November 11, 2009 at 12:48 pm
· Filed under پاکستان ·Tagged ایم کیو ایم ، بلتستان
ایم کیو ایم ایک ’’ملک گیر‘‘ جماعت ہے جس کا ’’پیغام‘‘ جہاں جہاں پہنچتا ہے وہاں ایک انقلاب رونما ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے جلسے اتنے بڑے نہیں ہوتے جتنے بڑے دکھائیں جاتے ہیں لیکن ہم ان لوگوں کی نیتوں کو شک کی نگاہ سے اس لیے دیکھتے ہیں کہ ایم کیو ایم ایک عوامی جماعت ہے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا کرکے ’’جاگیردارں ‘‘اپنے نظام کی بقا کی ایک ناکام جدوجہد کر رہے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ایم کیو ایم پر اعتراض کرنے والے نائن زیرو کے اندر نصب جدید ترین مانیٹرنگ نظام کی طرف توجہ دلا کرکہتے ہیں کہ ایسے نظام کی بھلا ایک پارٹی کو کیا ضرورت؟ ایسی بہکی بہکی باتیں کرنے والے اب کہتے ہیں کہ سکردو میں عوام کا ٹھاٹے مارتا ہوا سمندر دکھانے والی تصویر دراصل اسی نائن زیرو کے اندر قائم میڈیا ونگ کی حسن کارکردگی ہے جس نے بلتستان میں الطاف بھائی کے خطاب کے لیے سننے والوں کی ’’صحیح ‘‘ عکاسی کی ہے۔ ایک کیفے پیالہ والے ( بلاگ کا نام ہے) نے اس پر ایک تحریر لکھی ہے جو ہم نے اپنے انگریزی بلاگ پر ہو بہو نقل کی لیکن ضروری سمجھا کہ ہمارے اردو بلاگرز ساتھی بھی اس اہم موضوع پر اظہار خیال کریں۔ واضح رہے کہ مذکورہ بلاگر نے اس تصویر کو چھاپنے والے اخبار ایکسپریس پر بھی سخت تنقید کی ہے۔ اس کے جواب میں ایکسپریس والے بچارے کہہ رہے ہوں گے( ہمارا گمان ہے ) کہ ایسا کون نہیں کرتا؟ آخر ہمیں ہی کیوں سنگل آوٹ کیا جارہا ہے؟

Permalink
November 10, 2009 at 10:31 am
· Filed under پاکستان
جنہوں نے انڈین فلم ’’شوٹ آوٹ اِٹ لوکھنڈوالا‘‘ دیکھی ہے وہ سمجھ گئے ہوں گے کہ عنوان کیا بتارہا ہے! شوٹ آوٹ اِٹ لوکھنڈ والا ممبئی پولیس کے ’انکاونٹر ‘پر بننے والی بولی ووڈ فلموں میں سے ایک ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ آپ میں سے کتنوں نے یہ فلم دیکھی ہے لیکن لگتا ہے کہ اسلام آبادپولیس کے کرتادھرتاوں نے یہ فلم ضرور دیکھی ہوگی جب ہی تو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے پہلے سے تھانے میں بند ایک دہشت پسند جن پر الزام ثابت نہیں ہوا تھا کو پولیس نے چیک پوسٹ پر لے جاکر اُڑادیا۔ انگریزی اخبار دی نیشن کے مطابق اسلام آباد پولیس خصوصا آئی جی پر دہشت گرد واقعات کو روکنے میں ناکامی کی صورت میں سخت دباو تھا اس لیے انہوں نے پہلے سے پولیس کسٹڈی میں بند ایک ملزم کا قربانی کا بکرا بنا کر اس کا جھوٹا انکاونٹر کرواکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انہوں اس دہشت گرد کو قتل کرکے گویا پورے اسلام آباد کو بچا لیا۔ لوکھنڈوالا اب کسی رہائشی کمپلیکس کا نام نہیں بلکہ پولیس انکاونٹر کا دوسرا نام بن چکا ہے۔ اللہ پہلےہمیں ایسے آئی جی پولیس اور ایسے حکمرانوں سے اپنے امان میں رکھے۔ بھارت اور امریکا سے جانوں کو خطرہ بعد کی بات ہے۔
Permalink
November 10, 2009 at 9:30 am
· Filed under پاکستان
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے۔ امریکا اور اس کے حواریوں نے اب تک پاکستان کی ایٹمی قوت کو تسلیم نہیں کیا چنانچہ پہلے ہی دن سے پاکستان پر طرح طرح سے دباﺅ ڈالا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکی پالیسی اورمعیشت یہودیوں کے شکنجے میں ہے چنانچہ امریکی زعماءوہی کچھ کرنے پر مجبور ہیں جو یہودی ان سے کرانا چاہتے ہیں اور یہودیوں نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ ایک مسلم ملک بھی ایٹمی طاقت بن سکے۔اوراب تو ایران بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کررہا ہے جس سے اسرائیل خوف زدہ ہے۔ پورے خطہ عرب میں صرف اورصرف اسرائیل ایک ایٹمی طاقت ہے لیکن اس کی طرف سے امریکا اور اس کے حواریوں نے آنکھیں بندکررکھی ہیں۔ برعظیم میں پاکستان سے پہلے بھارت نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی اور1974ءہی میں پوکھران میں ایٹمی دھماکا کرکے پاکستان کو دھمکی آمیز پیغام دے دیا تھا‘ لیکن اس پر کبھی کوئی پابندی نہیں لگی۔پاکستان نے تو بہت بعد میں ایٹمی دھماکے کیے اور وہ بھی بھارت کے جواب میں۔لیکن پاکستان کے دیرینہ ”دوست“ امریکا نے پاکستان پر پابندیاں عائد کردیں مگر پاکستان اپنے ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کرچکاتھا۔ اس کے بعد ہی سے امریکا مختلف حیلوں سے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور طاقت کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جو امریکا اپنے تمام صلیبی حواریوں کو لے کر پاکستان کے پڑوس افغانستان میں اتر آیا ہے یہ بھی پاکستان کو نقصان پہنچانے اور اس کی ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کرنے کے طویل المیعاد منصوبے کا حصہ ہے۔یہ تو سب کو نظر آرہا ہے کہ امریکا نے اپنی دہشت گردی کی جنگ پاکستان میں داخل کردی ہے اورکہا جارہا ہے کہ افغانستان سے زیادہ پاکستان خطرناک ہے۔تازہ ترین بیان برطانوی مسلح افواج کے سربراہ سرجوک اسٹریپ کا ہے کہ القاعدہ افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان کے نسبتاً ایک چھوٹے علاقہ میں منتقل ہوگئی ہے۔امریکا وبرطانیہ کو القاعدہ اورطالبان کبھی قبائلی علاقوں میں نظر آتے ہیں اور کبھی کوئٹہ میں۔ یہ محض بیانات اورقیاس آرائیاں نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جارہی ہے اورالقاعدہ وطالبان کے بہانے آئندہ کسی بھی وقت بری فوجیں پاکستان میں داخل کی جاسکتی ہیں‘ فضائی حملے تو ہوہی رہے ہیں اورپاکستان کے حکمران دم سادھے بیٹھے ہیں۔زمینی فوج داخل ہوگئی تو شاید اس کے خلاف بھی پارلیمنٹ سے متفقہ قرار داد منظور کرانے کے سوا کچھ نہ کیا جائے۔ امریکی جریدے نیویارکر نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے جو رپورٹ شائع کی ہے وہ بے مقصد نہیں ہے۔پاکستان کی طرف سے اس رپورٹ کی سختی سے تردید کی گئی ہے لیکن جو کچھ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے وہ خالی ازعلت نہیں اور اس میں بین السطور پڑھنے اورسمجھنے کی ضرورت ہے‘ صرف تردید کافی نہیں ہے۔مذکورہ رپورٹ امریکا کے مشہور صحافی اوربرعظیم کے امور کا ماہر سمجھے جانے والے شخص سیمورہرش کی تیار کردہ ہے جس کے رابطے اہم شخصیات سے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لیے پاکستان اورامریکا میں مذاکرات ہورہے ہیں اورایٹمی تنصیبات کو دہشت گردوں کے ہاتھوں کسی بھی خطرے کے پیش نظر چند گھنٹوں میں اپنی تحویل میں لینے کے لیے امریکی جوائنٹ اسپیشل آپریشن کمان کے دستے علاقے میں موجود ہیں جن کے پاس سیکورٹی پلان بھی موجود ہے۔یہ دستے فوری طور پر پاکستان پہنچ کر ایٹمی اسلحہ اپنے قبضہ میں لے سکتے ہیں۔رپورٹ میں یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ سرگودھا ائیربیس پر ایف 16طیاروں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ ایٹمی تنصیبات اس علاقہ میں موجود ہیں۔سیمورہرش کی باخبری کا اندازہ اس بات سے ہوجاتا ہے کہ ان کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ ایف 16طیارے تو پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے پہلے بھی سرگودھا ائیربیس پر ہوتے تھے۔رپورٹ کا بیشتر حصہ تو اخباری اصطلاح میں”ٹیبل اسٹوری“ معلوم ہوتا ہے تاہم اس کا خطرناک ترین پہلو یہ انکشاف ہے کہ”گزشتہ گرمیوں میں ایک جھوٹی خبر یہ ملی کہ پاکستان کے 80سی100تک کے ایٹم بموں میں سے ایک غائب ہے جس پر دبئی میں موجود ایف بی آئی‘سی آئی اے‘ پینٹا گون اورانرجی ڈیپارٹمنٹ کی ایکشن ٹیم پاکستان پر حملے کے لیے تیار ہوگئی۔تاہم چار گھنٹے بعد یہ خبرغلط ثابت ہوئی تو ٹیم کو روانگی سے روک دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ تحقیق تو نہیں کی گئی ہوگی کہ یہ افواہ کن ذرائع سے پھیلائی گئی۔لیکن تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر اور کچھ دیر تک افواہ کی تردید نہ ہوتی تو کیا ہوتا۔اس سے زیادہ خطرناک یہ ہے کہ ایسی ہی کسی اورافواہ کی بنیاد پر پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر یلغارہوسکتی ہے۔یہ افواہ خود امریکی ذرائع بھی اڑاسکتے ہیں اورامریکا اس پرفوری عمل کرسکتا ہے۔کیونکہ دبئی میں تربیت یافتہ ایکشن ٹیم کی موجودگی ظاہر کررہی ہے کہ امریکا اس کے لیے تلا بیٹھا ہے۔نیویارک کی اس رپورٹ کے مطابق جنرل کیانی اور امریکی ایڈمرل مائیکل مولن میں ذاتی دوستی ہے اورروزانہ کی بنیاد پر باہم رابطے ہیں چنانچہ امریکا اورپاکستانی فوج میں یہ مذاکرات ہورہے ہیں کہ ایٹمی تنصیبات اوراسلحہ کو کوئی خطرہ درپیش ہو تو ماہرین پر مشتمل امریکی ٹیم کو حرکت میں آنے کی اجازت ہوگی اورامریکی دستے جوہری ہتھیاراپنے قبضے میں لے سکتے ہیں۔یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمان نے پاکستانی ایٹمی اسلحہ کی منتقلی کے لیے بھی منصوبہ بندی کرلی ہے‘ پاک فوج کو خصوصی فنڈز دیے جائیں گے‘ پاکستان نے ہتھیاروں کے مقامات اورکمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے بارے میں معلومات فراہم کردی ہیں۔ پاکستان کے دفترخارجہ نے اس رپورٹ کو بے بنیاد اورمن گھڑت قرار دیا ہے۔امریکی سفیراین ڈبلیو پیٹرسن نے بھی اس کی تردید کی ہے کہ امریکا پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے پاک فوج کو مدد فراہم کررہا ہے یا ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کی خواہش رکھتا ہے۔امریکی سفیر کو تویہی کہنا چاہیے تھا لیکن پاکستان کے عوام امریکی خواہشات سے بخوبی واقف ہیں۔سیمورہرش کی رپورٹ ایک خواہش کی عکاسی ہی تو ہے۔ امریکی سفیر نے اس رپورٹ کو ایک الزام قرار دیا ہے۔ صحافتی آزادی کا نام لے کر امریکی انتظامیہ اس الزام تراشی پر نیویارکر یا سیمورہرش سے تو کوئی بازپرس نہیں کرے گی لیکن اہم سوال یہ ہے کہ دبئی میں اسپیشل ٹیم کیا کررہی ہے۔سوال تو یہ بھی ہے کہ پاکستان کے اندر بلیک واٹر‘ زی وغیرہ جیسی متعدد امریکی ایجنسیوں کے ہوتے ہوئے باہر سے کسی ٹیم کو بھیجنے کی ضرورت کیا ہے۔ امریکی تو کہوٹہ کے قریب ہی ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔
Permalink
November 5, 2009 at 6:52 am
· Filed under پاکستان ·Tagged انور شعور، فوجی حکومت، سیاسی حکومت ، اکتاہٹ، کرپشن، فوجی غاصب
انور شعور نے آج کیا قطعہ کہا ہے۔
عوامی دور میں فورا دمادم ہونے لگتی ہے
کسی آمر کی من موجی حکومت میں نہیں ہوتی
ہوا کرتی ہے جمہوری حکومت میں جو اکتاہٹ
وہ اکتاہٹ ہمیں فوجی حکومت میں نہیں ہوتی
بات وزنی ہے۔ شاید یہ بہت ساروں کی دل کی بات ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب میں زرداری ، رحمن ملک(ڈکیت) اور حسین حقانی ( نہ کہ پیپلز پارٹی ) کی حکومت سے سخت اکتا چکا ہوں یہ سمجھتا ہوں کہ جنرل پرویز میراثی و طبلچی کی فوجی حکومت پاکستان کی بری حکومتوں میں سے ایک بلکہ سب سے بری حکومت تھی۔ فوج کا سیاسی کردار انتہائی بے ہودہ اور کالا ہے کہ اس کا سوچ کر بھی روح کانپ جاتی ہے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ موجود حکومت کی امریکا نوازی اور کرپشن کو دیکھتے ہوئے خوش ہوا جائے؟
Permalink
November 5, 2009 at 5:53 am
· Filed under Uncategorized
منو بھائی نے ایک ایسے معاشرتی مسئلے پر قلم اٹھایا ہے جو ہر کسی کی توجہ کا مرکز ہونا چاہیے۔ جہیز کی لعنت کے سبب ہماری کتنی بہنیں اور بیٹیاں گھروں پر بیٹھی رہ جاتی ہیں۔ ان بہنوں کے مسائل کیا ہیں اور معاشرہ ان کی کیا مدد کرسکتا ہے۔ یہ جاننے کے لیے منوبھائی کا یہ کالم پڑھ لیتے ہیں۔ امید ہے کہ میرے ساتھی بلاگرز اس موضوع پر کچھ تجاویز بھی دیں گے کہ ہم ایسی بہنوں بیٹیوں کی کیا مدد کرسکتے ہیں؟ مضمون کے گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں
…………………………………………………………………..
سب سے پہلے میں اس خاتون کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو اپنے حلقہ احباب اور عزیزوں میں منی باجی کے طور پر یاد کی جاتی ہیں۔ شکریہ ادا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے میری توجہ پاکستانی معاشرے کے ایک ایسے معاشرتی اور انسانی حقوق کے مسئلہ پر دلائی جو بہت کم لوگوں کی توجہ میں آیا ہے اور یہ مسئلہ ان خواتین کا ہے جو مناسب اور موزوں رشتے نہ ملنے کی وجہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں ہوسکتیں اور ایک خاص عمر کے بعد غیر شادی شدہ رہ جاتی ہیں اور یوں اپنی زندگی تنہائی میں گزار کر اس دنیائے فانی سے رخصت ہو جاتی ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق ہمارے معاشرے میں ایسی خواتین کا تناسب پندرہ فیصد سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے، خاص طور پر مربوط اور مشترکہ گھرانوں کے بکھر جانے کے بعد اور ہجرت درہجرت کے دردناک تجربات سے گزرنے اور دیہات سے شہروں میں نقل مکانی کے بعد پردہ دار متوسط گھرانوں کی لڑکیوں کے لئے مناسب اور موزوں رشتوں کی تلاش مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی گئی اور محتاط گھرانوں کے بزرگوں نے رشتوں کا جواء کھیلنے سے گریز کو ہی مناسب سمجھا چنانچہ غیر شادی شدہ حالت میں اپنی زندگی گزارنے والی خواتین کا تناسب گھر گھر ہستی کی رونق اور نعمت سے فیض یاب ہونے والی خواتین کے مقابلے میں پندرہ بیس فیصد سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے اور معاشرتی زندگی میں اجنبیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے مستقبل میں ایسی خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہوسکتا ہے۔
ایسی غیر شادی شدہ خواتین کا موازنہ اگر بیوگان کے ساتھ کیا جائے تو اس نوعیت کے حقائق سامنے آئیں گے کہ بیوگان کے پاس ان کے مرحوم شوہروں کی چھوڑی ہوئی املاک اور مراعات ہوسکتی ہیں، ان کی اولادیں بھی ہوسکتی ہیں جو ان کے بڑھاپے کا سہارا بن سکیں اس کے علاوہ بیوگان کو ایک معاشرتی ہمدردی بھی حاصل ہوتی ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں بیوگان کااحترام بھی ہوتا ہے جبکہ غیر شادی شدہ خواتین ان تمام دنیاوی نعمتوں اور مراعات و حقوق سے محروم ہوتی ہیں۔ بھائیوں اور بہنوں، والدین اور عزیز رشتہ داروں کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ان خواتین کو کوئی سہارا، آسرا یامدد میسر نہیں ہوتی۔ ایک بہت ہی خوفناک اداسی اور تنہائی ہوتی ہے اور مردانہ یا پدرانہ طرز کے معاشروں میں یہ اداسی اور تنہائی اور بھی زیادہ خوفناک اور اذیت دینے والی ثابت ہوتی ہے۔ بعض حالات میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جن خواتین کو ڈولی اٹھانے والے کہار نہیں مل سکے انہیں جنازہ اٹھانے والے چارکندھے بھی نصیب نہیں ہوتے ہیں۔
منی باجی نے سر راہ مجھے روک کر کہا کہ منو بھائی میں آپ کی تحریروں میں خواتین کے لئے پائے جانے والے احترام اور ان کی تکریم میں کہی گئی باتیں پسند کرتی ہوں مگر کبھی آپ نے زندگی بھر کنواری رہنے والی خواتین کے مسائل پر بھی غور کیا ہے؟ منی باجی نے یہ شکایت بھی کی کہ حکومتوں کی طرف سے عوامی فلاح و بہبود کے جو پروگرام اور منصوبے جاری کئے جاتے ہیں ان میں بیوگان کے امدادی منصوبے اور پروگرام تو ہوتے ہیں مگر زندگی بھر کنواری رہ جانے والی خواتین کی داد رسی، مدد، اور اشک شوئی کی کسی کوشش کا ذکر نہیں ہوتا۔ غیر شادی شدہ خواتین کی امداد یا سہارے کا کوئی حوالہ بیت المال کے منصوبوں اور پروگرام میں بھی نہیں ہوتا اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے نام سے جاری ہونے والے بے نظیر سپورٹ پروگرام میں بھی غیر شادی شدہ خواتین کے لئے کوئی ہمدردی کا اشارہ نہیں ملتا۔ منو بھائی! کیا آپ اپنے ملک اور معاشرے کی ان غیر شادی شدہ خواتین کے معاشرتی حقوق اور انسانی حقوق کی پاسداری کے سلسلے میں حکمرانوں کو کوئی مفید مشورہ دے سکتے ہیں؟ میں نے منی باجی کی یہ فرمائش پوری کرنے کا وعدہ تو کر لیا مگر اب سوچتا ہوں کہ منی باجی کا یہ مشورہ حکمرانوں تک کیسے پہنچاؤں کیونکہ بزرگوں کا کہنا ہے اور سو فیصد درست ہے کہ مشورہ دینے سے کام نہیں بنتا مشورہ لینے سے کام بنتا ہے اور پھر یہ مشورہ دیا کس کو جائے کیونکہ کسی کو مشورے لینے کی فرصت بھی نہیں ہے اور مشورے لیں بھی لیں تو اس پر عملدرآمد کی فرصت نہیں ملتی۔
Permalink
November 2, 2009 at 6:27 am
· Filed under پاکستان
پاکستان بننے کے بعد سے ستر کی دہائی تک جامعات کے کمیپسز میں دوپٹے والی اور داڑھی والے کا داخل ہونے ’طالبان‘ جامعہ کے لیے کمیپس کے اندر ہی عجائب گھر کی کسی مخلوق کی آمد ہوتی تھی۔ ایک بزرگ وکیل سے انڈین چینلز کے ذریعے آئے عریانی کی شکایت کی کہ معاشرے کو ڈرامے میں دکھائے گئے کرداروں جیسا بن دے گی تو موصوف مسکرا نے لگیں۔ بتایا ایک وقت وہ بھی تھا جب کراچی کے پارسی انسٹی ٹیوٹ میں مکمل عریاں رقص ہوا کرتا تھا اور شہر کی شرافیہ کے علاوہ مڈل کلاس کے شہری بھی اہل خانہ سمیت وہاں آکر زندگی کی ’رنگینیوں‘ سے لطف اندوز ہوتے تھے۔
یہ تو دور کی بات ہے۔ نوے کی دہائی میں اسکول اور کالج کا زمانہ دیکھا۔ یہی شعور والا زمانہ ہوتا ہے ۔ والدمحترم جو پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں کی طرف سےکرفیو جیسی پابندی تھی۔ میرا کوئی بیٹا مسجد میں آذان نہیں دے گا۔ مولوی ہمارا ’کسب گر‘ ہوتا ہے جیسے نائی ، موچی اور ترکھان ہمارے کسب گر ہوتے ہیں۔ اب بھلا میرا کوئی بیٹا کسب گروں والا کام کرے گا۔
اب اللہ کا شکر ہے سوچ بدل گئی ، والد صاحب بھی بدل گئے البتہ اب بھی جیالے ہی ہیں لیکن فرق اتنا پڑا ہے کہ چاروں بیٹوں کے ملا بننے سے اعتراض رہا اور نہ ہی ان کے اذان دینے پر پابندی ہے۔ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ گھر میں جمہوریت ہے کیا ہوا اگر ان کی پارٹی میں جمہوریت نہیں۔
تمہید کچھ لمبی ہوگئی لیکن بتاتے چلیں کہ جب سے نائن الیون ہوا ہے تو ملا ایک گالی بن چکا ہے ۔ کچھ قصور ہماری دینی سیاسی جماعتوں بالخصوص مولانا اقتدار کا بھی ہے لیکن اصل حصہ لبرل فاشسٹوں کے پروپیگنڈا ہے۔ فاشسٹ پروپیگنڈے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ یہی حالت پاکستان کے لبرل فاشسٹوں کا بھی ہے۔ یہ لبرل فاشسٹ اسی کی دہائی سے پہلے اپنے آپ کو کمیونسٹ کہلاتے تھے۔ اب اپرچونسٹ بن گئے ہیں امریکا کی مالا چپتے ہیں۔ کہلاتے لبرل ہیں لیکن اصل میں لبرل فاشسٹ ہیں۔ کراچی میں حق پرست فاشستوں کا میڈیا مانیٹرنگ سسٹم دیکھا تو حیران ہوا ایسا سسٹم تو کسی ملک کا بھی نہیں ہوسکتا بھلا ایک پارٹی کو اس کی کیا ضرورت پڑھ گئی؟ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ دکھانے کے لیے پروپیگنڈے کی ضرورت تو ہوتی اور اس کے لیے پوری کی پوری پروپیگنڈا مشنری درکار ہوتی ہے۔
تو عرض کررہا تھا کہ نائن الیون کے بعد مذہبی رحجان رکھنے والوں کی طرف سے معذرت خواہانہ رویہ اپنایا گیا ہے ۔ مجھے کبھی شرمندگی نہیں ہوئی۔ میں ملا ہوں لیکن مسجد کا پیش امام یا مدرسہ کا فارغ و تحصیل مولوی نہیں ۔ اقبال کا ملا ہوں اگر چہ میں افغانی ملا ہوں لیکن میں اپنے اپنے آپ کو عالمگیر ملا سمجھتا ہوں۔
عنوان تو ’’اقبال کی شاعری میں ملا کا کردار‘‘ ہے لیکن شاہ نواز فاروقی کا یہ مضمون(گرافک ویو) دراصل ملا کا مقدمہ ہے جس کو پڑھنے سے ملابوفیا میں مبتلا اکثر لبرل دوستوں کو افاقہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس بارہ سال تک طالبان کی مسلسل حمایت کے بعد جو لوگ اچانک اُن کے خلاف ہوگئے ہیں اُن میں ایک نام ملک کے معروف کالم نویس ہارون الرشید کا بھی ہے۔ وہ طالبان اور ان کی ملاّئیت کے خلاف ہوگئے ہیں تو خیر یہ اُن کا ذاتی مسئلہ ہے‘ مگر وہ اپنے ایک کالم میں علامہ اقبال کو بھی گھسیٹ لائے ہیں اور انہوں نے فرمایا ہیں
”کبھی کسی نے سوچا کہ اقبال کی پوری شاعری ملاّ کی مذمت سے کیوں بھری ہے؟ اس لیے کہ وہ ماضی میں زندہ رہتا ہے۔ اختلاف کرنے والوں سےنفرت کرتا ہے اور انہیں جہنم کی وعید دیتا ہے۔“
اب مسئلہ یہ ہے کہ اوّل تو اقبال کی پوری شاعری ملاّ کی مذمت سے بھری ہوئی نہیں ہے۔ آپ اقبال کی اردو کلیات سے ملاّ کے بار ے میں بمشکل دس بارہ شعر نکال کر دکھا سکتے ہیں۔ پھر مزید دشواری یہ ہے کہ اقبال نے کہیں بھی ملاّ کی مذمت نہیں کی ہے۔ دراصل اقبال کو ملاّ کے کردار سے گہری ”شکایت“ ہے‘ اور شکایت و مذمت اور ان کی نفسیات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مگر اقبال کو ملاّ سے شکایت کیا ہے؟ آیئے اس شکایت کا مرحلہ وار مطالعہ کرتے ہیں۔ اقبال کی ایک چار مصرعوں پر مشتمل نظم ہے جس کا عنوان ہے ”ملاّئے حرم“۔ اس نظم میں اقبال فرماتے ہیں
عجب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو
تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام
تری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال
تری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام
اس نظم میں اقبال کو ملاّ سے شکایت یہ ہے کہ وہ ”پہلے کی طرح“ خدا شناس یا ”عارف بااللہ“ نہیں رہا‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے انسان شناسی یا خودشناسی کی اہلیت کھو دی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اقبال کے نزدیک آدمی کا مقام کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آدمی اشرف المخلوقات ہے۔ مسجود ملائک ہے۔ اس کی نماز میں جلال اور جمال اس کی اسی حیثیت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس نظم میں ملاّ کے لیے اقبال کا مشورہ یہ ہے کہ اسے خداشناسی کے ہدف تک پہنچنے کے لیے خود شناسی پیدا کرنی چاہیے تاکہ اس کی نماز میں جلال و جمال پیدا ہوسکے اور اس کی اذان اقبال کی سحر یعنی غلبہ اسلام کی پیامبر بن سکے۔ سوال یہ ہے کہ اس نظم میں اقبال نے ملا کی مذمت کی ہے یا اس سے گہرے تعلق کی بنا پر شکایت کی ہے؟
خودشناسی اور خدا شناسی سےمحرومی معمولی بات نہیں۔ اس سےبڑ ے بڑے مسائل جنم لیتےہیں۔ اقبال کا ملاّ چوں کہ خداشناس نہیں رہا اس لیے وہ صرف تقریروں پر اکتفا کرنےلگا ہے اور اس نے”زورِ خطابت“ کو اپنےاور مسلمانوں کےلیے کافی سمجھ لیا ہے۔ اقبال نےاس امر کی بھی شکایت کی ہے‘کہتے ہیں؛
صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال
ملا کی شریعت میں فقط مستی گفتار
ظاہر ہے کہ ’’مستی گفتار‘‘ میں مبتلا ہونے کا نتیجہیہ نکلتا ہے کہ ’’قول‘‘ ’’عمل‘‘ کا متبادل بن جاتا ے۔ انسان کو لگتا ہے کہ اس کی گفتگو ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔ اقبال کی نظراس مسئلے پر بھی ہے‘ چنانچہ انہوں نے کہا ہے۔
آہ اِس راز سےواقف ہے نہ ملاّ نہ فقیہ
وحدت افکار کی ب ے وحدت کردار ہے خام
مطلب یہ ہے کہ جب تک قول عمل نہ بن جائے اور عمل میں ایک قرینہ نہ پیدا ہوجائے اُس وقت تک فکر کا بھی کوئی خاص مفہوم نہیں‘ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسی فکر سےخود فریبی پیدا ہوسکتی ہے۔ وہ خود فریبی جو ہند کےملا ّکو لاحق ہوئی۔ اقبال کےاپنےالفاظ ہیں:۔
ملاّ کو جو ہے ہند میں سجد ے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
صرف یہی نہیں‘ اسےملوکیت بھی اسلامی اسلامی سی لگنےلگتی ہے۔ اس معاملے کی طرف اشارہ کرتےہوئے اقبال نےشیطان کی زبان سےکہلوا دیا ہے:۔
یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام
ظاہر ہے کہ جس کردار میں اتنی کمزوریاں در آئی ہوں اس کے پاس فراست تو نہیں ہوگی ‘چنانچہ اقبال نےملاّ کےخلاف یہ شکایت بھی درج کرائی ہے:۔
ملاّ کی نظر نورِ فراست سےہے خالی
مگر ان تمام باتوں کےباوجود اقبال ملا ّسےتعلق نہیں توڑتے۔ اِس کا ثبوت ان کی شکایات ہیں۔ مذمت اور شکایت کی نفسیات میں بڑا فرق ہے۔ مذمت لاتعلقی کےساتھ کی جاتی ہے اور شکایت تعلق کےساتھ۔ لیکن ملا ّکےکردار کا معاملہ اقبال کےیہاں اور بھی گہرا ہے۔
دراصل اقبال کےیہاں ”ملاّ“ اور ”مجاہد“ دو الگ شخصیتیں نہیں ہیں بلکہ وہ ایک ہی شخصیت کےدو پہلو ہیں۔ مجاہد ملاّ کا عروج ہے اور ملاّ مجاہد کا زوال۔ یعنی اقبال کےیہاں ملاّ جب خود شناس ہوجاتا ہے تو وہ مجاہد بن جاتا ہے‘ اور جب مجاہد نسیان میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ ملاّ کےکردار میں ڈھل جاتا ہے۔ اقبال کا ایک شعر ہے:۔
الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملاّ کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور
مگر اس شعر کا مطلب کیا ہے؟ اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ ملاّ کےلیے اذان دینا ایک کام ہے ‘ ایک جاب ہے جس کا اسے معاوضہ ملتا ہے۔ اس کے برعکس مجاد کے لیے اذان ایک وجودی حقیقت ہے‘ جان کا سودا ہے‘ اس بات کا اعلان ہے کہ مجاہد وجود نہیں رکھتا‘ صرف اللہ وجود رکھتا ہے۔ اور اگر مجاہد کا وجود ہے تو صرف حق کی گواہی دینےکےلیے۔ اقبال کےاس شعر سےیہ مفہوم بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ملاّ اور مجاہد کی فکری کائنات ایک ہے۔ ان کی لغت ایک ہے۔ لیکن اس کائنات میں مجاہد اسلام کی روح اور ملاّ جسم کی علامت ہے۔ یعنی ملاّ محض لفظ ہے اور مجاہد اس لفظ کا مفہوم۔ البتہ یہ بات طے شدہ ہے کہ ملاّ اسلام اور اقبال کی فکری کائنات کا ایک ”ناگزیر“ کردار ہے۔ اس کی جگہ نہ کوئی ”مسٹر“ لے سکتا ہے نہ کوئی میجر جنرل یا جنرل۔ مگر پھر مسئلے کا حل کیا ہیے؟ مسئلے کا حل یہ ہے کہ ملاّ کو مجاہد بننےپر مائل کیا جائے‘ اس کےسوا مسئلے کا ہر حل غلط اور فضول ہے۔ مگر ملاّ کےسلسلے میں اقبال کا سب سےمعرکہ آراءشعر تو رہ ہی گیا۔ اقبال نےکہا ہے:۔
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
ملاّ کو اس کےکوہ و دمن سےنکال دو
اس شعر میں اقبال نےملاّ کو غیرتِ دین کی علامت کےطور پر پیش کیا ہے۔ بلاشبہ اس کا حوالہ افغانی ہیں مگر اقبال کےیہاں ملاّ کا کردار عالمگیر یا عالم اسلام کے حوالے سے یونیورسل ہے۔ چنانچہ ملا صرف افغانیوں کے لیے نہیں تمام مسلمانوں کے لیے اہم ہے‘ اس لیے کہ وہ قرآن وحدیث کا حافظ ہے ‘ دینی فکر اور مذہبی ورثے کی منتقلی کا ایک ذریعہ ہے۔ وہ ان امور پر مطلع ہے جس سے محض آگاہ ہونے کے لیے بھی ایک عمر اور طویل تربیت درکار ہے۔ اقبال بھی ملا کو بدلنا یا ریپلیس کرنا نہیں چاہتے‘ اس لیے انہوں اس کی شکایات درج کرائی ہیں‘ مذمت نہیں کی۔ اور خواہش کی ہے کہ کاش وہ ایک بار پھر خودشناس اور خدا شناس ہوجائے۔ یعنی اقبال کا مجاہد اور مومن بن جائے۔
Permalink
November 2, 2009 at 4:42 am
· Filed under پاکستان ·Tagged مولانا اقتدار
Permalink
October 31, 2009 at 12:31 pm
· Filed under دہشت گردی, پاکستان

ایک فلم میں دیکھا تھا کہ ایک عورت غنڈوں سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے اس خیال سے تھانے کے اندر چلی جاتی ہے کہ قانون کے رکھوالے اور شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کے ذمہ دار پولیس والے‘ غنڈوں سے اس کی جان بچا لیں گے۔ لیکن وہاں پہنچ کر اُسے پتا چلتا ہے کہ یہ تھانہ ویسے تو سرکاری ہے لیکن اصل میں یہ ان غنڈوں کا ایک یونٹ آفس ہے۔ آج پشاور سے تعلق رکھنے والا صحافی سید فواد علی شاہ بھی کچھ ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہے کہ وہ بھاگے تو کہاں بھاگے، چھپے تو کہاں چھپے، کس سے پناہ مانگے‘ کس پر اعتبار کرے اور کس کو اپنا محافظ سمجھے!
فواد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے تحفظ کے لیے آئی جی سرحد پولیس ملک نوید خان کو درخواست دی کہ وہ اس کو بلیک واٹر صلیبی ملیشیا سے بچالیں‘ لیکن وہ بھی امریکیوں سے اپنی دوستی نبھا رہے ہیں۔ دسمبر 2007ء کے سرد دنوں میں پشاور کے مقامی اخبار کے اس انویسٹی گیٹو رپورٹر نے جب 83 طالبان کی ایک فہرست مرتب کردی تو ناموں اور پتے کی تفصیلات پر مبنی یہ فہرست امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز“ میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد تو جیسے اس کی ”لاٹری“ نکل آئی اور امریکیوں نے اس کو سونے کی چڑیا سمجھ کر اسے اپنے قبضے میں لینے کی کوششیں شروع کردیں۔ طالبان کے خلاف خبریں چھاپنے پر پشاور میں امریکی قونصل خانے کے چار سفارت کاروں اسٹیون‘ کیش روڈرک‘کرسٹوفر اور ایشاکمبلی نے اس سے رابطہ قائم کیا۔ یہ چاروں سفارت کار اس سے ملاقات کرکے پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرنے کی ترغیب دیتے۔ انہوں نے فواد کو ہزاروں ڈالر کی پیش کش کی جبکہ ہر ملاقات میں اسے ایک ہزار ڈالر بطور انعام بھی دیتے تھے۔
فواد سے ان افراد کی ملاقاتیں پشاور میں یونیورسٹی ٹاﺅن کے مختلف گھروں میں ہوتی تھیں‘ اور ہر ملاقات میں اسے ایک ہزار ڈالر کے ساتھ شراب کی دو بوتلیں بھی دی جاتیں۔ شراب وہ واپس کردیتا لیکن رقم رکھ لیتا تھا۔ اس طرح ایک سال کے عرصے میں اس کی ان امریکیوں سے تقریباً14ملاقاتیں ہوئیں۔ پہلی ملاقات میں ان افراد نے اسے کھانا کھلایا اور ملکی مفاد کے خلاف کام کی پیشکش کی۔ (بقول فواد)اس نے جواب دیا کہ سوچ کر بتاﺅں گا۔ دوران ملاقات امریکی اس سے پشاور کی مختلف شخصیات کے بارے میں کوائف بھی حاصل کرتے۔
یہاں یہ واضح رہے کہ فواد نے پہلی ملاقات کے فوراً بعد ہی پاکستان کے حساس اداروں کو اس بارے میں آگاہ کردیا۔ تاہم انہوں نے ان امریکیوں کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان کے ساتھ ملاقاتیں جاری رکھنے اور اس کی تفصیلات فراہم کرنے کا کام لینا شروع کردیا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ لیکن ایک وقت ایسا آیا جب فواد نے امریکیوں کی پراسرار سرگرمیوں کی خبریں اخبارات میں رپورٹ کرنا شروع کردیں۔
بلیک واٹر کے موضوع پر بنیادی معلومات رکھنے والے شاید یہ جانتے ہوں گے کہ اس بدنام زمانہ دہشت گرد صلیبی فوج کے خلاف سب سے پہلی خبر یہ شائع ہوئی تھی کہ اس نے پشاور کے یونیورسٹی ٹاﺅن میں ایک این جی او کے روپ میں کام کرنا شروع کردیا ہے اور سیکڑوں پاکستانیوں کو بھرتی کرنے کے بعد صوبہ سرحد اور خصوصاً قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں انہیں استعمال کررہی ہے۔ یہ خبر فواد علی شاہ نے ہی بریک کی تھی جس کے بعد ملک کے کئی حصوں خصوصاً اسلام آباد میں بلیک واٹر کی سرگرمیوں کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔ بلیک واٹر کے بارے میں ان اہم انکشافات کی بناءپر ہی امریکی قونصل خانہ فواد کی جان کے درپے ہوا اور اس کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔
پشاور میں امریکی قونصل خانہ جو قونصل خانے سے زیادہ صلیبی دہشت گردوں کا عسکری ہیڈکوارٹر بنا ہوا ہے‘ کی طرف سے دھمکیاں ملنے کے بعد ایک پاکستانی کیا کرسکتا ہے؟ پولیس سے تحفظ مانگ سکتا ہے‘ حکومت کے پاس جاسکتا ہے۔ لیکن پشاور میں طالبان ، بلیک واٹر اور دہشت گردی کی اس پوری امریکی جنگ کے بارے میں بنیادی معلومات رکھنے کے سبب اس کو ادراک ہوا کہ پولیس کے پاس جانا شاید امریکی قونصل خانے کے ہتھے چڑھنے سے بھی زیادہ خطرنا ک ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ یہاں سے ایران چلا گیا اور وہاں مو ¿قف اختیار کیا کہ چونکہ اس نے امریکا کے خلاف کام کیا ہے‘ اس لیے امریکی اس کی جان کے درپے ہوگئے ہیں لہٰذا حکومت ِایران اس کو پناہ دے۔ لیکن وہاں اس کو معلوم ہوا کہ ایرانی حکومت ایسی کوئی خدمت انجام دینے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی ایرانی قوانین میں اس بات کی گنجائش ہے کہ اپنے ملک میں جان کے خطرے کے سبب بھاگ کر آنے والے کو پناہ دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جان بچانے کے لیے آرمینیا جانے کا فیصلہ کیا اور غیر قانونی طریقے سے سرحد عبور کرکے وہاں چلا گیا‘ تاہم پکڑا گیا اور نتیجتاً واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔ گزشتہ روز اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے اس نے حکومت سے اپنے تحفظ کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر اسے کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری امریکیوں کے علاوہ پشاور پولیس پر بھی عائد ہوگی۔
سید فواد علی شاہ اس وقت اپنے ملک کے اپنے ہی شہر میں امریکی درندوں سے جان بچانے کے لیے چھپتا پھر رہا ہے۔ اس کو ادراک ہے کہ جنگل کی شکل لیے اس ملک میں یہاں کے شہریوں کی جان کے تحفظ کے قوانین معطل ہیں اور یہاں کے لوگوں کو چیڑ پھاڑ کر کھانے والے آدم خور امریکی درندے قانون سے بالاتر ہیں۔ پشاور کے نامعلوم مقام سے جسارت میگزین سے فون پر بات کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ میں اس حکومت اور اس کی پولیس پر کیسے اعتبار کروں جو اسلحہ سمیت پکڑے گئے امریکی سفارت کاروں کے روپ میں دندناتے پھرنے والے امریکیوں کو ایک فون کال پر چھوڑ دیتی ہے!
اس کا کہنا تھا کہ رحمن ملک نہ یہ بات ماننے پر تیار ہیں کہ ملک میں بلیک واٹر ہے‘ اور نہ ہی امریکیوں کو قانون کے دائرے میں لانے کے بارے میں سنجیدہ ہےں۔ اس نے بتایا کہ اِس وقت اُس کے پاس ان بنگلوں کی مکمل تفصیلات موجود ہیں جو بلیک واٹر نے کرایہ پر لیے ہوئے ہیں۔ لیکن ثبوتوں کے باوجود اگر ہمارے وزیر داخلہ بلیک واٹر اور صلیبی فوجوں کی موجودگی سے انکار کریں تو اسے کیا قرار دیا جاسکتا ہے؟ فواد کا دعویٰ ہے کہ اس وقت اسلام آباد میں 278، پشاور میں 62 اور کراچی میں 35 بنگلوں میں بلیک واٹر کے اہلکار رہ رہے ہیں۔ یہ بنگلے مختلف فائیو اسٹار ہوٹلوں کے علاوہ ہیں جہاں بدنام زمانہ بلیک واٹر کے اعلیٰ افسران رہ رہے ہیں اور پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو یقینی بنانے کے لیے اس کی نگرانی کرتے ہیں۔
بلیک واٹر کے طریقہ واردات کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ سب سے پہلے کرپٹ، عیاش اور شرابی افسران، خفیہ ایجنسیوں اور پولیس کے اہلکاروں کی فہرست مرتب کرتی ہے‘ پھر ان سے رابطہ کرکے ڈالرز، شراب اور لڑکیوں کی پیشکش کی جاتی ہے۔ فواد کا کہنا ہے کہ ان افسران سے ملک کے اہم رازوں کے علاوہ متعلقہ اداروں کی پوری کارروائیوں کی تفصیلات حاصل کی جاتی ہیں۔ فواد کا کہنا ہے کہ امریکی بعض دفعہ افراد کو پہچاننے میں غلطی بھی کرجاتے ہیں۔ ایک واقعہ یوں ہوا کہ انہوں نے ڈی آئی جی اشرف نور کو پیشکش کی کہ وہ ڈالرز کے بدلے ان کے لیے کام کریں۔لیکن اشرف نور نمازی پرہیزگار پولیس آفیسر ہیں‘ اس لیے انہوں نے نہ صرف امریکیوں کی پیشکش مسترد کردی بلکہ اپنے اعلیٰ افسر کو اس بارے میں مطلع کردیا۔ جس پر اس اعلیٰ افسر نے امریکیوں سے رابطہ کرکے بتادیا کہ آپ نے غلط آدمی کو پیشکش کی ہے۔ اس کے بعد امریکی پشاور پولیس پر بہت زیادہ اثرانداز ہونے لگے۔ فواد علی شاہ کا دعویٰ ہے کہ اب امریکی ہر وقت پشاور کے سینٹرل پولیس آفس میں موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے اکثر پولیس اہلکاروں کو خرید لیا ہے۔
معتوب مگر نڈر صحافی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پشاور میں اس وقت بلیک واٹر کے زیر تربیت 6 بیچز فارغ ہوچکے ہیں۔ ہر بیچ میں دو سو سے تین سو افراد کو تربیت دی جاتی ہے۔ تربیت حاصل کرنے والوں میں اکثر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سابق افسران ہوتے ہیں۔ فواد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایک بڑی تعداد کو بھرتی کرکے پورے سرحد میں پھیلادیا گیا ہے جن کے ذریعے تباہی پھیلائی جارہی ہے۔ پشاور بم دھماکے کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ سو فیصد امریکیوں کی کارروائی ہے۔ اس نے بتایا کہ امریکیوں کی سرگرمیاں قریب سے دیکھنے کے علاوہ میں جلال آباد اور کابل میں امریکی قونصل خانوں میں بھی جاچکا ہوں اور میں وہاں کی صورت حال دیکھنے کے بعد وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ قونصل خانے دراصل امریکی جنگی مراکز ہےں جن کا استعمال پاکستان کے خلاف ہوتا ہے اور جہاں سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے علاوہ ان کے ہونے کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا پشاور کا واقعہ امریکیوں نے خود کیا ہے یا انہوں نے مقامی لوگوں کے ذریعے کروایا ہے؟ فواد کا کہنا تھا کہ اس وقت پشاور میں غربت نے لوگوں کو اس حد تک پہنچادیا ہے کہ آپ کو پانچ ہزار میں ایک تجربہ کار کرایہ کا قاتل بآسانی مل سکتا ہے۔ اس نے بتایا کہ اسے جیل میں طالبان کے رہنما مولوی رفیع الدین سے ملنے کا اتفاق ہوا‘ اور ان کے ساتھ طویل گفتگو سے یہ اندازہ ہوا کہ طالبان سخت امریکا مخالف ہےں اور ان کا ایجنڈا صرف اور صرف امریکیوں کا خاتمہ ہے، ہاں طالبان اُن شخصیات اور اداروں کو بھی نشانہ بنانا درست سمجھتے ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ امریکیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ طالبان عوام کو نشانہ بناسکتے ہیں اور نہ ہی عوامی مقامات پر دھماکا کرسکتے ہیں۔ پشاور کا واقعہ سو فی صد امریکی کارروائی ہے اور اس کو پشاور میں موجود بلیک واٹر نیٹ ورک کے ذریعے کرایا گیا ہے۔
سرحد حکومت کی کارکردگی کے بار ے میں فواد کا کہنا ہے کہ اسے اس جنگی حالت میں بھی عوام سے کوئی سروکار نہیں۔آپ پشاور کے ہر صحافی اور عام باخبر شخص سے پوچھیں کہ ”بابا کو ایزی لوڈ کرادو“ کا کیا مطلب ہے؟ تو وہ بتادے گا کہ ’بابا‘ حیدر خان ہوتی اور’ایزی لوڈ‘ پیسوں کو کہتے ہیں۔ فواد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایسی کرپٹ حکومت کا عوام اور ان کے جان ومال کے تحفظ سے بھلا کیا سروکار ہوسکتا ہے؟ وہ تو اس حالت میں بھی پیسے کمانے کے چکر میں لگی ہے‘ ایسے میں آپ سرحد پولیس سے کیا توقع کرسکتے ہیں جس کے اکثر اعلیٰ افسران امریکیوں کے ہاتھوں بک چکے ہیں۔ پشاور کے اس بہادر صحافی نے بتایا کہ اس وقت پشاور میں لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ امریکی کسی کو بھی طالبان کے نام پر اٹھا لیتے ہیں، امریکی نہ تو پشاور پولیس کو مطلع کرتے ہیں نہ ہی کسی اور حکومتی ادارے کو خاطر میں لاتے ہیں، تو ایسے میں میرے پاس چھپنے کے علاوہ کیا چارہ رہ جاتا ہے؟ اور ویسے بھی پولیس اور وزارت داخلہ کا کام اپنے شہریوں کی حفاظت کرنا نہیں بلکہ یہاں گھومنے والے خونی امریکی درندوں کو پولیس سے چھڑا کر یہ پیغام دینا ہے کہ امریکی پاکستانی قانون سے بالاتر بہت ہی اعلیٰ درجے کے انسان ہیں‘ جن کے لیے کیڑے مکوڑوں یعنی پاکستانیوں کی قربانی بھی دی جاسکتی ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا سرحد اور پشاور کی صحافتی برادری آپ کے ساتھ کھڑی ہے اور یہ کہ آپ نے پشاور کے بجائے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کیوں کی؟ فواد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پشاور پریس کلب دراصل امریکی کلب بنا ہوا ہے۔ وہاں ایک دن سی آئی اے کے اہلکار آتے ہیں اور تمام صحافیوں کو نکال دیا جاتا ہے۔ جس کو آپ پشاور پریس کلب کہتے ہیں اس کا کوئی رکن کلب کے اندر نہیں جاسکتا۔ پھر امریکی قونصل جنرل آتا ہے اور صحافیوں کو باہر نکال دیا جاتا ہے۔ فواد نے بتایا کہ اس وقت پشاور کے صحافیوں کے ہاتھوں میں کمائی کا ایک بڑا ذریعہ آگیا ہے اور وہ ڈالروں میں کماتے ہیں۔ پشاور پریس کلب کے ایک اعلیٰ عہدے دارکے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اس نے امریکیوں سے دس ہزار ڈالر لیے ہیں۔ اس نے امریکا کے لیے اِپلائی کیا ہوا ہے اور کسی بھی وقت امریکا چلاجائے گا۔
فواد علی کا قصہ ایک رپورٹر پر آنے والی مصیبت کی کہانی نہیں بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے محب وطن پاکستانیوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ اگر اس پوری کہانی پر نظر ڈالی جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہمارے ملک میں امریکی عسکری اور دہشت گرد ملیشیا کس حد تک اپنا نیٹ ورک قائم کرچکی ہے۔ بلیک واٹر کس طرح ہمارے ملک کے اندر بے گناہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے۔ اس کھیل میں کس حد تک پاکستانی حکمران اور یہاں کے قانون نافذ کرنے والے ادارے شریک ہیں۔ کس نے ان کو آزادی دی ہے اور کون ان سے چشم پوشی کررہا ہے۔ امریکا نے کتنے لوگوں کو خرید لیا ہے اور کس کی کتنی بولی لگتی ہے۔ اس ملک میں امریکا کے لیے اور وطن کے خلاف کام کرنا کتنا آسان اور ملک کی بقا کی جنگ لڑنا کتنا مشکل ہوگیا ہے۔ ہمارا میڈیا خصوصاً صوبہ سرحد کے صحافی کس حد تک درست رپورٹنگ کررہے ہیں‘ کون کتنے ڈالر وصول کررہا ہے؟ فواد علی شاہ کے ان انکشافات سے ان سارے سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ اپنے ضمیر کو بیچنے والے سیکڑوں یا ہزاروں افسران‘ صحافی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو خرید کر کیا کروڑوں پاکستانیوں کو غلام بنایا جاسکتا ہے؟ مایوسی کی خوفناک اندھیری خبروں کے بیچ میں نظر آنے والی چھوٹی سی کرن کے پیچھے ایک ایسی روشنی بھی نظر آرہی ہے جو ان کالے چہروں کو پاکستان سے بھاگنے پر مجبور کردے گی۔ گزشتہ دنوں امریکی کیری لوگر بل کے خلاف ریفرنڈم میں جوق درجوق آنے والوں کے چہروں سے صاف لگ رہا تھا کہ پاکستانی عوام امریکا اور اس کے مقامی تنخواہ دار ایجنٹوں کے خلاف جدوجہد پر نہ صرف آمادہ بلکہ اس کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ فواد علی جیسے صحافیوں کو دوڑانے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عنقریب ان کی دوڑ لگنے والی ہے، عنقریب عوامی سیلاب سے ایک ایسا انقلاب رونما ہونے والا ہے جس میں وطن کے لیے کام کرنے والوں کے لیے آسانیاں اور دشمن کے تنخواہ داروں کے لیے مشکلیں ہی مشکلیں ہوں گی۔
………………………………………………………………………………………………………….
یہ مضمون جسارت میگزین کے یکم نومبر کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس کے گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں۔
اس مضمون پر میرے انگریزی بلاگ کے لیے یہاں کلک کریں۔
شکریہ(ابوسعد/تلخابہ)۔
Permalink
October 31, 2009 at 3:39 am
· Filed under حقوق انسانی, دہشت گردی ·Tagged نریندر مودی،, گجرات، انڈیا
ہندوستان کی ریاست گجرات میں اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو سوائن فلو ہوگیا ہے۔ نریندر مودی
کو سوائن فلو کی تصدیق ان کے روس کے دورے سے واپس آنے کے ایک دن بعد ہوئی ہے۔
نریندر مودی کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر آر کے پٹیل نے گاندھی نگر میں اس بات کی تصدیق کی ہے۔
نریندر مودی 25 اکتوبر کو روس کے دورے پر گئے اور تین دن کے دورے کے بعد 28 اکتوبر کو ہندوستان واپس آئے تھے۔ واپس آنے کے بعد 29 اکتوبر کو انہوں نے سینے میں درد، کھانسی اور بدن میں درد کی شکایت کی۔ اس کے بعد نریندر مودی نے کہا کہ وہ ایچ ون این ون وائرس کی جانچ کرانا چاہتے۔ طبی جانچ کے بعد پتہ چلا کہ انہیں سوائن فلو ہوا ہے۔
ڈاکٹروں نے انہیں اپنے گھر میں تنہا رہنے کی صلاح دی ہے۔
ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کيے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مودی زیر علاج ہیں اور آئندہ ہفتے کے ان
کی ساری مصروفیات منسوخ کر دی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی کے ساتھ ان کے وفد کے جو لوگ روس گئے تھے ان میں سے کسی کو بھی سوائن فلو نہیں ہوا ہے۔
ہندوستان میں گزشتہ مہنیوں میں سوائن فلو کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں اور سوائن فلو سے اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ سب سے زیادہ اموات ریاست مہاراشٹر میں ہوئی ہیں۔ پونے شہر میں اب تک اس بیماری سے 44 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
پوری دنیا میں سوائن فلو سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریبا تین ہزار ہے۔
Permalink
October 28, 2009 at 5:47 am
· Filed under بین الاقوامی تعلقات, پاکستان ·Tagged ایران، پاکستان ، سیستان دھماکہ، دہشت گردی ، الزام تراشی ،
’’ایران ہمیشہ پاکستان مخالف کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، زاہدان اور چہار باغ میں ’’را‘‘کے اڈوں سے ہمارے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ اکہتر کی جنگ کے دوران بلوچستان پر قبضے کی دھمکی دی تھی۔ ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے میں بھارت کے مشورے ہر پاکستان کو پھنسوایا تھا، سابق سفارت کار ڈاکٹر نذیر ذاکر‘‘یہ آج روزنامہ امت کراچی کے صفحہ چھ پرشائع ہوئے ایک انٹرویو کی سرخی اور ذیلی سرخیوں کے الفاظ ہیں۔ (پورا انٹرویو پڑھنے کے یہاں کلک کریں)۔
کچھ تین برس قبل ایران کے قومی تقریبات میں شرکت کرکے واپس آنے والے ایک دانشور نے ایک نجی محفل میں جب ایران کو پاکستان کے لیے انڈیا سے زیادہ بڑا خطرہ قرار دیا تو یہ بات مجھ سے ہضم نہیں ہوئی لیکن مذکورہ دانشور نہ صرف یہ کہ ایران کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہوئے پائے گئے تھے بلکہ وہ اپنے مضامین اور کالموں کے سبب ان کا شمار ایران کے حمایتیوں میں ہوتا تھا۔ اس کے باوجود میں نے ان کی اس بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔
تاہم ۱۹ستمبر کو ایران کے صوبہ سیستان میں خودکش حملے میں پاسداران انقلاب کے کئی اعلیٰ کمانڈروں سمیت ۵۰ سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس المناک حادثے کے بعد ایران کے ردعمل نے مجھ تین برس قبل اس دانشور کی بات یاد دلادی۔ حیرت انگیز طورپر ایران نے برطانیہ اور امریکا پر بھی الزام لگایا۔ سوال یہ اُٹھتا ہے کہ پاکستان کو آخر ایران میں دھماکے سے کیا فائدہ پہنچتا ہے اور اگر ایران کے پاس پاکستان کے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اندر کچھ عناصر کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کے ثبوت تھے بھی تو اس نے بیان بازی کے بجائے حکومت پاکستان سے شیئر کیوں نہیں کیے۔ اس نے بھارت والا طرز عمل کیوں نہ اپنا یا؟ آخر بھارت اور ایران میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران ریاست پاکستان کو بحیثیت مجموعی اپنا دشمن سمجھ کر اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے؟
اس افسوس ناک واقعہ جس میں ۵۰ سے زائد ایرانیوں کی جانیں چلی گئیں کے صرف پانچ دن بعد ایران نے بھارتی طرز عمل اپناتے ہوئے پانچ پاکستانیوں کی لاشیں پاکستان بھیج دی اور دعویٰ کیا کہ یہ سیستان دھماکے میں جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ حقائق اس دعویٰ کو جھٹلاتے نظر آتے ہیں۔
ایران نے پانچ پاکستانیوں کی میتیں حوالے کردیں، تشدد کے نشانات ، تمام افراد خودکش حملے میں مرے، ایران کا دعویٰ ۔ بم دھماکہ نہیں تشدد کے نشانات ہیں۔ پاکستانی حکام۔ گرفتاری کے بعد ہلاک کیا گیا، ورثا۔ خبر کی تفصیل کے مطابق ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام افراد سیستان میں ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر زاہد شاہ کے مطابق میتیوں کے ابتدائی طبی معائنے سے کسی مرنے والے کے جسم پر بم دھماکے کے زخموں کے نشانات نہیں۔ مقامی پولیس انسپکٹر عابدعلی کا کہنا ہے کہ پانچوں کے جسموں پر تشدد کے نشانات ہیں ۔ ۲ لاشوں کے کانوں سے خون نکل رہا تھا۔ ورثا نے الزام عائد کیا ہے کہ تمام افراد گرفتار کرکے ہلاک کیے گئے۔( پوری خبر کے لیے یہاں کلک کریں)
ادھر ایران کے پاسداران انقلاب نے اپنی حکومت سے درخواست کی کہ سیستان بلوچستان میں خودکش حملے میں ملوث افرادکو پاکستان سے طلب کیاجائے ورنہ انہیں اجازت دی جائے کہ وہ خود ان افراد سے نمٹ لیں۔ایرانی نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے پاسدارن انقلاب کے زمینی لشکر کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور نے کہا ہے کہ ایران کی وزارت خارجہ پاکستان سے مذاکرات کر کے دہشت گردوں کی گرفتاری اور حوالگی کا مطالبہ کرے۔یا حکام انہیں اجازت دیں کہ پاسداران انقلاب خود ان دہشت گردوں سے نمٹ لے۔
حیر ت انگیز طور پر امریکی پالیسیوں کے سب سے بڑے ناقد ایران کے پاسداران انقلاب کا یہ طرزعمل بالکل بے لگام امریکا کی طرح ہے۔ یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ پاسداران انقلاب کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی اجازت دی گئی ہے ہا نہیں البتہ
اس کے علاوہ فرقہ وارانہ کارروائیوں میں ملوث سپاہ محمد کے کارکن اور سزا یافتہ دہشت گرد ارشد موٹا کی ایران روپوشی کا بھی انکشاف ہوا۔( خبر کے لیے یہاں کلک کریں)
یہ ساری بری خبریں ہیں۔ چمن دھماکے میں ایران کا بڑا نقصان ہوا ہے لیکن اس واقعہ سے فائدہ کس کو ہوا ہے یہ قابل غور وقابل تحقیق موضوع ہے۔ ایران کو چوٹ پہنچی ہے لیکن وہ بھول رہا ہے کہ پاکستان اس کا ہمسایہ ہی نہیں اس کا برادر اسلامی ملک بھی ہے۔ اگر کبھی ایران پر حملہ ہوتا ہے اور پاکستانی حکمران اس کا ساتھ دیں یا نہ دیں پاکستانی عوام فرقے اور مسلک سے بالاتر ہوکر اپنے ایرانی بھائیوں کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ ایران کا سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کرنا بہت بڑا احسان ہے لیکن اس وقت حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں ممالک کو اپنی صفحوں میں سے ایسے عناصر کو باہر نکالنا ہوگا جو ان برادر ممالک کے تعلقات کو کشیدہ کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایران یاد رکھے کہ امریکا اور اس کے حواری تمام مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ یہ سنی عراق او ر پاکستان ہے یا شیعہ ایران۔ پھر ہم کیوں دشمنوں کو موقع دیں؟ ایران کو پاکستان کے دوست ہونے کا ثبوت دینا ہوگا اور عالمی دہشت گردوں ، امریکا اور بھارت والا طرز عمل ترک کرنا ہوگا۔
Permalink
September 17, 2009 at 4:49 am
· Filed under دہشت گردی, پاکستان ·Tagged بلیک واٹر، مہم ،پاکستانی بلاگرز، حسین حقانی
سوسائٹی میڈیا کا کردار
جس وقت ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں اس وقت کی’ صدر‘ جنرل پرویز مشرف کےساتھ ڈیل کرنےمیں مصروف تھیں‘ سوسائٹی میڈیا ( بلاگرز) سول سوسائٹی ‘وکلاءاور چند سیاسی جماعتوں کےساتھ مل کر ایک ایسی تحریک چلارہا تھا جو عدلیہ کی آزادی پر منتج ہوئی ۔ یہ ایک تاریخی تحریک تھی جس کا سبق بھی تاریخی ہےیعنی اگر سوسائٹی کا پڑھا لکھا طبقہ کوئی تبدیلی لانےکی ٹھان لےتو پھر یہ تبدیلی لاکر رہتا ہے۔ ویسےبھی موجود ہ حکمرانوں کےہاتھوں اقتداراعلیٰ سےمحروم پاکستان ریاست کی تعریف پر پورا نہیں اُترتا بلکہ سیاسیات کی تعریف کی رو سےپاکستان ریاست نہیں بلکہ معاشرہ ہے‘ اس معاشرےکےارکان ‘ سول سوسائٹی اور کسی مالی لالچ و طمع سےماورا سوسائٹی میڈیا کےارکان ہی کوئی تبدیلی لاسکتےہیں یا پھر وہ سیاسی جماعتیں جو اقتدار پر براجماں ہونےسےزیادہ ملک کی بقا کی جنگ لڑنےمیں سنجیدہ ہوں۔ یہ جملہ معترضہ تھا۔ دوسری مثال گزشتہ دنوں ایک امریکی امیگریشن ایجنسی کی جانب سےبلوچستان کو ایک ریاست کےطور پر فارم میں شامل کرنےکا واقعہ ہے۔ بلوچستان کو سوسائٹی میڈیا خصوصاً ”یونین آف پیٹریاٹیک بلاگرز فار ساورن پاکستان “کی مہم کےنتیجےمیں اس فارم سے نکال دیا گیا۔ ان دونوں واقعات سےیہی سبق ملتا ہے اور یہ پیغام ہے ’’ملک کے نوجوان بلاگرو آگےآئو ! یہ تبدیلی آپ ہی لائیں گے۔ ۔سائبرس سپیس محاذ پر ملک کی حفاظت آپ ہی کی ذمہ داری ہے۔ واضح رہےکہ میرا مقصد سیاسی جماعتوں سےلوگوں کو بدظن کرنا نہیں بلکہ بتانا یہ مقصود ہےکہ آپ ان کےبغیر بھی کوئی تبدیلی لاسکتےہیں‘ آپ ان میں سےان پارٹیوں کےساتھ مل کر کچھ کرسکتےہیں جو واقعی مخلص ہیں۔
بلیک واٹر کی موجودگی کےثبوت
حکومت اس دعویٰ کو غلط ثابت کرنےکےلیےسوائےبیان بازی کےکوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکی ہےکہ ملک میں بلیک واٹر کو منظم کیا جارہا ہےتاہم ہمارےپاس اپنےدعویٰ کےحق میں ثبوت ہیں جن کو قطعی طور پر جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔ ایسا ایک ثبوت بلیک واٹر کی طرف سےاردواور پنجابی زبان پر عبور رکھنےوالوں کا بطور ایجنٹ بھرتی کرنا ہے۔ ظاہر سی بات ہےکہ اردو اور پنجابی بولنےوالوں کو چین یا ویت نام کےلیےبھرتی نہیں کیا جا رہا ہےبلکہ ان کوپاکستان میں ہی تعینات کیا جائےگا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہےکہ بلیک واٹر پاکستان میں ہے۔ اس کےعلاوہ بھی بہت سارےثبوت ہیں۔ اب اگر حکومت نہیں مانتی تو نہ مانے‘ ہم مانتےہیں اور اس حوالےسےپورے پاکستانی معاشرےمیں آگاہی پھیلانےکو اپنا فرض سمجھتےہیں۔
ایک تازہ خبر یہ ہےکہ بلیک واٹر نےپشاور اور اسلام آباد میں منظم ہونےکےبعد اب کراچی میں بھی اپنا نیٹ ورک قائم کرلیا ہےاور اس مقصد کےلیے11بنگلےڈیفنس اور گلشن اقبال کےعلاقوں میں کرایہ پر حاصل کرلیےگئےہیں۔ ان میں سےایک بنگلہ ڈیفنس کےعلاقےخیابان شمشیر میں واقع ہے‘ جس کو بلیک واٹر کےریجنل ہیڈکوارٹر کےطور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کےعلاوہ 22افراد کو بھرتی کیا گیا ہے جن میں اکثریت قانون نافذ کرنےوالےاداروں کےسابق افسران ہیں۔
ہمارے یا ان کےسفیر ؟
بلاگز اور اخبارات میں اس مسئلہ پر خبر یں اور کالم چھپنے‘ خصوصاً ڈاکٹر شیرین مزاری کےکالموں کےبعد ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نےامریکیوں کی تھوڑی بہت نگرانی شروع کردی تھی اور چارٹڈ فلائٹس کا سلسلہ بھی کچھ وقت کےلیےروک گیا تھا۔ لیکن اب امریکی سفیر معاف کیجیےگا امریکا میں پاکستانی سفیر میدان میں آگئےہیں اور انہوں نےسیکرٹری خارجہ اور آئی ایس آئی کےچیف کو ایک خط کےذریعےخبردار کردیا ہےکہ وہ ایسا نہ کریں کیوں کہ اس کےپاکستان کےلیےکچھ اچھےنتائج نہیں نکلیں گی۔ کوئی حقانی صاحب کو بتائیں کہ جناب امریکا تو اپنےشہریوں کو پاکستان کا دورہ کرنےسےگریز کا مشورہ دیتا رہا ہے پھر آپ کی خصوصی اجازت سےسیکڑوں کی تعداد میں آنےوالےکون ہیں؟ ان کو پورےملک میں خونخوار امریکی قاتلوں کےٹولےبلیک واٹر کی سرگرمیوں پر تشویش سےآگاہ ہونا چاہیےلیکن ان کو زیادہ سروکار امریکی ناراضی سےہے۔
کرنا کیا چاہیے؟
کیا یہ صورت حال تشویش ناک نہیں ہے؟ کیا اس صورت حال میں ہماری کوئی ذمہ داری نہیں بنتی ؟ اگر ہاں تو پھر آئیں اور’’بلیک واٹراور امریکی میرینز کو نکالو‘ امریکا کو پیش قدمی سے رکو‘‘مہم کا حصہ بنیں ۔ اس سلسلےمیں درج ذیل کام کرنےکےہیں ۔ آپ مزید تجاویز دےسکتےہیں۔اور ان تجاویز کو ان میں شامل کرکےاپ ڈیٹ کیا جاتا رہےگا۔
آپ اس سلسلےمیں انٹرنیٹ پر زیادہ سےزیادہ کمیونٹیاں بنائیں۔ اس سلسلےمیں میں عبداللہ رضا کی مثال دوں گا جنہوں نےفیس بک پر ایسی ہی ایک کمیونٹی بنائی ہے۔
انہوں نےایک تجویز دی ہےجس سےاتفاق کرنا چاہیےکہ جو بلاگر کسی اسکول ‘ کالج یا ونیورسٹی میں زیر تعلیم ہےوہ وہاں کےنوٹس بورڈز پر پوسٹر آویزان کرےتاکہ عام طالب علم ان خونخوار کرایہ کےقاتلوں سےآگاہ ہوسکیں۔
اسلام آباد میں امریکی سفارت خانےاور واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے( واضح رہےدونوں جگہ انہیں کےسفیر ہیں) کو زیادہ سےزیادہ تعداد میں ای میلز لکھ کر بدنام زمانہ بلیک واٹر سےمتعلق ثبوت بھیجیں اور مطالبہ کریں کہ بلیک واٹراور امریکی میرینز کو فی الفور پاکستان سےنکالاجائے۔ اس کےعلاوہ دیگر سفارت خانوں کو بھی ای میلز کر کےجمہوریت کےنام نہاد علمبردار امریکا کی کرتوتوں سےآگاہ کریں۔
سیاسی جماعتوں کےقائدین ‘ ارکان سینٹ ‘ اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کو ای میلز اور خطوط لکھ کر شرم و غیرت دلائیں کہ وہ پاکستان کی خاطر اس مسئلےپر آواز اُٹھائیں۔ ان کو یقین دلایا جائےکہ کل امریکا تو ان کو حکومت نہیں دلا سکےگا البتہ پاکستانی معاشرہ بیدار ہورہا ہےاور وہ سب کو بغورنوٹ کررہا ہے‘ وہ ہرگز کسی ایسی سیاسی جماعت یا سیاست دان کو قبول نہیں کرےگا جو ملک کےخلاف سازشوں پر خاموش رہا ہو۔کیوں کہ خاموشی نیم رضامندی ہوتی ہے۔
دانشوروں ‘ کالم نوسیوں اور ٹی وی شوز کےمیزبانوں کو خطوط لکھےجائیں۔
آپ اپنےعلاقےمیں کم ازکم ایک بینر لگا کر آگاہی کا سبب بنیں۔
اپنےعلاقےکے100ایسےلوگوں کو بلیک واٹر سےمتعلق معلومات دیں جو انٹرنٹ تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے۔اگر اتنی تعدادتک رسائی ممکن نہ ہو تو کم ازکم 10لوگوں کو تفصیلات فراہم کریں تاکہ وہ مزید لوگوں کی آگاہی کا سبب بنیں۔
اس سلسلےمیں مزید تجاویز اس ای امیل ایڈرس پر بھیج دیں تاکہ انہیں دیگر ساتھی بلاگرز کےساتھ شیئر کیا جا سکے۔
Permalink
September 29, 2009 at 2:18 am
· Filed under دہشت گردی, پاکستان ·Tagged بلیک واٹر ، کراچی، امریکن اسکول
بدنام زمانہ امریکی سیکورٹی ایجنسی کے اہلکاروں نے وزراءکاطریقہ اختیار کرتے ہوئے گاڑیاں استعمال کرنا شروع کردیں
بھرتی کیے جانے والے مقامی افراد کی تعداد60ہوگئی‘مقامی ہوٹل میں ایک فلور کی بکنگ سمیت کئی علاقوں میں بنگلے حاصل کرلیے
روزنامہ جسارت کراچی نے انتہائی باخبر (یونی کوڈ/گرافک ویو)کے حوالے سے خبر دی ہے کہ حساس اداروں
نے مرکزی حکومت کو بلیک واٹر کے ٹھکانوں کی رپورٹ بھیج دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بدنام زمانہ امریکی سیکورٹی ایجنسی بلیک واٹر نے کراچی میں سرگرمیوں کے معاملات منظر عام پر آنے کے بعد تیزی سے ٹھکانے تبدیل کرنے شروع کردیے ہیں‘ بلیک واٹر کے اہلکاروں نے وزراءکا طریقہ اختیار کرتے ہوئے گاڑیاں استعمال کرنا شروع کردیں‘مقامی ہوٹل میں ایک فلور کی بکنگ سمیت دیگر علاقوں میں بھی بنگلے حاصل کرلیے گئے ‘ کراچی سے بھرتی کیے جانے والے افراد کی تعداد 60ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق امریکی سیکورٹی ایجنسی بلیک واٹر کے اہلکاروں نے کراچی میں سرگرمیوں کے حوالے سے معاملات منظر عام پر آنے کے بعد تیزی سے ٹھکانے تبدیل کرنا شروع کردیے ہیںجبکہ حکومتی اتحادی جماعتوں کے افراد کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی باقاعدہ کام کرنے کے لیے رضامند کرلیا ہے۔ بلیک واٹر کے لیے کام کرنے والے مقامی افراد کی تعداد 60ہوگئی ہے جن میں 32سے زائد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریٹائرڈ اہلکارہےں۔ حکومتی اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی بھاری رقم کے عوض نہ صرف بلیک واٹر کو سہولیات فراہم کررہے ہیں بلکہ اس امریکی ایجنسی کے لیے باقاعدہ کام بھی کررہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ بلیک واٹر نے جنرلز کالونی میں سابق صدر پاکستان اور سابق گورنر سندھ
کے گھروں کے قریب واقع 7گھر کرائے پر حاصل کرلیے ہیںاور حکومتی سطح پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان گھروں میں کورین اور جاپانی شہری رہائش پذیر ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ کے ڈی اے اسکیم ون میں واقع امریکی تعلیمی ادارہ میں 8گھر قائم ہیں جن میں سے ایک گھر میں امریکی قونصل خانہ کے ذمہ دار رہائش پذیر ہیں جبکہ دیگر 7گھر بلیک واٹر کے اہلکاروں اورامریکی میرینز کے استعمال میں دے دیے گئے ہیں۔ حساس ادارے کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ایک مہنگے ترین ہوٹل میں امریکی قونصل خانے کے ذمہ دار کی ہدایت پر ہوٹل کا ساتواں فلور بک کرالیا گیا ہے اور اسے بلیک واٹر کے استعمال میں دے دیا گیا ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ بلیک واٹر کو ایک اور رہائش گاہ کارساز پر واقع مسلم لیگ ہاﺅس کے قریب فراہم کی گئی ہے جبکہ اس رہائش گاہ کی جانب جانے والے راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا ہے ۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ بلیک واٹر کے اہلکاروں نے کراچی میں نقل و حرکت کے لیے BBاور BDنمبرز کی سیاہ شیشوں والی لینڈ کروزرز استعمال کرنا شروع کردی ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اس نمبر کی گاڑیاں عام طور پر کراچی میں وزراءاور قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے ان گاڑیوں کو روک کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ان کی تلاشی نہیں لیتے۔
Permalink
September 30, 2009 at 4:18 am
· Filed under پاکستان ·Tagged بلیک واٹر، ڈاکٹر قدیر
کراچی (انٹرویو۔ طارق حبیب)ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ بلیک واٹر والے میرے پڑوس میں آچکے ہیں مگر میں ان سے نہیں ڈرتا۔حکمران بے حس ہیں میرے قتل پر صرف قوم سے معافی مانگیں گے۔ جلد بہت سے انکشافات کروں گا۔کوئٹہ پر حملے کی باتیں پاکستان کو بلیک میل کرنے کے لئے کی جارہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار قوم کے ہیرو اور معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ٹیلی فون پر جسارت سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ وہ امریکا ، ڈرون حملوں اور بلیک واٹر سے نہیں ڈرتے ۔بلیک واٹر کے اہلکار ان کے پڑوس میں آگئے ہیں اورانہیں اور ان کے اہل خانہ کو خوفزدہ کرنے کی کوششیں کرتے ہیں تاہم انہیں کسی بات کا ڈر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرانہیں قتل بھی کردیا گیا تو حکمران قوم سے معافی مانگنے کے علاوہ کچھ نہیں کریں گے جبکہ چار دن اخبارات میں خبریں شائع ہوں گی اور اس کے بعد معاملہ ختم ہوجائے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ اگر زندگی نے موقع دیا تو جلد عوام کے سامنے انتہائی اہم انکشافات کروں گا جس سے بہت سے چہرے بے نقاب ہونگے اور اہم معاملات منظر عام پر آئینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ رحمن ملک ضیاءالحق کے دور کی پیداوار ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مشرف کا ٹرائل عوامی امنگوں کی ترجمانی ہوگا مگر حکمران ایسا نہیں کریں گے۔ لال مسجد اور اکبر بگٹی قتل کے حوالے سے مشرف کا ٹرائل ضرور ہونا چاہئے۔ انہوںنے انکشاف کیا کہ بلیک واٹر نے پہلے بھی پاکستان میں سیٹ اپ قائم کرنے کی کوشش کی تھی تاہم حساس اداروں نے یہ کوشش ناکام بنادی تھی اور اس نیٹ ورک کوتوڑ دیا تھا۔ تاہم امریکا نے ناکامی کے بعد کوئٹہ پر ڈرون حملوں کا شوشا چھوڑ کر حکمرانوں کو بلیک میل کرنا شروع کردیا جس سے بزدل حکمران امریکی بلیک میلنگ میں آگئے ۔ موجودہ حکومت بے بس ہے اور کچھ نہیں کرسکتی ۔ جسارت کی جانب سے کئے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کیری لوگر بل کے مضمرات صرف صدر زرداری کے علم میں تھے اور اس حوالے سے صدر کی جانب سے کسی ادارے کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ اس بل پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرینڈز آف پاکستان کا راگ الاپنے والے پہلے خود پاکستان کے فرینڈز بن جائیں پھر کوئی دوسری بات کریں۔ ورنہ حالات بہتر نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ذولفقار علی بھٹو کے ساتھ مل کر “روکھی سوکھی کھائیں گی، ایٹم بنائیں گی”کا نعرہ لگایا تھامگر آ ج کھانے کے لئے روکھی سوکھی بھی میسر نہیں ہے اور حکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہاکہ امریکا کو ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی کی فکر چھوڑ دینی چاہیے کیونکہ ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی محفوظ ہے ۔ امریکہ صرف بلیک میل کرنے کے لئے اس طرح کا پروپیگنڈا کرتا ہے ۔
Permalink
October 5, 2009 at 5:04 am
· Filed under پاکستان
چند دن قبل فیس بک اور اس کے بعد یوٹیوب کے ذریعے سوات میں باریش بزرگوں پر پاک
فوج کے’’ جوانوں‘‘ کی طرف سے بدترین تشدد کی ویڈیو کے منظر عام پرآنے کے بعد کئی ہفتوں تک جعلی ویڈیوز دکھانا والا میڈیا مجرمانہ طور پر خاموش رہا۔ میری معلومات کی حد تک اب تک سیاسی قیادت میں سے صرف جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر اسلم سلیمی صاحب کا بیان آیا ہے ۔ اس کے علاوہ انگریزی روزنامہ’’ڈان‘‘ ’’ڈیلی ٹائمز‘‘ اور ’’دی نیوز ‘‘ کے علاوہ اردو روزنامہ ’’جسارت‘‘ کو صرف اتنی توفیق ہوئی کہ بین الاقوامی میڈیا میں شائع آئی ایس پی آر کا وضاحتی بیان شائع کیا جائے اور وہ بھی انتہائی غیر نمایاں۔ اردو پریس اور ٹی وی چینلز پر مکمل بائی کاٹ۔ شاید کل روزنامہ جسارت نے اس پر شذرہ بھی لکھ ڈالاہے۔ اتنے شاندار ’’ کوریج‘‘ پر معروف صحافی حامد میر نے قوم کو مبارک بعد دی ہے۔ حسب معمول سوسائٹی میڈیا نے بتادیا کہ
وہی اصل میڈیا ہے۔ اور پیپلز ریزسٹنس کے تحت پرسوں شام پانج بجے کراچی پریس کلب پر مظاہرہ کا اہتممام کیا گیا ہے۔ معاشی مفادات کے لیے کام کرنا والا میڈیا تو میڈیا نہیں بلکہ ایک صعنت ہے بالکل دیگر سرمایہ دارانہ صنعتوں کی طرح۔ اس مسئلہ پر میرے خیالات انگریزی بلاگ میں ملاحظہ کریں۔ فی الحال حامد میر کا کالم بعنوان ’’ کافر تو صرف ہم ٹھیرے‘‘ پڑھیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پوری قوم کو مبارک ہو۔ ایک قومی مجرم گرفتار کر لیا گیا۔ یہ وہ شخص ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں صرف پاکستان نہیں بلکہ مسلمان بھی بدنام ہوئے۔ اس شخص نے سوات میں ایک لڑکی پر سرعام کوڑے برسا کر انسانیت کی تذلیل کی۔ لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو فلم کو پاکستانی میڈیا نے کئی دن تک ٹیلیویژن اسکرینوں اور اخبارات کی زینت بنائے رکھا۔ اس ویڈیو فلم نے سوات میں مولانا صوفی محمد اور حکومت کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی اہمیت بھی ختم کر دی اور صرف چند دنوں کے اندر اندر نہ صرف امن معاہدہ ختم ہو گیا بلکہ سوات میں ایک بڑا فوجی آپریشن بھی شروع ہوگیا۔ ایک لڑکی کو کوڑے مارنے کی فلم مارچ 2009ء میں منظر عام پر آئی تو سپریم کورٹ نے بھی اس کا از خود نوٹس لیا تھا۔ چھ ماہ کے بعد حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ سوات میں ایک لڑکی کو کوڑے مارنے والا الیاس نامی شخص ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس شخص پر جلد از جلد مقدمہ درج کر کے عدالتی کارروائی شروع کی جانی چاہئے اور جرم ثابت ہونے پر اسے سخت سزا دی جانی چاہئے۔ مجھے یاد ہے کہ جب پاکستانی ٹی وی چینلز لڑکی کو کوڑے مارنے کے مناظر دن رات دکھاتے تھے اور مجبور لڑکی چیخیں بار بار سنواتے تھے تو کئی سیاسی رہنماؤں نے باقاعدہ اپنی آنکھوں میں آنسو لا کر اس وحشیانہ عمل مذمت کی تھی لیکن نجانے اب یہ رہنما ایک ایسی ویڈیو فلم پر کیوں خاموش ہیں جس میں سفید داڑھیوں والے بزرگوں پر صرف کوڑے نہیں برسائے جاتے بلکہ انہیں بھاری بھر کم بوٹوں سے زوردار ٹھڈے بھی مارے جاتے ہیں۔ یہ بزرگ کوڑے کھا کر صرف ایک ہی لفظ زبان سے نکالتے ہیں اور وہ ہے ”یا اللہ“۔
اس خاکسار نے یہ ویڈیو فلم لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کو دکھائی اور پوچھا کہ کیا کسی تھانے کے اندر درجنوں حوالاتیوں کے سامنے سفید داڑھیوں والے بزرگوں کو کوڑے مارنے سے سوات میں دہشت گردی کم ہوگی یا مزید پھیلے گی؟ قیوم صاحب خاموش رہے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ انتہائی ندامت کے ساتھ آٹھ منٹ کی یہ فلم دیکھتے رہے جو بی بی سی اور یوٹیوب کے ذریعہ پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ اس فلم میں سوات کے ایک تھانے میں چار پانچ فوجی جوان اپنے ایک افسر کی موجودگی میں گرفتار حوالاتیوں پر تشدد کرتے نظر آتے ہیں۔ حوالاتیوں کی چیخ و پکار اور آہ و بکا پشتو زبان میں ہے کوڑے مارنے والے انہیں پنجابی زبان میں گالیوں سے نواز رہے ہیں اور ایک افسر انتہائی شستہ اردو میں حوالاتیوں کو دھمکیاں دیتا ہے۔ یہ فلم ختم ہوئی تو لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا کہ گرفتار قیدیوں اور بالخصوص بزرگوں پر وحشیانہ انداز میں تشدد کرنے والے فوجی جوانوں اور افسر کا کورٹ مارشل ہونا چاہئے کیونکہ اس ویڈیو فلم سے صرف فوج اور پاکستان نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس ویڈیو فلم میں فوجی جوانوں کی طرف سے بزرگ قیدیوں پر جو تشدد نظر آتا ہے وہ طالبان کی طرف سے ایک لڑکی پر کئے جانے والے تشدد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق افواج پاکستان کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ بی بی سی اور یوٹیوب پر موجود فلم میں نظر آنے والے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔ یہ کارروائی جتنی جلد کی جائے اتنا بہتر ہوگا۔ چند دن قبل مولانا فضل الرحمن نے ایک محفل میں ایسے ہی کئی واقعات سنائے جو ڈیرہ اسماعیل خان کے آس پاس پیش آئے۔ اس محفل میں مولانا عبدالمجید ندیم شاہ، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا نذیر فاروقی، مولانا عبدالجبار، پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان، مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے انجم عقیل خان، حمید گل، سلیم صافی اور یہ خاکسار بھی موجود تھا۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ فوج اور طالبان کی لڑائی میں سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں کا ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ فوج نے طالبان کی تلاش میں ایک گاؤں کو گھیرا ڈالا اور ایک بزرگ سے پوچھ گچھ شروع کی۔ فوجیوں کو شک تھا کہ گاؤں کے لوگ طالبان کے حامی ہیں ایک فوجی افسر نے بزرگ سے پوچھا کہ پاکستان آرمی کے بارے میں تمہارا کیاخیال ہے؟ بزرگ نے کہا کہ پاکستان آرمی ہماری محافظ ہے اور ہم اپنی آرمی کی بہت قدر کرتے ہیں۔ فوجی نے کہا کہ کیا تم ہمیں کافر سمجھتے ہو؟ بزرگ نے جواب میں کہا کہ استغفراللہ ہم تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ فوجی افسر نے پوچھا کہ تم طالبان کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہو؟ بزرگ نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ طالبان نفاذ شریعت چاہتے ہیں، امریکا کے مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے سپاہی ہیں۔ فوجی افسر نے پوچھا کہ کیا تم طالبان کو کافر نہیں سمجھتے؟ بزرگ نے کہا کہ حضور نہ ہم آپ کو کافر سمجھتے ہیں نہ طالبان کو کافر سمجھتے ہیں۔ یہ سن کر فوجی افسر جھنجھلا اٹھا اور اس نے غصے سے بزرگ کو پوچھا کہ اگر طالبان بھی مسلمان اور ہم بھی مسلمان ہیں تو پھر کافر کون ہے؟ بزرگ نے بڑی عاجزی سے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ جناب کافر توہم عام لوگ ہیں جنہیں آپ دونوں سے مار پڑتی ہے۔
یہ قصہ سنا کر مولانا فضل الرحمن اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہوگئے جبکہ محفل میں موجود بزرگوں نے کیری لوگر بل، این آر او اور توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی خبروں کے حوالے سے اپنے تمام سوالوں کا رخ میری طرف موڑ دیا۔ سوالوں میں شدت اور حدت اتنی زیادہ تھی کہ میرے پسینے چھوٹ گئے اور میں نے برادرم سلیم صافی کے ہمراہ یہاں سے فرار میں عافیت سمجھی۔ خبر یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے جنوبی وزیرستان میں مجوزہ فوجی آپریشن کے بارے میں حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے نواز شریف اور آصف علی زرداری بھی مسلسل ٹیلی فون پر ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں۔ نواز شریف کیری لوگر بل اور این آر او پر رائے عامہ کی مخالف سمت میں نہیں چلیں گے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات پاکستان کو ایک ایسے موڑ ہر لے آئے ہیں جہاں کیری لوگر بل اور این آر او پر پارلیمینٹ کو وہ فیصلہ کرنا پڑے گا جو عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔ پارلیمینٹ کے فیصلے سے پاکستان بھی مضبوط ہوگا اور جمہوریت بھی مضبوط ہوگی۔ اگر ان معاملات پر پارلیمینٹ نے فیصلہ نہ کیا تو پھر معاملات نہ تو آصف زرداری اور نواز شریف کے کنٹرول میں رہیں گے اور نہ ہی فوج کنٹرول کر سکے گی۔ پھر تمام فیصلے سڑکوں پر ہوں گے اس لئے ہوش کے ناخن لئے جائیں اور قوم کی تقدیر کے فیصلے صرف پارلیمینٹ میں کئے جائیں۔
Permalink
October 19, 2009 at 3:19 am
· Filed under پاکستان ·Tagged امریکا ، بھارت ، پاکستان ، آزادی صحافت ، ہیلری کنٹن ، چدم برم ، ڈیلی میل نیوز، دی نیوز، ڈاکٹر شیریں مزاری ، حسین

ہم یہی سنتے چلے آرہے ہیں کہ امریکا نہ صرف یہ کہ جمہوری اقدار پر کامل یقین رکھتا ہے بلکہ آزادی¿ اظہارِ رائے اور آزادی صحافت کے لیے اس کی محبت بھی بے مثال ہے۔ امریکی بچے کو پہلا سبق ہی جمہوریت‘ دوسروں کے لیے محبت‘ امن‘ بھائی چارہ‘ انسانیت کی فلاح‘ اسلحہ اور جنگ سے نفرت‘ دوسروں کے لیے احترام اور اظہارِ رائے کی آزادی کا دیا جاتا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سیکھو نالائقو کچھ توسیکھو امریکا سے‘ اگر دنیا میں کچھ ترقی کرنا چاہتے ہو تو۔ اچھا بننا ہے یا اپنے آپ کو دنیا میں مہذب کہلوانا ہے تو امریکی معاشرے کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کرنا ہوںگی۔
”مدرسہ¿ تہذیب“ کے ان اساتذہ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ افغانستان اور عراق میں امریکی تہذیب کے ’پریکٹیکل‘کو دیکھ کر آپ کے مرتب کردہ نصاب میں بیان کردہ تھیوری پرکوئی بھی شاگرد ِ مکتب یقین کرنے کو تیار نہیں۔ اس بدتہذیبی‘ معاف کیجیے گا امریکی تہذیب کی تفصیل بیان کرنا سورج کی روشنی میں دیا جلانے کے مترادف ہوگا‘ تاہم آزادی¿ اظہارِ رائے اور آزادی¿ صحافت کے بارے میں امریکی طرزعمل کے چند شواہد امریکی سحر میں مبتلا ان کے پاکستانی ’وکیلوں‘کے گوش گزار کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ان کی وکالت سے امریکا کا مقدمہ تو نہیں جیتا جاسکتا البتہ اس سے ان کی اپنی اخلاقی پوزیشن کافی خراب ہوجاتی ہے۔
آزادی¿ صحافت کے حوالے سے معروف نام اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والے ادارے ”رپورٹرز وِد آﺅٹ بارڈر“ کے2008ءکے پریس فریڈم کے حوالے سے 173ممالک کی فہرست میں 38 ویں نمبر پر آنے والے امریکا نے اسی فہرست میں 152نمبر پر آنے والے ملک یعنی کافی خراب ’پوزیشن‘ والے پاکستان کے معروف اور اہم انگریزی روزنامہ ”دی نیوز“ کو براہِ راست خط لکھ کر اخبار پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ وہ امریکی پالیسیوں کی ناقد کالم نگار ڈاکٹر شیریں مزاری کا گزشتہ ایک دہائی سے جاری مستقل ہفتہ وار کالم بند کردے۔ امریکا کو اپنی فہرست میں38 واں نمبر دینے والے ’رپورٹرز وِد آﺅٹ بارڈر‘ کا اس واقعے پر مہینے سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی ردعمل ظاہر نہ کرنا معنی خیز ہی نہیں بلکہ اس ادارے کی معتبریت پر سوالیہ نشان بھی ہے۔ امریکی سفیر کا یہ انوکھا عمل عالمی قوانین اور سفارتی آداب کے خلاف ہی نہیں بلکہ آزادی¿ اظہار رائے پر قدغن لگانے کے مترادف بھی ہے۔ کیسے؟ اس سوال کا جواب واقعے کی تفصیل کے ساتھ آنے والی سطور میں زیربحث لایا جائے گا‘ تاہم اس سے قبل ”دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت“کی طرف سے اسی طرح کے طرزعمل کی اطلاع بھی آپ تک پہنچنا ضروری ہے۔
’خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے‘ کے مصداق بھارت نے بھی ایک پاکستانی اخبار کی ”خبر“ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے طریقہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کرکے بیک وقت اسلام آباد اور بیجنگ سے طلوع ہونے والے آن لائن اخبار ’ڈیلی میل نیوز‘ کو بند کرانے کے لیے دباﺅ ڈالا جائے گا۔ اس اخبار نے ایسا کیا کیا ہے جس کی وجہ سے اس کو لشکر طیبہ کی صف میں کھڑا ہونا پڑا؟ اس کی تفصیل بھی بعد میں‘ اس سے قبل امریکی سفیر کے خط بنام ’دی نیوز‘ کے بارے میں کچھ جانتے ہیں‘ لیکن اس سے پہلے اس سال آزادی¿ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کی خبر جس کو آپ امریکی بھاشن بھی کہہ سکتے ہیں‘ ذیل میں بزبانِ نیوز ایجنسی ’ثنا‘ درج کی جارہی ہے۔
……..٭٭٭……..
خبر کچھ یوں ہے:
”صحافت کے عالمی دن کے موقع پر امریکی وزارت ِخارجہ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو ان کی حکومتوں نے بنیادی حقوق سے محروم کیے رکھا۔ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے یہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے حقوقِ انسانی کے آدرشوں پر پورا اترنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حقوق انسانی کا فروغ امریکی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔ رپورٹ میںکئی ممالک کے اندر غیر حکومتی تنظیموں اور میڈیا کے خلاف جابرانہ قوانین کو پریشان کن بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس سلسلے میں ویت نام، چین، روس، کرغزستان اور قازقستان کا نام لیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق افریقہ میں کئی ملک ایسے ہیں جہاں انسانی حقوق اور جمہوری قوتوں کو شدید مسائل کا سامنا ہے، مثال کے طور پر زمبابوے، گنی اور موریطانیہ۔ رپورٹ میں آرمینیا اور روس میں انتخابات پر اور مصر، ایران‘ لیبیا اور شام میں سماجی کارکنوں کی مسلسل گرفتاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دراصل سیاسی نظاموں کے اندر پائی جانے والی وسیع تر خامیوں کی نشان دہی کرتی ہیں اور اکثر ان ملکوں میں ہوتی ہیں جہاں ایسے طاقت ور حکمران ہیں جو احتساب سے بالاتر ہیں۔“
امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے آخر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سبب احتساب سے بالاتر طاقت ور حکمرانوں کو قرار دیا گیا ہے لیکن ان کو ادراک نہیں کہ خود امریکا طاقت ور ہونے کی وجہ سے کس طرح اپنے آپ کو احتساب سے بالاتر سمجھ کر کسی بھی قانون یا اخلاقی ضابطے کو روند کر بداخلاقی‘ بدتمیزی اور بدتہذیبی کی مثالیں رقم کررہا ہے۔
……..٭٭٭……..
قصہ کچھ یوں ہے کہ پاکستان میں امریکی سفیر این۔ ڈبلیو۔پیٹرسن نے جنگ گروپ کے مالکان کو ایک خط لکھا ہے جس میں شکایت کی گئی ہے کہ اس کے انگریزی اخبار ”دی نیوز انٹرنیشنل“ کی کالم نگار اور امریکی پالیسیوں کی سخت ترین ناقد ڈاکٹر شیریں مزاری کے کالموں کی وجہ سے ایک امریکی شہری (جس کا نام نہیں بتایا گیا)کی جان خطرے میں پڑ گئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ خط برائے اشاعت نہیں تھا‘ جبکہ سفارتی آداب کے مطابق کوئی سفیر کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے سے براہِ راست خط وکتابت کرکے اس پر کسی قسم کا دباﺅ ڈال سکتا ہے نہ ہی کچھ کرنے یا نہ کرنے پر مجبور کرسکتا ہے‘ البتہ اس کے ملک سے متعلق چھپنے والے کسی مسئلے کی وضاحت مذکورہ اخبار میں خط کی اشاعت کی صورت میں کی جاسکتی ہے۔ لیکن امریکی سفیر نے یہ سفارتی رویہ نہیں اپنایا بلکہ سفارتی آداب سے ناآشنا‘ اس سفیر نے براہِ راست اخبار کو خط لکھا جس پر اخبار نے ڈاکٹر شیریں مزاری سے وضاحت طلب کرلی۔ اسی اثناءڈاکٹر شیریں مزاری نے ایک اور کالم اخبارکی 3 ستمبر کی اشاعت کے لیے لکھ بھیجا جس کو بوجوہ شائع نہیں کیا گیا‘ یہی کالم اسی دن بعض دیگر ویب سائٹس پر جاری کیا گیا‘ تاہم ”دی نیوز“ نے بغیر کسی ایڈیٹنگ یعنی کاٹ چھانٹ کے اس کالم کو اگلے دن کی اشاعت میں جگہ دی۔ واضح رہے کہ دی نیوز خصوصاً اس کا انوسٹی گیشن سیل امریکی سفارت خانے کی پراسرار اور غیر سفارتی سرگرمیوں کی رپورٹنگ بغیر کوئی دباﺅ قبول کیے کرتا رہا ہے۔ 3 ستمبر 2009ءکو ہی شیریں مزاری نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں کہا کہ اگر ان کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار امریکا اور رحمن (ملک) ہوں گے۔ اسی پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی سفارت خانہ ان کے کالم بند کرانے کے لیے اخبار پر دباﺅ ڈال رہا ہے اور اس سلسلے میں ان کا آج (یعنی 3ستمبر)کا کالم روک لیا گیا ہے۔ اس کے بعد شیریں مزاری نے مذکورہ اخبار سے اپنا ایک دہائی پر محیط تعلق ختم کرکے لاہور سے چھپنے والے ’وقت گروپ‘ کے انگریزی اخبار ”دی نیشن“ کو بحیثیت ایڈیٹر جوائن کیا۔
7ستمبر 2009ءکو دی نیوز کی ایڈیٹوریل ٹیم کی طرف سے ایک وضاحت جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ خط پرائیویٹ تھا اور نہ ہی جنگ گروپ نے کسی قسم کا دباﺅ قبول کیا ہے۔ اس کا شیریں مزاری کی جانب سے جواب بھی دیا گیا جس میں جہاں کئی اور باتیں شامل تھیں وہیں انہوں نے اخبار سے دریافت کیا کہ انہوں نے میرا کالم روکنے اور مجھ سے وضاحت اور ثبوت طلب کرنے کے بجائے سفیر سے کیوں نہ پوچھا کہ اس کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ میرے کالم کی وجہ سے امریکی شہری کی جان خطرے میں پڑگئی ہے۔ اخبار اور کالم نگار کے درمیان تعلق غلط فہمی کی وجہ سے ٹوٹ چکا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس ”ڈاکٹر شیریں مزاری“اور ”دی نیوز“دونوں کی کوششوں سے ایک پاکستان اور اسلام مخالف امریکی جنرل کی اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں بطور ڈیفنس اتاشی تقرری رک پائی تھی۔
ڈاکٹرشیریں مزاری کے کالموں کو روکنے کی یہ پہلی کوشش نہیں تھی۔ 2006ءمیں بھی امریکی سفیر نے حکومت ِپاکستان پر دباﺅ ڈالا تھا کہ وہ شیریں مزاری کو کالم نہ لکھنے پر مجبور کریں۔ جب تک ریاض کھوکھر سیکریٹری داخلہ تھے ‘ انہوں نے اس دباﺅ کو قبول کرنے سے انکار کردیا‘ لیکن نئی حکومت آجانے کے فوراً بعد امریکا میں پاکستان کے موجودہ سفیر حسین حقانی نے جمہوری حکومت سے پہلا کام ڈاکٹر شیریں مزاری کی انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر کے عہدے سے برطرفی کا کروایا۔
دی نیوز اور ڈاکٹر شیریں مزاری کی وضاحتوں کی تفصیل لمبی اور دلچسپ ہے‘ لیکن ہم یہاں صرف یہ عرض کریں گے کہ اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ امریکی سفیر نے معاصر اخبار کو خط لکھا۔ گو کہ اخبار نے دباﺅ قبول نہیں کیا لیکن اس نے کالم نگار اور اخبار کے دس سالہ تعلق کو ختم کردیا۔ شیریں مزاری کی آوازآج ایک اور اخبار کے ذریعے پہنچ رہی ہے (اگرچہ وہاں امریکی فارن پالیسی میگزین میں خبر شائع ہونے پر ڈاکٹر مزاری کو امریکی سفیر‘ معاف کیجیے امریکا میں بظاہر پاکستانی سفیر حسین حقانی کی طرف سے ہرجانے کا نوٹس مل گیا) لیکن یہ ثابت ہوچکا ہے کہ امریکی سفیر نے سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی‘ اور آزادی¿ صحافت کا دم بھرنے والے امریکا کے منہ پر کالک مل دی۔ اگرچہ انسانیت دشمن سرگرمیوں کی وجہ سے امریکا کا چہرہ پہلے ہی کافی کالا ہوچکا ہے۔
…………٭٭٭…………
درحقیقت دہشت گردوں کا سرخیل امریکا ہی وہ ملک ہے جس نے عسکری اور معاشی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ صحافتی دہشت گردی کی بنیاد رکھی۔ کیا ہی بہتر ہوتا اگر دوسروں سے ”الزامات“ کے ثبوت مانگنے والی امریکی سفیر اپنے ملک کے میڈیا سے عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی خبروں کا ثبوت مانگ لیتی‘ جن سے ایک عراقی شہری کی جان خطرے میں نہیں پڑی بلکہ میڈیا کی غلط رپورٹس چھپنے کے سبب شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں 1339,771 عراقی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ثبوت مانگنے ہیں تو اپنے ملک کے میڈیا سے مانگےں‘ جو بغیر کسی ثبوت کے روز ہی پاکستان کے خلاف کوئی زہر آلود خبر چھاپ دیتا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام اب تک طالبان کے ہاتھ میں ہونا چاہیے تھا‘ اور ایک آدھ ایٹم بم اسرائیل پر گرجانا چاہیے تھا۔ یہ ہے صحافتی دہشت گردی کی بنیاد ڈالنے والے عالمی دہشت گرد کا رویہ۔ میڈیا صرف امریکا کا ہی دہشت گرد نہیں بلکہ ”دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت“ بھارت کا بھی ہے‘ جس کی دکان ہی پاکستان مخالف خبروں پر چلتی ہے۔ لیکن بھارت کو نہ تو خود اپنی ریاستی دہشت گردی نظر آتی ہے اور نہ ہی اپنے میڈیا کی صحافتی دہشت گردی۔ البتہ پاکستانی میڈیا میں بھارت سے متعلق چھپنے والی ایک خبر نے ایسا سونامی بپا کردیا ہے کہ بھارت نے تمام تر ریاستی، ملکی، بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکی روش اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
……..٭٭٭……..
خبر کچھ یوں ہے:
انڈیا اُس وقت جلنے بھننے لگا جب ایک پاکستانی اخبار نے خبر دی کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر وہاں ’وومن یونٹ‘ یعنی خواتین دستے کے نام پر طوائفوںکو بھیج رہا ہے۔ اس خبر پر بھارت اس قدر سیخ پا ہوگیا ہے کہ ’مڈ ڈے‘ کے رپورٹر انشومان گی دت کے مطابق اس نے دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کے سامنے غیر معمولی احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ It was Chidambaram’s order ( یہ چدم برم کا حکم تھا) کے نام سے اس نیوز اسٹوری میں بتایا گیا ہے کہ ”پاکستانی میڈیا کی طرف سے حال ہی میں تعینات کیے جانے والے بارڈر سیکورٹی فورسز (بی ایس ایف) کے خواتین دستے کو طوائف کہنے کا بھارتی حکومت نے نوٹس لے لیا ہے۔ وزارت ِ امورخارجہ اس سلسلے میں پڑوسی ملک کے اخبار میںشائع اس مضمون کے بارے میں حکومت ِپاکستان کے سامنے اپنی ناراضی رجسٹر کروانے کی پلاننگ کررہی ہے۔“
بھارتی اخبار مزید لکھتا ہے کہ: ”این ایچ اے نے یہ فیصلہ پاکستانی میڈیا کی طرف سے اس خبر کی اشاعت کے بعد کیا جس میں کہا گیا کہ بھارتی سیکورٹی فورسز نے اپنے مرد فوجیوں کی فطری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تقریباً دو سو طوائفوں کو بھرتی کیا ہے۔“
اخبار نے یہ بھی اطلاع دی کہ وزارت ِداخلہ کے ایک افسر نے تصدیق کی ہے کہ شکایت رجسٹر کروانے کا حکم براہِ راست یونین منسٹر پی چدم برم کے دفتر سے آیا ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے 60 سال پر محیط خراب تعلقات میں ایسا پہلی دفعہ ہوگا جب نئی دلی ایک پاکستانی اخبار کے خلاف شکایت اسلام آباد سے کرے گا۔
یہ خبر دراصل کوئی ٹیبل اسٹوری نہیں تھی بلکہ 11ستمبر 2009ءکو ڈیلی میل نیوز کی نیو دہلی میں نمائندہ¿ خصوصی کرسٹینا پالمر نے یہ خبر باخبر ذرائع کے حوالے سے دی تھی۔ اس کی بنیاد بارڈر سیکورٹی فورسز کے انسپکٹر جنرل ہمت سنگھ کا ایک بیان بھی تھا۔ اس سلسلے میں جب کرسٹینا پالمر نے نئی دلی کے سینئر دفاعی تجزیہ کار روہت شرما سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ”یہ ایک شاندار پیش رفت ہے‘ کیوں کہ یہ وادی میں تعینات سپاہیوں کی طبی اور ذہنی صحت کے لیے بہت مفید ثابت ہوگی اور اس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔“
دراصل جب وادی میں تعینات بھارتی فوجیوں میں خودکشی کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا تو بھارت نے ایک اعلیٰ فوجی وفد روس بھیجا تاکہ معلوم کرسکے کہ روس نے اپنے ہاں اس مسئلے پر کیسے قابو پایا تھا۔ کرسٹینا پالمر کے ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں بھارتی حکومت کے بعض ڈیپارٹمنٹس کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ مختلف شہروں میں لائسنس یافتہ طوائف خانوں سے رابطہ قائم کرکے طوائفوں کی طرف سے فوج میں بھرتی ہونے کے میلان کو معلوم کریں۔
……..٭٭٭……..
بھارت کی طرف سے اس غیر معمولی ردعمل کی خبر سن کر ’ڈیلی میل نیوز‘کے ایڈیٹر مخدوم بابر نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ ”حیران کن طور پر بھارت کے یونین منسٹر فار ہوم مسٹر پی چدم برم نے ڈیلی میل کو سرکاری شکایت درج کرانے کی دھمکی دی ہے۔ اس پیش رفت نے پوری بین الاقومی میڈیا کمیونٹی کو سکتے میں ڈالا ہے‘ کیوں کہ پہلی دفعہ کسی ملک کے بڑے وزیر نے ایک دوسرے ملک کے آزاد اخبار کے خلاف شکایت درج کرانے کی انوکھی روایت قائم کردی ہے“۔ آگے لکھتے ہیں:”ایم ایچ اے کی طرف سے اس اقدام نے نام نہاد سیکولر بھارت کے چہرے کو بے نقاب کیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھارتی میڈیا آرگنائزیشن ’آئی بی این‘نیو دلی نے پاکستان کے واشنگٹن میں سفیر کی طرف سے آئی ایس آئی چیف کو لکھے گئے ایک بہت ہی کلاسیفائیڈ خط کو شائع کیا لیکن پاکستانی حکومت نے اس پربھارتی حکومت سے کسی قسم کی سرکاری شکایت نہیں کی تھی۔ یہ ایک کلاسیفائیڈ انفارمیشن تھی جس کو نہیں چھپنا چاہیے تھا‘تاہم ڈیلی میل نیوز نے جو رپورٹ شائع کی ہے وہ ایک تحقیقاتی رپورٹ ہے‘ جس کے ذرائع اور شواہد موجود ہیں۔
…………٭٭٭……..
مخدوم بابر صحیح کہہ رہے ہیں‘ اس اقدام سے نام نہاد بھارتی سیکولرازم کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوتا ہے۔ جمہوریت اور آزادی¿ صحافت کی مالا جپنے والا امریکا ہو یا سیکولرازم کی دعویدار نام نہاد بڑی جمہوریت‘ دونوں کے میڈیا نے ان ممالک کی جانب سے ہونے والی دہشت گردی کو صحافت گردی میں تبدیل کرکے پاکستان اور اسلامی دنیا کے خلاف پروپیگنڈے کو معمول بنالیا ہے۔ خصوصاً جس دن بھارتی میڈیا میں پاکستان کے خلاف کوئی خبر نہیں چلتی‘ اُس دن اُن کے ناظرین کی تعداد حیرت انگیز طور پر گر جاتی ہے۔ لیکن جیسا منہ‘ ویسی بات۔ امریکا اور بھارت جن کا میڈیا پروپیگنڈا مشینری میں تبدیل ہوچکا ہے‘ پاکستانی میڈیا کی طرف سے ایک سچی رپورٹ کو پروپیگنڈے کا نام دے کر برداشت نہیں کرتے۔ اگر ایسی کوئی رپورٹ نشر ہوجاتی ہے تو عالمی دہشت گردی کے سرخیل‘ پاکستانی میڈیا پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ لیکن کیا پاکستانی میڈیا ان حملوں کی وجہ سے امریکی اور بھارتی کرتوتوں کے خلاف کچھ لکھنا یا شائع کرنا بند کردے گا؟ بظاہر ایسا نہیں لگتا۔ پاکستانی میڈیا اب میچور ہوچکا ہے‘ اور اگرچہ تاحال اس کو پوری طرح آزاد میڈیا نہیں کہا جاسکتا‘ لیکن اس نے کسی نہ کسی حد تک دباﺅ مسترد کرنا شروع کردیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکا کو 173ممالک میں 38 ویں نمبر پر جگہ دینے والا ”رپورٹرز وِد بارڈر“ اور آزادی¿ صحافت کے عَلم بردار دیگر ادارے امریکی اور بھارتی اقدام کا نوٹس لیں گے؟
(بشکریہ جسارت میگزین ‘ روزنامہ جسارت کراچی)
Permalink
October 19, 2009 at 8:44 am
· Filed under پاکستان ·Tagged بندر، کراچی، پشاور، موبائل
پشاور سے آیا ہوا ہی نشانہ کیوں بنا؟ کیوں کہ بندر نے بھی اسے پہچان لیا۔
موبائل چھیننے کی وارداتیں یوں تو عاہم ہیں لیکن اتوار کی شام بندر نے بھی موبائل فون چھین یا۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ کراچی کے سفاری پارک میں پشاور سے تفریح کے لیے آئے ہوئے خاندان کے ایک فرد نے بندر کے پنجرے کے قریب پہنچ کر تصویر کھینچنے کی کوشش کی۔ اسی دوران بندر نے ہاتھ ڈال کر اس شخص سے موبائل چھین لیا جس کے بعد پنجرے کے قریب سیکڑوں افراد جمع ہوگئے۔ تقریبا نصف گھنٹنے کی کوشش کے باوجود بندر سے موبائل فون حاصل نہ کیا جاسکا۔ بعد ازاں سفاری پارک کے عملے پہنجرے میں پہنچا تاہم بندر نے ان کی بھی دوڑیں لگوادیں ۔ کافی جدوجہد کے بعد بندر نے موبائل زمین پر پھینک دیا جو ناقابل استعمال ہوگیا۔
رونامہ جسارت میں چھپنے والی مذکورہ خبر کی اطلاع جب خان لالا کو دے کر ان کی رائے طلب کی گئی تو انہوں نے کہا کہ حکمران اور عوام ادراک رکھتے ہو یا نہ رکھتے ہو بندر سمجھ دار ہوگئے ہیں اور ان کو پتا چل گیا ہے کہ اب پختون بھائیوں پر برا وقت آچکا ہے اور ان کو ہر طرف سے مارا پیٹا جارہا ہے اگر ایسے میں میں نے ان سے موبائل چھین لیا تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہوگی اور ویسے بھی اس حرکت پر عالمی پولیس مین امریکا مجھے ’سپورٹ‘ کرے گا لہٰذا ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین تلخابہ کو گلہ ہوتا ہے کہ یہ سیاسی بلاگ ہونے کے باعث بور ہوتا ہے۔ اگر چہ مجھے طنز کرنا آتا ہے اور نہ ہی مذاح کا کوئی خاص سنس ہے تاہم میں نے آپ کو گدگدانے کی کوشش کی ہے گو کہ میرے پاس آپ کو دینے کے ’’اومور‘‘ کی آئیس کریم نہیں ہے۔
Permalink
October 21, 2009 at 7:06 am
· Filed under پاکستان ·Tagged اردو بلاگز، ٹیک کی ڈوری
برادر راشد کامران کی طرف سے برادر ابوشامل کو آئی ٹیگ کی ڈوری انہوں نے ہماری طرف بڑھا دی ہے ۔ یہ پانچ مختصر سوالات ہمیں اپنے تجزیہ کا موقع دیتے نظر آتے ہیں۔ انٹرنیٹ نے ہماری زندگی پر کیا اثر ڈالا ہے؟ اس سوال کا جواب ان پانچ سوالوں کے آگے درج جوابوں میں جو قارئین تلخابہ کے یہاں دیے جارہے ہیں۔ آپ ان سوالوں کے کیا جواب دیں گے یا آپ کے ذہن میں کیا ایسے مزید سوال جن کے جواب آنے چاہیے۔ اس سے آگاہ کیجیے۔ شکریہ ۔
اب سوال وجواب؛
انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
روزانہ تقریبا چودہ گھنٹے گزارتا ہوں جس میں آفس کا کام بھی شامل ہے۔ لیکن بلاگ کے لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ تقریبا روز ۳ گھنٹے نکالتا ہوں۔
انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
مختصر اگر کہوں تو کوئی خاص تبدیلی نہیں۔ آپنے آپ کو نظریاتی کہتا ہوں لیکن یہاں آنے کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ مکالمہ کی افادیت سے آگاہ ہوا ہوں ۔ میں نے بہت سارے لوگوں کو اپنا ہم نوا بنادیا ہے اور میری سوچ اور فکر میں جو خامیاں تھیں یا جو منفی پہلو میری شخصیت میں تھے وہ ان دوستوں کے سبب ختم ہوگئے۔ میں اپنے آپ کو اسلام پسند کہتا ہوں لیکن میری نیٹ یا بلاگ سے شروع ہوئی دوستی ان لوگوں کے ساتھ بھی ہیں جن کو آپ ان درجوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔ اسلام پسند، سیاسی اسلام کے حامی ، مذہبی رجحان رکھنے والے ، وہ جو اپنے آپ کو ماڈریٹس کہتے ہیں ، وہ جو لبرلز ہیں ، سوشلسٹ نظریات کے حامل ‘ مذہب مخالف اور دہریے وغیرہ۔ کئی دہریوں سے میری بہت گہری دوستی ہے۔
کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
بہت زیادہ۔ اتفاق کی بات ہے جب بیچلر تھا تب انٹرنیٹ کا استعمال اتنا نہیں تھا۔ لیکن شادی کے بعد بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ البتہ میں کوشش کرتا ہوں کہ کسی طرح توازن پیدا کروں۔ اس کے لیے اب میں اپنی سوشل لائف کی قربانی دے رہا ہوں۔ عرصہ ہوا ہے کہ ہوٹلوں پر رات گئے تک بیٹھنا چھوڑ دیا ہے۔ دوستوں کے ہاں آنا جانا کم ہوگیا۔ اپنی پیاری جامعہ گئے ہوئے بھی عرصہ ہوگیا۔ اتوار کے دن کہیں نہیں جاتا مگر بیگم اور سعد خان صاحب کے ساتھ ان کو گھمانے ۔ اتوار کے روز کمپیوٹر اور انٹر نیٹ سے اتنا دور رہتا ہوں کہ جیسے یہ گناہ کبیرہ کی فہرست میں سب سے اوپر ہو۔
اس لت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
نہیں کبھی نہیں کی۔ انٹرنیٹ پر میں زیادہ تر بلاگنگ کرتا ہوں یا پھر میگزین کے آرٹیکلز کے لیے ریسرچ ۔ فیس بک کا اکاونٹ بھی بلاگ کو مشتہر کرنے کے لیے بنایا ہے۔ مافیا گیم کیا ہوتے ہیں، چیٹ کیا چیز ہے یہ جاننے کی کوشش کبھی نہیں کی۔ بلاگنگ میرا مشغلہ بھی اور ترویج خیالات کا ذریعہ بھی ہے اس لیے اس کو میں لت کہتاہوں نہ ہی اس سے جان چھڑانے کی کوشش کبھی کی ۔
کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
گیم کھیلنا بہت پہلے چھوڑ دیا تھا۔ سال میں ایک مہینہ آبائی گائوں میں گزرتا ہے۔ ٹی وی خبریں دن میں ایک مرتبہ ۔ اس کے علاوہ نہ اخبار اور نہ ہی نیٹ۔ گھر ، دوست اور شام کو کرکٹ خوب کرکٹ کیوں کہ یہ مہینہ کرکٹ کھیلنے کے لیے مختص ہے۔ اب سولہ نومبر سے ایک مہنے یعنی پندرہ دسمبر تک گیم ہی گیم۔
اگر میں ٹیک کی ڈوری آگے نہ بڑھاوں تو اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ میں ان ہی اردو بلاگر دوستوں کو جانتا ہوں جن سے ہوتے ہوئے یہ ڈوری مجھ تک پہنچی ہے۔
Permalink
October 22, 2009 at 5:06 am
· Filed under پاکستان ·Tagged آج کل، ڈیلی ٹائمز، اردو پریس، قادیانی، امریکی دہشت گردی، سیاست دان، مشرف میراثی
اپنے پاک ٹی ہاوس والے دیسی انگریزوں کو اردو میڈیا سے سخت شکایت ہے۔ وہ آئے دن اردو میڈیا کو موضوع بحث بناد یتے ہیں۔ اردو پریس کی بددیانتی اور بے ایمانی کے بارے میں لکھے گئے ایک کالم کے ذیل میں تبصرہ کرتے ہوئے اسی گروہ کے ایک صاحب نے اس شاندار کام پر یاسر لطیف ہمدانی کو سراہتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ لاہور سے نکلنے والے انگریزی ہفت روزہ نے تو اس کام کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا ہے۔ ان کی اطلاع کم از کم ہمارے لیے اس لیے خبر نہیں ہے کیوں کہ ہم ایک عرصے سے خالد احمد صاحب کا ’فرائیڈ ے ٹائمز‘ میں اردو پریس کے بارے میں چھپے اس کالم کو ’شوق‘ سے پڑھتے ہیں۔ لیکن اس کالم میں کیا ہوتا ہے؟ اردو اخبارات کے ادارتی صفحات پر قادیانیوں اور امریکیوں سے متعلق ’’منفی‘‘ خبروں اور رائے کا تجزیہ۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ہوتا ہے لیکن جہاں تک ہم نے اس کالم کو پڑھا ہے اس کا مقصد یہی ہے۔ یہی کام کچھ ادارے بھی کرتے ہیں جو پیسے دے کر اردو پریس میں منفی خبروں کا انگریزی میں ترجمہ کرکے امریکی عوام کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ جس کو دہشت گردی کی جنگ کہنا غلط نہیں ہوگا ‘ دراصل ناگزیر ہے‘ اس کے لیے بیشک آپ کا دیوالیہ نکل جائے لیکن ’اسلامی‘ دیو کو بند کیے بغیر چارہ بھی تو نہیں۔
خیر یہ ہم کہاں پہنچ گئے۔ بات اردو میڈیا سے گلے کی ہورہی تھی۔ اور یہ شکایت ’فرائیڈے ٹائمز‘ یعنی ’ڈیلی ٹائمز‘ کے قبیلے والوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ اور اس گروپ نے خیر سے اپنا اردو اخبار ’آج کل‘ بھی نکالنا شروع کردیا ہے جو باقی اردو پریس کی طرح نہیں ہے۔ اس لیے ہم اس میں شائع ایک تصویر شیئر کریں گے۔ یہ تصویر جس میں مظاہرین کا جمع غفیر نظر آرہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تصویر صفحہ اول پر نمایاں چھپی ہے۔

جب آپ نے تصویر دیکھ لی ہے تو آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہ مظاہرہ اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی پر دہشت گرد حملوں کے خلاف کیا جارہا ہے۔ اس حملے کے خلاف اسلام آباد بھر میں مظاہرے ہوئے ، ظاہر سی بات ہے کہ اس کی تصویرں نہ تو ’آج کل‘ نے چھاپی اور نہ ہی اس کے انگریزی اخبار ’ڈیلی ٹائمز‘ نے اس کو جگہ دی۔ یونیورسٹی پر دہشت گرد حملوں سے متعلق لاہور کے ’’دی نیشن‘‘ کی یہ خبر اس واقعہ کے پس پردہ عناصر تک پہنچنے میں مدد دے گی۔
خبر کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ دارلاحکومت کے مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا کی ایک بڑی تعداد نے دہشت گردوں کی طرف سے دو خودکش دھماکوں میں انٹرنیشل اسلامک یونیورسٹی کے ان کے ساتھیوں کے ظالمانہ قتل کے خلاف مظاہرے کیے۔
شریعہ اور لا فیکلٹی کے طالب علم حسن جاوید نے رحمن ملک کے طرف سے اسپیشل ٹاسک فورس کے خیال کو گمراہ کن قرار دے کر اس کو خودکش حملوں کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس نے کہا جب قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود ہیں تو اسے میں طلبا اور تعلیمی اداروں کو اس میں گھسیٹنے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔ واضح رہے کہ طلبا نے رحمن ملک کو وہاں سے بھاگنے پر بھی مجبور کیا تھا۔ طلبا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو دہشت گردی کی اس امریکی جنگ سے الگ کردے۔ میری رائے میں اس واقعہ کا بنیفشری امریکا ہی ہے اور وہی یہ حملے کرسکتا ہے۔ جی وہی امریکا جو روات کے مقام پر قائم ایک خفیہ ٹریننگ سنیٹر میں دو سو ریٹائرڈ پاکستانی فوجی افسروں کو ٹریننگ دے رہا ہے اور پولیس کی طرف سے ان ریٹائرڈ فوجیوں کی تفصیل امریکا نے دینے سے انکار کردیا ہے۔ جی وہی امریکا جس کو ہماری جمہوری حکومت نے سہالہ کالج کی حدود میں ٹرننگ سینٹر کے نام پر اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہ فراہم کی ہے ( واضح رہے کہ مشرف میراثی کی فوجی حکومت ہی اصل ذمہ دار ہے لیکن ہماری توقع جمہوری حکومت سے یہ نہیں تھی کہ وہ جنرل مشرف کی حکومت کی ایکسٹنش ہوگی) اور جب اس کی شکایت کالج کے پرنسیپل ناصر خان درانی نے آئی جی پنجاب کو خط لکھ کر کی تو الٹا رحمن ملک نے ان پر برس کر کہا کہ معصوم امریکی ایسا کہاں کرسکتے ہیں؟ جی ہاں وہی رحمن ملک جن کو اسلام آباد کے طلبا نے بھگا دیا لیکن اس کی خبر ہمدانی کے قبیل کے انگریزی اخبار نے لگائی اور نہ ہی اس کے اردو ورژن یعنی آج کل نے۔
Permalink
October 24, 2009 at 4:34 am
· Filed under پاکستان ·Tagged بھائی لوگ، جمال دین ، روزنامہ امت

بشکریہ روزنامہ امت
Permalink
October 24, 2009 at 11:22 am
· Filed under پاکستان ·Tagged آئینہ تصویر

بشکریہ : الیاس بن ذکریا صدیقی اور سیلمان کھوکھر صاحب
Permalink
Older Posts »