کے معاملے پر کچھ نہیں ہوگا۔ اور جہاں تک اسٹریٹجی یا حکمت عملی کا تعلق ہے تو دونوں ممالک کی فوج پہلے ہی اس پر اتفاق کرچکی ہے۔ سویلین قیادت نے مذاکرات کا ڈول اس لیے ڈالا تھا کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ سیاسی اسکور کیا جائے۔ امریکا نے پاکستان سے اپنی محبت ظاہر کرنے کے لیے واشنگٹن میلے کی اجازت دیدی۔ امریکا کو اس محبت کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ تو آئے دن اپنے ڈرونز بھیج کر محبتیں نچھاور کرتا رہتا ہے۔ پھر یہ بلیک واٹر عرف ”زی ورلڈ وائیڈ“ بھی اس کی شفقت اور تعلق خاطر کی مظہر ہے، سی آئی اے اس کے علاوہ۔ امریکی نمائندہ خصوصی رچرڈ ہالبروک کا اصرار تھا کہ فوج کی شمولیت کے بغیر کوئی بات نہیں ہوگی۔ خود پاکستان کے اندر بھی ”بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر“ پاک فوج کی ہمت کو داد دینی چاہیے کہ اس نے پاکستان کے ۲۶ سال میں سے ۳۳ سال براہ راست اپنی جان پر جھیلے ہیں اور باقی عرصہ بھی پس پردہ ”راعی“ کا کام کیا ہے۔ یہ بڑا مشکل کام تھا جو بڑی آسانی سے کرلیا گیا۔ سول حکومت کو اپنی اسٹریٹجی یا حکمت عملی پر چلانا اور یہ تاثر دینا کہ ملک میں فوجی حکومت نہیں جمہوریت ہے بڑی بات ہے۔ پیارے یہ ہمیں سے ہے، ہر کارے و ہر مَردے۔ عزیزم شاہین صہبائی نے تو واشنگٹن مذاکرات کا سارا کریڈٹ جنرل کیانی کو دے دیا کہ اس بارات کے اصلی دولہا وہی تھے۔ پاکستانی سفارتخانے میں یوم پاکستان کی تقریب کا اہتمام حسین حقانی نے کیا لیکن وہاں وزراءخارجہ و دفاع کی حیثیت ”شامل باجا“ کی سی تھی۔ بڑی خاموشی سے آگئے، ہٹو بچو کا کوئی شور نہیں مچا اور جب جنرل کیانی آئے تو سائرن بجنے لگے۔ کس شیر کی آمد تھی کہ رن کانپ رہا تھا۔ تمام کیمروں کا رخ اسی رخ روشن کی طرف تھا۔ امریکی و پاکستانی مرد و خواتین انہی پر ٹوٹے پڑ رہے تھے۔ اپنے چوہدری احمد مختار ‘ جو بلحاظ منصب جنرل کیانی کے باس ہیں اور پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماﺅں کی کیفیت یہ تھی کہ پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں۔ سفیر پاکستان جناب حسین حقانی کا حال کئی بیویوں والے شوہر جیسا تھا۔ پاکستانی وفد میں شامل ایک رکن کا کہنا ہے کہ سفیر پاکستان کے پاﺅں دو کشتیوں میں ہیں اور ہاتھ تیسری کشتی میں ہے۔ یہ ان کا کمال ہے جس کی داد دینی چاہیے لیکن ہمیں یاد پڑتا ہے کہ حسین حقانی کے دو ہاتھ ہیں اور دونوں لمبے، موصوف رکن نے دوسرے ہاتھ کا ذکر نہیں کیا کہ وہ کہاں ہے۔ لگتا ہے جیب میں ہو، شاید اپنی ہی جیب میں۔ سول ارکان کی بے توقیری باعث تعجب نہیں۔ انہیں تو امریکا کو پیش کیے گئے ۶۵صفحات کے مندرجات کا علم بھی نہیں تھا۔ غیر فوجی عناصر کی خواہشات پر مبنی کوئی فہرست بھی نہیں تھی اور اس کی ضرورت بھی کیا ہے۔ اصل کام تو فوجی قیادت ہی کو کرنا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اہم شعبوں میں دیرپا ترقی کا روڈ میپ یا نقشہ امریکا تیار کررہا ہے۔ ہمارے سارے ہی نقشے امریکا کے تیار کردہ ہیں ان راستوں پر ہم بگٹٹ دوڑے چلے جارہے ہیں۔ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں۔ جناب شاہ محمود قریشی کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکا سے سول جوہری تعاون پر مذاکرات سے مطمئن ہیں لیکن اس پر مزید کوئی بات نہیں کریں گے۔ ان کا اطمینان اسی سے ظاہر ہے ورنہ ذرا سی بھی امید ہوتی تو وہ بڑھ چڑھ کر بیان کرتے۔ امریکا بار بار کہہ چکا ہے کہ سول جوہری ٹیکنالوجی جو بھارت کو دی گئی ہے، پاکستان کو نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ ایک غیر ذمہ دار ملک ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے، ایسا لگتا ہے کہ مذاکرات میں اس بار بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ شاید اسی لیے واشنگٹن روانگی سے پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر کے خلاف لاہور کی عدالت میں ایک اور درخواست دائر کردی گئی تاکہ پوچھنے پر بتایا جاسکے کہ دیکھیے صاحب ہم تو اب بھی ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور معاملہ ایک بار پھر عدالت میں ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں رسمی طور پر پاک امریکا تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جس کا مطلب ہے کہ ڈرون حملوں میں مزید تیزی آئے گی۔ پالیسیوں پر عمل کے لیے ایک اسٹیرنگ گروپ بنا دیا گیا۔ اب یہ لفظ اسٹیئرنگ پھر اٹک گیا۔ اس کا کیا ترجمہ کیا جائے؟ لغت میں تو اس کا مطلب خصّی بچھڑا ہے یا اپنی راہ لینا، جہاز چلانا وغیرہ۔ ان میں سے کونسا لفظ یہاں موزوں ہوگا۔ یقیناً پہلے والا نہیں، جہازی گروپ کہا جائے تو مشینی کتابت کی غلطی سے یہ جہادی گروپ بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ اپنی راہ لینے والی بات یہ ہے کہ امریکا بارہا پاکستان کو مشکلات میں ڈال کر اپنی راہ لے چکا ہے۔ تو کیا ترجمہ کیا جائے؟ ہمارے خیال میں تو ”بادنما“ مناسب رہے گا۔ جنرل کیانی کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک تعلقات عوامی تعلقات کے بغیر قائم نہیں ہوسکتے۔ شاید اسی لیے شاہ محمود قریشی عوامی تعلقات قائم کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ امریکا نے اپنے ہوائی اڈوں پر پاکستانیوں کے لیے اسکریننگ مشین بھی عوامی تعلقات کے فروغ کے لیے لگائی ہیں۔ پتا تو چلے کہ ان میں سے عوام کون ہے۔ جانے یہی سلوک پاکستانی وفد کے ساتھ بھی ہوا یا نہیں۔ نہیں ہوا تو امریکیوں کا یہ دعویٰ غلط کہ ان کے ملک میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔ پاک فوج کے سربراہ نے جمعرات کو سفارتخانے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا کو پیشکش کی ہے کہ پاکستان کی توانائی اور معیشت کی ضروریات پوری کردی جائیں تو فوج عسکری سازوسامان سے دستبردار ہوجائے گی۔ اسی کے ساتھ جنرل کیانی نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان اور سوات میں پاک فوج کی کامیابیوں سے امریکی رویہ میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ اس کامیابی کو آگے بڑھانے کے لیے امریکا فوجی سامان دینے سے گریز نہیں کرے گا بلکہ تُرنت دیدے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایران سے گیس پائپ لائن کا سمجھوتا طے پانے کے بعد امریکا پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں دلچسپی ظاہر کرے تاکہ ایران سے معاہدہ ختم کردیا جائے۔ بھارت کو بھی تو اسی طرح روکا گیا ہے۔ ان مذاکرات میں ایک بار پھر ایٹمی عدم پھیلاﺅ کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے جس کا ذکر اعلامیہ میں نہیں۔ امریکا اب بھی اس پر قائم ہے کہ پاکستان ایٹمی پھیلاﺅ کا مرتکب ہوا ہے۔ سول نیو کلیئر معاہدے کے حوالے سے ہیلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ بھارت سے تو برسوں کے مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ طے پایا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق تو پاکستان امریکا کا قدیم ترین دوست ہے، بھارت تو سوویت یونین کے ”پالے“ میں تھا لیکن پاک امریکا تعلقات کو پالا مار گیا۔ بہر حال دیکھتے ہیں کہ اس بحر کی تہہ سے کیا اچھلتا ہے، حکمران تو بہت اچھل رہے ہیں کہ بڑی کامیابی ملی ہے۔ ایک ہفتہ واشنگٹن میں گزارنا بجائے خود ایک کامیابی ہے اور کچھ نہیں تو غلط سلط انگریزی بولنے والے امریکی ہمارے شاہ محمود قریشی کے لب و لہجہ سے ضرور متاثر ہوئے ہوں گے۔ کیا ٹکا کر اور جما کر انگریزی بولتے ہیں کہ مدعا پیچھے رہ جاتا ہے، سننے والا لہجے کے سحر میں گم ہوجاتا ہے۔ مسٹر بش نے تو ہمارے وزیراعظم کی انگریزی کا مذاق اڑانے کی کوشش کی تھی او رجب وہ تقریر کررہے تھے تو آنکھ مار کر مسکرا رہے تھے۔ جناب گیلانی کو چاہیے تھا کہ سرائیکی میں خطاب کرتے پھر دیکھتے کہ کون آنکھ مارتا ہے مگر ہماری اپنی زبان ہی کہاں ہے اور جو ہے وہ دوسروں کے منہ میں ہے یا دوسروں کی زبان اپنے منہ میں۔ پاکستان کو بھارت کی طرح سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی دینے میں امریکا کو خوف ہے کہ بھارت ناراض ہوجائے گا۔ اس وقت بھارت کو خوش رکھنا امریکا کی سب سے بڑی مجبوری ہے، اسرائیل کو راضی رکھنے سے بھی زیادہ‘ کیونکہ امریکا اسرائیل کا تحفظ کرتا ہے جیسا کہ جوبائیڈن نے کہا بھی ہے اور بھارت خود اس خطہ میں امریکی مفادات اور اسٹریٹجی کا تحفظ کررہا ہے۔ باقی رہا خان نیٹ ورک تو یہ محض ایک بہانہ ہے۔ پاک امریکا مذاکرات تو آئندہ بھی چلتے رہیں گے لیکن اسی اثناءمیں خود پاکستان میں ہونے والے اسٹریٹجک مذاکرات فی الحال غت ربود ہوگئے۔ میاں صاحب عین وقت پر ”نعلی موڑ“ مڑ گئے۔( یہ یوٹرن کا خود ساختہ ترجمہ ہے، گھوڑے کی نعل بھی تو U کی شکل کی ہوتی ہے) معاملات اچھے بھلے چل رہے تھے۔ اٹھارہویں ترمیم پر اتفاق ہوگیا تھا۔ رضا ربانی کمیٹی میں (ن) لیگ کے اسحاق ڈار بھی شامل تھے اور ہر بات پر متفق تھے۔ اٹھارہویں ترمیم کا بل جمعہ کو پارلیمنٹ میں پیش ہونا تھا او رجناب زرداری کو پارلیمنٹ کے اجلاس سے تیسری مرتبہ خطاب کرنے کا اعزاز حاصل ہونے والا تھا لیکن ”پکائی تھی کھیر ہوگیا دلیہ“ (ن) لیگ کو شاید یہی بات پسند نہیں آئی کہ آئینی ترمیم کا کریڈٹ پیپلز پارٹی لے جائے۔ سیاست میں عموماً یہی کوشش ہوتی ہے کہ ”بلائیں زلف جاناں کی اگر لیں گے تو ہم لیں گے“ اب ایسا لگتا ہے کہ اس انحراف پر ساری بلائیں (ن) لیگ پر نازل ہوں گی۔ کوئی بھی اس حرکت کی حمایت کرتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ شاید جلد ہی جواب مل جائے۔
شاگردوں پر استاد کی عزت فرض ہے لیکن کیا ہمارے کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھانے والا ہر شخص استاد کہلانے کا مستحق ہے ‘ اس پر منگل تک تفصیلی گزارشات پیش کروں گا فی الحال استاد کے روپ میں ایک شیطان کے بارے میں روزنامہ امت میں شائع ہونے والے اس مضمون کو پڑھیے۔ شکریہ
جس طرح نیم حکیم خطرہ جان اور نیم ملا خطرہ ایمان ہوتا ہے اسی طرح آدھا سچ پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ ’ پاکستانی نیوز چینل ‘ ایکسپریس کے نیوز اینکر آدھا سچ بہت شاندار طریقے سے بول لیتے ہیں۔ یہاں دیکھیے یہ ویڈیو اس بات کا ثبوت ہے۔ قصہ یہ ہے کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ۱۴اپریل کو اچانک کوریڈور فور کے فلائی اوورکے معائنے پر چلےگئے۔ بطور ایڈمنسٹریٹر کراچی فضل الرحمن لالہ کا ہوناضروری تھا۔ شہری حکومت کی ویب سائٹ پر موجود تصویر بتاتی ہے کہ یہ دورہ رات کے اندھیرے میں کیا گیا ۔ تب تک لالہ دفتری کام سے فارغ ہو نے کے بعد گھر پہنچ کر غرق مئے ناب ہوچکے تھے۔ گورنر کے ساتھ جانا ضروری ہوگا اس لیے آنا تو پڑا لیکن چلنا بغیر کسی سہارے کے ممکن نہیں تھا۔ تصویریں کھنچی گئیں اور ویڈیو بنائی گئی۔ گورنر کے دورے کی تشہیر نہ ہو یہ ممکن نہیں تھا‘ ویڈیو نشر کرنے کے لئے بھیجی گئی تو اس میں لالہ کی آنکھوں کا خمار بھی نظر آیا۔
مبشر لقمان نے بالکل درست فرمایا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ایسے لوگوں پر کیوں نہیں ہوتا ۔ لالہ کے خمار کو دکھانا اور اس کو برا سمجھنا اور دکھانا آدھا سچ تھا۔ لیکن انہوں نے لالہ جی کا موازنہ مصطفیٰ کمال سے بھی کیا یعنی ایک طرف تو وہ عظیم آدمی اور دوسری طرف ان کی کرسی پر بٹھایا جانے والا یہ مدہوش شخص۔ نیو ز اینکر اتنے بھولے تو نہیں کہ وہ یہ نہ جانتے ہوں کہ ایڈمنسٹریٹر کس کا انتخاب ہیں؟ ان کو کس نے مقرر کیا؟ ان کو مصطفیٰ کمال کی کرسی پر کس نے اور کیوں بٹھایا؟کور کمیٹی کے جو اجلاس ہوتے تھے ان کی خبریں ایکسپریس میں بھی لگتی ہوں گی اور پھر انہوں نے یہ خبر بھی پڑھی ہوگی کہ متحدہ اور پی پی کی کورکمیٹی میں ایڈمنسٹریٹرز کے ناموں پر اتفاق ہوگیا۔
یہ تو سامنے کی خبر ہے کچھ خبر یں ہم مبشر لقمان کے ساتھ شیئر کردیتے ہیں جو یقینا ایکسپریس نشر نہیں کریگا۔ یہ خبریں واٹر بورڈ میں غیر قانونی بھرتیوں کی ہیں۔ اس وقت واٹر بورڈ کے ایم ڈی لالہ جی ہوا کرتے تھے دو سال قبل کی بات ہے ۔ غیر قانونی بھرتیاں کرنے والا لالہ اور بھرتی ہونے والے ہزاروں افراد متحدہ کے عہدیدار اور کارکنان جو اب تک تنخواہ واٹر بورڈ سے لیتے ہیں اور کام متحدہ کا کرتے ہیں۔ خبروں کے لیے یہاںیہاںیہاں اور یہاں کلک کریں۔
نعمت اللہ خان کا دور ختم ہوتے وقت واٹر بورڈ کے کل ملازمین کی تعداد چھ ہزار تھی ۔ اب یہ تعداد انیس ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ کیا یہ کم خدمت تھی جو لالہ نے ایم کیو ایم کی تھی؟ دراصل یہی ان کی کوالیفکیشن تھی‘ ستر فیصد ریونیو جنریٹ کرنے والے شہر کراچی کا ایڈمنسٹریٹر بننے کےلیے۔ یہ دراصل ریوارڈ بھی تھا لیکن مقصد صرف ریوارڈ دینا نہیں تھا۔ بلکہ ایک ایسے شخص کو لانا تھا جس کے اخلاقی دیوالیہ پن کو اس کی کمزوری بناکر اس سے مزید کام کرائے جائیں۔ یہ سٹی گورنمنٹ کی ویب سائٹ ہے جس پر مصطفیٰ کمال بطور واحد’ایکس سٹی ‘ ناظم کے موجود ہیں۔ شہری حکومت کے منتظم کا چہرہ لالہ جی کا ہے لیکن اصل میں ایم کیو ایم اب بھی موجود ہے۔
مبشر لقمان صاحب ! پورا سچ بولیں ورنہ آدھا سچ بولنے سے آپ کی پوزیشن خراب ہوگی۔
ڈاکٹرعامرلیاقت حسین
ڈھٹائی پر اَڑ جانا،جھوٹ پر ڈٹ جانااور حقائق مسخ کر کے اِترانا،چَلِتَّر بازوں کا پُرانا چلن رہا ہے …مجھے قطعاً حیرت نہیں ہوئی جب ”عالم آن لائن“ کے خصوصی پروگرام کے بعد ”جانگلوؤں“ کے ٹکڑوں پر پلنے والے تنک مزاج یکایک چَرچَرانے لگے…گویاکوڑے مارے جانے کی جعلی ویڈیو تووہ خارِ مغیلاں ثابت ہو ئی کہ بنانے اور دکھانے والے دونوں ہی کذب و ریا کی خارش کے سبب”راڑ“ مچا رہے ہیں…ویڈیو کے اَسرار کھلنے کے بعد بھی اِصرار ہے کہ یہ ”اصلی پری کادھاگا “ ہے …ایک ایک اداکار بے نقاب ہوکر بھی ”روشن خیالی کے نقاب“ میں چہرہ چھپائے بضد ہے کہ اُس کی محنت کا ”ثمر“رائیگاں نہ جائے…اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کس قدر جی جاں سے کوشش کی گئی تھی، زمین پر ایک ”چاند“ تراش کے اُسے ایک لاکھ روپے کے عوض”مظلوم بی بی “ بنایا گیا ، پھر پچاس پچاس ہزار روپے دے کر کنڈل جیسی ذلفوں والے طالبان سے اُسے پکڑوا کر اُلٹا لٹایا گیااور پھر کوڑے کی شڑاپ شڑاپ میں ایک دقیق منظر کو چند ہی دقائق میں کچھ اِس طرح محفوظ کیاگیاکہ جسے صرف رقیق القلب ”محسوس“ کرسکیں…پشاور کی ایک حویلی کے احاطے میں ”متعددایکسٹراز“ اور ”۴ مرکزی کرداروں“ کے ساتھ فلمائی گئی ”انتہائی مختصر دورانیے“ کی اِس غیر واضح ویڈیو فلم نے وہ کام کر دکھایاجو طویل دورانیے تک صدر رہنے والے مشرف بھی نہ کرپائے۔…
گو کہ ایک این جی او کی ”گوپیاں“ تو اپنا کھیل ، کھیل گئیں تھیں مگر ”راجا نل پر بپتا پڑی، بُھونی مچھلی جَل میں پڑی“ کے مصداق، بُرے دِن آئیں تو ہر کام میں نقصان ہوتا ہے…کم بخت سارے اداکار پکڑے گئے اور جو کچھ نگلا تھا سب اُگل دیا…اب تو بھیّا اُفتاد آن پڑی،سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کے لیے عالمی و داخلی کذابوں کو زعفران کے کھیت میں راست گفتاری کے ایسے ایسے جوہر دکھانے پڑے کہ ثانیہ بھی لوٹ پوٹ ہوکرشعیب سے کہہ بیٹھیں”اے میرے سانوریا! تُوجھوٹ بولنا اِن ہی سے سیکھ لیتا“…ایک ہی جست میں ایسی چوکڑیاں، قلابازیاں اور کودپھاند کے مظاہرے کیے جارہے ہیں کہ تاریخ کے بدنام کاذبین کی قبور کروٹوں کے شور سے گونج رہی ہیں …بہتر تھا کہ غلطی مان کر ایک نئی ابتدا کی جاتی،ازالے کے چراغ سے مایوسی کے سیاہ غار کو روشن کیا جاتا اور توبہ کی کرنوں سے ساون کے تمام اندھوں کی آنکھوں کا کامیاب آپریشن کیا جاتامگرجو کچھ ہوا برعکس ہوا…خطا تھی ہی نہیں تو مانی کیوں جاتی؟ایجنڈے پر عمل کرنا لغزش نہیں،منصوبوں کو عملی جامہ پہناناگناہ نہیں اور مقاصد کے حصول کے لیے اختراعات کے مَعبَد میں سازشوں کی پرستش کرناآوازِ سگاں نہیں…بس چہرے صاف ستھرے رہیں، کیونکہ اِن پر لوگوں کی نظر ہے حالانکہ ضرورت تو دل کی گندگیاں صاف کرنے کی تھی، کیونکہ اُس پر خدا کی نظر ہے …بہر کیف…اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ دنیا تو اُسے بھی دیتا ہے جسے پسند نہیں کرتا مگر دین صرف اُسے ہی دیتا ہے جسے پسند کرتا ہے …تو پھر کیجیے دین کے ساتھ استہزا اور اِس جعلی ویڈیو کی آڑ میں اُڑائیے اسلامی سزاؤں کا مذاق، جی بھر کے تمسخر کیجیے(معاذ اللہ) آیاتِ ربانی سے اور بھریے اپنی آخری آرام گاہ کو اُن انگاروں سے جو کفن نہیں، روح جلاتے ہیں…یہ ویڈیو تو ”بندر کا پھوڑا“ ہے جو کبھی اچھا نہیں ہوگا، پاپ کی یہ ناؤ، آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پَرسوں ضرور ڈوبے گی …مجھے ضرورت تو نہیں تھی کہ میں اِس ویڈیو کے جعلی ہونے کے دلائل پیش کرتامگرکچھ ”اعلیٰ نسلی“ اِس کے اصلی”ثمرات“ سے آگاہ ہیں اِسی لیے چراغ پا ہیں کہ کس گستاخ نے اِسے نقلی ثابت کرنے کی جرأت کی ؟ایک پُرہول ماحول خراش کر دن بھر کی پُرگوئی کو وہ یونہی توضائع نہیں ہونے دیں گے اور جھوٹ کی آخری سسکی تک اِسے سچ بنانے کے لیے لڑیں گے
مجھے یقین ہے کہ میرے پیش کردہ دلائل کے بعد کئی پھاپھا کٹنیاں مجھے پھاڑ کھانے دوڑیں گی ،ویسے بھی یہ ایک چو مُکھی لڑائی ہے لیکن لڑنا بھی ضروری ہے ورنہ تو ان کی ریا کے کثیف بھبھکے صداقت کے درپن کو دھندلا کردیں گے
…
جھوٹ کیوں بولیں فروغِ مصلحت کے نام پر
زندگی پیاری سہی لیکن ہمیں مرنا تو ہے
لیجیے جناب اِس ویڈیو کے جعلی ہونے کی سب سے پہلی دلیل تو یہی ہے کہ جناب عبدالرحمن ملک صاحب نے فرمایا ہے کہ یہ اصلی ہے… آج کے پاکستان کا قاعدہ یہی ہے کہ کسی بھی شے کی ضد جاننے کے لیے ”گفتارِ ملک“ سے استفادہ کیا جائے…مثلاً وہ فرمائیں دن، تو سمجھ لیجیے رات ہے ، وہ کہیں کہ ٹارگٹ کلنگ رُک گئی ہے تو یقین رکھیے کہ کسی بھی وقت شروع ہوا چاہتی ہے اور اگر وہ کہہ دیں کہ خود کش حملے ختم ہوگئے ہیں تو ڈریے کہ کون کس وقت کہاں پھٹ جائے…
دوسری دلیل، موبائل کیمرے کے نحیف و نزار مائیکروفون سے کیچ کی ہوئی وہ دردناک چیخیں ہیں جن کی کوالٹی اتنی صاف اور واضح ہے کہ اب سیاسی جلسوں میں بڑے بڑے لاؤڈ اسپیکر لگانے کے بجائے اِن”منفرد طالبانی موبائل فونز “پر تجربے کیے جارہے ہیں،اِتنے سے قد پہ آواز کا بوجھ سنبھالنے میں اِنہیں زبردست ملکہ حاصل ہے چنانچہ آئندہ سیاسی ریلیوں اور عوامی اجتماعات میں قائدین اِسی موبائل کے مائیک کے ذریعے خطاب کیا کریں گے ،اب ظاہر ہے کہ جو موبائل بنا کسی بھنبھناہٹ کے مظلومہ کی چیخ سنوا سکتا ہے وہ کسی رہنما کی پکارعوام تک نہ پہنچائے یہ ممکن ہی نہیں
تیسری دلیل ”استقامتِ آہ و بکا“ ہے ، آواز میں کیاغضب کا جوار بھاٹا ہے کہ ایک سیکنڈ آگے پیچھے نہیں ہوتی،جتنی بلند، اِتنی ہی پست، کہیں جہری، کہیں سِرّی گویاکسی صوتی گراف کے عین مطابق بھرپور ٹائمنگ کے ساتھ چاند بی بی کے اِس رونے میں تکنیکی ہاتھ دھوئے گئے ہیں…
چوتھی دلیل چاند بی بی کے پاؤں پکڑنے والے ”طالب“ کا حکم کے طالب کی طرح بار بار کیمرے کی جانب دیکھنا ہے کہ کب ڈائریکٹر صاحب یا صاحبہ ”کٹ“ کہیں اور وہ خاتون کے پاؤں چھوڑ دے تاکہ روانگی کا سین عکس بند کیا جاسکے۔
پانچویں دلیل کیمرے کا ’’اسٹیبلشڈ شاٹ‘‘ پر قائم رہنا ہے ، مجال ہے جو کیمرہ چار کرداروں کے ”ماسٹرشاٹ“ سے ہٹ جائے ،اردگرد کے ماحول اور لوگوں کے تاثرات کی فلم بندی”ممنوع“ تھی ، جتنی جگہ کا کرایہ دیاگیا تھا، دیانت داری سے صرف اُسی مقام کو کیمرے میں محفوظ کیاگیا…
چھٹی دلیل کوڑے مکمل ہوتے ہی ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر ہائی ہیل والی چاند بی بی کا پیشہ وارانہ انداز میں اُٹھ کر کھڑے ہوجانا اور فوراً ہی متعین کونے کی جانب رخ کرلینا ہے ، البتہ چیخوں کی ڈبنگ شاید’’پروجیکٹ‘‘ میں پڑی رہ گئی اور ساؤنڈ فائل بند نہیں ہوسکی اِسی لیے چاند بی بی جاتے جاتے بھی اُسی طرح چیختی رہیں جس طرح کوڑے کھاتے ہوئے چلا رہی تھیں…
ساتویں دلیل سپریم کورٹ کے حکم پر تحقیقات کرنے والے مالا کنڈ کے سابق کمشنر سید جاوید کا وہ ”جرم“ ہے جس کے مطابق اُنہوں نے اِس ویڈیوکو جعلی قرار دے کر اِس کے ڈائریکٹر اور کرداروں کی تلاش شروع کردی تھی…
آٹھویں دلیل، مالا کنڈ کے نئے ڈی پی او قاضی جمیل صاحب کی وہ ”تصدیق“ ہے جس میں ڈوب کر وہ فرما رہے ہیں کہ وہ ویڈیو جعلی تھی اور اِسے اسلام آباد کی ایک این جی او نے بنایا تھا…
نویں دلیل، ریلیز سے 9ماہ قبل تیار کی جانے والی اِس ویڈیو کو ”پراسرارمسلم خان“ کی جانب سے ”قبول“ کرتے ہوئے یہ اقرار کرنا ہے کہ ”سزا تو دینا ضروری تھی مگر طریقہ غلط تھا“، یہ وہی مسلم خان ہیں جنہوں نے امریکا میں ایک جنونی کے ہاتھوں متعدد افراد کے قتل اور دھماکے کو بھی اپنا ”کارنامہ“ قرار دیا تھا جس کی دوسرے دن امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ کہہ کر تردید کردی تھی کہ ”مسلم خان اور بیت اللہ محسود کو معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں“…
دسویں دلیل براہِ راست اِس ویڈیو کو”نقلی“ کہنے سے گریز کرتے ہوئے سرکاری طور پر اِس جملے پر اکتفا کرنا ہے کہ ”کوڑے مارنے والوں کی تلاش جاری ہے، ابھی تک کسی نے خود آکر یہ نہیں کہا کہ یہ ویڈیو اُس نے بنائی ہے “…واہ واہ کیا کہنے ہیں
میں یہ نہیں کہتا کہ اسلام کے اِن نام نہاد ٹھیکے داروں نے گلے نہیں کاٹے یا اِن قصائیوں نے باقاعدہ فلمیں بنوا کر لوگوں کو ذبح نہیں کیا…بالکل کیا، یقینا کیا اور یہ جانور کسی بھی طور انسان کہلانے کے مستحق نہیں…مگر…جس ویڈیو کی آڑ میں مقصد عورت کی بھلائی نہیں بلکہ اسلام کی برائی ہو،اسلامی سزاؤں کو ظالمانہ اور بے رحمانہ قرار دے کر ”ہائے اللہ، اف ، اوئی، توبہ توبہ“ کی طے شدہ آوازیں نکالنا ہواورامریکا کو بیچی گئی اپنی بیٹی عافیہ کو بھلا کر اسلام آباد میں خریدی گئی ”چاند بی بی“ کے جسم پر اسکرپٹ کے تحت پڑنے والے کوڑے یاد دلا کر آپریشن پر اکسانا ہووہ اِس لیے بھی کسی طور جائز نہیں کہ کوئی بھی ”فعل حرام“ نیت کے اچھے ہونے سے حلال نہیں بن سکتا، شریعت اسلامی میں حکم عمل پر لگایا جاتا ہے ، نیت پر نہیں…جس طرح جہاد کی نیت اور ارادہ کرلینے سے فساد یا نظام عدل کے نفاذ کی نیت سے دہشت گردی اور قتل و غارت جائز نہیں ہوسکتے بالکل اِسی طرح رحم کے مقاصدکبھی جھوٹی ویڈیو بنا کر حاصل نہیں ہوسکتے…پاک منزل کبھی ناپاک راہ سے نہیں ملتی اورخیر، خیر ہی کے راستے سے آتا ہے ، شر کی راہ سے نہیں۔
روز اخبارات کے صفحات پر کئی بڑی باتیں چھوٹی خبروں کی صورت میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ترجیحات کے علاوہ نیوز ایڈیٹرز کی کوتاہ بینی بھی اس کا سبب ہوسکتی ہے۔ پاکستانی میڈیا کے نیوز رومز میں بیٹھے افراد کے ساتھ ایک نشست میں اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ترجیحات اور کوتاہ بینی میں سے کون سا عنصر غالب ہوگا۔
معروف نیوکونز ڈینیل پائپس کے خیال میں وہ زمانہ گیا جب جنگوں کے فیصلے میدانِ جنگ میں موجود سپہ سالار کیا کرتے تھے۔ اب نیوز رومز میں بیٹھے افراد ہی دراصل شہسوار ہیں جن کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔ یہ بات امریکی اخبارات میں بیٹھے خبر سازوں پر تو صادق آتی ہے لیکن پاکستانی نیوز ایڈیٹرز صرف ابلاغی مزدور معلوم ہوتے ہےں جو خبر سازی کے فن کے تو ماہر ہےں لیکن خبر کے اندر کی خبر‘ اور مواد میں خبریت کے ادراک سے عاری۔ وہ دیہاڑی مار ہیں جوکسی کے لکھے ہوئے اسکرپٹ میں خاکے بھرتے ہیں۔ یہ تو اکثریت کا حال ہے۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو ادراک رکھتے ہیں لیکن اس ادراک کی ڈالروں میں قیمت وصول کرلیتے ہیں۔
خبر کے اندر کی خبر کو تلاش کرنے کے دعویداروں اور ہر خبر پر نظر رکھنے والوں سے ابلاغ عامہ کا یہ طالب علم سوال کرتا ہے کہ اندر کی خبر کیا ہے، اور کس کی خبر پر اُن کی نظر ہے؟ اس بات کا جواب صحافت کو انڈسٹری کا درجہ دے کر خبر کا کاروبار کرنے والے تو شاید نہ دے سکیں لیکن کسی ٹی وی چینل کے دن بھر کے نیوز بلیٹن اور اخبارات کا تنقیدی مطالعہ بلاشبہ اس سوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔ خبریت کا پیمانہ‘ اہم اور غیر اہم کی چھان پھٹک‘ سرخی اور مناسب جگہ کا انتخاب…. یہ سب معلومات کو درست خبر میں تبدیل کرنے کے عمل کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ بڑی خبر کا چھوٹا بن جانا اور چھوٹی خبر کو بڑا بناکر پیش کرنا یا تو شعوری طور پرکیا جاتا ہے یا پھر لاشعوری! اس لیے یہ تعین بھی مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ حرکت کسی کی نیت کا فتور ہے یا پھر نااہلی کا نتیجہ! لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا میں صرف یہی ہوتا ہے؟ صرف بڑی خبریں چھوٹی بن جاتی ہےں؟ جی نہیں! یہاں کچھ مثالیں ایسی موجود ہیں جن کو دیکھتے ہوئے اس بدگمانی کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ یہ نااہلی کا نتیجہ نہیں بلکہ شعوری کوشش ہے۔
اپریل2009ءکو سوات کے علاقے کبل میں ایک نوعمر لڑکی کو سرعام کوڑے مارنے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ طالبان کے حُلیے میں ایک شخص لڑکی کی پشت پر کوڑے برسا رہا ہے جبکہ ایک شخص نے اس کے پیروں اور دوسرے نے جسم کے اوپر کے حصے کو دبوچا ہوا ہے۔ اس موقع پر درجنوں افراد دائرے میں کھڑے اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔ لڑکی چیختی چلاّتی پشتو میں فریاد کرتی ہے کہ ”میرے باپ کی توبہ ، میرے دادا کی توبہ آئندہ ایسا نہیں کروں گی‘ خدا کے لیے کچھ رحم کرو“۔
اس ویڈیو کے آتے ہی ٹی وی چینلز پر چلنے والی خبریں، خبریں نہیں رہیں۔ ان خبروں کی معنویت اور خبریت یکایک ختم ہوگئی۔ اب صرف ایک خبر رہ گئی‘ سوات میں کوڑے مارنے کی ویڈیو۔ دینی نظام کے قیام کی دعویدار ”تحریک طالبان سوات“ نے سوات میں لڑکی پر کوڑے برسائے‘ ظلم کی انتہاءہوگئی۔ مذہب کے نام پر نظام آیا تو درندگی کے یہی مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ کوڑے مارنے کی وحشیانہ سزا اور وہ بھی کئی مردوں کے سامنے بیچ سڑک پر…. یہ ہے اسلام کا نظام عدل! کیا اسلامی نظام کے نفاذ کے بعد خواتین کو کوڑے مارے جائیں گے؟ کیا سوات میں اسلامی نظام عدل کے نفاذ کے بعد وحشت و دہشت کے مناظر دیکھنے کو ملیں گے؟ یہ سوالات اتنی دفعہ کیے گئے کہ جیسے اصل مسائل کی جڑ ہی اسلامی نظام عدل تھا جو ابھی نافذ بھی نہیں ہوا تھا۔ ٹی وی چینلز اور اخبارات ہی کیا…. یہ اتنا بڑا واقعہ تھا کہ صرف ایک دن بعد ہی سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس کا ازخود نوٹس لیا۔ اور پھر لندن کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ سے لے کر رائیونڈ تک اور بلاول ہاﺅس سے ولی باغ تک ہر جگہ سے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نیوز رومز کو فیکس موصول ہونا شروع ہوگئے۔
تاہم ایک سال بعد یہ ویڈیو جعلی نکلی۔ اداکاری کرنے والے گرفتار اور بنانے والی ثمر من اللہ جو چیف جسٹس کی معزولی کے وقت ان کے ترجمان اطہر من اللہ کی بہن ہے‘ امریکا فرار ہوگئی۔ ایک ویڈیو جس کی تصدیق کرنا مشکل تھا، بڑی خبر بنی۔ لیکن وہ ثبوتوں کے ساتھ جعلی نکلی تو خبر نہیں۔ یہاں پھر وہی سوال اٹھتا ہے کہ ہمارے میڈیا کی نظر کس کی خبر پر ہے؟ اور خبر کے اندر کی کیا خبر ہے؟ مقام افسوس تو یہ ہے کہ اس کا ’نوٹس‘ بھی نہیں لیا گیا۔ شاید اس لیے کہ میڈیا نے اسے جعلی قرار نہیں دیا؟
عراق کے مضافاتی علاقے میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹروں کی نہتے مسلمان شہریوں پر فائرنگ کی ویڈیو منظرعام پر آئی تو یہ خبر بھی پاکستانی میڈیا کے لیے خبر نہ بن سکی۔ سوات ویڈیو کے جعلی ثابت ہونے کی خبر نہ چلانے کی طرح یہاں بھی جان بوجھ کر اس کو خبر نہیں بنایا گیا کہ اس سے ان کے خیال میں مسلم دنیا کے بچوں میں”پھول“ تقسیم کرنے والے امریکا کے خلاف منفی جذبات جنم لیں گے۔
انتہا تو یہ کہ امریکا کے بارے میں رائے عامہ کو بہتر بنانے کے لیے ”امریکی آواز“ پاکستانی ٹی وی اور ایف ایم چینلز سے سنوائی جاتی ہے لیکن امریکا پاکستانی آواز کو سننے پر تیار نہیں ہے۔ اس وقت دو نجی مگر موثر ٹی وی چینلز پر امریکی سرکاری نشریاتی ادارے ”وائس آف امریکا“ کا اردو پروگرام نشر کرکے پاکستانیوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ سرکاری ریڈیو پر اس کا پروگرام ڈیوہ احتجاج کے بعد بند کردیا گیا لیکن ہر کسی پر تنقید کو اپنا حق سمجھنے والے نجی چینلز اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کو ’کنسپریسی تھیورسٹ‘ قرار دے کر ان کے احتجاج کو نظرانداز کرکے گمراہ کن پروپیگنڈے کے تشہیر کار بند رہے ہیں۔ ایک طرف یہ گمراہ کن پروپیگنڈہ چل رہا ہے تو دوسری طرف بڑی بڑی خبروں کو ’ڈسٹ بِن‘ کی نذر کیا جارہا ہے اور پھر دعویٰ یہ کہ میڈیا آزاد ہے۔ ہاں آزاد ہے مگر اہلِ پاکستان کو گمراہ کرنے کے لیے‘ یک طرفہ موقف پیش کرنے کے لیے۔ ہر خبر پر نظر رکھنے والوں کو جب ایسی کوئی خبر نظر آتی ہے تو ان کی نظر خبر پر پڑنے کے فوراً بعد ’ڈسٹ بِن‘ پر پڑجاتی ہے۔
دلچسپ خبر یہ آئی ہے کہ پاکستان کے ایک ابلاغی گروپ نے نیو یارک ٹائمز کے گلوبل ایڈیشن ’انٹرنیشنل ہیرالڈٹریبیون‘ کے اشتراک سے ”دی ایکسپریس ٹریبیون“ کا اجراءکردیا ہے جو اس گروپ کے اخبار کے 13اپریل کے ادارتی نوٹ کے مطابق ”صرف انگریزی زبان کا ایک اخبار نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔“ یہ مشن کیاہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے اخبار آگے لکھتا ہے: ”یہ روشن خیالی‘ خرد افروزی اور جمہوری اقدار کی حمایت کا مشن ہے۔ ہم قانون کی حکمرانی کے لیے وقف ہیں‘ ہماری ٹیم کا یہ صحافتی عہد ہے کہ ان کے قلم اور صلاحیتیں غربت‘ استحصال‘ انتہا پسندی‘ کٹھ ملائیت‘ عدم رواداری اور دہشت گردی کے خاتمے کی جدوجہد کے لیے وقف ہوں گی۔“
اخبار مزید لکھتا ہے ”اس (ایکسپریس ٹریبیون) کی ادارتی ٹیم وسیع النظر‘ جہاندیدہ‘ تجربہ کار‘ ذہین اور قومی جذبے سے سرشار سینئر صحافیوں پر مشتمل ہے جن کی کوشش ہوگی کہ سیاست‘ معیشت‘ سماج‘ خارجہ پالیسی‘ سرمایہ کاری‘ کھیل اور فنون لطیفہ میں لبرل‘ روشن خیال‘ آزادانہ‘ فکر انگیز اور جامع پریز نٹیشن کے ساتھ رپورٹیں شائع ہوں۔“
لبرل ازم کیا ہے اور رپورٹیں لبرل کیسی ہوں گی اس پر بحث آگے…. پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ادارتی نوٹ مزید کیا بتاتا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان میںایک ’اقلیتی مائنڈسیٹ‘ کی کارروائیوں کے باعث منافرت‘ تعصب‘ دہشت گردی‘ مذہبی انتہاپسندی اور تشدد کو فروغ ملا ہے، اس کے علاوہ بیروزگاری اور مہنگائی کے مسائل ہیں۔ اور ان سب مسائل کا حل وہ یہ بتاتا ہے: ”ایکسپریس ٹریبیون کا اپنے قارئین سے یہ عہد ہے کہ وہ انتہا پسندی کے خاتمے اور معیشت کو استحکام دینے کے لیے ملک کے70فی صد نوجوانوں کی صلاحیتیوں کو بروئے کار لانے کے لیے آزادانہ اور ترقی پسندانہ خیالات کے فروغ میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا۔“
اخبار کے شذرہ نے ”مذہبی انتہا پسندی“ کو بے روزگاری‘ تعصب اور منافرت سمیت پاکستان کی ہر بیماری کی جڑ قرار دیا اور اس کی اصلاح کے لیے ”آزادانہ اور ترقی پسندانہ“ خیالات کو تریاق ٹھیرایا جیسے کہ پاکستان کی سب سے بڑی بیماری بدعنوانی‘ اقربا پروری‘ پولیس اور ریاستی اداروں کے تشدد کے ذمہ دار مذہبی رجحان رکھنے والے لوگ ہوں۔ کسی ذہین اور محب وطن کے لکھے اس ادارتی نوٹ سے بجا طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا جانا چاہیے کہ آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے دیگر بدعنوان رہنما اور امریکی چوکھٹ پر سجدہ ریز میاں نوازشریف‘ جعلی لائسنس جاری کرنے والے بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران‘ گاڑی کے ٹائروں پر سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے خرچ کرنے والی میڈم اسپیکر‘ ریلوے کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے والے غلام احمد بلور‘ خون میں لت پت دہشت گردی کے شکار سرحد کے عوام سے ”ایزی لوڈ“ کروانے والے حیدرہوتی‘ بجلی چور‘ اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے بینکوں کے قرض خور سیاستدان سب کے سب جمعہ کو مساجد میں خطبہ دیا کرتے ہیں؟
اداریہ لبرل ازم اورآزادانہ خیالات کی بات کرتا ہے جو یقیناً اس کے شراکت دار نیویارک ٹائمز کے مقاصد میں بھی شامل ہے۔ یہ نیویارک ٹائمز کی لبرل رپورٹنگ ہی تو تھی کہ ’عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار پائے جاتے ہیں‘۔ اور کیا اس نے غلط کہا تھا؟ بعد میں تلف کیے جانے والے ہتھیار وہ لاکھوں معصوم بچے بڑے ہوکر تباہی تو پھیلا سکتے تھے؟ امریکا مسلمانوں کے بچوں کو ہی تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار سمجھتا ہے۔
امریکا دراصل مسلمانوں کی نسل کشی کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ عراق‘ فلسطین‘ چیچنیا‘ افغانستان اور پاکستان…. سب جگہ مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ خون بہانے والا امریکا ہے۔ کہیں وہ خود مار رہا ہے، کہیں مسلمانوں سے مسلمانوں کو مروا رہا ہے۔ مارنے والوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ پاکستانی میڈیا ”لبرل ازم“ اور ”آزادانہ خیالات“ پر مبنی رپورٹنگ کرتا ہے، جہاں اس خبر کی جگہ نہیں بنتی جس کے مطابق ”خیبر ایجنسی کے علاقہ تیراہ میں پاک فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے71 بے گناہ مسلمان تھے۔ ان کا ’دہشت گردوں‘ سے کوئی کام تھا نہ ہی انتہا پسندی سے کوئی تعلق۔ تعلق تھا تو فوج اور ایف سی سے۔ اکثر شہدا کے بچے فوج اور ایف سی کے ملازم ہیں۔ “
ہفتہ کی صبح خیبر ایجنسی میں پاکستانی جیٹ طیاروں کی اندھادھند بمباری سے71 افراد کی ہلاکت کے بارے میں تصدیق ہوگئی ہے کہ وہ پرامن شہری تھے اور ان کا کوئی تعلق مبینہ دہشت گردوں یا انتہا پسندوں سے نہیں تھا۔ حکومت نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے شہداءکے ورثاءکو ایک لاکھ 25ہزار ڈالرکے برابر معاوضہ دیا ہے جس سے ثابت ہوگیا ہے کہ مرنے والے بے گناہ تھے۔ تاہم فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہرعباس نے پیر کو بھی اصرار کیا ہے کہ پاک فضائیہ کے حملے میں کوئی شہری نہیں مارا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کے پاس پکی اطلاعات تھیں کہ عسکریت پسند اس مقام پر جمع ہورہے ہیں جہاں حملہ کیا گیا ہے۔ تاہم خیبر ایجنسی اے پی کے مطابق فوج ہمیشہ یہی دعویٰ کرتی ہے کہ حملوں میں کوئی بھی شہری نہیں مارا گیا۔ ہفتہ کی صبح کو اس حملے میں زخمی ہونے والے 2افراد نے پشاور کے اسپتال میں بتایا کہ پہلا حملہ علاقے کے ایک بزرگ کے گھر پر ہوا، اور جب مقامی لوگ مدد کودوڑے تو دوسر احملہ کردیا گیا۔ علاقہ کے شہری گل خان نے بتایا کہ گاﺅں سراوالا کے لوگوں کا کوئی تعلق عسکریت پسندوں سے نہیں ہے اور بیشتر گھروں کے نوجوان سیکورٹی فورسز میں کام کررہے ہیں‘ سب سے پہلے حامد خان کے گھر پر بمباری کی گئی جس کے 2لڑکے پیرا ملٹری فرنٹیر کور میں کام کررہے تھے‘ پولیٹیکل افسر نے تصدیق کی ہے کہ شہید ہونے والے 71افراد کے خاندانوں کو معاوضہ ادا کردیا گیا ہے۔ ایک زخمی ولی باز خان نے بتایا کہ جب پہلا حملہ ہوا تو ہم مدد کو دوڑے اور ایک زخمی عورت کو سب نکال رہے تھے کہ پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے دوسرا حملہ کردیا۔ اس نے بتایا کہ پیر کو خیبر پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک افسر نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس آکر اسے اس کے 4رشتہ داروں کی ہلاکت کا معاوضہ 220 ڈالر پیش کیا ہے۔ افسران نے اس سانحہ پر معذرت بھی کی، ہلاک ہونے والوں میں میرا بھائی بھی تھا۔ اپریل کے مہینے میں اب تک پاک فوج کی طرف سے 273 پاکستانی ہلاک کیے جاچکے ہیں‘اب تک ہزاروں پاکستانیوں کو مارا جاچکا ہے‘ لیکن کہا جاتا ہے اور فوج کے ترجمان بضد ہےں کہ مارے جانے والے انسان نہیں‘ معاف کیجیے بے گناہ نہیں بلکہ سب کے سب دہشت گرد تھے۔ جی ہاں سب دہشت گرد تھے کیوں کہ میڈیا نے کہہ دیا کہ وہ دہشت گرد تھے۔ قتل ہونے والوں کا بے گناہ ثابت ہونا ہمارے میڈیا کے نزدیک خبر نہیں ہے، اور ہر وہ خبر‘ خبر ہے جسے پاکستانی میڈیا خبر کہتا ہے۔ اس کا نوٹس بھی لیا جاتا ہے۔ لیکن میڈیا کے قاری اور ناظر دونوںکو اب اس بات کا ادراک ہوجانا چاہیے کہ ہمارے میڈیا کی کس خبر پر نظر ہے۔
یہ مضمون جسارت کے سنڈے میگزین میں شائع ہوا ہے ۔ گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں۔
اسرائیل کے خلاف لب کشائی کا ”سنگین“ جرم
وائٹ ہاﺅس کی دیرینہ خاتون صحافی بے دخل
ہیلن تھامس کی وائٹ ہاﺅس سے57سالہ وابستگی بھی ان کو نہ بچاسکی
ہیلن کی سالگرہ پر گنگناتے ہوئے کیک پیش کرنے والے بارک اوباما کو بھی ان کی مذمت کرنا پڑی
اس واقعے نے امریکا میں ” اظہارِ رائے کی آزادی“ کا پول کھول دیا‘ فیس بک پر پابندی کے مخالفین کہاں ہیں؟
……..٭٭٭……..
تحریر:ابوسعد
……..٭٭٭……..
بس یہی تو کہا کہ ”ان سے کہیں کہ وہ فلسطین سے نکل جائیں“۔ اور جب پوچھا گیا کہ یہودی کہاں جائیں؟ تو انھوں نے جواباً کہا اور بالکل ٹھیک کہا کہ ”انھیں اپنے گھر جانا چاہیے…. پولینڈ‘ جرمنی‘ امریکا یا پھر دوسرے ملکوں کو چلے جانا چاہیے جہاں سے وہ آئے تھے۔“ انہوں نے ربی کو یاد دلایا کہ ”یہ لوگ (فلسطینی) مقبوضہ ہیں‘ اور یہ انہی کی سرزمین ہے‘ یہ جرمنوں اور پولینڈ والوں کی سرزمین نہیں“۔
ایک دفعہ صحافت سے ریٹائرمنٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا: ”میں سمجھتی ہوں کہ میں ساری زندگی کام کرتی رہوں گی۔ جب آپ کو (اپنے کام میں) مزہ آتا ہو‘ تو پھر اس کا بند کرنا کیسا؟“ اس پایہ کی خاتون کے لیے اپنے کام سے فراغت موت تھی۔ آج اُن کا صحافتی کیریئر ختم کرکے اُن سے اُن کی ”زندگی“ چھین لی گئی ہے…. اسرائیل کے خلاف بات کرنے کے جرم میں‘ اُس ملک میں جہاں سے ”آزادی_¿ اظہارِ رائے“ اور ”آزادی_¿ صحافت“ کے ”صاف وشفاف“ چشمے پھوٹ کر پوری دنیا کو ”سیراب“ کرتے ہیں۔
انہوں نے ایک بار یہ بھی کہا تھا کہ: ”وائٹ ہاﺅس امریکی عوام کی ملکیت ہے۔“ اور آگے کہا: ”کم ازکم میں نے یہ سیکھا ہے تاریخ کی کتابوں سے اور جان ایف کینیڈی سے لے کر آج تک کے صدور کو کور کرتے ہوئے۔“ آج اُن کا کہا ہوا غلط ثابت ہوا۔ 27 مئی کو وائٹ ہاﺅس میں منعقدہ ”جیوش ہریٹیج سیلبریشن“ ان کے لیے ان تمام تجربات اور تاریخی کتب کے مطالعے سے زیادہ عملی ثابت ہوئی۔ اس موقع پر لی گئی اُن کی رائے نے امریکا میں ایک سونامی برپا کردیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ لگ بھگ 6 دہائیوں سے امریکی صحافت میں رہنے کے باوجود انہیں ایسے بے دخل کردیا گیا جیسے کبھی وہ اس کا حصہ تھی ہی نہیں۔
غیر معمولی شہرت حاصل کرنے والی ہیلن تھامس کو وائٹ ہاﺅس جہاں وہ گزشتہ پانچ دہائیوں سے صدارتی نمائندہ_¿ خصوصی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھیں‘ نکال باہر کردیا گیااور وہ بھی ان کی طرف سے اپنی ”غلطی“ تسلیم کیے جانے اور اس پر معافی طلب کرنے کے باوجود۔ وہ کوئی معمولی خاتون نہیں ہیں۔ بعض لوگ انہیں صحافت کی ہیروئن جبکہ امریکی صدر بارک اوباما اپنی ذات میں ایک ’ادارہ‘ قرار دے چکے ہیں۔ جبکہ پیدائش کی تاریخ اور مہینہ ایک ہونے کے سبب دونوں اپنی سالگرہ بھی ایک ساتھ مناچکے ہیں۔
گزشتہ سال 4 اگست کو بارک اوباما کی 48ویں اور ہیلن تھامس کی 89 ویں سالگرہ کے موقع پر وائٹ ہاﺅس میں تقریب منعقد کی گئی۔ امریکی صدر نے ہیلن تھامس کو سالگرہ کی مبارکباد دینے کا منفرد انداز اختیار کیا‘ صدر اوباما کیک ہاتھ میں لیے گاتے ہوئے بریفنگ روم میں داخل ہوئے اور ہیلن تھامس کو سالگرہ کی مبادکباد دی۔
اوباما نے جنہیں ’ادارہ‘ قرار دیا تھا وہ شرمناک امریکی اقدار کے ہاتھوں اب ختم ہوچکا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں‘ کیوں کہ جس نے ادارے کا درجہ پایا ہو وہ یقینا غیر معمولی خاتون ہوگی۔ 4 اگست1920ءکو پیدا ہونے والی ہیلن تھامس نے 57 برس تک بطور نمائندہ_¿ خصوصی خدمات انجام دینے کے بعد یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل کے لیے وائٹ ہاﺅس بیورو چیف کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ جان ایف کینیڈی سے لے کر موجودہ صدر اوباما تک ہر امریکی صدر کی پریس کانفرنس کو کور کیا۔7 جون 2010ءکو زبردستی ریٹائر کی جانے والی ہیلن نیشنل پریس کلب کی پہلی خاتون افسر کے علاوہ وائٹ ہاﺅس کے نامہ نگاروں کی تنظیم ’وائٹ ہاﺅس کو ریسپانڈیڈ ایسوسی ایشن‘ کی پہلی خاتون ممبر اور صدر رہیں۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز واشنگٹن میں ایک چھوٹے سے اخبار میں ’کاپی گرل‘ کے طور پر کیا۔ واشنگٹن کے اس معمولی سے اخبار سے وہ وائٹ ہاو_¿س کے بریفنگ روم میں سب سے اگلی نشستوں کی درمیان والی کرسی تک پہنچیں۔ اس کرسی پر اب ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں ان کا نام کندہ کیا گیا ہے۔ ہیلن نے صدر جان ایف کینیڈی کے ابتدائی دور میں وائٹ ہاو_¿س کی رپورٹنگ شروع کی تھی۔ ابتدا میں ہیلن تھامس اس روزانہ بریفنگ میں باقاعدگی سے جانے لگیں۔ ہیلن نے دس امریکی صدور کے ادوار میں وائٹ ہاو_¿س کی رپورٹنگ کا اعزاز حاصل کیا۔ انہیں نیشنل پریس کلب کی بھی پہلی خاتون افسر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ہیلن ستاون برس تک یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل کے ساتھ وابستہ رہیں۔ انہیں سابق صدر بش کے دور میں عراق اور افغانستان پر بے لاگ سوالات کرنے پر شہرت حاصل ہوئی۔ وہ وائٹ ہاﺅس پریس کور کی واحد رکن تھی جن کی وائٹ ہاﺅس بریفنگ روم میں ذاتی نشست تھی۔ واضح رہے کہ یہاں نشستیں افراد کے بجائے ابلاغی گروپوں کو مختص کی جاتی ہیں۔
ہیلن واحد اخباری خاتون صحافی تھیں جو1972ءمیں رچرڈنکسن کے تاریخی دورہ_¿ چین پر اُن کے ساتھ رہیں۔ تند وتیز سوالات کے لیے مشہور ہیلن تھامس امریکا ہی میں مشہور نہیں تھیں بلکہ عالمی شہرت کی مالک تھیں۔ انہوں نے ایک دلیر صحافی کے طور پر اپنی ساکھ بنائی۔ وہ وائٹ ہاو_¿س کی بریفنگز کے دوران کبھی سخت سے سخت سوال کرنے سے نہیں ہچکچائیں۔ یوایس اے ٹوڈے کے بانی النیوہارٹ نے ایک انٹرویو میں جب کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو سے پوچھا: ”امریکی جمہوریت اور کیوبا کی جمہوریت میں کیا فرق ہے؟“ تو انہوں جواب دیا: ”وہاں مجھے ہیلن تھامس کے سوالوں کے جواب نہیں دینے پڑتے۔“
اس قدر قدآور ہیلن تھامس نے فوری طور پر ایک معافی نامہ اپنی ویب سائٹ پر جاری کردیا: ”مجھے اپنے اس تبصرے پر بے حد افسوس ہے جو میں نے پچھلے ہفتے اسرائیل اور فلسطین کے بارے میں کیا۔ یہ میرے اس یقینِ قلبی کی عکاسی نہیں کرتا جس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امن صرف اسی وقت قائم ہوگا جب تمام فریقین باہمی احترام اور برداشت کی ضرورت کو محسوس کریں گے۔ خدا کرے ایسا جلد ہو۔“
یہی نہیں بلکہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے میڈیا نقاد ’ہورڈکورٹز‘ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ”مجھے اپنے بیان پر بے حد افسوس ہے“ اور ”اعتراف“کیا کہ ”میں سمجھتی ہوں کہ میں نے حد پار کردی…. میں نے غلطی کی“۔
یہ معافی اور غلطی کا اعتراف بھی ان کی (صحافتی) زندگی کو نہیں بچاسکے۔7جون 2010ءکو ہیلن نے ہرسٹ نیوز پیپرز کو اپنا استعفیٰ پیش کیااور اس طرح جبری طور پر ریٹائر کردی گئیں۔ 6 جون کو ہیلن کی ایجنسی ’نائن اسپیکرز‘ نے اعلان کیا کہ ہم نے ہیلن تھامس کے بیان کے سبب انہیں ہٹادیا ہے“۔ ہیلن کی مشہور کتاب کے شریک مصنف کریگ کرافورڈ نے کہا کہ وہ ان کے ساتھ مزید کام نہیں کریں گے۔
1943ءمیں 24 ڈالر فی ہفتہ پر یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل میں نوکری حاصل کرنے والی ہیلن تھامس نے 17مئی 2000ءکو اس ادارے کے ساتھ اپنی57 سالہ وابستگی اُس وقت ختم کردی تھی جب اس کا انتظام یونیفکیشن چرچ کے ادارے نیوز ورلڈ کمیونی کیشن نے سنبھالا۔ اس کے بعد انہوں نے ہرسٹ نیوز پیپرز گروپ جس کے کئی اخبارات شائع ہوتے ہیں‘ کے لیے کالم لکھنا شروع کردیا تھا۔
ویڈیو بنانے والا ربی ڈیوڈ نیسن آف کہتا ہے: ”تکلف برطرف! اس سے مجھے شدید دھچکا لگا ہے“۔ یہ وائٹ ہاﺅس میں27 مئی کو منعقدہ ’جیوش ہیرٹیج سیلبریشن‘ کے موقع پر موجود ہرسٹ اخبارات کا کالم نویس ہیلن تھامس سے پوچھنے لگا: ”اسرائیل کے بارے میں آپ کا کوئی تبصرہ؟ تو انہوں نے وہی جواب دیا جو اگرچہ آزادی_¿ اظہارِ رائے کے چیمپئن ملک امریکا میں ممنوع ہے مگر حقیقت ضرور ہے۔ انہوں نے وہی کہا جو کہنا چاہیے تھا۔ اور مزید یاد دلایا: ”یہ لوگ (فلسطینی) مقبوضہ ہیں‘ اور یہ انہی کی زمین ہے‘ یہ جرمنوں اور پولینڈ والوں کی زمین نہیں“۔ ہیلن نے تاریخی حقیقت بتادی کہ ان کو پولینڈ اور جرمنی سمیت دنیا بھر کے ممالک سے لاکر فلسطینیوں کی سرزمین پر بساکر اس وطن کے اصل باشندوں کو بے گھر کردیا گیا۔
لیکن ربی ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ: ”یہ (گفتگو) نفرت انگیز تھی…. نفرت انگیز گفتگوکا ایک نمونہ۔“ اس لیے کہ صہیونی مو_¿قف سے متصادم تھی؟ یقینا یہودیوں کے خلاف کوئی سچی بات کہنا نفرت انگیز بات قرار پاتی ہے‘ بالکل اسی طرح جس طرح پاکستان میں کوئی امریکی ظلم کے خلاف بات کرے۔ افغانستان میں نیٹو فورسز کا معصوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دینا دہشت گردی نہیں‘ لیکن نیٹو فورسزکے لیے جانے والے ٹینکرز پر پاکستان میں حملہ آور ہونا اور سامان کو جلانا یا نقصان پہنچانا بہت بڑی دہشت گردی ہے! ہم اور آپ اگرچہ ایسا نہیں سمجھتے تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ یہی بتارہے ہیں۔
این بی سی کے ’ٹوڈے شو‘ میں بات کرتے ہوئے ہیلن کی سالگرہ پر گنگناکرکیک پیش کرنے والے صدر بارک اوباما نے ان کے جبری استعفے کو ”درست فیصلہ“قرار دیا۔ انہوں نے ہیلن کے بیان کو ”جارحانہ“ اور ”نامناسب“ قرار دیا اور کہا کہ اس طرح انہوں نے اپنے شاندار کیریئر کو شرمناک طریقے سے ختم کیا۔ بین الاقوامی پانیوں میں نہتے انسانوں کو مارنے والا جارح نہیں لیکن اس قابض کو فلسطین سے نکل جانے کا کہنے والا یقینا جارح ہے۔ اگرچہ رپورٹر جیفری گولڈبرگ نے ہیلن کے تبصرے کو حماس کا سرکاری بیان قرار دیا ہے لیکن مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کو طالبان قرار نہیں دیا گیا۔ بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں ”امریکی طالبان“ کی اصطلاح وضع کرکے ہیلن کو اس تحریک کا بانی قرار دیا جائے۔
ہیلن تھامس کو اپنے ”جرم“ کی سزا مل چکی لیکن ان کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے یہ گمان ہوتا ہے کہ پورا امریکی میڈیا انہیں برداشت کرتا چلا آرہا تھا‘ بس ایک موقع کی تلاش تھی اور وہ موقع ربی ڈیوڈ نے فراہم کیا جس نے اس ویڈیو کو ایک ہفتے بعد اَپ لوڈ کیا اور اس کی وجہ اپنے بیٹے کے فائنل امتحانات کی تیاری میں مصروف ہونا قرار دیا جو اُس کے بقول اُس کا ویب ماسٹر ہے۔ لیکن واشنگٹن سمیت امریکی صحافی برادری میں ای میل کا تبادلہ پہلے سے ہی جاری تھا‘ کیوں کہ ہیلن کے صہیونی مخالف نظریات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔ اور اس ای میل مہم کو نیوکونز ’اری فلیشر‘ نے بخوبی چلایا جو بش دور میں وائٹ ہاﺅس میں ان کا فرسٹ پریس سیکریٹری ہوا کرتا تھا۔ اس کی ایک وجہ عراق جنگ پر جارج بش سے سخت سوالات بھی تھے جو پریس سیکریٹری کی سماعتوں سے ٹکرانے کے بعد سیدھے اس کے دل کو زخمی کردیتے تھے‘ اور تیر سیدھا دل پر اُس وقت لگا تھا جب 2002ءمیں ہیلن نے ’ایری فلیشر‘ سے یہ پوچھنے کی جرا_¿ت کی کہ ”کیا صدر سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں کو 35 سالہ بہیمانہ عسکری قبضے اور جبر کے خلاف مزاحمت کا حق حاصل نہیں؟“ اس کے4سال بعد انہوں نے فلیشر کے جانشین ’ٹونی اسنو‘ سے کہا کہ ”امریکا لبنان کے اوپر اسرائیلی بمباری کو روک سکتا تھا لیکن اس کے برعکس اُس نے لبنانیوں اور فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دی“۔ ان ”حزب اللہ خیالات“ پر ٹونی نے ان کا ”شکریہ“ ادا کیا۔ یعنی اسرائیل کی حمایت درست اور اس کے برعکس خیالات رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا تعلق حزب اللہ یا حماس سے ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق رپورٹرزکی ایک بڑی تعداد نے برسوں تک ان کے کردار پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ 2006ءمیں نیو ریپبلک پیس‘ جوناتھن چیٹ نے ہیلنکے بارے میں کہا کہ ہیلن نے مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے جیسے انہوں نے سوال کیا ہے کہ ”ہم عراق میں لوگوں کو کیوں مار رہے ہیں؟ مردوخواتین اور بچوں کو وہاں مارا گیا ….یہ انتہائی ظالمانہ (حرکت) ہے۔“ یہ امریکی میڈیا کا مکروہ چہرہ ہے جس کے تحت ایک جائز اور سچا سوال مبالغہ آمیزی ہے۔ تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ امریکی اور مغربی میڈیا‘ میڈیا ہے یا یہودی پروپیگنڈا مشنری؟
سی بی ایس کے نمائندے مارک نولر نے لکھا ہے کہ ”وہ ایسے سوال پوچھتی تھیں جو کوئی سخت نیوز رپورٹر نہیں پوچھ سکتا تھا۔ ایسے سوال جو ایک ایجنڈے کے تحت پوچھے جاتے تھے‘ جن کے بارے میں اکثر رپورٹرز کا خیال ہوتا تھا کہ وہ نامناسب تھے۔“ وہ مزید لکھتا ہے کہ ”بطور کالم نگار ہیلن اپنے آپ کو مقصدیت کی پالیسی سے آزاد سمجھتی تھیں۔ ان کے سوالات بعض دفعہ نیوز روم میں موجود رپورٹرز کو ہراساں کرتے تھے۔“
نیشنل ریویو آن لائن کی کالم نگار جوناگولڈبرگ ہیلن کی اس ”سرکشی“ کی وجہ سینیارٹی سسٹم کی وجہ سے ان کو حاصل عزت کو قرار دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ اگر وہ اب تک برداشت ہوتی رہی ہیں تو اس کی واحد وجہ ان کی سینیارٹی تھی‘ ورنہ ان کو کب کا وائٹ ہاﺅس کے بریفنگ روم سے باہر پھینکا جاچکا ہوتا۔ اوباما کے علاوہ وائٹ ہاﺅس کا ردعمل پریس سیکریٹری رابرٹ گبز نے بھی ظاہر کیا ہے جنہوں نے ہیلن کے بیان کو ”جارحانہ“ اور”قابل ملامت“ قرار دیا۔ وائٹ ہاﺅس کرسپانڈنٹ ایسوسی ایشن جس کی کبھی وہ صدر ہوا کرتی تھیں‘ نے ان کے بیان کو ناقابلِ دفاع قرار دیا تو ایسے میں ان کا رخصت ہوجانا لازمی ٹھیر جاتا ہے۔
اعتراف ِجرم اور معافی کے باوجود ایک بہت بڑی صحافتی دیوار گرادی گئی ہے جس سے امریکی میڈیا کی آزادی کا پول کھل گیا۔ توہین آمیز خاکوں کو ’آزادی_¿ اظہارِ رائے‘ کے عین مطابق قرار دینے والوں نے ایک خالص سیاسی بیان پر ہنگامہ مچا دیا۔ مجھے نہیں پتا کہ پاکستان میں ”اعلیٰ امریکی اقدار“ اور آزادی_¿ صحافت کی ”اعلیٰ امریکی قدروں“ کی دلالی کرنے والا پاکستانی لبرل طبقہ اس پر کوئی ردعمل ظاہر کرے گا یا نہیں‘ تاہم اس واقعے نے اس بحث کو منطقی انجام تک پہنچادیا اور ثابت ہوگیا کہ توہین رسالت کو اپنا حق سمجھنے والے امریکا اور مغرب کا ”اظہارِ رائے کی آزادی“ سے دور کا بھی تعلق نہیں۔
یہاں یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ مظاہر نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام بنی نوع انسانی پر اسرائیلی ریاست کے نام پر صہیونی دہشت گردوںکو مٹانا واجب نہیں کرتے؟
(بشکریہ ”جسارت میگزین“ روزنامہ جسارت کراچی)
امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے گزشتہ دنوں ایک ’خبر‘ بریک کی جس کے مطابق افغانستان میں سونے‘ تانبے‘ کوبالٹ اور لیتھیم سمیت مختلف دھاتوں پر مشتمل 9 کھرب ڈالر مالیت کے معدنی وسائل دریافت ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان معدنیات پر قبضے کے لیے امریکا نے سرگرمیاں تیز کردی ہیں‘ جبکہ مغربی میڈیا کا کہنا ہے کہ معدنی ذخائر کی دریافت سے افغانستان پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے امریکا اور چین میں کشمکش تیز ہوسکتی ہے، جبکہ بھارت بھی اس کشمکش کا حصہ بنے گا۔ دوسری جانب طالبان کی جانب سے مزاحمت شدید ہونے کا بھی امکان ہے۔ افغانستان کے معدنی وسائل عالمی جارح قوتوں اور ان کے مقامی ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹنے میں کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ ایک ناممکن بات کو ممکن بنائیں، اور وہ ناممکن بات ہے طالبان کی شدید مزاحمت کا تدارک۔ خبر کے مطابق افغانستان کے پہاڑوں اور ریگزاروں میں چھپی اس معدنی دولت کی نشاندہی امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون‘ امریکی جیالوجیکل سروے اور یو ایس ایڈ کے اہلکاروں پر مشتمل ایک ٹیم نے کی‘ جس کی تصدیق افغان حکومت نے کردی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق افغانستان پر سوویت قبضے کے دوران تیار کیے گئے نقشوں کی بنیاد پر امریکا نے فضائی سروے کے ذریعے وسیع ذخائر کا سراغ لگایا ہے۔9 کھرب ڈالر مالیت کے ان معدنی وسائل کی مزید تقسیم بی بی سی نے کچھ اس طرح سے کی ہے کہ ان معدنیات میں لوہے کے420 ارب ڈالر‘ تانبے کے274 ارب ڈالر‘ نیوبیم کے81 ارب ڈالر‘ کوبالٹ کے 51 ارب ڈالر اور سونے کے25 ارب ڈالر کے ذخائر افغانستان میں پائے جاتے ہیں۔سی آئی اے کے ترجمان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 2004ءمیں امریکی ماہرین کو کابل میں افغان جیالوجیکل سروے کے دفتر میں سوویت ماہرین کے تیار کردہ نقشے ملے‘ جن میں افغانستان میں معدنی ذخائر کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان نقشوں کی بنیاد پر امریکی بحریہ کے اورین تھری طیاروں پر خصوصی آلات نصب کرکے ان طیاروں کی افغانستان کے70 فیصد حصے پر پروازیں کرائی گئیں‘ جس سے حوصلہ افزا نتائج ملے۔2007ءمیں ایک بمبار طیارے پر آلات نصب کرکے مزید بہتر ڈیٹا حاصل کیا گیا۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 2007ءمیں پکی خبر بننے والی یہ اطلاع یا معلومات اُسی سال خبر کیوں نہیں بنائی گئیں؟ کیا اس کا مقصد صحیح وقت کا انتظار تھا یا پھر کوئی دوسری مجبوری؟اخبار کے مطابق افغان جنگ میں مشکل صورت حال سے دوچار ہونے کے باوجود امریکی حکام اور افغان حکومت معدنیات کے معاملے پر مذاکرات کے لیے متفق ہوگئے ہیں۔ کچھ لوگ اس جملے کو اس طرح سے پڑھنا پسند کریں گے: ”افغان عوام کا خون پینے والے اب ان کی معدنی دولت لوٹنے پر اس مشکل صورت حال میں بھی متفق ہوگئے ہیں۔“ کہیں یہی مشکل مجبوری تو نہیں؟ ہوسکتا ہے کہ چین کی طرف سے افغانستان میں معدنیات کی جانب پیش رفت نے امریکا کو ان معلومات کو ’جلد‘ خبر بنانے پر مجبور کیا ہو۔ لیکن چین کی طرف سے پیش رفت اس کی واحد وجہ نہیں ہوسکتی۔دراصل امریکا افغانستان میں اپنے اہداف کے حصول میں بری طرح ناکام ہوا ہے۔ امریکی انتظامیہ اور پینٹاگون کی یہ خواہش تھی کہ وہ طالبان کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑکر اُن کو ایک کمزور حریف ثابت کردیں تاکہ اپنی شرائط پر مذاکرات کیے جاسکیں یا پھر افغانستان سے اپنی باعزت واپسی کے لیے طالبان کو کم از کم مذاکرات کی میز پر لایا جاسکے۔ لیکن یہ خواہش اب تک صرف خواہش ہی ثابت ہوئی ہے۔ مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق اِس وقت افغانستان میں اگر دن کے وقت امریکیوں یا افغان کٹھ پتلیوں کی حکومت ہوتی ہے تو رات کے وقت طالبان کی عمل داری قائم ہوجاتی ہے۔ جبکہ کچھ آزاد ذرائع کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان کے بیشتر علاقوں پر عملاً طالبان کی حکومت ہے کیوں کہ سارے فیصلے وہی کرتے ہیں۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت امریکی منصوبے دھرے کے دھرے ہی رہ گئے ہیں اور امریکا اور اس کے افغان کٹھ پتلیوں کو اس بات کی جلدی ہے کہ اپنی فیصلہ کن شکست سے قبل افغان معدنیات کو ڈالرز میں بدل کر اپنے اکاﺅنٹس میں منتقل کرلیں۔ دسمبر2009ءمیں امریکی صدر بارک اوباما نے مزید30 ہزار فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے مرحلہ وار انخلاءکا آغاز جون2011ءمیں ہوگا۔ اس وقت افغانستان میں ایک امریکی فوجی پر سالانہ ایک ملین امریکی ڈالر کا خرچہ آتا ہے‘ اس طرح اس جنگ میں ایک لاکھ امریکی سپاہیوں پر اُٹھنے والے اخراجات 100بلین ڈالر کے لگ بھگ ہوں گے۔ دوسری طرف ’اے بی سی‘ اور ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے حالیہ سروے میں 53 فیصد امریکیوں نے افغانستان میں مزید جنگ لڑنے کے خلاف رائے دی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکی عوام کو کسی چیز کے جائز ہونے یا نہ ہونے کا بھلے احساس نہ ہو‘ لیکن وہ اس بات کا حساب ضرور رکھتے ہیں کہ ان کی جیبوں سے ٹیکسوں کی مد میں نکلنے والی بڑی رقم مطلوبہ مقاصد کے حصول میں کامیاب ہورہی ہے یا نہیں؟ ’سی آئی اے‘ کے فنڈز سے چلنے والے ’نیویارک ٹائمز‘ کی طرف سے اس ’بڑی‘ خبر کو بریک کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ امریکی عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ افغان جنگ نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے بلکہ اس جنگ پر اُٹھنے والے اخراجات افغانستان کی سخت چٹانوں اور پہاڑوں سے پورے کیے جاسکتے ہیں۔ بہ الفاظِ دیگر جن پہاڑوں پر وہ افغان مجاہدین کے ہاتھوں بُری طرح پٹتے رہے ہیں ان کے نیچے دفن خزانے ان کی ڈوبی ہوئی رقم کی ’ریکوری‘ کا ایک بڑا ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ لیکن کیا یہ ریکوری ہوپائے گی؟ اس کا انحصار طالبان کی مزاحمت ختم ہونے پر ہے‘ جس میں یقیناً وہ کامیاب نہیں ہوپائےں گے۔ اس وقت افغان عوام کو طالبان کا شکر گزار ہونا چاہیے جو ان کی معدنی دولت کی چوکیداری شدید مزاحمت کی صورت میں کررہے ہیں‘ ورنہ تو افغان کٹھ پتلی حکمران مال کیا افغان عوام کو بھی صلیبیوں کے ہاتھوں زندہ فروخت کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ یہ طالبان کی مزاحمت ہی ہے جس نے اس معدنی دولت پر نظر رکھنے والے کئی ’امیدواروں‘ کے ذہنوں میں شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ معدنی دولت پر نظرجمانے والے بھارت کے نئی دہلی میں موجود ایک سابق سفارت کار سنتوش کمار کہتے ہیں کہ اس میدان میں مصروفِ عمل بھارتی کمپنیوں کو افغانستان کے حوالے سے چند خدشات بھی لاحق ہیں: ”ان کے لیے دو مسائل ہیں۔ پہلا سیکورٹی کا مسئلہ ہے جبکہ دوسرا مسئلہ ذرائع رسد کا ہے“۔ سیکورٹی کا مسئلہ یقیناً بڑا مسئلہ ہے۔سنتوش کمار کا یہ بھی کہنا ہے کہ ”بھارت ایک ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے۔ لہٰذا مختلف طرح کی معدنیات کی ضروریات میں روز بروز اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ بھارت ٹیکنالوجی کے حوالے سے دنیا کے اہم ملکوں میں سے ایک ہے۔ ان ٹیکنالوجیز میں مثال کے طور پر فضائی اور خلائی ٹیکنالوجی میں نئی معدنیات اور دھاتوں کی نہ صرف ضرورت پڑتی ہے بلکہ ان دھاتوں کے استعمال کے حوالے سے اختراعات کی ضرورت بھی رہتی ہے۔ چونکہ ریئر ارتھ میٹلز سمیت اس طرح کی معدنیات بھارت میں دستیاب نہیں ہیں، اس لیے یہ درآمد کرنا پڑتی ہیں۔ بھارت کے پڑوسی ملکوں میں اگر کوئی ایسی دریافت ہوتی ہے تو وہ بہت زیادہ اہم ہے“۔ افغانستان کی معدنیات نہ صرف بھارت بلکہ کئی ممالک کے لیے اہم ہیں، اور یہ ممالک اس کوشش میں ہیں کہ کسی طریقے سے افغانستان کی معدنی دولت میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کیا جائے۔چین بھی افغانستان کی معدنیات میں دلچسپی لے رہا ہے، لیکن اس دلچسپی کو ’وسائل کی بھوک‘ کا نام دیا گیا۔ جبکہ امریکا جیسا خونیں بھیڑیا یہ سب کچھ ”انسان دوستی“ میں کررہا ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ معدنی وسائل کی خبر نشر کرنے کا مقصد ان کوششوں کو بھی روکنا تھا جو نیویارک ٹائمز کے الفاظ میں ’وسائل کے بھوکے چین‘ کی طرف سے ہورہی تھیں۔2008ءمیں چین کی سرکاری فرم ’ایم سی سی‘ نے کابل سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر صوبہ لوگار میں واقع ایانک کے مقام پر ’کوپر‘ کی کان کے سلسلے میں حکومتِ افغانستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے لیے فرم نے 484 ملین پاﺅنڈز بطور پیشگی ادا کیے۔ ورلڈ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق اس پروجیکٹ سے افغانستان کو 240 ملین پاﺅنڈز سالانہ کی آمدن ہوگی جبکہ 20 ہزار نوکریاں بھی اس پروجیکٹ سے میسر آجائیں گی۔ لیکن امریکا نے وزیر معدنیات محمد ابراہیم عادل پر اس معاہدے کے بدلے میں چین سے30 ملین ڈالر بطور رشوت لینے کا الزام لگا کر انہیں برطرف کروادیا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں استعارے کے طور پر افغانستان میں وسیع معدنی ذخائر کے سبب اسے ”لیتھیم کا سعودی عرب“ کہہ کر افغان عوام کو گولی دینے کی کوشش کی گئی کہ ان معدنیات کی لوٹ مار سے ان کی قسمت بدل جائے گی اور وہ سعودیوں جیسے یا ان سے بھی زیادہ خوشحال ہوجائیں گے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے گزشتہ سال کے اواخر میں کہا تھا کہ امن قائم ہوجائے تو یہ معدنی ذخائر افغانستان کو دنیا کے امیر ترین ممالک کی فہرست میں شامل کردیں گے۔ جبکہ افغان وزارت صنعت و معدنیات کے ترجمان جاوید عمر کہتے ہیں کہ افغانستان میں قدرت کے یہ تحفے ملکی معیشت کو ترقی و کامرانی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔کیا افغانستان واقعی ترقی وکامرانی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا؟ اس تاثر کے درست یا غلط ہونے کے لیے اِسے مختلف تناظر سے دیکھنا ہوگا۔ کسی بھی ملک میں معدنی ذخائر کو صحیح انداز میں نکالنے کے لیے سب سے پہلے لاجسٹک سپورٹ یعنی سڑکوں ‘گاڑیوں‘ گاڑیوں کے فلنگ اسٹیشنوں، مرمت کی ورکشاپس اور ریلوے ٹریک وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔دوئم، بڑی مقدار میں بہتا پانی‘ جو دھاتوں کو صاف کرنے کے لیے درکار ہوتاہے۔ اورسوئم، مناسب اور قابلِ اعتبار بجلی کی مناسب مقدار۔ کیا یہ سب چیزیں افغانستان میں ہیں؟ ان بنیادی لوازمات کی فراہمی کے لیے کتنی رقم درکار ہوگی؟ سوالات کی ایک لمبی فہرست ہے جن میں سے اکثر کا جواب یقیناً ’نہیں‘ میں ہے۔ان لوازمات کے علاوہ جو اہم چیز درکار ہوتی ہے وہ ہے اپنے عوام سے مخلص حکومت اور حکمران‘ جو ملک کے ذخائر کو عوام کی خوشحالی کا ذریعہ بنائیں اور ان سے حاصل ہونے والی رقوم امریکا اور یورپ میں موجود اپنے بینک اکاﺅنٹس میں منتقل نہ کریں۔ لیکن یہاں تو صورتِ حال یکسر مختلف ہے۔ کرزئی کی مرکزی حکومت پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں جبکہ انتظامی وفاقی اکائیوں کے نام پر عوام پر مسلط غنڈوں کو عوامی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں۔ امن وامان کی صورت حال خراب ترین ہے جبکہ امریکی فوجی سخت فرسٹریشن کا شکار ہوکر آئے روز معصوم افغانوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ کرزئی حکومت کا کرپشن میں ملوث ہونا تو یقینی ہے ہی‘ اس میں کرپشن کو روکنے کی اہلیت بھی نہیں ہے۔اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ معدنی وسائل ہی کسی ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ اس ضمن میں افریقی ملک نائیجیریا کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں تیل کی وافر دولت کے باوجود بدامنی اور غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔گیانا میں تیل کے ذخائر نے اس چھوٹے سے ملک کے صدر کو تو اُس کی سوچ سے زیادہ مالدار بنادیا لیکن عوام آج تک ابتر زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی طرح کانگو کے عوام بھی آج بیشتر مغربی ممالک کے عوام سے زیادہ خوشحال ہونے چاہیے تھے لیکن ایسا نہیں ہے۔ بولیویا لیتھیم سے مالامال ہے‘ لیکن یہ آج بھی لاطینی امریکا کا غریب ترین ملک ہے‘ دنیا بھر میں ہیرے (ڈائمنڈ) کے سب زیادہ ذخائر نمیبیا میں ہیں لیکن اس ملک کے عوام کی حالت قابل قدر نہیں ہے۔معدنی وسائل سے مالامال ان ممالک کا تجزیہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کسی ملک کی معدنیات عوام الناس کی فلاح و بہبود اور ان کے طرزِ زندگی کی بہتری کا ذریعہ بنتی ہیں یا اس سے ملک کی اشرافیہ اور ان کے بین الاقوامی غاصب دوست فائدہ اٹھاتے ہیں؟ یہ سوال خود اپنے اندر جواب رکھتا ہے جو ہمیں ’معدنی ذخائر سے مالامال افغانستان‘ کے اچانک نمودار ہونے کے اس سارے قصے کے پیچھے کارفرما عزائم کا پتا دیتا نظر آتا ہے۔ افغانستان کے پاس اگر وسیع معدنی ذخائر ہیں تو اس کے مسائل نائیجیریا‘ کانگو‘ بولیویا اور نمیبیا سے مختلف نہیں ہیں۔ اس بریکنگ نیوز کی تفصیلات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس سے افغانوں کو روزگار مہیا ہوگا۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا روزگار ہوگا؟ کھربوں ڈالرز کے ذخائر کے مالک افغان عوام میں سے اگر چند لاکھ کو بھی روزگارکے نام پر مزدوری اور مشقت کی بھیک دے دی جائے تو کیا یہ ان کے دل جیتنے کی کوشش قرار دی جاسکتی ہے؟ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو‘ جن پر امریکا کی اجارہ داری ہے، ان ممالک سے محبت ہوتی ہے جہاں معدنی ذخائر تو وسیع پیمانے پر ہوں لیکن وہاں کے عوام اَن پڑھ ہوں تاکہ پروجیکٹس سے حاصل ہونے والی رقوم کا بڑا حصہ وہ اپنی ماہرانہ خدمات کے ’صلے‘ میں اپنے ملکوں میں لے جائیں۔افغان وزیر برائے معدنیات اور کان کنی وحید اللہ شاہرانی کے بقول ان معدنیات کو زمین سے نکالنے کے لیے حکومتی کوششیں اسی سال کے آخر تک شروع ہوجائیں گی۔ شاہرانی کے بقول افغان حکومت 25 جون کو لندن میں ایک روڈ شو کا اہتمام کررہی ہے، جس میں کان کنی کے شعبے میں اپنی مہارت اور وسائل کی نمائش کے لیے دنیا بھر کی 200 سے زائد کمپنیوں کو مدعو کیا جائے گا۔افغان حکام کی توقعات اپنی جگہ، لیکن افغان عوام کی حقیقی ترجمانی کرنے والے مزاحمت کار اپنی قومی دولت کو لندن کے روڈ شو میں نیلام نہیں ہونے دیں گے، جبکہ نیلامی سے حاصل ہونے والی تھوڑی بہت رقم افغان عوام کی فلاح و بہبود پر صرف ہونے کے بجائے کٹھ پتلی حکمرانوں کی جیبوں میں چلے جانے کا بھی سو فیصد امکان ہے۔اس ضمن میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ ابھی ان معدنیات سے مالامال علاقوں کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے جن کا انکشاف نیویارک ٹائمز نے کیا ہے، تاہم یہ بات معلوم ہے کہ زیادہ تر معدنیات افغانستان کے اُن حصوں میں پائی جاتی ہیں جہاں عملاً مزاحمت کاروں کا کنٹرول ہے۔
افغانستان کے خلاف امریکی جنگ کے سالار جنرل اسٹینلے میک کرسٹل کو اس اُمید کے ساتھ افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کی کمان دی گئی تھی کہ وہ تاریخ رقم کرتے ہوئے حریت پسند افغانوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائے گا۔ لیکن ابھی اسے ایک سال اور ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ اُس نے افغان حُریت پسندوں کے حملوں سے حواس باختہ ہوکر اپنی توپوں کا رُخ اُس جگہ کی طرف کردیا ‘ جہاں سے بڑے مان کے ساتھ اسے افغانستان بھیجا گیا تھا۔ رولنگ اسٹون میگزین کے فری لانس صحافی مائیکل ہیسٹنگ کو دیے گئے انٹرویو کا ایک ایک لفظ صدر بارک اوباما پر بم بن کرگرا۔ میک کرسٹل نے دل کھول کر صدر اوباما کی جنگی ٹیم کی تضحیک کی اور اپنے دل کی بھڑاس نکال لی۔ قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونزکو مسخرہ قرار دے کر کہا کہ ”وہ ایک جوکر ہے جو انیس سو پچاس میں پھنسا ہوا ہے۔“ ڈرون پالیسی کے سب سے بڑے وکیل نائب صدر جوزف بائیڈن کے بارے میں کہا کہ ”وہ کون ہے؟“ اسی طرح کابل میں امریکی سفیر کارل ایکنبری کے بارے میں کہا کہ ”میں سمجھتا ہوں کارل ایکنبری نے مجھے دھوکا دیا ہے“۔ پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کی ای میلز کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ”میں تو اب انہیں دیکھتا بھی نہیں۔“ جنرل میک کرسٹل نے صدر اوباما کے بارے میں بھی کچھ غلط نہیں کہا کہ ’ان کو کچھ نہیں پتا‘۔ یقیناً اوباما کو اس بہت کچھ کا نہیں پتا جس کا ادراک ان کے میدانِ جنگ میں موجود سپہ سالاروں کو کئی ماہ پہلے ہوچکا تھا۔ 25 جنوری 2010ءکو برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ سے بات کرتے ہوئے جنرل اسٹینلے میک کرسٹل نے کہا: ”لڑائی بہت ہوچکی اور اب میں اس جنگ کا سیاسی حل چاہتا ہوں۔“ لیکن ساتھ ہی اس خوش فہمی کا اظہار بھی کیا کہ صدر اوباما کی جانب سے افغانستان میں تیس ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے طالبان اتنے کمزور ہوجائیں گے کہ انہیں امن معاہدے کے لیے مجبور کیا جاسکے گا۔ جنرل اسٹینلے میک کرسٹل نے کہا: ”ایک فوجی کی حیثیت سے مجھے ذاتی طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ جنگ کافی ہوچکی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ آخرکار جنگوں کا سیاسی حل ہی نکلتا ہے جو کہ ایک صحیح نتیجہ ہے۔“ اس کو امید تھی کہ امریکی صدر بارک اوباما کی جانب سے افغانستان میں تیس ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور اس کے علاوہ نیٹو کے رکن ممالک کی جانب سے سات ہزار اضافی فوج بھیجنے سے امریکا کے حق میں مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔ بی بی سی کے کابل میں نامہ نگار ’مارٹن پیشنس‘ نے 23 ستمبر 2009ءکو اپنے مضمون ”مغرب کو میک کرسٹل کا دوٹوک انتباہ“ میں لکھا ہے کہ ”امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل اسٹینلے میک کرسٹل کی ذرائع ابلاغ کے ہاتھ لگنے والی رپورٹ نہ صرف افغانستان میں بیرونی افواج کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں دوٹوک اور مایوس کن جائزہ پیش کرتی ہے بلکہ ممکنہ ناکامی کے وقت کی بھی پیش گوئی کرتی ہے۔“ ممکنہ وقت کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے لکھا: ”مختصراً کہا جائے تو جنرل میک کرسٹل اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ امریکا کو یہ جنگ ہارنے میں بارہ مہینے یعنی ایک سال لگ سکتا ہے۔“ تجزیہ نگاروں کے مطابق جنرل میک کرسٹل نے باعزت واپسی کا حل یہ تجویز کیا تھا کہ 30ہزار مزید فوج بھیج کر طالبان کے خلاف ایک بڑا آپریشن کرکے ان کو اس حد تک کمزور کیا جائے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ ہوجائیں۔ مغرب خصوصاً امریکا کے عسکری منصوبہ ساز مرجاہ آپریشن پر خاص نظر رکھے ہوئے تھے لیکن مرجاہ میں اتحادیوں کے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہوا۔ اس کے بعد قندھار آپریشن شروع کرنے سے پہلے ایک حکمت عملی نام کی تبدیلی کی اختیار کی گئی تاکہ شکست کی صورت میں ذلت و رسوائی کے درجے کو کم کیا جاسکے۔ ’شدت پسندوں کے خلاف آپریشن‘ جیسے الفاظ سے گریز کرتے ہوئے قندھار آپریشن کو ’امن وامان کے قیام‘ کی مہم کہا جانے لگا، لیکن اہلِ فکر و دانش جانتے ہیں کہ افغانستان میں اُس وقت تک امن نہیں قائم ہوسکتا جب تک آخری قابض فوجی یہاں سے نکل نہ جائے۔ مغربی میڈیا اور امریکی حکومت نے شکست کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے میک کرسٹل کی حواس باختگی کو فوج اور حکومت کی لڑائی کا نام دیا۔ اپنی فوجی شکست پر پردہ ڈالنے کے لیے مغربی میڈیا نے فوج اور سول انتظامیہ کے تعلقات کی نسبت سے مضامین لکھنا شروع کردیے ہیں جن میں کوریا جنگ کے دوران صدر ٹرومین اور اُس وقت کے فوجی کمانڈر میک آرتھر کے تعلقات کے حوالے بھی پیش کیے جارہے ہیں۔ ایک تجزیہ نگار نے میک کرسٹل کے انٹرویو کو ’فوجی بغاوت‘ قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں اس بغاوت کا جواب دے دیا گیا ہے اور ’باغی‘ میک کرسٹل کو گھر بھیج کر افغانستان کی کمان جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے سپرد کردی گئی ہے، جن کے بارے میں ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ سنٹرل کمان کے چیف کے عہدے سے ایک درجے نیچے آنے کے بعد ان کا پہلے والا عہدہ بھی برقرار رہے گا یا نہیں؟ وائٹ ہاﺅس میں اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے صدر بارک اوباما نے کہا کہ کمان تبدیل ہوئی ہے پالیسی نہیں۔ اوباما جیسے کوتاہ بین صدر سے یہی توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ پرانی پالیسی برقرار رکھیں گے۔ پرانی پالیسی برقرار رہے گی، شاید اُس وقت تک جب تک امریکا کے روس کی طرح ٹکڑے نہیں ہوجاتے۔ صدر اوباما جس پالیسی کو برقرار رکھنے پر زور دے رہے ہیں یہ وہی پالیسی ہے جس کو کئی مہینے پہلے ہی میدانِ جنگ میں افغان مجاہدین کی اہلیت سے واقف جنرل میک کرسٹل نے ’غلط‘ کا لفظ استعمال کیے بغیر غلط قرار دیا تھا۔ جنرل میک کرسٹل کے متبادل کے طور پر ایک ایسی شخصیت کے سامنے آنے کو جس کو میک کرسٹل رپورٹ کیا کرتا تھا، افغان جنگ کی اہمیت سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ ایک تجربہ کار جنرل افغان جنگ کو منطقی انجام تک پہنچا دے گا۔ لیکن افغان مجاہدین نے جنرل میک کرسٹل کی برطرفی پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اس جنگ کا عبرت ناک انجام قرار دیا ہے جو عنقریب اتحادی فوجوں کے افغانستان سے بھاگنے کی صورت میں دنیا بھر کے سامنے واضح طور پر آجائے گا۔ امریکا کی نظر میں افغان جنگ کی اہمیت ہوسکتی ہے جس کے لیے وہ اپنی معیشت داﺅ پر لگا چکا ہے، لیکن ڈیوڈ پیٹریاس کی تعیناتی اس بات کی نشاندہی بھی کررہی ہے کہ بیرونی محاذوں پر بڑی جنگیں لڑنے والی دنیا کی سب سے بڑی فوج قیادت کے معاملے میں کتنی مفلس ہے جس کے پاس کسی جنرل کی برطرفی کی صورت میں متبادل تک موجود نہیں‘ اور جس کو تعینا ت کیا گیا وہ نہ صرف اس سے بڑے عہدے پر فائز رہا ہے بلکہ افغان جنگ کے حوالے سے شدید اعصابی دباﺅ کا شکار بھی ہے۔ گزشتہ ہفتے کانگریس کی دفاعی کمیٹی کے روبرو سوال و جواب کے سیشن میں موصوف عین اُس وقت بے ہوش ہوکر گر پڑے جب اُن سے پوچھا گیا کہ ان کے پاس افغانستان سے فوج کے انخلاءکا کیا پروگرام ہے؟ ابھی کئی تند وتیز سوالات تیر کی مانند کمان سے نکلنے کے لیے بے تاب تھے کہ موصوف پہلے سوال کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہوکر گرپڑے۔ ٹھیک آدھے گھنٹے بعد ہوش آیا تو اراکینِ کانگریس نے ان کے ممکنہ جانی نقصان کے خدشے کے پیشِ نظر جنرل موصوف کو ایک دن کے لیے بخش دیا۔ جنرل کے ہوش ٹھکانے تو آگئے لیکن جھوٹ کی فصلِ بہار اُگانے والے کھیت امریکا کے جنرل کی طرف سے ایک اور جھوٹ یہ بولا گیا کہ موصوف نے صبح ناشتے میں پانی کافی نہیں پیا تھا جس کی وجہ سے وہ گر پڑے۔ جنرل کی اس معصوم ادا پر سوال کیا گیا کہ کیا انہوں نے زندگی میں پہلے کبھی پانی پئے بغیر ناشتہ نہیں کیا؟ اور آج گرنے کا یہ اتفاق افغانستان سے متعلق سوال وجواب کے وقت ہی ہونا تھا؟ امریکی فوجیوں سے براہِ راست لڑائی میں مصروف افغان حریت پسندوں نے اس امر کی جانب توجہ دلائی ہے کہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کسی بھی صورت صلاحیت کے لحاظ سے جنرل میک کرسٹل سے بہتر نہیں ہیں جن کو میڈیا نے امریکا کا درویش جنرل قرار دیا ہے۔ بی بی سی نے میک کرسٹل کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: ”حالیہ امریکی سیاست اور عسکری امور میں جنرل میک کرسٹل ایک ایسے کردار کی طرح اُبھرے ہیں جس کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ ایک حقیقی کردار ہے یا ہالی ووڈ کا ہیرو۔ وہ دن میں صرف چار گھنٹے سوتے ہیں، ایک دفعہ کھانا کھاتے ہیں اور سات میل دوڑتے ہیں۔“ سب سے اہم بات جس کی بی بی سی نشاندہی نہیں کرپایا، یہ ہے کہ وہ تمام تر پریشانیوں کے باوجود ڈیوڈ پیڑیس کی طرح بے ہوش نہیں ہوتے۔ افغانستان پر اپنی عملداری قائم کرنے کے خواہاں امریکی حکمران زمینی حقائق سے ناواقف نہیں تو کم از کم شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبا کر افغانی طوفان کے گزرنے کا انتظار کرتے ہوئے یہ ضرور سوچ رہے ہیں کہ ”کبھی دن پھریں گے امریکیوں کے“۔ امریکا وقت کی سپرپاور ہے لیکن افغانستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ماضی کی دو سپر پاورز کے لیے بھی قبرستان ثابت ہوا ہے۔ افغانستان روسیوں کا قبرستان بننے کے بعد اب امریکیوں کا قبرستان بننے جارہا ہے۔ اب تک امریکیوں کے تابوت واشنگٹن لے جائے جارہے تھے لیکن جس تیزی کے ساتھ مزاحمت کاروں کی کارروائیوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی امریکی ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے، بعید نہیں کہ زیادہ تعداد کے سبب تابوتوں کا واشنگٹن لے جانا مشکل ہوجائے اور ان کو یہیں کسی اجتماعی قبر میں دفن کرنا پڑے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا کہ قابض محصورین کے علاوہ اپنے ہی فوجیوں کو اجتماعی قبروں میں گراکر نکلنے کی کرے گا۔ 19جون 2010ءکو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اس سال اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ سڑک کنارے نصب بم دھماکے پچھلے سال کی نسبت 94 فیصد بڑھے ہیں جبکہ افغان حکام کی ہلاکتوں میں بھی پینتالیس فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خود مغرب کے اعداد وشمار کے مطابق24جون 2010ءتک افغان حریت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد 1793ہے جس میں سب سے زیادہ تعداد امریکیوں کی ہے۔ مذکورہ تاریخ تک ناجائز امریکی جنگ کا ایندھن بننے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 1062ہے، جبکہ 303برطانوی‘ 147کینیڈین‘ 47جرمن اور 44فرانسیسی فوجیوں سمیت کئی ممالک کے درجنوں سپاہی حریت پسندوں کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ رواں ماہ کے دوران مرنے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد80 ہے جبکہ طالبان ذرائع کے مطابق یہ تعداد120سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔ امریکی اعدادوشمار اس لحاظ سے قابلِ بھروسہ نہیں ہیں کہ وہ فوجی تابوتوں کو رات کے اندھیرے میں لے جانے کی روایت کے امین ہےں۔ آزاد ذرائع مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ بتاتے ہیں۔ اس مہینے کے دوران افغان حریت پسندوں نے چار ہیلی کاپٹر اور درجنوں فوجی گاڑیاں بھی تباہ کردیں۔ پورے افغانستان میں امن کے دعویداروں کی اپنی سیکورٹی کی صورت حال یہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو رشوت دیتے ہیں کہ ہمیں نہ مارو یا پھر کم سے کم مارو۔ 22جون 2010ءکو امریکی کانگریس کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ امریکی فوج افغانستان کی سیکورٹی کمپنیوں کو لاکھوں ڈالر فراہم کر رہی ہے جو یہ رقم افغان سرداروں کو رشوت کے طور پر دیتی ہیں۔ امریکی فوج اپنے سپلائی ٹرکوں کو غیر محفوظ علاقوں سے بحفاظت گزارنے کے لیے رقم نجی سیکورٹی کمپنیوں کو فراہم کرتی ہے، اور اگر رقم فراہم نہ کی جائے تو سپلائی کے ٹرکوں کے قافلے پر حملے کیے جاتے ہیں۔ امریکی اعصابی تناﺅ کو ایک دلچسپ تقابلی جائزے کی روشنی میں زیادہ بہتر طریقے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اکتوبر 2009ءمیں فارن ریلیشن کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان کیری نے بتایا کہ اس وقت تک افغان جنگ پر 243 ملین ڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں۔ یہ تقریباً ایک سال پہلے کے اعداد وشمار ہیں۔ کانگریشنل ریسرچ سروس کے اعداد وشمار کے مطابق افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد سے اب تک 227 بلین ڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں جبکہ پنٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم 156 بلین ڈالر بنتی ہے۔ اِس وقت ایک امریکی فوجی پر اُٹھنے والے سالانہ اخراجات ایک ملین ڈالر ہیں جن میں اس کا معاوضہ‘ اس کا سامان جس سے اکثر افغانی اس کو محروم کردیتے ہیں‘ اور اس کے افغانستان جانے اور واپس لوٹنے (اگر ہلاک ہونے سے بچ جائے تو) کے اخراجات شامل ہیں۔ اب اگر امریکی انتظامیہ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ فی فوجی کے حساب سے1ملین ڈالر کا اضافہ ہوگا۔ اگر دنوں میں نہیں تو آنے والے مہینوں میں ضرور امریکی معیشت کا دیوالیہ نکل جائے گا اور دنیا بھر کو قرض دینے والا کشکول لیے پھرتا نظر آئے گا‘ یہ قابلِ دید وقت ہوگا جس سے دنیا محظوظ ہوگی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی عوام کی جیبوں سے نکلنے والی یہ رقم افغان حریت پسندوںکو شکست دینے کے کام آتی تو قومیں اپنے دشمنوں کو شکست دینے کے لیے بڑی قربانیاں دیتی ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ ڈالروں کی ایک بڑی انویسٹمنٹ کے مقابلے میںکوہ ہمالیہ سے اونچے جذبہ¿ دینی اور حب الوطنی سے سرشار ایک مجاہد پر خرچہ ہی کیا آتا ہے؟ تن ڈھانپنے کے لیے ایک جوڑا کپڑا‘ پیروں میں پہننے کے لیے جوتے اور امریکیوں کو مارنے کے لیے ایک ’اے کے 47‘…. وہ بھی اکثر نشانہ بننے والے امریکیوں سے مالِ غنیمت میں مل جاتی ہے۔ یہ ہیں ایک حریت پسند پر آنے والے اخراجات۔ ایک طرف بے تحاشا پیسہ، تو دوسری طرف پہاڑ جتنا حوصلہ! ایک طرف جھوٹ دوسری طرف اس کے مقابلے میں سچائی کے پیکر اور جذبہ¿ جہاد سے سرشار مجاہدین۔ ایک طرف قابض تو دوسری طرف حریت پسند۔ ایک مجاہد شہید ہوتا ہے تو اس کی برکت سے سو اور تیار ہوجاتے ہیں، لیکن ایک امریکی کے مرنے کا مطلب ایک ملین ڈالر کا مزید خرچہ۔ یہ وہ تقابل ہے جس نے اس جنگ کا نقشہ بدل کررکھ دیا ہے اور جس کا نتیجہ امریکیوں کے سخت اعصابی تناﺅ کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے۔ واقعہ چاہے پیٹریاس کی بے ہوشی کا ہو یا میک کرسٹل کی برطرفی کا…. یہ دراصل مظاہر ہیں امریکی شکست کے…. اور معانی، مفہوم اور معلومات کے لحاظ سے 21ویں صدی کی ایک بڑی خبر۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب لوگ طنزکرتے تھے کہ امریکا بہادر کی بات نہ ماننے والے آج کابل سے بھاگ گئے! آج وہی حریت پسند پیچھے ہیں اور کابل میں بڑے کرّوفر سے اُترنے والے امریکی فوجی آگے۔ جو پٹتے ہیں، مرتے ہیں، اور ان کے جرنیل حواس باختہ ہوکر اپنی توپوں کا رُخ واشنگٹن میں واقع وائٹ ہاﺅس کی طرف کردیتے ہیں۔ ایک جنرل کو وائٹ ہاﺅس پر ’بم‘ گرانے کے جرم میں فارغ کردیا گیا ہے۔ اُس سے عہدے میں زیادہ لیکن اہلیت میں کم جنرل کو کمان سونپ دی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کب وائٹ ہاﺅس پر بمباری کرتا ہے، یا پھر کابل میں ہی بے ہوش ہوکر اُٹھنے کے قابل نہیں رہتا!
دورِ حاضر کےاُستاد کا تقابل ماضی کےقابلِ تقلید اساتذہ سےکرتے ہوئے کسی نےایک شعر کہا تھا۔ اب اُس میں ترمیم کرکےاسےکچھ یوں کردیاگیا ہے؛۔
وہ بھی کیا دن تھےجب خدمتِ ”افواج“ کےعوض
دل چاہتا تھا ہدیہ سَر پیش کیجیے!۔
یہ شعر کسی حد تک پاکستانی فوج پر صادق آتا ہے، وہ ادارہ جس کا شمار کبھی متبرک اداروں میں ہوتا تھا، اور بڑی حد تک یہ اس کا حق بھی تھا کہ قومیں اپنےہیروز کو سلیوٹ کرتی ہیں۔ پاکستانی فوج کا دلیری، شجاعت اور بہادری میں ایک نام ہے۔ یہ شیروں کی فوج تھی۔ لیکن پھر ایک گیدڑ نےغرّاتےہوئےشیروں کےجتھےکو‘ جو کبھی جارحین سےنبرد آزما ہوتا تھا، جارحین کےلیےکرائےکی فوج بنادیا۔ ایک فون کال پر ڈھیر ہونےوالےجنرل پرویز کا حکم ماننا ڈسپلن کا تقاضا تھا۔ اگر فوج میں حکم عدولی اور بغاوتیں ہونےلگیں تو فوج، فوج نہیں ہجوم بن جائے۔
جارح قوتوں کےساتھ اتحاد ہی کیا کم تھا کہ پھر جنرل پرویز کی بزدلی کھل جانےکےبعد ’ڈومور“ کی رَٹ لگانےوالےامریکا نےوطن عزیز پرجانیں نچھاور کرنےوالی فوج کو اپنےہی عوام کےخلاف مصروف کرکےانوکھی مثال قائم کردی، جو یقینا ایک ڈراونےخواب کی طرح پاکستان کےماضی کا ایک برا قصہ بن گیا۔ رِٹ قائم کرنےکےلیےوطنِ عزیز کی جنت نظیر وادی سوات میں آپریشن شروع کرکےملکی تاریخ میں سب سےزیادہ افراد کو مہینوں کےلیےبےسروسامانی کی حالت میں اپنےہی وطن میںبےگھر کردیا گیا، اور اس بڑےانسانی المیےکےدوران جو دل دہلادینےوالےواقعات رونما ہوئےان کا دوہرانا اس لیےبھی ضروری نہیں کہ یہ سب کچھ بڑی حد تک رپورٹ ہوچکا ہے۔ قارئین کےعلم میں تو یہ باتیں بھی ہوں گی جو اُوپر بیان کی گئی ہیں، لیکن یہ تذکرہ برائےیاددہانی ہے۔ اصل موضوع تو یہ ہےکہ پاک فوج کےسابق سربراہ جنرل پرویزمشرف کی جانب سےامریکی جنگ کو پاکستانی جنگ بنانےکےبدلےمیں پاکستان اور خصوصاً فوج کےادارے کو کیا حاصل ہوا ہے؟ الزامات، الزامات اور مزید الزامات۔
مغربی خفیہ اداروں اور میڈیا کی طرف سے9برس طویل عرصےتک ان کا ساتھ دینےوالی فوج اور اس کےذیلی اداروں کےبارےمیں جو کچھ لکھا جارہا ہے، اسےدیکھ کر بچپن میں سنا ہواایک واقعہ یاد آگیا۔ ایک امیرزادہ، امیر ہونےکےساتھ ساتھ لاڈلا بھی تھا۔ دو قدم چلتا تو تھک جاتا۔ گاڑیاں اُس زمانےمیں تھی نہیں، کوئی اور سواری بوجوہ دستیاب نہیں تھی۔ دوسرےگاوں جانا تھا‘ اس لیےایک غریب کو روکا اور حکم دیا کہ کندھےپر بٹھاکر دوسرےگائوں پہنچاو۔ غریب نےاس خیال سےکندھےپر امیر زادےکو بٹھالیا کہ خوش ہوکر انعام واکرام سےنوازےگا۔ گرتےپڑتےندی نالےعبور کیے۔ سردی کا موسم تھا‘ کہیں کپڑےبھیگ گئےتو کہیں کیچڑ نےکام دکھایا‘ کانٹےبھی چبھےاور تھکن سےتو برا حال ہوگیا…. لیکن غریب شخص اس آس میں جانب ِمنزل بڑھتا رہا کہ جلد محنت کا پھل ملنےوالا ہے۔ دوسرے گائوں پہنچ کر امیر زادےکو اُتارنےہی لگا تھا کہ حکم ہوا: ”جلدی اُتار‘ تُو نےتو میرےکولہوں میں درد کردیا۔ تجھےٹھیک سےبٹھانا اور چلنا بھی نہیں آتا۔ چل گنوار یہاں سےفوراً دفع ہو، آئندہ شکل بھی نہ دیکھوں۔“۔
پاکستانی فوج گزشتہ 9 برسوں سےامریکا کو کندھےپر بٹھاکر گھما رہی ہے۔ زیادہ دیر کندھےپر بیٹھ کر اب امریکا کےکولہےدُکھنےلگےہیں تو وہ قصوروار بٹھانےوالےکو ٹھیرا رہا ہے۔ افغانستان میں مجاہدین کےہاتھوں ذلت آمیز شکست سےدوچار ہونےکی وجہ اپنی کمزوری نہیں بلکہ کندھا پیش کرنےوالےکی ہےتو اس کےجرنیلوں کی حواس باختگی میں بھی پاکستان کا قصور…. پاکستان کےجوہری اثاثوں اور دیگر اہم مقامات تک رسائی نہ دینا بھی جرم۔ لندن اسکول آف اکنامکس کی رپورٹ نےپاک فوج کو افغان طالبان شوریٰ کا ممبر قرار دیا تو اب معروف برطانوی میگزین ’دی اکانومسٹ ‘ نےپاکستان کو ”ناپاکستان“ کہا ہےاور اس ’ناپاکی‘ کا ذمہ دارپاک فوج کو ٹھیرایا ہے۔
اپنے17جون2010ءکےشمارےمیں شائع مضمون
Land of the impure
یعنی ’ناپاکستان ‘میں میگزین نےتوپوں کا رُخ پاک فوج کی طرف کردیاہے اور پاکستان کو ناپاکستان بنانےکا ذمہ دارٹھیرایا ہے۔
میگزین کےمطابق پاک لوگوں کی سرزمین یعنی پاکستان کےنام سےجانے، جانےوالےاس ”ناپاکستان“ کےسب مسائل کی جڑاگر فوج نہیں ہےتو اکثر مسائل کےلیےضرور اُسےمورد الزام ٹھیرایا جاسکتا ہے۔
دی اکانومسٹ لکھتا ہے:”اپنےقیام کےساٹھ سال پورےکرنےوالا پاکستان جس کےمعنی ’پاک لوگوں کی سرزمین ‘ کےہیں تاحال ایک قوم بننےکی کوشش کررہا ہے“۔
آگےلکھتا ہے:”معاشی طور پر پسماندہ، سیاسی طور پرنابالغ اور مذہبی انتہاپسندوںکی دہشت، اس ملک کےپاس اگرجوہری ہتھیار نہ بھی ہوتےتب بھی اس کےموجودہ حالات ہر ایک کی پریشانی کےلیےکافی تھی۔ان مشکلات کےلیےزیادہ الزام فوج کو دینا ہوگا۔“۔
اور پھر مضمون کےمطابق یہ” الزام“ اس لیےدینا ہوگا کیوں کہ فوج نےملک کےکسی بھی ادارےسےزیادہ ’قومی یکجہتی‘ کو تقویت دی ہے۔ یعنی معروف برطانوی میگزین کےنزدیک جذبہ حب الوطنی کا ہونا نہ صرف بجائےخود پاکستان کےلیےنقصان دہ ہےبلکہ اس کےسارےمسائل کی جڑبھی یہی ہے۔
میگزین نےپاک فوج کےخلاف جو چارج شیٹ پیش کی ہےاس میں اول نمبر اس کا جمہوریت پر باربار شب خون مارنا نہیں بلکہ” مشرقی محاذ“پر بھارت کےخلاف عسکری مہم جوئی ہےجس نےسیکورٹی کو بڑھانےکے بجائے اس کو خطرےسےدوچار کیا ہے۔ مضمون کےمطابق”کوئی بھی مہم جوئی 1971ءسےزیادہ تباہ کن ثابت نہیں ہوئی ہےجو مشرقی پاکستان یعنی موجود ہ بنگلہ دیش کی علیحدگی پر منتج ہوئی“۔میگزین کےمطابق 1971ءکی پاک بھارت جنگ پاکستانی فوج کی طرف سےایڈونچرازم تھی اوراسی طرح1999ءکی کارگل جنگ بھی۔ ”پُرامن“بھارت کےسارےگناہ معاف کرکےمیگزین نےپاک فوج کو موردِ الزام ٹھیرایا ہےکہ وہ آج تک ”بھارتی خطری“ کےساتھ جڑی ہوئی ہےجبکہ بھارت کو پاکستان پر قبضہ کرنے کے بجائےاپنی معاشی ترقی کی فکر ہے۔ ایسا لگتا ہےکہ آئےدن پاک بھارت سرحد پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیز فائرنگ اور اس کےنتیجےمیں پاکستانی عوام اور فوجیوں کی شہادت کی خبریں اس معروف میگزین تک نہیں پہنچ رہی ہیں۔
میگزین کےمطابق فوج کی طرف سےجہاداِزم کو اپنا اصل مقصدبنائے جانےسےریاست کا وجودخطرےسےدوچار ہواہے۔ یہ پالیسی ضیاالحق کی اسلامائزیشن پالیسی کا حصہ ہے‘جو آج تک جاری ہے۔ اس سلسلےمیں لندن اسکول آف اکنامکس کی رپورٹ کونقل کرتےہوئےلکھا گیا ہےکہ اگرچہ آئی ایس آئی اس بات کی سرکاری طور پر تردید کرتی ہےتاہم پاکستانی فوج کےبعض افسران نجی محفلوں میں تسلیم کرتےہیں کہ فوج کےکچھ ’’کارنرز“ طالبان کی مدد ضرور کرتےہیں۔
میگزین کےمطابق پرویز مشرف اور ان کےایک ساتھی نےایک دفعہ مذاق میں کہا تھا کہ وہ ان جہادیوں کو ان کےگلے(اصل لفظ کچھ اور ہے جو بوجوہ یہاں نہیں لکھا جارہا ہے)سےپکڑ لیں گے۔ لیکن آج پاکستانی طالبان کےنام سےپہچانےجانےوالےمجاہدین اپنےمیزبان (پاکستان)کی درگت بنارہےہیں۔اور خود فوج، حتیٰ کہ آئی ایس آئی ان کےزیر عتاب آئی ہوئی ہے۔اکانومسٹ لکھتا ہے؛”اب یہ حملےمصیبت زدہ علاقوں سےمعتدل اور خوشحال پنجاب کی طرف بڑھ رہےہیں،اب اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا کہ کس نےکس کو گردن سےپکڑا ہے۔“۔
اس چارج شیٹ میں تیسرا نمبر پاکستانی فوج کی ریاست کےسیاسی اور انتظامی کاموں میں مداخلت کو دیا گیا ہے۔ فوج پر کرپشن کا الزام لگاتےہوئےمیگزین لکھتا ہےکہ”یہ تسلیم شدہ حقیقت ہےکہ پاکستان کےادارےابتدا سےکمزور تھےلیکن فوج کی مداخلت نےانہیں مزید کمزور کردیا ہے….فوج کےپاس اس وقت20بلین ڈالرز کا بزنس ایمپائر ہے‘ اور یہ غالباً ملک کےسب سےبڑےلینڈ ڈویلپرز ہیں کیوں کہ افسران کی وفاداری زمینی گرانٹ کےذریعےخریدی جاتی ہے۔“۔
صحافتی بددیانتی کی مثال قائم کرتےہوئےمیگزین نےیہ تو درست لکھا کہ کرپٹ سیاست دانوں کےساتھ ساتھ فوجی مداخلت نےجمہوریت کو کمزور کردیا ہےجس نےچند ہی انتخابات منعقد ہونےدیے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ امریکا کس حد تک انتخابات کےہونے، نہ ہونےاور ہونےکی صورت میں نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے۔
مضمون میں پاکستان کی سماجی اور معاشی پسماندگی کےلیےبھی فوج کو موردِ الزام ٹھیرایا گیا ہےجو وسائل پر قابض ہوکر ترقی کو روکتی رہی ہے۔ میگزین کےمطابق معاشی ضمن میں تعلیم یافتہ پاکستانیوں کا خیال ہےکہ ان کےملک کو اب تک ترکی یا ملائیشیا بن جانا چاہیےتھا، لیکن اس کےبرعکس یہ یو این ڈی کی ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکیٹرزکی رینکنگ میں یمن سےنیچےیعنی151 واں ملک ہے۔ جب کہ اسکول جانےوالےبچوں کی تعداد کےحوالےسےسوڈان سےبھی نیچےہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہےکہ ”حکومت تعلیم پر جتنا خرچ کرتی ہےاس سےکئی گنا فوج پر خرچ کرتی ہے۔“۔
یہ حقیقت ہےکہ پاکستانی فوج نےاپنی قوم کی نظروں میں قائم اپنےگولڈن امیج کو دائو پر لگا کر صلیبی اتحاد کا ساتھ دیا تھا۔لیکن بدلےمیں کیا ملا، ذلت و رسوائی! سنا ہےپرویز مشرف کےبعد آنےوالی فوجی قیادت کو اس کا احساس ہوچلا ہےاور اس نےاس ضمن میں کچھ منصوبہ بندی کی ہےاور کچھ اقدامات بھی ایسےکیےہیں جو امریکا سےرفتہ رفتہ دوری کی طرف اشارہ کرتےہیں۔ ہوسکتا ہےفوج کےلیےامریکا کو یکدم خداحافظ کہنا ”ممکن“ نہ ہو، لیکن اس نےکچھ باتیں ماننےسےانکار کردیا ہے۔ اس نےاِس سال کوئی نیا آپریشن شروع کرنےسےگریز کیا ہے۔ مزید برآں فوج نےغیر ملکیوں کی بلا روک ٹوک نقل وحرکت کو کنٹرول کرنےاور اہم مقامات سےان کو نکالنےکی بھی کوشش کی ہے۔ ہوسکتا ہےمغربی میڈیا میں فوج کےخلاف ہرزہ سرائی اسی کا ردعمل ہو۔ کیوں کہ پاکستانی میڈیا کےبرعکس مغرب کا میڈیا اپنی ریاستوں کی پشت پر کھڑا نظر آتا ہےاور ابلاغی جنگ بپا کرکےمیدان میں موجود سپاہیوں کا ساتھ دیتا ہے۔
ردعمل یقینی ہے، لیکن اگر فوج نےامریکی پالیسیوں سےدوری کا سفر شروع کردیا ہےتو اسےجاری رکھنےاور اس میں تیزی لانےمیں ہی بھلائی ہے۔ جو نو برس تک کندھےپر بیٹھ کر خوش نہیں ہوا وہ اگلی پانچ دہائیوں تک بھی کسی بات سےخوش نہیں ہوگا۔ لیکن پاکستانی عوام‘ جو کل خوش ہوکر سلیوٹ مارتےتھے‘ آج ناراض ہیں۔ریاست ِپاکستان اورفوج مغرب سےلڑائی مول لےکر تو باقی رہ سکتےہیں لیکن اپنی قوم کی ناراضی مول لےکرباقی نہیں رہ سکتی۔
…………٭٭٭…………
ہمارےحکمرانوں کا توموڈ نہیں لیکن کیا ہم وطن عزیز کےخلاف برطانوی جریدےکی ہرزہ سرائی کا جواب دینا پسند کریں گے؟ اگر ہاں تو کس طرح جواب دےسکتےہیں؟
آج یوٹیوب پر سرفنگ کرتے ہوئے مجھے یہ ویڈیو کلپ ملی جس میں معروف کالم نگار اور زمانہ طالب علمی میں بائیں بازوں کی تنظیم سے وابستہ رہنے والے حسن نثار کہہ رہے ہیں کہ ’تعلیمی داروں میں جمعیت کا وجود ایک بہت بڑی بلیسنگ ہے‘۔ یہ ویڈیو کلپ غالبا جمعیت کے ماس میڈیا ڈپارٹمنٹ نے ان تمام ویڈیوز کے ساتھ اَپ لوڈ کی ہے جن میں ملک کی معروف شخصیات نے جعمیت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان میں جاوید ہاشمی ، عطالحق قاسمی ، عرفان صدیقی، مشتاق منہاس وغیرہ شامل ہیں۔
میں نے خاص اس کلپ کا انتخاب اس لیے کیا کہ باقی لوگوں کے برعکس حسن نثار دائیں کے مخالف یعنی بائیں بازوں کا حصہ ہیں۔ اس انتخاب کی دوسری وجہ یہ ہے کہ حسن نثار نے جامعہ پنجاب کی جمعیت کو زیادہ قریب سے دیکھا ہے اور یہ باتیں بھی جامعہ پنجاب جمعیت کے تناظر میں کی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ جامعہ پنجاب میں جمعیت کے کردار پر گزشتہ دِنوں میڈیا میں بہت بحث ہوتی رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : اگلے چند دنوں تک اپنے آبائی گاوں واقع ’ اَپر دیر‘ جانے کے سبب میں انٹر نیٹ کو استعمال نہیں کرسکوں گا کیوں کہ دیر کی بلند چوٹیوں پر واقع گاوں ديهات میں ابھی انٹرنیٹ نہیں پہنچا ہے۔
تبصرے کے لیے پیشگی شکریہ۔ میں اپنا تفصیلی تبصرہ ۲۰ جولائی کو واپسی پر لکھوں گا۔
میں صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین شاہ کے صاحبزادے کے قتل پر کچھ لکھنا چاہ رہا تھا لیکن آج کے اُمت اخبار میں تیمور کا بنایا کارٹوں دیکھ کر میں نے سوچا کہ اس پر کیا لکھوں ساری بات تو کارٹون میں بتادی گئی ہے۔
جب میں اپنےساتھی کےساتھ مقبوضہ جامعہ کراچی میں داخل ہونےکےلیےسلور جوبلی گیٹ پر قائم چیک پوسٹ پر قابض رینجرز اہلکار کی جانب بڑھا تو اس نےاس حقیقت کےباوجود کہ میرے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا مجھےصرف اس لیےاندر جانےکا گرین سگنل دےدیا کہ ہم دونوں ایک ہی زبان بولتےتھے۔ اور میں نےیہ ’سہولت‘ حاصل کرنےسےصرف اس لیےانکار کردیا کیوں کہ اس نےمیرےاردو بولنےوالےساتھی کو میرےساتھ جانےکی اجازت نہیں دی‘ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ ہم دونوں ہی جامعہ کراچی کےطالب علم ہیں۔ مجھےزبان کی بنیاد پر اُمتِ محمدیہ کو تقسیم کرنےوالوں سےشدید نفرت ہے۔ باچا خان کےپیروں کاروں کی طرف سے اپنےکارکنوں کو سخت ہدایت تھی کہ اس پختون دشمن کےساتھ ہاتھ نہ ملایا جائے۔ لیکن پتا نہیں 18جولائی کو میرےزبان سےڈیرہ غازی خان کےعلاقےترنول میں ان پولیس والوں کےسامنےیہ الفاظ کیوں نکلےکہ” آپ لوگ پختونوں کی نسل کشی کےبعد اب ان کو ذلیل کرنےکا کوئی موقع بھی ہاتھ سےنہیں جانے رہے ہیں۔‘‘
تقریبا ً ایک دہائی قبل اپنے زمانہ طالب علمی میں اس روٹ کو استعمال کرتارہا۔ راستےمیں مسافروں کےساتھ ٹرانسپورٹ مافیا کی زیادتیاں ہمیشہ مجھےپریشان کیا کرتی تھیں۔ اس لیےمیں نےارادہ کیا کہ میں کافی عرصہ بعد سفر میں اکیلےہونےکا فائدہ اُٹھا کر روڈ کا انتخاب کروں اورمضر صحت کھانے پینےکےسامان اوراس کےبدلےبس والوں کےہاتھوں ’یرغمال ‘مسافروں سے زیادہ پیسوں کےحصول کو ایک فیچر کا موضوع بنائوں۔ مسافروں کےمسائل مجھےپریشان کرتی رہے تو میرے سفر کی ساتھی جان پرکنز کی کتاب اس سےبھی زیادہ پریشان کررہی تھی جس میں انہوں نےسی آئی اےاور معاشی غارت گروں کی وارداتوں پر سےپردہ اُٹھایا ہے۔ کتاب میں پاکستان کا تذکرہ نہ ہونےکےباوجود یہ پاکستان کےحالات پرکس طرح منطبق ہوتی ہےاس کا تذکرہ ایک الگ پوسٹ میں‘فی الحال واپس اپنےموضوع کی طرف۔
کوہاٹ ٹنل پر ایک باوردی نوجوان نےسب کےشناختی کارڈ جمع کیےاور پھر واپس کیےلیکن ایک بزرگ کےپاس کلر فوٹوکاپی تھی‘ نوجوان نے واپس کرنےسےانکار کردیا۔ بزرگ التجا کرتےرہےکہ راستےمیں کئی اور جگہ چیکنگ ہوگی۔ نوجوان نےکہا اُسےآرڈر ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہےجہاں آرڈرز تو جاری ہوتےہیں‘ لیکن اس کےساتھ ہدایات دیےجاتےہیں اور نہ ہی اطلاع کہ کوئی ایسا آرڈر پاس ہوا ہے!لہٰذا آپ کا تجربہ ہی ہدایات ہوتےہیں۔ لیکن پہلی دفعہ کا کیا جائے؟کیا بس اڈوں پر ایسےہدایات واضح طور پر آویزاں نہیں کرنےچاہئیں؟
شاید یہ واقعہ تھا جس نےمجھ سےآگےترنول‘ ڈیرہ غازی کےعلاقےمیں وہ جملہ کہلوایا جو میں شاید عام حالات میں کبھی نہ کہتا۔ ترنول پر بس رُک دی گئی۔ کارڈ جمع کیےگئےاور پھر حکم دیا گیا ۔ پیدل چلنا شروع کردو۔ یہ سرحد اور پنجاب کا بارڈر تھا لیکن مجھےیہ انڈیا پاکستان یا پاکستان افغان بارڈر لگا۔ جہاں لکڑیوں کےبیچ میں گزارا گیا۔ یہ ہزار میٹر سےزیادہ کا راستہ ہوگا۔ ترنول تھانےکےسامنےپہنچ کر وہاں بیٹھےپولیس والوں سےمیں نےکہا”یہ کیا ہے؟ یہ پیدل چلوانا سیکورٹی مسئلےکا حل تو نہیں ہے۔ آپ لوگ پختونوں کی نسل کشی کےبعد اب ان کو ذلیل کرنےکا کوئی موقع بھی ہاتھ سےنہیں جانےدے رہے ہیں‘‘۔
مجھےنہیں پتا کہ ذلیل ہونےکا باوجود مجھےیہ کہنےکا حق تھا یا نہیں لیکن اس پر میرےپنجابی بھائی پولیس والےنےجو کچھ کہا اس نےمجھےکچھ مزید کہنےپر مجبور کردیا۔ اس نےکہا کیا کریں تم دہشت گرد ہو۔ سارےچرسی کہاں ہوتےہیں؟ سرحد سے آتے ہیں چرس اور ہیروئین کہاں سےآتی ہے؟۔‘‘
میں سنتا رہا اور وہ کہتا چلا گیا”بےوقوف یہ کیمرےلگےہیں جس میں اہم دہشت گردوں کو پہچانتےہیں‘ چرسیوں اور ہیرونچیوں کا پتہ چلتا ہے۔‘‘
میں نےعرض کیا”جناب یہ کام تو 10میٹر میں بھی ہوسکتا ہے اس کےلیے1000میٹر کی پریڈ کیوں کراتےہو۔“ اس گستاخی پر اس نےمجھےہاتھ سےپکڑ کر دھکا دیا۔میں نےکہا یہ میرےسوال کا جواب نہیں ۔ مجھےدھکا دےکر کونساجواب دےرہےہیں؟ میں اس وقت جنوبی پنجاب میں تھا او ر میں نےاسےیاد دلایا کہ یہاں بھی طالبان ہیں لیکن آپ ان کےخلاف کچھ کرنےکو تیار نہیں۔اور پھر سرحد میں داخل ہوتےہوئے پنجاب سےآنےوالوں کو ایسا ذلیل نہیں کیا جاتا حالانکہ وزیر ستان میں پائےجانےوالے’پنجابی طالبان‘ پنجاب سےہی آئےہوں گے۔ میں نےمزید کہا کہ ”میں روز پڑھتا ہوں کہ سیکورٹی فورسز نے30،40اور 50شدت پسندوں کا مارا۔ یہ نسل کشی نہیں تو کیا ہے۔ 99فیصد پختون امریکا مخالف ہیں۔ امریکی دشمنی کو ختم کرنےکےلیےتہمیں ایک ایک پختون کو مارنا ہوگا“…. میں وہاں سےبس کی جانب چل پڑا اور سوچتا رہا کہ میں کیا کیا کہہ گیا۔ شاید میں یہ سب کچھ نہ کہتا اگر مجھےمیرےسوال کا جواب ملتا یا صرف اتنا ہی کہہ دیا جاتا کہ ”تم میرےمسلمان پاکستانی بھائی ہو ‘ یہ تم نےکیسےبات کردی۔‘‘
ریاض سہیل‘بی بی سی اردو کراچی
کراچی کے بارے میں حکومت کی جانب سے کئی فیصلے ہوئے جن میں سے کسی پر بھی عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔ کراچی میں پر تشدد واقعات، ہنگامہ آرائی اور خوف و ہراس میں غروب ہونے والا سورج منگل کو اسی ماحول میں طلوع ہوا۔ صبح کو تمام تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز بند رہے اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ نجی گاڑیاں بھی نہ ہونے کے برابر رہیں۔
ماہ رمضان کی آمد اور سکولوں کی موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد گزشتہ روز بازاروں اور مارکیٹوں میں گہماگہمی تھی۔ مگر آج ہر جگہ ویرانی نظر آئی۔ شہر کے دل کے نام سے پہچانے جانے والے علاقے ایمپریس مارکیٹ میں کچھ پریشان تو کچھ خوفزدہ دکانداروں سے ملاقات ہوئی۔
ان دکانداروں کا کہنا تھا کہ اچانک دو تین لڑکے آتے ہیں اور فائرنگ کر کے چلے جاتے ہیں حالانکہ ان کی دکانیں پہلے سے بند ہیں۔
ان میں اکثر ریڑھی لگانے اور مزدوری کرنے والے تھے جن کو یہ فکر تھی کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو ان کا گذارہ کیسے ہوگا۔
پاکستان کے دیگر علاقوں میں اقتصادی سرگرمیاں محدود ہونے کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کراچی شہر کا رخ کرتی ہے۔ جس وجہ سے اس شہر کی آبادی غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پونے دو کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ اس میں چالیس لاکھ پشتون بھی شامل ہیں۔
دو بندر گاہوں کے ساتھ مرکزی بینک، کئی ملکی اور غیر ملکی مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کے ہیڈ آفیس یہاں موجود ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملکی خزانے میں ساٹھ فیصد آمدن اسی شہر سے جاتی ہے۔
لانڈھی میں ایک پیٹرول پمپ کو جلانے کے بعد مرکزی شہر کے تمام پیٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن قناطیں لگا کر بند کردیئے گئے تھے جس کے باعث نجی گاڑیوں کے مالکان اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
زینب مارکیٹ کے قریب ایک پریشان حال ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ پورا شہر بند اور سواری نایاب ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ ان حالات میں وہ کیوں گھر سے نکلے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ خوف انہیں بھی آتا ہے مگر کیا کریں پیٹ کے لیے تو نکلنا پڑتا ہے۔
پچھلے ہفتے شہر میں پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کے بعد یکم جنوری سے جولائی تک ہلاکتوں کی جوڈیشل انکوائری، شہر کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے سفارشات کی تیاری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے اور رینجرز کا گشت بڑھانے اور چوکیاں قائم کرنے جیسے کئی فیصلے ہوئے جن میں سے کسی پر بھی عملدرآمد ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔
رکن صوبائی اسمبلی رضا حیدر، ان کے محافظ اور عوامی نیشنل پارٹی کے دو کارکنوں کے علاوہ ہلاک ہونے والے کون ہیں؟ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ عام لوگ تھے۔ اس سے قبل بھی دو ہزار سات سے لے کر گزشتہ ہفتے تک ان پرتشدد واقعات کا نشانہ عام لوگ ہی بنے جن کے مقدمات اور تفتیش نامعلوم وجوہات کے بنا پر بند کر دی گئی۔
شام کو ایک ایس ایم ایس آیا ہے جس میں پوچھا گیا کہ ہلاک آخر ہلاک ہونے والے پچاس افراد میں سے رکن صوبائی اسمبلی کا قاتل کون تھا؟
میڈیا کسی بھی معاشرے میں خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس کا اثر نہ صرف سیاسی اکھاڑے پر ہوتا ہے بلکہ یہ معاشرے کی مجموعی سمت کا تعین بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے لیے معاشی، حربی اور سیاسی پالیسیاں بنانے والے صہیونیوں اور ان کے صلیبی دوستوں نے اس سے پروپیگنڈے کا کام بخوبی لیا ہے۔ پاکستان میں نجی ٹی چینلز کے قیام کے بعد میڈیا کے اثرات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی میڈیا پر جانب داری کے علاوہ بنیادی طور پر تین قسم کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ کئی ایسی چیزیں ہیں جو میڈیا کو نہیں دکھانی چاہئیں۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ میڈیا جان بوجھ کر کچھ حقائق عوام تک نہیں پہنچاتا۔ اسی طرح بعض لوگ میڈیا پر تکنیکی لحاظ سے تنقید کرتے ہیں۔ یہ الزامات عام طور پر باہر سے لگائے جاتے ہیں، تاہم گزشتہ چند دنوں کے دوران ایسا لگا کہ میڈیا کے کردار سے واقف اس کے کچھ حصے وعدہ معاف گواہ بن کر ان خرابیوں کی نشاندہی کررہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وعدہ معاف گواہ بننے والوں کا تعلق بڑے اور بااثر ابلاغی گروپوں سے ہے۔ صف ِ اول کے اخبارات میں چھپنے والے کچھ حصے قارئین کے لیے مرتب کیے ہیں، ملاحظہ کیجیے۔
……..٭٭٭……..
معاصر روزنامہ ’پاکستان‘ اپنے 31 جولائی2010ءکے اداریے ”الیکڑونک میڈیا اور طیارے کا حادثہ“ میں لکھتا ہے: ”ہمارے قارئین نے ٹیلی فون اور ایس ایم ایس کے ذریعے حادثے کے دن الیکڑونک میڈیا کے بعض حلقوں کی طرف بڑے افسوس کے ساتھ توجہ دلائی اور شدید احتجاج کرتے ہوئے زور دیا کہ رپورٹنگ اور
تبصروں کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق وضع کیا جائے“۔
اداریے کے مطابق کئی قارئین نے میڈیا کا قبلہ درست کرنے کے لیے سڑکوں پر آنے کی دھمکی دی تو کچھ نے سپریم کورٹ سے ’سوموٹو ایکشن‘ لینے کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض نے رپورٹنگ کے معیار پر تنقید کی۔ اخبار کے اداریے میں آگے لکھا ہے: ”اس میں کوئی شک نہیں کہ الیکڑونک میڈیا کی وسعت نے پاکستانی قوم میں بیداری کی ایک نئی لہر پیدا کی ہے۔ ’ٹاک شوز‘ نے بحیثیت ِمجموعی قومی معاملات سے دلچسپی کو کئی گنا کیا ہے۔ آگہی اور آگاہی کی فضا کو پروان چڑھانے کی کامیاب کوشش کی ہے‘ لیکن مسابقت اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ اور بعض غیر تربیت یافتہ (اور کم تعلیم یافتہ) افراد کی موجودگی نے اس کے امیج کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔
حادثہ اسلام آباد کے دن کئی بچکانہ تبصرے ہوئی، جائے حادثہ اور لقمہ اجل بننے والوں کو جس انداز میں کیمروں کی زد میں لیا گیا، اس نے دلوں کو دُکھایا۔ فضائی حادثے میں مرنے والوں کی لاشیں نہ شناخت کی جاسکتی ہیں اور نہ سلامت رہ سکتی ہیں۔ اس طرح کی منظرکشی کی گئی کہ کلیجہ منہ کو آگیا۔ کئی تبصرہ نگاروں نے ایسے غیر محتاط الفاظ استعمال کیے جن سے لواحقین کے غم میں اضافہ ہوا۔ موسم اور پہاڑی علاقے کا کوئی لحاظ نہ کرتے ہوئے امدادی کارکنوں کو بے رحمانہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جاں بحق ہونے والوں کے گھروں کی طرف بھی کیمرے دوڑا دیے گئے۔ غم سے نڈھال والدین اور اہلِ خانہ کو سوالات کے کچوکے دیے گئے۔ وہ کچھ پوچھا گیا جس کی نہ کوئی ضرورت تھی نہ محل“۔ اخبار واضح کرتا ہے: ”پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن نے دہشت گردی کے واقعات کی کوریج کے لیے ازخود ایک ضابطہ تیار کرکے معاملات کو سنبھالا، اب بھی ضروری ہے کہ یہ اپنے خودسروں کو لگام ڈالے۔ کیمرے اور زبان کا استعمال احتیاط کا تقاضا کرتا ہے، نہ تو سب کچھ دکھانے کا نام آزادی ہے، نہ سب کچھ کہہ دینے کا نام بہادری ہے…. میڈیا کی آزادی معاشروں کو طاقتور اور ذمہ دار بنانے کے کام آنی چاہیے۔ انہیں پسپا اور رسوا کرنے کے لیے نہیں۔“ روزنامہ پاکستان کا یہ اداریہ بتارہا ہے کہ میڈیا وہ کچھ دکھا رہا ہے جو اسے نہیں دکھانا چاہیے۔ تاہم ملک کے دگرگوں حالات کا نقشہ کھینچتے ہوئے دی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصار عباسی اس پہلو پر روشنی ڈال رہے ہیں کہ میڈیا کیا کچھ دکھانے سے گریز کررہا ہے۔ روزنامہ پاکستان کے برعکس وہ الیکٹرونک اور پرنٹ دونوں طرح کے میڈیا پر تنقید کرتے ہیں۔
……..٭٭٭……..
انصار عباسی 2 اگست 2010ءکے روزنامہ جنگ میں لکھتے ہیں: ”ہر طرف تباہی و بربادی، قتل و غارت، دہشت گردی، خودکش دھماکی، فرقہ واریت، مذہبی اور لسانی شدت پسندی، کرپشن، ناانصافی، لوڈشیڈنگ، اقربا پروری، عوامی دولت کی لوٹ کھسوٹ، کرپٹ حکمران‘ بددیانت سیاستدان اور بے حس عوام نظر آتے ہیں“۔ انصار عباسی مزید لکھتے ہیں: ”ہر طرف بے ایمانی، ناانصافی، بددیانتی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔ حکومتی دفتروں میں چلے جائیں یا پرائیویٹ اداروں کو دیکھیں، سیاستدانوں کے رویّے کا جائزہ لیں یا سرکاری افسروں کے عوام سے سلوک پر نظر دوڑائیں، صحافت کے بڑے بڑے عَلم برداروں اور تجزیہ کاروں کا اصلی چہرہ دیکھیں یا کاروباری افراد کی ہیرا پھیریاں…. ہر طرف دھوکا، فراڈ، سفارش، رشوت ستانی اور زور زبردستی کا راج ہے۔“ میڈیا کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے انصار عباسی رقم طراز ہیں: ”اگر سیاستدانوں نے سیاست کو مال بنانے کا ذریعہ بنالیا ہے تو صحافت میں بھی کالی بھیڑوں کے کالے کرتوتوں کو مکمل تحفظ دیا جاتا ہے۔ صحافی چاہے کوئی بدفعلی کرے یا بدمعاشی، کرپشن کرے یا بلیک میلنگ، اُسے پولیس پوچھ سکتی ہے اور نہ ہی عدالت۔ صحافتی تنظیمیں ہوں یا میڈیا مالکان، سب جانتے ہیں کہ کون صحافت کو کاروبار کے طور پر استعمال کررہا ہے، کون بلیک میلر ہے، کون کس سے پیسے اور پلاٹ لے رہا ہے، مگر کوئی بھی کچھ کرنے کو تیار نہیں۔ ہم سیاستدانوں، ججوں، جرنیلوں اور افسر شاہی کے احتساب کی بات تو کرتے ہیں مگر اپنے احتساب کے لئے قطعی طور پر تیار نہیں۔ صحافت میں ڈاکوﺅں، لٹیروں اور بلیک میلروں کو صحافتی برادری کا حصہ ہونے کی وجہ سے کوئی چھو نہیں سکتا، اور دن بدن ایسے لوگ صحافت میں اس انداز میں پھل پھول رہے ہیں جیسے کرپٹ سیاستدانوں اور سرکاری افسروں کو ہم ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔ بحیثیت قوم ہماری عزت ِ نفس باقی رہی اور نہ ہی ملکی خودمختاری۔ امریکی ڈرون حملوں پر کوئی آواز اُٹھتی ہے اور نہ کوئی احتجاج ہوتا ہے۔ اس کو بے غیرتی نہ کہیں تو کیا کہیں!“ ……..٭٭٭……..
29 جولائی2010ءکو ”مارگلہ کا سانحہ“ کے عنوان سے انگریزی روزنامہ ’ڈان“ کے رپورٹرز منور عظیم، سید عرفان رضا اور محمد اصغر اپنی ایک مشترکہ نیوز رپورٹ میں لکھتے ہیں: ”اسپتال توجہ کا خصوصی مرکز تھے جہاں بے آسرا لواحقین اپنے پیاروں کی (خیریت کی) خبر سننے کے لیے سخت پریشانی کی حالت میں جمع تھے۔ بدقسمتی سے میڈیا اور حکومت کی طرف سے زندہ بچ جانے والوں کے بارے میں غلط معلومات نے لواحقین کے درد و کرب میں اضافہ کیا۔“ روزنامہ ”ڈان“ اپنی30 جولائی 2010ءکے اداریے میں لکھتا ہے: ”مارگلہ پہاڑیوں میں المناک حادثے کے بعد توجہ ٹی وی نیوز چینلز کی جانب سے حادثے کی فوری کوریج کی جانب مبذول ہوئی ہے۔ فوری اتفاق اس بات پر ہے کہ اُن سنگین اور دانستہ کی گئی غلطیوں کو نہیں دوہرایا گیا جو اس سے قبل بڑے حادثات کور کرتے ہوئے کی گئی تھیں، تاہم اب بھی بہتری کی کافی گنجائش ہے…. سانس پھولے رپورٹرز کا یہ کہنا کہ وہ حادثے کے مقام سے سب سے پہلے رپورٹ کرنے والے ہیں، غیر ضروری ہے۔“ اخبار لکھتا ہے کہ اسی طرح مسافروں کی باقیات سے بھرے باڈی بیگز کے قریبی کیمرہ شاٹ لینا بھی نامناسب تھا۔ اسی طرح غمزدہ لواحقین کے چہروں کو دکھانا بھی انتہائی درجے کی معیوب بات تھی۔ اخبار کے مطابق ٹی وی چینلز کی طرف سے بغیر تحقیق کے مسافروں کے زندہ بچ جانے کی خبر غیر ذمہ داری اور بنیادی صحافتی اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی تھی۔
یہ مضمون فرائیڈے اسپیشل کراچی کے آج کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ گرافیک ویو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ شکریہ
جب سے برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ۵۰ لاکھ پاکستانی روپوں کرایہ پر لیے جانے والے ایک ہال میں ایک بزرگ سردار شمیم خان صاحب نے جوتا بازی کی ہے تو ہمارے سیل فون پر تو جیسے جوتوں معاف کیے جوتوں کے تذکرے پر مبنی ایس ایم ایس کے حملے ہونا شروع ہوگئے ہیں ۔ یہ ایس ایم ایس اپنے موبائل کے ان باکس سے کاپی کرکے ذیل میں لکھے ہیں تاہم بابر اعوان کے اس بیان کے بعد کہ جوتوں کی سیاست کرنے والے جان لیں کہ جیالوں کے پاس بھی دو دو جوتے ہیں کسی نے انٹرنیٹ کے ان صارفین کے لیے جو کسی طرح زرداری کو جوتا مارنا چاہتے ہیں ایک انٹرنیٹ گیم بنایا ہے۔ تین درجوں کے اس گیم میں پہلا درجہ (لیول) جوتے مارنے کا ہے جس میں ہم بہ مشکل ۱۴ نمبر حاصل کر پائے ہیں۔ آپ کتنی دفعہ جوتا مار سکتے ہیں یہ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ اس کی مشق اس لیے بھی ضروی ہے کہ کل آپ کو موقع مل سکتا ہے کہ کوئی سیاست دان /حکمران سامنے آئے اور آپ ٹھیک نشانے پر دے مارے تو خوشی ہوگی۔
یہ وضاحت کرتے چلیں کہ اگر زرداری کے علاوہ باقی سیاست دانوں اور امریکی جنگ لڑنے والے کیانی کا گیم بھی بنایا جائے تو ہم اس پر بھی اپنی بھڑاس نکالنے کی کوشش کریں گے‘ اس لیے جیالے ہمیں ان لوگوں میں شمار نہ کریں جن کا ہدف صرف اور صرف آصف زرداری ہے ‘ ہم تو ان کے صدر بنائے جانے کے گناہ کا مرتکب این آر او ڈیل کے ضمانتی اس وقت کے آئی ایس آئی کے چیف کو بھی سمجھتے ہیں۔
موبائل ایس ایم ایس سے پہلے محمد احمد صاحب نے ای میل کے ذریعے لکھ بھیجا ہے ۔’’یہ ایک اچھی روایت کی ابتدا ہے۔۔ پوری قوم کو سارے لیڈروں کے سر پہ جوتے لگانے چاہییں ۔۔ جہاں کوئی نظرآئے جوتا پھینک ماریں۔۔ ایک جوتا پیر میں تو ایک جوتا ہاتھ میں۔۔۔ یہی ایک طریقہ رہ گیا ہے ان سب کو مار بھگانے کا۔
قوم کی بھگتو اب ناراضی
تجھ پہ ہوگی جوتا بازی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند متخب ایس ایم
صدر نے مرنے کے بعد اپنے تمام اعضا عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور خاص ہدایت کی ہے کہ (۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مناسب لفظ ہے‘ اس لیے سینسر کیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔) جیو والو کو ہی دیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارش برسی
پانی آیا
مشرف نے ڈھول بجایا
الطاف بھائی نے گانا گانا
نواز شریف نے نعرہ لگایا
زرداری نے فرمایا
بھاگ بیٹا جوتا آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’جوتا کپھے ‘‘
۷ اگست ۲۰۱۰ کو جوتا کپھے ڈے کے طور پر منایا گیا۔ ہمارے عزت دار صدر کو مبارک ہو‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے جوتا وہیں گر گیا فراز
مجھے نہیں جانا اس مونچھوں والے کتے کے پاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوزیہ وہاب فرماتی ہیں
زرداری حاضر ہے جرم کی سزا پانے
لیکن کوئی جوتے سے نہ مارے مرے دیوانے کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے نظیر کے لیے فراز نے لکھا ہے
بی بی ہم شرمندہ ہیں
تیرا شوہر ابھی تک زندہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برمنگھم یو کے میں ہمارے صدر زرداری پر جوتا پھنکا گیا ہے‘ہم اس حرکت پر شدید احتجاج کرتے ہیں
پھینکنے والے کو مزید پریکٹیس کروائی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرداری کو ابھی تک جوتا نہیں لگا تو کیا ڈفیکٹ ہے؟
آخر جوتے کی بھی تو کوئی سیلف ریسپیکٹ ہے۔
یہ مضمون “جسارت میگزین” کے تازہ شمارے میں شائع ہوا ہے جس میں امریکی دلالوں کو ایکسپوز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مضمون کو گرافک ویو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
………………………………………………………
امریکی دوستی کے بھیانک نتائج
سیلاب زدگان کی مدد میں امریکا رکاوٹ بن گیا
امریکیوں کو بچانے کے لیے جعفرآباد کو ڈبو دیا گیا
شہباز ائر بیس پاکستانیوں کو بچانے کے لیے استعمال کرنے سے امریکیوں نے روک دیا
………………………………………………………
سیلاب کی آمد کے ساتھ ہی قومی اخبارات میں شہ سرخیوںکے طور پر خبریں شائع ہونا شروع ہوگئی ہیں کہ امریکا سیلاب میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے اور ان کی مالی مدد میں پیش پیش ہے۔ برسات میں تاریخی مقدار میں پانی برسنے کے بعد ڈالروں کی ’بارش‘ کرکے افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی وائسرائے رچرڈ ہالبروک نے یہ طنز کیا کہ امریکا دل کھول کر مدد کررہا ہے‘ پاکستان کے دوست ایران اور چین کہاں ہیں؟ یعنی دوستوں نے ساتھ چھوڑدیا لیکن امریکا تن تنہا پاکستانی متاثرینِ سیلاب کے غم میں گھلا جارہا ہے۔گزشتہ روز تقریباً تمام اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ امریکا سعودی عرب کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑا مددگار ملک بن گیا ہے۔ جمعہ 20 اگست کو دیگر اخبارات کے علاوہ دائیں بازو کے علم بردار اخبارات نے بھی اس خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا کہ امریکا کیری لوگر بل کے علاوہ 700 ملین ڈالر پاکستان کو دے گا۔ یہ ’خوشخبری‘ کیری لوگر بل کے شریک خالق سینیٹر جان کیری نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ساتھ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے سنائی۔ ان خبروں کو پڑھنے کے بعد قارئین کو یہ سمجھنے پر موردالزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا کہ صلیبی لشکر کا سرخیل امریکا پاکستان اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دوست ہے۔ جاپان پر ایٹم بم گرانے کی تاریخی دہشت گردی ہو یا شمالی کوریا کے خلاف ناجائز جنگ‘ عراق کے مسلمانوں کو خون میں نہلانے کا عمل ہو یا افغانستان پر ننگی جارحیت…. امریکی میڈیا وائٹ ہاﺅس کا ہمیشہ مددگار رہا ہے۔ اب جبکہ امریکا تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے اور ذلت آمیز شکست افغانستان کے پہاڑوں میں اس کا شدت سے انتظار کررہی ہے، ایسے میں امریکا کے زیراثر دنیا بھر کا میڈیا اُس کے امیج کو بہتر بنانے کی کوشش آخر کیوں نہ کرے؟ خبروں کے سیلِ رواں میں غرق عوامی اذہان اِس وقت ذرائع ابلاغ کے سیلاب کی بڑی لہروں یعنی شہ سرخیوں کو ہی بہ مشکل ٹھیک طریقے سے دیکھ پارہے ہیں‘ اور یہ موجیں اتنی تیز ہےں کہ کم نمایاں چھوٹی چھوٹی خبروں میں بڑی خبر کو تلاش کرنے کے لیے وہ سنبھل نہیں پارہے ہیں۔ اور عوام الناس کی نظر کو کیا رونا…. اِدھر نیوز روم میں بیٹھے صحافی یا تو اپنی قیمت لگا چکے ہیں یا پھر اتنے نااہل ہیں کہ مخلص ہونے کے باوجود وہ ادراک کے معاملے میں عام آدمی کی صف میں ہی کھڑے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ دو چار دنوں کے دوران چند ایسی خبریں شائع ہوئیں جو اگرچہ اخبارات کے صفحات پر نمایاں جگہ پانے میں ناکام رہیں، تاہم خبریت اور وزن کے اعتبار سے ان دِنوں شائع ہونے والی سیکڑوں خبریں ان سے چھوٹی معلوم ہوتی ہیں۔ یہ خبریں پاکستانیوں کی آنکھوں پر بندھی کالی پٹیاں کھول کر انہیں ان کی گمراہی کا احساس دلاتی نظر آتی ہیں۔ ایک بہت بڑی خبر معاصر انگریزی اخبار روزنامہ ڈان کے صفحہ آخر پر شائع ہوئی جس کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہیلتھ ریلیف آپریشن اس لیے شروع نہیں کیا جاسکا کہ جیکب آباد میں واقع شہباز ایئربیس امریکی کنٹرول میں ہے۔ اخبار کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ق) کی رکن ِسینیٹ سیمی یوسف صدیقی کے ایک سوال کے جواب میں ہیلتھ سیکریٹری خوشنود لاشاری نے انکشاف کیا کہ علاقے میں ہیلتھ ریلیف آپریشن اس لیے ممکن نہیں ہے کیوں کہ یہاں کا واحد ایئربیس امریکی کنٹرول میں ہے۔ ’ہیلتھ ایمرجنسی پریپرئیڈنیس اینڈ ریسپانس سینٹر‘ کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر جہانزیب اورکزئی نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں اس لیے ریلیف آپریشن شروع نہیں ہوسکا ہے کیوں کہ جیکب آباد سمیت کئی علاقوں کے قریب کوئی ایسی ہوائی پٹی نہیں جہاں طیارہ اترسکے۔ سینیٹر سیمی نے اجلاس کے بعد ڈان کے نمائندے کو بتایا کہ یہ انتہائی بدنصیبی ہے کہ امریکی شہباز ایئربیس سے ڈرون حملے کرسکتے ہیں لیکن حکومت ِپاکستان اپنے ہی ایئربیس کو ریلیف آپریشن کے لیے استعمال کرنے کے معاملے میں بے بس نظر آتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر ِصحت کو فوج سے درخواست کرنی چاہیے کہ وہ امریکیوں سے شہباز ایئربیس سے ریلیف آپریشن کی اجازت مانگیں۔ انہوں نے تاسف کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے نہیں معلوم کہ وزارت صحت متعلقہ حکام خصوصاً پاک فوج کے سامنے یہ معاملہ اٹھانے میں کیوں ناکام رہی ہے؟“ پاکستانی عوام مطلع ہوں کہ شہباز ایئربیس جسے 4 سال قبل پاکستانی تاریخ کے بدترین فوجی سربراہ نے امریکا کو لیز پر دیا تھا‘ سیلاب زدگان کو فوری ہیلتھ ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوسکتا۔ ایسا ہرگز نہیں کہ شہباز ایئربیس امریکا میں واقع ہے یا پاکستان امریکا کی آئینی ریاست کا درجہ رکھتا ہے، بلکہ پاکستان ہی کے صوبہ سندھ کے ضلع جیکب آباد میں واقع ہے جہاں قرب و جوار کے لاکھوں لوگ ریلیف کے لیے اس کے محتاج ہےں۔ جی وہی پاکستان جو سنا ہے 14اگست 1947ءکو آزاد ہوا تھا۔ جیکب آباد میں شہباز ایئربیس کے صرف استعمال پر ہی پابندی نہیں ہے بلکہ 4 سال سے امریکیوں کے کنٹرول میں رہنے والے اس بیس کو بچانے کی خاطر بلوچستان کے ضلع جعفر آباد کو سیلاب کی نذر کردیا گیا، جہاں ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑنے کی مہلت بھی نہ مل سکی۔ گزشتہ سیلابی ریلے نے شہباز ایئربیس کی طرف بڑھنا شروع کیا تو اسلام آباد سے آنے والی ہدایات پر جمائی بائی پاس کو توڑا گیا جس سے نصیرآباد اور جعفرآباد زیرآب آگئے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وفاقی وزیر اعجاز جاکھرانی کے مطالبے پر عسکری دستے اور مقامی انتظامیہ کے افسران سڑک توڑ کر پانی کا رخ موڑنے پر تیار نہیں تھے مگر بعد ازاں ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاﺅس سے ہدایت ملنے پر فوری طور پر سڑکیں توڑ کر پانی کا رخ بدل دیا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے میں امریکی حکام کا اثر و رسوخ شامل ہے، کیوں کہ امریکی حکام نے پہلے اپنے طور پر پانی کا رخ موڑنے کی ہدایت جاری کی‘ جسے تسلیم کرنے سے انکار پر اسلام آباد سے مدد طلب کی گئی۔ دو روز قبل امریکی بیڑے کے کراچی آنے پر کراچی کے امریکی قونصل جنرل نے اپنے عسکری حکام کے ہمراہ بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا تھا جو دراصل شہباز ایئربیس کو کسی ممکنہ خطرے سے بچانے کا راستہ تلاش کرنے کا سروے تھا۔ اس فضائی جائزے میں طے کرلیا گیا تھا کہ اگر پانی اس طرف آیا تو کس جگہ سے بند توڑنے کے لیے کہا جائے گا۔ اور یوں امریکی حکام کی وجہ سے بلوچستان کے ہزاروں شہریوں کو تباہی سے دوچار کردیا گیا۔ روزنامہ ڈان کی خبر شائع ہونے کے بعد پاکستان ایئرفورس نے چند صحافیوں کو ایئربیس کا دورہ کرایا اور بتایا کہ یہاں امریکیوں کا کنٹرول نہیں۔ ایئر برج کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ شہباز ایئربیس اور باقی ایئربیسز کے درمیان قائم کیا گیا ہے تاکہ ریلیف کے سامان کی ترسیل کے ساتھ جیکب آباد سے لوگوں کو نکالا جاسکے۔ پی اے ایف حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ شہباز ایئربیس پر چند امریکی موجود ہیں جو ایف سولہ فائٹرجیٹ کی تکنیکی معاونت پر مامور ہےں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحافیوں کو ایئربیس پر لے جانے کے بجائے قائمہ کمیٹی کے سامنے بقائمی ہوش و حواس بیان دینے والے سیکریٹری ہیلتھ سے کیوں نہ پوچھا گیا کہ انہوں نے یہ بیان کس بنیاد پر دیا ہے؟ جس ملک میں جعلی کیمپوں کی کہانیاں منظرعام پر آرہی ہوں وہاں کوئی طے شدہ دورے میں دکھائے گئے منظر پر کیسے یقین کرسکتا ہے؟ پاکستان میں امریکی موجودگی پر گہری نظر رکھنے والے سوسائٹی میڈیا کے ارکان اس امکان کو رد کرنے پر تیار نہیں کہ اس دورے کا انتظام امریکی معاونت سے کرایا گیا ہو‘ تاکہ خبر کے نتیجے میں امریکا کے لیے پیدا ہونے والی نفرت اور پاکستانی حکومت اور فوج کے بارے میں منفی تاثر کو زائل کیا جاسکے۔ حکومت ِپاکستان اور عسکری قیادت نے لیز کی کبھی تردید نہیں کی ہے۔ اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ شہباز کے علاوہ شمسی ایئربیس امریکا کو لیز پر دیا جاچکا ہے۔ ارکانِ پارلیمان کی رگ ِ حمیت تو صرف اس بات پر پھڑک گئی تھی کہ شہباز ایئربیس ان مشکل حالات میں بھی ریلیف سرگرمیوں کے لیے استعمال کے لیے کیوں نہیں دیا جارہا۔ لیکن صحافیوں کو کرائے گئے دورے کے ذریعے امداد ی سرگرمیوں کی اجازت نہ دینے کے تاثر کو زائل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی دیا گیا ہے کہ مذکورہ ایئربیس لیز پر دیاہی نہیں گیا ہے جو واقعاتی طور پرغلط ہے۔ معاصر اخبار اُمت کے ذرائع کے مطابق شہباز اور شمسی دونوں ایئر بیسز پر پاکستانی حکام کو اندر داخل ہونے تک نہیں دیا جاتا۔پاکستانی فورسزپرصرف ان بیسز کے بیرونی تحفظ کی ذمہ داری ہے۔ بیس پرمکمل کنٹرول امریکیوں کا ہے‘وہ کسی بھی پاکستانی کو اندر جانے نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ بیس کے گردو نواح کی تباہ حال آبادیوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور بیمار ہورہے ہیں۔ سڑکیں نہ ہونے کے سبب ان تک پہنچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ایک رستہ باقی ہے کہ شہباز ایئربیس سے اُڑ کر ان کی مدد کی جائے‘ یہ راستہ بھی امریکا کی مخالفت کے سبب مسدود ہوچکا ہے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل کہتے ہیںکہ ”یہی وہ اڈہ ہے جہاں سے امریکیوں نے افغانستان پر56ہزار حملے کیے۔اب انہوں نے اس کے اندر بہت کچھ اور جمع کرلیا ہے۔ اسی طرح شمسی ایئربیس بھی ہے جہاں سے ڈرون اُڑتے ہیں۔ وہاں بھی امریکی پاکستانی اتھارٹیزکو جواب تک نہیں دیتے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ایسے میں وہ ان بیسز کو سیلاب زدگان کی مدد کے لیے کیوں استعمال ہونے دیں گے؟سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی کے مطابق صحت کی قائمہ کمیٹی نے انہیںبتایا کہ شہباز ایئربیس امدادی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کرنے دیا جارہا ہے تو انہوں نے ہدایت کردی کہ اس معاملے کو سینیٹ میں لایا جائے تاکہ وزارتِ دفاع سے پوچھا جائے کہ کس معاہدے کے تحت یہ اڈہ امریکا کو دیا گیا ہے اور کیوں اسے پاکستانیوںکو بچانے کی خاطر استعمال نہیں کیا جاسکا ہے۔ 12اگست کو ایک ہزار میرینز اور 24ہیلی کاپٹروں کو امداد کی آڑ میں پاکستانی سرزمین پر اُتارا گیا۔اس ”امداد ی کھیپ“ کے پہنچنے پر ہمارے وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ ملک کو ایسی مزید عالمی مدد کی ضرورت ہے۔کراچی میں امریکی قونصل جنرل ولیم مارٹن نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں امریکی شپ اور میرین کی موجودگی اوباما اور امریکی لوگوں کی کمٹمنٹ کا مظہر ہے۔ یہ کمٹمنٹ اور دوستی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستان میں بلیک واٹر اور امریکی فوجیوں کی تعداد11ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک کے ایئربیس پر قابض ہوکر اسے ا ستعمال کی اجازت نہ دینے والا‘ اپنے بیس کو بچانے کے لیے بلوچستان کو ڈبونے والاہمارا”دوست“ملک آخر 11ہزار فوجیوں کے ذریعے کیاکرنا چاہ رہا ہے؟ پاکستان کو بڑی امریکی دہشت گردی کا خطرہ ہے لیکن حکمران دوستی نبھا رہے ہیں۔ سینیٹر سیمی صدیقی کے خیال میں”بدقسمتی یہ ہے کہ بیس پاکستان کا ہے، اس کے ساتھ ہی پاکستانی ڈوب رہے ہیں ‘ ان کو بچانے کی خاطر ہمیں بیس استعمال کرنے کی اجازت امریکی نہیں دے رہے۔ یہ کس طرح کا معاہدہ ہے، کون نہیں جانتا! سنا ہے کہ اڈہ لیز پر دیا گیا ہے، مگر پھر بھی وہ ملکیت تو پاکستان کی ہے۔ پاکستانیوں کو بچانے کی خاطرکیوں استعمال نہیں ہوسکتا؟“ سیمی صاحبہ کتنی بھولی خاتون ہےں! جس ایئربیس کو پاکستانیوں کو مارنے کے لیے وقت کے میر جعفروں سے لیز پر لیا گیا ہے وہاں سے ان کو بچانے کے لیے کسی سرگرمی کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے!سیمی صاحبہ آپ نے درست کہا کہ یہ کیسی دوستی ہے۔اگر یہ دوستی ہے تو دشمنی کسے کہتے ہیں۔امریکی دوستی کی ایک بھیانک تاریخ ہے لیکن سیلاب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کوئی اس تاریخ سے سبق سیکھنے پر تیار نہیں۔
یہ مضمون سچائی کے علمبردار لیکن پاکستانی عوام کے جانب دار واحد پاکستانی انگریزی روزنامے “فرنٹیر پوسٹ” کے لیے لکھا گیا تھا۔ فرنٹیر پوسٹ اس وقت ظلم و جبر اور کرپشن کے خلاف جہاد میں مصروف ہے ، اخبار نے گزشتہ دنوں کراچی کے حالات پر بہت ہی بے باک اداریے لکھے۔ میں نے ذرا نسبتا سخت تحریر لکھ کر اخبار کو ارسال کردی جو تاحال نہیں چھپ سکی ہے۔ اس لیے میں نے اسے اپنے انگریزی بلاگ پر پوسٹ کردیا اور اس کا اردو ترجمہ ضروری اضافے کے ساتھ روزنامہ جسارت کو ارسال کردیا جس نے اسے آج کے ادارتی صفحے پر جگہ دے دی ۔ بلاگرز دوستوں کے لیے مضمون یہاں پیش خدمت ہے جس میں ایم کیوایم اور اے این پی کے دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
………………………………..
کراچی میں باچا خان کے پیروکاروں کے طرزعمل کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے سرحدی گاندھی کی اہنسا کی تعلیمات کو کوڑے دان میں پھینک دیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف صدیوں پر محیط پختون روایات کو پس پشت ڈال دیا ہے بلکہ اپنی پارٹی کے بانی خان عبدالغفار خان عرف باچا خان کے نظریے کو بھی دفن کردیا ہے۔
کراچی کو اس وقت ٹارگٹ کلنگ کی بلا کا سامنا ہے جبکہ اس کے رہنے والے اس خونیں کھیل کے تین بنیادی کھلاڑیوں کے رحم وکرم پر ہیں۔ شہر کے دعویداروں میں متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی شامل ہیں۔ جتنا بڑا دعوے دار، اہلِ کراچی کے لیے وہ اتنا ہی بڑا عذاب۔ ان تینوں گروہوں نے اس کو اپنا حق سمجھ لیا ہے کہ اپنے کسی رہنماءیا کارکن کی ہلاکت کا انتقام اس بدقسمت شہر کے باسیوں کو خون میں نہلاکر اور ان پر زندگیاں تنگ کرکے لیں۔ جب بھی کسی گروہ کا کوئی رہنما یا کارکن مرتا ہے، کراچی میں آگ و خون کا کھیل شروع ہوجاتا ہے جس میں بیش قیمت جانوں کے ضیاع کے علاوہ شہریوں کو ان کی گاڑیوں سے محروم کردیا جاتا ہے۔ کئی دنوں کی اذیت اور مرنے کا خوف اس کے علاوہ ہے۔ شہری ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں۔ موت کے رقص کی سنگینی کا ادراک رکھتے ہوئے دکاندار اپنی دکانوں کے شٹر گرانے میں زیادہ دیر نہیں لگاتے، اور جو اس کے برعکس کرتا ہے وہ سزا پاتا ہے۔ اسی طرح گاڑیاں چلانے والے بھی سڑک سے غائب ہوجانے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ جتنی بڑی شخصیت، اہلِ کراچی کے لیے اتنا بڑا امتحان۔ لیکن اس پر تو سب لکھ رہے ہیں۔ میں ان باتوں کو اُجاگر نہیں کرنا چاہتا جن پر باقی لوگ لکھ رہے ہوں۔ لوگوں کا مرنا افسوسناک تو ہے لیکن میرے نزدیک تشویش ناک نہیں۔
مجھے جو چیز ڈرا رہی ہے وہ مخالف پارٹی سے متعلق لسانی اکائی پر حملہ ہے جو الطاف حسین کی متحدہ قومی موومنٹ کا وتیرہ رہا ہے۔ ایم کیو ایم کے ممبر صوبائی اسمبلی رضا حیدر کی ہلاکت کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے اس روایت کو زندہ رکھا اور پشتو زبان بولنے والے درجنوں معصوم پختونوں کو بے دردی سے قتل کردیا جن کا عوامی نیشنل پارٹی سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ ان میں اکثر مزدور تھے جو دن بھر مشقت کرکے اپنے اور گھر والوں کے پیٹ کا دوزخ بھرتے تھے، یا پھر گلی گلی کچرا چننے والے۔ حتیٰ کہ بچوں تک کو نہیں بخشا گیا۔
اب کی بار عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے سندھ کے سالار عبیداللہ یوسف زئی کی ہلاکت پر بالکل متحدہ کی دہشت گردی کا ایکشن ری پلے شہر کراچی والوں کو دکھایا اور اردو بولنے والوں کو بلاامتیاز ہراساں کرنا شروع کردیا۔ لسانی یا سیاسی دہشت گردی افسوسناک ہے لیکن ایک چیز اور بھی افسوس ناک ہے، اور وہ ہے اہنسا کی موت…. جو کبھی باچا خان کے منجن کا ٹریڈ مارک ہوا کرتا تھا۔
ایس شیخ ایک نجی ٹی وی چینل میں ملازمت کرتے ہیں۔ عبیداللہ کے قتل کے بعد وہ تین دن تک دفتر نہیں جاسکے، کیوں کہ آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع دفتر جانے کے لیے انہیں بنارس کے باچا خان چوک سے ہوکر گزرنا پڑتا۔ جی ہاں وہی چوک جہاں سے 2بچوں کے باپ آصف اقبال نے گزرنے کی جرا¿ت کی تھی اور نتیجتاً اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔آصف اقبال کو ہنگاموں کے دوران دو دن تک کمپنی نہ جانے پر برطرفی کا الٹی میٹم ملا تھا۔ اورنگی علی گڑھ کے رہائشی ایس شیخ آصف اقبال کی طرح نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ نہیں بننا چاہتے تھے اس لیے گھر پر ٹکے رہے۔ شیخ صاحب اگرچہ اردو بولنے والے ہیں لیکن وہ عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ایک قدر مشترک رکھتے ہیں۔ اے این پی کے کارکنوں کی طرح ایم کیو ایم سے ان کی نفرت کی کوئی انتہا نہیں۔ وہ پختون روایات کے بہت بڑے مداح رہے ہیں، لیکن لوگوں کی حفاظت کے ضامن پختون آج شیخ صاحب جیسے لوگوں کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ یقینا تمام پختون نہیں مگر وہ جو یا تو اے این پی کے کارکن ہیں یا پھر اس جماعت کے منفی پروپیگنڈے سے گمراہ ہوچکے ہیں۔
پختون ہونے کے ناتے میرے لیے لوگوں کی جانوں کو خطرہ تشویش ناک ہے اور اس سے بڑھ کر میرے لیے فکرکی بات وہ شاندار پختون روایات ہیں جن کی موت آج پختونوں کے حقوق کے عَلم برداروں کے ہاتھوں ہورہی ہے۔
یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پختونوں اپنے گھر آئے اپنے دشمنوں کو بھی کبھی نقصان نہیں پہنچاتے چاہے وہ جان بوجھ کر وہاں سے گزرے ہوں یا خودچل کر آئے ہوں۔ پختون قوم نے کبھی معصوم لوگوں کو قتل نہیں کیا لیکن لینڈیا مافیا پرمشتمل عوامی نیشنل پارٹی سندھ یا تو پختون تاریخ بھول گئی ہے یا پھر ایم کیوایم کی طرف سے معصوم پختونوں کے بلاامتیاز قتل عام کے فلسفہ سے متاثر ہوئی ہے جس نے اردو اسپیکنگ علاقوں میں مزدوری کرنے والے پختونوں پر زندگی تنگ کردی ہے۔
اسی طرح اب اے این پی کے حامیوں نے اردو بولنے والوں کے لیے بنارس، کٹی پہاڑی ، قصبہ سمیت دیگر کئی علاقوں سے گزرنا دشوار کردیا ہے۔اے این پی رہنما کی ہلاکت کے فوراً بعد نیوز چینلز نے اسلحہ سے لوگوں کو خوف زدہ کرنے والے این اے پی کے کارکنوں کی فوٹیج دکھانا شروع کردیے۔ ایسے میںکون ان علاقوں سے گزرنے کی ہمت کرسکے گا؟جسارت کی خبر کے مطابق اورنگی ٹاﺅن کے لاکھوں افراد کی نوکریاں داﺅ پر لگی ہوئی ہیں۔
اور روزنامہ اُمت کے مطابق اورنگی ٹاﺅن میں لوگوں نے متحدہ اور اے این پی مخالف ریلی نکالی ہے جس پر پولیس لاٹھی چارج کے نتیجے میں 20افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پختونوں کو بھی اپنے علاقوں میں پاکستانیوں کو زبان کی بنیاد پر تقسیم کرنے والے ان دہشت گردوں کے خلاف ریلی نکالنی چاہیے۔ عام لوگوں کے مرنے سے نفرت پھیلتی ہے اور اس طرح قوم پرست جماعتوں کو ایندھن فراہم ہوتی ہے۔ کچھ کو یہ کھیل سمجھ میں آگئی ہے باقیوں کو بھی نکل آنا چاہیے تاکہ کراچی میں نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کرکے اسے دوبارہ رشنیوں کا شہر بنایا جائے۔
برطانوی شہریت کے حامل قائد ِتحریک کے بیان کے بعد سے ٹی وی پروگراموں اور اخبارات کے صفحات پر تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ رکتا د کھائی نہیں دے رہا۔ ان ماہرانہ تجزیوں میں الطاف حسین کے بیان کے منظر، پس منظر، ٹائمنگ، اثرات، امکانات اور خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ کیا الطاف حسین نے یہ بیان امریکا اور فوج کی آشیرواد سے دیا ہے؟ کیا ملک میں مارشل لا لگنے والا ہے؟ کیا یہ مارشل لا کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے؟ کیا تبدیلی کا وقت آچکا ہے؟ کیا الطاف حسین کو احساس ہوگیا ہے کہ اپنی من مانی کے لیے سیاسی سے زیادہ پرویزمشرف کے دور کی طرح فوجی حکومت ان کے لیے زیادہ بہتر ہے؟ یہ اور اسی طرح کے کئی اور سوالات اُٹھائے جارہے ہیں، ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کی طرف سے ایک دوسرے کو فوج کا ساتھی ہونے کا طعنہ دیا جارہا ہے۔ کچھ صحافی اور سیاست دان جرات ِاظہار کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے بپھرے رہنماﺅں سے یہ سوال بھی کرتے نظر آرہے ہیں کہ اگر 63 برسوں میں سیاست دانوں نے بدانتظامی اور بدعنوانی کی تاریخ رقم کی ہے تو فوجی مارشل لاﺅں نے بھی اس قوم کو آگے بڑھنے نہیں دیا، بلکہ امن و امان کی خراب صورت حال اور زرداری جیسے لوگوں کی حکومت بھی فوج کی دین ہے۔ یہ سب سوال اہم ہیں، لیکن اس ساری بحث کے دوران ایک اہم نکتے کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ برطانوی شہریت والے پاکستانی قائد ِتحریک کا جو بیان اخبارات میں رپورٹ ہوا ہے اس کے مطابق انہوں نے ”محب وطن“ فوجی جرنیلوں کی طرف سے جاگیرداروں اور کرپٹ سیاست دانوں کے خلاف مارشل لا جیسے اقدام کی حمایت کا اعلان کیا اور امریکا سے بھی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے بجائے ”عوام“ کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ الطاف حسین کے بیان میں عوام سے مراد ”ایم کیو ایم“ والے ہیں۔ فوجی جرنیلوں سے فوجی اقدام اور امریکا سے اس کی حمایت کے مطالبے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ الطاف حسین اقتدار میں آنے کے لیے ان دونوں کی منظوری ناگزیر سمجھتے ہیں۔ اس کو راقم الحروف کی توضیح سمجھا جاسکتا ہے، اس لیے ہم یہاں چیخنے چلاّنے کے لیے مشہور ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر کا وہ جملہ من وعن نقل کرتے ہیں جو انہوں نے ٹی وی پروگرام میں ادا کیا اور جس میں انہوں نے الطاف حسین کے اس نکتے کی تشریح کی ہے۔ انہوں نے پروگرام کے شریک مہمان احسن اقبال اور پروگرام کے میزبان سے پوچھا کہ آج تک کون سی حکومت فوج اور امریکا کی مرضی کے بغیر آئی ہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ ”کیا پاکستان میں کوئی فوج اور امریکا کے بغیر انتخاب جیت سکتا ہے؟“ اور پھر خود ہی جواب دیا کہ نہیں۔ایم کیو ایم کی قیادت نے نہ صرف اس بات کا اعتراف کیا کہ ایم کیو ایم خود فوج اور امریکا کے بل بوتے پر انتخابات جیتتی آئی ہے بلکہ دیگر جماعتوں پر بھی الزام لگایا کہ اُن کا ووٹ بینک دراصل عوامی نہیں بلکہ فوج اور امریکا کی مرضی ہے۔ ووٹ بینک کے تذکرے پر ضمنی بات کرتے چلیں کہ سسی پلیجو کے حلقے کا ایک آدمی ٹی وی غالباً ”سی این بی سی“ پر گلہ کرتا پایا گیا کہ میں نے انہیں پورے تین ووٹ ڈالے ہیں لیکن آج حال یہ ہے کہ آٹے کے تینوں ٹرک وہ اپنے گھر لے گئیں اور ہمیں پوچھا تک نہیں۔ اس پر ساتھ کھڑے دوسرے شخص نے کہا کہ میں نے تو 5 ڈالے تھے جس کا اب مجھے افسوس ہے۔ سسی کے حلقے شاید عوام ہوں، لیکن کراچی میں یہ خدمت حمایتی یا عوام نہیں بلکہ ایم کیو ایم کے کارکن انجام دیتے ہیں، اور پھر جہاں کُل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد ہزار‘ بارہ سو ہوتی ہے وہاں بیلٹ باکسوں سے تین، چار ہزار ووٹ نکلتے ہیں۔جیسا کہ عرض کیا، کراچی کے ”ووٹ بینک“ کی مالک ایم کیو ایم کے قائد کے بیان کے بعد مارشل لا کے بارے میں تو بات ہورہی ہے لیکن کوئی اس اعتراف کے تناظر میں الیکشن کمیشن کے ادارے اور اس کے کردار پر بحث نہیں کررہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ الطاف حسین نے بیان دیا نہیں بلکہ اُن سے دلوایا گیا ہے تاکہ فوج کی طرف سے ممکنہ شب خون کے بارے میں رسک اسسمنٹ کیا جاسکے۔ معروف میزبان اور صحافی کامران خان کا اس موضوع پر اِسی وقت ہی سروے کرنا بھی معنی خیز اور اسی رسک اسسمنٹ مشق کا حصہ معلوم ہوتا ہے، اس لیے اس پر تمام سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں کی طرف سے ناپسندیدگی کا اظہار نہایت ضروری ہے تاکہ فوج کو پیغام مل سکے کہ اب کی بار اس کے آنے پر مٹھائیاں تقسیم نہیں ہوں گی، لیکن اتنا ہی ضروری اس سوال کا جواب تلاش کرنا بھی ہے کہ اگر فوج اور امریکا ہی کو پارلیمنٹ تشکیل دینا ہے تو پھر جمہوریت اور انتخابات کا ڈراما ہی کیوں؟ کیوں نا اس ملک کی اصل حکمران فوج اور اس کا آقا امریکا فیصلہ کرلیں کہ کس کس کو پارلیمنٹ کا ممبر بننا ہے، کون وزیراعظم اور کون صدر کے منصب پر فائز ہوگا؟ پروگرام میں موجود احسن اقبال کا فرمانا تھا کہ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت بھی فوج کی نامزد کردہ ہے۔ حکومتیں تو ساری فوج کی نامزد کی ہوئی ہیں، لیکن احسن اقبال نوازشریف کی بڑے مینڈیٹ والی حکومت کو فوج اور امریکا کی نامزد کردہ حکومت نہیں کہیں گی، حالانکہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہو یا مسلم لیگ ن یا ق کی…. سب کی پالیسیاں واشنگٹن کی خواہش کی عکاس رہی ہیں۔ ایم کیو ایم کے اعتراف کے بعد اُن لوگوں کے منہ بند ہوجانے چاہئیں جو جماعت اسلامی پر فوج اور امریکا سے تعلق کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ بات اب ثابت ہوچکی ہے کہ جماعت اسلامی کا ملک کی سب سے بڑی اسٹریٹ پاور ہونے کے باوجود انتخابی کامیابی حاصل نہ کرنا اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ جماعت اسلامی جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں کے علاوہ فوجی کارپوریٹوکریسی کے عوام مخالف اقدامات کو ختم کرکے وطنِ عزیز کو صحیح معنوں میں ایک فلاحی اسلامی معاشرہ بنانے کی خواہاں واحد محب وطن سیاسی جماعت ہے، اور اس کی خواہش کو نہ تو امریکا پورا ہوتا دیکھنا چاہتا ہے اور نہ ہی ملکی دفاع کے اپنے اصل کام کو چھوڑ کر اقتدار پر براجمان ہونے کے خواہشمند فوجی جرنیلوں کو یہ منظور ہے۔ صدر زرداری نے دو دن کے توقف کے بعد زبان کھولی تو فرمایا کہ فوجی بغاوت کا خطرہ نہیں۔ اس کی وجہ ”اچھی نیت والے شخص“ کو قرار دیا، جو ان کے خیال میں حکومت گرانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فوج کی کمان سنبھالنے کے فوراً بعد اپنے ماتحتوں کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ باقاعدہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے دینے والے جمہوریت پسند جنرل پرویزکیانی نے الطاف حسین کے بیان کو کئی دن گزرنے کے باوجود ایک بیان جاری کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہ کی جس سے یہ ساری بحث ختم ہوجاتی؟ کیا آئی ایس پی آر کی خاموشی معنی خیز نہیں؟ کیا اس سے یہ تاثر درست ثابت نہیں ہوتا کہ اس وقت مارشل لا کی باتیں کرنے والے فوج ہی کی ترجمانی کررہے ہیں!الطاف حسین، پیر پگارا اور عمران خان اقتدار پانے کے لیے فوج کی ترجمانی کریں لیکن میڈیا کا فرض ہے کہ وہ سچ کی ترجمانی کرتے ہوئے امریکا کی مرضی سے فوج کے کاندھوں پر سوار ہوکرآنے والوں کا اصل کردار عوام کے سامنے کھول کر رکھ دے تاکہ ’اسٹیٹس کو‘ کو برقرار رکھنے والوں کو شکست دے کر ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا جاسکے۔
مصیبت تو ان بے چاروں کی ہے جن کے کاندھوں پر ترجمانی کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ پارٹی کے سربراہ کچھ بھی کہہ کر الگ جا کھڑے ہوتے ہیں جیسے محاورہ ہے کہ ”بھُس میں چنگی ڈال بی جمالو دور کھڑی۔“ چنگی میں غالباً چ کے نیچے زیر ہے اور یہ چنگاری کی نصفیر ہوسکتی ہے ورنہ پیش والی چنگی پر تو محصول وصول کیا جاتا ہے اور اب یہ چنگیاں جگہ جگہ لگی ہوئی ہیں، ہر آدمی اپنی زندگی کا محصول ادا کررہا ہے۔ لیکن بی جمالو بھی بھُس ہوگا تو اس میں چنگی ڈالے گی۔ اسے چھوڑیے کہ بی جمالو کون ہے، سب جانتے ہیں، مگر یہ بھُس کیا ہے؟ سوچیے۔
ترجمانوں پر بڑا ستم ہے، اور جب یہ ترجمانی بی بی فوزیہ وہاب کی طرف سے ہو تو اچھے خاصے کامیڈی سرکس کا مزہ آجاتا ہے۔ وضاحت کا بوجھ فیصل رضا عابدی پر بھی ڈال دیا جاتا ہے مگر وہ ہوشیار آدمی ہیں، جارحانہ انداز اختیار کرکے صاف بچ نکلتے ہیں۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا تو ایک ہی کام ہے کہ ہر خبر کی تردید کردی جائے خواہ وہ جوتا اُچھالنے کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو۔ موبائل پر ایک ایس ایم ایس ملا ہے کہ ایک رہنما نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ان کی پریس کانفرنس مسجد میں ہوا کرے گی سبب اس کا یہ کہ وہاں لوگ جوتے اُتار کر داخل ہوتے ہیں۔ شاید یہ اعلان من گھڑت ہو ورنہ تو مسجدیں بھی خود کش حملہ آوروں سے محفوظ نہیں اور یہ جوتے سے زیادہ خطرناک ہے۔ پھر جن کو اپنے جوتوں کا تحفظ درکار ہوتا ہے وہ مسجد میں بھی جوتے بغل میں دبا کر داخل ہوتے ہیں۔ کسی نے کہا، میاں جوتے اپنے سامنے رکھنے سے نماز نہیں ہوتی۔ جواب ملا جوتے پیچھے رکھنے سے جوتے نہیں رہتے۔ اس کا تجربہ سبھی کو ہوگا بشرطیکہ مسجد میں گئے ہوں۔ ایک شاعر نے کہا تھا کہ:
اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہوشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت
برمنگھم کے ہال میں داخل ہونے والا پی پی کا کارکن شمیم خان بھی دیکھنے میں تو خضر صورت ہی لگا مگر اسے خود ننگے پاﺅں گھر جانا پڑا۔ سنا ہے کہ اس کے جوتے ضبط کرلیے گئے تھے۔ جوتا ولایتی تھا، ہدف دیسی،اس سانحہ پر بھی ترجمانوں نے کئی وضاحتیں کیں اور ہر وضاحت دوسری سے مختلف۔ لیکن لوگ امریکی صدر بش کے کلب میں شمولیت پر فخر کرتے پائے گئے ہیں۔
آج کل سب سے زیادہ مشکل میں متحدہ قومی موومنٹ کی پوری ٹیم ہے۔ بوجھ وہ آن گرا ہے کہ اٹھائے نہ بنے۔ ہمت کی داد نہ دینا نا انصافی ہوگی۔ ہمیں ایک ترجمان کا قصہ یاد آگیا۔ ایک بھائی کو شیخیاں مارنے کی عادت تھی۔ پہلے تو ایسے لوگ کم کم ہوتے تھے اور جو ہوتے تھے وہ میاں خوجی کی طرح افسانوی کردار بن جاتے تھے، اب ایسے لوگ سیاست میں آجاتے ہیں۔ تووہ صاحب اپنے شکار کے قصے سنا رہے تھے۔ کہنے لگے ایک ہرن پر اس طرح گولی چلائی کہ اس کے کُھر سے ہوتی ہوئی سر سے نکل گئی۔ سننے والے نے تعجب کا اظہار کیا تو مصاحب خاص نے ترجمانی کا حق ادا کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ہرن اس وقت اپنے کُھر سے سر کھجا رہا تھا۔
اس وقت بہت سے لوگ اپنے کُھروں سے سر کھجا رہے ہیں۔ الطاف بھائی تو شوشا چھوڑ کر الگ جا کھڑے ہوئے۔ ان کی طرف سے کوئی وضاحت نہیں آرہی لیکن متحدہ کا ہر نمایاں اور غیر نمایاں شخص وضاحتیں کرتا پھر رہا ہے۔ چینل والے بھی کسی نہ کسی کو پکڑ لیتے ہیں اور بال نہ ہو تو کھال اُتار رہے ہیں، دوسروں کے لیے اپنی کھال بچانا دشوار ہورہا ہے۔
ملک جس وقت سیلاب میں ڈوبا ہوا تھا، الطاف بھائی نے اس پانی میں مارشل لا کی کشتی اتار دی۔ 22 اگست کو ”اپنی قوم“ سے خطاب کرتے ہوئے وہ فوج کو مارشل لا لگانے کی دعوت دے بیٹھے۔ پانی ساکت تو نہیں تھا لیکن بھائی نے جو بھاری پتھر پھینکا اس سے نئے بھنور اُٹھ رہے ہیں، نئے دائرے بن رہے ہیں اور ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ان کے ترجمان رضا ہارون سے لے کر ڈاکٹر فاروق ستار تک اور حیدر عباس رضوی سے بابر غوری تک بھائی کے ایک ایک جملے اور نکتے کی تفسیر بیان کررہے ہیں، سمجھا رہے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں یہ ہے۔ لیکن بھائی کا خطاب ریکارڈ پر ہے جو بار بار بجایا جارہا ہے۔یہ ہز مسٹرز وائس ہے کہ انکار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ الطاف حسین نے واضح طور پر کہا ہے کہ محب وطن جرنیل اگر مارشل لا جیسا قدم اٹھائیں گے تو وہ اور پوری ایم کیو ایم ان کی حمایت کرے گی۔ یہ صاف صاف مارشل لا لگانے کی دعوت ہے۔ مگر ترجمان چونکہ، چنانچہ، اگر‘ مگر کررہے ہیں۔ الطاف بھائی کی پارٹی مرکز اور صوبہ سندھ میں اقتدار میں شریک ہے۔ بہتر تو یہ تھا کہ خود وزیراعظم یا الطاف بھائی کے دوست آصف علی زرداری ان سے براہ راست پوچھتے کہ اس پردہ زنگاری میںکون ہے اور اقتدار میں رہتے ہوئے جنرلوں کو مارشل لا لگانے کی دعوت دینے کا مقصد کیا ہے۔ مگر وزیر اعظم تو اس پر تعجب کا اظہار کرکے رہ گئے۔ قمر زمان کائرہ نے بھی کھل کر مذمت نہیں کی اور ایوان صدر میں خاموشی طاری ہے۔ بعض باتوں کا شافی و کافی جواب بے شک ”باشد خموشی“ ہوتا ہے مگر کبھی کبھی خاموشی نیم رضا کے مصداق بھی ہوتی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ الطاف حسین نے بلا سوچے سمجھے ایک بات کہہ دی۔ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں خوب سوچ سمجھ کر اور اس کے نتائج کا جائزہ لے کر کہتے ہیں۔ خطاب سے پہلے کئی دن تک لکھ کراس کی مشق کرتے ہیں۔ انہوں نے بڑی ہوشیاری سے یہ جملے منتخب کیے ہیں کہ ” محب وطن“ جرنیل آگے بڑھیں اور جاگیرداروں، وڈیروں کے خلاف مارشل لا جیسے اقدامات کریں۔ اس میں کئی نکات وضاحت طلب ہیں جن کی تفسیر ان کے حواریوں سے بھی نہیں بن پارہی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں بدعنوان جرنیلوں کی مذمت کی اور صرف محب وطن جرنیلوں کو ہلا شیری دیا ہے۔ لیکن جو بھی جرنیل مارشل لا لگائے یا ماضی میں لگایا اُسے محب وطن قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حب الوطنی یہ نہیں کہ ایم کیو ایم کی آنکھ بند کرکے پشت پناہی کی جائے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی تخلیق میں بھی فوج کا ہاتھ تھا۔ آئی ایس آئی کے ایک ڈی جی نے دعویٰ کیا تھا کہ ایم کیو ایم، جئے سندھ تحریک کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائی گئی۔ لیکن پر، پرزے نکالتے ہی الطاف حسین نے سب سے پہلے جی ایم سید کے در پر حاضری دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بنگلہ دیش کی تاریخ نہیں دوہرائیں گے جب عوام نے پاک فوج کا ساتھ دیا اور فوج ان کو چھوڑ کر الگ ہوگئی۔ اب یہ بات سب کو معلوم ہے کہ 1971ءمیں الطاف حسین گلیوں میں کھیلتے ہوں گے۔ بنگلہ دیش کی تاریخ سے ان کا کیا واسطہ۔ وہاں تو متحدہ پاکستان کے لیے البدر اور الشمس قربانیاں دے رہی تھی جو آج بھی الطاف بھائی کے نشانے پر ہے کہ حب الوطنی کا مظاہرہ کیوں کیا۔ بہرحال یہ ریکارڈ پر ہے کہ جنرل ضیاءالحق کے دور میں فوج نے ایم کیو ایم بنوائی تاکہ کراچی سے محب وطن جماعتوں کا اثر، رسوخ ختم کیا جائے۔ پھر اسی فوج نے 1992ءمیں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کیا۔ الطاف حسین طویل عرصہ تک فوج کو بُرا، بھلا کہتے رہے۔ 1988ءکے انتخابات میں الطاف حسین نے فوج کے تعاون سے قائم ہونے والی بے نظیر حکومت سے اتحاد کیا اور اسی اشارے پر اتحاد سے باہر آکر نواز شریف سے تعاون کیا۔ وہ یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ انہیں ایک ایجنسی نے قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا اور انہوں نے کامل اطاعت کا مظاہرہ کیا، غالباً وہ محب وطن جرنیل تھے۔ پھر متحدہ کو جنرل پرویز مشرف جیسے محب وطن مل گئے اور کہا جانے لگا کہ جنرل پرویز مشرف اسلام آباد میں متحدہ کے سیکٹر انچارج ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ”مارشل لا جیسے اقدامات“ کیا ہوتے ہیں؟ مارشل لا تو مارشل لا ہی ہوتا ہے۔ شاید الطاف حسین کے ذہن میں جنرل پرویز مشرف کے اقدامات تھے جنہوں نے اقتدار پر قبضہ تو کیا مگر مارشل لا کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو صدر منتخب کروانے کے بعد بھی آرمی چیف کی حیثیت سے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو گھر بھیج کر عملاً مارشل لا لگا دیا۔ الطاف نے کہا ہے کہ محب وطن جرنیل مارشل لا جیسا اقدام، جاگیرداروں اور وڈیروں کے خلاف کریں۔ عجیب منطق ہے! متحدہ کی پوری ٹیم اس بات کا جواب نہیں دے پارہی کہ یہ مارشل لا جیسے اقدامات کیا ہوتے ہیں اور ایک سول حکومت کے ہوتے ہوئے فوج کیسے مارشل لائی اقدامات کرے گی؟ حیدر عباس رضوی مصر ہیں کہ الطاف بھائی نے مارشل لا کو دعوت نہیں دی، ایم کیو ایم جمہوریت پسند جماعت ہے مگر جاگیردارانہ جمہوریت کو جمہوریت نہیں سمجھتی۔ کیاخوب۔ اس کے باوجود وہ اس حکومت کا حصہ ہے جو متحدہ کے نزدیک جمہوری نہیں ہے۔ اس پر الطاف حسین ہی کا جملہ یاد آتا ہے جو وہ اکثر لہک لہک کر سناتے ہیں کہ ”میٹھا میٹھا ہپ، کڑوا کڑوا تھو“۔ جب تک اقتدار کا میٹھا مل رہا ہے تب تک اس غیر جمہوری حکومت کا حصہ بننے میں کوئی ہرج نہیں۔
اس کی بھی کوئی وضاحت نہیں کہ محب وطن جنرلوں کی پہچان کیا ہے، فوج میں ان کی تعداد کتنی ہے اور باقی اگر محب وطن نہیں تو ان کا ردعمل کیا ہوگا۔ الطاف بھائی کے کاﺅ بوائز بڑی مشکل میں ہیں، الطاف حسین کے بیان سے لگتا ہے کہ ان کے مخاطب جنرل اشفاق پرویز کیانی ہیں جنہوں نے این آر او کی تشکیل میں آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے ضامن کا کردار ادا کیا۔ وہ این آر او جس کی وجہ سے متحدہ پر سیکڑوں فوجداری مقدمات ختم ہوگئے تھے۔ اب میاں نواز شریف سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف سے کیے گئے خفیہ سمجھوتے کی وضاحت کریں جس کے تحت وہ سعودی عرب جاسکے۔ ضرور وضاحت طلب کرنی چاہیے لیکن جنرل پرویز مشرف نے جو این آر او جاری کیا تھا اس کا فائدہ اٹھانے والوں میں متحدہ سب سے آگے تھی۔ الطاف حسین پر اب بھی مقدمات قائم ہیں، انہیں عدالت سے مفرور قرار دیا گیا۔ ان کے واپس نہ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے اور یہ حقیقت بھی نظر میں رہے کہ الطاف حسین پر کئی مقدمات قائم ہونے کے باوجود وہ فوج کی مدد ہی سے ملک سے باہر گئے تھے۔ جہاں انہوں نے برطانوی شہریت حاصل کرکے اپنی منزل پالی اور کارکن کہتے رہ گئے کہ ہم کو منزل نہیں، رہنما چاہیے۔ کیا احمقانہ بات ہے۔ رہنما منزل کی طرف ہی تو رہنمائی کرتا ہے اور یہ رہنما سب کو چھوڑ چھاڑ کر برطانیہ کو اپنی منزل قرار دے کر بیٹھ رہا۔ اب مارشل لا لگانے کے مشورے دیے جارہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ الطاف بھائی نے جو کچھ کہا بالکل صحیح کہا اور ان کے ایک ایک لفظ کا دفاع کریں گے۔ الطاف بھائی نے اپنے کارکنوں کی بہت اچھی تربیت کی ہے۔ ایسے کارکن بھی تھے جنہوں نے بھائی کے حکم پر نماز کی نیت توڑ دی تھی کہ اللہ کو تو بعد میں بھی منایا جاسکتا ہے، وہ بخش دینے والا ہے۔ ایک زمانے میں الطاف بھائی کی ولایت کا خوب چرچا ہوا تھا اور وہ شجر وحجر میں جلوہ گر ہورہے تھے۔ ایک مسجد کے سلیب پر ان کی شبیہہ نمودار ہوئی تو صحن سے وہ سلیب ہی اکھاڑ کر الطاف بھائی کے دروازے پر رکھ دیا گیا۔ جس کو ایسے معتقد میسر ہوں وہ ہواﺅں میں تو اُڑے گا۔ مگر اب ان کی ایسی کرامتوں کے چرچے بند ہوگئے ہیں۔ شاید کارکنوں کو بھی اندازہ ہوگیا ہے۔ تاہم پیر صاحب کے اشارے پر آج بھی کراچی میں بہت کچھ ہوجاتا ہے۔
اہم ترین سوال یہ ہے کہ الطاف حسین نے فوج کو مارشل لا لگانے کی دعوت کیوں دی ہے۔ یہ بے مقصد نہیں ہے۔ اس کا فوری فائدہ تو یہ ہوا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے بار بار متحدہ کا جو نام آرہا تھا وہ اس نئی بحث کے سیلاب میں کنارے لگ گیا ہے۔ اب سب کی توجہ مارشل لا کے حوالے سے الطاف حسین کی دعوت پر مرکوز ہے۔ لیکن کیا صرف یہی ایک بات ہے؟ یہ بھی نظر میں رہے کہ الطاف حسین نے فوج کو مارشل لا لگانے کی دعوت لندن میں امریکی سفارت کار سے تین گھنٹے کی ملاقات کے بعد دی ہے۔ جنرل کیانی کو مارشل لا کی کھائی میں دھکیلنے کے مشورے کے پیچھے اور بھی بہت کچھ ہے۔ ایک تجزیہ یہ ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث متحدہ کے کارکنوں پر فوج کی ایجنسیوں نے ہاتھ ڈالا ہے، پولیس اس کی جرات نہیں کرتی۔ تو یہ فوج کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ ہم پر ہاتھ نہ ڈالا جائے، ہم آپ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ مگر کیا فوج ان کا مشورہ قبول کرلے گی۔ ایسے حالات نہیں ہیں۔ خزانہ خالی ہے، ملک سیلاب کی آفت میں گھرا ہوا ہے، مستقبل معاشی اعتبار سے بحران میں مبتلا ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ایسے میں فوج کبھی بھی مارشل لا کی گھنٹی اپنے گلے میں نہیں باندھے گی۔ اس کی خواہش یہی ہوگی کہ ان مسائل سے سول حکومت ہی نمٹے۔ الطاف بھائی کے مشورے پر فوج اس کھائی میں کودنے کو تیار نہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ فوج ہمیشہ سے اقتدار میں رہی ہے، کبھی آکے منظر عام پر، کبھی ہٹ کے منظر عام سے۔
اب اگر یہ کہا جائے کہ متحدہ ایسی حکومت سے الگ کیوں نہیں ہوجاتی جس پر جاگیرداروں کا قبضہ ہے اور جو جمہوری بھی نہیں تو جواب آئیں، بائیں، شائیں ہوتا ہے۔ بحث چل رہی ہے، تحاریک استحقاق اور تحاریک التوا جمع کرائی جاچکی ہیں۔ لوگ سیلاب میں ڈوب رہے ہیں، کھانے پینے کو، نہ رہنے کو۔ لیکن دانشوروں کو بحث کے لیے ایک اور عیاشی فراہم کردی گئی ہے۔ کیا ضرور ی ہے کہ ہر بات کا جواب دیا جائے؟ کسی کا شعر ہے:
تامرد سخن ناگفة باشد
عیب و ہنرش نہفتہ باشد
یعنی جب تک کوئی منہ نہ کھولے، اس کے عیب و ہنر پوشیدہ رہتے ہیں۔ الطاف بھائی میں خوبی یہ ہے کہ وہ سخن طرازی، سخن گستری سے گریز نہیں کرتے۔ اس طرح سب کچھ کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ مگر پھر حواریوں کی مشکل آجاتی ہے کہ پردہ پوشی کیسے کی جائے، عیب کو ہنر کیوں کر ثابت کیا جائے۔ بہر حال لوگ مقابلہ تو خوب کررہے ہیں لیکن مارشل لا جیسے اقدامات کی وضاحت مشکل ہوگئی ہے۔ جولیس سیزر پر حملہ کرنے والوں میں اس کا قریبی دوست بروٹس بھی شامل تھا۔ جب اس نے بھی پیٹھ میں خنجر گھونپا تو جوبس سیزر نے بڑی حیرت سے کہا YOU TOO BRUTUS ۔ جنرل کیانی نے کیا کہا ہوگا، یہ ہماری سماعتوں تک نہیں پہنچ سکا۔
عید کے روز گھر کی بالکنی میں آیا تو ان بچوں کو دیکھا جو بڑے فخر کے ساتھ کھلونا بندوقوں کی نمائش کررہے تھے۔ میرے گھر سے چار گلیاں آگے پختونوں اور اردو بولنے والوں کی مخلوط آبادی ہے۔ ان تصویروں میں آپ ان دونوں قومیتوں کے بچوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان بچوں کے ہاتھ میں کھلونے ہونے چاہیےتھے لیکن آج کراچی کے ماحول نے ان کے ہاتھوں میں کھلونا بندوقیں تھمادی ہیں۔ ہمارے ایک ہردلعزیز شاعرمگر دوراندیش دوست اس کو کھلونا بندوق نہیں بلکہ بندوق کہتے ہیں۔ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے؛
وہ طفل جن کے ہاتھ میں ہونے تھے کھلونے
افسوس ان کے ہاتھ میں بندوق آگئی
مرد و عورت کے رجحانات کے بارے میں کہیں پڑھا تھا کہ بچوں کے سامنے کھلونے رکھ دیے گئے تو لڑکیوں نے گڑیاں جبکہ لڑکوں نے کاریں ‘ موٹر بائیک وغیرہ کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا۔ ہماے دوست نے بجا کہا ہے کیوں کہ یہ کھلونے کو”چوز“ کرنا نہیں بلکہ ایک” وے آف لاف“ کو اختیار کرنا ہے ۔
اہل کراچی کو اس کے لیے ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی کا ’’شکرگزار‘‘ ہونا چاہیے۔ اور شکریہ کے طور پر اسی طرح ان کو ووٹ دیتے رہنا چاہیے تاکہ وہ میرے شہر کے بچوں کو اُن کی ’’منزل مقصول‘‘ تک پہنچا دیں ۔
(آخری تصویر کے لیے روزنامہ امت کا شکریہ)